منگل، 13 اکتوبر، 2026

سیاسی یتیم کی کہانی




سیاسی یتیم کی کہانی


سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست نہیں ہوتا؛ مستقل صرف مفادات ہوتے ہیں۔ طاقتور کو جب تک آپ کی ضرورت رہتی ہے، آپ اس کے معتمد، اتحادی اور اقتدار کے شریک دکھائی دیتے ہیں، لیکن جس دن آپ کی افادیت ختم ہو جائے، برسوں کی وفاداری بھی بے معنی ہو سکتی ہے۔ سرپرست اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتا ہے، اقتدار کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور کل تک طاقت کے ایوانوں تک رسائی رکھنے والا آج اپنی آواز سنانے کے لیے بھی محتاج ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک اتحادی سیاسی یتیم بن جاتا ہے۔

تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو طاقتور بنانے کے لیے اپنی قوت، دولت اور اثرورسوخ صرف کر دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طاقت کو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پروان چڑھا رہے ہیں، کل وہی طاقت انہیں غیرضروری سمجھ سکتی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے بنگال کا جگت سیٹھ خاندان اسی تلخ حقیقت کی ایک قابلِ غور مثال ہے۔

اس زمانے میں جگت سیٹھ خاندان برصغیر کے امیر ترین اور بااثر تجارتی و سرمایہ دار خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ خاندان کے نمایاں سربراہ فتح چند کو مغل بادشاہ محمد شاہ نے 1720ء کی دہائی میں ’’جگت سیٹھ‘‘ کا خطاب دیا۔  اس خطاب نے  خاندان کے لیے دولت، مالی وسائل اور حکمرانوں تک رسائی کے دروازے کھول دیے ۔ بظاہر اس کی حیثیت اتنی مضبوط تھی کہ کوئی سیاسی تبدیلی اس کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔

لیکن تاریخ میں دولت اور اثرورسوخ ہمیشہ تحفظ کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں طاقت کس کے ہاتھ میں جا رہی ہے۔

1757

ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کے خلاف سازش میں جگت سیٹھ خاندان کے مفادات ایسٹ انڈیا کمپنی سے جا ملے۔ خاندان نے انگریزوں کی مالی معاونت کی اور نواب کی حکومت کی تبدیلی میں کردار ادا کیا۔

یہیں سے اس کہانی کا بنیادی سبق سامنے آتا ہے: جس طاقت کو آپ اپنے مخالف کو ہٹانے کے لیے مضبوط کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ کامیابی کے بعد آپ کے مفادات کا بھی خیال رکھے۔ آپ کسی کو اقتدار تک پہنچانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد اقتدار کی سمت کا تعین آپ کے ہاتھ میں رہے، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔

جگت سیٹھ خاندان کی بعد کی تاریخ اس خطرے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ 1763ء میں خاندان کے اہم افراد مہتاب چند اور سوروپ چند قتل کر دیے گئے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات، اقتدار کی کشمکش اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے غلبے نے خاندان کی سابقہ حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ جو خاندان کبھی حکمرانوں کو مالی سہارا دینے اور سیاسی معاملات پر اثرانداز ہونے کی قوت رکھتا تھا، وہ نئے اقتدار کے نظام میں اپنی پرانی اہمیت برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کی داستان ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدار کی تبدیلی میں دوسروں کے لیے راستہ کھولنے والے بھی ہمیشہ اپنے لیے محفوظ راستہ نہیں بنا پاتے۔

یہ واقعہ صرف ایک امیر خاندان کے عروج و زوال کی کہانی نہیں؛ یہ اس سیاسی ذہنیت کا نوحہ بھی ہے جو اپنی قوت پیدا کرنے کے بجائے کسی طاقتور کی سرپرستی کو کامیابی کی ضمانت سمجھ بیٹھتی ہے۔

آج بھی سیاست میں ایسے خاندان، گروہ اور جماعتیں دکھائی دیتی ہیں جو اپنی تنظیم، نظریے، عوامی حمایت اور آزادانہ فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے کے بجائے کسی طاقتور سرپرست کے سہارے اپنی حیثیت قائم کرتی ہیں۔ جب تک ان کی ضرورت باقی رہتی ہے، انہیں اہمیت دی جاتی ہے؛ ان کے لیے راستے کھلے رہتے ہیں اور ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ لیکن جب سرپرست کے مقاصد بدل جائیں، ترجیحات تبدیل ہو جائیں یا کوئی نیا اتحادی زیادہ کارآمد دکھائی دینے لگے تو پرانے ساتھی کی حیثیت بھی بدل سکتی ہے۔

اس وقت سب سے تلخ انکشاف یہ ہوتا ہے کہ جسے وہ اقتدار میں شراکت سمجھ رہا تھا، ممکن ہے وہ محض ایک عارضی ضرورت ہو۔ جس تعلق کو وہ وفاداری کا رشتہ خیال کرتا تھا، طاقتور فریق اسے مفادات کا معاہدہ سمجھتا ہو۔ دونوں کے درمیان یہی فرق اکثر عروج اور زوال کے فاصلے کو طے کرتا ہے۔

اگرایسا فریق خاندان کی بجائے سیاسی جماعت ہو تو

ایسی جماعت کے لیے اصل امتحان اقتدار سے محرومی نہیں، بلکہ سرپرستی کے بغیر اپنی بقا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنے کارکنوں کو متحد رکھ سکتی ہے؟ کیا وہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف اعتماد کے ساتھ پیش کر سکتی ہے؟ کیا وہ آزادانہ سیاسی فیصلے کرنے اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہو تو بحران کسی ایک سیاسی عہدے یا حکومتی منصب کے خاتمے تک محدود نہیں رہتا؛ پوری جماعت کی شناخت اور مستقبل خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: سرپرستی سے فائدہ اٹھانا سیاسی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، لیکن سرپرستی کو اپنی بنیاد بنا لینا خطرناک انحصار ہے۔  اتحاد، مفاہمت اور مشترکہ مفادات  سیاست کا حصہ ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی جماعت کی طاقت کا سرچشمہ عوام کے بجائے کوئی دوسرا مرکز بن جائے، اس کی ترجیحات اپنی ضرورتوں کے بجائے سرپرست کی خواہشات سے طے ہونے لگیں اور اس کے فیصلے آزادانہ غوروفکر کے بجائے منظوری کے محتاج ہو جائیں۔

سرپرست کی ضرورت ختم ہوتے ہی ایسے تعلقات کی اصل نوعیت سامنے آ جاتی ہے۔ طاقتور فریق اپنا راستہ بدل لیتا ہے، لیکن انحصار کرنے والا اپنی کمزوریوں کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ اسے نئے سرے سے عوام کا اعتماد حاصل کرنا، کارکنوں کو متحرک کرنا اور اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنا پڑتی ہے۔ بعض جماعتیں اس مرحلے کو اپنی اصلاح کا موقع بنا لیتی ہیں، جبکہ بعض اپنی سابقہ سرپرستی کے خاتمے کو ہی اپنے زوال کی آخری وجہ سمجھتی رہتی ہیں۔

سیاسی یتیمی  اس دن شروع نہیں ہوتی جب سرپرست ہاتھ کھینچ لیتا ہے؛ اس کا آغاز اس دن ہو جاتا ہے جب کوئی اپنی منزل، راستے اور فیصلوں کا اختیار کسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہے۔ سرپرست کا ہاتھ اٹھنے پر صرف سہارا نہیں چھنتا، اس انحصار کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: دوسروں کے سہارے اقتدار تک پہنچنا ممکن ہے، مگر اپنی قوت کے بغیر اقتدار میں اپنی جگہ برقرار رکھنا مشکل۔ جو اپنی بقا کا اختیار کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، اسے ایک دن اپنی بے بسی کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھوں ہوتا دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

بدھ، 7 اکتوبر، 2026

سمر قندی جج اور پاکستانی صدر




سمر قندی جج اور پاکستانی صدر


سمرقند سے اسلام آباد کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو پچاس کلومیٹر ہے، مگر انصاف کے سفر میں دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ صرف جغرافیہ کا نہیں، تقریباً تیرہ سو برس کا ہے۔

اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں سمرقند کے لوگوں نے شکایت کی کہ مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم نے شہر پر قبضہ کرتے ہوئے وہ شرائط پوری نہیں کیں جو جنگ اور فتح کے بارے میں رائج اسلامی اصولوں کے مطابق ضروری تھیں۔ ، نہ اسلام کی دعوت دی گئی نہ خراج بارے بتایا گیا اور نہ ہی اس کے باشندوں کو مناسب سوچ بچار کا موقع دیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شہر پر اچانک قبضہ کیا گیا ۔جو اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا ۔ لہذا فاتحین سے شہر کو خالی کرایا جائے ۔

یہ شکایت ایک ایسے خلیفہ کے سامنے پیش ہوئی جس کا اپنا سپہ سالار فاتح تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ چاہتے تو اسے ایک مفتوح شہر کی معمولی شکایت سمجھ کر نظرانداز کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے گورنر کو حکم دیا کہ شکایت کی باقاعدہ سماعت کے لیے قاضی مقرر کیا جائے اور فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے۔

چنانچہ قاضی جمیع بن حاضر الباجی نے مقدمہ سنا۔ مقدمہ کا مدعی ایک پادری تھا اور فاتح سپہ سالار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ قاضی نے یہ نہیں دیکھا کہ ایک طرف فاتح فوج ہے اور دوسری طرف مفتوح لوگ۔ اس نے صرف یہ دیکھا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔

سماعت کے دوران ثابت ہو گیا کہ پادری کا دعوی درست ہے ۔قاضی نے حکم دیا کہ اگر فتح مقررہ اصولوں کے مطابق نہیں ہوئی تو مسلم فوج شام سے پہلے سمر قند سے نکل جائے ۔

یہاں تاریخ کا اصل سبق شروع ہوتا ہے۔
حکمران نے اپنے سپہ سالار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا، فاتح فوج کو قانون کا متبادل نہیں بنایا اور ریاستی طاقت کو عدالتی فیصلے کے مقابل کھڑا نہیں کیا۔ بلکہ ریاست نے اپنے ہی طاقتور فریق کو عدالت کے سامنے لا کھڑا کیا۔
یہ واقعہ بلاذری نے فتوح البلدان میں نقل کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک عدالتی مقدمہ کی روداد معروف صحافی اعزاز سید
کے پروگرام ’’ٹاک شاک‘‘ میں بیان ہوئی ہے ۔ واقعے کے مطابق، اوورسیز پاکستانی عمر احمد عزیز نے 2008ء میں ڈی ایچ اے ویلی اسلام آبادکے اوورسیز بلاک میں پلاٹ کے لیے گیارہ سو ڈالر جمع کرائے۔ پلاٹ نہ مل سکا تو انہوں نے رقم واپس لینے کی کوشش شروع کی۔ معاملہ مختلف اداروں اور فورمز سے ہوتا ہوا 2024ء میں ایوانِ صدر تک پہنچا۔

صدرِ پاکستان کے دفتر سے، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کو رقم واپس کرنے کی ہدایت ہوئی، مگر ڈی ایچ اے کے نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اسلام آبادی جج نے ڈی ایچ اے کی اپیل پر سماعت شروع کردی ۔

سمرقند میں ایک شکایت نے ریاست کے طاقتور ترین ،اپنے ہی سپہ سالارکو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس نے خلاف فیصلہ صادر کیا تو اس پر عمل ہوا، اور شام سے پہلے سپہ سالار اپنی سپاہ کو لے کر سمرقند سے نکل گیا ۔

مگر اس انصاف نے سمر قندیوں کے دل میں فاتحین کے لیے وہ جگہ بنائی کہ عدالت میں مدعی پادری خود چل کر سپہ سالار کے پاس گیا اور اسے سمرقند میں داخل ہونے کی دعوت دی۔

ریاست کی اصل طاقت اس کے بڑے عہدوں، وسیع اختیارات یا طاقتور اداروں میں نہیں ہوتی۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ایک کمزور شہری کو بھی یقین ہو کہ اس کا حق کسی طاقتور شخص، ادارے یا عہدے کے سامنے بے معنی نہیں ہوگا۔

اسی لیے سمرقند کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں، ریاستی انصاف کا ایک اصول ہے۔ فاتح قتیبہ بن جرنیل تھا، مگر فیصلہ اس کے حق میں ہونا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

شکایت کرنے والا سمرقند کا پادری تھا ، مگر ان کا غیر مسلم یا مفتوح ہونا ان کے حقِ انصاف میں رکاوٹ نہیں بنا۔

قاضی نے صرف ایک سوال دیکھا تھا:

حق کس کے ساتھ ہے؟

ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025ء کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر تھا، جبکہ شہری انصاف کے شعبے میں اس کی پوزیشن 129ویں تھی۔ یہ اشاریہ صرف عدالتوں کے فیصلوں کو نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی، مؤثریت، غیر جانب داری اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو بھی جانچتا ہے۔

اعداد اپنے اندر کوئی جذبات نہیں رکھتے، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔
وہ شخص جس کی زمین کسی تنازع میں پھنسی ہے۔
وہ شخص جس کی پنشن رکی ہوئی ہے۔
وہ شخص جس کی دکان یا مکان کا مقدمہ برسوں سے چل رہا ہے۔
وہ شخص جس کی جمع پونجی واپس نہیں ہو رہی۔
اور کبھی وہ شخص بھی جس کے صرف گیارہ سو ڈالر کسی نظام کے پیچیدہ راستوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

انصاف صرف یہ نہیں کہ آخرکار فیصلہ آ جائے۔ انصاف یہ بھی ہے کہ فیصلہ وقت پر آئے، حق دار تک پہنچے اور اسے اپنے حق کے لیے غیر معمولی طاقت کا سہارا نہ لینا پڑے۔

سمرقند کے قاضی نے ایک فاتح فوج کو یہ پیغام دیا تھا کہ فتح تمہیں قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔عدالت نے طاقت کو قانون کے تابع کیا تھا۔

ریاست کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مقابل کھڑے ایک کمزور انسان کے حق کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔

آج پاکستان میں کہیں بھی کسی سے پوچھ لیں:
"اگر حق ایک طرف ہو اور طاقت دوسری طرف، تو عدالت کا فیصلہ کس کے حق میں ہوگا؟"

جمعرات، 1 اکتوبر، 2026

میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد


میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد
بارہ جون 2018ء، رمضان المبارک کے دن تھے۔ راولپنڈی کا کمیٹی چوک حسبِ معمول مصروف تھا۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور نے ایک گاڑی کو غلط سمت سے آتے دیکھا اور اسے روکنے کی کوشش کی۔ بظاہر یہ ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی تھی؛ چالان ہونا تھا، جرمانہ ادا ہونا تھا اور چند لمحوں بعد معاملہ ختم ہوجانا تھا۔

مگر ایسا نہ ہوا۔ تلخی بڑھی، اشتعال نے شدت اختیار کی اور فائرنگ ہوگئی۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور اور ایک راہ گیر، نثار احمد، جاں بحق ہوگئے۔ ایک معمولی خلاف ورزی چند لمحوں میں انسانی المیے میں بدل گئی۔

اس واقعے کو صرف قتل کی ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا آسان ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بنیادی معاشرتی سوال موجود ہے: ہم اختلاف برداشت کرنا، روک ٹوک قبول کرنا اور غصے کے لمحے میں خود پر قابو رکھنا کب سیکھیں گے؟

قانون موجود ہونا ضروری ہے، مگر قانون کا احترام محض سزا کے خوف سے پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت جرم کے بعد فیصلہ کرتی ہے، پولیس قانون نافذ کرتی ہے؛ لیکن برداشت، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کا شعور اس سے کہیں پہلے انسان کے اندر تشکیل پاتا ہے۔

یہ تربیت سب سے پہلے گھر میں شروع ہوتی ہے، اسکول اسے آگے بڑھاتا ہے، مگر آج ایک تیسرا استاد بھی ہماری زندگی میں مسلسل موجود ہے۔ وہ استاد ہے میڈیا۔

ٹیلی وژن، اخبار، ریڈیو، فلم اور سوشل میڈیا صرف معلومات یا تفریح فراہم نہیں کرتے؛ وہ ہمیں رویوں کے نمونے بھی دکھاتے ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر یہ تصور تشکیل دیتے ہیں کہ طاقت کیا ہے، کامیابی کس چیز کا نام ہے، بہادری کیسی دکھائی دیتی ہے اور اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے۔

اسی لیے میڈیا کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ سمجھنا اس کی اصل قوت کو محدود کرنا ہے۔ میڈیا معاشرے کا خاموش استاد ہے۔

کینیڈین مفکر مارشل میک لوہن نے اسی حقیقت کو اپنے معروف جملے میں بیان کیا

“The medium is the message.”
یعنی ابلاغ کا ذریعہ خود بھی پیغام بن جاتا ہے۔ جس انداز میں کوئی بات ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے، وہ ہمارے ادراک اور رویے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ اثر مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی۔ اگر فلم، ڈرامہ یا سوشل میڈیا میں دھونس کو طاقت، انتقام کو بہادری، بدتمیزی کو بے باکی اور قانون شکنی کو ذہانت بنا کر پیش کیا جائے تو ناظر صرف ایک کہانی نہیں دیکھ رہا ہوتا؛ وہ ایک رویے کا نمونہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحمل، دیانت، قانون پسندی، مکالمے اور انسانی احترام کو باوقار کرداروں کے ذریعے دکھایا جائے تو یہی ذریعہ معاشرتی تربیت کا وسیلہ بن سکتا ہے۔

دنیا میں میڈیا اور تعلیم کے اس تعلق کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو صرف شہروں کی تعمیرِ نو نہیں کرنی تھی؛ اسے ایک نئے اجتماعی شعور کی بھی ضرورت تھی۔ ریڈیو، اخبارات اور فلموں سمیت ذرائع ابلاغ نے امن، جمہوریت اور شہری ذمہ داری سے متعلق تصورات کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی سطح پر اہمیت دی گئی۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے کہ خبر کا ماخذ کیا ہے، خبر اور رائے میں کیا فرق ہے اور گمراہ کن معلومات کو کس طرح پہچانا جائے۔

برطانیہ میں بی بی سی کی عوامی خدمت کی روایت نے بھی نشریات کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا۔ تعلیم، سائنس، تاریخ، ادب اور ثقافت کے پروگراموں کے ذریعے عوامی علم اور سماجی شعور کو نشریاتی ذمہ داری کا حصہ سمجھا گیا۔

آج پاکستان میں اس ضرورت کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوچکی ہے۔ موبائل فون نے ہر شہری کو صرف خبر کا صارف نہیں بلکہ خبر کا پھیلانے والا بھی بنا دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع، افواہ یا جعلی تصویر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے مصنوعی تصاویر، آوازوں اور ویڈیوز کی تیاری بھی آسان کردی ہے۔
اس لیے آج میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں، خبر کو پرکھنے کی عادت پیدا کرنا بھی ہے۔
لیکن میڈیا لٹریسی کا مطلب صرف جعلی خبر پہچاننا نہیں۔ اس کا ایک بڑا حصہ انسانی رویوں کی تربیت بھی ہے۔

ایک ڈرامہ یہ دکھا سکتا ہے کہ سرخ بتی پر رکنا محض جرمانے سے بچنے کا طریقہ نہیں بلکہ دوسرے انسان کی جان کا احترام ہے۔ ایک اشتہار قطار توڑنے والے کو چالاک نہیں بلکہ غیر ذمہ دار دکھا سکتا ہے۔ ایک سیاسی پروگرام یہ عملی مثال قائم کرسکتا ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود مخالف کی عزت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ کسی حادثے کی خبر صرف ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے بجائے یہ سوال بھی اٹھا سکتی ہے کہ اس حادثے کے پیچھے کون سی انسانی غفلت اور معاشرتی عادتیں کارفرما تھیں۔

اس طرح نصیحت کیے بغیر تربیت ممکن ہے۔
خاص طور پر سیاسی گفتگو میں میڈیا کا اثر بہت گہرا ہے۔ اگر اختلاف کا مطلب چیخنا، تضحیک، الزام اور ذاتی حملہ بن جائے تو ناظر کے سامنے ایک ایسا معاشرتی نمونہ آتا ہے جس میں مخالف کو شکست دینا، اسے سمجھنے سے زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس دلیل، تحمل اور احترام کے ساتھ اختلاف پیش کیا جائے تو وہی پروگرام ایک عملی درس گاہ بن سکتا ہے۔

جرائم کی رپورٹنگ بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جرم کو سنسنی میں تبدیل کرنا توجہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن جرم کے اسباب، نتائج اور سماجی پس منظر پر گفتگو عوام کو محض تماشائی بننے کے بجائے مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

کمیٹی چوک کا واقعہ اسی لیے ہمارے سامنے دوبارہ آتا ہے۔
راجہ رئیس داؤد کو واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ 12 نومبر 2020ء کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شاہد سرور اور نثار احمد کے قتل کے مقدمے میں اسے تین مرتبہ سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ اس کے ڈرائیور عمران اقبال کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے جرم کا فیصلہ کردیا، لیکن معاشرے کا سوال اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے:
ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی برداشت کیوں نہ ہوسکی؟ روک ٹوک انا کا مسئلہ کیوں بن گئی؟ غصے کے چند لمحوں پر قابو کیوں نہ پایا جاسکا؟

یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں؛ ہمارے اجتماعی مزاج کا سوال ہے۔
ہمیں ایسے شہری درکار ہیں جو صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ قانون کی ضرورت اور دوسرے انسان کے حق کو سمجھ کر رکیں؛ جو اختلاف کو اپنی توہین نہ سمجھیں؛ جو غصے میں ہاتھ اٹھانے کے بجائے خود کو روک سکیں؛ اور جو غیر مصدقہ خبر آگے بڑھانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں۔

اس تربیت میں گھر اور اسکول کا کردار بنیادی ہے، مگر جدید انسان کا بڑا حصہ میڈیا کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس لیے میڈیا کو اپنی طاقت کا شعور بھی ہونا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کا بھی۔

اس کا مقصد یہ نہیں کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ انہیں کیا سوچنا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ انہیں بہتر انداز میں سوچنے، سوال کرنے اور دوسروں کو سمجھنے کا موقع دیا جائے۔

ایک مہذب معاشرہ صرف قوانین، عدالتوں اور پولیس سے نہیں بنتا۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی عادتوں سے بنتا ہے: سرخ بتی پر رکنے سے، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے سے، مخالف کی بات سننے سے، غصے میں خود کو روکنے سے، عوامی املاک کا احترام کرنے سے اور غیر مصدقہ خبر کو آگے نہ بڑھانے سے۔
اگر میڈیا ان چھوٹی مگر بنیادی عادتوں کو قابلِ احترام بنا دے تو وہ صرف معاشرے کا آئینہ نہیں رہے گا۔
وہ معاشرے کی تعمیر کا خاموش، مگر طاقتور استاد بن جائے گا۔

سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے




سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے

’’مذہب انسان میں خدا کا خوف پیدا کرتا ہے"‘‘
"سیاست حکمرانوں میں عوام کا خوف پیدا کرتی ہے"
یہ جملے کسی مشہور تاریخی یا ادبی شخصیت کا باقاعدہ یا مستند قول نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستانی مجلسی و عوامی حلقوں میں رائج مقبول جملےہیں
البتہ تھامس جیفرسن ( امریکہ کے سابق صدر) نے کہا تھا "جب عوام حکومت سے ڈرتے ہیں تو یہ ظلم و آمریت ہے، لیکن جب حکومت عوام سے ڈرتی ہے تو یہ آزادی ہے۔"
شاید ہمارے عہد کا المیہ یہی ہے کہ مذہب نے خدا کا خوف اور سیاست نے عوام کا خوف کھو دیا ہے۔
مذہب انسان اور خدا کے تعلق، زندگی کے مقصد، خیر و شر، اخلاق اور آخرت کا شعور ہے۔ سیاست انسانوں کے اجتماعی معاملات، اقتدار، قانون، وسائل اور حقوق کے نظم کا نام ہے۔ ایک انسان کے باطن کو سنوارنے کا دعویٰ کرتا ہے، دوسری معاشرے کے ظاہر کو منظم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ دونوں کا مقصد، اپنے اصل تصور میں، انسان کو زیادہ محفوظ، عادل اور ذمہ دار بنانا تھا۔
لیکن ہم نے دونوں کو بدنام کر دیا۔
مذہب کو فرقے کی شناخت بنا دیا اور سیاست کو جماعت کی ۔ مذہب میں اختلاف کو کفر کا درجہ دے دیا ، سیاست میں اختلاف کو دشمنی کا۔ مذہبی رہنما نے اپنے پیروکاروں کو اپنے مخالف سے نفرت سکھائی اور سیاسی رہنما نے اپنے ووٹر کو دوسرے شہری سے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب روحانی اصلاح کے بجائے گروہی طاقت اور سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی جنگ بنتی گئی۔
مذہب جب اخلاق بنے تو انسان کو طاقتور کے سامنے کھڑا کرتا ہے، اور سیاست جب خدمت بنے تو طاقتور کو انسان کے سامنے جواب دہ بناتی ہے۔
پھر دونوں بے توقیر کیوں ہوئے؟
کیونکہ ہم نے اصولوں سے زیادہ اصولوں کے محافظوں پر بھروسا شروع کر دیا۔
ایک عالم کی غلطی کو مذہب کی غلطی سمجھ لیا، ایک سیاست دان کی بدعنوانی کو سیاست کی فطرت سمجھ لیا۔ حالانکہ مذہب اور مذہبی پیشوا ایک چیز نہیں، سیاست اور سیاست دان بھی ایک چیز نہیں۔
اصل خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب مقدس الفاظ کے پیچھے غیر مقدس مفادات چھپ جائیں۔جب مذہب سے روزگار، شہرت، ووٹ، فرقہ یا اقتدار حاصل کیا جائے تو مذہب کی زبان باقی رہتی ہے، روح چلی جاتی ہے۔
جب سیاست سے دولت، خاندان، انتقام یا ذاتی اقتدار حاصل کیا جائے تو جمہوریت کے نعرے باقی رہتے ہیں، عوام چلے جاتے ہیں۔
ہم نے مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا کہ انسان خدا سے زیادہ مذہبی گروہوں سے ڈرنے لگا، اور سیاست کو اتنا گندا کر دیا کہ شہری ریاست سے انصاف مانگنے کے بجائے اپنے سیاسی تعلقات تلاش کرنے لگا۔
یہی دونوں کی بے توقیری ہے۔
مذہب کا تقدس انسان کے کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔ سیاست کا تقدس عوام کی امانت میں ہوتا ہے۔
مذہب اگر انسان کو رحم، عدل، دیانت اور اخلاق نہیں سکھاتا تو سوال مذہب سے پہلے مذہبی رہنماء سے ہونا چاہیے۔
سیاست اگر کمزور کو تحفظ، اختلاف کرنے والے کو حق اور عام شہری کو انصاف نہیں دیتی تو سوال سیاست سے پہلے سیاست دان سے ہونا چاہیے۔
مذہب اور سیاست دونوں تب بدنام ہوتے ہیں جب مقدس اصولوں کو غیر مقدس ہاتھ استعمال کرنے لگتے ہیں۔
اور شاید ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب سے خدا کو اور سیاست سے عوام کو نکال کر، دونوں میں صرف اپنا مفاد باقی چھوڑ دیا ہے۔
مذہب کا سوال ہے: تم انسان کیسے ہو؟
سیاست کا سوال ہے: تم انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟
اگر دونوں سوال مر جائیں تو مذہب بھی رسم بن جاتا ہے اور سیاست بھی کاروبار۔
پھر مقدس موضوع باقی رہتے ہیں مگر ان پر گفتگو غیرمقدس ہو جاتی ہے اور
ان کی تقدیر میں صرف بے توقیری لکھی جاتی ہے۔
بے توقیری کا عالم یہ ہو گیا ہے کہ حجام نے بھی اپنی دوکان پرنوٹس چسپاں کیا ہوتا ہے "سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے"

منگل، 29 ستمبر، 2026

خوف زدہ انسان خطرناک ہوتا ہے



خوف زدہ انسان خطر ناک ہوتا ہے
یہودی مذہبی متون میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ سفر میں تھے۔ عیسو چار سو آدمیوں کے ساتھ سامنے تھا۔ رفتار تیز کی جا سکتی تھی، مگر یعقوبؑ نے کہا: "بچے نازک ہیں۔" طاقتور قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا، لیکن بچوں کو ان کی رفتار سے چلایا گیا۔
یہ صرف ایک باپ کا فیصلہ نہیں، ایک مذہبی اخلاقیات کا آئینہ ہے: بچہ پہلے بچہ ہے، کسی قوم کا نمائندہ بعد میں۔

مگر خوف انسان کے ذہن کو بدل دیتا ہے۔ خوف صرف ہمیں خطرے سے نہیں ڈراتا، وہ ہمیں اپنی شناخت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ جب انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’وہ‘‘ ہمارے لیے خطرہ ہے تو آہستہ آہستہ ’’وہ‘‘ ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ ایک گروہ بن جاتا ہے۔ پھر گروہ ایک شناخت بن جاتا ہے، شناخت دشمنی کی علامت، اور دشمنی اخلاقی فاصلے میں بدل جاتی ہے۔
یہ خوف کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ انسان خطرے کو دیکھتے دیکھتے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ’’بچہ‘‘ صرف بچہ نہیں رہتا؛ ’’دشمن کا بچہ‘‘ بن جاتا ہے۔

عرب معاشروں میں مذہب زندگی سے الگ کوئی کتابی تصور نہیں۔ مختلف مذاہب کی روایتوں میں انصاف، رحم، کمزوروں کی حفاظت اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب کی اخلاقی تعلیم سیاسی شناخت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کی مذہبی روایت میں یتیم پر ظلم سے روکا گیا ہے۔ تورات میں بیوہ اور یتیم کو تکلیف نہ دینے کا حکم ہے اور ان کی فریاد کو خدا کی سماعت سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے میں اسماعیلؑ نام کا روتا ہوا بچہ خدا کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
یعنی مذہبی روایت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بچہ کس قوم کا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ بچہ ہے۔

یعقوبؑ کے ہاں بچے کی نزاکت، ابراہیمؑ کے گھرانے میں بچے کی فریاد اور موسیٰؑ کی شریعت میں یتیم کا حق—تینوں ایک ہی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کمزور کی انسانیت اس کی شناخت سے بڑی ہے۔

پھر خوف اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ وہ پہلے شناخت بناتا ہے، پھر شناخت کے گرد خطرے کی کہانی تعمیر کرتا ہے، پھر ہر فرد کو اس خطرے کا ممکنہ نمائندہ بنا دیتا ہے۔ اس مقام پر ایک عام آدمی بھی ’’قوم‘‘ بن جاتا ہے، ایک عورت ’’دشمن کی عورت‘‘، اور ایک بچہ ’’مستقبل کا دشمن‘‘۔

اسرائیلی اور فلسطینی خوف کی تاریخیں ایک جیسی نہیں، مگر دونوں حقیقی انسانی خوف ہیں۔ اسرائیلی اجتماعی حافظے میں یہودیوں کی مسلسل بے وطنی ہے۔ فلسطینی اجتماعی حافظے میں بے دخلی، قبضہ، جنگ، تباہی، نقل مکانی اور اپنے بچوں کی ہلاکتوں اور مستقبل کے بارے میں عدمِ تحفظ کے تجربات موجود ہیں۔ 2023 کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی نے عدم تحٖفظ کو مزید گہرا کیا ہے۔

خوف انسانی سطح پر مشترک ہو سکتا ہے، مگر طاقت، حالات اور نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ اسرائیلی شہریوں نے اپنے تاریخی عدم تحفظ کا خوف جھیلا، غزہ کے فلسطینی شہریوں نے بڑے پیمانے پر ہلاکت، نقل مکانی، تباہی ، نسل کشی اور بنیادی ضروریات کے بحران کا سامنا کیا۔

مگر خوف کی نفسیات دونوں طرف ایک ہی خطرناک کام کر سکتی ہے: وہ انسان کو اس کی شناخت کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ پھر اسرائیلی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، اسرائیل بن جاتا ہے۔ فلسطینی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، فلسطین کا بچہ بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو انسان اپنے گروہ کے بچے کے لیے جو اخلاقی معیار رکھتا ہے، دوسرے کے بچے پر وہی معیار لاگو نہیں کرتا۔
اپنا بچہ معصوم۔
دوسرے کا بچہ خطرہ۔
اپنی ماں کا آنسو انسانی المیہ۔
دوسرے کی ماں کا آنسو جنگ کی قیمت۔
یہ صرف تعصب نہیںبلکہ یہ خوف کی پیدا کردہ اخلاقی تقسیم ہے۔

مذہب اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یتیم کے حق میں انصاف کرو، کمزور پر رحم کرو، بچے کی نزاکت کو سمجھو۔ سیاسی خوف کہتا ہے: پہلے اس کی شناخت دیکھو، پھر طے کرو کہ اس کے ساتھ کتنی انسانیت برتنی ہے۔

یہیں مذہب کی اخلاقی تعلیم اور مذہب کی سیاسی تعبیر آمنے سامنے آتی ہیں۔
مذہب بچے میں انسان دیکھتا ہے۔
خوف بچے میں شناخت دیکھتا ہے۔
سیاست شناخت میں خطرہ دیکھتی ہے۔
اور جب شناخت انسان سے بڑی ہو جائے تو انسان کی جان بھی شناخت کے تابع ہو جاتی ہے۔

شاید آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیلی بچہ زیادہ معصوم ہے یا فلسطینی بچہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوف نے ہمیں اتنا بدل دیا ہے کہ ہم بچے کو دیکھنے سے پہلے اس کی شناخت دیکھتے ہیں؟
حضرت یعقوبؑ نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا: "بچے نازک ہیں۔"
یہ جملہ اسرائیلی بچے پر بھی اتنا ہی صادق ہے جتنا فلسطینی بچے پر۔
بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، یہودی ہو یا مسلمان، ہمارا ہو یا کسی ’’دوسرے‘‘ کا—وہ پہلے بچہ ہے۔

اور شاید مذہب کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ خوف کے باوجود ہم انسان کو اس کی شناخت سے پہلے انسان دیکھتے رہیں۔

پیر، 28 ستمبر، 2026

دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق







دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق

میری نوجوانی میں خلیج کے ایک شیخ کی زکوٰۃ ایک مصری ملازم مستحقین میں تقسیم کرتا تھا۔ ایک شخص نے رقم لینے کے بجائے شیخ سے ملنے کی خواہش کی۔ سامنے پہنچا تو بولا:
’’مجھے رقم نہیں، ایک دکان چاہیے۔‘‘
شیخ نے کہا، ’’زکوٰۃ کی رقم سے دکان کا کرایہ ادا کرو او دوکان لے لو، مسئلہ کیا ہے‘‘
وہ بولا:
’’مجھے صرف رقم نہیں، آپ کی سرپرستی چاہیے۔‘‘
وہ صرف رقم  نہیں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع مانگ رہا تھا۔

کچھ عرصے بعد ایک دوسرے تاجر کو دیکھا۔ اس کے پاس کاروبار، سرمایہ اور چلتا ہوا بازار تھا، مگر اس نے سرمایہ مکان اور گاڑی میں لگا دیا۔ کاروبار کمزور ہوا اور چند سال بعد وہ اسی بازار میں سیلز مین تھا۔
ایک شخص موقع مانگ رہا تھا، دوسرے کے پاس موقع تھا مگر اس نے اسے ضائع کردیا۔

پھر اسلام آباد میں ایک تاجر کا گودام جل گیا۔ برسوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی۔ مگر اس نے اپنی موٹر سائیکل بیچی، کچھ سامان خریدا اور ریڑھی لگا لی۔
میں نے پوچھا، ’’کبھی کاؤنٹر پر بیٹھتے تھے، آج ریڑھی پر شرمندگی نہیں ہوتی؟‘‘
اس نے کہا:
’’پہلا مال بھی اللہ کی دین تھا۔ مجھے یقین ہے کہ دوبارہ اسی بازار میں اس سے بہتر دکان بنا لوں گا۔ مجھے اپنے رب سے مانگنے کا طریقہ آتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’وہ طریقہ کیا ہے؟‘‘
وہ بولا:
’’جو میرے بس میں ہے، اسے کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور جو میرے بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے اصرار کے ساتھ مانگتے شرمندہ نہیں ہوتا۔‘‘

یہ تینوں واقعات دراصل ایک ہی کہانی کے تین مرحلے ہیں: پہلے نے موقع مانگا، دوسرے نے موقع گنوایا، تیسرے سے موقع چھین لیا گیا—مگر اس نے اپنی محنت اور دعا سے دوبارہ موقع پیدا کرلیا۔

یہیں سے دعا کا اصل مفہوم سامنے آتا ہے۔ دعا انسان کو اسباب سے بے نیاز نہیں کرتی؛ اسے اسباب اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔‘‘
(النجم: 39)
اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے:
’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔‘‘
(الزمر: 53)
یعنی امید کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ امید وہ طاقت ہے جو اسے شکست کے بعد دوبارہ کھڑا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے:
’’اونٹنی کا گوڈا باندھو اور اللہ پر بھروسا کرو۔‘‘
یہی توکل ہے: سبب اختیار کرو، کوشش کرو، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردو۔

ہماری مشکل اکثر یہ نہیں کہ اللہ نے راستہ بند کردیا ہے؛ ہم منزل چاہتے ہیں مگر راستے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ دکان چاہیے مگر ریڑھی سے آغاز شرمندگی لگتا ہے۔ کامیابی چاہیے مگر چھوٹی شروعات قبول نہیں۔
حالانکہ چھوٹا کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتا، بے عملی کرتی ہے۔
اس لیے جب زندگی کچھ چھین لے تو یہ نہ پوچھیں:
’’میرے ساتھ ہی کیوں؟‘‘
پوچھیں:
’’اب میرے بس میں کیا ہے؟‘‘
جو بس میں ہے، وہ کریں؛ جو بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے مانگتے رہیں۔
ہاتھ دعا کے لیے آسمان کی طرف اٹھے رہیں، مگر رزق کے لیے زمین پر کام کرتے رہیں۔
جس تاجر کا گودام جل گیا تھا، وہ ریڑھی پر صرف سامان نہیں بیچ رہا تھا؛
وہ اپنی تباہ شدہ زندگی کا پہلا پہیہ دوبارہ گھما رہا تھا۔
شاید دعا کرنے اور صرف دعا مانگنے میں یہی فرق ہے:
ایک دعا کے بعد انتظار کرتا ہے، دوسرا دعا کے بعد اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔




اتوار، 27 ستمبر، 2026

کافکا کا انصاف اور غزہ






کافکا کا انصاف اور غزہ

فرانز کافکا کی کہانی ’’قانون کے سامنے‘‘ میں ایک دیہاتی انصاف لینے قانون کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ دروازہ کھلا ہے، مگر سامنے دربان کھڑا ہے۔ دیہاتی اندر جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ جواب ملتا ہے: ’’ابھی نہیں۔‘‘ وہ انتظار کرتا رہتا ہے۔ دن گزرتے ہیں، سال گزرتے ہیں، زندگی گزر جاتی ہے، مگر قانون کا دروازہ اس کے لیے نہیں کھلتا۔

کافکا کی کہانی کا اصل المیہ یہ نہیں کہ قانون موجود نہیں۔ قانون موجود ہے، دروازہ بھی کھلا ہے؛ مسئلہ صرف یہ ہے کہ دروازے پر دربان کھڑا ہے۔

غزہ کو دیکھیے۔ کافکا کی یہ تمثیل اچانک ایک ادبی کہانی نہیں رہتی، ہماری موجودہ دنیا کی تصویر بن جاتی ہے۔ وہاں گھر ملبے میں بدلتے ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھر جاتے ہیں، خاندان بکھرتے ہیں اور انسان اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستے ہیں۔ دوسری طرف دنیا قانون، عدالت، قرارداد اور انسانی حقوق کی زبان بولتی ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اسرائیل کے بارے میں عبوری اقدامات جاری کیے اور بعد کے احکامات میں غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق بھی اقدامات کیے۔ مگر عالمی قانون کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے کوئی 'طاقت" نہیں۔ جون 2025 میں سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد کو 14 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، لیکن امریکی ویٹو کے باعث وہ منظور نہ ہوسکی۔

انصاف کے ترازو میں پوری دنیا کی آواز سے ایک "ویٹو" بھاری بن جاتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قانون نے آواز تو دی، مگر اس آواز کو فیصلہ بنانے والی طاقت "دربان" کے پاس رہی۔

یہی عالمی سیاست کا تلخ پہلو ہے۔ ریاستیں صرف قانون سے نہیں چلتیں؛ ان کے اپنے مفادات، اتحاد، دفاعی ترجیحات اور جغرافیائی حساب کتاب ہوتے ہیں۔ مگر طاقت صرف میزائل، ٹینک اور ویٹو نہیں۔ طاقت اپنی کہانی بھی لکھتی ہے۔

طاقتور اپنے عمل کو دفاع، سلامتی، بقا اور خطرے کی زبان میں بیان کرسکتا ہے۔ کمزور کے پاس عموماً اپنے زخم ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:
’’میرا گھر تباہ ہوگیا۔‘‘ طاقتور کہتا ہے:
’’مجھے اپنے دفاع کا حق ہے۔‘‘
کمزور اپنے مردے گنتا ہے؛ طاقتور اپنے خوف گنواتا ہے۔

اور جب دنیا کمزور کے زخموں سے زیادہ طاقتور کے خوف کو دیکھنے لگے تو سوال بھی بدل جاتا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا ہے:
’’اس انسان کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘
پھر پوچھا جاتا ہے:
’’اس طاقتور کو خطرہ کیوں محسوس ہوا؟‘‘
یہی بیانیے کی طاقت ہے۔

جس کے پاس فوج اور ہتھیار ہوں، اسے خطرہ محسوس ہوسکتا ہے؛ مگر جس کے پاس اپنے گھر اور جان کے تحفظ کی ضمانت بھی نہ ہو، اس کے زخم بھی حقیقی ہوتے ہیں۔

یہاں جنگل کی ایک پرانی سی کہانی یاد آتی ہے۔ شیر نے بکری کو پکڑ لیا۔ بکری چیخی تو جانور جمع ہوگئے۔ شیر نے کہا: ’’مجھے اس بکری سے خطرہ ہے، میں اپنے دفاع میں یہ سب کر رہا ہوں۔‘‘ بکری نے اپنے زخم دکھائے، اور کہا ’’مگر میرے پاس تو نہ پنجے ہیں، نہ دانت۔‘‘ شیر بولا: ’’خطرہ تمہاری طاقت سے نہیں، میرے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
ایک بوڑھا جانور آگے بڑھا۔ اس نے شیر کے پنجے دیکھے، بکری کے زخم دیکھے اور بولا:
’’خوف کی آواز ضرور سنو، مگر انصاف کرتے وقت یہ بھی دیکھو کہ پنجے کس کے پاس ہیں اور زخم کس کے جسم پر۔‘‘

کافکا کے دیہاتی کے سامنے ایک "دربان " تھا۔
آج دنیا کے سامنے دربانوں کا "ویٹو" نام کا ایک پورا نظام ہے۔

آج بھی قانون کا دروازہ کھلا ہے، دنیا بول رہی ہے، عدالتیں احکامات دے رہی ہیں، قراردادیں پیش ہورہی ہیں—مگر مظلوم پھر دروازے کے باہر کھڑا ہے۔ تو سوال یہ نہیں کہ قانون کہاں ہے؟ سوال یہ ہے:

قانون کے دروازے کی "ویٹؤ" نام کی چابی کس کے پاس ہے؟


ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

کائناتی کشمکش کا مسافر



کائناتی کشمکش کا مسافر
کائنات کے اس عظیم اور وسیع کارخانے میں انسان ہمیشہ سے اپنے وجود کی حقیقت کو تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف رہا ہے۔ بظاہر مٹی اور گوشت پوست کا نظر آنے والا یہ انسان صرف ایک مادی جسم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ نادیدہ قوتوں، کیفیات اور نوری و ناری مخلوقات کا ایک ایسا حیرت انگیز مجموعہ ہے جو اسے "اشرف المخلوقات" کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ اگر انسان خود سے یہ سوال کرے کہ "میں کون ہوں؟" تو اس کا جواب اسے اپنے اندر کے دو متضاد نظاموں اور اپنے باہر موجود نادیدہ نگرانوں کے مطالعے سے ملتا ہے۔ عرب دنیا کے عظیم مجدد اور مفکر امام غزالیؒ اپنی معرکہ آرا کتاب کیمیائے سعادت میں لکھتے ہیں: "اپنے آپ کو پہچاننے کی چابی اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے، اور جو اپنے نفس کو نہیں پہچانتا وہ کسی چیز کو نہیں پہچان سکتا۔"

انسان کا باطنی وجود دو متضاد عناصر کی آویزش (کشمکش) کا نام ہے، جنہیں ہم روح اور نفس کہتے ہیں۔ روح انسانی وجود کا وہ پاکیزہ اور نورانی حصہ ہے جو "عالمِ امر" (اللہ کے حکم) سے آیا ہے۔ یہ انسان کے اندر نیکی، سچائی اور محبت کی شمع روشن رکھتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي" (اور یہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے)۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ اپنے فتاویٰ اور رسائل میں لکھتے ہیں کہ روح جسم کے فنا ہونے سے فنا نہیں ہوتی۔ جسم تو محض ایک لباس یا سواری ہے، اصل انسان اور مخاطبِ الٰہی یہ روح ہی ہے جو اپنے اندر ادراک اور بقا کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عیسائی الہیات دان سینٹ آگسٹین لکھتے ہیں کہ روح ایک ایسا غیر مادی جوہر ہے جو جسم پر حکمرانی کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ خدا کی محبت کے بغیر کبھی سکون نہیں پا سکتی۔ اسی طرح نامور یہودی فلسفی مارٹن بوبر اپنی کتاب میں اور تو میں بیان کرتے ہیں کہ روح کی اصل حقیقت مادی اشیاء میں نہیں، بلکہ خدا اور انسان کے درمیان قائم ہونے والے ایک مخلصانہ، گہرے اور لافانی تعلق کا نام ہے۔ معاصر مفکر پروفیسر احمد رفیق اختر فرماتے ہیں کہ انسان دراصل ایک باطنی اور نورانی وجود ہے جو مادی دنیا کا تجربہ کرنے کے لیے جسم کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔
روح کے برعکس، نفس انسان کی مادی اور حیوانی خواہشات کا مرکز ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ" (بیشک نفس تو برائی پر بہت زیادہ اکسانے والا ہے)۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ نفسِ انسانی فطرتاً سرکش اور الٰہ بننے کا مدعی ہے۔ اس کا علاج صرف شریعت کی پابندی اور ذکرِ الٰہی سے ہی ممکن ہے۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ نفس کی مثال ایک بیمار اور ضدی بچے کی سی ہے۔ اسے مٹا دینا مقصد نہیں، بلکہ اس کی اصلاح اور تربیت مقصود ہے۔ مشہور یہودی ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی شخصیت کا جو تین گنا ڈھانچہ (لا شعور، انا، اور فوقانی انا) پیش کیا، وہ اسلامی تصوف کے نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ (ملامت کرنے والا ضمیر)۔ اور نفسِ مطمئنہ کے درجات سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

انسان صرف اپنے اندرونی خیالات ہی سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ارد گرد دو ایسی نادیدہ مخلوقات بھی مستقل موجود ہیں جو اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جنہیں شریعت میں "قرین" کہا گیا ہے۔ جنات میں سے ایک شیطان ہر انسان کے ساتھ مقرر کر دیا جاتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ جنات میں سے اس کا ایک ساتھی (قرین) اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر نہ کر دیا گیا ہو۔" (صحیح مسلم)۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ اپنی تفسیر تدبرِ قرآن میں لکھتے ہیں کہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار 'وسوسہ اندازی' ہے۔ وہ انسان کے دل میں برے خیالات کو اس طرح سجاتا ہے کہ انسان انہیں اپنی ہی سوچ سمجھنے لگتا ہے۔ عیسائی مفکر سی ایس لوئس نے اپنی مشہور کتاب اسکرو ٹیپ کے خطوط میں شیطانی چالوں کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نادیدہ شیطانی قوتیں انسان پر کبھی زبردستی گناہ مسلط نہیں کرتیں، بلکہ وہ انسان کے فہم اور عقل کو مفلوج کرتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔
دوسری طرف، شیطان کے شر کو بے اثر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ بھی مقرر فرمایا ہے جو دل میں اچھے خیالات (الہام) پیدا کرتا ہے۔ مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں کہ فرشتے کا الہام دراصل انسان کا وہ 'صحیح ضمیر' ہے جو اسے ہر غلط قدم پر ٹوکتا ہے۔ کائنات کا پورا نظام ایک مثبت رخ پر چل رہا ہے، اور فرشتہ انسان کو اسی مثبت سوچ سے جوڑتا ہے۔

ان چار چیزوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو انسان کی زندگی کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں اور اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انسان کے کندھوں پر موجود کراماً کاتبین اس کے ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ" (انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے)۔ دوسری طرف، معقبات (محافظ فرشتے) انسان کے آگے اور پیچھے پہرہ دیتے ہیں۔ عیسائی روایت میں بھی اسے "محافظ فرشتہ" کہا گیا ہے جو ہر انسان کی مادی اور باطنی خطرات سے نگہبانی کرتا ہے۔

میں مٹی کے جسم میں قید ایک پیاسی روح ہوں، جسے نفس کی مادی خواہشات کے سمندر کو پار کرنا ہے۔ میں کائنات کا وہ مرکزی نقطہ ہوں جس کے ایک طرف شیطان وسوسوں کا جال بچھائے کھڑا ہے اور دوسری طرف فرشتہ نیکی کا الہام کر رہا ہے۔ میرے اعمال کو کراماً کاتبین ریکارڈ کر رہے ہیں اور میری زندگی کی حفاظت معقبات کر رہے ہیں۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے انسان کی اسی خودی اور اس کے مقام کو پہچاننے کا درس دیتے ہوئے کیا خوب فرمایا تھا:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن!
انسانی وجود نیکی اور بدی کا ایک میدانِ جنگ ہے۔ اس کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ دنیا کے تمام عظیم دانشوروں اور مذہبی متون کے افکار کی روشنی میں عقل اور ارادے کی آزادی کا صحیح استعمال کرے، اپنے نفس اور شیطان کو مغلوب کرے، روح اور فرشتے کی آواز پر لبیک کہے اور اپنے خالق کے سامنے سرخرو ہو سکے۔

بدھ، 23 ستمبر، 2026

خرابی کہاں ہے؟



خرابی کہاں ہے؟

ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر انگلی کسی دوسرے کی طرف اٹھاتے ہیں۔ کبھی مسئلہ سیاست دانوں میں نظر آتا ہے، کبھی جرنیلوں میں، کبھی ججوں اور افسروں میں، کبھی مولویوں میں اور کبھی کسی اور طبقے میں۔ یوں ہم مسئلے کو اپنے سے باہر دھکیل کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، چند سخت جملے کہتے ہیں اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خرابی کہیں اور ہے، ہم میں نہیں۔

حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

جرنیل، سیاست دان، مولوی، جج، افسر، ڈاکٹر، وکیل اور استاد آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔ یہ سب اسی معاشرے کی گلیوں، محلوں، اسکولوں، مدرسوں اور گھروں سے اٹھ کر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت کسی خلا میں تشکیل نہیں پاتی۔ وہ وہی اقدار دیکھتے، سنتے اور سیکھتے ہیں جو ان کے اردگرد کا معاشرہ انہیں دیتا ہے۔ پھر جب انہیں اختیار، منصب اور موقع ملتا ہے تو ان کے اندر موجود رویے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

اس لیے اصل مسئلہ صرف افراد کا نہیں، رویوں کا ہے۔

اگر کسی معاشرے میں طاقت کو حق سمجھنے، قانون کو اپنی ضرورت کے مطابق موڑنے، سفارش کو قابلیت پر ترجیح دینے، جھوٹ کو مصلحت کا نام دینے اور ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر مقدم رکھنے کا چلن عام ہو جائے تو یہ رویے صرف عام آدمی تک محدود نہیں رہتے۔ یہی رویے اقتدار کے ایوانوں، عدالتوں، دفاتر، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچ جاتے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عام آدمی کے پاس اختیار کم ہوتا ہے اور صاحبِ منصب کے پاس زیادہ۔

جس شخص کو جتنا اختیار ملتا ہے، اس کے اندر موجود رویے کو اتنا ہی بڑا میدان مل جاتا ہے۔

ہم شکایت کرتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں، افسر کام نہیں کرتے، ڈاکٹر مریض کو لوٹتے ہیں، وکیل انصاف کو کاروبار بنا دیتے ہیں، جج فیصلوں میں تاخیر کرتے ہیں، استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور کھلاڑی سفارش کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مگر کبھی یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ یہ لوگ آئے کہاں سے ہیں؟

کیا یہ کسی دوسرے سیارے کے باشندے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے سے باہر کوئی ایسی فیکٹری ہے جہاں جرنیل، سیاست دان، افسر، ڈاکٹر، وکیل، جج اور استاد تیار کیے جاتے ہیں؟

نہیں۔

یہ ہم ہی ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو گھر میں اصولوں اور ایمانداری کی اہمیت سمجھاتے ہیں، لیکن اسی گھر میں کبھی یہ بھی سکھا دیتے ہیں کہ کام نکلوانے کے لیے تعلقات ضروری ہیں۔ ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہیں، مگر اپنے بیٹے، بھائی یا دوست کے لیے میرٹ سے استثنا چاہتے ہیں۔ ہم قانون کی بالادستی کے خواہش مند ہیں، مگر سڑک پر اپنی باری کا انتظار کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔ ہم رشوت کو برا کہتے ہیں، لیکن جب کوئی معمولی فائدہ ہمارے حصے میں آ جائے تو اسے ’’چائے پانی‘‘، ’’کام نکلوانا‘‘ یا ’’حق دلوانا‘‘ کہہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔

یہ معمولی سمجھوتے بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر یہی رویے رفتہ رفتہ اجتماعی کردار بناتے ہیں۔

پھر یہی بچے بڑے ہو کر افسر بنتے ہیں، ڈاکٹر بنتے ہیں، وکیل بنتے ہیں، استاد بنتے ہیں، سیاست میں آتے ہیں یا کسی ادارے میں اختیار حاصل کرتے ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ نظام ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ نظام کوئی الگ مخلوق نہیں۔ نظام انسان بناتے ہیں، ادارے انسان چلاتے ہیں اور اداروں کی ثقافت بھی انسانوں کے رویوں سے تشکیل پاتی ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں: ’’زمانہ ہی خراب ہے۔‘‘
’’ملک کے حالات ایسے ہیں۔‘‘
’’اوپر سے یہی ہو رہا ہے۔‘‘
’’سب ہی کرپٹ ہیں۔‘‘

ان جملوں میں شاید کچھ حقیقت ہو، مگر ان کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذمہ داری سے فرار کی سہولت دیتے ہیں۔

اگر ہر خرابی کی وجہ ہمیشہ کوئی دوسرا ہے تو پھر ہمیں اپنے اندر تبدیلی کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوگی؟

معاشرہ صرف پارلیمنٹ میں نہیں ہوتا۔ وہ عدالت میں بھی ہے، مگر گھر میں بھی ہے۔ وہ دفتر میں بھی ہے، مگر بازار میں بھی۔ وہ اسپتال میں بھی ہے، مگر سڑک پر بھی۔ وہ مدرسے اور اسکول میں بھی ہے، مگر اس چھوٹے سے فیصلے میں بھی ہے جو ہم اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں یقین ہو کہ ہمیں کوئی دیکھ نہیں رہا۔

اصل کردار شاید وہیں ظاہر ہوتا ہے۔

ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکمران کیسے ہیں؛ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم کیسے شہری ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ افسر رشوت کیوں لیتا ہے؛ یہ بھی کہ ہم اپنا کام جلدی کروانے کے لیے رشوت دینے پر کیوں آمادہ ہوتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ استاد پڑھاتا کیوں نہیں؛ یہ بھی کہ ہم تعلیم کو علم کے بجائے صرف نمبر اور سند کیوں سمجھتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ ڈاکٹر انسانیت کیوں بھول گیا؛ یہ بھی کہ ہم کامیابی کو دولت، عہدے اور ظاہری حیثیت کے ترازو میں کیوں تولتے ہیں۔

یہ سوال کسی ایک طبقے کو بری نہیں کرتا، بلکہ ہر طبقے کو اس کے حصے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکمران، ادارے یا بااختیار افراد اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جس کے پاس اختیار زیادہ ہے، اس کی جواب دہی بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن اجتماعی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشرہ اپنے اندر موجود ان رویوں کو بھی نہ دیکھے جو بعد میں طاقتور عہدوں پر پہنچ کر زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ہم اکثر تبدیلی اوپر سے چاہتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ حکمران بدل جائیں، افسر بدل جائیں، نظام بدل جائے، قانون بدل جائے، ادارے بدل جائیں۔

مگر شاید سوال یہ ہے کہ ہم خود کب بدلیں گے؟

قومیں صرف اچھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ اچھے شہری بھی اچھے ادارے پیدا کرتے ہیں، اور اچھے ادارے ایسے معاشرے سے جنم لیتے ہیں جہاں اصول صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی ہوں۔

اس لیے مسئلے کی نشاندہی ضروری ہے، مگر اس کے بعد آئینہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آسان ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان خود کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنے آپ سے سوال کرے:

جس معاشرے کی خرابیوں کا ہم روز ماتم کرتے ہیں، کیا ان خرابیوں کا کوئی چھوٹا سا حصہ ہمارے اپنے رویے میں بھی موجود ہے

شاید تبدیلی کا آغاز کسی حکمران، جرنیل، جج، افسر یا مولوی کو بدلنے سے پہلے اس ادراک سے ہوتا ہے۔

کہ

خرابی صرف وہاں نہیں ہے جہاں ہم انگلی اٹھا رہے ہیں؛ ممکن ہے خرابی میں تھوڑا سا حصہ ہم بھی ڈال رہے ہوں ۔

گندہ نالا چھوٹی چھوٹی گندی نالیوں کے ملنے سے ہی بنتا ہے ۔ 

جمعہ، 18 ستمبر، 2026

آئیں، حقیقی تبدیلی لائیں




آئیں، حقیقی تبدیلی لائیں

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ کوئی نظام بدلنا چاہتا ہے، کوئی سیاست، کوئی تعلیم اور کوئی معاشرتی رویے۔ مگر شاید ہم تبدیلی کے سب سے بنیادی دروازے کو بھول گئے ہیں—گھر۔ کیونکہ معاشرہ سڑکوں، ایوانوں اور اداروں میں بعد میں بنتا ہے، پہلے ایک بچے کے دل و دماغ میں تشکیل پاتا ہے۔

بچہ ہمارے گھر میں آتا ہے تو ہم اسے اپنی ملکیت سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے لیے اپنے خواب منتخب کرتے ہیں، اس کے راستے طے کرتے ہیں اور کبھی اپنی نامکمل خواہشوں کا بوجھ بھی اس کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ بچہ ملکیت نہیں، امانت ہے۔
ملکیت پر اختیار جتایا جاتا ہے، امانت کی حفاظت کی جاتی ہے۔
اگر بچہ امانت ہے تو ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ اسے اپنی مرضی کا انسان بنائیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانیں، اس کے سوال کو سنیں، اس کی شخصیت کا احترام کریں اور اسے اس قابل بنائیں کہ وہ ایک دن اپنے فیصلے خود کرسکے۔

والدین کی محبت کا کمال بچے کو ہمیشہ اپنے سائے میں رکھنا نہیں، بلکہ اسے اتنے مضبوط قدم دینا ہے کہ وہ ایک دن اس سائے سے نکل کر اپنی روشنی تلاش کرسکے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے ہماری تربیت کا نتیجہ ہی نہیں، ہماری تربیت کا امتحان بھی ہیں۔ وہ ہماری نصیحتیں کم اور ہمارے کردار کو زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ سچ بولیں تو ہمیں خود سچ کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ احترام کریں تو ہمیں پہلے ان کی شخصیت کا احترام کرنا ہوگا۔ ہم ان سے برداشت چاہتے ہیں تو ان کے سوال، اختلاف اور غلطی کو برداشت کرنا ہوگا۔

گھر کا ایک رویہ کبھی صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتا۔ آج ہم بچے کے ساتھ جس لہجے میں بات کرتے ہیں، ممکن ہے کل وہی لہجہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ اختیار کرے۔ یوں ہماری عادتیں خاموشی سے نسلوں کا سفر طے کرتی ہیں۔

اس لیے اگر ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو آغاز کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔

بچے کو بدلنے سے پہلے اپنا لہجہ بدلیں۔ اسے نصیحت کرنے سے پہلے اپنا کردار دیکھیں۔ اس کے مستقبل کی فکر کرنے سے پہلے اپنے آج کو درست کریں۔

کیونکہ ہماری اصل میراث وہ دولت نہیں جو ہم بچوں کے لیے چھوڑ جائیں گے؛ ہماری اصل میراث وہ انسان ہے جو ہم دنیا کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔

ہم بدلیں گے تو گھر بدلے گا، گھر بدلے گا تو نسل بدلے گی، اور نسل بدلے گی تو معاشرہ خود بدلنے لگے گا۔

آئیں،
حقیقی تبدیلی کا آغاز اپنی ذات اور اپنے گھر سے کریں۔

جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تکرار کا جادو



تکرار کا جادو
ایک جھوٹ پہلی بار سنائی دے تو شاید آدمی اسے مسترد کردے، مگر وہی بات بار بار سنائی جائے تو کبھی کبھی ذہن اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے اور اسی کو ہم تکرار کا جادو کہہ سکتے ہیں۔

امریکی ماہرینِ نفسیات لِن ہاشر، ڈیوڈ گولڈسٹین اور تھامس ٹوپینو
نے 1977ء میں تجربات کے ذریعے دکھایا کہ بار بار سنے جانے والے بیانات لوگوں کو نسبتاً زیادہ درست محسوس ہوسکتے ہیں، خواہ وہ حقیقتاً درست نہ ہوں۔ نفسیات میں اس رجحان کو
Illusory Truth Effect
یعنی "وہمِ صداقت کا اثر" کہا جاتا ہے۔

یہاں اصل کمال جھوٹ کا نہیں، انسانی ذہن کا ہے۔ دماغ ہر نئی بات کو مکمل تحقیق کے مرحلے سے نہیں گزارتا۔ جو بات پہلے سنی ہوئی ہو، اسے سمجھنے میں کم ذہنی محنت لگتی ہے۔ یہی مانوسیت بعض اوقات سچائی کا احساس پیدا کردیتی ہے۔ افواہ کی پیدائش اور پرورش اسی زمین پر ہوتی ہے۔ کسی شخص کے بارے میں کہا گیا، "میں نے سنا ہے کہ وہ ایسا ہے۔" دوسرے نے وہی بات آگے پہنچا دی۔ تیسرے نے کہا، "یہ بات تو کئی لوگوں سے سن چکا ہوں۔" کچھ عرصے بعد کسی محفل میں یہی بات پورے اعتماد سے یوں بیان ہونے لگتی ہے: "یہ تو سب کو معلوم ہے۔"
مگر حقیقت میں بدلا کیا؟ صرف تکرار بڑھی۔

تاریخ میں اس نفسیاتی حقیقت کو طاقتور سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ نازی جرمنی میں جوزف گوئبلز ( 1897–1945) کی قیادت میں پروپیگنڈا مشین نے ریڈیو، اخبارات، فلم، پوسٹرز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے مخصوص ریاستی پیغامات مسلسل عوام تک پہنچائے۔ مقصد صرف اطلاع دینا نہیں تھا؛ ایک خاص بیانیے کو مسلسل دہرا کر اسے عوامی ذہن کا حصہ بنانا بھی تھا۔

فرانسیسی مفکر گستاو لوبوں ( 1841–1931) نے اجتماعی نفسیات پر اپنی معروف کتاب
The Crowd
میں بھی تکرار اور اجتماعی ذہن کے تعلق پر بحث کی تھی۔ آج جدید تحقیق نے انسانی ذہن کے اسی رجحان کو تجربات کے ذریعے مزید واضح کیا ہے۔

ہمارے زمانے نے تکرار کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک خبر نمودار ہوتی ہے۔ ایک شخص اسے شیئر کرتا ہے، دوسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے، تیسرا ویڈیو بناتا ہے، چوتھا اسے کسی گروپ میں پہنچا دیتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہی دعویٰ درجنوں یا سیکڑوں جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ پھر کوئی کہتا ہے "یہ بات غلط کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے تو اسے ہر جگہ دیکھا ہے۔"

ایک خبر کا سو جگہ نظر آنا ضروری نہیں کہ سو آزاد ذرائع اس کی تصدیق کررہے ہوں۔ ممکن ہے وہ سب ایک ہی غیرمصدقہ دعوے کو نقل کررہے ہوں۔ اس لیے صحافت اور تحقیق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی مقبولیت نہیں، اس کا ماخذ اور ثبوت دیکھا جائے۔ تصویر وائرل ہو تو اس کی تاریخ معلوم کی جائے۔ کوئی دعویٰ سامنے آئے تو اصل دستاویز تلاش کی جائے۔ اعداد و شمار پیش ہوں تو متعلقہ رپورٹ دیکھی جائے۔ اور اگر ایک ہی بات ہر جگہ لکھی ہو تو یہ پوچھا جائے کہ کیا کسی نے نے خود تحقیق کی ہے یا سب ایک ہی ذریعے کی آواز دہرا رہے ہیں۔

برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل ( 1872–1970) کا ایک مشہور قول ہے:

"The trouble with the world is that the stupid are cocksure and the intelligent are full of doubt."
یعنی دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نادان اپنے یقین میں بہت پُراعتماد ہوتے ہیں، جبکہ سمجھ دار انسان سوال کی گنجائش رکھتے ہیں۔
آج کے اطلاعاتی سیلاب میں یہی سوال ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔

جھوٹ عموماً مختصر ہوتا ہے، جذبات کو چھوتا ہے اور فوراً پھیل جاتا ہے۔ سچ بعض اوقات پیچیدہ ہوتا ہے، تحقیق مانگتا ہے اور شواہد پیش کرتا ہے۔ جھوٹ کہہ سکتا ہے، "قصوروار یہی ہے"، مگر سچ پوچھتا ہے، "واقعہ کیا تھا؟ ثبوت کہاں ہے؟" ۔ اسی لیے سچ تک پہنچنے کے لیے کبھی کبھی شور سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ آپ نے سنا ہو گا"سچ ابھی جوتے پہن رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ شہر کا چکر لگا چکا ہوتا ہے"

زبان اس لیے خطرناک بھی ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ اسی وقت دکھائی نہیں دیتا جب لفظ ادا کیا جاتا ہے۔ زبان جسم انسانی کے ان دس اعضاء میں سے ایک ھے جن کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ "جب ایک چلتی تو باقی خوف زدہ رہتے ھیں "
اوردوسرے نو یہ ھیں
۔ دو کان
دو آنکھیں ،
ایک ناک ،
دو ھاتھ
اور دو پاوں ۔

تکرار واقعی جادو رکھتی ہے، موجودہ دور میں جھوٹے تکرار کی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اس کے خلاف سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔





بدھ، 16 ستمبر، 2026

غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے








غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے
پاکستان کے دشمنوں کی فہرست بنانا مشکل نہیں۔ بھارت کا نام لیا جاسکتا ہے، افغانستان کے بعض عناصر کی بات ہوسکتی ہے، بیرونی لابیز اور ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی یا سیاسی مقاصد کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کا اس کی سرحد کے باہر ہونا ضروری ہے؟

شاید نہیں۔
کسی قوم کو شکست دینے کا ایک طریقہ اس کی سرحد پر فوج کھڑی کرنا ہے، دوسرا اس کے اندر ایسا ذہن پیدا کرنا ہے جو اپنی قوت پر یقین ہی کھودے۔ جب ایک قوم کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ اس کے ادارے ناکام ہیں، اس کی سیاست ناقابلِ اصلاح ہے، اس کی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں، اس کے فیصلے خود نہیں ہوسکتے اور اس کی بقا کسی بڑی طاقت کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو شکست میدان میں نہیں، ذہن میں شروع ہوچکی ہوتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ مسئلہ صرف بیرونی دباؤ کا نہیں، فکری انحصار کا بھی ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات بہتر ہوں تو ایک حلقہ اسے غلامی قرار دیتا ہے، چین سے دوستی بڑھے تو دوسرا حلقہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے، ایران سے قربت کی کوشش ہو تو کسی کو علاقائی صف بندی کا خوف لاحق ہوجاتا ہے اور سعودی عرب سے تعلقات مضبوط ہوں تو کچھ لوگ اسے خودمختاری کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے لیے بہترین خارجہ پالیسی یہ ہو کہ وہ دنیا سے تعلق ہی ختم کرلے۔
مگر دنیا اس طرح نہیں چلتی۔

خارجہ پالیسی جذبات کا نہیں، مفادات کا نظم ہے۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے، چین پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور سعودی عرب ہمارا اہم مسلم، اقتصادی اور دفاعی شراکت دار۔ پاکستان کو سب سے تعلق رکھنا ہے، مگر کسی کے مفاد کا تابع بن کر نہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سے کیا چاہتا ہے۔
یہی سوال چین کے بارے میں ہونا چاہیے، یہی ایران کے بارے میں، یہی سعودی عرب کے بارے میں اور یہی دنیا کے ہر دوسرے ملک کے بارے میں۔
ایک خودمختار ریاست دوسروں کے مفادات کو سمجھتی ہے، مگر اپنے مفادات کا فیصلہ دوسروں کے حوالے نہیں کرتی۔

امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طبقہ اسے پاکستان کے تقریباً ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھتا ہے، دوسرا یہ تصور رکھتا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔ دونوں رویے اپنی جگہ ایک مسئلہ ہیں۔ پہلا ہمیں اپنی داخلی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچاتا ہے، دوسرا ہماری اپنی قوت سے انکار کرتا ہے۔
امریکہ طاقتور ہے، اس سے تعلق رکھنا پاکستان کی ضرورت ہوسکتی ہے؛ مگر طاقتور ہونا کسی ملک کو ہماری قسمت کا مالک نہیں بناتا۔
پاکستان کو امریکہ سے تجارت چاہیے، سرمایہ کاری چاہیے، ٹیکنالوجی چاہیے، تعلیم اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے ہیں۔ مگر اگر دوستی کی قیمت اپنی پالیسی کا اختیار چھوڑنا ہو تو یہ دوستی نہیں، انحصار ہے۔
پاکستان کو امریکہ کا دوست ہونا چاہیے، امریکی پالیسی کا مہرہ نہیں۔

چین کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات محض وقتی سفارتی ضرورت نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شراکت داری ہیں۔ CPEC نے انفراسٹرکچر، توانائی اور علاقائی رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے۔ اس کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا ممنوع نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کسی منصوبے کی لاگت زیادہ ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر کسی منصوبے سے پاکستان کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی توقع تھی تو حکومت سے جواب طلب ہونا چاہیے۔
لیکن اعتراض اس وقت غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے جب منصوبے کی کارکردگی نہیں بلکہ صرف اس کا چینی ہونا مسئلہ بن جائے۔

اسی طرح ہر امریکی منصوبے کو سازش سمجھ لینا بھی دانشمندی نہیں۔
قومی مفاد کا ترازو ایک ہونا چاہیے۔ منصوبہ واشنگٹن سے آئے یا بیجنگ سے، ریاض سے یا تہران سے، سوال ایک ہی ہو:
اس سے پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟

ایران کے معاملے میں بھی ہمیں دوسروں کی عینک اتار کر اپنا نقشہ دیکھنا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہماری سرحدیں ملتی ہیں۔ بلوچستان دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترک جغرافیائی حقیقت ہے۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی امن جیسے معاملات ایران کے ساتھ تعلقات کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔
ایران سے اچھے تعلقات رکھنا کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے تعلقات کا مطلب ایران سے دشمنی نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، عوامی، اقتصادی اور دفاعی رشتے کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار سے وابستہ ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ موجود ہے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات ھی ہیں۔
اس تعلق پر سوال ہوسکتے ہیں۔ ہونے چاہئیں۔
پاکستانی مزدوروں کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں؟ سرمایہ کاری سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟ دفاعی تعاون کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے؟
یہ سوال حب الوطنی کے خلاف نہیں۔

لیکن اگر ایران سے تعلق کو سعودی عرب کے خلاف اور سعودی عرب سے تعلق کو ایران کے خلاف سمجھا جائے تو پھر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنا رہا، وہ دوسروں کی کشمکش میں اپنا مقام تلاش کررہا ہے۔

پاکستان کو تہران سے بھی بات کرنی ہے اور ریاض سے بھی۔
یہ تضاد نہیں، سفارت کاری ہے۔

یہیں 1971 کا باب ہمارے سامنے کھلتا ہے، وہ باب جسے ہم نے شاید پڑھا کم اور دہرایا زیادہ ہے۔
پاکستان ٹوٹا تو ہم نے آسان جواب تلاش کیا: بھارت نے پاکستان توڑ دیا۔
بھارتی مداخلت حقیقت تھی۔ مکتی باہنی کی مسلح سرگرمیاں حقیقت تھیں۔ بیرونی طاقتوں کی صف بندیاں بھی حقیقت تھیں۔ لیکن کیا یہی مکمل حقیقت تھی؟
نہیں۔
مشرقی پاکستان میں سیاسی اور معاشی محرومیاں تھیں۔ 1970 کے انتخابات نے ایک واضح مینڈیٹ دیا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کا بحران پیدا ہوا۔ سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے۔ اختلاف تصادم میں تبدیل ہوا۔ پھر فوجی کارروائی، مسلح مزاحمت، بھارتی مداخلت اور عالمی حالات نے اس بحران کو ایسی منزل تک پہنچایا جہاں واپسی ممکن نہ رہی۔

تاریخ کو صرف دشمن کی سازش بنا دینا آسان ہے، مگر اس سے قوم اپنی غلطیوں سے محروم ہوجاتی ہے۔
دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک اپنی کمزوری ہے۔
1971 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ بیرونی قوتیں ہمیشہ مواقع تلاش کرتی ہیں، مگر انہیں کامیابی کا موقع اکثر اندرونی بحران فراہم کرتا ہے۔

آج بھی اگر سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے، صوبائی یا لسانی تقسیم گہری ہوجائے، ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں اور عوام ریاست سے مایوس ہوجائیں تو بیرونی طاقتوں کو کسی سازش کے لیے بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔
استعمار کی نئی شکل بھی یہی ہے۔ اب ہر مرتبہ فوج، توپ اور گورنر درکار نہیں۔ اثر و رسوخ قرض سے بھی قائم ہوسکتا ہے، تجارت سے بھی، اطلاعات سے بھی، ثقافت سے بھی اور بیانیے سے بھی۔
لیکن یہاں بھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ دنیا سے سیکھنا استعمار نہیں۔ غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا استعمار نہیں۔ مغربی سائنس سے فائدہ اٹھانا استعمار نہیں۔ چینی ٹیکنالوجی قبول کرنا استعمار نہیں۔
استعمار اس وقت ذہن میں جگہ بناتا ہے جب انسان فیصلہ کرنے کی اپنی صلاحیت دوسروں کے حوالے کردیتا ہے۔

پھر طاقتور ملک کی ہر بات دانشمندی اور اپنے ملک کی ہر بات حماقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ باہر کی کامیابی ترقی اور اندر کی کامیابی اتفاق دکھائی دیتی ہے۔ اپنی قوم کے عیب فطرت بن جاتے ہیں اور دوسروں کی خامیاں استثنا۔

یہاں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم لازماً آزاد فکر پیدا کرتی ہے۔ ایسا نہیں۔ ڈگری علم دے سکتی ہے، بصیرت کی ضمانت نہیں۔ کوئی شخص دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پڑھ کر بھی ذہنی طور پر دوسروں کا محتاج ہوسکتا ہے، جبکہ ایک عام آدمی اپنی محدود تعلیم کے باوجود غیر معمولی قومی شعور رکھ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔
اصل سوال یہ ہے:
آپ سوچتے کس کے دماغ سے ہیں؟

اگر ہر اہم فیصلے سے پہلے ہمیں یہ فکر لاحق ہو کہ واشنگٹن کیا سوچے گا، بیجنگ کیا کہے گا، لندن کیا سمجھے گا یا کسی اور طاقتور دارالحکومت کا ردعمل کیا ہوگا، تو ہمیں اپنی فکری آزادی کا جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان میں ایک اور رویہ بھی تیزی سے پھیلتا ہے: مایوسی۔
یہ ملک نہیں چل سکتا۔
یہ قوم ناکام ہے۔
یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔
سب چور ہیں۔
سب بکاؤ ہیں۔
سب نااہل ہیں۔
یہ جملے بعض اوقات غصے میں نکلتے ہیں، بعض اوقات سیاسی مایوسی سے اور بعض اوقات باقاعدہ بیانیے کے طور پر۔

لیکن یہاں فرق ضروری ہے۔
کرپشن پر لکھنا مایوسی نہیں۔
غربت کی نشاندہی کرنا مایوسی نہیں۔
حکومت کو ناکام کہنا مایوسی نہیں۔
اداروں کا احتساب کرنا بھی مایوسی نہیں۔
مایوسی اس وقت خطرناک بیانیہ بنتی ہے جب قوم کو اس کی بیماری تو دکھائی جائے مگر علاج کا امکان چھین لیا جائے؛ جب ہر ناکامی کو قومی فطرت اور ہر کامیابی کو اتفاق بنا دیا جائے۔
تنقید وہ ہے جو قوم کو جگائے؛ مایوسی وہ ہے جو قوم سے بیداری کی امید بھی چھین لے۔

اسی لیے ’’ملک دشمن‘‘ کی اصطلاح بھی سوچ سمجھ کر استعمال ہونی چاہیے۔
ہر حکومت مخالف شخص ملک دشمن نہیں۔
ہر فوج پر تنقید کرنے والا غدار نہیں۔
ہر امریکہ نواز شخص امریکی ایجنٹ نہیں۔
ہر چین نواز شخص چینی مفاد کا نمائندہ نہیں۔
ہر ایران نواز شخص ایرانی ایجنٹ نہیں۔
اور ہر سعودی عرب نواز شخص عرب مفادات کا ترجمان نہیں۔
ایک شہری حکومت کی مخالفت کرسکتا ہے، کسی ادارے کے فیصلے پر اعتراض کرسکتا ہے، خارجہ پالیسی سے اختلاف کرسکتا ہے اور پھر بھی پاکستان سے وفادار ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر کسی کے خلاف دشمن ریاست کے لیے کام کرنے، خفیہ فنڈنگ لینے، منظم پروپیگنڈا کرنے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس معاملے کو نعرے نہیں، قانون کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔
یہی ایک مہذب ریاست کا طریقہ ہے۔

پاکستان کو غداروں کی لمبی فہرست سے زیادہ مضبوط اداروں اور باشعور شہریوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں کسی ایک عالمی کیمپ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ اور چین میں سے ایک کا انتخاب، ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب، روس اور مغرب میں سے ایک کا انتخاب—یہ سوال ہی غلط ہے۔
پاکستان کو کسی اور کا انتخاب نہیں کرنا۔
پاکستان کو پاکستان کا انتخاب کرنا ہے۔
ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے، مگر دنیا کے پیچھے نہیں۔
ہمیں دوست بنانا ہیں، مگر سرپرست تلاش نہیں کرنے۔
ہمیں تنقید سننی ہے، مگر اپنی صلاحیت سے مایوس نہیں ہونا۔
ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہے، مگر اپنی قوم کو ناکام قرار نہیں دینا۔
ہمیں دشمنوں سے ہوشیار رہنا ہے، مگر ہر اختلاف کرنے والے کو دشمن بھی نہیں سمجھنا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی بیرونی طاقت کی اجازت کا محتاج نہیں۔

آج اصل جنگ شاید سرحد پر نہیں، تصورِ پاکستان کے اندر لڑی جارہی ہے۔ ایک تصور کہتا ہے پاکستان کو اپنی طاقت پر کھڑا ہونا چاہیے؛ دوسرا ہر مشکل کے بعد کسی بیرونی طاقت کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ ہماری خامیاں قابلِ اصلاح ہیں؛ دوسرا انہیں ہماری قسمت قرار دیتا ہے۔ ایک اختلاف کو اصلاح کا راستہ سمجھتا ہے؛ دوسرا اختلاف کو دشمنی بنا دیتا ہے۔ ایک دنیا سے تعلق چاہتا ہے مگر سر جھکا کر نہیں؛ دوسرا طاقتور کے سائے کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کیسا پاکستان دیں گے: ایسا پاکستان جو دنیا کے نقشے پر موجود ہو مگر فیصلوں میں دوسروں کا محتاج ہو، یا ایسا پاکستان جو دوست سب کا ہو، دشمن کسی کا نہ ہو، مگر اپنی قسمت کا مالک خود ہو۔ تاریخ میں قومیں صرف زمین کھو کر غلام نہیں ہوتیں؛ کبھی کبھی وہ اپنی خود اعتمادی کھو کر بھی غلام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوگی۔ اس کی اصل حفاظت اس دن ہوگی جب اس قوم کا ذہن یہ ماننے سے انکار کردے گا کہ اس کی تقدیر کوئی دوسرا لکھ سکتا ہے۔