اتوار، 1 فروری، 2026

جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار





جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار

عالمی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر پس منظر میں رہتے ہیں، مگر فیصلوں کی سمت انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جیرڈ کشنر بھی اسی نوعیت کا کردار ہے۔ ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار سے لے کر امریکی خارجہ پالیسی کے اہم معمار تک، کشنر کا سفر محض ذاتی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، رشتوں اور نظریات کے گہرے امتزاج کی مثال ہے۔

جیرڈ کوری کشنر، 1981 میں پیدا ہوئے، تعلیم کے میدان میں ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی جیسے اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے خاندانی کاروبار کشنر کمپنیز کو سنبھالا اور بعد ازاں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے جدید پلیٹ فارم 
Cadre
 کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل شناخت اس وقت ابھری جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہونے کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے سینئر ایڈوائزر بن گئے۔

ٹرمپ دور میں کشنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ پالیسی، امریکہ–اسرائیل تعلقات، ایران کے خلاف سخت مؤقف، اور نام نہاد امن منصوبے—سب میں کشنر مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کا نام بار بار اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جڑتا ہے۔

یہ محض سفارتی تعلق نہیں تھا۔ نیتن یاہو اور کشنر خاندان کے درمیان تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے ابتدائی امریکی دوروں کے دوران کشنر خاندان کے گھر قیام بھی کیا، جس سے جیرڈ کشنر کے ساتھ ذاتی قربت کم عمری ہی میں قائم ہو گئی۔ یہی ذاتی رشتہ بعد ازاں سیاسی ہم آہنگی میں بدل گیا۔

جیرڈ کشنر آرتھوڈوکس یہودی ہیں، اور اسرائیل سے ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور جذباتی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ دور میں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، سفارت خانہ منتقل کیا، اور ابراہیم معاہدوں کے ذریعے عرب دنیا میں اسرائیل کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ ان تمام فیصلوں کے پیچھے کشنر کی سوچ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی میں غیر معمولی مماثلت نظر آتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا کشنر ایک ثالث تھے یا فریق؟ ناقدین کے نزدیک وہ امریکی مفادات سے زیادہ اسرائیلی ترجیحات کے نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں ایک “عملی مذاکرات کار” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جیرڈ کشنر نے طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کی جو اکثر روایتی سفارت کاروں کے لیے بھی خواب ہوتی ہے۔

آج جیرڈ کشنر بظاہر سیاست سے فاصلے پر ہیں، مگر ان کے اثرات اب بھی عالمی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جدید سیاست میں صرف عہدہ نہیں، رشتہ، شناخت اور نظریہ بھی فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

اسرائیل کا مستقبل



اسرائیل کا مستقبل
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم دباؤ کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں ہر طاقت یہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ خود کو بچا لے، کم سے کم نقصان اٹھائے اور آنے والے نظام میں اپنی جگہ محفوظ کر لے۔ ایران اور خلیجی ریاستیں شاید یہ کھیل کسی نہ کسی طرح سنبھال لیں—مگر سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس نئے منظرنامے میں کہاں کھڑا ہوگا؟
ایران اس دباؤ کو جنگ میں بدلنے کے بجائے محدود  ردِعمل کی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے۔ وہ ایسا جواب دے رہا ہے جو اس کی طاقت بھی دکھائے اور مکمل تصادم سے بھی بچائے۔
ایران جانتا ہے کہ اس کا اصل ہدف حکومت کا تحفظ اور خطے میں اپنے اثر کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ایسی جنگ جس سے وہ خود بھی ٹوٹ جائے۔ اسی لیے وہ ہرمز، توانائی، اڈوں اور اتحادی محاذوں کے ذریعے دباؤ بڑھاتا ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتا۔
سعودی عرب، قطر اور عمان اس کشیدگی میں فریق بننے کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی اولین ترجیح ہے کہ تیل کی برآمدات، معیشت اور داخلی استحکام محفوظ رہے۔ اسی لیے وہ نہ کھل کر ایران کے خلاف کھڑے ہیں اور نہ اسرائیل کی جنگی مہم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ ریاستیں ثالثی، رابطوں اور توازن کے ذریعے وقت خرید رہی ہیں—اور بڑی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
مگر اسرائیل…؟
یہاں آ کر تصویر بدل جاتی ہے۔ اسرائیل کے پاس ایران یا خلیجی ریاستوں جیسی گنجائش نہیں۔
اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ 
(وہ سیاسی محاذ پر تہنا کھڑا ہے (یا اس کے ساتھ خطے کا وہ ملک ہے جس کی اپنی سیاسی حیثیت قابل ذکر بھی نہیں ہے ۔
اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے اور خلیجی ریاستیں غیرجانبداری یا ثالثی کی راہ لیتی ہیں تو ایران کے ممکنہ ردِعمل کا قدرتی ہدف اسرائیل ہی بنتا ہے۔
اسرائیل نہ جغرافیائی طور پر بچ سکتا ہے، نہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے۔
ایران دباؤ بڑھانے کے لیے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی توجہ بھی ملتی ہے اور امریکہ بھی کھنچتا ہے۔
اسرائیل کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ پوری جنگ جیت سکتا ہے اور نہ خود کو اس دائرے سے نکال سکتا ہے۔

خلیجی ریاستیں اب اسرائیل کو اپنے تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھتیں بلکہ ایک خطرہ بننے والا فریق تصور کرنے لگی ہیں۔
ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ابھرتا ہوا محور اسرائیل کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ نہ اس کے کنٹرول میں ہے اور نہ اس کے بیانیے کا حصہ۔
 ممکنہ نئے نظام میں  ایران اور خلیج کے لیے گنجائش نظر آتی ہے مگر اسرائیل کے لیے تنگ دائرہ
کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
اگر موجودہ دباؤ کے بعد نیا علاقائی نظام بنتا ہے تو

ایران ایک “برداشت کرنے والی طاقت” کے طور پر اپنی جگہ بنا لے گا
خلیجی ریاستیں ثالث اور معاشی ستون بن سکتی ہیں،
مگر اسرائیل ایک ایسا سوالیہ نشان بن جائے گا جو نہ  جنگ جیتا، نہ امن کا معمار بن سکا۔
اسرائیل کے سامنے انتخاب محدود ہوتے جا رہے ہیں یا تو وہ مسلسل تصادم میں رہے، یا اپنے علاقائی کردار پر نظرِ ثانی کرے—جو اس کی موجودہ قیادت کے لیے سب سے مشکل راستہ ہے۔
ایران اور خلیجی ریاستیں شاید اس طوفان میں خود کو بچا لیں، مگر اسرائیل کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔
یہ بحران اس کی عسکری طاقت کا نہیں، بلکہ اس کی علاقائی حیثیت اور سیاسی بقا کا امتحان ہے۔
جب موجودہ بے یقینی کے بادل چھٹنے کے بعد سیاسی آسمان صاف ہو گا تو
 ایران اور خلیج سنبھل چکے ہوں گے—تو اسرائیل کہاں کھڑا ہوگا
اس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور 
وقت
کے بارے میں 

 سینیکا  

نے کہا تھا

" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"

 

ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال



 ابراہیم لنکن کی  واپسی کا سوال

امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔

اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔

یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔

بدھ، 28 جنوری، 2026

جنگ یا سیاسی زلزلہ



 اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو یہ محض دو ریاستوں کے درمیان عسکری تصادم نہیں ہوگا، بلکہ ایک سیاسی زلزلہ ہوگا جس

 کے جھٹکے پورے خطے اور عالمی نظامِ معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس جنگ میں پہلا نشانہ محاذ نہیں، بلکہ وہ توانائی کا نظام ہوگا جس پر جدید دنیا کی سیاست اور معیشت کھڑی ہے۔ تیل یہاں جنس نہیں رہے گا، بلکہ فیصلہ کن ہتھیار بن جائے گا۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں منظر ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے پھیلا ہوا ہوگا۔ خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز پر صرف کشیدگی کی خبر ہی عالمی منڈیوں کو لرزا دے گی۔ جہازوں کی انشورنس مہنگی ہو جائے گی، سپلائی سست پڑ جائے گی اور قیمتیں کسی میزائل کے بغیر آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ باب المندب میں یمنی دباؤ سمندری تجارت کو ایک اور محاذ پر الجھا دے گا، جہاں گولی چلائے بغیر راستے بند ہونے لگیں گے۔

اردن میں منظر مختلف مگر اتنا ہی سنگین ہوگا۔ عقبہ بندرگاہ پر ہر کنٹینر ایک سوال بن جائے گا اور ہر ریفائنری ایک سیاسی پیغام۔ ایک کمزور معیشت پر دباؤ دراصل واشنگٹن کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ جنگ کو “کنٹرولڈ” رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

متحدہ عرب امارات میں جنگ کی آواز دھماکوں سے نہیں بلکہ اسکرینوں پر نظر آئے گی۔ فجیرہ اور جبلِ علی میں ٹینکرز رکے کھڑے ہوں گے، سرمایہ دارانہ اعتماد متزلزل ہوگا اور عالمی منڈیاں خوف میں مبتلا ہوں گی۔ یہاں ایک دھمکی بھی حملے کے برابر اثر رکھتی ہے۔

قفقاز میں آذربائیجان کا منظر خاموش مگر خطرناک ہوگا۔ باکو–تبلیسی–جےحان پائپ لائن پر ہر سینسر، ہر والو سیاسی دباؤ کا مرکز بن جائے گا۔ یورپ کو پیغام ملے گا کہ یہ جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ کی نہیں، بلکہ اس کی توانائی سلامتی کی بھی جنگ ہے۔

بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کی موجودگی ایک علامت سے سوال بن جائے گی۔ اگر یہاں عدم استحکام پیدا ہوا تو خلیج میں امریکی کنٹرول کا تصور کمزور پڑ جائے گا، اور یہی سب سے بڑا سیاسی نقصان ہوگا۔

اور اسرائیل میں منظر سب سے زیادہ نازک ہوگا۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے گرد حفاظتی اقدامات بڑھیں گے، پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور شہری زندگی غیر یقینی کیفیت میں داخل ہو جائے گی۔ یہاں جنگ کا مطلب صرف میزائل نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بحران ہوگا۔

یہی وہ لمحہ ہوگا جب واضح ہو جائے گا کہ تیل میزائل سے زیادہ خطرناک کیوں ہے۔ میزائل ایک شہر کو نشانہ بناتا ہے، مگر توانائی پوری دنیا کو یرغمال بنا لیتی ہے۔ منڈیاں خوف سے چلتی ہیں اور اس جنگ میں خوف کا نام ہے: توانائی کی عدمِ استحکام۔

اگر ایران کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ براہِ راست محاذ سے زیادہ ان جگہوں کو نشانہ بنائے گا جہاں دشمن کی سیاسی اور معاشی سانس چلتی ہے۔ اس کے لیے قبضہ ضروری نہیں، صرف اعتماد توڑنا کافی ہوگا۔

یہ جنگ دارالحکومتوں کی فتح و شکست کا معاملہ نہیں ہوگی، بلکہ تیل کی راہوں، سمندری گذرگاہوں اور توانائی کے مراکز پر سیاسی غلبے کی جنگ ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو ان راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، وہی جنگ ہی نہیں، دنیا کی سیاست کی رفتار بھی طے کرتا ہے۔

کھیل ختم



کھیل ختم
جب سیاسی دباؤ معمول بن جائے، معاشی راستے بند کیے جائیں،
اور سماجی سطح پر کسی قوم کو مسلسل غیر متعلق ثابت کیا جائے—
تو مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہی مایوسی جب شعور میں بدلتی ہے تو خاموشی نہیں رہتی، وہ فیصلہ بن جاتی ہے۔
آج عالمی منظرنامہ اسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
طاقت، قانون اور انسانی حقوق کے نام پر قائم نظام
اپنی اخلاقی بنیاد کھو چکا ہے۔
یورپی یونین کا امریکہ کے ساتھ بڑے تجارتی معاہدوں کو معطل کرنا
اس بات کا عندیہ ہے کہ عالمی سیاست اب یکطرفہ فیصلوں کو پہلے کی طرح قبول نہیں کر رہی۔
اسی بکھرتے نظام کی سب سے نمایاں مثال اقوامِ متحدہ کی غیر فعالیت ہے۔ فلسطین کے معاملے پر درجنوں قراردادیں موجود ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی دہائیوں سے اسی سرد خانے میں پڑا ہے۔ یہی بے عملی مظلوم اقوام کو
متبادل راستے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
جب ظلم مستقل صورت اختیار کرے تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ فلسطین کے امن پسند اور نہتے عوام اسی ردِعمل کی علامت ہیں۔ وہ عسکری لحاظ سے کمزور ہیں، مگر انکار کی قوت رکھتے ہیں—
اور تاریخ میں اکثر یہی قوت طاقت کے توازن کو بدل دیتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح میں شام، لبنان، لیبیا اور عراق کی مثالیں سامنے ہیں۔ ایک ایک خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، اور باقی اقوام یہ سمجھتی رہیں کہ خاموش رہ کر خود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ خاموشی تحفظ کی ضمانت نہیں بنتی۔
برسوں سے پاکستان کو براہِ راست اور بالواسطہ جارحیت کا سامنا ہے۔
سرحدی کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی، سفارتی دباؤ، اور داخلی عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوششیں—یہ سب ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیںجس کے ذریعے ایک ریاست کو کمزور رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔
یہ صورتِ حال بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ مظلوم اقوام کو درپیش چیلنج علاقائی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔
یمن اور شام جیسے محاذوں پر غیر متوازن جنگ کے باوجود مزاحمت کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ محض عسکری کامیابیاں نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ فیصلہ کن عنصر ہتھیار نہیں، بلکہ ارادہ ہوتا ہے۔
اسی اصول کو 1987 کے سعودی واقعے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سال سعودی عرب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے
ایسٹ ونڈ میزائل ریاض کے جنوب میں نصب ہوئے اور اسرائیل نے ان پر حملے پر غور شروع ہوا۔ مگر سعودی قیادت کے غیر مبہم مؤقف اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر گیا۔
جب ریاستیں خوف کے بجائے کر گذرنے کا ارادہ کر لیں تو طاقت کا رخ بدل جاتا ہے۔ پاکستان کا معرکہ حق اس کی عملی مثال ہے
غزہ کے امن پسند اور نہتے لوگوں نے ،چال قائم کی اور آج ایران دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے ۔ اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ مزید خاموش رہنے کو اپنی موت کے برابر سمجھتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ راستہ کتنا مشکل ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے علاوہ کوئی راستہ باقی رہ گیا تھا؟
آخر میں ایک بات واضح رہنی چاہیے: مایوسی سے منع کیا گیا ہے۔مایوسی جمود پیدا کرتی ہے، جبکہ امید حرکت کو جنم دیتی ہے۔آج جو تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں وہ کسی فوری فتح کا اعلان نہیں، مگر یہ ضرور بتاتی ہیں کہ سمت درست ہو چکی ہے۔
پر امید رہیں—اب منزل زیادہ دور نہیں ہے۔