منگل، 8 ستمبر، 2026

میں کون ہوں کا خلاسہ



میں کون ہوں کا خلاصہ

 وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
"اور ہر صاحبِ علم کے اوپر ایک اور صاحبِ علم ہے۔"
شاید انسانی علم کی حدود بیان کرنے کے لیے اس سے زیادہ مختصر اور جامع جملہ ممکن نہیں۔
جدید انسان کو اس زمین پر نمودار ہوئے تقریباً تین لاکھ سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران وہ غاروں سے نکل کر شہر بسانے لگا، سمندروں کو عبور کیا، آسمان کی وسعتوں تک پہنچا، چاند پر قدم رکھا، ایٹم کے اندر جھانکا، انسانی جینیاتی رمز کو پڑھا اور ایسی مشینیں بنا لیں جو انسانی زبان کو سمجھ کر اس میں گفتگو کرسکتی ہیں۔ اب وہ جانوروں کے ابلاغ کو سمجھنے اور ان سے کسی درجے میں مکالمہ قائم کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔
یہ انسانی علم کی حیرت انگیز داستان ہے۔
مگر اس تمام پیش رفت کے باوجود ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے
انسان خود کیا ہے؟
یہ سوال اس لیے بنیادی ہے کہ انسان جس دنیا کو جانتا ہے، وہ اس کے حواس کے ذریعے اس تک پہنچنے والی دنیا ہے۔ بلی وہ کچھ دیکھ سکتی ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتا، کتا ایسی بو محسوس کرسکتا ہے جس کا انسانی حواس ادراک نہیں کرسکتے، اور بعض جاندار ایسی آوازیں سن سکتے ہیں جو ہماری سماعت کی حدود سے باہر ہیں۔
اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے
ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں، حقیقت صرف اتنی نہیں۔
سائنس نے انسانی حواس کی محدودیت کو دور کرنے کے لیے خوردبین، دوربین، حساس پیمائشی آلات اور بے شمار دوسرے ذرائع ایجاد کیے۔ ان کے ذریعے ہماری نگاہ کائنات کے دور ترین گوشوں اور مادے کی انتہائی باریک سطحوں تک پہنچ گئی۔ لیکن یہاں بھی ایک حد موجود ہے: یہ تمام آلات بھی انسانی عقل کی پیداوار ہیں اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والا علم انسانی فہم کے دائرے ہی میں آتا ہے۔
سمندر اس حقیقت کی ایک سادہ مثال ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے، مگر انسان آج بھی ان کی گہرائیوں اور حیاتیاتی تنوع کے بڑے حصے کو پوری طرح نہیں جانتا۔ اگر انسان اپنے ہی سیارے کے ایک بڑے حصے کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا تو اپنے اندر موجود اس پیچیدہ جہان کو مکمل طور پر جان لینا کس قدر دشوار ہوگا؟
یہاں سے سوال باہر کی دنیا سے اندر کی دنیا کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
ہم دماغ کے بارے میں حیرت انگیز معلومات حاصل کرچکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ دماغ کے برقی اور کیمیائی عمل یادداشت، جذبات، زبان، فیصلوں اور رویوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ 
لیکن اس تمام علم کے باوجود ایک سوال ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہوا
شعور آخر ہے کیا؟
ہم دماغ کی سرگرمی کو دیکھ اور ناپ سکتے ہیں، لیکن "میں" ہونے کا داخلی تجربہ کہاں سے آتا ہے؟ ہم درد کے دوران دماغ میں پیدا ہونے والی عصبی سرگرمی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، مگر خود درد کا تجربہ کیا ہے؟ ہم یادداشت سے متعلق دماغی حصوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں، مگر انسان اپنے ماضی کو اپنا ماضی کیوں محسوس کرتا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں دماغ اور شعور کے سوال سے روح کا سوال جنم لیتا ہے۔
قرآن اس مقام پر انسان کو اس کی علمی حد یاد دلاتا ہے
"اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔"
غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں روح کی ماہیت کا مکمل نقشہ پیش کرنے کے بجائے انسان کو اس کے علم کی محدودیت کا احساس دلایا گیا ہے۔
یہاں سے سائنس اور مذہب کے سوالات کے دائرے الگ ہوجاتے ہیں۔ سائنس ان مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے جنہیں مشاہدے، تجربے اور پیمائش کے ذریعے جانچا جاسکتا ہے، جبکہ مذہب انسان کے وجود، مقصد، روح، موت اور آخرت جیسے سوالات کو ایک معنوی اور مابعد الطبیعی تناظر میں دیکھتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ سائنس نے روح کو ثابت کردیا ہے؛ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سائنس نے روح کو رد کردیا ہے۔ موجودہ سائنسی طریقۂ تحقیق روح کو براہِ راست ناپنے یا مشاہدہ کرنے کا کوئی ایسا قابلِ قبول طریقہ فراہم نہیں کرتا جس کی بنیاد پر اس کے وجود یا عدمِ وجود کا حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔
مذہبی روایت اس سے آگے ایک اور امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ انبیاء کے بارے میں وحی، فرشتوں کے مشاہدے اور بعض غیر معمولی ادراکات کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان واقعات کو طبیعیات کے کسی فارمولے میں تبدیل کرنا درست نہیں، کیونکہ معجزہ سائنسی تجربے کی اصطلاح نہیں۔ تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
اگر انسانی حواس محدود ہیں تو کیا حقیقت بھی لازماً اتنی ہی محدود ہے جتنی ہماری آنکھ دیکھتی، کان سنتے اور عقل موجودہ سطح پر سمجھتی ہے؟
یہ سوال ہمیں پھر انسان کی طرف لے آتا ہے۔
انسان کائنات کے راز کھولنے میں مصروف ہے، مگر اپنے شعور کی آخری حقیقت ابھی تک نہیں جان سکا۔ وہ دماغ کی ساخت اور فعالیت کو سمجھ رہا ہے، مگر "میں" کی مکمل حقیقت اس کے سامنے نہیں کھلی۔ وہ موت کے جسمانی عمل کو بڑی حد تک سمجھ چکا ہے، مگر موت کے بعد شعور کا سوال اب بھی فلسفے اور مذہب کے سامنے موجود ہے۔
اس کے باوجود انسان اکثر خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر حتمی فیصلے سناتا ہے۔
شاید یہاں خدا سے پہلے ایک سوال خود انسان سے پوچھنا چاہیے
جس انسان نے ابھی اپنی ذات کو پوری طرح نہیں سمجھا، وہ کائنات کی آخری حقیقت کے بارے میں کس حد تک حتمی فیصلہ کرسکتا ہے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے وجود پر سوال اٹھانا غلط ہے۔ خدا کا سوال انسانی فکر کے قدیم ترین اور گہرے ترین سوالات میں سے ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے انسان کو اپنے علم کی حدود کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔
قرآن کا یہ فرمان—
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
—اسی علمی انکسار کی دعوت دیتا ہے۔
انسان نے تقریباً تین لاکھ سال کے سفر میں کائنات کے بے شمار راز دریافت کیے ہیں، لیکن شاید اس کی سب سے بڑی دریافت ابھی باقی ہے:
خود انسان۔
شاید خدا کی تلاش کا راستہ بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ کائنات کے آخری سرے تک پہنچنے سے پہلے انسان کو اپنے اندر اترنا ہوگا؛ اپنے شعور، اپنے ارادے، اپنی خواہش، اپنے خوف، اپنی اخلاقی ذمہ داری اور اپنے وجود کے معنی کو سمجھنا ہوگا۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان کائنات میں کہاں کھڑا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ خود کیا ہے۔
اور شاید اسی لیے صدیوں سے ایک معروف حکیمانہ و صوفیانہ قول انسانی فکر کو اپنی طرف متوجہ کرتا آیا ہے:
"مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"
"جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔"

کوئی تبصرے نہیں: