ہم برسوں سے لڑتے آئے ہیں۔ کبھی نظریات کے نام پر، کبھی سرحدوں کے دفاع میں، کبھی مسالک کی شناخت پر، اور کبھی اقتدار کے خوابوں کی خاطر۔ ہم نے اپنے ہی قریب کو دشمن سمجھا، دور بیٹھے ہاتھوں کو نجات دہندہ مانا، اور ہر اس شخص پر شک کیا جو ہماری ہی طرح کلمہ گو تھا۔ آج ترلائی کی امام بارگاہ میں بہنے والا خون اسی طویل غلط فہمی کا تازہ ثبوت ہے—کہ ہم اب صرف دوسروں سے نہیں، خود اپنے آپ سے لڑ رہے ہیں۔
یہ حملہ کسی بیرونی لشکر نے نہیں کیا، نہ کسی اجنبی فوج نے شہر پر چڑھائی کی۔ یہ زخم اندر سے لگا ہے۔ یہ وہ دراڑ ہے جو ہمارے اپنے معاشرتی، فکری اور مذہبی انتشار نے پیدا کی ہے۔ مسلمان دنیا آج کسی ایک بیرونی یلغار کی زد میں نہیں، بلکہ اندرونی نفرت، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ جنون کے نرغے میں ہے۔ ترلائی کی فضا میں پھیلی چیخیں اسی اندرونی شکست کی گواہی دے رہی ہیں۔
ہم نگاہ دوڑائیں تو یہی کہانی بڑے پیمانے پر بھی نظر آتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں وہ ریاستیں جو کبھی ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی تھیں، اب ایک دوسرے کو ذہنی طور پر حریف سمجھنے لگی ہیں۔ سفارتی جملے، معاشی دباؤ اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش اس بات کا اعلان ہے کہ تصادم اب صرف وقت کا سوال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستیں ذہنوں میں دشمن تراش لیں تو میدانِ جنگ خود بخود تیار ہو جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھی یہی المیہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ محض سرحدی جھڑپ نہیں، بلکہ اس گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے جو برسوں کی جنگ، بیرونی مداخلت اور اندرونی کمزوریوں نے جنم دیا۔ جو سرحد کبھی ثقافت، رشتوں اور تاریخ کو جوڑتی تھی، آج شکوک، گولیوں اور الزام تراشیوں سے بھری ہوئی ہے۔
اور پھر ایران و عراق کی وہ آٹھ سالہ جنگ—جس نے پورے خطے کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا—آج بھی ہمارے اجتماعی شعور پر نقش ہے۔ اجڑی بستیاں، کھوئی ہوئی نسلیں، بے معنی فتوحات۔ اس جنگ نے ایک سبق دیا تھا: جب مسلمان کا سب سے بڑا دشمن مسلمان خود بن جائے تو فتح کسی کی نہیں ہوتی۔ مگر ترلائی کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ سبق ہم نے یادداشت میں تو رکھا، شعور میں نہیں اتارا۔
سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم خود احتسابی کے بجائے نئے محاذ کھول لیتے ہیں۔ ہم طاقت کو حل سمجھتے ہیں، مکالمے کو کمزوری، اور صبر کو شکست۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جو معاشرے مستقل جنگی کیفیت میں جیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتے ہیں—پھر انہیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، وہ خود اپنے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ترلائی کی امام بارگاہ میں یہ حقیقت خون کی صورت لکھی گئی۔
آج مسلم دنیا کا سب سے بڑا بحران وسائل کا نہیں، قیادت کا بھی نہیں—یہ سمت کا بحران ہے۔ ہم یہ طے نہیں کر پائے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جینا ہے یا ایک دوسرے کو مٹانا ہے۔ ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی غلبے کی خواہش چھپی ہوتی ہے، اور اخوت کا ذکر بھی مشروط مفادات کے ساتھ آتا ہے۔
یہ لمحہ خارجہ پالیسی کا نہیں، اجتماعی شعور کا ہے۔ اگر ہم نے اختلاف کو جنگ اور اختلافِ رائے کو غداری سمجھنا نہ چھوڑا، اگر ہم نے مسجد، امام بارگاہ اور مدرسے کو نفرت کے میدان بننے سے نہ بچایا، تو آنے والی لڑائیاں سرحدوں پر نہیں ہوں گی—وہ ہمارے شہروں میں ہوں گی، ہمارے محلّوں میں، ہمارے عبادت خانوں میں، اور بالآخر ہمارے ذہنوں میں۔
ہم نے سب سے لڑ کر دیکھ لیا۔آج ترلائی کی گواہی کے ساتھ یہ سچ اور بھی واضح ہے کہ ہم اب خود سے لڑ رہے ہیں۔
سوال صرف یہ ہے: کیا ہم اس مقام پر رک کر سوچنے کو تیار ہیں؟
یا تاریخ ہمیں ایک اور مثال کے طور پر محفوظ کر لے گی—
ایک ایسی قوم کی مثال، جو دشمن کی تلاش میں خود کو ہی کھو بیٹھی۔