ایران پر امریکی جارحیت
جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات معاشروں کے اندر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ میزائل عمارتوں کو گرا سکتے ہیں، بم انفراسٹرکچر کو تباہ کر سکتے ہیں، لیکن نفرت، عدم اعتماد اور معاشرتی تقسیم وہ زخم ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں ہمیشہ بیرونی حملوں سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ اکثر ان کا زوال اندرونی انتشار سے شروع ہوتا ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ دنیا کی توجہ عسکری کارروائیوں، فضائی حملوں اور دفاعی نظاموں پر مرکوز رہی، لیکن اس جنگ کا ایک اہم پہلو ایرانی معاشرے کا ردعمل تھا۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ مختلف طبقات حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، احتجاجی تحریکیں بھی سامنے آئیں، لیکن جب بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو معاشرے کے ایک بڑے حصے نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور ریاستی بقا کو ترجیح دی۔
سیاسیات میں اس رجحان کو Rally Around the Flag Effect کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی قوم کو بیرونی خطرہ درپیش ہو تو لوگ نظریاتی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کے گرد متحد ہو جاتے ہیں۔ تاریخ میں برطانیہ، ویت نام اور سوویت یونین سمیت کئی ممالک میں یہ کیفیت دیکھی جا چکی ہے۔ ایران کی حالیہ صورتحال بھی اسی اصول کی عکاس ہے۔
اس موقع پر ابنِ خلدون کی فکر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف مقدمہ میں "عصبیت" یا اجتماعی یکجہتی کو ریاستوں کی اصل طاقت قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق جب کسی معاشرے میں مشترکہ شناخت، باہمی اعتماد اور اجتماعی مقصد کا شعور موجود ہو تو وہ بڑے سے بڑے بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ لیکن جب گروہی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو ریاست اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔ ایران کا حالیہ تجربہ اسی نظریے کی ایک عملی مثال دکھائی دیتا ہے۔
اسی حقیقت کو علامہ محمد اقبال نے نہایت سادگی اور گہرائی کے ساتھ بیان کیا تھا:
"فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں"
اقبال کے نزدیک فرد کی اصل قوت اس کے اجتماعی وجود سے وابستہ ہے۔ جب افراد اپنی ذاتی وابستگیوں سے بلند ہو کر ایک بڑے قومی مقصد کا حصہ بن جاتے ہیں تو معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور قومی مزاحمت کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
تاہم جنگ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جس طرح بعض اوقات بیرونی خطرات قوموں کو متحد کرتے ہیں، اسی طرح وہ معاشروں میں نفرت اور جذباتیت کو بھی ہوا دے سکتے ہیں۔ جب عالمی تنازعات مقامی سطح پر جذباتی نعروں میں تبدیل ہو جائیں تو عقل، برداشت اور مکالمے کی جگہ اشتعال اور انتقام لینے لگتے ہیں۔
جرمن سیاسی مفکرہ ہنّا آرنٹ نے اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:
"نفرت کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔"
ان کے نزدیک معاشروں کا اصل بحران اس وقت شروع ہوتا ہے جب لوگ حقائق کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں۔ جب تنقیدی سوچ ختم ہو جائے تو اختلافِ رائے دشمنی میں بدل جاتا ہے اور انسان مخالف نقطۂ نظر رکھنے والے کو محض ایک دشمن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔
ہنّا آرنٹ کے اس خیال کی عملی توسیع والٹیر کے اس مشہور قول میں ملتی ہے:
"میں تمہاری رائے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن تمہیں وہ رائے رکھنے کے حق کا دفاع آخری دم تک کروں گا۔"
یہی وہ اصول ہے جس پر مہذب معاشرے استوار ہوتے ہیں۔ اختلاف کو برداشت کرنا طاقت کی علامت ہے، جبکہ اختلاف کو نفرت میں بدل دینا معاشرتی کمزوری کی نشانی ہے۔
بدقسمتی سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اسی کمزوری کی جھلک دکھائی۔ کراچی میں امریکی سفارتی تنصیبات کے گرد ہونے والے پرتشدد واقعات اور ان میں انسانی جانوں کا ضیاع اس بات کی یاد دہانی تھا کہ جب بین الاقوامی سیاست مذہبی جذبات کے ساتھ خلط ملط ہو جائے تو احتجاج اور تشدد کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح شمالی علاقوں اور سکردو میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ ہزاروں میل دور ہونے والی جنگ کا ردعمل اپنے ہی معاشرے کے افراد کے خلاف کیوں ظاہر ہوتا ہے؟
یہ کوئی نئی صورتحال نہیں۔ 1947ء کی تقسیمِ ہند بھی اسی نفسیات کی ایک المناک مثال تھی۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے لوگ اچانک ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ مذہبی اور سیاسی جذبات نے عقل اور انسانیت کو پسِ پشت دھکیل دیا، اور نفرت نے ایسے زخم چھوڑے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس پوری صورتحال میں ایک واضح سبق پوشیدہ ہے۔ ہماری اصل طاقت صرف عسکری صلاحیت نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، مسالک اور سیاسی نظریات کا مجموعہ ہے۔ اگر یہ تنوع باہمی احترام اور قومی شعور کے ساتھ جڑا رہے تو یہی ہماری قوت بن جاتا ہے، لیکن اگر یہی اختلافات نفرت اور تقسیم میں بدل جائیں تو وہ کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔
قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ دلوں اور ذہنوں کے درمیان موجود اعتماد کو برقرار رکھنے کا نام بھی ہے۔ دنیا کی طاقتیں ہمیشہ ان معاشروں کو آسان ہدف سمجھتی ہیں جو اندرونی طور پر منقسم ہوں۔ اس لیے ہر قوم کی پہلی ذمہ داری اپنی داخلی یکجہتی کو محفوظ رکھنا ہے۔
ایران کی حالیہ جنگ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہتھیار ضروری ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم قومی یکجہتی ہے۔ میزائل دشمن کے حملوں کو روک سکتے ہیں، مگر نفرت، تعصب اور داخلی انتشار کا مقابلہ صرف شعور، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری سے کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: سرحدوں پر ہونے والی جنگیں ایک دن ختم ہو جاتی ہیں، لیکن معاشرتی تقسیم کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑی فتح صرف میدانِ جنگ میں کامیابی نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کو نفرت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ جنگ سے بڑا زخم دشمن کا حملہ نہیں، اپنے ہی معاشرے کا بکھر جانا ہے۔