اتوار، 8 فروری، 2026

ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ






ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ
عالمی انٹیلی جنس تاریخ میں بعض گرفتاریاں محض قانونی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ ریاستوں کے درمیان جاری خاموش جنگ کے پوشیدہ ابواب کو آشکار کر دیتی ہیں۔ ترکیے کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی (Milli İstihbarat Teşkilatı) کی حالیہ کارروائی بھی اسی نوعیت کی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے منسلک ایک طویل المدت نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف خفیہ نگرانی اور جاسوسی میں ملوث تھا بلکہ عالمی تجارتی نظام کو تخریب کاری کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
ترک انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سامنے آنے والا نیٹ ورک کوئی عارضی سیل نہیں بلکہ کم از کم بارہ برس سے سرگرم ایک منظم آپریشن تھا۔ اس کے مرکزی کردار محمد بودک دریا اور ان کے ساتھی فیصل کریم اوغلو—جو فلسطینی نژاد ترک شہری ہیں—یورپ اور ایشیا میں درجنوں فرنٹ کمپنیوں، جعلی ویب پورٹلز اور متعدد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے سرگرم رہے۔
بظاہر ان کمپنیوں کا کاروبار سنگِ مرمر، لاجسٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور صنعتی آلات کی تجارت تھا، مگر ترک تفتیش کے مطابق یہ تمام ڈھانچہ دراصل ایک کور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر تھا، جس کا مقصد حساس ٹیکنالوجی تک رسائی، ہدفی نگرانی اور تخریب کاری تھا۔
اس نیٹ ورک کا سب سے خطرناک پہلو عالمی سپلائی چین میں دراندازی تھا۔ جدید دنیا میں اسلحہ، ڈرونز اور مواصلاتی آلات کی ترسیل اکثر نجی لاجسٹک کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ موساد سے منسلک اس سیل نے اسی کمزوری کو ہدف بنایا۔
ڈرون پرزہ جات اور مواصلاتی آلات راستے میں ری پیک یا ری کنفیگر کیے جاتے
بعض کیسز میں آلات کو بارودی مواد یا ریموٹ ایکسیس کوڈز سے آلودہ کیا جاتا
حتمی صارف—خصوصاً فلسطینی مزاحمتی نیٹ ورکس یا اسرائیل مخالف حلقے—اس بات سے مکمل لاعلم رہتے کہ استعمال ہونے والا آلہ دراصل ایک انٹیلی جنس ٹریپ ہے
یہ طریقۂ واردات جدید ہائبرڈ وارفیئر 
 کی ایک واضح مثال ہے، جس میں تجارت، ٹیکنالوجی اور جنگ کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔
اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں کسی خلا میں نہیں ہو رہیں۔ ترک تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ یہی سیل تیونسی ایوی ایشن انجینئر محمد الزواری کے نیٹ ورک میں دراندازی کی کوشش کر چکا تھا۔ الزواری وہی سائنس دان تھے جنہیں 2016 میں تیونس میں موساد نے قتل کیا—یہ قتل خود اسرائیلی میڈیا اور مغربی رپورٹس میں بھی بالواسطہ تسلیم شدہ ہے۔
نیٹ ورک نے الزواری کو ڈرون کے نمونے فراہم کرنے کی پیشکش کی
یہ نمونے دراصل نگرانی اور ڈیٹا ایکسٹرکشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے
مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ مستقبل کی ہدفی کارروائیوں کی تیاری تھا
یہ پہلو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ موساد کی کارروائیاں وقتی نہیں بلکہ لانگ ٹرم اسٹریٹجک ٹریکنگ پر مبنی ہوتی ہیں۔
حساس موڈمز اور آلات ترکی کے بجائے دیگر ممالک سے اسمگل کیے تاکہ لوکل نگرانی سے بچا جا سکے
یہ تمام عناصر اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ معاملہ کسی نجی گروہ کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی یافتہ انٹیلی جنس آپریشن کا تھا۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ برسوں میں پیجر ڈیوائسز، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے ذریعے فلسطینی اور لبنانی اسرائیل مخالف شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ تمام واقعات ایک ہی پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
یعنی الیکٹرانک سپلائی چین کو بطور قاتل ہتھیار استعمال کرنا۔
ترکیے کی یہ کارروائی محض ایک انٹیلی جنس کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح ریاستی اعلان ہے
ترکی اپنی سرزمین پر خفیہ قتل اور تخریب کاری برداشت نہیں کرے گا
عالمی تجارت کو انٹیلی جنس جنگ کا میدان بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ کیس عالمی سطح پر ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے
اگر ریاستی انٹیلی جنس ادارے تجارتی نظام کو یوں مسخ کرتے رہیں تو عالمی سلامتی، اعتماد اور انسانی جانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
اگر یہ نیٹ بے نقاب نہ ہوتا تو کتنے افراد اپنی ہی استعمال کردہ ٹیکنالوجی کے ہاتھوں مارے جاتے؟
ترکیے کی اس کارروائی کو اسی لیے محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ جدید خفیہ جنگ کے خلاف ایک فیصلہ کن، دستاویزی اور تاریخی ضرب قرار دیا جا رہا ہے—ایسی ضرب جس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عقاب صرف آسمان میں نہیں، سپلائی چین اور سرکٹ بورڈز پر بھی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔

جمعہ، 6 فروری، 2026

ہمارا دشمن ہے کون؟



 ہمارا دشمن ہے کون؟
اسلام آباد کے محلے ترلائی میں ایک امام بارگاہ پر ہونے والا خودکش حملہ محض ایک اور خبر نہیں، یہ ایک سوال ہے—اور وہ سوال یہ ہے: ہمارا دشمن آخر ہے کون؟
ہم برسوں سے لڑتے آئے ہیں۔ کبھی نظریات کے نام پر، کبھی سرحدوں کے دفاع میں، کبھی مسالک کی شناخت پر، اور کبھی اقتدار کے خوابوں کی خاطر۔ ہم نے اپنے ہی قریب کو دشمن سمجھا، دور بیٹھے ہاتھوں کو نجات دہندہ مانا، اور ہر اس شخص پر شک کیا جو ہماری ہی طرح کلمہ گو تھا۔ آج ترلائی کی امام بارگاہ میں بہنے والا خون اسی طویل غلط فہمی کا تازہ ثبوت ہے—کہ ہم اب صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے آپ سے لڑ رہے ہیں۔
یہ حملہ کسی بیرونی لشکر نے نہیں کیا، نہ کسی اجنبی فوج نے شہر پر چڑھائی کی۔ یہ زخم اندر سے لگا ہے۔ یہ وہ دراڑ ہے جو ہمارے اپنے معاشرتی، فکری اور مذہبی انتشار نے پیدا کی ہے۔ مسلمان دنیا آج کسی ایک بیرونی یلغار کی زد میں نہیں، بلکہ اندرونی نفرت، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ جنون کے نرغے میں ہے۔ ترلائی کی فضا میں پھیلی چیخیں اسی اندرونی شکست کی گواہی دے رہی ہیں۔
ہم نگاہ دوڑائیں تو یہی کہانی بڑے پیمانے پر بھی نظر آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ریاستیں جو کبھی ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی تھیں، اب ایک دوسرے کو ذہنی طور پر حریف سمجھنے لگی ہیں۔ سفارتی جملے، معاشی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش اس بات کا اعلان ہے کہ تصادم اب صرف وقت کا سوال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستیں ذہنوں میں دشمن تراش لیں تو میدانِ جنگ خود بخود تیار ہو جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی یہی المیہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ محض سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ اس گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے جو برسوں کی جنگ، بیرونی مداخلت اور اندرونی کمزوریوں نے جنم دیا۔ جو سرحد کبھی ثقافت، رشتوں اور تاریخ کو جوڑتی تھی، آج شکوک، گولیوں اور الزام تراشیوں سے بھری ہوئی ہے۔
اور پھر ایران و عراق کی وہ آٹھ سالہ جنگ—جس نے پورے خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا—آج بھی ہمارے اجتماعی شعور پر نقش ہے۔ اجڑی بستیاں، کھوئی ہوئی نسلیں، بے معنی فتوحات۔ اس جنگ نے ایک سبق دیا تھا: جب مسلمان کا سب سے بڑا دشمن مسلمان خود بن جائے تو فتح کسی کی نہیں ہوتی۔ مگر ترلائی کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ سبق ہم نے یادداشت میں تو رکھا، شعور میں نہیں اتارا۔
سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم خود احتسابی کے بجائے نئے محاذ کھول لیتے ہیں۔ ہم طاقت کو حل سمجھتے ہیں، مکالمے کو کمزوری، اور صبر کو شکست۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو معاشرے مستقل جنگی کیفیت میں جیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتے ہیں—پھر انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ترلائی کی امام بارگاہ میں یہ حقیقت خون کی صورت لکھی گئی۔
آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کا نہیں، قیادت کا بھی نہیں—یہ سمت کا بحران ہے۔ ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جینا ہے یا ایک دوسرے کو مٹانا ہے۔ ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی غلبے کی خواہش چھپی ہوتی ہے، اور اخوت کا ذکر بھی مشروط مفادات کے ساتھ آتا ہے۔
یہ لمحہ خارجہ پالیسی کا نہیں، اجتماعی شعور کا ہے۔ اگر ہم نے اختلاف کو جنگ اور اختلافِ رائے کو غداری سمجھنا نہ چھوڑا، اگر ہم نے مسجد، امام بارگاہ اور مدرسے کو نفرت کے میدان بننے سے نہ بچایا، تو آنے والی لڑائیاں سرحدوں پر نہیں ہوں گی—وہ ہمارے شہروں میں ہوں گی، ہمارے محلّوں میں، ہمارے عبادت خانوں میں، اور بالآخر ہمارے ذہنوں میں۔
ہم نے سب سے لڑ کر دیکھ لیا۔آج ترلائی کی گواہی کے ساتھ یہ سچ اور بھی واضح ہے کہ ہم اب خود سے لڑ رہے ہیں۔
سوال صرف یہ ہے: کیا ہم اس مقام پر رک کر سوچنے کو تیار ہیں؟
یا تاریخ ہمیں ایک اور مثال کے طور پر محفوظ کر لے گی—
ایک ایسی قوم کی مثال، جو دشمن کی تلاش میں خود کو ہی کھو بیٹھی۔

اتوار، 1 فروری، 2026

جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار





جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار

عالمی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر پس منظر میں رہتے ہیں، مگر فیصلوں کی سمت انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جیرڈ کشنر بھی اسی نوعیت کا کردار ہے۔ ایک رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار سے لے کر امریکی خارجہ پالیسی کے اہم معمار تک، کشنر کا سفر محض ذاتی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، رشتوں اور نظریات کے گہرے امتزاج کی مثال ہے۔

جیرڈ کوری کشنر، 1981 میں پیدا ہوئے، تعلیم کے میدان میں ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی جیسے اداروں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے خاندانی کاروبار کشنر کمپنیز کو سنبھالا اور بعد ازاں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے جدید پلیٹ فارم 
Cadre
 کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کی اصل شناخت اس وقت ابھری جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہونے کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے سینئر ایڈوائزر بن گئے۔

ٹرمپ دور میں کشنر کو غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ پالیسی، امریکہ–اسرائیل تعلقات، ایران کے خلاف سخت مؤقف، اور نام نہاد امن منصوبے—سب میں کشنر مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کا نام بار بار اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ جڑتا ہے۔

یہ محض سفارتی تعلق نہیں تھا۔ نیتن یاہو اور کشنر خاندان کے درمیان تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے ابتدائی امریکی دوروں کے دوران کشنر خاندان کے گھر قیام بھی کیا، جس سے جیرڈ کشنر کے ساتھ ذاتی قربت کم عمری ہی میں قائم ہو گئی۔ یہی ذاتی رشتہ بعد ازاں سیاسی ہم آہنگی میں بدل گیا۔

جیرڈ کشنر آرتھوڈوکس یہودی ہیں، اور اسرائیل سے ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اور جذباتی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ دور میں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، سفارت خانہ منتقل کیا، اور ابراہیم معاہدوں کے ذریعے عرب دنیا میں اسرائیل کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ ان تمام فیصلوں کے پیچھے کشنر کی سوچ اور نیتن یاہو کی حکمتِ عملی میں غیر معمولی مماثلت نظر آتی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا کشنر ایک ثالث تھے یا فریق؟ ناقدین کے نزدیک وہ امریکی مفادات سے زیادہ اسرائیلی ترجیحات کے نمائندہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں ایک “عملی مذاکرات کار” قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جیرڈ کشنر نے طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کی جو اکثر روایتی سفارت کاروں کے لیے بھی خواب ہوتی ہے۔

آج جیرڈ کشنر بظاہر سیاست سے فاصلے پر ہیں، مگر ان کے اثرات اب بھی عالمی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جدید سیاست میں صرف عہدہ نہیں، رشتہ، شناخت اور نظریہ بھی فیصلہ کن طاقت رکھتے ہیں۔

جمعہ، 30 جنوری، 2026

اسرائیل کا مستقبل



اسرائیل کا مستقبل
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ امریکہ اور ایران کے درمیان کھلی جنگ نہیں، بلکہ ایک منظم دباؤ کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں ہر طاقت یہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ خود کو بچا لے، کم سے کم نقصان اٹھائے اور آنے والے نظام میں اپنی جگہ محفوظ کر لے۔ ایران اور خلیجی ریاستیں شاید یہ کھیل کسی نہ کسی طرح سنبھال لیں—مگر سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس نئے منظرنامے میں کہاں کھڑا ہوگا؟
ایران اس دباؤ کو جنگ میں بدلنے کے بجائے محدود  ردِعمل کی حکمتِ عملی پر چل رہا ہے۔ وہ ایسا جواب دے رہا ہے جو اس کی طاقت بھی دکھائے اور مکمل تصادم سے بھی بچائے۔
ایران جانتا ہے کہ اس کا اصل ہدف حکومت کا تحفظ اور خطے میں اپنے اثر کو برقرار رکھنا ہے، نہ کہ ایسی جنگ جس سے وہ خود بھی ٹوٹ جائے۔ اسی لیے وہ ہرمز، توانائی، اڈوں اور اتحادی محاذوں کے ذریعے دباؤ بڑھاتا ہے مگر دروازہ بند نہیں کرتا۔
سعودی عرب، قطر اور عمان اس کشیدگی میں فریق بننے کے بجائے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی اولین ترجیح ہے کہ تیل کی برآمدات، معیشت اور داخلی استحکام محفوظ رہے۔ اسی لیے وہ نہ کھل کر ایران کے خلاف کھڑے ہیں اور نہ اسرائیل کی جنگی مہم کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔
یہ ریاستیں ثالثی، رابطوں اور توازن کے ذریعے وقت خرید رہی ہیں—اور بڑی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہیں۔
مگر اسرائیل…؟
یہاں آ کر تصویر بدل جاتی ہے۔ اسرائیل کے پاس ایران یا خلیجی ریاستوں جیسی گنجائش نہیں۔
اسرائیل کا مسئلہ یہ ہے کہ 
(وہ سیاسی محاذ پر تہنا کھڑا ہے (یا اس کے ساتھ خطے کا وہ ملک ہے جس کی اپنی سیاسی حیثیت قابل ذکر بھی نہیں ہے ۔
اگر امریکہ پیچھے ہٹتا ہے اور خلیجی ریاستیں غیرجانبداری یا ثالثی کی راہ لیتی ہیں تو ایران کے ممکنہ ردِعمل کا قدرتی ہدف اسرائیل ہی بنتا ہے۔
اسرائیل نہ جغرافیائی طور پر بچ سکتا ہے، نہ سیاسی طور پر غیرجانبدار رہ سکتا ہے۔
ایران دباؤ بڑھانے کے لیے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے کیونکہ اس سے عالمی توجہ بھی ملتی ہے اور امریکہ بھی کھنچتا ہے۔
اسرائیل کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہ پوری جنگ جیت سکتا ہے اور نہ خود کو اس دائرے سے نکال سکتا ہے۔

خلیجی ریاستیں اب اسرائیل کو اپنے تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھتیں بلکہ ایک خطرہ بننے والا فریق تصور کرنے لگی ہیں۔
ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان ابھرتا ہوا محور اسرائیل کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ نہ اس کے کنٹرول میں ہے اور نہ اس کے بیانیے کا حصہ۔
 ممکنہ نئے نظام میں  ایران اور خلیج کے لیے گنجائش نظر آتی ہے مگر اسرائیل کے لیے تنگ دائرہ
کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا
اگر موجودہ دباؤ کے بعد نیا علاقائی نظام بنتا ہے تو

ایران ایک “برداشت کرنے والی طاقت” کے طور پر اپنی جگہ بنا لے گا
خلیجی ریاستیں ثالث اور معاشی ستون بن سکتی ہیں،
مگر اسرائیل ایک ایسا سوالیہ نشان بن جائے گا جو نہ  جنگ جیتا، نہ امن کا معمار بن سکا۔
اسرائیل کے سامنے انتخاب محدود ہوتے جا رہے ہیں یا تو وہ مسلسل تصادم میں رہے، یا اپنے علاقائی کردار پر نظرِ ثانی کرے—جو اس کی موجودہ قیادت کے لیے سب سے مشکل راستہ ہے۔
ایران اور خلیجی ریاستیں شاید اس طوفان میں خود کو بچا لیں، مگر اسرائیل کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔
یہ بحران اس کی عسکری طاقت کا نہیں، بلکہ اس کی علاقائی حیثیت اور سیاسی بقا کا امتحان ہے۔
جب موجودہ بے یقینی کے بادل چھٹنے کے بعد سیاسی آسمان صاف ہو گا تو
 ایران اور خلیج سنبھل چکے ہوں گے—تو اسرائیل کہاں کھڑا ہوگا
اس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور 
وقت
کے بارے میں 

 سینیکا  

نے کہا تھا

" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"

 

ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال



 ابراہیم لنکن کی  واپسی کا سوال

امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔

لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔

اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔

یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔