اس اللہ کے ولی کوساری دنیا جانتی ہے کیا آپ بھی جانتے ہیں؟
منگل، 29 اپریل، 2025
اللہ کا دوست
پیشگوئی: ماضی، حال اور مستقبل
پیشگوئی ہمیشہ سے انسانی تجسس کا مرکز رہی ہے۔ قرآن، بائبل، اور دیگر الہامی کتب میں متعدد پیشگوئیاں وقتاً فوقتاً سچ ثابت ہوتی رہی ہیں۔ بنیادی طور پر پیشگوئی دو اقسام کی ہوتی ہے: الہامی، جو انبیاء یا اولیاء کو خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے؛ اور علمی یا سائنسی، جو مشاہدے اور اندازے پر مبنی ہوتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں کئی بزرگوں نے الہامی انداز میں پیشگوئیاں کیں، جن میں حضرت نعمت اللہ ولیؒ کا نام نمایاں ہے۔ آپ کی فارسی نظم میں برصغیر میں انگریزوں کی آمد، مسلمانوں کی غلامی، پاکستان کا قیام، اور اسلام کے احیاء کی حیرت انگیز تفصیل موجود ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
"آئیں گے مشرق سے شیر دل جوان،دین کا ہوگا پھر روشن نشان"
آج فلسطین و کشمیر میں جو بیداری دکھائی دے رہی ہے، وہ انہی اشارات کی تعبیر معلوم ہوتی ہے۔
اسلامی احادیث کے مطابق، آخری زمانے میں حضرت عیسیٰؑ کا نزول ہوگا، جو امام مہدیؑ کے ساتھ مل کر دجال اور اس کے پیروکاروں (جن میں اکثریت یہودی ہوگی) کے خلاف قیادت کریں گے۔ یہ پیشگوئی عیسائی صحیفوں میں بھی پائی جاتی ہے، جہاں حضرت مسیحؑ "آخری جنگ" میں بدی کو شکست دیں گے۔
دنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے، اور ظلم و عدل کے نئے محاذ کھل رہے ہیں، ان میں یہ پیشگوئیاں ایک آئینہ ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم ان اشاروں کو پہچان کر تیاری کرتے ہیں یا تاریخ کا دھارا ہمیں خود بہا لے جاتا ہے۔
اتوار، 27 اپریل، 2025
ایک سچا انسان
علم کی دو بنیادی اقسام ہیں: ایک وہ علم جو محنت، جستجو اور کوشش سے حاصل کیا جاتا ہے، اور دوسرا وہ جو اللہ کی خاص عطا کے طور پر دل کی آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔ پہلا علم ڈگریوں، اسناد اور رسمی تعلیم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، جب کہ دوسرا علم براہِ راست الہام و بصیرت کا نتیجہ ہوتا ہے، جو دل کی گہرائیوں میں اتر کر انسان کو حقیقت کا مشاہدہ کراتا ہے۔
ہم اللہ کے برگزیدہ رسولوں کے علم پر لب کشائی کی جسارت نہیں کرتے، کیونکہ وہ علم الہٰی کی براہ راست امانت ہے۔ تاہم، علی ابن ابی طالبؓ کے علم پر بات کرنا ممکن ہے، کیونکہ ان کے دہن سے نکلے ہوئے گوہر بار، حکمت سے بھرپور، اور عقل و شعور کو جھنجوڑنے والے اقوال آج بھی کتابوں میں جگمگا رہے ہیں، اور انسانیت
کو راہ دکھا رہے ہیں۔
حضرت علی نے ولی اللہ کی کچھ نشانیاں بتائی تھی ولی اللہ وہی ہوتا ہے جو علم و عمل کا جامع ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ جاہل اور لاعلم کو اپنا دوست نہیں بناتا۔ ولایت کے لیے حقیقت شناس اور باعمل ہونا شرط ہے۔ جب علم و عمل کا نور دل میں اتر جائے تو پھر اللہ کی عطا کا دروازہ کھلتا ہے۔
یہ بات عشروں برس پرانی ہے، جب ایک ہندوستانی نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بارے میں کہا: "ڈاکٹر اسرار سچے انسان ہیں۔" یہ جملہ میرے لیے باعثِ حیرت و تجسس بنا۔ ایک غیر مسلم کی زبان سے ایک قرآنی اسکالر کی سچائی کا اعتراف میرے دل میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو قریب سے جاننے کی جستجو پیدا کر گیا۔ میں ان کے حلقہ احباب سے قریب ہوا، ان کی تحریروں کا مطالعہ کیا، ان کی تقریریں سنیں۔
اگرچہ ان کے بعض سیاسی نظریات میری طبیعت سے ہم آہنگ نہ ہو سکے، تاہم میرے دل نے یہ گواہی دی کہ یہ شخص بے غرض، مخلص اور سچائی کا پرستار ہے۔ اسی سوچ نے مجھے مجبور کیا کہ میں ان کی ہر بات کو تنقیدی نظر سے جانچوں، مگر سچائی کی روشنی ہمیشہ غالب رہی۔
ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد میں نے ان کے لیے دل کی گہرائیوں سے مغفرت کی دعا کی مگر یہ دعا اللہ کے حضور درجات کی بلندی میں بدل گئی
میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی پیش گوئیوں کو حقیقت بنتے دیکھا تھا۔ وہ سچا انسان اب اپنے سچے رب کے حضور ہے۔ ان کی کئی پیش گوئیاں — خصوصاً یہ کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آئندہ جنگ پانی کے مسئلے پر ہوگی اور میدان کارزار کشمیر ہوگا — آج قریب الوقوع محسوس ہوتی ہیں۔
ہفتہ، 26 اپریل، 2025
بی بی پاک دامن
بی بی پاکدامنؒ — لاہور کی روحانی اور تاریخی نشانی
لاہور، جو صدیوں سے علم، روحانیت اور محبت کا مرکز رہا ہے، اپنے دامن میں بے شمار اولیاء اللہ کی قبروں اور خانقاہوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ انہی بزرگ ہستیوں میں بی بی پاکدامنؒ کا نام نہایت عقیدت سے لیا جاتا ہے۔ ان کا مزار آج بھی محبت، عقیدت اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہے۔
بی بی پاکدامنؒ کا تاریخی پس منظر
تاریخی روایات کے مطابق، بی بی پاکدامنؒ کا اصل نام بی بی رقیہؓ تھا۔ آپ اہلِ بیتؑ میں سے تھیں اور حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی اولاد یا قریبی رشتہ دار سمجھی جاتی ہیں۔ بعض روایات میں ان کے ساتھ دیگر خواتین کا بھی ذکر ملتا ہے، جن کی تعداد 35 سے 40 بتائی جاتی ہے۔
یہ نیک بیبیاں عباسی خلافت کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے اپنے وطن (عراق) سے ہجرت کر کے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آئیں۔ آخر کار لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ یہاں انہوں نے نہایت سادگی، پردے اور عبادت میں زندگی گزاری۔
"پاکدامن" لقب کا پس منظر
آپ کی پاکیزگی، عبادت گزاری، اور دنیا سے بے رغبتی دیکھ کر اہلِ لاہور نے انہیں "بی بی پاکدامن" کا لقب دیا۔ "پاکدامن" کا مطلب ہے وہ عورت جس کا دامن ہر طرح کی آلائش سے پاک ہو۔
لاہور میں آمد اور قیام
کہا جاتا ہے کہ جب بی بی پاکدامنؒ اور ان کی ساتھی بیبیاں لاہور پہنچیں تو یہ شہر ایک غیر مسلم اکثریتی بستی تھا۔ وہ یہاں ایک نسبتاً پر سکون جگہ پر قیام پذیر ہوئیں۔ ان کی شبانہ روز عبادات، ذکر الٰہی، اور صبر و شکر کی کیفیت نے اردگرد کے ماحول پر گہرا اثر ڈالا۔
روایات کے مطابق، بی بی پاکدامنؒ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی زندگی کو گوشہ نشینی میں گزارتے ہوئے دینِ اسلام کے پیغام کو اپنی سیرت اور کردار سے عام کیا۔ انہوں نے کبھی ظاہری دعوت نہیں دی، بلکہ اخلاق و کردار سے لوگوں کے دل جیتے۔
شہادت یا وفات؟
کچھ پرانی روایات کے مطابق بی بی پاکدامنؒ اور ان کے ساتھیوں کو مقامی مخالفین نے شہید کر دیا تھا، جب کہ بعض دیگر روایات کے مطابق وہ طبعی موت مریں۔
بی بی پاکدامنؒ کی قبر کا مقام وہی ہے جہاں آج ان کا مشہور مزار واقع ہے۔ تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ یہ جگہ صدیوں سے زیارت گاہ ہے اور اسے صوفیاء، درویشوں اور عام مسلمانوں کی عقیدت حاصل رہی ہے۔
مزار کی تعمیر و توسیع
بی بی پاکدامنؒ کے مزار کی موجودہ شکل کئی بار مرمت اور توسیع کے عمل سے گزری۔
مغل دور میں، اور بعد میں سکھ حکمرانوں کے زمانے میں بھی، مزار کی حفاظت کا اہتمام کیا گیا۔ سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس مقام کو خصوصی تحفظ فراہم کیا تھا، کیونکہ مقامی لوگ اسے روحانی مقام تسلیم کرتے تھے۔
مزار کے اندرونی حصے میں ایک قدیم برگد کا درخت بھی ہے جسے مقامی روایات میں بڑی روحانی اہمیت دی جاتی ہے۔ زائرین مزار پر چادریں چڑھاتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور نذر نیاز پیش کرتے ہیں۔
اگر بھارت پاکستان کا پانی روک دے...!
اگر بھارت پاکستان کا پانی روک دے...!
جنوبی ایشیا کی سیاست میں پانی اب بارود کی طرح خطرناک ہو چکا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تھا، جسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
لیکن اگر بھارت آج اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کا پانی روک لے، تو اس کے نتائج محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ پاکستان کے وجود پر براہِ راست حملہ ہوں گے۔
سوچیے! پاکستان کی زراعت کا انحصار دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی زمینیں اسی پانی سے زندہ ہیں۔ اگر بھارت ان دریاؤں پر بند باندھ کر یا پانی روک کر پاکستان کو خشک سالی میں دھکیل دے تو سب سے پہلے ہماری زرعی معیشت دھڑام سے نیچے گرے گی۔ گندم، چاول، کپاس اور گنا جیسی بنیادی فصلیں تباہ ہو جائیں گی، اور ملک کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہو گا۔
صرف اتنا ہی نہیں، پانی کی بندش کا مطلب بجلی کی بندش بھی ہے۔ منگلا اور تربیلا جیسے ڈیم پانی کے بغیر بے جان ہو جائیں گے۔ بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئے گی، جس کا براہ راست اثر صنعت، تجارت اور روزگار پر پڑے گا۔
جب صنعتیں رکیں گی، جب کھیت سوکھیں گے، تو بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ناگزیر ہو گا۔
دوسری طرف، شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی کمی ایک نئی انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اسپتالوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا سیلاب آ جائے گا۔ بچے، بزرگ اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
اور یاد رکھیے، جب پیاس بڑھتی ہے تو احتجاج کی چنگاری شعلوں میں بدل جاتی ہے۔ پانی کی قلت پاکستان کے اندرونی امن کو تہہ و بالا کر سکتی ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے سیاسی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی معاملہ آسان نہ ہو گا۔ اگر بھارت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو پاکستان عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے، لیکن عدالتی کارروائی سست ہوتی ہے، جب کہ زمین پر لوگ پانی کے لیے تڑپ رہے ہوں گے۔
خطے میں جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا، کیونکہ پاکستان پانی کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے: کیا بھارت سمجھتا ہے کہ پانی کی بندش کا بوجھ صرف پاکستان پر پڑے گا؟
نہیں! پانی کی جنگ کی آگ پورے برصغیر کو جلا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک سمجھداری سے کام لیں، اور انڈس واٹر ٹریٹی جیسے معاہدوں کی پاسداری کریں۔
کیونکہ پانی زندگی ہے — اور زندگی پر سیاست نہیں کی جا سکتی۔
جمعہ، 25 اپریل، 2025
تاریخ کروٹ لینے والی ہے
دنیا میں کچھ جرائم بارود سے کیے جاتے ہیں، اور کچھ خاموشی سے — پانی، جو زندگی کا استعارہ ہے، جب ہتھیار بن جائے تو یہ صرف کھیتوں کو نہیں، انسانیت کو بھی ویران کر دیتا ہے۔
پانی روکا گیا… اور تاریخ نے کروٹ بدلی تھی۔
جمعرات، 24 اپریل، 2025
کبوتر
تسلسل /مسلسل
کائنات کے نظام میں تسلسل ایک بنیادی اصول ہے۔ سورج روز طلوع ہوتا ہے، رات ہر دن کے بعد آتی ہے، اور موسموں کی گردش کبھی نہیں رُکتی۔ یہی تسلسل فطرت کا حسن بھی ہے اور طاقت بھی۔ اسی تسلسل کی ایک شاندار مثال ہے: "پانی کا مسلسل بہاؤ سخت چٹان میں سے راستہ بنا لیتا ہے" — یہ صرف ایک قدرتی مشاہدہ نہیں بلکہ انسان کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ اگر کوشش لگاتار ہو، تو کامیابی یقینی ہے، چاہے سامنے چٹان جیسی رکاوٹ ہی کیوں نہ ہو۔
تسلسل: کامیابی کی کنجی
پانی میں کوئی ظاہری سختی یا طاقت نہیں ہوتی، لیکن اس میں ایک خوبی ہے — وہ رکتا نہیں۔ نہ تھکتا ہے، نہ پیچھے ہٹتا ہے۔ نرم ہو کر بھی وہ چٹان کو کاٹ دیتا ہے، لیکن صرف ایک شرط پر: مسلسل بہنے کی شرط پر۔
انسان کی زندگی میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ کامیابی اُنہی کے قدم چومتی ہے جو وقتی ناکامیوں سے گھبرا کر رک نہیں جاتے، بلکہ پانی کی طرح بہتے رہتے ہیں، حالات سے الجھتے رہتے ہیں، اور وقت کے ساتھ اپنے لیے نئی راہیں نکال لیتے ہیں۔
قرآن کی روشنی میں: صبر اور تسلسل
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر اور استقامت کو بارہا کامیابی کی شرط قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ"(العنکبوت 29:69)اور جو لوگ ہمارے راستے میں جدوجہد کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں، اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ جدوجہد مسلسل ہو تو رہنمائی بھی آتی ہے اور منزل بھی۔ یعنی وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ٹھہرے نہیں رہتے، جو مشکلات کے باوجود چلتے رہتے ہیں۔
حضرت موسیٰؑ کا واقعہ بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ جب بنی اسرائیل سمندر کے کنارے بے بس کھڑے تھے، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا کہ لاٹھی سمندر پر مارو۔ اور پھر سمندر چٹان کی مانند دو حصوں میں بٹ گیا:
"فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ"(الشعراء 26:63)تو سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی مانند ہو گیا۔
یہ محض معجزہ نہیں تھا بلکہ صبر، یقین اور تسلسل کے بعد آنے والی فتح کی علامت تھی۔
بائبل کی روشنی میں: نہ رکنے کی تلقین
نیکی کرتے کرتے تھک نہ جاؤ، کیونکہ اگر ہم باز نہ آئیں تو وقت پر ہم اس کا پھل ضرور پائیں گے۔
یہ آیت تسلسل کی روح ہے۔ جب ہم تھکتے نہیں، جب ہم باز نہیں آتے، تبھی ہمیں پھل ملتا ہے۔ حضرت ایوبؑ کی زندگی اسی تسلسل کا نمونہ ہے — بیماری، غم اور تنہائی کے باوجود اُنہوں نے صبر نہیں چھوڑا، اور آخرکار اللہ نے انہیں دُگنا انعام دیا۔
بہتے رہنے والا کبھی ہارتا نہیں
پانی کی طاقت اُس کی روانی میں ہے، اُس کے بہنے میں ہے۔ اگر وہ رُک جائے تو بدبودار ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ بہتا رہے تو زرخیزی، تازگی اور راستہ دونوں لے آتا ہے۔
لہٰذا، کامیابی کا راز طاقت میں نہیں، تسلسل میں ہے۔ یہی قرآن کا درس ہے، یہی بائبل کی ہدایت، اور یہی فطرت کی گواہی۔
بدھ، 23 اپریل، 2025
اللہ آخر چاہتا کیا ہے
منگل، 22 اپریل، 2025
دو نظریے، دو راستے
آج کے فکری، سماجی اور مذہبی انتشار سے بھرپور ماحول میں یہ سوال اکثر ذہن میں گونجتا ہے: کیا ہم یقین پر ہیں یا تعصب پر؟ دونوں کی شکلیں بظاہر ایک سی لگتی ہیں، مگر ان کی بنیادیں، نتائج اور اثرات زمین آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ ایک روشنی کی طرف لے جاتا ہے، تو دوسرا اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔
یقین کیا ہے؟
یقین سچائی پر مبنی اعتماد ہے۔ یہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان دلیل، مشاہدہ، علم، تجربہ اور شعور کی بنیاد پر کسی بات کو مانتا ہے۔ یقین ایک متحرک عمل ہے؛ یہ جمود نہیں لاتا بلکہ سوچنے، سیکھنے اور بہتر کرنے کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔
تعصب کیا ہے؟
تعصب، یقین کا بگڑا ہوا روپ ہے۔ یہ بغیر تحقیق، دلیل یا کھلے ذہن کے کسی رائے یا عقیدے کو محض جذبات، روایات یا وراثت کی بنیاد پر قبول کرنا ہے۔ تعصب کی جڑیں اکثر خوف، انا، یا شناخت کے عدم تحفظ میں پیوست ہوتی ہیں۔
یقین اور تعصب: معاشرتی اثرات
آج بھی مذہبی انتہا پسندی، نسل پرستی، سیاسی فرقہ واریت — یہ سب تعصب کی ہی شکلیں ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کو عام کیا ہے، وہیں تعصبات کو بھی کئی گنا تیز کر دیا ہے۔
یقین: ترقی کی بنیاد
تعصب: خطرناک جمود
تعصب نہ صرف فرد کو بند ذہن کا حامل بناتا ہے، بلکہ پورے معاشرے کو ذہنی غلامی میں جکڑ دیتا ہے۔
کیا ہم یقین پر ہیں یا تعصب پر؟
یہ سوال ہمیں خود سے روز پوچھنا چاہیے:
-
کیا میں دلیل سنتا ہوں؟
-
کیا میں اپنی رائے بدلنے کو تیار ہوں اگر سچ سامنے آئے؟
-
کیا میں اختلاف کو برداشت کرتا ہوں؟
-
کیا میں صرف اس لیے کسی بات کو مانتا ہوں کہ میرے بزرگ یا گروہ نے کہا ہے؟
پیر، 21 اپریل، 2025
سایوں کے پیچھے بھاگتی زندگی
ہم میں سے اکثر نے زندگی میں کبھی نہ کبھی کوئی ایسی شے محسوس کی ہے جو وہاں نہیں تھی— کوئی سایہ، کوئی آواز، کوئی ہیولا۔ اور پھر اس "محسوس شدہ حقیقت" کو ہم وہم کا نام دے کر یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں، یا پھر اس کے پیچھے ایک پوری کہانی بُن لیتے ہیں۔
وہم صرف ایک تصور نہیں، ایک کیفیت ہے— اور بعض اوقات ایک مکمل طرزِ زندگی بن جاتا ہے۔
میرے حلقہ احباب میں ایک صاحب نے حال ہی میں پریشان ہو کر بتایا کہ ان کے 22 سالہ بیٹے کو کئی دنوں سے اپنے کمرے میں اور کبھی کبھی گھر میں کوئی "ہیولا نما" شے دکھائی دیتی ہے۔ کبھی وہ انسانی شکل میں ہوتی اور کبھی کسی ناقابلِ بیان، مہیب صورت میں۔ والدین سخت پریشان تھے— دم درود سے لے کر ماہر نفسیات تک ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے تھے، لیکن افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔
تب ہمارے ایک تجربہ کار دوست نے بڑی سادہ سی بات کی۔ کہنے لگے: "اس نوجوان کو چاہیے کہ وہ رات کو 9 بجے ہر حال میں سوجائے، اور جو بھی کام رات کو کرتا ہے وہ صبح کر لیا کرے۔" بظاہر یہ مشورہ سادہ لگا، لیکن اس پر عمل ہوتے ہی نوجوان کے ہیولے غائب ہو گئے۔
یہ کوئی جادو نہ تھا، بلکہ انسانی دماغ کا کمال تھا۔ نیند کی کمی، مسلسل تنہائی، اور دماغ پر سکرینز کی روشنی— یہ سب مل کر ایسے "وہم" پیدا کر دیتے ہیں جو انسان کو سچ سے زیادہ حقیقی لگنے لگتے ہیں۔
وہم صرف ایک سوچ نہیں، ایک زنجیر ہے جو انسان کے اعتماد کو جکڑ لیتی ہے۔ ہم اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کے بجائے ان کی وجہ کسی "غیبی" قوت کو دے دیتے ہیں، اور یوں خود کو عمل سے بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں۔
اگر وہ نوجوان رات کو جلد سونے سے ٹھیک ہو سکتا ہے، تو ہم سب بھی سادہ، متوازن زندگی اپنا کر بہت سے ذہنی سایوں سے نجات پا سکتے ہیں۔
وہم کا علاج فلسفہ یا عملیات میں نہیں، بلکہ نظم، علم، نیند، سادہ زندگی اور اللہ پر یقین میں ہے۔ ہم جتنا جلد یہ سیکھ لیں، اتنا بہتر۔
61 ہارلے صتریٹ راولپنڈی
"تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی" — یہ جملہ جب بھی ذہن میں آتا ہے، تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نام بے اختیار ذہن پر دستک دیتا ہے: آغا محمد یحییٰ خان۔ یہ وہ جرنیل تھا جس نے ایک خودمختار قوم کی باگ ڈور سنبھالی اور بدترین سیاسی ناپختگی، ذاتی کمزوریوں اور اقتدار کے نشے میں ایک ایسا فیصلہ کیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان صرف ایک جغرافیائی سانحہ نہ تھا، بلکہ یہ ہماری اجتماعی سوچ، رویے اور حکمرانی کی ناکامی کا اعتراف بھی تھا۔ یحییٰ خان نے اقتدار جنرل ایوب خان سے 1969 میں سنبھالا۔ ابتدا میں یوں لگا جیسے وہ واقعی ایک راست باز جرنیل ہے، جو پاکستان کو جمہوری عمل کی طرف لے جائے گا۔ 1970 میں ملک کے پہلے عام انتخابات کروانا یقیناً ایک بڑا فیصلہ تھا۔ مگر اصل آزمائش اُس وقت شروع ہوئی جب عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں واضح اکثریت حاصل کی، اور یحییٰ خان کے لیے اقتدار کی قربانی دینا مشکل ہو گیا۔ یحییٰ خان نے اقتدار عوامی نمائندوں کو سونپنے کے بجائے بندوق کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔ آپریشن سرچ لائٹ کے نام پر ہزاروں بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ لاکھوں افراد نے اپنی جان، مال اور عزت گنوائی۔ بنگالیوں کے لیے یحییٰ خان کا نام آج بھی ظلم، جبر اور استبداد کی علامت ہے۔ وہ اسے ایک ایسا مغرور اور بے رحم حکمران مانتے ہیں، جس نے عوامی مینڈیٹ کو کچل کر پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ یہی نہیں، بلکہ حمود الرحمٰن کمیشن نے بھی یحییٰ خان کو اس قومی المیے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ رپورٹ کے مطابق وہ ایک اقتدار پرست، غیر سنجیدہ اور بدعنوان شخص تھا۔ کمیشن نے اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی، مگر افسوس! طاقتور حلقوں کے درمیان حساب کبھی پورا نہیں ہوتا۔ یحییٰ خان کی شخصیت کا تضاد یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر چین اور امریکہ کے مابین سفارتی تعلقات قائم کرنے میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا، مگر اندرونِ ملک وہ ایک ناکام حکمران، بے سمت لیڈر اور اخلاقی دیوالیہ پن کی مثال ثابت ہوا۔ بنگلہ دیش میں آج بھی تعلیمی نصاب اور عوامی بیانیے میں یحییٰ خان کو ایک ظالم فاتح اور جمہوریت کش آمریت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ وہ انہیں یاد آتا ہے تو آنکھوں میں نفرت اور دل میں درد اُمڈ آتا ہے۔ یحییٰ خان کا انجام بھی عبرت ناک تھا — اقتدار سے محرومی کے بعد اپنے ہی گھر 61 ہارلے سٹریٹ میں نظر بندی، عوامی بے زاری، اور بالآخر خاموشی سے موت۔ نہ عزت، نہ معافی، نہ دفاع۔ یہ ایک جنرل کی کہانی ہے، جو سپاہی تو اچھا تھا، مگر حکمران بننے کی صلاحیت اس میں نہ تھی۔ آج جب ہم جمہوریت، آئین اور اداروں کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ ماضی کے ان کرداروں کا جائزہ لیں جن کی شخصی غلطیوں نے قومی زخموں کو جنم دیا۔ یحییٰ خان کی کہانی ہمارے لیے آئندہ کے لیے ایک عبرت ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم سبق لینا چاہیں۔
سُمیترا سنگھ کی حیران کن کہانی
1968
کے قریب، ضلع اٹاوہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں انگد کا نگلا میں سُمیترا سنگھ پیدا ہوئیں۔ والد کا سایہ نہ تھا، ماں کا بھی جلد انتقال ہو گیا، سو سُمیترا نے بچپن کزن کے ساتھ گزارا اور وہیں سے کچھ پڑھنا لکھنا سیکھا۔
تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی شریف پورہ کے جگدیش سنگھ سے ہوئی۔ تین سال بعد ایک بیٹا پیدا ہوا، مگر اسی دوران سُمیترا پر عجیب کیفیت طاری ہونے لگی۔ وہ بے ہوش ہو جاتیں، آنکھیں الٹی ہو جاتیں، دانت بھینچ لیتیں اور کبھی خود کو "سنتوشی ماتا" یا کسی دوسری روح کا حامل بتاتیں۔ علاج کی ہر کوشش ناکام رہی۔
پھر 19 جولائی 1985 کو ایک ایسا لمحہ آیا جس نے سب کو چونکا دیا۔ سُمیترا اچانک بے ہوش ہو گئیں، سانس اور نبض بند، چہرہ زرد۔ سب نے سمجھا وہ مر چکی ہیں۔ مگر چند منٹ بعد وہ زندہ ہو گئیں—مگر اب وہ "سُمیترا" نہیں تھیں۔ ہوش میں آتے ہی خود کو "شیوا تریپاٹھی" کہنے لگیں، ایک ایسی خاتون جسے ان کے سسرالیوں نے قتل کیا تھا۔
نئی شناخت، نئی یادداشت
سُمیترا نہ اپنے شوہر کو پہچانتی تھیں، نہ بیٹے کو۔ البتہ وہ شیوا کے خاندان، دوستوں، بچوں اور یہاں تک کہ روزمرہ تفصیلات تک سے واقف تھیں—جیسے شیوا کی زرد ساڑھی، ہاتھ کی گھڑی، محلے کے نام اور حتیٰ کہ اسکول کا پتہ۔
ان کی شخصیت، بول چال، لباس، عادات سب بدل گئے۔ وہ اپنے اصل شوہر کو کمتر سمجھتیں، اور صرف "شیوا" کہلانا پسند کرتیں۔ بعد میں انہوں نے جگدیش اور اپنے بیٹے کو قبول تو کیا، مگر شیوا ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں چھوڑا۔
تحقیقات اور حیران کن انکشافات
یہ غیر معمولی کیس محققین ایان اسٹیونسن اور ڈاکٹر ستونت پاسریچا کی نظر میں آیا۔ انہوں نے 1985 سے 1987 تک دونوں خاندانوں، علاقوں اور گواہوں سے کئی بار ملاقات کی، اور نتیجہ یہ نکالا کہ سُمیترا نے کم از کم 19 ایسی باتیں کہیں جو شیوا کے قریبی لوگوں کے سوا کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
مزید تحقیق میں انکشاف ہوا کہ سُمیترا نے واقعے سے پہلے کبھی مکمل ہندی نہیں سیکھی تھی، مگر اب وہ رواں دستخط اور تحریریں لکھنے لگی تھیں، بالکل شیوا کی طرح۔
مابعد زندگی کا بیان
سُمیترا کا کہنا تھا کہ مرنے کے بعد انہیں یم راج کے دربار میں لے جایا گیا، جہاں دیوی سنتوشی ماتا کی مداخلت پر انہیں سات سال کے لیے واپس زمین پر بھیجا گیا—شیوا کی روح کے ساتھ۔
علمی و نفسیاتی بحث
ماہرین اس واقعے کو "ری پلیسمنٹ ری انکارنیشن" یعنی بغیر موت کے روح کی تبدیلی کہتے ہیں۔ کچھ نے اسے نفسیاتی کیفیت یا ممکنہ طور پر سماجی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش بھی قرار دیا۔ تاہم تحقیقات اس بات پر متفق تھیں کہ سُمیترا نے کبھی بھی یہ دعویٰ ترک نہیں کیا کہ وہ شیوا ہیں۔
خاتمہ
سُمیترا 1998 میں اور ان کے شوہر 2008 میں وفات پا گئے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو—جنم نو یا قبضہ؟—آج بھی انسانی شعور، روح اور زندگی کے بعد کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
جو لوگ مزید تفصیل جاننا چاہیں ۔ اس لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں
https://psi-encyclopedia.spr.ac.uk/articles/sumitrashiva-replacement-reincarnation-case
بدبخت کو موت بھی نہیں آتی
انسانی جذبات میں ایک جذبہ ایسا بھی ہے جو نظر نہیں آتا، مگر اندر ہی اندر روح کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو دوسروں کی خوشی، کامیابی، دولت یا حسن کو دیکھ کر دل میں چبھن کی صورت جاگتا ہے۔ یہ چبھن بظاہر خاموش ہوتی ہے، لیکن انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے حسد کہا جاتا ہے — اور اسی لیے کہا گیا ہے:
انسانی تاریخ میں اگر جھانکا جائے تو حسد نے نہ صرف افراد کو بلکہ پوری قوموں کو برباد کیا ہے۔ رشتے ناتوں میں دراڑیں ڈالیں، اور دلوں میں زہر گھولا۔ قابیل کا ہابیل کو قتل کرنا انسانی تاریخ کا پہلا قتل تھا، اور اس کے پیچھے محرک حسد ہی تھا۔
دنیا کے ہر بڑے مذہب نے حسد کو بُرا اور تباہ کن قرار دیا ہے:
تورات میں کہا گیا:
"تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کر... اور نہ کسی چیز کا جو اس کی ہو۔"
انجیل کہتی ہے:
"پرامن دل جسم کو زندگی دیتا ہے، لیکن حسد ہڈیوں کو گلادیتا ہے۔"
بھگوت گیتا میں ہے:
"جو سب کے لیے خیر خواہ ہو، حسد سے پاک ہو، وہی میرا سچا بھکت ہے۔"
قرآن پاک میں سورہ الفلق میں ارشاد ہوتا ہے:
"اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے، میں پناہ مانگتا ہوں۔"
احادیثِ مبارکہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔"
اہلِ علم کی نظر میں
حسد کے بارے میں مفکرین نے بھی کڑی تنقید کی ہے:
ارسطو نے کہا:
"کسی کی خوشی کو دیکھ کر جو درد دل میں ہو، وہی حسد ہے۔"
فرانسس بیکن کے مطابق:
"حسد سب سے بدترین جذبہ ہے۔"
حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
"حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔"
شیخ سعدیؒ نے کہا:
"حسد علم سے پیدا ہو تو علم وبال بن جاتا ہے۔"
ایک مسلسل پیچھا کرنے والا سایہ
حسد نہ دن دیکھتا ہے، نہ رات، نہ موسم، نہ موقع۔ یہ چھٹی نہیں کرتا — نہ جمعہ، نہ اتوار، نہ تعطیلات۔ ہر وقت، ہر لمحہ یہ انسان کا پیچھا کرتا ہے۔ اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ انسان کو جیتے جی مار دیتا ہے۔
بدبخت کو موت بھی نہیں آتی —
میں ڈرتا ہوں
جب علم، عمل سے خالی ہو جائے
یہ بظاہر علم کا دور ہے۔ ہر طرف کتابیں چھپ رہی ہیں، تقاریر ہو رہی ہیں، منبر گونج رہے ہیں، ڈگریاں تقسیم کی جا رہی ہیں، اور ہر سڑک و گلی میں اقوالِ زریں جگمگا رہے ہیں۔ مگر افسوس، دل و دماغ پر سنّاٹا چھایا ہے۔ کردار زبانوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے،عمل، شخصیت کی اصل علامت، بےرنگ ہو چکے ہیں۔
علم کی گونج تو ہے، لیکن عمل کی روشنی ندارد۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے چشمہ تو ہے مگر اس کے کنارے خشک ہیں، اور پیاسے راہ بھول چکے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب قرآن ہمیں جھنجھوڑتا ہے:
"پھر تمہارے دل سخت ہو گئے، تو وہ پتھروں کی مانند ہو گئے یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ اور بعض پتھر ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں، پھر ان سے پانی نکل آتا ہے، اور بعض ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔"(سورۃ البقرہ، آیت 74)
یہ آیت فقط بنی اسرائیل کی سرگزشت نہیں، بلکہ آج کے مسلمان کا عکس ہے۔ وہ شخص جو علم تو رکھتا ہے، مگر اس کے دل پر نہ خدا کا خوف ہے، نہ عمل کی رمق۔ جس کی زبان پر دین کی باتیں ہیں، مگر اس کے قدم گناہوں کی راہ پر رواں ہیں۔ جو دوسروں کو نصیحت کرتا ہے، مگر خود اس پر عمل کرنے سے قاصر ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کے دن ایک پڑھے لکھے کو لایا جائے گا، جس نے علم حاصل کیا، قرآن پڑھا، سکھایا، مگر اس پر خود عمل نہ کیا۔ تو اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"(صحیح مسلم)
امام حسن بصریؒ کی بصیرت افروز بات ہمارے دلوں کو جھنجھوڑتی ہے:
"علم بغیر عمل پاگل پن ہے، اور عمل بغیر علم گمراہی۔"
آج ہم نے جھوٹ، غیبت، خیانت، حسد، ریاکاری، اور خودغرضی جیسے عیوب کو معمولی سمجھ کر اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا ہے۔ یہی وہ گناہ ہیں جو دل کو سخت، کردار کو کھوکھلا، اور معاشرے کو مفلوج کر دیتے ہیں۔
ابنِ خلدون نے سچ کہا تھا:
"جب کسی قوم کے صاحبان علم، علم رکھتے ہوں مگر کردار نہ ہو، تو اس قوم کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔"
آج ہم اسی خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں۔ استاد، مبلغ ، لیڈر کا قول اس کے فعل سے میل نہیں کھاتا، واعظ کی زندگی اس کی تقریر کی نفی کرتی ہے، اور رہنما کے فیصلے اس کی زبان سے متضاد ہوتے ہیں۔ ہم نے علم کو صرف رٹنے، بولنے اور سنانے کی چیز بنا دیا ہے، عمل کو زندگی سے نکال پھینکا ہے۔ دل ایسی زمین بن چکے ہیں جن پر نہ نصیحت اثر کرتی ہے، نہ عبادت۔
علم دراصل وہ چراغ ہے جو تبھی روشنی دیتا ہے جب اس میں عمل کا تیل ہو۔ اگر یہ تیل نہ ہو تو علم، اندھیرے کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ اور بےعمل ، صاحب علم، وہ پہلا شخص ہوگا جو قیامت کے دن اپنے ہی علم کی آگ میں جھلسے گا۔
شیخ سعدی نے کہا تھا
"میں دو ہستیوں سے ڈرتا ہوں: ایک اللہ سے، دوسرا اُس شخص سے جو اللہ سے نہیں ڈرتا۔"
آج ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے دل اس قابل رہ گئے ہیں کہ اللہ کے خوف سے لرزیں؟ یا ہم ان پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو چکے ہیں جن کی مثال قرآن نے دی؟ اگر ہاں، تو وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں، اپنی نیتوں کو خالص کریں، اور علم کو عمل سے جوڑیں۔
۔کیونکہ یہی وہ راہِ مستقیم ہے جس پر چل کر انسان سرخرو ہو سکتا ہے
اقبال کی فریاد بھی پڑھ لیں:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے
ہفتہ، 19 اپریل، 2025
ماضی کے آئینے میں قید معاشرہ
ماضی کے آئینے میں قید معاشرہ
تحریر: دلپذیر
ہر قوم کا ماضی اُس کی پہچان کا ستون، اُس کے شعور کا دریا، اور اُس کی اجتماعی یادداشت کا خزانہ ہوتا ہے۔ یہ ماضی کبھی عروج کی داستانیں سناتا ہے، کبھی زوال کے اسباق۔ مگر جب کوئی معاشرہ صرف انہی بیتے دنوں میں اُلجھ کر رہ جائے، تو حال کی حقیقتیں اور مستقبل کے امکانات اُس کی نظر سے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔ تب ماضی چراغِ راہ نہیں رہتا—وہ ایک چمکتا ہوا قید خانہ بن جاتا ہے، جہاں فکر کی پرواز ساکت ہو جاتی ہے۔
ہماری تاریخ میں سنہری باب موجود ہیں۔ عباسی دور میں بغداد کی "بیت الحکمت" علم و تحقیق کا ایک ایسا مرکز تھی جہاں مختلف مذاہب کے علما اکٹھے بیٹھ کر سائنس، فلسفہ، طب اور ریاضی پر تحقیق کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب خوارزمی الجبرا کی بنیاد رکھ رہے تھے، ابن الہیثم روشنی اور بصریات پر تجربات کر رہے تھے، اور ابن سینا "القانون" جیسی طبی کتابیں لکھ رہے تھے جو صدیوں تک یورپ کی جامعات میں پڑھائی جاتی رہیں۔
اسی طرح اندلس، جہاں قرطبہ کی لائبریریاں اور غرناطہ کے تعلیمی مراکز علم کا سمندر بن چکے تھے، تہذیب، رواداری اور تخلیقی قوت کی عظیم مثال تھے۔ مسلمان معلم فقہ و حدیث کے ساتھ ساتھ فلکیات، موسیقی، فنِ تعمیر، اور طب میں بھی مہارت رکھتے تھے۔
لیکن آج ہم اُن کارناموں کو آگے بڑھانے کے بجائے اُن کا ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ "جب ہم حکمران تھے..."، یا "ہم نے سائنس ایجاد کی تھی..."۔ سوال یہ ہے کہ ہم آج کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے علم کی وہ مشعل نئی نسل کو تھمائی ہے؟ کیا ہم نے تحقیق و اجتہاد کی وہ روش برقرار رکھی ہے؟
ہمارے خطیب، مقرر، دانشور، اور بعض دینی رہنما آج بھی ماضی کی عظمت پر خطبے دیتے ہیں، مگر حال کی سائنس کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ زمین کو چپٹا قرار دینا، سورج کو ساکن کہنا، اور سائنسی ایجادات کو بدعت سمجھنا—یہ رویے اُسی ماضی پرستی کی علامت ہیں، جو ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
برصغیر کی تحریکِ آزادی بھی ماضی کا ایک روشن باب ہے۔ سر سید احمد خان نے تعلیم کی شمع روشن کی، اقبال نے خودی اور تجدیدِ فکر کی دعوت دی، اور قائداعظم محمد علی جناح نے اصول پسندی، قانون اور فہم و فراست کے ساتھ ایک قوم کو بیدار کیا۔ مگر آج اُن کی بصیرت کے بجائے صرف تصویریں، اقوال اور قومی تقاریر باقی رہ گئی ہیں۔
سچ یہ ہے کہ ماضی کو دیوتا بنا کر پوجنا فکر کا زوال ہے۔ ہم نے لاوڈ اسپیکر کو کفر کہا، پرنٹنگ پریس کو حرام سمجھا، اور ٹیلی ویژن کو فتنہ قرار دیا۔ آج جب دنیا مصنوعی ذہانت، بائیوٹیکنالوجی، اور خلائی تحقیق کے میدان میں دوڑ رہی ہے، ہم آج بھی پرانی فتووں میں الجھے بیٹھے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی سے سبق ضرور لیں، مگر اس میں قید نہ ہو جائیں۔ نوجوانوں کو صرف داستانیں نہ سنائیں، اُنہیں سوال کرنے، تحقیق کرنے، اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں۔ اقبال نے فرمایا تھا:
یہ "نم" صرف ماضی کی یاد میں آنکھ نم کرنے سے نہیں آتا۔ یہ نم تحقیق، تخلیق، اور تدبر سے آتا ہے۔ اگر ہم نے آج کے سوالوں کے جواب نہ دیے، تو کل ہماری نسلیں بھی صرف بیتے وقت کی تصویریں سجانے میں مصروف رہیں گی، کچھ نیا نہ سوچ سکیں گی۔
تاریخ بنانے والی اقوام آگے دیکھتی ہیں۔ جو صرف پیچھے دیکھیں، وہ آخرکار ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں—خاموش، بےآواز، اور عبرت ناک۔
قران میں سب سے زیادہ ذکر کیا گیا پیغمبر
قرآنِ کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر 136 مرتبہ مختلف مقامات پر آیا ہے، جو کسی بھی نبی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کا ذکر متعدد سورتوں میں ہوا، جن میں:
-
سورہ اعراف میں 28 بار
-
سورہ شعراء میں 18 بار
-
سورہ قصص میں 18 بار
-
سورہ طہ میں 16 بار
-
سورہ انعام میں 10 بار
-
سورہ یونس اور سورہ مائدہ میں 8، 8 بار
-
سورہ بقرہ میں 6 بار شامل ہے
یہ بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات مبارکہ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ان کے واقعات قرآن مجید میں بار بار دہرائے گئے تاکہ امت کے لیے سبق اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکیں۔
نسب اور پیدائش
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے: موسیٰ بن عمران بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام۔ آپ کی پیدائش حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے تقریباً 100 سال بعد مصر میں اُس وقت ہوئی جب فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور ان پر ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی تھی۔
فرعون کا ظلم اور بنی اسرائیل کی حالت
فرعون نے بنی اسرائیل کو کمزور کر کے مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا۔ ان سے جبری مشقت لی جاتی، زمین و جائیداد رکھنے کا حق نہ تھا، اور سرکاری عہدے ان کے لیے ممنوع تھے۔ ہفتے میں صرف ایک دن کی چھٹی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جو ان مظلوموں کے لیے ایک بڑی سہولت تھی۔
ولادت اور بچپن
فرعون کے حکم پر بنی اسرائیل کے نومولود لڑکوں کو قتل کیا جا رہا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے تین ماہ تک آپ کو چھپایا، پھر اللہ کے حکم سے ایک صندوق میں ڈال کر دریائے نیل کے حوالے کر دیا۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے قریب جا پہنچا، جہاں فرعون کی بیوی آسیہ نے آپ کو اپنی اولاد کے طور پر پال لیا۔ "موسیٰ" قبطی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "پانی سے نکالا گیا"۔
تعلیم و تربیت اور مصر سے ہجرت
فرعون کے محل میں پروان چڑھنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ قوی جسم، شجاع اور نڈر شخصیت کے مالک تھے۔ ایک دن جب ایک مصری ایک بنی اسرائیلی کو مار رہا تھا، تو آپ نے مداخلت کی اور مصری مارا گیا۔ یہ واقعہ آپ کی مصر سے مدین کی طرف ہجرت کا سبب بنا۔
مدین میں قیام اور شادی
مدین میں آپ کی ملاقات حضرت شعیب علیہ السلام کی دو بیٹیوں سے ہوئی جو کنویں سے پانی بھر رہی تھیں۔ آپ نے ان کی مدد کی، جس کے بعد حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ کو اپنے گھر بلایا اور بعد ازاں اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں دس سال قیام کیا اور شعیب علیہ السلام کے جانوروں کی دیکھ بھال کی۔
نبوت اور فرعون سے مقابلہ
چالیس سال کی عمر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ فرعون نے انکار کیا، اور جب متعدد معجزات دیکھے، تب بھی ایمان نہ لایا۔ آخرکار، اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مصر سے نکالا۔ سمندر کو اللہ نے ان کے لیے راستہ بنا دیا، اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔
بنی اسرائیل کی سرگردانی اور تورات کا نزول
مصر سے نکلنے کے بعد، حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر صحرائے سینا کی طرف روانہ ہوئے، جہاں آپ کو کوہِ طور پر تورات عطا ہوئی۔ لیکن بنی اسرائیل نے سونے کے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی، جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سخت سرزنش کی۔ ان کی مسلسل نافرمانیوں کے سبب اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس سال تک صحرا میں بھٹکنے کی سزا دی۔
وفات
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بنی اسرائیل کو اللہ کی اطاعت کی تاکید کی۔ آپ کی وفات صحرائے سینا میں ہوئی، اور آپ کی قبر کا مقام اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ ہمیں صبر، استقامت، عدل، جرات اور اللہ پر کامل توکل کا درس دیتی ہے۔
چائے والا
" ایک تاجر، ایک سبق، اور 100 دن کی رفاقت"
ان دنوں میں ایک امریکی سافٹ ویئر کی مارکیٹنگ کرتا تھا۔ میں اس سافٹ ویئر کو مختلف کاروباری مراکز میں متعارف کرواتا، دکانداروں کو قائل کرتا اور ان کے سسٹمز کو کمپیوٹرائز کرنے میں مدد دیتا۔ راولپنڈی کے مشہور تجارتی مراکز جیسے سٹی صدر روڈ، نرنکاری بازار اور راجہ بازار میں میرے متعدد گاہک تھے۔
انہی میں سے ایک تاجر ایسے تھے جن سے میری پیشہ ورانہ وابستگی وقت کے ساتھ ایک جذباتی اور سیکھنے کا رشتہ بن گئی۔ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے، مگر ان کی کاروباری ذہانت، خلوص اور معاملہ فہمی غیر معمولی تھی۔ میں نے انہیں سافٹ ویئر خریدنے پر آمادہ کیا، اور ان کے سٹور کو مکمل طور پر کمپیوٹرائز کرنے کا آغاز کیا۔
کچھ ہفتے، کچھ مشاہدے:
شروع کے چند ہفتوں میں ہی مجھے احساس ہوا کہ میں صرف ایک دوکان کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک سوچ کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ وہ تاجر نہ صرف کاروبار کے ماہر تھے بلکہ انسان شناس بھی تھے۔
ان کی دوکان تو شام کے اوقات میں بند ہو جاتی، مگر میں اکثر ان کے دو ملازمین کے ساتھ دیر تک سسٹم کی ترتیب، اسٹاک کی ڈیجیٹل فہرست اور بلنگ کے خودکار طریقہ کار پر کام کرتا رہتا۔
میں نے محسوس کیا کہ کچن میں چائے بناے والا ایک نوجوان بھی ہر روز آخر وقت تک وہیں رکا رہتا ہے۔ وہ خاموشی سے کام کے ماحول کو سیکھ رہا ہوتا، جیسے اسے بھی کچھ نیا حاصل کرنا ہو۔
معاہدے کی تکمیل اور الوداعی عشائیہ:
میرا ان سے معاہدہ 100 دن کا تھا۔ میں نے اپنے حصے کا کام مکمل کیا اور اجازت لینے پہنچا۔ مگر انھوں نے مجھے روک کر بتایا کہ میرے اعزاز میں عشائیے کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس عشائیے میں ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام 38 افراد شریک تھے۔ وہ ایک خوشگوار اور غیر رسمی محفل تھی۔ ہر چہرے پر محبت اور احترام جھلک رہا تھا۔
ایک سادہ شخص کی بڑی باتیں:
عشائیے کے اختتام پر وہ تاجر خود کھڑے ہوئے اور اپنے بارے میں بات کرنا شروع کی —
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، تعلیم مکمل نہ کر سکے، مگر محنت کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیا۔ "میں نے ہمیشہ کام کو اپنا سمجھ کر کیا" — انہوں نے کہا،
"جب میں نے ہوٹل میں برتن تب بھی خود کو اس ہوٹل کا حصہ سمجھا۔ جب میں نے کسی کے ساتھ مل کر پرچون چلائی، تب بھی ایسے کام کیا جیسے یہ میری دکان ہو۔ ہارڈوئر کی دوکان چلائی تو اپنی سمجھ کر چلائی۔"
"کام کو اپنا سمجھ کر کرنا انسان کو ذمہ دار بناتا ہے، اور جب انسان ذمہ دار ہو جاتا ہے تو کامیابی کی سیڑھیاں خود بخود اس کے قدموں میں بچھنے لگتی ہیں۔"
یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔
میں تو انہیں ایک سافٹ ویئر سکھانے آیا تھا، مگر وہ مجھے زندگی کا سب سے قیمتی اصول سکھا گئے۔
چائے بناے والا لڑکا اج بھی اسی سٹور پر کام کر ہا ہے ۔ مگر اب وہ چائے نہیں بناتا بلکہ ستور کے اکاونٹ دیکھتا ہے ۔
یہ کیسے ممکن ہوا ۔ میں نے پوچھا ۔ اس کا جواب تھا"ہمارے حاجی صاحب نے پہلے دن ہی مجھے کہا تھا ۔ اس دوکان کو اپنا سمجھ کر کام کرنا" 6 ماہ تک میں سوچتا رہا اپنی دوکان سمجھ کر کام کروں گا تو بھی مجھے چائے ہی بنانا ہے ۔ مگر میں نے جب اس دوکان کو اپنا سمجھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ پر کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں ۔ میں نے ذمہ داریاں قبول کرنا شروع کیں تو میں حاجی صاحب کے ذینی طور پر قریب ہوتا چلا گیا ۔
تم نئے آنے والوں کو کیا ہدائت دیتے ہو " وہی جو حاجی صاحب نے مجھے پہلے دن دی تھٰی
"کام کو اپنا سمجھو، پھر دیکھو تم کتنے اہم ہو جاتے ہو"
سوشل میڈیا پر مختلف خطوں میں مقبول موضوعات کا تجزیاتی جائزہ
سوشل میڈیا پر مختلف خطوں میں مقبول موضوعات کا تجزیاتی جائزہ
(تحریر: ڈی اے جنجوعہ)
سوشل میڈیا موجودہ دور کی ایک طاقتور حقیقت بن چکا ہے۔ ہر خطے میں اسے مختلف انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں کہیں یہ اظہارِ رائے کا ذریعہ ہے، وہیں کہیں یہ تفریح، معلومات، کاروبار یا معاشرتی بیداری کا وسیلہ بھی ہے۔ دنیا کے ہر خطے کے لوگ اپنی ثقافت، حالات، رجحانات اور ضروریات کے مطابق سوشل میڈیا پر مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم چین، جاپان، برصغیر (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش)، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے سوشل میڈیا رجحانات کا جائزہ لیں گے۔
چین میں سوشل میڈیا کا رخ
چین میں سوشل میڈیا سخت حکومتی نگرانی اور سنسرشپ کے باوجود انتہائی فعال ہے۔ WeChat، Weibo، Douyin جیسے پلیٹ فارمز عام ہیں۔ یہاں سوشل میڈیا پر درج ذیل موضوعات نمایاں ہوتے ہیں:
-
ٹیکنالوجی اور اختراعات: مصنوعی ذہانت، سمارٹ سٹیز، روبوٹکس وغیرہ۔
-
صحت، خوراک، اور طرزِ زندگی پر مشورے اور معلوماتی ویڈیوز۔
-
قومی وقار اور ثقافتی ورثہ کی تشہیر۔
-
برانڈز اور پروڈکٹس کے ریویوز۔
جاپان میں سوشل میڈیا کا انداز
جاپان میں سوشل میڈیا نہایت مہذب، تخلیقی اور مخصوص ذوق کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ Twitter، Instagram، Line اور YouTube وہاں کے نمایاں پلیٹ فارمز ہیں۔
-
انیمے، مینگا اور گیمنگ سے متعلق پوسٹس بہت مقبول ہیں۔
-
ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس پر معلوماتی اور ریویو ویڈیوز۔
-
Minimal lifestyle، ذہنی سکون، اور خود انحصاری جیسے موضوعات بھی خاصی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
-
سفر، کھانے اور مقامی ثقافت کی خوبصورتی سوشل میڈیا پر اجاگر کی جاتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں مقبول رجحانات
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں سوشل میڈیا ایک مکمل دنیا ہے جہاں سیاست، تفریح، تعلیم، اور معاشرتی مسائل سبھی موضوعات پر بحث ہوتی ہے۔
-
سیاست: جماعتوں کی کارکردگی، لیڈرز کی تقاریر، عوامی ردِ عمل۔
-
شوبز، کرکٹ، اور مزاحیہ مواد: ڈرامے، فلمیں، میمز، اور کھلاڑیوں کے گرد گفتگو۔
-
سماجی و مذہبی موضوعات: مذہبی مواقع، دعائیں، اصلاحی پیغامات۔
-
تعلیم و روزگار: امتحانات، نوکریاں، اسکالرشپس۔
-
مزاحیہ ویڈیوز اور شارٹ فارمیٹ مواد کا سیلاب۔
یورپ میں سوشل میڈیا کا زاویہ
یورپی اقوام سوشل میڈیا کو علم، معاشرتی شعور اور ثقافتی اظہار کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
-
ماحولیاتی تحفظ: کلائمیٹ چینج، گرین انرجی، ماحولیاتی تحریکیں۔
-
انسانی حقوق اور سماجی انصاف: مساوات، اقلیتوں کے حقوق، آزادی اظہار۔
-
آرٹ، موسیقی، ادب اور ثقافتی سرگرمیاں۔
-
سفر اور لائف اسٹائل پر تصویری بلاگز اور وڈیوز۔
افریقہ میں سوشل میڈیا کا کردار
افریقی ممالک میں سوشل میڈیا ترقی اور بیداری کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
-
تعلیم و تربیت: طلبہ کے لیے مواقع، تعلیمی پلیٹ فارمز۔
-
مقامی کاروبار اور نوجوان انٹرپرینیورز کی تشہیر۔
-
موسیقی، رقص اور ثقافت کا فروغ۔
-
سیاسی شعور اور کرپشن کے خلاف آواز۔
امریکہ میں سوشل میڈیا کی جہتیں
امریکہ میں سوشل میڈیا صرف اظہارِ رائے ہی نہیں بلکہ رجحانات پیدا کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ Facebook، Instagram، TikTok، Twitter اور YouTube یہاں کے بڑے پلیٹ فارمز ہیں۔
-
سیاسی مباحثے، نسلی مساوات، اور سماجی تحریکیں۔
-
ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے متعلق مواد۔
-
سیلیبرٹیز، فلم، میوزک اور انفلوئنسر کلچر۔
-
مینٹل ہیلتھ، سیلف ہیلپ، اور لائف کوچنگ۔
خلاصہ
دنیا کے مختلف خطوں میں سوشل میڈیا کا استعمال ان کے معاشرتی، ثقافتی اور فکری پس منظر کے مطابق ہوتا ہے۔
-
چین اور جاپان میں نظم، جدیدیت اور ٹیکنالوجی غالب ہے۔
-
برصغیر میں سیاست، مذہب، تفریح اور تعلیم پر توجہ ہے۔
-
یورپ میں شعور، ماحول، فن اور مساوات۔
-
افریقہ میں تعلیم، ثقافت اور ترقی۔
-
امریکہ میں اظہارِ رائے، رجحانات کی قیادت اور سیلیبرٹی کلچر۔
سوشل میڈیا آج صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا کے مختلف چہروں کو دکھانے والا آئینہ بن چکا ہے۔ ہر پوسٹ، ہر ویڈیو، اور ہر ہیش ٹیگ اس معاشرے کی ایک جھلک ہے جہاں سے وہ پیدا ہوتا ہے۔

.jpg)






