اردو کالم اور مضامین
علم کی روشنی سے منور تحریریں جو ذہن کے تاریک گوشوں کو منور کر سکتی ہیں
اتوار، 8 فروری، 2026
ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ
جمعہ، 6 فروری، 2026
ہمارا دشمن ہے کون؟
ہم برسوں سے لڑتے آئے ہیں۔ کبھی نظریات کے نام پر، کبھی سرحدوں کے دفاع میں، کبھی مسالک کی شناخت پر، اور کبھی اقتدار کے خوابوں کی خاطر۔ ہم نے اپنے ہی قریب کو دشمن سمجھا، دور بیٹھے ہاتھوں کو نجات دہندہ مانا، اور ہر اس شخص پر شک کیا جو ہماری ہی طرح کلمہ گو تھا۔ آج ترلائی کی امام بارگاہ میں بہنے والا خون اسی طویل غلط فہمی کا تازہ ثبوت ہے—کہ ہم اب صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے آپ سے لڑ رہے ہیں۔
یہ حملہ کسی بیرونی لشکر نے نہیں کیا، نہ کسی اجنبی فوج نے شہر پر چڑھائی کی۔ یہ زخم اندر سے لگا ہے۔ یہ وہ دراڑ ہے جو ہمارے اپنے معاشرتی، فکری اور مذہبی انتشار نے پیدا کی ہے۔ مسلمان دنیا آج کسی ایک بیرونی یلغار کی زد میں نہیں، بلکہ اندرونی نفرت، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ جنون کے نرغے میں ہے۔ ترلائی کی فضا میں پھیلی چیخیں اسی اندرونی شکست کی گواہی دے رہی ہیں۔
ہم نگاہ دوڑائیں تو یہی کہانی بڑے پیمانے پر بھی نظر آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ریاستیں جو کبھی ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی تھیں، اب ایک دوسرے کو ذہنی طور پر حریف سمجھنے لگی ہیں۔ سفارتی جملے، معاشی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش اس بات کا اعلان ہے کہ تصادم اب صرف وقت کا سوال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستیں ذہنوں میں دشمن تراش لیں تو میدانِ جنگ خود بخود تیار ہو جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی یہی المیہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ محض سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ اس گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے جو برسوں کی جنگ، بیرونی مداخلت اور اندرونی کمزوریوں نے جنم دیا۔ جو سرحد کبھی ثقافت، رشتوں اور تاریخ کو جوڑتی تھی، آج شکوک، گولیوں اور الزام تراشیوں سے بھری ہوئی ہے۔
اور پھر ایران و عراق کی وہ آٹھ سالہ جنگ—جس نے پورے خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا—آج بھی ہمارے اجتماعی شعور پر نقش ہے۔ اجڑی بستیاں، کھوئی ہوئی نسلیں، بے معنی فتوحات۔ اس جنگ نے ایک سبق دیا تھا: جب مسلمان کا سب سے بڑا دشمن مسلمان خود بن جائے تو فتح کسی کی نہیں ہوتی۔ مگر ترلائی کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ سبق ہم نے یادداشت میں تو رکھا، شعور میں نہیں اتارا۔
سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم خود احتسابی کے بجائے نئے محاذ کھول لیتے ہیں۔ ہم طاقت کو حل سمجھتے ہیں، مکالمے کو کمزوری، اور صبر کو شکست۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو معاشرے مستقل جنگی کیفیت میں جیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتے ہیں—پھر انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ترلائی کی امام بارگاہ میں یہ حقیقت خون کی صورت لکھی گئی۔
آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کا نہیں، قیادت کا بھی نہیں—یہ سمت کا بحران ہے۔ ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جینا ہے یا ایک دوسرے کو مٹانا ہے۔ ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی غلبے کی خواہش چھپی ہوتی ہے، اور اخوت کا ذکر بھی مشروط مفادات کے ساتھ آتا ہے۔
یہ لمحہ خارجہ پالیسی کا نہیں، اجتماعی شعور کا ہے۔ اگر ہم نے اختلاف کو جنگ اور اختلافِ رائے کو غداری سمجھنا نہ چھوڑا، اگر ہم نے مسجد، امام بارگاہ اور مدرسے کو نفرت کے میدان بننے سے نہ بچایا، تو آنے والی لڑائیاں سرحدوں پر نہیں ہوں گی—وہ ہمارے شہروں میں ہوں گی، ہمارے محلّوں میں، ہمارے عبادت خانوں میں، اور بالآخر ہمارے ذہنوں میں۔
ہم نے سب سے لڑ کر دیکھ لیا۔آج ترلائی کی گواہی کے ساتھ یہ سچ اور بھی واضح ہے کہ ہم اب خود سے لڑ رہے ہیں۔
سوال صرف یہ ہے: کیا ہم اس مقام پر رک کر سوچنے کو تیار ہیں؟
یا تاریخ ہمیں ایک اور مثال کے طور پر محفوظ کر لے گی—
ایک ایسی قوم کی مثال، جو دشمن کی تلاش میں خود کو ہی کھو بیٹھی۔
اتوار، 1 فروری، 2026
جیرڈ کشنر - خاموش مگر مؤثر کردار
جمعہ، 30 جنوری، 2026
اسرائیل کا مستقبل
سینیکا
نے کہا تھا
" وقت تیزی سے نہیں گزرتا، ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں۔"
ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال
ابراہیم لنکن کی واپسی کا سوال
امریکی بحری بیڑا، جسے دنیا کا سب سے قدیم اور طاقتور بحری بیڑا سمجھا جاتا ہے، بمشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے۔ اس موجودگی کو کبھی عالمی امن، کبھی بحری تجارت کے تحفظ اور کبھی خطے کے استحکام کا نام دیا گیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پہرے کے پیچھے تیل، اثر و رسوخ اور عالمی بالادستی کی وہی پرانی جنگ چھپی ہوئی ہے۔ اسی طاقت کی سب سے نمایاں علامت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن ہے، جو محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ امریکی عسکری غرور اور ناقابلِ شکست ہونے کے دعوے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
جب ابراہیم لنکن جیسے جہاز مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ صرف اسلحہ نہیں لاتے، بلکہ ایک واضح پیغام بھی دیتے ہیں کہ فیصلہ سازی اب بھی واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے۔ آبنائے ہرمز، خلیج اور بحیرۂ عرب میں امریکی بحری موجودگی دراصل اس یقین کی علامت رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی شہ رگ—تیل—پر کنٹرول برقرار رکھنا امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے۔
لیکن آج کا مشرقِ وسطیٰ وہ نہیں رہا جو ماضی میں تھا۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اور وہ قوتیں جو کبھی دفاعی پوزیشن میں تھیں، اب کھلے عام مزاحمت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں ایران کا وہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں کہا گیا: “ہم تیار ہیں، اور ہماری انگلی ٹرگر پر ہے۔” یہ محض ایک عسکری دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
دنیا حیرت اور خوف کے امتزاج میں یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ انگلی کس بندوق کے ٹرگر پر ہے؟ کیا یہ عام اسلحہ ہے، یا پھر وہ بندوق ہے جس میں پہلے ہی “نیوکلیائی گولی” بھری جا چکی ہے؟ اگرچہ اس سوال کا براہِ راست جواب کسی کے پاس نہیں، مگر حالات، بیانات اور زمینی حقائق یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس بار معاملہ معمول کا نہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بندوق عام نہیں ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت عالمی طاقتوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی رویے میں بھی ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتا تھا، آج سفارت کاری، ثالثی اور “ڈی ایسکلیشن” کی زبان بولنے پر مجبور نظر آتا ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق واشنگٹن اب کسی کھلے تصادم کے بجائے واپسی کا ایک باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے—ایسا راستہ جس میں نہ شکست کا اعتراف ہو اور نہ ہی طاقت کے تصور کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔
اگر ابراہیم لنکن جیسے طیارہ بردار جہاز کو کسی حقیقی خطرے کا سامنا ہوا تو یہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ امریکی بالادستی کے بیانیے پر کاری ضرب ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے، تو زوال کا سفر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
یوں ابراہیم لنکن کی کہانی اب صرف امریکی فخر کی داستان نہیں رہی، بلکہ یہ اس عالمی سوال کی علامت بن چکی ہے کہ کیا طاقت کے سائے میں دنیا کو ہمیشہ قابو میں رکھا جا سکتا ہے؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی اس حقیقت کو آشکار کرنے جا رہی ہے کہ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی، بروقت اور باعزت واپسی ہوتی ہے۔