منگل، 14 اپریل، 2026

شکم کی قید




 شکم کی قید
جنوبی امریکہ کے گھنے اور پُراسرار جنگلات، یعنی  ایمیزون رین فاریسٹ میں بسنے والے قبائل کی زندگی ہمیشہ فطرت کے سخت اصولوں کے تابع رہی تھی۔ مسلسل بارشیں برستی تھیں، زمین دلدل بن چکی ہوتی تھی اور گھنے درخت سورج کی روشنی تک کو زمین تک پہنچنے نہیں دیتے تھے۔ ان حالات میں کھیتی باڑی تقریباً ناممکن ہو چکی تھی۔ شکار بھی کبھی نصیب ہوتا تھا اور کبھی دن خالی ہاتھ گزر جاتے تھے، جبکہ جانور پالنا اس ماحول میں ایک مشکل ترین کام تھا۔
ان کے پاس ایک ہی بڑا سہارا ہوا کرتا تھا دریائے ایمیزون، جس کی مچھلیاں ان کی خوراک کا بنیادی ذریعہ تھیں۔ مگر یہاں بھی ایک مسئلہ درپیش تھا کہ ان کے پاس جدید جال یا شکار کے مؤثر ذرائع موجود نہیں تھے۔
ان مشکل حالات میں انہوں نے علم کی طرف رجوع کیا تھا۔ انہوں نے جنگل کے کچھ ایسے پودے دریافت کیے تھے جن کی جڑوں میں قدرتی زہریلا مادہ پایا جاتا تھا۔ جب یہ جڑیں پانی میں ڈالی جاتی تھیں تو مچھلیاں وقتی طور پر بے ہوش ہو کر سطحِ آب پر آ جاتی تھیں۔ یوں وہ آسانی سے اپنی ضرورت کے مطابق مچھلیاں پکڑ لیتے تھے، جبکہ باقی مچھلیاں کچھ دیر بعد ہوش میں آ کر واپس پانی میں چلی جاتی تھیں۔
یہ ایک غیر معمولی مثال تھی—علم کے ذریعے مسئلے کے حل کی۔
مگر المیہ یہ تھا کہ یہاں پہنچ کر ان کا سفر رک گیا تھا۔ جب ان کی بنیادی ضرورت پوری ہو گئی تو انہوں نے مزید علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے یا ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ان کا علم وہیں رک گیا تھا جہاں ان کا شکم بھر جاتا تھا۔
آج  یہ کہانی صرف ایک جنگل تک محدود نہیں رہتی—بلکہ ہمارے حال کا آئینہ بن جاتی ہے۔
آج ہمارا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ہم بھی علم حاصل کرتے ہیں، مگر اس کا مقصد زیادہ تر صرف روزی کمانا، شکم پالنا اور ذاتی ضروریات پوری کرنا رہ گیا ہے۔ ہم نے علم کو ایک بلند مقصد، ایک فکری قوت اور ایک تہذیبی سرمایہ بنانے کے بجائے اسے صرف ذریعۂ معاش بنا دیا ہے۔
دنیا میں وہ اقوام آگے بڑھ رہی ہیں جو علم کو طاقت سمجھتی ہیں—جو تحقیق کرتی ہیں، نئی راہیں تلاش کرتی ہیں اور کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جبکہ ہم اپنی محدود سوچ کے ساتھ صرف اپنی ضروریات کے گرد گھوم رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ عالمی منظرنامے میں ہماری حیثیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ہم خود فیصلے کرنے کے بجائے دوسروں کے فیصلوں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ ہماری مثال بھی کہیں نہ کہیں انہی مچھلیوں جیسی بنتی جا رہی ہے، جنہیں بڑی طاقتیں اپنی ضرورت کے مطابق چن لیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا تضاد ہے۔ ہم زبانی طور پر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اپنی تاریخ پر فخر کرتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم دنیاوی مفادات اور ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا علم، ہماری سوچ اور ہماری ترجیحات—سب کچھ “شکم” کے گرد محدود ہو چکی ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں خود سے ایک سنجیدہ سوال کرنا ہوگا:
کیا علم صرف زندہ رہنے کے لیے ہے؟ یا پھر ایک باوقار، خودمختار اور ترقی یافتہ قوم بننے کے لیے؟
جب تک ہم علم کو شکم کی قید سے نکال کر شعور، تحقیق اور قیادت کا ذریعہ نہیں بنائیں گے، تب تک ہم بھی اسی دائرے میں 
قید رہیں گے—جہاں بقا تو ہے، مگر ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔
منقول

کوئی تبصرے نہیں: