جمعرات، 30 جولائی، 2020

گولڑے والے پیر



جون   22، 1974 کو جب حضرت بابو جی نے دنیا سے پردہ فرمایا تھا تو ہم یہ سوچ کر گریہ کناں تھے کہ اب تشنہ قلوب کو 
ضیائے نور کہان سے حاصل ہو گا مگر جب چھوٹے لالہ جی حضرت پیر شاہ عبدلحق بن غلام محی الدین بن مہر علی شاہ بن سید نذرالدین بن سید غلام شاہ بن روشن دین  نے اپنے دست مبارک سے ہمارا ہاتھ تھاما تو ادراک ہوا کہ ہدائت کے طلبگاروں کے لیے نور ہدائت ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اپنے والد گرامی سے بڑھ کر ہمارے دلوں میں احترام پانے والے ہمارے رفیق راہ، پیر، مرشداور نفس کو قابو رکھنے کے ہنر سے آشنا کرنے والے ہمارے اتالیق نے ہماری ترببیت الفاظ کے انبار سے نہیں کی مگر عمل کرنے کی تحریک سے دل روشناس کرایا تھا۔ یہ تحریک ایسی قوی ہوئی کہ اس کے مقابل جسم بھی تسلیم خم ہو گیا۔ دوران گفتگو چھوٹے چھوٹے جملے ایسی ایسی گرہیں کھولتے جو ضخیم کتب کے مطالعہ سے بھی نہ کھل پاتی تھیں۔ 
لالہ جی کی بیٹھک کے دروازے کے سامنے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر یہ شکستہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا ہوا کرتا تھا۔ آج وہ بند مٹھی کھل گئی ہے جس میں برسوں کا صبر پوشیدہ تھا۔وہ سہارا ٹوٹ گیا ہے جسے شیشے کی کھڑکی سے دیکھ کر دل مطمن ہو جایا کرتا تھا۔ وہ لمبا کپڑا اج لپیٹ دیا گیا ہے جس کے ایک سرے پر ہاتھ کر کر درد مند اپنے مرشد کے ہاتھ کا لمس محسوس کیا کرتے تھے۔ دربار گولڑہ کے رازوں کا امین میرا  مغفور بھائی حاجی سلطان محمود جنجوعہ کے ادا کیے ہوئے کلمات رہ رہ کر یاد آتے ہیں کہ لالہ جی روحانیت سے لبریز ہو چکے ہیں۔ دل چاہتا ہے چیخ کر لوگوں کو بتاوں کہ اج روحانیت کا وہ جام چھلک گیا ہے۔  
میرے والد گرامی مٖغفور حاجی محمد افسر جنجوعہ راہیا اس بات کاذکر کیا کرتے تھے کہ انھوں نے قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ کو دیکھا  تو تھامگر دست بیعت حضرت بابو جی کے ہاتھ میں دیاتھا ۔ وقت کا چرخہ گھوم کر اس مقام پر آ رکا ہے کہ ہم نے حضرت بابو جی کا دیدار تو کیا مگر ہمارا ہاتھ سرکار لالہ جی نے تھاماتھا۔
فراق ایسا غم نہیں ہے جو بھول پائے مگر ہمیں بتا دیا گیا تھاسدا رہنے والی ذات صرف احد و صمد کی ہے۔مادیت سب فانی ہے روحانیت اور علم مگر زندہ و جاوید ہے۔ہماری بلند درگاہ گولڑہ شریف کو رب محمد  ﷺ  سدا مینار نور کے طور پر سلامت رکھے۔یہ تقلید کا ایساقلعہ ہے جس میں مقلد پناہ گزیں ہو کر نفس و شیطان سے امان پاتا ہے۔


اتوار، 12 جولائی، 2020

چار عناصر





اقبال نے مسلمان کے بارے میں کہا تھا
قہاری و غفاری وقدوسی وجبروت
یہ چارعناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
 ہمارے ایک دوست نے  اپنے کالم میں قوم بننے کے لیے بھی چار عناصر ہی گنوائے ہیں
سرمایہ و اختیار و علم و محبت
بے شک سرمایہ اور اختیار پر حکومتوں کا حق ہوا کرتا ہے مگر علم و محبت عوام کی میراث ہوتی ہے ۔ مسائل ان ہی معاشروں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں اپنی اجارہ داریوں کے حصول کے بعد عوام کی میراث پر بھی قبضہ کر لیا جائے ۔  
گلے میں گلہ بان کے پاس ڈنڈا ہوتا ہے مگر اس ڈنڈے  کا اولین مقصد بکریوں کی حفاظت ہوتا ہے ۔ بکریاں نہیتی ہی ہوا کرتی ہیں مگر جب بھیڑیا آ جائے تو بزدار کے ڈنڈے کی طرف دیکھتی ہیں ۔ ہماری حکایات میں ایک ایسے بزدار کا تذکرہ ملتا ہے جو اس قدر صاحب علم تھا کہ زمین پر لکڑی سے لکیریں کھینچ کر مخاطب کا محل وقوع بتا دیا کرتا تھا۔ مگر وہ زمانہ ایسا تھا کہ علم عوام کا فخر اور انسان سے محبت اس کا مقصد حیات ہوا کرتا تھا۔ موجودہ دور میں سرمایہ اور اختیار پر سرکار کا اجارہ ہی نہیں بلکہ مزید اختیار کی ہوس بھی پوشیدہ نہین ہے۔ گذرے زمانے میں علم برائے خود شناسی حاصل کیا جاتا تھا تو اج علم کا مقصد کم از کم ہمارے ہاں کچھ اور ہی ہے ۔
گیے وقتوں میں علم و محبت کے حصول میں صاحب سرمایہ و اختتیار حکومتیں عوام کی علم کے حصول میں عوام کی سرپرست ہوا کرتی تھیں ۔ آج حکومت کے پاس تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں ہے ۔
حکمران اور رہنما میں فرق ہوتا ہے ۔ کسی ملک کا بادشاہ حکمران ہے تو کسی ملک کی وزیر اعظم رہنما ہے ۔ دونوں معاشروں کی سوچ رات اور دن کی طرح عیاں ہے ۔ اس فرق کو علمی تفریق کے سوا دوسرا نام دیا ہی نہیں جا سکتا ۔
مرحوم طارق عزیز (نیلام گھر والے ) نے اپنے ترکے میں ایک پنجابی کی کتاب بصورت شاعری چھوڑی ہے اس میں ایک شعر ہے
مڈھ قدیم توں دنیا اندر دو قبیلے آئے نیں
اک جنہاں زہر نی پیتے اک جنہاں زہر پلائے نیں

 مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں روز اول سے دو طبقات ہیں ایک جو زہر کا پیالہ پیتا ہے اور دوسرا جو پلاتا ہے ۔ علم انسان کوان دونوں طبقات کے اذہان کو منور کر کے عمل کی قابل عمل راہ دکھاتا ہے ۔
رہنماوں کے سرمایہ جمع کرنے اور اختیارات کی خواہش پوری کرنے میں تعلیم حائل نہیں ہوا کرتی ۔ بہت سارے ممالک اس رواں دواں کرہ ارض پر موجود ہیں جنھوں نے تعلیم کو عام کیا اور امن و آشتی سے جی رہے ہیں ۔ ایسے حکمرانوں کی بھی کمی نہیں ہے جو علم کو پابند سلاسل کر کے خود بھی قلعوں میں بند ہیں اور ان کی عوام بھی آپس میں دست و گریبان ہیں۔

دنیا میں ایسی قومیں موجود ہیں جو تباہ ہو کر وسائل کی کمی کا شکار ہو گئیں مگر انھوں نے امید کے بل بوتے پر خود کو دوبارہ قوموں کی برادری میں سر خرو کر لیا ۔ امید پر یقین علم ہی پیدا کرتا ہے ۔
علم پر بنیادی طور پر خالق کائنات کی اجارہ داری ہے ، اس نے ابن آدم پر احسان کیا اور اپنے ذاتی علم سے اسے عطا کیا ۔ ہم نے اس نعمت کے ساتھ بے انصافی یہ کی کہ انفرادی منفعت و ہوس کے بل بوتے پر کچھ علوم کو غیر نافع کا نام دیا اور اسے ایک بوری میں ڈالتے گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بوری اس قدر ثقیل ہو چکی ہے کہ اس کو اپنی جگہ سے سرکانا افراد کے بس سے باہر ہو چکا ہے ۔ مزید ظلم یہ کہ ہم نے اس بوری کا منہ اب بھی بند نہیں کیا ۔ ہٹلر کے بعد جرمنی والوں نے ابلاغیات کا علم نہیں بلکہ گوبلز کے اعمال بوری میں ڈالے تھے ۔
انسان کا عقلی ادراک کچھ بیانیوں کے تسلیم کرنے میں مزاحم ہوتا ہے ۔ جس دور میں زمین ساکت مانی جاتی تھی ، اس دورمیں بھی عقل اس بیانیے پر مطمئن نہیں تھی ۔ اگر اج ہم کچھ بیانیوں سے مطمن نہیں ہیں تو لازمی طور پر ان بیانیوں میں کہیں نہ کہیں سقم ہے ۔ گلوبل ویلج میں اب یہ بات پوشیدہ نہیں رہی کہ کون سا بیانیہ اور عمل بوری کا مستحق ہے ۔ آج کے دور میں اسی استحقاق کے بیان کرنے  پر زہر پیے اور پلائے جا رہے ہیں ۔
محبت ایسا پھول ہے جو انصاف کی زمین پر اگتا ہے ہمارے ہان تو ابھی زمین ہی ہموار نہیں ہے ۔ ہم دوسروے ملکوں میں مظلوموں کو انصاف ملتا دیکھ کر خوش ضرور ہوتے ہیں ۔ مگر اپنے ہان عدالتوں کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے بھی بنا رکھے ہیں جن کا مقصد ہی یہ ہے کہ پھول اگلنے والی ہموار زمین کو لگا تار نا ہیموار کرتے رہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اختیارات کسی عمارت میں قید ہیں ۔ معیشت صاحبان پنجہ کی مٹھی میں بند ہے ۔ تعلیم کے لیے ہمارے پاس بچا ہی کچھ نہیں ہے اور محبت لوک داستانوں یا فقیروں کے آستانوں تک محدود ہے ۔
عوام  کو صبر کی تلقین کتاب سے پڑھ کر سنائی جاتی ہے  اور سکون قبر میں بتایا جاتا ہے ۔
 اقبال نے سچ ہی کہا تھا ۔ 
تحقیق میرے دوست  کی بھی برحق ہے
ہم تو اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو بھی برحق بتاتے ہیں
بہتر سالوں سے مگر کر وہ رہے ہیں جو ہمارا دل کرتا ہے