منگل، 14 اپریل، 2026

امن کی جیت


امن کی جیت

آج کے نازک عالمی حالات میں اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات محض سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے امید کی روشن کرن ہیں۔ نہ امریکہ جیتا، نہ ایران—اصل فتح امن کی ہے، اور سرخرو انسانیت ہوئی ہے۔ شکست جنون، جنگی بخار اور تباہی کی ہے۔

آٹھ اپریل 2026 ایک یادگار دن کے طور پر ابھرا، جب انسانیت کے دل میں امن کے غالب آنے کی امید نے جنم لیا۔ عقل، تحمل اور مکالمے نے طاقت کے غرور کو پیچھے چھوڑ دیا، اور دنیا نے دیکھا کہ تباہی کے دہانے پر کھڑا انسان بھی دانش مندی سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگ مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ویتنام جنگ، سوویت-افغان جنگ، شمالی آئرلینڈ کا تنازع اور کولمبیا کا مسلح تصادم سب مذاکرات اور امن معاہدوں کے ذریعے ختم ہوئے۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ دیرپا امن کا راستہ طاقت نہیں بلکہ مکالمہ، مفاہمت اور سیاسی بصیرت ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پھر واضح کیا کہ جدید جنگیں صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز پر بڑھتا ہوا تناؤ اور امریکی سخت مؤقف نے عالمی خوف اور غیر یقینی میں اضافہ کیا، مگر آخری لمحات میں جنگ بندی نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچایا۔

اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اسی دانش کا مظہر ہیں، جہاں اختلافات کو ہتھیاروں کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امن نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ معاشرتی استحکام اور ترقی کی بنیاد بھی ہے۔

ایران میں سخت گیر طرزِ حکمرانی میں کمی اور اسرائیلی قیادت کے اخلاقی و عسکری تنقید کا سامنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جارحانہ پالیسی کے لیے امریکی حمایت لازمی ہے۔ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی، معاشی اور سفارتی محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں، اور سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔

جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں—جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور سماجی بگاڑ۔ امن کے برعکس ترقی، استحکام اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ بڑی طاقتیں اکثر حد سے تجاوز کر جاتی ہیں، مگر آخرکار سمجھ آتا ہے کہ امن کے ذریعے سب کچھ محفوظ رہتا ہے۔

یہ سارا منظرنامہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانیت کی بقا طاقت کے بے لگام استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ کنٹرول میں ہے۔ ہتھیاروں کی چمک وقتی ہو سکتی ہے، مگر ایک اٹل سچ یہی ہے کہ دنیا میں سب سے خوبصورت شے امن ہے۔

Peace is far more beautiful than even the most beautiful armada.


کوئی تبصرے نہیں: