جمعہ، 18 ستمبر، 2026

آئیں، حقیقی تبدیلی لائیں




آئیں، حقیقی تبدیلی لائیں

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ کوئی نظام بدلنا چاہتا ہے، کوئی سیاست، کوئی تعلیم اور کوئی معاشرتی رویے۔ مگر شاید ہم تبدیلی کے سب سے بنیادی دروازے کو بھول گئے ہیں—گھر۔ کیونکہ معاشرہ سڑکوں، ایوانوں اور اداروں میں بعد میں بنتا ہے، پہلے ایک بچے کے دل و دماغ میں تشکیل پاتا ہے۔

بچہ ہمارے گھر میں آتا ہے تو ہم اسے اپنی ملکیت سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے لیے اپنے خواب منتخب کرتے ہیں، اس کے راستے طے کرتے ہیں اور کبھی اپنی نامکمل خواہشوں کا بوجھ بھی اس کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ بچہ ملکیت نہیں، امانت ہے۔
ملکیت پر اختیار جتایا جاتا ہے، امانت کی حفاظت کی جاتی ہے۔
اگر بچہ امانت ہے تو ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ اسے اپنی مرضی کا انسان بنائیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانیں، اس کے سوال کو سنیں، اس کی شخصیت کا احترام کریں اور اسے اس قابل بنائیں کہ وہ ایک دن اپنے فیصلے خود کرسکے۔

والدین کی محبت کا کمال بچے کو ہمیشہ اپنے سائے میں رکھنا نہیں، بلکہ اسے اتنے مضبوط قدم دینا ہے کہ وہ ایک دن اس سائے سے نکل کر اپنی روشنی تلاش کرسکے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے ہماری تربیت کا نتیجہ ہی نہیں، ہماری تربیت کا امتحان بھی ہیں۔ وہ ہماری نصیحتیں کم اور ہمارے کردار کو زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ سچ بولیں تو ہمیں خود سچ کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ احترام کریں تو ہمیں پہلے ان کی شخصیت کا احترام کرنا ہوگا۔ ہم ان سے برداشت چاہتے ہیں تو ان کے سوال، اختلاف اور غلطی کو برداشت کرنا ہوگا۔

گھر کا ایک رویہ کبھی صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتا۔ آج ہم بچے کے ساتھ جس لہجے میں بات کرتے ہیں، ممکن ہے کل وہی لہجہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ اختیار کرے۔ یوں ہماری عادتیں خاموشی سے نسلوں کا سفر طے کرتی ہیں۔

اس لیے اگر ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو آغاز کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔

بچے کو بدلنے سے پہلے اپنا لہجہ بدلیں۔ اسے نصیحت کرنے سے پہلے اپنا کردار دیکھیں۔ اس کے مستقبل کی فکر کرنے سے پہلے اپنے آج کو درست کریں۔

کیونکہ ہماری اصل میراث وہ دولت نہیں جو ہم بچوں کے لیے چھوڑ جائیں گے؛ ہماری اصل میراث وہ انسان ہے جو ہم دنیا کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔

ہم بدلیں گے تو گھر بدلے گا، گھر بدلے گا تو نسل بدلے گی، اور نسل بدلے گی تو معاشرہ خود بدلنے لگے گا۔

آئیں،
حقیقی تبدیلی کا آغاز اپنی ذات اور اپنے گھر سے کریں۔

جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تکرار کا جادو



تکرار کا جادو
ایک جھوٹ پہلی بار سنائی دے تو شاید آدمی اسے مسترد کردے، مگر وہی بات بار بار سنائی جائے تو کبھی کبھی ذہن اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے اور اسی کو ہم تکرار کا جادو کہہ سکتے ہیں۔

امریکی ماہرینِ نفسیات لِن ہاشر، ڈیوڈ گولڈسٹین اور تھامس ٹوپینو
نے 1977ء میں تجربات کے ذریعے دکھایا کہ بار بار سنے جانے والے بیانات لوگوں کو نسبتاً زیادہ درست محسوس ہوسکتے ہیں، خواہ وہ حقیقتاً درست نہ ہوں۔ نفسیات میں اس رجحان کو
Illusory Truth Effect
یعنی "وہمِ صداقت کا اثر" کہا جاتا ہے۔

یہاں اصل کمال جھوٹ کا نہیں، انسانی ذہن کا ہے۔ دماغ ہر نئی بات کو مکمل تحقیق کے مرحلے سے نہیں گزارتا۔ جو بات پہلے سنی ہوئی ہو، اسے سمجھنے میں کم ذہنی محنت لگتی ہے۔ یہی مانوسیت بعض اوقات سچائی کا احساس پیدا کردیتی ہے۔ افواہ کی پیدائش اور پرورش اسی زمین پر ہوتی ہے۔ کسی شخص کے بارے میں کہا گیا، "میں نے سنا ہے کہ وہ ایسا ہے۔" دوسرے نے وہی بات آگے پہنچا دی۔ تیسرے نے کہا، "یہ بات تو کئی لوگوں سے سن چکا ہوں۔" کچھ عرصے بعد کسی محفل میں یہی بات پورے اعتماد سے یوں بیان ہونے لگتی ہے: "یہ تو سب کو معلوم ہے۔"
مگر حقیقت میں بدلا کیا؟ صرف تکرار بڑھی۔

تاریخ میں اس نفسیاتی حقیقت کو طاقتور سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ نازی جرمنی میں جوزف گوئبلز ( 1897–1945) کی قیادت میں پروپیگنڈا مشین نے ریڈیو، اخبارات، فلم، پوسٹرز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے مخصوص ریاستی پیغامات مسلسل عوام تک پہنچائے۔ مقصد صرف اطلاع دینا نہیں تھا؛ ایک خاص بیانیے کو مسلسل دہرا کر اسے عوامی ذہن کا حصہ بنانا بھی تھا۔

فرانسیسی مفکر گستاو لوبوں ( 1841–1931) نے اجتماعی نفسیات پر اپنی معروف کتاب
The Crowd
میں بھی تکرار اور اجتماعی ذہن کے تعلق پر بحث کی تھی۔ آج جدید تحقیق نے انسانی ذہن کے اسی رجحان کو تجربات کے ذریعے مزید واضح کیا ہے۔

ہمارے زمانے نے تکرار کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک خبر نمودار ہوتی ہے۔ ایک شخص اسے شیئر کرتا ہے، دوسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے، تیسرا ویڈیو بناتا ہے، چوتھا اسے کسی گروپ میں پہنچا دیتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہی دعویٰ درجنوں یا سیکڑوں جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ پھر کوئی کہتا ہے "یہ بات غلط کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے تو اسے ہر جگہ دیکھا ہے۔"

ایک خبر کا سو جگہ نظر آنا ضروری نہیں کہ سو آزاد ذرائع اس کی تصدیق کررہے ہوں۔ ممکن ہے وہ سب ایک ہی غیرمصدقہ دعوے کو نقل کررہے ہوں۔ اس لیے صحافت اور تحقیق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی مقبولیت نہیں، اس کا ماخذ اور ثبوت دیکھا جائے۔ تصویر وائرل ہو تو اس کی تاریخ معلوم کی جائے۔ کوئی دعویٰ سامنے آئے تو اصل دستاویز تلاش کی جائے۔ اعداد و شمار پیش ہوں تو متعلقہ رپورٹ دیکھی جائے۔ اور اگر ایک ہی بات ہر جگہ لکھی ہو تو یہ پوچھا جائے کہ کیا کسی نے نے خود تحقیق کی ہے یا سب ایک ہی ذریعے کی آواز دہرا رہے ہیں۔

برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل ( 1872–1970) کا ایک مشہور قول ہے:

"The trouble with the world is that the stupid are cocksure and the intelligent are full of doubt."
یعنی دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نادان اپنے یقین میں بہت پُراعتماد ہوتے ہیں، جبکہ سمجھ دار انسان سوال کی گنجائش رکھتے ہیں۔
آج کے اطلاعاتی سیلاب میں یہی سوال ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔

جھوٹ عموماً مختصر ہوتا ہے، جذبات کو چھوتا ہے اور فوراً پھیل جاتا ہے۔ سچ بعض اوقات پیچیدہ ہوتا ہے، تحقیق مانگتا ہے اور شواہد پیش کرتا ہے۔ جھوٹ کہہ سکتا ہے، "قصوروار یہی ہے"، مگر سچ پوچھتا ہے، "واقعہ کیا تھا؟ ثبوت کہاں ہے؟" ۔ اسی لیے سچ تک پہنچنے کے لیے کبھی کبھی شور سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ آپ نے سنا ہو گا"سچ ابھی جوتے پہن رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ شہر کا چکر لگا چکا ہوتا ہے"

زبان اس لیے خطرناک بھی ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ اسی وقت دکھائی نہیں دیتا جب لفظ ادا کیا جاتا ہے۔ زبان جسم انسانی کے ان دس اعضاء میں سے ایک ھے جن کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ "جب ایک چلتی تو باقی خوف زدہ رہتے ھیں "
اوردوسرے نو یہ ھیں
۔ دو کان
دو آنکھیں ،
ایک ناک ،
دو ھاتھ
اور دو پاوں ۔

تکرار واقعی جادو رکھتی ہے، موجودہ دور میں جھوٹے تکرار کی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اس کے خلاف سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔





بدھ، 16 ستمبر، 2026

غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے








غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے
پاکستان کے دشمنوں کی فہرست بنانا مشکل نہیں۔ بھارت کا نام لیا جاسکتا ہے، افغانستان کے بعض عناصر کی بات ہوسکتی ہے، بیرونی لابیز اور ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی یا سیاسی مقاصد کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کا اس کی سرحد کے باہر ہونا ضروری ہے؟

شاید نہیں۔
کسی قوم کو شکست دینے کا ایک طریقہ اس کی سرحد پر فوج کھڑی کرنا ہے، دوسرا اس کے اندر ایسا ذہن پیدا کرنا ہے جو اپنی قوت پر یقین ہی کھودے۔ جب ایک قوم کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ اس کے ادارے ناکام ہیں، اس کی سیاست ناقابلِ اصلاح ہے، اس کی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں، اس کے فیصلے خود نہیں ہوسکتے اور اس کی بقا کسی بڑی طاقت کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو شکست میدان میں نہیں، ذہن میں شروع ہوچکی ہوتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ مسئلہ صرف بیرونی دباؤ کا نہیں، فکری انحصار کا بھی ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات بہتر ہوں تو ایک حلقہ اسے غلامی قرار دیتا ہے، چین سے دوستی بڑھے تو دوسرا حلقہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے، ایران سے قربت کی کوشش ہو تو کسی کو علاقائی صف بندی کا خوف لاحق ہوجاتا ہے اور سعودی عرب سے تعلقات مضبوط ہوں تو کچھ لوگ اسے خودمختاری کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے لیے بہترین خارجہ پالیسی یہ ہو کہ وہ دنیا سے تعلق ہی ختم کرلے۔
مگر دنیا اس طرح نہیں چلتی۔

خارجہ پالیسی جذبات کا نہیں، مفادات کا نظم ہے۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے، چین پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور سعودی عرب ہمارا اہم مسلم، اقتصادی اور دفاعی شراکت دار۔ پاکستان کو سب سے تعلق رکھنا ہے، مگر کسی کے مفاد کا تابع بن کر نہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سے کیا چاہتا ہے۔
یہی سوال چین کے بارے میں ہونا چاہیے، یہی ایران کے بارے میں، یہی سعودی عرب کے بارے میں اور یہی دنیا کے ہر دوسرے ملک کے بارے میں۔
ایک خودمختار ریاست دوسروں کے مفادات کو سمجھتی ہے، مگر اپنے مفادات کا فیصلہ دوسروں کے حوالے نہیں کرتی۔

امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طبقہ اسے پاکستان کے تقریباً ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھتا ہے، دوسرا یہ تصور رکھتا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔ دونوں رویے اپنی جگہ ایک مسئلہ ہیں۔ پہلا ہمیں اپنی داخلی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچاتا ہے، دوسرا ہماری اپنی قوت سے انکار کرتا ہے۔
امریکہ طاقتور ہے، اس سے تعلق رکھنا پاکستان کی ضرورت ہوسکتی ہے؛ مگر طاقتور ہونا کسی ملک کو ہماری قسمت کا مالک نہیں بناتا۔
پاکستان کو امریکہ سے تجارت چاہیے، سرمایہ کاری چاہیے، ٹیکنالوجی چاہیے، تعلیم اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے ہیں۔ مگر اگر دوستی کی قیمت اپنی پالیسی کا اختیار چھوڑنا ہو تو یہ دوستی نہیں، انحصار ہے۔
پاکستان کو امریکہ کا دوست ہونا چاہیے، امریکی پالیسی کا مہرہ نہیں۔

چین کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات محض وقتی سفارتی ضرورت نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شراکت داری ہیں۔ CPEC نے انفراسٹرکچر، توانائی اور علاقائی رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے۔ اس کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا ممنوع نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کسی منصوبے کی لاگت زیادہ ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر کسی منصوبے سے پاکستان کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی توقع تھی تو حکومت سے جواب طلب ہونا چاہیے۔
لیکن اعتراض اس وقت غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے جب منصوبے کی کارکردگی نہیں بلکہ صرف اس کا چینی ہونا مسئلہ بن جائے۔

اسی طرح ہر امریکی منصوبے کو سازش سمجھ لینا بھی دانشمندی نہیں۔
قومی مفاد کا ترازو ایک ہونا چاہیے۔ منصوبہ واشنگٹن سے آئے یا بیجنگ سے، ریاض سے یا تہران سے، سوال ایک ہی ہو:
اس سے پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟

ایران کے معاملے میں بھی ہمیں دوسروں کی عینک اتار کر اپنا نقشہ دیکھنا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہماری سرحدیں ملتی ہیں۔ بلوچستان دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترک جغرافیائی حقیقت ہے۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی امن جیسے معاملات ایران کے ساتھ تعلقات کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔
ایران سے اچھے تعلقات رکھنا کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے تعلقات کا مطلب ایران سے دشمنی نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، عوامی، اقتصادی اور دفاعی رشتے کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار سے وابستہ ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ موجود ہے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات ھی ہیں۔
اس تعلق پر سوال ہوسکتے ہیں۔ ہونے چاہئیں۔
پاکستانی مزدوروں کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں؟ سرمایہ کاری سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟ دفاعی تعاون کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے؟
یہ سوال حب الوطنی کے خلاف نہیں۔

لیکن اگر ایران سے تعلق کو سعودی عرب کے خلاف اور سعودی عرب سے تعلق کو ایران کے خلاف سمجھا جائے تو پھر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنا رہا، وہ دوسروں کی کشمکش میں اپنا مقام تلاش کررہا ہے۔

پاکستان کو تہران سے بھی بات کرنی ہے اور ریاض سے بھی۔
یہ تضاد نہیں، سفارت کاری ہے۔

یہیں 1971 کا باب ہمارے سامنے کھلتا ہے، وہ باب جسے ہم نے شاید پڑھا کم اور دہرایا زیادہ ہے۔
پاکستان ٹوٹا تو ہم نے آسان جواب تلاش کیا: بھارت نے پاکستان توڑ دیا۔
بھارتی مداخلت حقیقت تھی۔ مکتی باہنی کی مسلح سرگرمیاں حقیقت تھیں۔ بیرونی طاقتوں کی صف بندیاں بھی حقیقت تھیں۔ لیکن کیا یہی مکمل حقیقت تھی؟
نہیں۔
مشرقی پاکستان میں سیاسی اور معاشی محرومیاں تھیں۔ 1970 کے انتخابات نے ایک واضح مینڈیٹ دیا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کا بحران پیدا ہوا۔ سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے۔ اختلاف تصادم میں تبدیل ہوا۔ پھر فوجی کارروائی، مسلح مزاحمت، بھارتی مداخلت اور عالمی حالات نے اس بحران کو ایسی منزل تک پہنچایا جہاں واپسی ممکن نہ رہی۔

تاریخ کو صرف دشمن کی سازش بنا دینا آسان ہے، مگر اس سے قوم اپنی غلطیوں سے محروم ہوجاتی ہے۔
دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک اپنی کمزوری ہے۔
1971 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ بیرونی قوتیں ہمیشہ مواقع تلاش کرتی ہیں، مگر انہیں کامیابی کا موقع اکثر اندرونی بحران فراہم کرتا ہے۔

آج بھی اگر سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے، صوبائی یا لسانی تقسیم گہری ہوجائے، ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں اور عوام ریاست سے مایوس ہوجائیں تو بیرونی طاقتوں کو کسی سازش کے لیے بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔
استعمار کی نئی شکل بھی یہی ہے۔ اب ہر مرتبہ فوج، توپ اور گورنر درکار نہیں۔ اثر و رسوخ قرض سے بھی قائم ہوسکتا ہے، تجارت سے بھی، اطلاعات سے بھی، ثقافت سے بھی اور بیانیے سے بھی۔
لیکن یہاں بھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ دنیا سے سیکھنا استعمار نہیں۔ غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا استعمار نہیں۔ مغربی سائنس سے فائدہ اٹھانا استعمار نہیں۔ چینی ٹیکنالوجی قبول کرنا استعمار نہیں۔
استعمار اس وقت ذہن میں جگہ بناتا ہے جب انسان فیصلہ کرنے کی اپنی صلاحیت دوسروں کے حوالے کردیتا ہے۔

پھر طاقتور ملک کی ہر بات دانشمندی اور اپنے ملک کی ہر بات حماقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ باہر کی کامیابی ترقی اور اندر کی کامیابی اتفاق دکھائی دیتی ہے۔ اپنی قوم کے عیب فطرت بن جاتے ہیں اور دوسروں کی خامیاں استثنا۔

یہاں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم لازماً آزاد فکر پیدا کرتی ہے۔ ایسا نہیں۔ ڈگری علم دے سکتی ہے، بصیرت کی ضمانت نہیں۔ کوئی شخص دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پڑھ کر بھی ذہنی طور پر دوسروں کا محتاج ہوسکتا ہے، جبکہ ایک عام آدمی اپنی محدود تعلیم کے باوجود غیر معمولی قومی شعور رکھ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔
اصل سوال یہ ہے:
آپ سوچتے کس کے دماغ سے ہیں؟

اگر ہر اہم فیصلے سے پہلے ہمیں یہ فکر لاحق ہو کہ واشنگٹن کیا سوچے گا، بیجنگ کیا کہے گا، لندن کیا سمجھے گا یا کسی اور طاقتور دارالحکومت کا ردعمل کیا ہوگا، تو ہمیں اپنی فکری آزادی کا جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان میں ایک اور رویہ بھی تیزی سے پھیلتا ہے: مایوسی۔
یہ ملک نہیں چل سکتا۔
یہ قوم ناکام ہے۔
یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔
سب چور ہیں۔
سب بکاؤ ہیں۔
سب نااہل ہیں۔
یہ جملے بعض اوقات غصے میں نکلتے ہیں، بعض اوقات سیاسی مایوسی سے اور بعض اوقات باقاعدہ بیانیے کے طور پر۔

لیکن یہاں فرق ضروری ہے۔
کرپشن پر لکھنا مایوسی نہیں۔
غربت کی نشاندہی کرنا مایوسی نہیں۔
حکومت کو ناکام کہنا مایوسی نہیں۔
اداروں کا احتساب کرنا بھی مایوسی نہیں۔
مایوسی اس وقت خطرناک بیانیہ بنتی ہے جب قوم کو اس کی بیماری تو دکھائی جائے مگر علاج کا امکان چھین لیا جائے؛ جب ہر ناکامی کو قومی فطرت اور ہر کامیابی کو اتفاق بنا دیا جائے۔
تنقید وہ ہے جو قوم کو جگائے؛ مایوسی وہ ہے جو قوم سے بیداری کی امید بھی چھین لے۔

اسی لیے ’’ملک دشمن‘‘ کی اصطلاح بھی سوچ سمجھ کر استعمال ہونی چاہیے۔
ہر حکومت مخالف شخص ملک دشمن نہیں۔
ہر فوج پر تنقید کرنے والا غدار نہیں۔
ہر امریکہ نواز شخص امریکی ایجنٹ نہیں۔
ہر چین نواز شخص چینی مفاد کا نمائندہ نہیں۔
ہر ایران نواز شخص ایرانی ایجنٹ نہیں۔
اور ہر سعودی عرب نواز شخص عرب مفادات کا ترجمان نہیں۔
ایک شہری حکومت کی مخالفت کرسکتا ہے، کسی ادارے کے فیصلے پر اعتراض کرسکتا ہے، خارجہ پالیسی سے اختلاف کرسکتا ہے اور پھر بھی پاکستان سے وفادار ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر کسی کے خلاف دشمن ریاست کے لیے کام کرنے، خفیہ فنڈنگ لینے، منظم پروپیگنڈا کرنے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس معاملے کو نعرے نہیں، قانون کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔
یہی ایک مہذب ریاست کا طریقہ ہے۔

پاکستان کو غداروں کی لمبی فہرست سے زیادہ مضبوط اداروں اور باشعور شہریوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں کسی ایک عالمی کیمپ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ اور چین میں سے ایک کا انتخاب، ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب، روس اور مغرب میں سے ایک کا انتخاب—یہ سوال ہی غلط ہے۔
پاکستان کو کسی اور کا انتخاب نہیں کرنا۔
پاکستان کو پاکستان کا انتخاب کرنا ہے۔
ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے، مگر دنیا کے پیچھے نہیں۔
ہمیں دوست بنانا ہیں، مگر سرپرست تلاش نہیں کرنے۔
ہمیں تنقید سننی ہے، مگر اپنی صلاحیت سے مایوس نہیں ہونا۔
ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہے، مگر اپنی قوم کو ناکام قرار نہیں دینا۔
ہمیں دشمنوں سے ہوشیار رہنا ہے، مگر ہر اختلاف کرنے والے کو دشمن بھی نہیں سمجھنا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی بیرونی طاقت کی اجازت کا محتاج نہیں۔

آج اصل جنگ شاید سرحد پر نہیں، تصورِ پاکستان کے اندر لڑی جارہی ہے۔ ایک تصور کہتا ہے پاکستان کو اپنی طاقت پر کھڑا ہونا چاہیے؛ دوسرا ہر مشکل کے بعد کسی بیرونی طاقت کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ ہماری خامیاں قابلِ اصلاح ہیں؛ دوسرا انہیں ہماری قسمت قرار دیتا ہے۔ ایک اختلاف کو اصلاح کا راستہ سمجھتا ہے؛ دوسرا اختلاف کو دشمنی بنا دیتا ہے۔ ایک دنیا سے تعلق چاہتا ہے مگر سر جھکا کر نہیں؛ دوسرا طاقتور کے سائے کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کیسا پاکستان دیں گے: ایسا پاکستان جو دنیا کے نقشے پر موجود ہو مگر فیصلوں میں دوسروں کا محتاج ہو، یا ایسا پاکستان جو دوست سب کا ہو، دشمن کسی کا نہ ہو، مگر اپنی قسمت کا مالک خود ہو۔ تاریخ میں قومیں صرف زمین کھو کر غلام نہیں ہوتیں؛ کبھی کبھی وہ اپنی خود اعتمادی کھو کر بھی غلام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوگی۔ اس کی اصل حفاظت اس دن ہوگی جب اس قوم کا ذہن یہ ماننے سے انکار کردے گا کہ اس کی تقدیر کوئی دوسرا لکھ سکتا ہے۔

منگل، 15 ستمبر، 2026

شب افروز موتی



شب افروز

قیمتی پتھروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بعض پتھر دن کی روشنی جذب کرکے رات کے اندھیرے میں بھی چمکتے ہیں۔ شب افروز  موتی کے بارے میں بھی ایسی ہی روایت مشہور ہے۔ میں اس علم کا ماہر نہیں، مگر اس تصور میں انسان کے اخلاق کے لیے ایک خوب صورت استعارہ ضرور دیکھتا ہوں۔ جس طرح کسی پتھر کی اصل چمک تاریکی میں نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح انسان کے کردار کی اصل روشنی بھی اس وقت دکھائی دیتی ہے جب دنیا کی نگاہیں اس سے ہٹ جائیں اور وہ اپنی نجی ازدواجی زندگی میں اپنے شریکِ حیات کے ساتھ ہو۔

عوامی زندگی میں خوش اخلاق ہونا اچھی بات ہے، مگر انسان کے کردار کی گہرائی کا اندازہ اس کے اس رویے سے ہوتا ہے جو وہ اپنے سب سے قریبی رشتے کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔ شریکِ حیات وہ شخص ہے جو انسان کی کامیابی ہی نہیں، اس کی کمزوری، تھکن، خاموشی، غصہ اور پریشانی بھی قریب سے دیکھتا ہے۔ اس لیے ازدواجی زندگی میں باہمی احترام، نرم گفتگو، اعتماد، وفاداری اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھنا محض گھریلو آداب نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کی علامت ہیں۔

اختلاف ہر رشتے میں ہوسکتا ہے، مگر اصل امتحان اختلاف کے انداز میں ہے۔ کیا ہم ناراضی میں بھی دوسرے کی عزت برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بات منوانے کے بجائے دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم غصے کے لمحے میں بھی ایسے الفاظ سے بچتے ہیں جو دل پر دیر تک رہ جائیں؟ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ازدواجی تعلق کو مضبوط یا کمزور بناتی ہیں۔

انسان دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شائستگی سے پیش آسکتا ہے، مگر اگر وہ اپنے شریکِ حیات کے لیے احترام اور اطمینان کا باعث نہیں تو اس کی اخلاقی شخصیت ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو دکھاوے کا محتاج نہ ہو؛ جو تنہائی میں بھی وہی رہے جو محفل میں دکھائی دیتا ہے۔

اسی لیے شب افروز موتی میرے نزدیک ایک ایسے انسان کا استعارہ ہے جس کی اخلاقی روشنی اس کی نجی ازدواجی زندگی میں بھی قائم رہتی ہے۔ وہ اپنے شریکِ حیات کو محض ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتا ہے جس کے احساسات، عزت اور سکون بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے اس کے اپنے۔

شاید انسان کے کردار کی سب سے خوب صورت پہچان یہی ہے کہ اس کے قریب رہنے والا شخص اس کے ساتھ رہ کر خود کو محفوظ، محترم اور عزیز محسوس کرے۔

تب انسان صرف روشنی میں چمکنے والا شخص نہیں رہتا؛ وہ واقعی شب افروز موتی بن جاتا ہے—ایسا انسان جس کی اصل روشنی دنیا کے سامنے نہیں، بلکہ اپنے سب سے قریبی رشتے کی خاموش دنیا میں دکھائی دیتی ہے۔

جب درندے انسان سے کلام کریں گے




جب درندے انسان سے کلام کریں گے
ہم صدیوں سے پرندوں کو چہچہاتے، بھیڑیوں کو غراتے، وہیل کو سمندر میں پکار لگاتے اور ہاتھیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مخصوص آوازوں میں رابطہ کرتے دیکھتے آئے ہیں۔ ہم نے ان آوازوں کو سنا ضرور، مگر ان کا مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ جس زبان کو ہم سمجھ نہیں سکے، اسے ہم نے زبان ہی نہیں سمجھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جانوروں کے کلام کا تصور جدید سائنس کی ایجاد نہیں۔ قدیم مذہبی روایات میں انسان اور جانور کے درمیان گفتگو کے واقعات ملتے ہیں۔
کتابِ پیدائش میں سانپ کا حوا سے گفتگو کرنا بیان ہوا ہے۔ کتابِ گنتی میں بلعام کے گدھے کا واقعہ آتا ہے، جس کا منہ خدا نے کھولا اور وہ اپنے سوار سے کلام کرنے لگا۔
قرآن اس تصور کو حضرت سلیمانؑ کے واقعے میں ایک اور جہت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"وَعُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ"
یعنی حضرت سلیمانؑ کو پرندوں کی بولی سمجھنے کا علم عطا کیا گیا۔
پھر ایک چیونٹی کا ذکر ہے جو دوسری چیونٹیوں کو سلیمانؑ کے لشکر سے بچنے کے لیے خبردار کرتی ہے۔ سلیمانؑ اس کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ پھر ہدہد آتا ہے اور ایک ایسی قوم کے بارے میں خبر دیتا ہے جس سے سلیمانؑ پہلے واقف نہیں تھے۔
یہاں کہانی صرف اتنی نہیں کہ ایک جانور بول رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جانور کے اظہار کو سمجھ رہا ہے۔
اور پھر رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث اس موضوع کو ایک بالکل مختلف سطح پر لے جاتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کریں..."
حدیث کے الفاظ ہیں:
"حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ"
یعنی:
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
یہاں ایک سوال لازماً پیدا ہوتا ہے: کیا اس کا تعلق اس سائنسی سفر سے جوڑا جاسکتا ہے جس پر انسان آج چل نکلا ہے؟


نہ حضرت سلیمانؑ کے واقعے کو جدید سائنس کا تجربہ کہا جاسکتا ہے، نہ بلعام کے گدھے کے واقعے کو سائنسی دلیل، اور نہ حدیثِ نبوی ﷺ کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں براہِ راست پیش گوئی قرار دینا درست ہوگا۔ مذہبی روایت اور سائنسی تحقیق کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔
لیکن سوال بہرحال دلچسپ ہے۔
کیونکہ سائنس اب واقعی جانوروں کی آوازوں کے اندر چھپے ہوئے معنی تلاش کرنے لگی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں سائنس دان وہیل، ڈولفن، ہاتھیوں، پرندوں اور دوسری مخلوقات کی آوازیں بڑی تعداد میں محفوظ کر رہے ہیں۔ پھر مصنوعی ذہانت ان آوازوں کا موازنہ کرکے یہ دیکھتی ہے کہ کون سی آواز کس موقع پر پیدا ہوتی ہے، کون سی آواز کس رویے کے ساتھ وابستہ ہے اور کیا مختلف آوازوں کے درمیان کوئی باقاعدہ ترتیب موجود ہے۔

فرض کیجیے ایک پرندہ ایک خاص آواز اس وقت نکالتا ہے جب شکاری قریب ہو۔ دوسری آواز اس وقت نکالتا ہے جب وہ اپنے بچے کو بلاتا ہے۔ تیسری آواز خوراک کی موجودگی میں سنائی دیتی ہے۔

ان آوازوں کو بار بار سننے والا انسان شاید صرف فرق محسوس کرے۔ لیکن مصنوعی ذہانت ہزاروں آوازوں کا ایک ساتھ موازنہ کرکے ان کے درمیان ایسے تعلقات تلاش کرسکتی ہے جو انسانی مشاہدے سے چھپے رہ جائیں۔

یہیں سے ایک نئے عہد کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اگر مشین یہ بتادے کہ فلاں آواز خطرے سے متعلق ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر ہم فوراً یہ دعویٰ کردیں کہ جانور نے کہا، "میرے ساتھ چلو، یہاں خطرہ ہے"، تو ہم سائنس سے آگے نکل جائیں گے۔
کیونکہ آواز کا مفہوم جاننا اور مکمل زبان سمجھ لینا دو مختلف چیزیں ہیں۔

ممکن ہے جانوروں کی زبان انسانی زبانوں سے بالکل مختلف ہو۔ ممکن ہے ان کے ہاں الفاظ کے بجائے آواز، حرکت، بو، جسمانی اشارے اور ماحول مل کر معنی پیدا کرتے ہوں۔ ممکن ہے ان کا پیغام کسی ایک لفظ میں نہیں بلکہ پورے رویے میں پوشیدہ ہو۔
اس لیے مستقبل کا جانور مترجم شاید ہماری طرح جملے نہ بنائے۔ ممکن ہے وہ صرف یہ بتائے
خطرہ۔
خوراک۔
بچہ قریب ہے۔
اجنبی موجود ہے۔
ساتھی کو بلایا جا رہا ہے۔
لیکن اگر کبھی مشین اس مقام تک پہنچ گئی جہاں وہ جانور کے اشارے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسی نظام میں جواب بھی دے سکے، تو معاملہ بہت آگے بڑھ جائے گا۔
پھر انسان صرف جانوروں کا مشاہدہ نہیں کرے گا، ان سے گفتگو بھی شروع کرسکے گا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہوگا جہاں انسان کو اپنے بارے میں ایک پرانا تصور بدلنا پڑے گا۔
ہم نے ہمیشہ خود کو کائنات کا سب سے زیادہ صاحبِ زبان جاندار سمجھا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو تہذیب کی بنیاد بنایا اور دوسروں کی آوازوں کو اکثر محض شور سمجھا۔ لیکن اگر ایک دن ہمیں معلوم ہوگیا کہ جنگل، سمندر اور آسمان بھی اپنے اپنے انداز میں مسلسل پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے تو مسئلہ جانوروں کی خاموشی کا نہیں، ہماری سماعت کا تھا۔
قرآن کہتا ہے:
"وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ"
"لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"
اس آیت کو مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔ لیکن اس میں انسان کے لیے ایک گہرا فکری سوال ضرور موجود ہے: کیا ہماری لاعلمی اس بات کی دلیل ہے کہ دوسری مخلوقات بے زبان ہیں، یا صرف یہ کہ ہم ان کی زبان نہیں جانتے؟
اور پھر حدیث کے وہ الفاظ
"حتی تکلم السباع الإنس"
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
ہم نہیں جانتے کہ اس پیش گوئی کا ظہور کس صورت میں ہوگا۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ آنے والی مشینیں جانوروں کی آوازوں کو واقعی کسی زبان کی طرح سمجھ پائیں گی یا نہیں۔
لیکن ایک بات ضرور بدل چکی ہے۔
انسان اب پہلی مرتبہ اس مفروضے کو سنجیدگی سے آزما رہا ہے کہ جانوروں کی آوازوں کے اندر معنی ہوسکتے ہیں۔

شاید مستقبل میں کسی دن انسان جنگل میں کھڑا ہو، ایک مشین کسی درندے کی آواز سنے اور پہلی مرتبہ اسے یہ معلوم ہوجائے کہ سامنے موجود مخلوق کیا کہنا چاہتی ہے۔
اس دن شاید سب سے بڑا انکشاف یہ نہ ہو کہ درندے بول سکتے ہیں۔
بلکہ یہ ہو کہ وہ ہمیشہ سے بول رہے تھے۔
ہم ہی ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔

عزم ، عوامی حمائت اور جغرافیے کی فتح


عزم ، عوامی حمائت اور جغرافیے کی فتح

 طاقتور ملک اپنے مقابل کو صرف اپنی طاقت کے پیمانے سے دیکھتا ہے۔ اسے اپنی فوج کی تعداد، اپنے ہتھیاروں، ٹیکنالوجی، دولت اور وسائل پر اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے عزم، جغرافیے، حکمتِ عملی اور عوامی حمایت کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ پھر بظاہر کمزور قوم میدانِ جنگ میں طاقتور کو ایسا سبق سکھا دیتی ہے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھتی ہے۔

ایک طرف فرانس تھا؛ ایک بڑی یورپی طاقت، ایک وسیع نوآبادیاتی سلطنت کا مالک، جدید اسلحے اور تربیت یافتہ فوج کا حامل۔ دوسری طرف ویت منہ 
 کی وہ قوت تھی جو بنیادی طور پر مقامی ویت نامی مزاحمت کی نمائندگی کرتی تھی۔ ظاہری موازنے میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ فرانس کے پاس جدید فوجی سازوسامان تھا، فضائی طاقت تھی، توپ خانہ تھا اور جنگی تجربہ تھا، جبکہ ویت منہ کے پاس وسائل محدود تھے۔

مگر جنگ صرف وسائل سے نہیں لڑی جاتی۔
فرانس نے "ڈین بین پھو " کے علاقے میں ایک مضبوط فوجی اڈہ قائم کیا۔ فرانسیسی قیادت کا خیال تھا کہ ویت منہ کی افواج اس قلعہ بند مقام پر براہِ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں فرانسیسی فوج اپنے جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت سے مخالف کو شکست دینے کا تصور کر رہی تھی۔
لیکن فرانسیسی قیادت ایک چیز کو سمجھنے میں ناکام رہی: جس جنگ کو وہ ہتھیاروں کی جنگ سمجھ رہے تھے، ویت منہ اسے ارادے، وقت اور جغرافیے کی جنگ سمجھ رہا تھا۔

ویت منہ کے کمانڈر جنرل "وو نگوین جیاپ"  نے روایتی انداز میں حملہ کرنے کے بجائے فرانسیسی اڈے کا محاصرہ شروع کردیا۔ توپیں پہاڑوں میں چھپائی گئیں۔ ہزاروں مقامی لوگ رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے۔ دشوار گزار راستوں سے خوراک، گولہ بارود اور فوجی سامان محاذ تک پہنچایا گیا۔

فرانس کے پاس طاقتور توپیں تھیں، مگر ویت منہ کے پاس وہ پہاڑ تھے جن پر توپیں چھپائی جاسکتی تھیں۔
فرانس کے پاس طیارے تھے، مگر ویت منہ نے زمین پر ایسا محاصرہ قائم کردیا تھا کہ فضائی رسد بھی مسلسل خطرے میں آگئی۔
فرانس کے پاس جدید فوج تھی، مگر جیاپ کے پاس وقت تھا۔
اور جنگ میں کبھی کبھی وقت بھی ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔

 مارچ 1954ء کو ڈین بین پھو کی جنگ شروع ہوئی۔ فرانسیسی فوج کو ابتدا میں شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس مقام کو اپنی طاقت کا مظہر سمجھ رہی ہے، وہی اس کے لیے ایک جال بننے والا ہے۔
ویت منہ نے فرانسیسی دفاعی پوزیشنوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا۔ خندقیں آگے بڑھتی گئیں۔ فرانسیسی فوج کا دائرہ سکڑتا گیا۔ رسد مشکل ہوتی گئی اور بالآخر وہ لمحہ آگیا جب جدید فوجی طاقت رکھنے والی فرانسیسی فوج ایک ایسے محاصرے میں پھنس چکی تھی جس سے نکلنا آسان نہیں تھا۔
7 ، صرف 56 روز بعد 
، 7 مئی 1954ء کو فرانسیسی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔
ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والی مقامی قوت کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست کھا چکی تھی۔
یہ صرف ایک فوجی شکست نہیں تھی۔ اس شکست نے فرانس کے پورے نوآبادیاتی منصوبے کو ہلا کر رکھ دیا اور فرانسیسی ہندچین میں اس کے مستقبل پر بنیادی سوال کھڑا کردیا۔ بالآخر فرانس کو ویت نام اور خطے سے اپنے نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کی طرف جانا پڑا۔

ڈین بین پھو  کی لڑائی ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتی ہے:
طاقت اور فتح ایک ہی چیز نہیں۔
ایک ملک کے پاس زیادہ ٹینک ہوسکتے ہیں، زیادہ طیارے ہوسکتے ہیں، جدید ترین میزائل ہوسکتے ہیں، بڑی فوج ہوسکتی ہے، زیادہ دولت ہوسکتی ہے؛ لیکن اگر اسے یہ یقین ہوجائے کہ مخالف صرف اس لیے ہار جائے گا کہ وہ کمزور ہے، تو یہی یقین اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔

تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بڑی طاقتیں چھوٹی قوموں کو محض اعداد و شمار کی نظر سے دیکھتی رہیں اور پھر جنگ کے میدان میں انہیں معلوم ہوا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتیں، اپنے یقین سے بھی لڑتی ہیں۔

ڈین بین پھو میں فرانس کے پاس بندوقیں زیادہ تھیں، مگر ویت منہ کے پاس مقصد زیادہ واضح تھا۔
فرانس کے پاس جدید فوجی ٹیکنالوجی تھی، مگر جیاپ نے جنگ کو اپنی شرائط پر لڑا۔
فرانس کے پاس طاقت تھی، مگر ویت منہ نے اس طاقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی محدود کردیا۔
یہاں ایک اور اہم سبق بھی ہے۔ کمزور فریق کا کامیاب ہونا محض جذبات یا بہادری کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے حکمتِ عملی، مقامی جغرافیے کا گہرا علم، رسد کا غیر معمولی انتظام، طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت اور عوامی تعاون موجود تھا۔


آج دنیا پھر طاقت کے مظاہروں کے دور میں داخل ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے جنگی بجٹ، جدید میزائلوں، ڈرونز، طیارہ بردار جہازوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد گنواتی ہیں۔ چھوٹے ممالک اپنی کمزوری جانتے ہیں، مگر تاریخ انہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ جنگ کا نتیجہ طے نہیں کرتا۔



جنگ جیتنے کے لیے صرف دشمن سے زیادہ طاقتور ہونا کافی نہیں؛ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دشمن کس چیز کے لیے لڑ رہا ہے، کتنی دیر لڑ سکتا ہے اور اس کی زمین اس کے لیے کتنی بڑی طاقت بن سکتی ہے۔


طاقت اگر غرور بن جائے تو کمزوری بن سکتی ہے۔

اور کمزوری اگر عزم، حکمت اور صبر کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔

اتوار، 13 ستمبر، 2026

بڑی بہوکا پچھتاوا




بڑی بہو کا پچھتاوا

بعض گھروں میں رشتے کسی ایک بڑے واقعے سے نہیں ٹوٹتے؛ وہ چھوٹی چھوٹی خاموشیوں، ادھورے سوالوں اور دل میں رکھے ہوئے گلے شکووں سے آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ باہر سے گھر ویسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر اندر رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوچکے ہوتے ہیں۔

میرے بچپن کا ایک دوست ایک روز میرے سامنے غیر معمولی خاموش بیٹھا تھا۔ وہ زندگی کے سرد و گرم سے گزر چکا تھا، معاملہ فہم، ہنس مکھ اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والا انسان تھا۔ مشکل آتی تو گھبرانے کے بجائے مسئلے کو سمجھتا، سب کی بات سنتا اور ایسا راستہ تلاش کرتا جس پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلا جاسکے۔ شاید اسی لیے اس نے اپنے بیٹے کے گھر میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو بھی جلد بھانپ لیا تھا۔
میں نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا
’’میرے بڑے بیٹے کا گھر مشکل میں ہے۔‘‘
اس کا بڑا بیٹا ایک سرکاری افسر ہے؛ محنتی، ذمہ دار، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خاندان کا خیال رکھنے والا۔ اس کی شادی بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ بیوی ملازمت کے بجائے گھر اور بچوں کو ترجیح دے گی۔
اس نے یہ ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھائی۔ بچوں کی پرورش، ان کی تعلیم، بیماری میں دیکھ بھال، گھر کے روزمرہ معاملات اور مہمانوں کی خاطر مدارت، سب کچھ اس نے اپنے ذمے لے لیا۔ ساس کی وفات کے بعد بھی اس نے گھر کو محبت اور سلیقے سے سنبھالا۔ سسر، دیور اور گھر آنے والی بیٹیاں اس کے حسنِ سلوک کی معترف تھیں۔
پھر چھوٹے دیور نے اپنی ایک کولیگ سے شادی کا فیصلہ کیا۔ بڑی بھابی نے خوش دلی سے شادی کے انتظامات میں حصہ لیا۔ یوں ایک ہی گھر میں دو بہوئیں آگئیں۔
چھوٹی بہو نے شادی سے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ وہ اپنی ملازمت جاری رکھے گی۔ اس کے شوہر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی۔ دونوں میاں بیوی اس انتخاب پر متفق تھے، اس لیے خاندان کے لیے بھی اعتراض کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔
وہ جانتی تھی کہ ملازمت کے باعث وہ گھر کے تمام کاموں میں برابر حصہ نہیں لے سکے گی۔ چنانچہ اس نے اپنے شوہر کے ذریعے سسر کو گھر میں ملازمہ رکھنے پر آمادہ کیا اور اس کی تنخواہ خود ادا کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔ دفتر سے واپسی کے بعد وہ کچن میں بڑی بھابی کا ہاتھ بھی بٹاتی۔ دونوں کے تعلقات بھی خوشگوار تھے اور بظاہر گھر کا نظام بھی بہتر انداز میں چل رہا تھا۔
مگر بعض مسائل گھر کے شور میں نہیں، انسان کے اندر خاموشی سے پیدا ہوتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ بڑی بہو کو چھوٹی بہو کی زندگی مختلف دکھائی دینے لگی۔ اسے کبھی خیال آتا
’’میں بھی پڑھی لکھی تھی۔ اگر میں نے ملازمت جاری رکھی ہوتی تو شاید آج میری زندگی مختلف ہوتی۔‘‘
اس خیال کے ساتھ ایک اور احساس بھی آتا
’’میں نے گھر اور بچوں کے لیے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ آج میں اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بھی شوہر کی محتاج ہوں۔ میری اپنی آمدنی نہیں۔‘‘
اگرچہ اس کا شوہر کی تنخواہ بینک میں  آتی تھی  اور  شوہر نے اسے اپنا بینک کارڈ بھی دے رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود اسے محسوس ہوتا تھا کہ بینک کارڈ اور اپنی آمدنی میں فرق ہوتا ہے۔ ایک میں سہولت ہوتی ہے، دوسرے میں اپنی مالی خود مختاری 
ہوتی ہے۔
یہ احساس کسی عورت کی ناشکری نہیں ہوتا۔ انسان کبھی کبھی اس زندگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے جسے اس نے خود چنا ہوتا ہے، خصوصاً جب اسے اپنے سامنے کسی دوسرے راستے پر چلتی ہوئی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
چھوٹی بہو کی ملازمت، اس کی آمدنی اور مالی خودمختاری بڑی بہو کو اپنے ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔ شاید اسے یہ سوال پریشان کرنے لگا تھا کہ گھر اور بچوں کے لیے کیا جانے والا فیصلہ کہیں اس کی اپنی شناخت اور پیشہ ورانہ زندگی کی قیمت پر تو نہیں ہوا تھا۔
 ازدواجی زندگی کے بہت سے فیصلے کسی ایک شخص کے فیصلے نہیں ہوتے۔ کبھی ایک کی خواہش ہوتی ہے، دوسرا رضامند ہوجاتا ہے؛ کبھی حالات فیصلہ کرتے ہیں اور بعد میں انسان اس فیصلے کو اپنا سمجھ لیتا ہے۔
برسوں بعد یہ طے کرنا بھی شاید بے معنی تھا کہ اصل فیصلہ کس نے کیا تھا۔ فیصلہ گزر چکا تھا۔ اب اصل سوال یہ تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ پیدا ہونے والے احساسات کو کیسے سمجھا جائے۔
پچھتاوا اگر وقت پر گفتگو میں تبدیل نہ ہو تو شکایت بن جاتا ہے، شکایت موازنے میں بدل جاتی ہے اور موازنہ رفتہ رفتہ دلوں کے درمیان فاصلے پیدا کردیتا ہے۔
میرے دوست کے مطابق اس کے بڑے بیٹے کے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا تھا۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے تھے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی قابلِ غورہے۔ ہم برسوں سے ’’جنریشن گیپ‘‘ کی بات کرتے آئے ہیں، مگر آج یہ فاصلہ صرف دو نسلوں کے درمیان نہیں رہ گیا۔ زندگی اتنی تیزی سے بدل رہی تھی کہ کبھی پانچ سال کا عمر کا فرق بھی دو انسانوں کے تجربات، ترجیحات اور زندگی کے تصور میں نمایاں فرق پیدا کردیتاہے۔
میرے دوست کے دونوں بیٹوں  کی عمر میں بھی تقریباً پانچ سال کا فرق تھا۔
بڑے بھائی نے جس ماحول میں جوانی دیکھی تھی، وہاں ایک آمدنی پر گھر چلانا، شوہر کا کمانا اور بیوی کا گھر سنبھالنا ایک عام خاندانی تصور تھا۔ چھوٹے بھائی کے زمانے تک معاشی حالات بدل چکے تھے۔ مہنگائی بڑھی، اخراجات میں اضافہ ہوا، خواتین کی پیشہ ورانہ شمولیت عام ہوئی اور مالی خودمختاری نے خاندانی زندگی کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیا۔
چنانچہ بھائیوں کے درمیان عمر کا فرق صرف پانچ سال تھا، مگر ان کے تجربات اور ترجیحات کے درمیان فاصلہ کہیں زیادہ تھا۔
دونوں بہوئیں بھی اسی تبدیلی کی نمائندہ تھیں۔ ایک نے گھر اور بچوں کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا تھا، دوسری نے گھر کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ شناخت کو بھی برقرار رکھا تھا۔ دونوں کے انتخاب اپنی جگہ قابلِ احترام تھے۔
ہم اکثر دوسروں کی زندگی کا حاصل دیکھتے ہیں، اس کی قیمت نہیں۔
چھوٹی بہو کی ملازمت اور آمدنی دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے پیچھے دفتر کی ذمہ داریاں، وقت کی کمی، ذہنی دباؤ اور گھر و ملازمت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی مسلسل کوشش بھی موجود تھی۔
دوسری طرف بڑی بہو کی گھریلو زندگی بظاہر آسودہ دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محنت، بچوں کی پرورش، خاندان کی خدمت اور اپنی خواہشات کو پیچھے رکھنے کی قیمت بھی موجود تھی۔ اب اگر اسے مالی خودمختاری کی کمی محسوس ہوتی تھی تو اس احساس کو محض حسد یا شکایت کہہ دینا بھی ناانصافی ہوتی۔
خواہش اپنی جگہ فطری عمل ہے۔ اپنی شناخت، مالی خودمختاری اور اپنے لیے کچھ کرنے کی خواہش بھی انسانی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح گھر، بچوں اور خاندان کو اپنی زندگی کی ترجیح بنانا بھی کوئی کمتر انتخاب نہیں۔
مسئلہ انتخاب میں نہیں تھا؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے انتخاب کو دوسرے کے انتخاب سے ناپنے لگتا ہے۔
زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اکثر دوسرے کا حاصل دکھائی دیتا ہے، اس کی قیمت نہیں۔  کسی گھر میں اختلاف پیدا ہو تو فوراً یہ طے کرنا ضروری نہیں کہ غلط کون ہےا۔ کبھی یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ کون کس احساس کے ساتھ کھڑا ہے۔
بڑی بہو شاید اپنے گزرے ہوئے فیصلے کا بوجھ محسوس کررہی تھی۔ شوہر شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے کبھی اس پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ چھوٹی بہو شاید اپنی ملازمت کو حق سمجھتی تھی، جبکہ بڑی بہو کو اس میں اپنے چھوڑے ہوئے راستے کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
سب اپنی اپنی جگہ کسی نہ کسی حقیقت کے ساتھ کھڑے تھے۔
شاید اس گھر کو کسی ایک شخص کو قصوروار قرار دینے کے بجائے ایک ایسی گفتگو کی ضرورت تھی جس میں پرانے فیصلوں کا مقدمہ نہ چلایا جاتا، بلکہ موجودہ احساسات کو سمجھا جاتا۔
کیونکہ زندگی میں ہر فیصلہ اپنے وقت کے حالات، معلومات، ضرورتوں اور ترجیحات کے تحت کیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد ماضی کا فیصلہ نئے حالات کی روشنی میں غلط دکھائی دے سکتا ہے، مگر فیصلہ کرتے وقت انسان کے پاس مستقبل کا علم نہیں ہوتا۔
اسی لیے فیصلہ کرنے سے پہلے رکنا چاہیے، سوچنا چاہیے، شریکِ زندگی سے بات کرنی چاہیے، ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے اور جہاں ضروری ہو وہاں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ آج کا انتخاب کل ہماری شخصیت اور زندگی پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔
لیکن فیصلہ ہوجانے کے بعد ماضی کو بار بار کریدتے رہنا بھی دانش مندی نہیں۔ انسان ماضی کو تبدیل نہیں کرسکتا، البتہ ماضی کے ساتھ اپنے تعلق کو ضرور بدل سکتا ہے۔
 زندگی کا سلیقہ یہی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے عقل، تجربے اور مشورے سے کام لیا جائے؛ لیکن فیصلہ ہوجانے کے بعد اسے مسلسل پچھتاوے کی سزا نہ بنایا جائے۔
 ڈینش مفکر سورن کیرکیگارڈ  1813–1855) نے زندگی کے اسی تضاد کو ایک مختصر مگر گہری بات میں سمیٹ دیا تھا
“زندگی کو صرف پیچھے مڑ کر سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اسے آگے کی طرف بڑھتے ہوئے جینا پڑتا ہے۔”


جمعہ، 11 ستمبر، 2026

یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟




اگر یمن اور سعودی عرب کے تعلقات کو محض موجودہ حوثی جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس تعلق کی تاریخی پیچیدگی

 نظرانداز ہوجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتہ سرحد، سلامتی، قبائلی تعلقات، معاشی مفادات، علاقائی سیاست اور ایران کے اثر و رسوخ کے کئی دھاگوں سے بنا ہے۔ موجودہ کشیدگی اسی طویل تاریخ کا تازہ ترین باب ہے۔

یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟

یمن اور سعودی عرب دو ایسے پڑوسی ہیں جنہیں جغرافیہ نے ایک دوسرے سے جدا ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ سعودی عرب کی جنوبی سرحد یمن سے ملتی ہے، جبکہ یمن بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے دہانے پر واقع ہے۔ اس لیے ریاض کے لیے یمن محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ اس کی قومی سلامتی کا براہِ راست حصہ ہے۔ دوسری طرف یمن کے لیے سعودی عرب ایک طاقتور ہمسایہ، معاشی مرکز اور سیاسی اثر رکھنے والی علاقائی قوت ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد دوستی سے زیادہ ضرورت پر رہی ہے۔ 1934 میں دونوں کے درمیان جنگ ہوئی اور اسی سال طائف معاہدے نے تعلقات کو ایک عارضی بنیاد فراہم کی۔ بعد کے عشروں میں سرحدی تنازعات ختم نہ ہوسکے۔ بالآخر 12 جون 2000 کو جدہ میں ہونے والے بین الاقوامی سرحدی معاہدے نے دونوں ملکوں کی زمینی سرحد کے دیرینہ تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ 

لیکن سرحد کا مسئلہ حل ہونے کے باوجود ایک بڑا سوال باقی رہا: یمن میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو؟

یہ سوال اس لیے اہم تھا کہ سعودی عرب ایک مستحکم اور ایسا یمن چاہتا تھا جو اس کی جنوبی سرحد کے لیے خطرہ نہ بنے۔ یمن میں کمزور مرکزی حکومت، قبائلی تقسیم اور مسلسل سیاسی بحران نے سعودی پالیسی کو ہمیشہ محتاط رکھا۔ ریاض نے مختلف ادوار میں یمنی حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی کیا اور یمن کی داخلی سیاست میں اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔

1990 کی خلیجی جنگ نے اس تعلق کو شدید دھچکا پہنچایا۔ یمن کے اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح نے عراق کے کویت پر حملے کے معاملے میں ایسا موقف اختیار کیا جس سے سعودی عرب اور یمن کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی۔ سعودی عرب میں موجود بڑی تعداد میں یمنی کارکنوں کی واپسی نے یمن کی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ یوں دونوں ملکوں کے تعلقات میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ سیاسی اختلاف صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام یمنی شہری کی زندگی تک پہنچ سکتا ہے۔

پھر 2014 آیا، جب حوثی تحریک نے صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ یمن کا بحران داخلی سیاسی تنازع سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں کی کشمکش بن گیا۔ سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنے لیے ایک ایسا خطرہ سمجھا جس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا عنصر بھی شامل تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔ مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سہارا دینا اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔ 

مگر جنگ نے سعودی عرب کو وہ آسان فتح نہیں دی جس کی توقع ابتدائی مرحلے میں کی جاسکتی تھی۔ یمن کا دشوار جغرافیہ، قبائلی سیاست، مختلف مسلح گروہوں کے باہمی اختلافات اور حوثیوں کی گوریلا جنگ نے تنازع کو طویل کردیا۔ سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف حوثی نہیں رہے؛ جنوبی یمن میں علیحدگی پسند قوتیں، القاعدہ اور مختلف مقامی دھڑے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتے رہے۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: یمن کو صرف فوجی طاقت سے قابو نہیں کیا جاسکتا۔

سعودی عرب دنیا کی بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن یمن کی جنگ نے ثابت کیا کہ فوجی برتری اور سیاسی فتح دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک ریاست کسی علاقے پر بمباری کرسکتی ہے، سرحد محفوظ کرسکتی ہے اور مخالف کے عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن وہ محض طاقت کے ذریعے ایک منقسم معاشرے میں پائیدار سیاسی نظم پیدا نہیں کرسکتی۔

اسی لیے 2022 کی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف بھی قدم بڑھایا۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئیں اور عمان نے بھی ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ امن مکمل سیاسی تصفیے میں تبدیل نہیں ہوسکا۔

اور اب 2026 میں صورتحال ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ ستمبر 2026 میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی، سعودی سرحد اور اہداف پر حملوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کی جوابی کارروائی نے برسوں سے قائم نازک توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ باب المندب کی اہمیت اس بحران کو محض سعودی-یمنی تنازع نہیں رہنے دیتی؛ یہ عالمی تجارت، بحیرۂ احمر اور توانائی کی ترسیل کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ 

یہاں ایران کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی نقطۂ نظر سے حوثیوں کی مضبوطی کا مطلب صرف یمن میں ایک مخالف گروہ کی طاقت نہیں بلکہ جنوبی سرحد کے قریب ایرانی اثر و رسوخ کا بڑھنا بھی ہے۔ دوسری طرف حوثی خود کو محض ایرانی مہرہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہیں اور یمنی قومی سیاست، زیدی شناخت اور اپنے داخلی مفادات کو اپنی جدوجہد کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اس لیے یمن کے بحران کو صرف سعودی عرب بمقابلہ ایران کہنا بھی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔

اصل المیہ یہ ہے کہ اس کشمکش کی قیمت یمنی عوام ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک طویل جنگ، بے گھر ہونے، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ جنگ نے یمن کی ریاست کو کمزور کیا، معیشت کو تباہ کیا اور معاشرے کو مزید تقسیم کردیا۔

سعودی عرب کے لیے بھی یہ جنگ ایک سبق ہے۔ جنوبی سرحد پر مستقل امن صرف سرحد پار فوجی طاقت سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس میں یمن کی مختلف قوتوں کو قابلِ قبول سیاسی نظام میں جگہ ملے، سعودی سلامتی کی ضمانت ہو اور یمن کو کسی دوسری علاقائی طاقت کا میدانِ جنگ بننے سے روکا جائے۔

یمن کے لیے بھی حقیقت تلخ ہے۔ سعودی عرب کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن سعودی سرپرستی پر مکمل انحصار بھی یمن کی خودمختاری کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

اس لیے مستقبل کا راستہ نہ سعودی غلبے میں ہے، نہ حوثی عسکری فتح میں اور نہ ایرانی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ میں۔ راستہ ایک ایسے یمنی سیاسی سمجھوتے سے نکلتا ہے جس میں طاقت بندوق سے پارلیمان، مقامی حکومت اور سیاسی مذاکرات کی طرف منتقل ہو۔

یمن اور سعودی عرب کا جغرافیہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونے دے گا۔ سوال یہ نہیں کہ دونوں ایک دوسرے سے دور رہ سکتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے ذریعے رہیں گے یا ایک دوسرے کی سلامتی کو تسلیم کرتے ہوئے امن کے ذریعے؟

موجودہ بحران کا اصل فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

زمین ، زر اور زردار



زمین، زر اور زردار

کسی ملک کی معیشت کا اصل چہرہ اس کے بینک بیلنس، بلند عمارتوں یا ارب پتیوں کی تعداد نہیں؛ اس کے عام آدمی کی زندگی ہے۔ اگر قومی دولت بڑھ رہی ہو لیکن عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے، نوجوان کے لیے روزگار اور متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر خواب بنتا جائے تو سوال صرف یہ نہیں کہ معیشت کتنی بڑھی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کا فائدہ کس کو پہنچا؟

ڈاکٹر محبوب الحق نے 1990ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی پہلی انسانی ترقی رپورٹ کے آغاز میں لکھا تھا
“کسی قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔”
یہ محض ایک خوب صورت جملہ نہیں بلکہ ترقی کے روایتی تصور میں ایک بنیادی تبدیلی تھی۔ محبوب الحق کے نزدیک قومی آمدن اور پیداوار اہم ضرور ہیں، مگر معیشت کا حتمی مقصد انسان کی زندگی بہتر بنانا ہے؛ اسے تعلیم، صحت، روزگار، مواقع اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔

اسی لیے صرف شرحِ نمو کو ترقی کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر قومی آمدن بڑھے مگر عام آدمی کی قوتِ خرید گھٹ جائے، روزگار غیر یقینی ہو، تعلیم اور علاج مہنگے ہوجائیں اور اپنا گھر خریدنا اس کی استطاعت سے باہر نکل جائے تو معاشی اعداد و شمار خوش حالی کی مکمل تصویر نہیں دیتے۔

زمین اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ جائیداد کی قیمت بڑھتی ہے تو مالک کی دولت بڑھ جاتی ہے، مگر اسی شہر میں ایک نوجوان کے لیے گھر خریدنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ اس وقت حقیقی قومی دولت بنتا ہے جب وہ صنعت، ٹیکنالوجی، پیداوار اور روزگار پیدا کرے۔ غیر پیداواری اثاثوں میں گردش کرتا سرمایہ دولت کی قیمت تو بڑھا سکتا ہے، معیشت کی پیداواری قوت نہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص دولت مند کیوں ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دولت کیسے پیدا ہورہی ہے اور اس کے مواقع کتنے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ صحت مند معیشت وہ ہے جس میں سرمایہ  پیداوار کو بڑھائے، کاروبار روزگار پیدا کرے، مسابقت قائم رہے اور عام شہری کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کھلے ہوں۔

پاکستان میں معاشی کامیابی کا پیمانہ بھی اسی بنیاد پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ شرحِ نمو کتنی ہے یا قومی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عام آدمی کی قوتِ خرید کتنی باقی رہی، کتنے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا اور کتنے خاندان اپنے گھر کا خواب پورا کرسکے۔

کیونکہ آخرکار معیشت کا حساب قومی خزانے میں نہیں، انسان کی زندگی میں ہوتا ہے۔
اور اس زندگی کا سب سے پہلا امتحان گھر اور باورچی خانے میں ہوتا ہے۔ جب گھر بنانا دور کا خواب بن جائے اور باورچی خانہ چلانا روزمرہ جدوجہد کا محور، تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے عام آدمی کے لیے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

زمین ہماری دولت ہے، زر ہماری ضرورت ہے اور زردار معیشت کا حصہ ہیں؛ مگر قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔

مگر پاکستانی انسان کی زندگی کیسے کٹ رہی ہے۔
بقول غالب 
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

منگل، 8 ستمبر، 2026

نئے تجربے کا پرانا مشورہ



نئے تجربے کا پرانا مشورہ

سہیل وڑائچ صاحب ملک کے قابلِ احترام، باخبر اور تجربہ کار صحافی ہیں۔  دہائیوں سے پاکستانی سیاست اور ریاستی معاملات کو قریب سے دیکھنے والے شخص کی حیثیت سے ان کی آرا یقیناً سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہیں۔ سانحہ پمز کے تناظر میں انہوں نے انتظامی اصلاح کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کا بنیادی مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور اسلام آباد کا انتظامی نظام زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ اس مقصد سے اختلاف کی گنجائش کم ہے؛ اختلاف صرف اس سوال پر ہے کہ اس مقصد کے حصول کا بہترین انتظامی راستہ کیا ہونا چاہیے؟

سانحہ پمز ایک قومی المیہ ہے۔ اس نے اداروں کے درمیان رابطے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، ذمہ داری کے تعین اور انتظامی جواب دہی کے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں، لیکن اصلاح کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ پہلے موجودہ نظام کی کمزوریوں کی درست تشخیص کی جائے، پھر یہ طے کیا جائے کہ خرابی کہاں ہے اور اسے دور کرنے کے لیے کس سطح پر تبدیلی درکار ہے۔

سہیل وڑائچ صاحب نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاح، مزید خودمختاری، سی ڈی اے کو اضافی اختیارات، بعض سرکاری اداروں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے اور ماضی کے مقامی حکومتوں کے تجربے سے استفادہ کرنے جیسی تجاویز دی ہیں۔ ان میں کئی نکات قابلِ غور ہیں، خصوصاً مقامی سطح پر اختیار اور انتظامی رابطے کو بہتر بنانے کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اختیار کو ایک ادارے میں مزید مرتکز کرنا واقعی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ ہوگا؟

مثلاً سی ڈی اے کو اگر شہری منصوبہ بندی، ترقی، سڑکوں اور شہری سہولتوں کے ساتھ اسکولوں اور اسپتالوں کی ذمہ داریاں بھی دے دی جائیں تو ممکن ہے انتظامی رابطہ کسی حد تک آسان ہوجائے، لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک ادارے پر اس کی بنیادی استعداد سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوجائیں۔ صحت اور تعلیم اپنے الگ تقاضے رکھتے ہیں؛ ان کے لیے ماہر افرادی قوت، مخصوص انتظامی ڈھانچہ، پیشہ ورانہ نگرانی اور الگ جواب دہی درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح اسلام آباد کو زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز اصولی طور پر قابلِ بحث نہیں بلکہ قابلِ غور ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ اختیار کس کو منتقل کیا جائے۔ اگر مقصد منتخب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہے تو یہ جمہوری اور انتظامی دونوں اعتبار سے ایک مثبت قدم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اختیار ایک غیر منتخب سرکاری ادارے سے دوسرے غیر منتخب ادارے کو منتقل ہو تو اسے عوامی خودمختاری کہنا مشکل ہوگا؛ یہ محض انتظامی مرکزیت کی ایک نئی شکل بن سکتی ہے۔

مختلف محکموں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے کے بجائے ان کے درمیان مضبوط رابطے کا نظام بھی ایک متبادل راستہ ہوسکتا ہے۔ صحت کا محکمہ صحت کی ذمہ داری پوری کرے، تعلیم کا محکمہ تعلیم کی، پولیس امن و امان کی، ریسکیو ہنگامی حالات کی اور سی ڈی اے شہری ترقی کی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بحران کی صورت میں ان اداروں کے درمیان رابطہ فوری، واضح اور مؤثر ہو، ذمہ داریاں پہلے سے متعین ہوں اور ناکامی کی صورت میں جواب دہی بھی واضح ہو۔

وزیرِ صحت یا کسی اعلیٰ افسر کی باقاعدہ موجودگی یقیناً نگرانی اور احساسِ ذمہ داری کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن مستقل اصلاح کسی ایک شخصیت کی موجودگی سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے آتی ہے جو شخصیتوں سے بالاتر ہو۔ اچھے نظام میں وزیر موجود ہو تو بھی کام ہوتا ہے اور وزیر موجود نہ ہو تو بھی۔

ماضی کے ضلعی حکومتوں کے تجربے سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا تصور اپنی جگہ اہم تھا، لیکن اس نظام کی خامیوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ صرف ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت آتی ہے جب اختیار، وسائل، ذمہ داری اور جواب دہی ایک ہی سطح پر متوازن ہوں۔

شاید پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصلاح کے بجائے اکثر نئے تجربے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ایک نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے دوسرا نظام لے آتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کی خامیاں سامنے آتی ہیں اور ایک نیا ماڈل تجویز کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اب نظام بدلنے سے زیادہ نظام کو درست طور پر چلانے پر توجہ دینا ہوگی۔

یہاں عوام کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کو سیاسی اور انتظامی شعور سے محروم سمجھنا درست نہیں۔ وہ اپنے علاقے کے اسکول، اسپتال، سڑک، پانی اور صفائی کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے نے کیا وعدہ کیا تھا اور کیا پورا کیا۔ اس لیے مقامی مسائل کا بہترین حل یہی ہے کہ جہاں ممکن ہو، فیصلہ سازی اور وسائل عوام کے منتخب نمائندوں کے قریب لائے جائیں اور انہیں براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔

پاکستان نے آٹھ دہائیوں میں بہت سے انتظامی تجربات کیے ہیں۔ اب شاید وقت آگیا ہے کہ ہم ہر مسئلے کا جواب ایک نئے ادارے، نئی اتھارٹی یا نئے ماڈل میں تلاش کرنے کے بجائے موجودہ اداروں کی استعداد، رابطے اور جواب دہی کو بہتر بنائیں۔ سی ڈی اے کو مزید اختیارات دینا ایک ممکنہ راستہ ہوسکتا ہے، مگر اسے واحد یا لازمی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ہو، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔
آخرکار مسئلہ کسی ایک ادارے یا کسی ایک انتظامی ماڈل کا نہیں؛ مسئلہ حکمرانی کے اس اصول کا ہے کہ اختیار جہاں ہو، ذمہ داری بھی وہیں ہو اور جواب دہی بھی وہیں ہو۔ پاکستان کو اب تجربات سے زیادہ تسلسل، نعروں سے زیادہ نظام اور مرکزیت سے زیادہ عوامی اختیار کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک اور انتظامی تجربے کو مسترد کرنے کے بجائے ہر تجویز کو اس کی عملی افادیت کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے—اور جہاں اختیار عوام تک منتقل کرنے، اداروں کو مؤثر بنانے اور جواب دہی یقینی بنانے کا راستہ نکلتا ہو، اسے اختیار کرنا چاہیے۔

میں کون ہوں کا خلاسہ



میں کون ہوں کا خلاصہ

 وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
"اور ہر صاحبِ علم کے اوپر ایک اور صاحبِ علم ہے۔"
شاید انسانی علم کی حدود بیان کرنے کے لیے اس سے زیادہ مختصر اور جامع جملہ ممکن نہیں۔
جدید انسان کو اس زمین پر نمودار ہوئے تقریباً تین لاکھ سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران وہ غاروں سے نکل کر شہر بسانے لگا، سمندروں کو عبور کیا، آسمان کی وسعتوں تک پہنچا، چاند پر قدم رکھا، ایٹم کے اندر جھانکا، انسانی جینیاتی رمز کو پڑھا اور ایسی مشینیں بنا لیں جو انسانی زبان کو سمجھ کر اس میں گفتگو کرسکتی ہیں۔ اب وہ جانوروں کے ابلاغ کو سمجھنے اور ان سے کسی درجے میں مکالمہ قائم کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔
یہ انسانی علم کی حیرت انگیز داستان ہے۔
مگر اس تمام پیش رفت کے باوجود ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے
انسان خود کیا ہے؟
یہ سوال اس لیے بنیادی ہے کہ انسان جس دنیا کو جانتا ہے، وہ اس کے حواس کے ذریعے اس تک پہنچنے والی دنیا ہے۔ بلی وہ کچھ دیکھ سکتی ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتا، کتا ایسی بو محسوس کرسکتا ہے جس کا انسانی حواس ادراک نہیں کرسکتے، اور بعض جاندار ایسی آوازیں سن سکتے ہیں جو ہماری سماعت کی حدود سے باہر ہیں۔
اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے
ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں، حقیقت صرف اتنی نہیں۔
سائنس نے انسانی حواس کی محدودیت کو دور کرنے کے لیے خوردبین، دوربین، حساس پیمائشی آلات اور بے شمار دوسرے ذرائع ایجاد کیے۔ ان کے ذریعے ہماری نگاہ کائنات کے دور ترین گوشوں اور مادے کی انتہائی باریک سطحوں تک پہنچ گئی۔ لیکن یہاں بھی ایک حد موجود ہے: یہ تمام آلات بھی انسانی عقل کی پیداوار ہیں اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والا علم انسانی فہم کے دائرے ہی میں آتا ہے۔
سمندر اس حقیقت کی ایک سادہ مثال ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے، مگر انسان آج بھی ان کی گہرائیوں اور حیاتیاتی تنوع کے بڑے حصے کو پوری طرح نہیں جانتا۔ اگر انسان اپنے ہی سیارے کے ایک بڑے حصے کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا تو اپنے اندر موجود اس پیچیدہ جہان کو مکمل طور پر جان لینا کس قدر دشوار ہوگا؟
یہاں سے سوال باہر کی دنیا سے اندر کی دنیا کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
ہم دماغ کے بارے میں حیرت انگیز معلومات حاصل کرچکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ دماغ کے برقی اور کیمیائی عمل یادداشت، جذبات، زبان، فیصلوں اور رویوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ 
لیکن اس تمام علم کے باوجود ایک سوال ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہوا
شعور آخر ہے کیا؟
ہم دماغ کی سرگرمی کو دیکھ اور ناپ سکتے ہیں، لیکن "میں" ہونے کا داخلی تجربہ کہاں سے آتا ہے؟ ہم درد کے دوران دماغ میں پیدا ہونے والی عصبی سرگرمی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، مگر خود درد کا تجربہ کیا ہے؟ ہم یادداشت سے متعلق دماغی حصوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں، مگر انسان اپنے ماضی کو اپنا ماضی کیوں محسوس کرتا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں دماغ اور شعور کے سوال سے روح کا سوال جنم لیتا ہے۔
قرآن اس مقام پر انسان کو اس کی علمی حد یاد دلاتا ہے
"اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔"
غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں روح کی ماہیت کا مکمل نقشہ پیش کرنے کے بجائے انسان کو اس کے علم کی محدودیت کا احساس دلایا گیا ہے۔
یہاں سے سائنس اور مذہب کے سوالات کے دائرے الگ ہوجاتے ہیں۔ سائنس ان مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے جنہیں مشاہدے، تجربے اور پیمائش کے ذریعے جانچا جاسکتا ہے، جبکہ مذہب انسان کے وجود، مقصد، روح، موت اور آخرت جیسے سوالات کو ایک معنوی اور مابعد الطبیعی تناظر میں دیکھتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ سائنس نے روح کو ثابت کردیا ہے؛ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سائنس نے روح کو رد کردیا ہے۔ موجودہ سائنسی طریقۂ تحقیق روح کو براہِ راست ناپنے یا مشاہدہ کرنے کا کوئی ایسا قابلِ قبول طریقہ فراہم نہیں کرتا جس کی بنیاد پر اس کے وجود یا عدمِ وجود کا حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔
مذہبی روایت اس سے آگے ایک اور امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ انبیاء کے بارے میں وحی، فرشتوں کے مشاہدے اور بعض غیر معمولی ادراکات کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان واقعات کو طبیعیات کے کسی فارمولے میں تبدیل کرنا درست نہیں، کیونکہ معجزہ سائنسی تجربے کی اصطلاح نہیں۔ تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
اگر انسانی حواس محدود ہیں تو کیا حقیقت بھی لازماً اتنی ہی محدود ہے جتنی ہماری آنکھ دیکھتی، کان سنتے اور عقل موجودہ سطح پر سمجھتی ہے؟
یہ سوال ہمیں پھر انسان کی طرف لے آتا ہے۔
انسان کائنات کے راز کھولنے میں مصروف ہے، مگر اپنے شعور کی آخری حقیقت ابھی تک نہیں جان سکا۔ وہ دماغ کی ساخت اور فعالیت کو سمجھ رہا ہے، مگر "میں" کی مکمل حقیقت اس کے سامنے نہیں کھلی۔ وہ موت کے جسمانی عمل کو بڑی حد تک سمجھ چکا ہے، مگر موت کے بعد شعور کا سوال اب بھی فلسفے اور مذہب کے سامنے موجود ہے۔
اس کے باوجود انسان اکثر خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر حتمی فیصلے سناتا ہے۔
شاید یہاں خدا سے پہلے ایک سوال خود انسان سے پوچھنا چاہیے
جس انسان نے ابھی اپنی ذات کو پوری طرح نہیں سمجھا، وہ کائنات کی آخری حقیقت کے بارے میں کس حد تک حتمی فیصلہ کرسکتا ہے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے وجود پر سوال اٹھانا غلط ہے۔ خدا کا سوال انسانی فکر کے قدیم ترین اور گہرے ترین سوالات میں سے ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے انسان کو اپنے علم کی حدود کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔
قرآن کا یہ فرمان—
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
—اسی علمی انکسار کی دعوت دیتا ہے۔
انسان نے تقریباً تین لاکھ سال کے سفر میں کائنات کے بے شمار راز دریافت کیے ہیں، لیکن شاید اس کی سب سے بڑی دریافت ابھی باقی ہے:
خود انسان۔
شاید خدا کی تلاش کا راستہ بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ کائنات کے آخری سرے تک پہنچنے سے پہلے انسان کو اپنے اندر اترنا ہوگا؛ اپنے شعور، اپنے ارادے، اپنی خواہش، اپنے خوف، اپنی اخلاقی ذمہ داری اور اپنے وجود کے معنی کو سمجھنا ہوگا۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان کائنات میں کہاں کھڑا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ خود کیا ہے۔
اور شاید اسی لیے صدیوں سے ایک معروف حکیمانہ و صوفیانہ قول انسانی فکر کو اپنی طرف متوجہ کرتا آیا ہے:
"مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"
"جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔"