غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ
کہتے ہیں انسان کا غصہ زیادہ سے زیادہ تین منٹ کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یا تو وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، یا اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ غصے میں تھا بھی یا نہیں۔ مگر جدید دور نے اس سادہ اصول کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے—اب غصہ صرف دل میں نہیں رہتا، بلکہ سیدھا موبائل کی اسکرین پر آ جاتا ہے، اور پھر وہاں سے پوری دنیا کا چکر لگا آتا ہے۔
پہلے زمانے میں غصہ آیا تو آدمی دروازہ پٹخ دیتا تھا، یا زیادہ ہوا تو برتن۔ اب غصہ آئے تو لوگ “پوسٹ” کر دیتے ہیں۔ اور وہ پوسٹ ایسی ہوتی ہے کہ تین منٹ کا غصہ تیس سال کی شرمندگی میں بدل سکتا ہے۔
ایک دلچسپ بات ایک صحافی نے کہی کہ دنیا کی بڑی فوجی طاقت کے صدر کے ٹویٹ کی عمر اوسطاً 43 سیکنڈ ہوتی ہے۔ یعنی ایک طرف ایٹمی طاقت، عالمی معیشت، سفارتی تعلقات—اور دوسری طرف 43 سیکنڈ کا جذباتی اظہار۔ انسان کا تین منٹ کا غصہ تو پھر بھی نسبتاً پائیدار معلوم ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس جدید دور کے طاقتور ترین افراد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون نہ ہوں تو کیا ہو؟ ذرا تصور کریں کہ کسی دن اچانک ان سے اسمارٹ فون لے کر ایک پرانا سا نوکیا 3310 ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔
اب وہ غصے میں ہیں۔ ٹویٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر پہلے میسج لکھنے کے لیے “abc” کو “2” سے، “def” کو “3” سے تلاش کرنا پڑے گا۔ ایک لفظ لکھنے میں ہی آدھا غصہ ختم ہو جائے گا۔ جملہ مکمل ہونے تک تین منٹ گزر چکے ہوں گے—اور اصول کے مطابق غصہ بھی۔
یوں دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے، صرف اس وجہ سے کہ “Send” بٹن تک پہنچنے میں دیر ہو گئی۔
اصل مسئلہ شاید غصہ نہیں، رفتار ہے۔ پہلے غصہ آتا تھا، گزرتا تھا، اور ختم ہو جاتا تھا۔ اب غصہ آتا ہے، فوراً نشر ہو جاتا ہے، اور پھر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ تین منٹ کی عارضی کیفیت، ڈیجیٹل دنیا میں مستقل ریکارڈ بن جاتی ہے۔
ہم سب اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے “ٹرمپ” ہیں—ہمارے ہاتھ میں بھی موبائل ہے، ہمیں بھی غصہ آتا ہے، اور ہم بھی اکثر 43 سیکنڈ کے اندر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کیا کہنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری بات عالمی خبر نہیں بنتی، مگر ہمارے تعلقات ضرور متاثر ہو جاتے ہیں۔
شاید حل بہت مشکل نہیں۔ اگلی بار غصہ آئے تو موبائل کو ایک طرف رکھ دیں۔ تین منٹ انتظار کریں۔ اگر اس کے بعد بھی بات ضروری لگے، تو کہہ دیں۔ ورنہ سمجھ لیں کہ آپ نے دنیا کو ایک چھوٹے سے بحران سے بچا لیا ہے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو—تو کم از کم ایک نوکیا 3310 ہی خرید لیں۔ دنیا کا نہیں تو آپ کا اپنا سکون ضرور واپس آ جائے گا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں