اتوار، 9 اگست، 2026

اپنی منزل خود دریافت کیجیے



اپنی منزل خود دریافت کیجیے

انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر اس کے سامنے امکانات کی ایک پوری کائنات بچھا دی جاتی ہے۔ وہ نہ اپنے ساتھ رزق لاتا ہے، نہ پیشہ، نہ مقام اور نہ پہچان۔ یہ سب اسے خود حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ناکامیوں کا ذائقہ چکھتا ہے، راستے بدلتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے، تب کہیں جا کر اپنی روزی، اپنی جگہ اور اپنا تعارف بناتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہم روزگار کی تلاش کو تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر زندگی کے مقصد کی تلاش دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ کوئی استاد ہمیں بتا دے گا کہ ہمیں کس سمت جانا ہے، کوئی بزرگ ہماری تقدیر کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں رکھ دے گا، یا معاشرہ ایک دن ہمارے لیے وہ راستہ منتخب کر دے گا جس پر چل کر ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ مقصد عطا نہیں کیا جاتا، دریافت کیا جاتا ہے۔

یہ دریافت بھی کسی نقشے پر نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے باطن تک پہنچنے سے پہلے ہی دوسروں کی آوازوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں والدین کی خواہشیں، جوانی میں معاشرے کی توقعات، اور عمر کے ہر موڑ پر "لوگ کیا کہیں گے" کا سایہ ہمارے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ ہم اپنی آواز اور دوسروں کی آواز میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔ پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی تو بہت گزاری، مگر اپنی زندگی کبھی نہیں گزاری۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہر شخص اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے؟

میرا جواب ہے: نہیں۔

اپنی مرضی سے صرف وہی شخص جی سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے۔

جس انسان کے پاس مقصد نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ دوسروں کی رائے کے سہارے چلتا ہے۔ اس کی سمت حالات طے کرتے ہیں، اس کے فیصلے ماحول بناتا ہے، اور اس کی خوشی دوسروں کی منظوری سے وابستہ رہتی ہے۔ وہ ہر تعریف پر پھول جاتا ہے اور ہر تنقید پر بکھر جاتا ہے، کیونکہ اس کے وجود کی بنیاد اندر نہیں، باہر ہوتی ہے۔

مقصد انسان کو صرف راستہ نہیں دیتا، ایک داخلی مرکز بھی عطا کرتا ہے۔ پھر وہ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ نہیں بدلتا۔ وہ جانتا ہے کہ درخت اگر اپنی جڑوں پر اعتماد کھو دے تو ہر موسم اس کے لیے آندھی بن جاتا ہے۔

کائنات کی ہر شے اپنے مقصد کے ساتھ وابستہ ہے۔ دریا سمندر کی تلاش میں بہتا ہے، بیج روشنی کی آرزو میں زمین کا سینہ چیرتا ہے، ستارے اپنے مدار سے انحراف نہیں کرتے، سورج ہر صبح کسی تالی، کسی تعریف اور کسی اجازت کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔ صرف انسان وہ مخلوق ہے جو دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرتے کرتے اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔

یہ زمانہ رائے کا زمانہ ہے۔ ہر شخص آپ کی زندگی پر تبصرہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی آپ کے خوابوں کو غیر حقیقی کہتا ہے، کوئی آپ کے فیصلوں کو ناپختہ، اور کوئی آپ کے راستے کو غلط قرار دیتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی سمت دوسروں کے ہاتھ میں دے دی تو آپ پوری عمر چوراہوں پر کھڑے رہیں گے، کیونکہ ہر شخص آپ کو الگ راستہ دکھائے گا۔

مقصد مل جانے کے بعد زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن واضح ضرور ہو جاتی ہے۔

مشکلات باقی رہتی ہیں، مخالفتیں بھی ختم نہیں ہوتیں، مگر انسان کے اندر ایک ایسی خاموش طاقت پیدا ہو جاتی ہے جو اسے ہر شور سے بلند کر دیتی ہے۔ پھر وہ ہر آواز کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ منزل کی طرف بڑھتے ہوئے مسافر راستے میں کھڑے ہر تماشائی سے بحث نہیں کرتے۔

شاید اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی آواز سے زیادہ اپنے ضمیر کی آواز پر یقین کیا۔ انہیں پتھر بھی ملے، تنہائی بھی ملی، تمسخر بھی ملا، مگر ان کے قدم اس لیے نہیں رکے کہ وہ لوگوں کے لیے نہیں، اپنے مقصد کے لیے چل رہے تھے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کامیابی کو مقصد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کامیابی صرف ایک نتیجہ ہے۔ مقصد اس سے کہیں بلند چیز ہے۔ کامیابی انسان کو شہرت دے سکتی ہے، دولت دے سکتی ہے، اختیار دے سکتی ہے، مگر مقصد اسے معنی دیتا ہے۔ اور معنی کے بغیر ہر کامیابی آخرکار ایک خالی برتن ثابت ہوتی ہے، جس میں شور تو بہت ہوتا ہے، سکون نہیں۔

اس لیے اگر آپ واقعی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ مت پوچھیے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ دنیا آپ سے کیا چاہتی ہے۔ صرف ایک سوال کیجیے:

میں اس دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں؟

ممکن ہے اس سوال کا جواب ایک دن میں نہ ملے، شاید برسوں لگ جائیں، شاید پوری زندگی کی مسافت طے کرنی پڑے۔ مگر یاد رکھیے، مقصد کی تلاش میں گزارا ہوا ایک دن بھی اس پوری عمر سے زیادہ قیمتی ہے جو دوسروں کے خواب پورے کرتے ہوئے گزر جائے۔

آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ انسان کی آزادی کا اعلان اس دن نہیں ہوتا جب وہ دوسروں کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، بلکہ اس دن ہوتا ہے جب وہ اپنے وجود کے معنی دریافت کر لیتا ہے۔ جس لمحے انسان کو اپنی منزل مل جاتی ہے، اسی لمحے دنیا کی آوازیں مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر تعریف اس کا راستہ نہیں بدلتی، تنقید اس کے قدم نہیں روکتی، اور زمانہ اس کی سمت متعین نہیں کرتا۔

کیونکہ جس مسافر کو اپنی منزل معلوم ہو، وہ راستوں سے نہیں ڈرتا؛ اور جسے اپنی منزل نہ معلوم ہو، وہ ہر چوراہے پر دوسروں سے راستہ پوچھتا رہ جاتا ہے۔

اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟




اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟

پاکستان کی کہانی ایک خواب سے شروع ہوئی تھی۔ وہ خواب کسی فوجی طاقت، کسی سلطنت یا کسی خاندان کا نہیں تھا، بلکہ عوام کے سیاسی شعور کا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ووٹ کی طاقت سے دنیا کو بتایا تھا کہ قومیں بندوق سے نہیں، اجتماعی فیصلے سے بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔ شاید اسی لیے پاکستان کا پہلا سرمایہ زمین نہیں بلکہ عوام کا اعتماد تھا۔

مگر تاریخ کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔قیامِ پاکستان کے بعد ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے لگا جس میں ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان طاقت کا توازن مسلسل بدلتا رہا۔ ہر بحران نے کسی ادارے کو زیادہ اختیار دیا اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں اختیار کم اور ذمہ داری زیادہ رہ گئی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، پارلیمان قائم رہی، انتخابات بھی ہوتے رہے، مگر یہ سوال کبھی دفن نہ ہو سکا کہ ریاست کے اہم فیصلوں کا آخری اختیار آخر کس کے پاس ہے۔

یہ تبدیلی صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہ رہی۔ ریاستی وسائل، قومی ترجیحات اور عوامی اثاثوں پر بھی عوام کی نفسیاتی ملکیت کمزور پڑنے لگی۔ جب ایک عام آدمی اپنی زندگی میں مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بے بسی کا سامنا کرتا ہے اور دوسری طرف طاقت کے مراکز کی قوت اور اثرورسوخ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے۔ کیا آزادی صرف پرچم بدلنے کا نام تھی ، پرچم کے ذہن میں آتے ہی وہ دور یاد آتا ہے جب اس سرزمین پر غیر ملکی حکمران حکومت کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی فیصلے کہیں اور ہوتے تھے اور عوام صرف ان فیصلوں کے نتائج بھگتتے تھے۔ آج حالات یقیناً مختلف ہیں، مگر اگر عوام کو اپنے ووٹ کی تاثیر محسوس نہ ہو تو تاریخ کا احساس بھی بدلنے لگتا ہے۔

بلوچستان اسی احساس کا سب سے پرانا اور سب سے گہرا استعارہ ہے۔ وہاں بے چینی کو اکثر طاقت سے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خاموشی ہمیشہ اطمینان نہیں ہوتی۔ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ چند جمہوری ادوار میں سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کیا گیا، لیکن وہ قومی پالیسی نہ بن سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بے چینی نے صرف ایک صوبے تک محدود رہنے سے انکار کر دیا۔ اس کی لہریں خیبر پختونخوا تک پہنچیں اور اب کشمیر میں دستک دیتی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستانی سیاست کی البتہ ایک خوبی بھی ہے۔ اس نے ہر دور میں ایسے رہنما پیدا کیے جنہوں نے بند راستوں میں بھی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بینظیر بھٹو ایک دوسرے سے مختلف سیاسی مکتبِ فکر رکھتے تھے، مگر ایک بات میں سب شریک تھے: وہ عوامی سیاست کو ریاستی اختیار کا اصل سرچشمہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کی کامیابیوں پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے حصے کی قیمت بھی ادا کی۔

عمران خان کی سیاسی داستان اس روایت میں ایک منفرد باب کا اضافہ کرتی ہے۔ ان کے بارے میں ایک مضبوط سیاسی تاثر یہ رہا کہ ان کے اقتدار تک پہنچنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا، مگر اقتدار سے نکالنے کے بعد یہی تعلق اختلاف اور پھر تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ یوں وہ بھی اسی سیاسی دائرے میں داخل ہوگئے جہاں ماضی کے بہت سے منتخب رہنما پہلے آ چکے تھے۔ اس منظرنامے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا کہ پاکستان میں اصل مسئلہ افراد کا ہے یا اختیار کے نظام کا؟

یہی سوال موجودہ حکمران اتحاد کے سامنے بھی کھڑا ہے۔ کیا اس کا انجام بھی اپنے پیش روؤں جیسا ہوگا یا اس بار تاریخ مختلف فیصلہ سنائے گی؟ اس کا جواب آنے والا وقت دے گا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں سیاست دان ایک طرف ریاستی استحکام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف عوامی بالادستی کے دعوے سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہی تضاد ان کی سیاست کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وزن کو کمزور کیا ہے۔ اگر یہ تاثر عوام میں مزید مضبوط ہوتا ہے تو ممکن ہے اس کے نتائج صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہ رہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت جب اپنے فطری توازن سے آگے بڑھتی ہے تو ردِعمل بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ جو بساط آج سیاست دانوں کو محدود کرنے کے لیے بچھائی جا رہی ہے، بعید نہیں کہ کل وہی بساط اپنے بچھانے والوں کے لیے بھی آزمائش بن جائے۔

اسی تناظر میں عوامی ریفرنڈم کی بات بھی سنائی دیتی ہے۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ آیا اور منتخب سیاسی قوتوں نے خود اس کی قیادت کی تو طاقت کے موجودہ توازن میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ بعض لوگ اس ضمن میں ترکی کی مثال دیتے ہیں، اگرچہ پاکستان کے حالات، تاریخ اور ادارہ جاتی ساخت اس سے مختلف ہیں۔ پھر بھی تاریخ کا ایک اصول ہر جگہ یکساں رہتا ہے: طاقت ہمیشہ مستقل نہیں ہوتی، مگر عوام کا فیصلے کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔

آخر میں صرف ایک تاریخی واقعہ ۔ رومی سلطنت نے بے شمار جنگیں جیتیں، اس کی فوجیں نصف دنیا پر چھا گئیں، مگر ان کے زوال کی وجوہات میں مورخین لکھتے ہیں کہ سلطنت اپنی رعایا کے دل ہار چکی تھی۔

تاریخ کا قلم یہ نہیں پوچھنا کہ کون سا حکمران زیادہ طاقتور تھا، کس جماعت نے کتنی نشستیں جیتیں یا کس ادارے کے پاس کتنا اختیار تھا۔ وہ صرف یہ لکھے گا کہ کیا اس ریاست نے اپنے عوام کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ ملک واقعی انہی کا ہے؟

اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے



اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے
جب کوئی نوجوان دین کے بارے میں سوال کرتا ہے تو بعض لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں: "زیادہ سوال نہ کرو، ایمان کمزور ہو جائے گا۔" یہ جملہ شاید اخلاص سے کہا جاتا ہو، لیکن قرآن کا اسلوب اس سے مختلف ہے۔ قرآن انسان کو خاموش رہنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اس کی عقل کو بیدار کرتا ہے۔ وہ بار بار پوچھتا ہے: "کیا تم غور نہیں کرتے؟"، "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"، "کیا تم دیکھتے نہیں؟" اور "کیا تم سمجھتے نہیں؟"۔ گویا اسلام کا آغاز سوال سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام یقین پر۔
اسلام کی پوری فکری روایت اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے سوال کیا تاکہ یقین مزید پختہ ہو۔ فرشتوں نے سوال کیا تاکہ حکمت کو سمجھ سکیں۔ صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سینکڑوں سوال کیے، اور قرآن نے ان سوالات کے جوابات کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ اگر سوال کرنا ممنوع ہوتا تو وحی خود سوال و جواب کی صورت میں کیوں نازل ہوتی؟
قرآن تو اس سے بھی آگے بڑھ کر حکم دیتا ہے
"پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔"
(سورۃ النحل: 43)
یہ آیت صرف ایک دینی ہدایت نہیں، بلکہ علم حاصل کرنے کا آفاقی اصول ہے۔ لاعلمی کا علاج خاموشی نہیں، سوال ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بلاشبہ جہالت کا علاج سوال کرنا ہے۔"
(سنن ابی داؤد)
قرآن صرف سوال کرنے کی دعوت ہی نہیں دیتا بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندگانِ صالح کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے
"اور جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھوں اور بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے۔"
(سورۃ الفرقان: 73)
قرآن اپنے مثالی مومن کی تعریف یہ نہیں کرتا کہ وہ بغیر سوچے ہر بات قبول کر لیتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی آیات کو شعور، بصیرت اور سمجھ کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس کا ایمان علم پر قائم ہوتا ہے، غفلت پر نہیں۔
بدقسمتی سے ہم نے بعض اوقات دین کو اتنا نازک بنا دیا ہے کہ ایک سوال سے بھی اسے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ سچائی کبھی سوال سے نہیں ڈرتی۔ سوال تو صرف اس فکر کے لیے خطرہ بنتا ہے جس کے پاس دلیل نہ ہو۔ جس ایمان کی بنیاد تحقیق پر ہو، ہر نیا سوال اسے مزید مضبوط کرتا ہے۔
یاد رکھیے، لاعلم ہونا عیب نہیں، لاعلم رہنے پر اصرار کرنا عیب ہے۔ اسلام انسان کو عقل دیتا ہے، پھر اسے تحقیق کا حکم دیتا ہے، پھر اہلِ علم سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتا ہے، اور آخرکار فیصلہ اس کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:
"اور کہہ دیجیے: یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔"
(سورۃ الکہف: 29)
یہ آیت جبر کی نہیں، آزادیِ انتخاب کی آیت ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، لیکن اس اختیار سے پہلے تحقیق کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد کی گئی ہے۔ اسی لیے قرآن کی ابتدا میں فرمایا گیا:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے۔"
(سورۃ البقرہ: 2)
متقی وہ نہیں جو سوال سے ڈر جائے، بلکہ وہ ہے جو حق کی تلاش میں اخلاص کے ساتھ نکلے، دلیل کو سنے، تعصب سے بلند ہو کر تحقیق کرے، اور جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنے کا حوصلہ بھی رکھے۔
شاید یہی اسلام کی سب سے بڑی فکری عظمت ہے۔ یہ مذہب سوال سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اسے اپنے جواب پر یقین ہے۔ وہ انسان سے اندھی اطاعت نہیں مانگتا، بلکہ بیدار عقل، مطمئن دل اور شعوری ایمان چاہتا ہے۔ اسلام کا اصل معرکہ سوال کرنے والوں سے نہیں، بلکہ جہالت، تعصب اور اندھی تقلید سے ہے

جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے






جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے

مسلم دنیا میں اتحاد کا خواب نیا نہیں۔ تقریباً ایک صدی سے مسلمان ممالک یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ اتنی بڑی آبادی، وسیع جغرافیہ، بے شمار قدرتی وسائل، تاریخی ورثے اور دفاعی صلاحیت رکھنے کے باوجود وہ ایک ایسی مشترکہ طاقت کیوں نہیں بن سکے جو عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

مکہ ڈیفنس اکارڈ کو بھی اسی تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ مسلم ممالک نے مشترکہ دفاع یا تعاون کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہو۔ تاریخ میں بارہا ایسے مواقع آئے جب امیدیں بلند ہوئیں، معاہدے ہوئے، ادارے قائم ہوئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کئی کوششیں اپنی ابتدائی روح برقرار نہ رکھ سکیں۔

اگر مسلم دنیا کے مجموعی وسائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک غیر معمولی قوت رکھتی ہے۔ تقریباً ستاون مسلم ممالک میں دو ارب کے قریب انسان بستے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ مسلم ممالک کے پاس ہے۔ ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ملانے والے اہم جغرافیائی راستے اسی خطے سے گزرتے ہیں۔ نوجوان آبادی، معدنی وسائل اور قدرتی دولت اسے دنیا کے اہم ترین خطوں میں شامل کرتے ہیں۔

دفاعی اعتبار سے بھی مسلم ممالک کے پاس بڑی قوت موجود ہے۔ مجموعی طور پر لاکھوں فوجی اہلکار، ہزاروں جنگی اور فوجی طیارے، دسیوں ہزار ٹینک، بڑی بحری قوت اور جدید دفاعی نظام رکھنے والے ممالک اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ ترکی، پاکستان، ایران، مصر اور بعض خلیجی ممالک دفاعی صنعت، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون اور جدید جنگی صلاحیتوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ صحت، تعلیم اور سائنس کے میدان میں بھی مسلم دنیا کے پاس لاکھوں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور محققین موجود ہیں۔

لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ وسائل کا ہونا اور ان وسائل کو مشترکہ طاقت میں تبدیل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اصل مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، مشترکہ وژن اور سیاسی ہم آہنگی کا ہے۔

اس مسئلے کی جڑیں تاریخ میں بھی موجود ہیں۔ تقریباً سو سال پہلے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کا سیاسی نقشہ بدل گیا۔ نئی ریاستیں وجود میں آئیں، نئی سرحدیں قائم ہوئیں اور ایک ایسا نظام پیدا ہوا جس میں مشترکہ تہذیبی رشتوں کے باوجود ہر ملک نے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

اسی پس منظر میں عرب اور عجم کی تقسیم بھی ایک اہم حقیقت بن کر سامنے آئی۔ عرب ممالک نے اپنی زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت کو بنیاد بنایا، جبکہ غیر عرب مسلم ممالک جیسے ترکی، ایران اور پاکستان نے اپنی قومی ترجیحات کے مطابق راستے اختیار کیے۔ اگرچہ اسلام نے نسل اور زبان کی بنیاد پر برتری کو رد کیا، لیکن سیاست میں تاریخی، ثقافتی اور علاقائی عوامل اپنا اثر رکھتے رہے۔

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان علاقائی تعاون کی کوشش اسی خواہش کا اظہار تھی۔ 1964ء میں تینوں ممالک نے علاقائی تعاون برائے ترقی، یعنی آر سی ڈی قائم کیا۔ مقصد یہ تھا کہ تین بڑے مسلم ممالک تجارت، معیشت اور ترقی کے میدان میں ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ ابتدا میں یہ منصوبہ بڑی امیدوں کے ساتھ شروع ہوا، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات، عالمی طاقتوں کے اثرات اور داخلی ترجیحات نے اس کے سفر کو محدود کر دیا۔ بعد میں یہی تصور اقتصادی تعاون تنظیم کی شکل میں سامنے آیا، مگر یہ بھی ایک مضبوط سیاسی اتحاد میں تبدیل نہ ہو سکا۔

خلیجی تعاون کونسل بھی اسی امید کے ساتھ قائم ہوئی تھی کہ خلیجی ممالک اپنی مشترکہ سلامتی اور معاشی طاقت کو ایک سمت دیں گے۔ ابتدا میں اس اتحاد سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، لیکن وقت کے ساتھ اندرونی اختلافات سامنے آئے۔ قطر اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی بحران نے واضح کر دیا کہ مشترکہ مذہب، زبان اور جغرافیہ بھی ہمیشہ سیاسی اختلافات کو ختم نہیں کر سکتے۔

عرب دنیا میں اتحاد کی خواہش یقیناً خوش آئند ہے۔ اگر عرب ممالک اپنی معاشی، سیاسی اور دفاعی طاقت کو یکجا کریں تو وہ دنیا میں ایک اہم قوت بن سکتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نسلوں سے موجود عرب برتری کا احساس بعض اوقات مساوات پر مبنی اتحاد کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ کوئی بھی اتحاد اس وقت مضبوط نہیں ہو سکتا جب ایک فریق خود کو فطری قائد اور دوسرے کو تابع سمجھے۔ کامیاب اتحاد برابری، احترام اور اعتماد سے بنتے ہیں۔

مسلم دنیا کے بعض ممالک نے تیل اور گیس کی دولت سے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ جدید شہر، بلند عمارتیں، عالمی معیار کے اسپتال، جامعات اور معاشی منصوبے اس ترقی کی علامت ہیں۔ لیکن دولت کے ساتھ ایک امتحان بھی آتا ہے۔ ایک دانشمند کا قول ہے:

"دولت سر کو اونچا کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔"

دولت اگر علم، تحقیق، انصاف اور خدمت کے ساتھ ہو تو قوموں کو ترقی دیتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ غرور شامل ہو جائے تو فاصلے پیدا کرنے لگتی ہے۔

پنجابی زبان کا ایک لفظ ہے: "شریکہ "۔ یہ صرف خاندانی مقابلے کا لفظ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی کیفیت کا اظہار ہے۔ شریکہ دشمنوں سے نہیں ہوتا، اکثر اپنے ہی لوگوں کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ جب بھائی بھائی کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے حسد کرے، جب ایک قوم دوسری قوم کی کمزوری کو اپنا فائدہ سمجھے، تو یہی کیفیت اجتماعی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
1969    سال 
میں جب اسلامی تعاون تنظیم قائم ہوئی تو صرف حکومتوں کے ایوانوں میں نہیں بلکہ عرب اور عجم دونوں کے عوام میں ایک نئی امید، ایک ولولہ اور ایک جذبہ پیدا ہوا تھا۔ عام مسلمان کو محسوس ہوا تھا کہ شاید اب مسلم دنیا اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک نئی سمت اختیار کرے گی۔ وہ ایک سیاسی اعلان سے بڑھ کر عوامی احساس کا نام تھا۔

آج مکہ ڈیفنس اکارڈ کے لیے بھی ہماری نیک خواہشات اس معاہدے میں شریک ممالک کے ساتھ ہیں۔ مکہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ کہا جاتا ہے: "تیری آواز مکے مدینے"۔ مکہ کی نسبت یقیناً اس کوشش کو ایک خاص اہمیت عطا کرتی ہے۔

لیکن امید کے ساتھ تاریخ کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔ ماضی کے کئی معاہدے بھی بڑے جوش، ولولے اور امیدوں کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ اسلامی تعاون تنظیم، آر سی ڈی اور خلیجی تعاون کونسل سب اپنے وقت میں ایک نئے دور کی نوید سمجھے گئے تھے، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ صرف جذبات اور اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ کامیابی کے لیے مسلسل اعتماد، عملی تعاون اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

مکہ ڈیفنس اکارڈ کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ کیا یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ رہتا ہے یا علم، تجارت، تحقیق، ترقی اور باہمی احترام کے ایک وسیع تر تعاون میں تبدیل ہوتا ہے۔

برطانوی مفکر جارج سینٹیانا کا مشہور قول ہے:

"جو لوگ ماضی کو یاد نہیں رکھتے، وہ اسے دہرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔"

ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک




ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک

دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو بظاہر چند کلومیٹر کی سمندری گزرگاہ ہوتے ہیں، مگر تاریخ انہیں غیر معمولی اہمیت عطا کر دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتی ہے، مگر اس کی اصل اہمیت اس کے پانیوں کی وسعت میں نہیں، اس جغرافیائی حیثیت میں ہے جس نے ہزاروں برس سے اسے تہذیبوں، سلطنتوں، تاجروں اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنا رکھا ہے۔

آج جب دنیا خلیج فارس کے تیل، ایران اور عالمی توانائی کی سیاست کی بات کرتی ہے تو آبنائے ہرمز کا نام فوراً سامنے آتا ہے۔ لیکن اس سمندری راستے کی کہانی جدید تیل کی سیاست سے بہت پرانی ہے۔ اس کی جڑیں اس دور تک جاتی ہیں جب نہ جدید ریاستیں تھیں، نہ بحری جہاز آج جیسے تھے اور نہ دنیا ایک عالمی منڈی میں تبدیل ہوئی تھی۔

قدیم ایران کی تہذیب جب خلیج فارس کے ساحلوں تک پہنچی تو یہ سمندر اس کے لیے محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں تھا بلکہ تجارت اور رابطے کا راستہ تھا۔ ہخامنشیوں کے زمانے میں ایران ایک عظیم سلطنت تھا جس کے جنوبی حصے خلیج فارس سے جڑے ہوئے تھے۔ ایران کی سرزمین سے نکلنے والی اشیا سمندری راستوں کے ذریعے عرب دنیا اور ہندوستان تک پہنچتی تھیں۔ اس زمانے میں آبنائے ہرمز کو آج جیسی عالمی تزویراتی اہمیت حاصل نہیں تھی، لیکن جغرافیہ اپنا کام کر رہا تھا؛ ایران اور بحرِ ہند کے درمیان سمندر ایک قدرتی پل بن رہا تھا۔

ساسانی دور میں خلیج فارس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایرانی سلطنت نے اپنے جنوبی سمندری راستوں کو تجارتی نظام کا حصہ بنایا اور ہندوستان، عربستان اور مشرقی افریقہ تک پہنچنے والے بحری رابطوں میں اپنا اثر قائم کیا۔ ایران کی طاقت صرف خشکی تک محدود نہیں رہی تھی؛ اس کی نظر سمندر کی طرف بھی تھی۔

پھر اسلام آیا، ساسانی سلطنت ختم ہوئی اور ایران ایک نئے مذہبی و سیاسی عہد میں داخل ہوگیا، لیکن خلیج فارس کی اہمیت برقرار رہی۔ بصرہ، سیراف اور دوسری بندرگاہیں بحرِ ہند کی وسیع تجارتی دنیا سے جڑ گئیں۔ ہندوستان سے مصالحے، کپڑے اور دوسری اشیا آتیں، مشرقی افریقہ سے سامان پہنچتا اور ایران کے راستے یہ تجارت وسیع اسلامی دنیا تک پھیلتی۔ اس دور میں سمندر مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے سے ملانے والا راستہ بن گیا۔

اسی تجارتی دنیا میں ہرمز ابھرا۔

قدیم ہرمز کی ریاست نے خلیج فارس اور بحرِ ہند کے درمیان تجارت پر اثر قائم کیا۔ ہرمز کے تاجروں کے رابطے ہندوستان، عربستان، ایران اور مشرقی افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ ہرمز صرف ایک جزیرہ نہیں تھا؛ وہ ایک ایسی تجارتی طاقت تھا جس کی اہمیت اس مقام سے پیدا ہوئی جہاں سمندری راستے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔

پھر سولہویں صدی آئی اور بحرِ ہند میں یورپی طاقتوں کا داخلہ ہوا۔ پرتگالیوں نے سمندری راستوں کو صرف تجارت کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں طاقت کے ذریعے اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ 1507ء میں افونسو ڈی البوکرک نے ہرمز پر قبضہ کیا اور 1515ء میں پرتگالیوں نے وہاں اپنا اقتدار مضبوط کرلیا۔ ہرمز میں قلعہ بنایا گیا اور ایک ایسا دور شروع ہوا جس میں پہلی مرتبہ ایک یورپی طاقت نے خلیج فارس کے اس اہم دروازے پر براہِ راست فوجی اثر قائم کرلیا۔

یہاں تاریخ ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ اس وقت ایران میں صفوی سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ شاہ عباس اول کے سامنے مغرب میں عثمانی طاقت کا مسئلہ تھا اور جنوب میں پرتگالیوں کی موجودگی ایک نیا چیلنج بن رہی تھی۔ صفوی ایران نے طاقت کے اس توازن کو سمجھا اور پرتگالیوں کو ہرمز سے نکالنے کے لیے انگریزوں کے ساتھ تعاون کیا۔ 1622ء میں صفوی فوج اور انگریزی بحری مدد نے پرتگالیوں کو ہرمز سے بے دخل کردیا۔

یہ واقعہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک دلچسپ سبق بھی ہے۔ جس یورپی طاقت سے ایران نے پرتگالیوں کو شکست دینے کے لیے تعاون کیا، وہی آگے چل کر خلیج فارس میں ایک نئی عالمی طاقت کے ظہور کی بنیاد بننے والی تھی۔ تاریخ میں مستقل دوست کم ہوتے ہیں، مستقل مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔

پرتگالیوں کے زوال کے بعد عمان کی بحری طاقت بھی خلیج فارس اور بحرِ ہند میں نمایاں ہوئی۔ مسقط ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا اور عمانی حکمرانوں نے پرتگالیوں کے خلاف طویل جدوجہد کی۔ یوں آبنائے ہرمز کے گرد ایرانی، عرب اور یورپی طاقتوں کی ایک مسلسل کشمکش جاری رہی۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ اس خطے میں داخل ہوا۔ اس کی اصل دلچسپی ہندوستان تھی۔ ہندوستان برطانوی سلطنت کا سب سے قیمتی حصہ تھا، اس لیے ہندوستان تک جانے والے سمندری راستوں کی حفاظت برطانیہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی۔ خلیج فارس اسی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن گئی۔ عمان، بحرین، کویت اور خلیج کے دوسرے حکمرانوں کے ساتھ برطانوی معاہدوں نے رفتہ رفتہ خطے میں برطانوی اثر بڑھا دیا۔

لیکن بیسویں صدی نے آبنائے ہرمز کو وہ اہمیت دی جس نے اسے عالمی سیاست کا مستقل کردار بنا دیا۔

تیل۔

جب خلیج فارس میں تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے اور صنعتی دنیا کی توانائی کی ضروریات بڑھیں تو آبنائے ہرمز محض تجارتی راستہ نہیں رہی۔ یہ عالمی معیشت کی شہ رگ بن گئی۔ خلیج فارس کے تیل کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچنے کے لیے یہ سمندری دروازہ انتہائی اہم ہوگیا۔

اسی لیے آج ایران کو سمجھنے کے لیے صرف تہران، اصفہان، شیراز اور مشہد کو دیکھنا کافی نہیں۔ ایران کے جنوب میں ایک اور ایران موجود ہے؛ وہ ایران جو سمندر کی طرف دیکھتا ہے، جو خلیج فارس کے ساحلوں سے بحرِ ہند تک پہنچتا ہے اور جس کے سامنے آبنائے ہرمز ایک ایسا دروازہ ہے جسے دنیا نظرانداز نہیں کر سکتی۔

ایرانی انقلاب کے بعد اس جغرافیائی حقیقت کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے شمالی کنارے اور اس کے قریب واقع اہم جزائر موجود ہیں۔ ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کے باعث عالمی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ کسی بڑے تنازع کی صورت میں آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے حساس مقام بن سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، دنیا کی نظریں واشنگٹن یا تہران سے پہلے کبھی کبھی ہرمز کے پانیوں پر جا ٹھہرتی ہیں۔ کیونکہ یہاں ہونے والا کوئی بھی بڑا واقعہ صرف ایران یا خلیج فارس کا مسئلہ نہیں رہتا؛ اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی پوری تاریخ کو دیکھا جائے تو ایک بات حیران کن طور پر واضح ہوتی ہے: طاقت ہمیشہ بدلتی رہی، مگر جغرافیہ نہیں بدلا۔ عیلامی اور قدیم ایرانی دنیا سے لے کر ہخامنشیوں، ساسانیوں، اسلامی تاجروں، ہرمز کے حکمرانوں، پرتگالیوں، صفویوں، عمانیوں، برطانویوں اور آج کی عالمی طاقتوں تک سب اس مختصر سمندری راستے کی اہمیت کو سمجھتے رہے۔

شاید یہی جغرافیہ کا سب سے بڑا سبق ہے۔

سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، بادشاہ بدل جاتے ہیں، مذہب اور سیاسی نظریات نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں، عالمی طاقتوں کے نام تبدیل ہوجاتے ہیں، مگر کچھ جغرافیائی مقامات تاریخ کے ہر دور میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔

آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی مقام ہے۔

یہ صرف ایران کا سمندری دروازہ نہیں؛ یہ ایران، عرب دنیا، بحرِ ہند اور عالمی معیشت کے درمیان وہ تاریخی پل ہے جس نے ہزاروں سال سے طاقت، تجارت اور تہذیب کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔

جمعہ، 31 جولائی، 2026

خواب سے اہم نسبت رسول کی حفاظت



 نسبتِ رسول ﷺ کی حفاظت

خواب انسانی وجود کی وہ پراسرار سرحد ہے جہاں بیداری کے قوانین کچھ دیر کے لیے معطل دکھائی دیتے ہیں۔ جسم بستر پر ہوتا ہے اور شعور کبھی ماضی میں اتر جاتا ہے، کبھی ایسے لوگوں سے ملا دیتا ہے جو دنیا میں نہیں رہے، کبھی فاصلے مٹا دیتا ہے اور کبھی ایسی چیز دکھا دیتا ہے جس کا بیداری میں کوئی ظاہری امکان نظر نہیں آتا۔ اسی لیے خواب کو محض ذہنی انتشار کہہ کر نظر انداز کردینا انسانی تجربے کی ایک بڑی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔

اسلام نے بھی خواب کو معمولی نہیں سمجھا۔ قرآنِ مجید میں حضرت یوسفؑ، حضرت ابراہیمؑ اور عزیزِ مصر کے خواب محفوظ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی رؤیائے صالحہ کی اہمیت بیان فرمائی۔ مگر خواب کی اصل حساسیت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں خواب دیکھنے والا یہ کہتا ہے

’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘

یہ بظاہر ایک شخص کا ذاتی تجربہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی نسبت جڑ جاتی ہے جس کی حفاظت اسلامی تہذیب میں ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتی رہی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔‘‘

صحیح بخاری کی یہ روایت رؤیتِ نبوی ﷺ کی خصوصی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا دعویٰ کرنے والا شخص خواب میں سنی ہوئی ہر بات کو بیداری میں حدیثِ نبوی قرار دے سکتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق ہے

رؤیت ایک شخصی تجربہ ہے؛ نسبتِ رسول ﷺ ایک دینی دعویٰ ہے۔

اور اسی فرق نے اسلامی علمی روایت میں احتیاط کو جنم دیا۔

نسبتِ رسول ﷺ معمولی نسبت نہیں

مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب اقوال کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ حدیث کی حفاظت ایک مستقل علمی فن بن گئی۔ محدثین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ روایت اچھی اور بامعنی ہے یا نہیں؛ انہوں نے پوچھا: راوی کون ہے؟ کس سے روایت کرتا ہے؟ دونوں کی ملاقات ہوئی؟ راوی کا حافظہ کیسا تھا؟ اس کی دیانت کیا تھی؟ روایت کی دوسری اسناد کیا کہتی ہیں؟ متن دوسری روایات سے متصادم تو نہیں؟

یہاں تک کہ راویوں کی پیدائش و وفات، سفر، اساتذہ، شاگرد اور ملاقاتوں تک کا حساب رکھا گیا۔

یہ شک نہیں تھا؛ یہ نسبت کی حفاظت تھی۔

اور یہی اصول خواب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

ایک شخص کہتا ہے، ’’میں نے خواب دیکھا۔‘‘ یہ اس کا تجربہ ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘ اب نسبت پیدا ہوگئی۔ پھر اگر وہ کہے، ’’رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا‘‘ تو بات مزید حساس ہوگئی، کیونکہ اب خواب ایک قولِ رسول ﷺ کی نسبت بن چکا ہے۔

یہیں سے سوال شروع ہوتا ہے: خواب کا ماخذ کیا ہے؟ روایت کب کی ہے؟ راوی کون ہے؟ کیا کوئی خارجی نشانی ہے؟ کوئی گواہ ہے؟ کیا اس کا کوئی مادی اثر بیداری میں ظاہر ہوا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا بیان کردہ بات قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟

خوابوں کی تمام حکایات ایک درجے کی نہیں

صوفیانہ تذکروں اور کتبِ مناقب میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق خوابوں کے کئی واقعات ملتے ہیں، مگر انہیں ایک ہی درجے میں رکھنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔

ایک قسم وہ ہے جس میں خواب میں ملنے والی مادی چیز بیداری میں بھی موجود پائی گئی۔

ابو الخیر الأقطع کے بارے میں روایت ہے کہ شدید فاقے کے زمانے میں خواب میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں روٹی عطا فرمائی۔ انہوں نے نصف کھائی اور بیدار ہوئے تو باقی نصف روٹی ہاتھ میں موجود تھی۔ اسی نوعیت کی حکایات ابن الجلاد اور محمد بن العلاء سے بھی منسوب ہیں۔

یہ واقعات اس لیے غیر معمولی ہیں کہ یہاں خواب اور بیداری کے درمیان محض معنوی تعلق نہیں، بلکہ مادی شے کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری قسم میں خواب میں ملنے والی چیز بیداری میں اسی جنس یا تعداد کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ سُدیر الصیرفی سے منسوب روایت میں خواب میں آٹھ رطب ملنے اور اگلے دن امام جعفر صادقؓ کے ہاں آٹھ رطب ملنے کا ذکر ہے۔ یہاں خواب کے وہی رطب بیداری میں آنے کا دعویٰ نہیں، بلکہ عدد اور جنس کی مطابقت ہے۔

ابو حبیب النباجی سے منسوب اٹھارہ کھجوروں کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے، 

تیسری قسم میں خواب کی مادی چیز بیداری میں نہیں ملتی، لیکن خواب کے بعد جسمانی اثر ظاہر ہوتا ہے۔

قصیدۂ بردہ کے شاعر محمد بن سعید البوصیری کے بارے میں مشہور مناقبی روایت ہے کہ بیماری کے زمانے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر دستِ مبارک پھیرا اور اپنی بردہ ان پر ڈال دی۔ بیدار ہوئے تو شفا پاچکے تھے۔

سعد الدین الفارقی سے منسوب روایت میں بھی خواب، بردہ اور آنکھوں کی شفا کا ذکر ملتا ہے۔

ان دونوں حضرات کاخعاب کے بعد صحت مند ہو جانا ۔ ان کے خواب کے نظر انے والے نتائج ہیں 

ایک اور قسم میں خواب کا حسی اثر بیان ہوتا ہے، مثلاً کھجور کھانے کے خواب کے بعد بیداری میں اس کا ذائقہ محسوس ہونا۔ ایسی روایات میں مادی ثبوت اور مضبوط خارجی شہادت نہ ہونے کے باعث زیادہ احتیاط ضروری ہے۔

یوں خوابوں کے یہ واقعات چار سطحوں پر آتے ہیں:

مادی چیز کا بیداری میں موجود ہونا،
جنس یا تعداد کی مماثلت،
خواب کے بعد جسمانی اثر،
اور محض حسی مماثلت۔

ان سب کو ایک ہی درجہ دینا درست نہیں۔

نشانی خواب کو کہاں لے جاتی ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔

’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا‘‘ ایک شخص کا بیان ہے۔

لیکن اگر خواب کے بعد کوئی ایسی چیز سامنے آئے جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکیں تو معاملے میں ایک خارجی قرینہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ابو الخیر الأقطع کے ہاتھ میں روٹی، بعض روایات میں درہم کا بیداری میں موجود ہونا، سُدیر کے واقعے میں آٹھ رطب کی مطابقت اور بوصیری کے واقعے میں بیماری کے بعد شفا اسی لیے اہم ہیں کہ روایت نگار خواب کو کسی خارجی اثر کے ساتھ جوڑتا ہے۔

لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول فراموش نہیں ہونا چاہیے:

نشانی روایت کو حیرت انگیز بناتی ہے؛ سند اسے تاریخی بناتی ہے۔

اور اگر کوئی خارجی واقعہ متعدد افراد نے دیکھا بھی ہو تو وہ  صرف دعوے کے لیے ایک اضافی قرینہ پیدا کرتا ہے۔


اسلامی تہذیب نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت کی حفاظت صرف حدیث میں نہیں کی۔ سیرت، شمائل، مناقب، کرامات اور خوابوں کے تذکروں میں بھی اہلِ علم نے ماخذ، زمانہ، راوی، سند، متن اور قرائن کو اہمیت دی۔

یقیناً حدیث، منقبت اور خواب ایک ہی درجے کے مصادر نہیں۔ حدیث کی حجیت اور خواب کی شخصی یا مناقبی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک اخلاقی اصول مشترک ہے:

رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب ہو تو اسے بے احتیاطی سے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔

یہاں شاید سب سے اہم بات یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنا خود ایک دعویٰ ہوسکتا ہے، مگر آپ ﷺ کی طرف کسی بات کو منسوب کرنا ایک امانت ہے۔

اسی لیے اہلِ علم کسی خواب کو سن کر صرف یہ نہیں پوچھتے کہ ’’خواب کتنا خوبصورت تھا؟‘‘ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا ماخذ ہے، کیا قرینہ ہے، کوئی خارجی اثر ہے یا نہیں، کوئی گواہ ہے یا نہیں، اور بیان کردہ بات قرآن و سنت کے معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔

یہ حیل و حجت نہیں۔

یہ ادبِ نسبت ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی طرف منسوب ہر بات فوراً قبول کرلی جائے؛ محبت کا بلند تر تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے نام سے کوئی ایسی بات آگے نہ بڑھے جو ثابت نہ ہو۔

خواب اپنی جگہ ایک راز ہے، روحانی تجربہ ہے، کبھی بشارت ہے اور کبھی انسان کے باطن کی ایک پراسرار کیفیت۔ لیکن نسبتِ رسول ﷺ ایک مقدس امانت ہے۔

اور امانت کا سب سے پہلا حق یہی ہے کہ اسے محبت سے قبول کرنے سے پہلے تحقیق سے محفوظ کیا جائے۔

جمعہ، 17 جولائی، 2026

تین چہرے ایک کہانی

 

تین چہرے، ایک کہانی

سیاست بھی کبھی کبھی فلم کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں کردار بدلتے رہتے ہیں، مناظر تبدیل ہوتے ہیں، لیکن کہانی کے کچھ بنیادی عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں: عوام کی امیدیں، تبدیلی کے خواب، طاقت کی کشمکش اور ایک ایسا مرکزی کردار جو پورے منظرنامے پر چھا جائے۔ اکیسویں صدی کی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ، عمران خان اور نریندر مودی ایسی ہی تین شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں سیاست کے روایتی انداز کو بدلنے کی کوشش کی۔

یہ تینوں رہنما مختلف ملکوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف سیاسی روایات سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی سیاسی کہانی میں کچھ مشترک پہلو ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب نے اپنی سیاست کو ایک مضبوط شخصی شناخت کے ساتھ آگے بڑھایا اور اپنے حامیوں کے لیے محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک امید، ایک علامت اور ایک تحریک کی شکل اختیار کی۔

ٹرمپ کی سیاست کا مرکزی کردار خود ٹرمپ کی شخصیت رہی۔ انہوں نے امریکی سیاست میں ایک ایسا انداز متعارف کرایا جس میں روایتی سیاسی زبان کے بجائے براہِ راست گفتگو، سخت مؤقف اور جذباتی اپیل نمایاں تھی۔ انہوں نے واشنگٹن کے پرانے سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا بیانیہ اختیار کیا اور خود کو عام امریکی شہری کی آواز کے طور پر پیش کیا۔

عمران خان کی سیاسی کہانی بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد اقتدار تک پہنچنے کی داستان ہے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوانوں تک ان کا سفر غیر معمولی رہا۔ انہوں نے اپنی سیاست کو تبدیلی، احتساب اور خود مختاری کے نعروں سے جوڑا۔ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ پرانے سیاسی نظام کے مقابل ایک نئی امید تھے، جبکہ ناقدین ان کے سیاسی انداز کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

نریندر مودی نے بھی بھارتی سیاست میں ایک مضبوط شخصی قیادت کا تصور پیش کیا۔ ایک عام پس منظر سے سیاسی سفر شروع کر کے وہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ ان کی سیاست میں ترقی، قومی شناخت اور مضبوط قیادت کے تصورات نمایاں رہے۔ انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ اور عوامی رابطے کے نئے طریقوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

ان تینوں رہنماؤں کی ایک بڑی مشترک خصوصیت عوام سے براہِ راست تعلق قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے روایتی سیاسی ذرائع کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، بڑے جلسوں اور عوامی خطابات کو اپنی سیاسی طاقت بنایا۔ آج کی دنیا میں جہاں ایک پیغام چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، ان رہنماؤں نے اس تبدیلی کو سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔

ان کی سیاست میں ایک اور مماثلت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو روایتی سیاسی طبقے سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے امریکی سیاسی اشرافیہ پر تنقید کی، عمران خان نے پاکستان کے روایتی سیاسی خاندانوں کو چیلنج کیا، جبکہ مودی نے بھارت میں ایک نئے سیاسی تصور اور مضبوط قیادت کا بیانیہ پیش کیا۔

لیکن ہر بڑی کہانی کی طرح اس کہانی میں بھی اختلافات اور تنقید کے پہلو موجود ہیں۔ مخالفین کے مطابق شخصی سیاست کبھی کبھی اداروں اور اجتماعی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ حامیوں کے نزدیک مضبوط شخصیت ہی بڑے فیصلے کرنے اور تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ٹرمپ، عمران خان اور مودی کی سیاست کا موازنہ دراصل تین افراد کا نہیں بلکہ جدید سیاسی دور کا مطالعہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں نظریات کے ساتھ شخصیت بھی سیاست کا طاقتور ذریعہ بن چکی ہے، جہاں جلسوں کے ساتھ سوشل میڈیا بھی میدانِ سیاست ہے، اور جہاں ایک رہنما کی آواز لاکھوں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بن سکتی ہے۔

 تاریخ ان تینوں رہنماؤں کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ وہ کتنے مقبول تھے، بلکہ اس بنیاد پر بھی کرے گی کہ انہوں نے اپنے ممالک، اداروں اور معاشروں پر کیا اثرات چھوڑے۔ کیونکہ سیاست کے اس بڑے پردے پر کردار آتے جاتے رہتے ہیں، مگر کہانی کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔

اتوار، 12 جولائی، 2026

جنگ سے بڑا زخم: تقسیم شدہ معاشرہ


ایران پر امریکی جارحیت 

جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات معاشروں کے اندر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ میزائل عمارتوں کو گرا سکتے ہیں، بم انفراسٹرکچر کو تباہ کر سکتے ہیں، لیکن نفرت، عدم اعتماد اور معاشرتی تقسیم وہ زخم ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں ہمیشہ بیرونی حملوں سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ اکثر ان کا زوال اندرونی انتشار سے شروع ہوتا ہے۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ دنیا کی توجہ عسکری کارروائیوں، فضائی حملوں اور دفاعی نظاموں پر مرکوز رہی، لیکن اس جنگ کا ایک اہم پہلو ایرانی معاشرے کا ردعمل تھا۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ مختلف طبقات حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، احتجاجی تحریکیں بھی سامنے آئیں، لیکن جب بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو معاشرے کے ایک بڑے حصے نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور ریاستی بقا کو ترجیح دی۔

سیاسیات میں اس رجحان کو Rally Around the Flag Effect کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی قوم کو بیرونی خطرہ درپیش ہو تو لوگ نظریاتی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کے گرد متحد ہو جاتے ہیں۔ تاریخ میں برطانیہ، ویت نام اور سوویت یونین سمیت کئی ممالک میں یہ کیفیت دیکھی جا چکی ہے۔ ایران کی حالیہ صورتحال بھی اسی اصول کی عکاس ہے۔

اس موقع پر ابنِ خلدون کی فکر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف مقدمہ میں "عصبیت" یا اجتماعی یکجہتی کو ریاستوں کی اصل طاقت قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق جب کسی معاشرے میں مشترکہ شناخت، باہمی اعتماد اور اجتماعی مقصد کا شعور موجود ہو تو وہ بڑے سے بڑے بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ لیکن جب گروہی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو ریاست اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔ ایران کا حالیہ تجربہ اسی نظریے کی ایک عملی مثال دکھائی دیتا ہے۔

اسی حقیقت کو علامہ محمد اقبال نے نہایت سادگی اور گہرائی کے ساتھ بیان کیا تھا:

"فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں"

اقبال کے نزدیک فرد کی اصل قوت اس کے اجتماعی وجود سے وابستہ ہے۔ جب افراد اپنی ذاتی وابستگیوں سے بلند ہو کر ایک بڑے قومی مقصد کا حصہ بن جاتے ہیں تو معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور قومی مزاحمت کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

تاہم جنگ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جس طرح بعض اوقات بیرونی خطرات قوموں کو متحد کرتے ہیں، اسی طرح وہ معاشروں میں نفرت اور جذباتیت کو بھی ہوا دے سکتے ہیں۔ جب عالمی تنازعات مقامی سطح پر جذباتی نعروں میں تبدیل ہو جائیں تو عقل، برداشت اور مکالمے کی جگہ اشتعال اور انتقام لینے لگتے ہیں۔

جرمن سیاسی مفکرہ ہنّا آرنٹ نے اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:

"نفرت کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔"

ان کے نزدیک معاشروں کا اصل بحران اس وقت شروع ہوتا ہے جب لوگ حقائق کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں۔ جب تنقیدی سوچ ختم ہو جائے تو اختلافِ رائے دشمنی میں بدل جاتا ہے اور انسان مخالف نقطۂ نظر رکھنے والے کو محض ایک دشمن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔

ہنّا آرنٹ کے اس خیال کی عملی توسیع والٹیر کے اس مشہور قول میں ملتی ہے:

"میں تمہاری رائے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن تمہیں وہ رائے رکھنے کے حق کا دفاع آخری دم تک کروں گا۔"

یہی وہ اصول ہے جس پر مہذب معاشرے استوار ہوتے ہیں۔ اختلاف کو برداشت کرنا طاقت کی علامت ہے، جبکہ اختلاف کو نفرت میں بدل دینا معاشرتی کمزوری کی نشانی ہے۔

بدقسمتی سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اسی کمزوری کی جھلک دکھائی۔ کراچی میں امریکی سفارتی تنصیبات کے گرد ہونے والے پرتشدد واقعات اور ان میں انسانی جانوں کا ضیاع اس بات کی یاد دہانی تھا کہ جب بین الاقوامی سیاست مذہبی جذبات کے ساتھ خلط ملط ہو جائے تو احتجاج اور تشدد کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح شمالی علاقوں اور سکردو میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ ہزاروں میل دور ہونے والی جنگ کا ردعمل اپنے ہی معاشرے کے افراد کے خلاف کیوں ظاہر ہوتا ہے؟

یہ کوئی نئی صورتحال نہیں۔ 1947ء کی تقسیمِ ہند بھی اسی نفسیات کی ایک المناک مثال تھی۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے لوگ اچانک ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ مذہبی اور سیاسی جذبات نے عقل اور انسانیت کو پسِ پشت دھکیل دیا، اور نفرت نے ایسے زخم چھوڑے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس پوری صورتحال میں ایک واضح سبق پوشیدہ ہے۔ ہماری اصل طاقت صرف عسکری صلاحیت نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، مسالک اور سیاسی نظریات کا مجموعہ ہے۔ اگر یہ تنوع باہمی احترام اور قومی شعور کے ساتھ جڑا رہے تو یہی ہماری قوت بن جاتا ہے، لیکن اگر یہی اختلافات نفرت اور تقسیم میں بدل جائیں تو وہ کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔

قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ دلوں اور ذہنوں کے درمیان موجود اعتماد کو برقرار رکھنے کا نام بھی ہے۔ دنیا کی طاقتیں ہمیشہ ان معاشروں کو آسان ہدف سمجھتی ہیں جو اندرونی طور پر منقسم ہوں۔ اس لیے ہر قوم کی پہلی ذمہ داری اپنی داخلی یکجہتی کو محفوظ رکھنا ہے۔

ایران کی حالیہ جنگ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہتھیار ضروری ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم قومی یکجہتی ہے۔ میزائل دشمن کے حملوں کو روک سکتے ہیں، مگر نفرت، تعصب اور داخلی انتشار کا مقابلہ صرف شعور، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری سے کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: سرحدوں پر ہونے والی جنگیں ایک دن ختم ہو جاتی ہیں، لیکن معاشرتی تقسیم کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑی فتح صرف میدانِ جنگ میں کامیابی نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کو نفرت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ جنگ سے بڑا زخم دشمن کا حملہ نہیں، اپنے ہی معاشرے کا بکھر جانا ہے۔


منگل، 5 مئی، 2026

موبائل فون کا شعوری استعمال

 



موبائل فون کا شعوری استعمال
آج کا انسان بظاہر آزاد ہے، مگر حقیقت میں اس کی توجہ، وقت اور عادات ایک چھوٹی سی اسکرین کے تابع ہو چکی ہیں۔ موبائل فون، جو کبھی سہولت کے طور پر آیا تھا، اب ہماری زندگی کے ہر گوشے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ اس کے بغیر لمحہ بھر رہنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ موبائل فون ضروری ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے مالک ہیں یا یہ ہمارا مالک بن چکا ہے؟
روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ کھانے کی میز ہو یا دوستوں کی محفل، ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے—وہ دنیا جو اس کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ اس کے اردگرد۔ بظاہر ہم جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تضاد جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس نے رابطہ تو آسان کیا، مگر تعلق کو کمزور کر دیا۔
مسئلہ صرف وقت کے ضیاع کا نہیں، بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کا بھی ہے۔ مسلسل اسکرین کے سامنے رہنا توجہ کو منتشر کرتا ہے، نیند کے نظام کو بگاڑتا ہے اور انسان کو ایک بے نام سی تھکن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ رات گئے تک موبائل استعمال کرنا اب ایک عادت بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ اگلے دن کی کارکردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو آن لائن دنیا کا ہے، جہاں ہر خبر سچ نہیں ہوتی اور ہر معلومات معتبر نہیں ہوتی۔ بغیر تحقیق کے مواد کو قبول کرنا اور آگے پھیلانا ایک فکری بحران کو جنم دیتا ہے۔ اس صورتحال میں موبائل فون محض ایک آلہ نہیں رہتا بلکہ سوچ کو تشکیل دینے والا ذریعہ بن جاتا ہے—اور اگر اس کا استعمال غیر محتاط ہو تو یہی ذریعہ گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی روشن ہے۔ یہی موبائل فون علم کا خزانہ بھی ہے، سیکھنے کا ذریعہ بھی اور ترقی کا راستہ بھی۔ اگر اسے شعوری طور پر استعمال کیا جائے تو ایک عام انسان بھی عالمی سطح کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے اور اپنے وقت کو مفید بنا سکتا ہے۔ فرق صرف نیت اور استعمال کے انداز کا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم موبائل فون کے استعمال کے لیے حدود مقرر کریں۔ ہر لمحہ فون چیک کرنے کے بجائے مخصوص اوقات طے کیے جائیں، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کیے جائیں اور کچھ مقامات کو مکمل طور پر “نو فون زون” قرار دیا جائے خاص طور پر دسترخوان۔ اسی طرح بچوں کے لیے اس کے استعمال پر خاص توجہ دی جائے، کیونکہ ان کی عادات وہیں سے تشکیل پاتی ہیں جہاں ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
 موبائل فون  کی افادیت یا نقصان کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم اس کے استعمال پر کنٹرول حاصل کر لیں تو یہ ہماری زندگی کو آسان اور بامقصد بنا سکتا ہے، اور اگر ہم اس کے تابع ہو جائیں تو یہی سہولت ایک خاموش قید میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
 فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم اس چھوٹی سی اسکرین کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے دیں گے، یا اسے ایک مفید آلے کے طور پر اپنے قابو میں رکھیں گے؟ 

اتوار، 26 اپریل، 2026

غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ


 غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ

کہتے ہیں انسان کا غصہ زیادہ سے زیادہ تین منٹ کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یا تو وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، یا اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ غصے میں تھا بھی یا نہیں۔ مگر جدید دور نے اس سادہ اصول کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے—اب غصہ صرف دل میں نہیں رہتا، بلکہ سیدھا موبائل کی اسکرین پر آ جاتا ہے، اور پھر وہاں سے پوری دنیا کا چکر لگا آتا ہے۔
پہلے زمانے میں غصہ آیا تو آدمی دروازہ پٹخ دیتا تھا، یا زیادہ ہوا تو برتن۔ اب غصہ آئے تو لوگ “پوسٹ” کر دیتے ہیں۔ اور وہ پوسٹ ایسی ہوتی ہے کہ تین منٹ کا غصہ تیس سال کی شرمندگی میں بدل سکتا ہے۔
ایک دلچسپ بات ایک صحافی نے کہی کہ دنیا کی بڑی فوجی طاقت کے صدر کے ٹویٹ کی عمر اوسطاً 43 سیکنڈ ہوتی ہے۔ یعنی ایک طرف ایٹمی طاقت، عالمی معیشت، سفارتی تعلقات—اور دوسری طرف 43 سیکنڈ کا جذباتی اظہار۔ انسان کا تین منٹ کا غصہ تو پھر بھی نسبتاً پائیدار معلوم ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس جدید دور کے طاقتور ترین افراد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون نہ ہوں تو کیا ہو؟ ذرا تصور کریں کہ کسی دن اچانک ان سے اسمارٹ فون لے کر ایک پرانا سا نوکیا 3310 ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔
اب وہ غصے میں ہیں۔ ٹویٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر پہلے میسج لکھنے کے لیے “abc” کو “2” سے، “def” کو “3” سے تلاش کرنا پڑے گا۔ ایک لفظ لکھنے میں ہی آدھا غصہ ختم ہو جائے گا۔ جملہ مکمل ہونے تک تین منٹ گزر چکے ہوں گے—اور اصول کے مطابق غصہ بھی۔
یوں دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے، صرف اس وجہ سے کہ “Send” بٹن تک پہنچنے میں دیر ہو گئی۔
اصل مسئلہ شاید غصہ نہیں، رفتار ہے۔ پہلے غصہ آتا تھا، گزرتا تھا، اور ختم ہو جاتا تھا۔ اب غصہ آتا ہے، فوراً نشر ہو جاتا ہے، اور پھر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ تین منٹ کی عارضی کیفیت، ڈیجیٹل دنیا میں مستقل ریکارڈ بن جاتی ہے۔
ہم سب اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے “ٹرمپ” ہیں—ہمارے ہاتھ میں بھی موبائل ہے، ہمیں بھی غصہ آتا ہے، اور ہم بھی اکثر 43 سیکنڈ کے اندر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کیا کہنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری بات عالمی خبر نہیں بنتی، مگر ہمارے تعلقات ضرور متاثر ہو جاتے ہیں۔
شاید حل بہت مشکل نہیں۔ اگلی بار غصہ آئے تو موبائل کو ایک طرف رکھ دیں۔ تین منٹ انتظار کریں۔ اگر اس کے بعد بھی بات ضروری لگے، تو کہہ دیں۔ ورنہ سمجھ لیں کہ آپ نے دنیا کو ایک چھوٹے سے بحران سے بچا لیا ہے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو—تو کم از کم ایک نوکیا 3310 ہی خرید لیں۔ دنیا کا نہیں تو آپ کا اپنا سکون ضرور واپس آ جائے گا۔

بدھ، 22 اپریل، 2026

اسلام آباد مذاکرات





اسلام آباد مذاکرات

اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور جس انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، وہ محض ایک روایتی سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ ان مذاکرات میں بار بار آنے والے اتار چڑھاؤ کسی فطری سفارتی رفتار کے بجائے ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں وقت، رفتار اور بیانیہ سب کچھ مخصوص سیاسی اہداف کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ پورا منظرنامہ بعض اوقات غیر حقیقی اور حد سے زیادہ اسٹیجڈ سا محسوس ہوتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی خاصی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے کو شعوری طور پر اس حد تک کھینچ رہے ہیں کہ اسے ایک بڑے عالمی سیاسی ایونٹ کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے، خصوصاً صدر شی جن پنگ کے ساتھ متوقع سربراہی ملاقات کے تناظر میں۔ 14 اور 15 مئی کی اس ملاقات سے قبل اگر کوئی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے نہ صرف ایک معاہدہ بلکہ ایک بڑی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جو عالمی سطح پر ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کرے گی۔

بین الاقوامی سیاست میں اس نوعیت کی تاخیر اور وقت بندی اکثر محض اتفاق نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے تاثر سازی کی واضح حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی کوشش بظاہر یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کریں جو نہ صرف بحرانوں کو سنبھال سکتا ہے بلکہ جنگ اور امن جیسے بڑے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی دوران اس پورے عمل کے ضمنی پہلو بھی اہم ہیں۔ اس دوران ایران کے ممکنہ بحری محاصرے جیسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف خطے میں دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ امریکہ کے اندر موجود جنگ کے حامی طبقے کو بھی کسی حد تک مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک ہی حکمت عملی بیک وقت داخلی سیاسی دباؤ، خارجی سفارتی اہداف اور علاقائی طاقت کے توازن کو مینیج کرنے کا ذریعہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ یہ مذاکرات بظاہر ایران کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں، لیکن ان کی اصل نوعیت کہیں زیادہ وسیع اور جیوپولیٹیکل ہے۔ یہ محض ایک دوطرفہ یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی اسٹریٹجک کھیل کا حصہ ہیں، جہاں ہر قدم کے اثرات متعدد سمتوں میں پھیلتے ہیں—چاہے وہ چین کے ساتھ طاقت کا توازن ہو، مشرق وسطیٰ کی صورتحال ہو یا امریکہ کی داخلی سیاست۔

اسلام آباد مذاکرات کو صرف ایک سفارتی عمل سمجھنا کافی نہیں۔ یہ ایک ایسے عالمی سیاسی منظرنامے کا حصہ ہیں جہاں حقیقت، حکمت عملی اور تاثر ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ انہیں الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے



کیوبا کا میزائل کرائسس 1962 زیادہ پرانی بات نہیں ہے
 ، جب دو بڑی طاقتیں انا کی کشمکش میں دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے تک لے گئیں۔ اس بحران کا حل اس وقت ممکن ہوا جب پسِ پردہ لچک دکھائی گئی، خفیہ سمجھوتے ہوئے، اور بظاہر برتری کا تاثر بھی برقرار رکھا گیا۔ گویا مسئلہ حل بھی ہوا اور انا بھی 
مجروح نہ ہونے دی گئی—یہی سفارتکاری کی اصل مہارت تھی۔
مگر سفیر تو اس بار بھی ماہر ہیں تو رکاوٹ کیا ہے؟
امریکہ اور ایران دونوں کا بیانیہ سخت، لہجہ دوٹوک اور مؤقف بظاہر غیر لچکدار ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دونوں کشیدگی کے خاتمے اور کسی نہ کسی مفاہمت کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ نیت کا نہیں، اس کے اظہار کا ہے۔ "ہاں" موجود ہے، مگر اسے "نہ" کے پردے میں چھپایا جا رہا ہے—
Fyodor Dostoevsky(1821-1881)
 نے لکھا تھا کہ انسان بسا اوقات اپنی آزادی اور خودداری کے اظہار میں ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جو اس کے اپنے ہی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔ آج امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی تلاش اسی انا پرستی کی عملی تصویر ہے—جہاں حقیقی مفاد پس منظر میں چلا گیا ہے اور وقار کا تاثر پیش منظر سنبھال چکاہے۔
عالمی مباحث میں کہا گیا کہ ایران کا امریکہ جیسی طاقت کے سامنے ڈٹ جانا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔ دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنا اور خطے میں طاقت کے توازن کو چیلنج کرنا—تجزیہ کار "نفسیاتی فتح" قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے: جب ایک حد تک مقصد حاصل ہو چکا تو مزید کس جیت کی تلاش ہے؟
دوسری طرف امریکہ بھی کسی واضح پسپائی کے تاثر سے بچنا چاہتا ہے۔ بڑی طاقتیں صرف فیصلے نہیں کرتیں، وہ بیانیہ بھی تشکیل دیتی ہیں—اور اس بیانیے میں کمزوری کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اسی لیے جنگ بندی کی خواہش کے باوجود اسے کھل کر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ثالثی کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے، مگر عملی پیش رفت انا کی دیوار سے ٹکرا کر رک جاتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر 
Thomas Schelling(1921-2016)
 اس کیفیت کو  کے "چکن گیم" سے تعبیر کرتے ہیں۔ 
ہمارے وہ دوست جو مرغوں کی لڑائی کے شوقین ہیں،  بیان کرتے ہیں: "اصل مرغا وہی ہوتا ہے جو مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے۔" 

جمعہ، 17 اپریل، 2026

ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت



 ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت

معاشرہ صرف قوانین، اداروں اور عمارتوں کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ رویّوں، ترجیحات اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہی اقدار کسی قوم کے اصل چہرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مگر جب یہی اقدار دولت اور غربت کے ترازو میں تولی جانے لگیں تو انصاف، عزت اور انسانیت سب کچھ مشکوک ہو جاتا ہے۔

"مایا تیرے تین نام، پرسو، پرسا، پرس رام
اور غربت تیرے تین نام، لچا، لانڈا، بئی مان"

یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ یہی وہ سچ ہے جسے ہم ماننے سے کتراتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں دولت صرف سہولت نہیں، شناخت بن چکی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اس کے نام کے ساتھ احترام خود بخود جڑ جاتا ہے۔ وہی شخص اگر کل تک عام تھا تو آج "صاحب"، "جناب" اور "محترم" بن جاتا ہے۔ اس کی بات میں وزن آ جاتا ہے، اس کی خاموشی بھی معنی خیز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی غلطیاں بھی حکمت کے پردے میں چھپ جاتی ہیں۔

اس کے برعکس غربت صرف محرومی نہیں بلکہ ایک الزام بن جاتی ہے۔ غریب کا نام اس کی پہچان نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے طعنہ بن جاتا ہے۔ اس کی عزت اس کی جیب کے ساتھ سکڑ جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اس کی خودداری کو تکبر سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ تضاد صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ ہمارے رویّوں، فیصلوں اور ترجیحات میں بھی نمایاں ہے۔ ہم انصاف کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر انصاف دیتے وقت حیثیت کو دیکھتے ہیں۔ ہم مساوات کی بات تو کرتے ہیں مگر تعلقات بناتے وقت معیار بدل جاتے ہیں۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے کردار، علم یا اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے جوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے جہاں عزت خریدی جا سکتی ہے اور تذلیل مفت میں بانٹی جاتی ہے۔

یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب معاشرہ دولت کو معیارِ عزت بنا لیتا ہے تو پھر دیانت، محنت اور سچائی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ لوگ اصولوں کی بجائے مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور یہ سوال کریں کہ ہم لوگوں کو کس بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ کیا واقعی عزت کا تعلق دولت سے ہے؟ یا پھر ہم نے سہولت کے لیے ایک غلط معیار اختیار کر لیا ہے؟

ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جائے، نہ کہ اس کی جیب سے۔ جہاں عزت کمائی جائے، خریدی نہ جائے۔ اور جہاں غربت جرم نہ ہو بلکہ ایک حالت سمجھی جائے جس کا حل تلاش کرنا اجتماعی ذمہ داری ہو۔

جب تک ہم اپنے رویّوں میں یہ تبدیلی نہیں لاتے، تب تک یہ کہاوت صرف الفاظ نہیں رہے گی بلکہ ہمارے معاشرے کی زندہ حقیقت بنی رہے گی—ایک ایسی حقیقت جو ہمیں آئینہ دکھاتی رہے گی، چاہے ہم آنکھیں بند ہی کیوں نہ کر لیں۔

جمعرات، 16 اپریل، 2026

امن کی آشا



امن کی آشا

 آج کے نازک عالمی حالات میں اگر اسلام آباد میں ایران، امریکہ  کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نہ امریکہ جیتا ہے، نہ اسرائیل—اگر کوئی جیتا ہے تو وہ امن ہے، اور اگر کوئی کامیاب ہوئی ہے تو وہ انسانیت ہے۔ شکست اگر کسی کو ہوئی ہے تو وہ جنونیت، جنگی بخار اور تباہی کو ہوئی ہے۔

جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طویل جنگ اپنے پیچھے لاشیں، بربادی، معاشی زوال اور نفسیاتی صدمات چھوڑ جاتی ہے، اور آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر  (ویتنام جنگ) ایک طویل اور تباہ کن جنگ تھی، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، مگر بالآخر(پیرس امن معاہدہ) کے ذریعے ہی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اسی طرح  (سوویت-افغان جنگ) میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خونریزی کا خاتمہ بھی   (جنیوا معاہدہ برائے افغانستان) جیسے مذاکراتی عمل سے ہوا۔

یہی حقیقت  (شمالی آئرلینڈ کا تنازع) میں بھی نظر آتی ہے، جہاں دہائیوں کی بدامنی کے بعد  (جمعہ عظیم امن معاہدہ) نے امن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح  (کولمبیا کا مسلح تنازع) کا خاتمہ بھی بندوق سے نہیں بلکہ  (کولمبیا-فارق امن معاہدہ) کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ جنگ جتنی بھی طویل اور شدید کیوں نہ ہو، اس کا اختتام بالآخر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی بصیرت پر ہی ہوتا ہے۔

اس تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات ایک ایسے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں عقل، تدبر اور مکالمہ طاقت، غرور اور تصادم پر غالب آ سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام اپنے اختلافات کو بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔

امن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ معاشروں کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جنگ جہاں نفرت کو جنم دیتی ہے، وہیں امن برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہب کی جنگ نہیں ہوتی؛ دنیا کا ہر مذہب بنیادی طور پر انسان کے احترام، جان کے تحفظ اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔

ایران کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چاہے نظامِ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہوئی ہو یا نہیں، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سخت گیر طرزِ حکمرانی کی جگہ ایک نسبتاً سیاسی طور پر بالغ اور حقیقت پسندانہ رویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت، خصوصاً اخلاقی اور عسکری سطح پر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل امریکی مدد اور سہارے کے بغیر اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

جہاں تک جیت اور ہار کا تعلق ہے تو جنگوں میں اصل شکست عام انسان کی ہوتی ہے—وہی انسان جو اپنے گھر، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیت اگر کسی کی ہوتی ہے تو وہ وقتی طاقت، سفاکیت اور بربریت کی ہوتی ہے، جو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔


منگل، 14 اپریل، 2026

امن کی جیت


امن کی جیت

آج کے نازک عالمی حالات میں اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات محض سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے امید کی روشن کرن ہیں۔ نہ امریکہ جیتا، نہ ایران—اصل فتح امن کی ہے، اور سرخرو انسانیت ہوئی ہے۔ شکست جنون، جنگی بخار اور تباہی کی ہے۔

آٹھ اپریل 2026 ایک یادگار دن کے طور پر ابھرا، جب انسانیت کے دل میں امن کے غالب آنے کی امید نے جنم لیا۔ عقل، تحمل اور مکالمے نے طاقت کے غرور کو پیچھے چھوڑ دیا، اور دنیا نے دیکھا کہ تباہی کے دہانے پر کھڑا انسان بھی دانش مندی سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگ مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ویتنام جنگ، سوویت-افغان جنگ، شمالی آئرلینڈ کا تنازع اور کولمبیا کا مسلح تصادم سب مذاکرات اور امن معاہدوں کے ذریعے ختم ہوئے۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ دیرپا امن کا راستہ طاقت نہیں بلکہ مکالمہ، مفاہمت اور سیاسی بصیرت ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پھر واضح کیا کہ جدید جنگیں صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز پر بڑھتا ہوا تناؤ اور امریکی سخت مؤقف نے عالمی خوف اور غیر یقینی میں اضافہ کیا، مگر آخری لمحات میں جنگ بندی نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچایا۔

اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اسی دانش کا مظہر ہیں، جہاں اختلافات کو ہتھیاروں کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امن نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ معاشرتی استحکام اور ترقی کی بنیاد بھی ہے۔

ایران میں سخت گیر طرزِ حکمرانی میں کمی اور اسرائیلی قیادت کے اخلاقی و عسکری تنقید کا سامنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جارحانہ پالیسی کے لیے امریکی حمایت لازمی ہے۔ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی، معاشی اور سفارتی محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں، اور سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔

جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں—جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور سماجی بگاڑ۔ امن کے برعکس ترقی، استحکام اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ بڑی طاقتیں اکثر حد سے تجاوز کر جاتی ہیں، مگر آخرکار سمجھ آتا ہے کہ امن کے ذریعے سب کچھ محفوظ رہتا ہے۔

یہ سارا منظرنامہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانیت کی بقا طاقت کے بے لگام استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ کنٹرول میں ہے۔ ہتھیاروں کی چمک وقتی ہو سکتی ہے، مگر ایک اٹل سچ یہی ہے کہ دنیا میں سب سے خوبصورت شے امن ہے۔

Peace is far more beautiful than even the most beautiful armada.


شکم کی قید




 شکم کی قید
جنوبی امریکہ کے گھنے اور پُراسرار جنگلات، یعنی  ایمیزون رین فاریسٹ میں بسنے والے قبائل کی زندگی ہمیشہ فطرت کے سخت اصولوں کے تابع رہی تھی۔ مسلسل بارشیں برستی تھیں، زمین دلدل بن چکی ہوتی تھی اور گھنے درخت سورج کی روشنی تک کو زمین تک پہنچنے نہیں دیتے تھے۔ ان حالات میں کھیتی باڑی تقریباً ناممکن ہو چکی تھی۔ شکار بھی کبھی نصیب ہوتا تھا اور کبھی دن خالی ہاتھ گزر جاتے تھے، جبکہ جانور پالنا اس ماحول میں ایک مشکل ترین کام تھا۔
ان کے پاس ایک ہی بڑا سہارا ہوا کرتا تھا دریائے ایمیزون، جس کی مچھلیاں ان کی خوراک کا بنیادی ذریعہ تھیں۔ مگر یہاں بھی ایک مسئلہ درپیش تھا کہ ان کے پاس جدید جال یا شکار کے مؤثر ذرائع موجود نہیں تھے۔
ان مشکل حالات میں انہوں نے علم کی طرف رجوع کیا تھا۔ انہوں نے جنگل کے کچھ ایسے پودے دریافت کیے تھے جن کی جڑوں میں قدرتی زہریلا مادہ پایا جاتا تھا۔ جب یہ جڑیں پانی میں ڈالی جاتی تھیں تو مچھلیاں وقتی طور پر بے ہوش ہو کر سطحِ آب پر آ جاتی تھیں۔ یوں وہ آسانی سے اپنی ضرورت کے مطابق مچھلیاں پکڑ لیتے تھے، جبکہ باقی مچھلیاں کچھ دیر بعد ہوش میں آ کر واپس پانی میں چلی جاتی تھیں۔
یہ ایک غیر معمولی مثال تھی—علم کے ذریعے مسئلے کے حل کی۔
مگر المیہ یہ تھا کہ یہاں پہنچ کر ان کا سفر رک گیا تھا۔ جب ان کی بنیادی ضرورت پوری ہو گئی تو انہوں نے مزید علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے یا ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ان کا علم وہیں رک گیا تھا جہاں ان کا شکم بھر جاتا تھا۔
آج  یہ کہانی صرف ایک جنگل تک محدود نہیں رہتی—بلکہ ہمارے حال کا آئینہ بن جاتی ہے۔
آج ہمارا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ہم بھی علم حاصل کرتے ہیں، مگر اس کا مقصد زیادہ تر صرف روزی کمانا، شکم پالنا اور ذاتی ضروریات پوری کرنا رہ گیا ہے۔ ہم نے علم کو ایک بلند مقصد، ایک فکری قوت اور ایک تہذیبی سرمایہ بنانے کے بجائے اسے صرف ذریعۂ معاش بنا دیا ہے۔
دنیا میں وہ اقوام آگے بڑھ رہی ہیں جو علم کو طاقت سمجھتی ہیں—جو تحقیق کرتی ہیں، نئی راہیں تلاش کرتی ہیں اور کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جبکہ ہم اپنی محدود سوچ کے ساتھ صرف اپنی ضروریات کے گرد گھوم رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ عالمی منظرنامے میں ہماری حیثیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ہم خود فیصلے کرنے کے بجائے دوسروں کے فیصلوں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ ہماری مثال بھی کہیں نہ کہیں انہی مچھلیوں جیسی بنتی جا رہی ہے، جنہیں بڑی طاقتیں اپنی ضرورت کے مطابق چن لیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا تضاد ہے۔ ہم زبانی طور پر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اپنی تاریخ پر فخر کرتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم دنیاوی مفادات اور ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا علم، ہماری سوچ اور ہماری ترجیحات—سب کچھ “شکم” کے گرد محدود ہو چکی ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں خود سے ایک سنجیدہ سوال کرنا ہوگا:
کیا علم صرف زندہ رہنے کے لیے ہے؟ یا پھر ایک باوقار، خودمختار اور ترقی یافتہ قوم بننے کے لیے؟
جب تک ہم علم کو شکم کی قید سے نکال کر شعور، تحقیق اور قیادت کا ذریعہ نہیں بنائیں گے، تب تک ہم بھی اسی دائرے میں 
قید رہیں گے—جہاں بقا تو ہے، مگر ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔
منقول