منگل، 7 اپریل، 2026

کوکین، جرنیل اور ہاتھی



کوکین، جرنیل اور ہاتھی

برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی ایک حالیہ خبر کے مطابق فرانسیسی جنرل میشل یاکوف لیف سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر امریکا ایران میں موجود یورینیئم پر قبضہ کرنے اور اسے نکالنے کے لیے وہاں ہوائی پٹی تعمیر کرنے جیسے منصوبے پر غور کر رہا ہے تو وہ اس پر کیا کہیں گے،
فرانسیسی جنرل نے کہا کہ اگر جنگی منصوبہ بندی کرنے والے اعلیٰ فوجی افسر اُن کے سامنے یہ تجویز ان الفاظ میں رکھیں کہ یہ بڑا عظیم منصوبہ ہے، تو وہ جواب میں کہیں گے کہ کوکین سونگھنا بند کردو۔
یہ جملہ محض مزاح نہیں بلکہ عسکری حکمتِ عملی کے ایک بنیادی اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقت سے کٹا ہوا منصوبہ خواہ کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو، عملی دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
امریکی عسکری منصوبہ بندی ہمیشہ طاقت، تخیل اور خوف کے تصورات کے گرد گھومتی رہی ہے، لیکن متعدد مواقع پر یہی منصوبے اپنی غیر حقیقت پسندی، تکنیکی کمزوری اور اخلاقی حدود کے باعث محض  خواب  ثابت ہوئے۔ سرد جنگ کے دور سے لے کر آج کے مشرقِ وسطیٰ تک، خصوصاً ایران کے تناظر میں، ہمیں ایسے کئی منصوبے نظر آتے ہیں جو بظاہر شاندار دکھائی دیتے ہیں مگر زمینی حقائق کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔
امریکی عسکری تاریخ میں منصوبہ" آپریشن نارتھ وُڈز" ایک نمایاں مثال ہے۔ 1962 میں تیار کیے گئے اس منصوبے میں یہ تجویز دی گئی کہ امریکا خود اپنے مفادات پر حملے کروائے اور ان کا الزام کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو پر ڈال کر جنگ کا جواز پیدا کرے۔ یہ منصوبہ نہ صرف خطرناک بلکہ اخلاقی طور پر بھی انتہائی متنازع تھا، جسے امریکی صدر جان ایف کینیڈی (1961 تا 1963) نے مسترد کر دیا، اور یوں ایک ممکنہ تباہ کن راستہ بند ہو گیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جان ایف کینیڈی کی پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی نہیں تھا، اور بعض اوقات غیر رسمی انداز میں لوگ ڈونالڈ ٹرمپ کو پارٹی کے نشان کی وجہ سے ہاتھی کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔
جو اندہی طاقت کا استعارہ ہے
ڈونالڈ ٹرمپ جب گرین لینڈ کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اکیلے ان کے ذہن کی اختراع نہیں بلکہ امریکہ نے ماضی میں بھی  گرین لینڈ کے بارے میں
عجیب و غریب خواب دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر پروجیکٹ آئس ورم ایک خفیہ امریکی منصوبہ تھا، جس کے تحت گرین لینڈ کی برف کے نیچے جوہری میزائلوں کا جال بچھانے کا تصور پیش کیا گیا۔ ریاستہائے متحدہ کی بری فوج کی نگرانی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ جلد ہی قدرتی رکاوٹوں کا شکار ہو گیا، کیونکہ برف کی مسلسل حرکت نے سرنگوں اور تنصیبات کو غیر مستحکم بنا دیا، اور بالآخر اسے ترک کرنا پڑا۔
اسی سلسلے کی ایک اور اہم مثال اسٹریٹجک دفاعی منصوبہ "اسٹار وار" ہے، جسے امریکی صدر رونالڈ ریگن (جو بنیادی طور پر ایک فلمی اداکار تھے) نے 1983 میں پیش کیا۔ اس منصوبے میں خلا میں دفاعی نظام قائم کر کے دشمن کے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ بظاہر یہ ایک انقلابی خیال تھا، مگر سائنسی حدود، بھاری اخراجات اور پیچیدہ اسٹریٹجک مسائل کے باعث یہ اپنی مکمل شکل میں کبھی عملی نہ ہو سکا۔
 یہ حقیقت ہے کہ عسکری طاقت کا اصل امتحان صرف ہتھیاروں یا وسائل میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی میں ہوتا ہے۔ آج جب ایران جیسے حساس اور پیچیدہ خطے میں کسی بڑے عسکری اقدام کی بات کی جاتی ہے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آیا یہ منصوبے زمینی حقائق، جغرافیہ اور سیاسی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہیں یا نہیں۔
 جدید جنگ محض فوجی طاقت کا کھیل نہیں رہی بلکہ یہ معیشت، سفارت کاری، معلومات اور عوامی رائے کا ایک پیچیدہ امتزاج بن چکی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی منصوبہ ان تمام عوامل کو نظرانداز کرے تو وہ کامیابی کے بجائے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
فرانسیسی جنرل میشل یاکوف لیف کا طنزیہ جملہ دراصل اسی تاریخی حقیقت کا خلاصہ ہے۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ جب منصوبے حقیقت سے کٹ جائیں تو وہ حکمتِ عملی نہیں رہتے بلکہ ایک محض تصور بن جاتے ہیں—اور تصورات پر مبنی فیصلے اکثر قوموں کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں: