بدھ، 22 اپریل، 2026

مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے



کیوبا کا میزائل کرائسس 1962 زیادہ پرانی بات نہیں ہے
 ، جب دو بڑی طاقتیں انا کی کشمکش میں دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے تک لے گئیں۔ اس بحران کا حل اس وقت ممکن ہوا جب پسِ پردہ لچک دکھائی گئی، خفیہ سمجھوتے ہوئے، اور بظاہر برتری کا تاثر بھی برقرار رکھا گیا۔ گویا مسئلہ حل بھی ہوا اور انا بھی 
مجروح نہ ہونے دی گئی—یہی سفارتکاری کی اصل مہارت تھی۔
مگر سفیر تو اس بار بھی ماہر ہیں تو رکاوٹ کیا ہے؟
امریکہ اور ایران دونوں کا بیانیہ سخت، لہجہ دوٹوک اور مؤقف بظاہر غیر لچکدار ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دونوں کشیدگی کے خاتمے اور کسی نہ کسی مفاہمت کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ نیت کا نہیں، اس کے اظہار کا ہے۔ "ہاں" موجود ہے، مگر اسے "نہ" کے پردے میں چھپایا جا رہا ہے—
Fyodor Dostoevsky(1821-1881)
 نے لکھا تھا کہ انسان بسا اوقات اپنی آزادی اور خودداری کے اظہار میں ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جو اس کے اپنے ہی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔ آج امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی تلاش اسی انا پرستی کی عملی تصویر ہے—جہاں حقیقی مفاد پس منظر میں چلا گیا ہے اور وقار کا تاثر پیش منظر سنبھال چکاہے۔
عالمی مباحث میں کہا گیا کہ ایران کا امریکہ جیسی طاقت کے سامنے ڈٹ جانا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔ دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنا اور خطے میں طاقت کے توازن کو چیلنج کرنا—تجزیہ کار "نفسیاتی فتح" قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے: جب ایک حد تک مقصد حاصل ہو چکا تو مزید کس جیت کی تلاش ہے؟
دوسری طرف امریکہ بھی کسی واضح پسپائی کے تاثر سے بچنا چاہتا ہے۔ بڑی طاقتیں صرف فیصلے نہیں کرتیں، وہ بیانیہ بھی تشکیل دیتی ہیں—اور اس بیانیے میں کمزوری کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اسی لیے جنگ بندی کی خواہش کے باوجود اسے کھل کر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ثالثی کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے، مگر عملی پیش رفت انا کی دیوار سے ٹکرا کر رک جاتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر 
Thomas Schelling(1921-2016)
 اس کیفیت کو  کے "چکن گیم" سے تعبیر کرتے ہیں۔ 
ہمارے وہ دوست جو مرغوں کی لڑائی کے شوقین ہیں،  بیان کرتے ہیں: "اصل مرغا وہی ہوتا ہے جو مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے۔" 

جمعہ، 17 اپریل، 2026

ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت



 ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت

معاشرہ صرف قوانین، اداروں اور عمارتوں کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ رویّوں، ترجیحات اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہی اقدار کسی قوم کے اصل چہرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مگر جب یہی اقدار دولت اور غربت کے ترازو میں تولی جانے لگیں تو انصاف، عزت اور انسانیت سب کچھ مشکوک ہو جاتا ہے۔

"مایا تیرے تین نام، پرسو، پرسا، پرس رام
اور غربت تیرے تین نام، لچا، لانڈا، بئی مان"

یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ یہی وہ سچ ہے جسے ہم ماننے سے کتراتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں دولت صرف سہولت نہیں، شناخت بن چکی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اس کے نام کے ساتھ احترام خود بخود جڑ جاتا ہے۔ وہی شخص اگر کل تک عام تھا تو آج "صاحب"، "جناب" اور "محترم" بن جاتا ہے۔ اس کی بات میں وزن آ جاتا ہے، اس کی خاموشی بھی معنی خیز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی غلطیاں بھی حکمت کے پردے میں چھپ جاتی ہیں۔

اس کے برعکس غربت صرف محرومی نہیں بلکہ ایک الزام بن جاتی ہے۔ غریب کا نام اس کی پہچان نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے طعنہ بن جاتا ہے۔ اس کی عزت اس کی جیب کے ساتھ سکڑ جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اس کی خودداری کو تکبر سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ تضاد صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ ہمارے رویّوں، فیصلوں اور ترجیحات میں بھی نمایاں ہے۔ ہم انصاف کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر انصاف دیتے وقت حیثیت کو دیکھتے ہیں۔ ہم مساوات کی بات تو کرتے ہیں مگر تعلقات بناتے وقت معیار بدل جاتے ہیں۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے کردار، علم یا اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے جوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے جہاں عزت خریدی جا سکتی ہے اور تذلیل مفت میں بانٹی جاتی ہے۔

یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب معاشرہ دولت کو معیارِ عزت بنا لیتا ہے تو پھر دیانت، محنت اور سچائی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ لوگ اصولوں کی بجائے مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور یہ سوال کریں کہ ہم لوگوں کو کس بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ کیا واقعی عزت کا تعلق دولت سے ہے؟ یا پھر ہم نے سہولت کے لیے ایک غلط معیار اختیار کر لیا ہے؟

ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جائے، نہ کہ اس کی جیب سے۔ جہاں عزت کمائی جائے، خریدی نہ جائے۔ اور جہاں غربت جرم نہ ہو بلکہ ایک حالت سمجھی جائے جس کا حل تلاش کرنا اجتماعی ذمہ داری ہو۔

جب تک ہم اپنے رویّوں میں یہ تبدیلی نہیں لاتے، تب تک یہ کہاوت صرف الفاظ نہیں رہے گی بلکہ ہمارے معاشرے کی زندہ حقیقت بنی رہے گی—ایک ایسی حقیقت جو ہمیں آئینہ دکھاتی رہے گی، چاہے ہم آنکھیں بند ہی کیوں نہ کر لیں۔

جمعرات، 16 اپریل، 2026

امن کی آشا



امن کی آشا

 آج کے نازک عالمی حالات میں اگر اسلام آباد میں ایران، امریکہ  کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نہ امریکہ جیتا ہے، نہ اسرائیل—اگر کوئی جیتا ہے تو وہ امن ہے، اور اگر کوئی کامیاب ہوئی ہے تو وہ انسانیت ہے۔ شکست اگر کسی کو ہوئی ہے تو وہ جنونیت، جنگی بخار اور تباہی کو ہوئی ہے۔

جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طویل جنگ اپنے پیچھے لاشیں، بربادی، معاشی زوال اور نفسیاتی صدمات چھوڑ جاتی ہے، اور آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر  (ویتنام جنگ) ایک طویل اور تباہ کن جنگ تھی، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، مگر بالآخر(پیرس امن معاہدہ) کے ذریعے ہی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اسی طرح  (سوویت-افغان جنگ) میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خونریزی کا خاتمہ بھی   (جنیوا معاہدہ برائے افغانستان) جیسے مذاکراتی عمل سے ہوا۔

یہی حقیقت  (شمالی آئرلینڈ کا تنازع) میں بھی نظر آتی ہے، جہاں دہائیوں کی بدامنی کے بعد  (جمعہ عظیم امن معاہدہ) نے امن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح  (کولمبیا کا مسلح تنازع) کا خاتمہ بھی بندوق سے نہیں بلکہ  (کولمبیا-فارق امن معاہدہ) کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ جنگ جتنی بھی طویل اور شدید کیوں نہ ہو، اس کا اختتام بالآخر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی بصیرت پر ہی ہوتا ہے۔

اس تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات ایک ایسے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں عقل، تدبر اور مکالمہ طاقت، غرور اور تصادم پر غالب آ سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام اپنے اختلافات کو بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔

امن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ معاشروں کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جنگ جہاں نفرت کو جنم دیتی ہے، وہیں امن برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہب کی جنگ نہیں ہوتی؛ دنیا کا ہر مذہب بنیادی طور پر انسان کے احترام، جان کے تحفظ اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔

ایران کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چاہے نظامِ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہوئی ہو یا نہیں، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سخت گیر طرزِ حکمرانی کی جگہ ایک نسبتاً سیاسی طور پر بالغ اور حقیقت پسندانہ رویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت، خصوصاً اخلاقی اور عسکری سطح پر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل امریکی مدد اور سہارے کے بغیر اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

جہاں تک جیت اور ہار کا تعلق ہے تو جنگوں میں اصل شکست عام انسان کی ہوتی ہے—وہی انسان جو اپنے گھر، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیت اگر کسی کی ہوتی ہے تو وہ وقتی طاقت، سفاکیت اور بربریت کی ہوتی ہے، جو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔


منگل، 14 اپریل، 2026

امن کی جیت


امن کی جیت

آج کے نازک عالمی حالات میں اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات محض سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے امید کی روشن کرن ہیں۔ نہ امریکہ جیتا، نہ ایران—اصل فتح امن کی ہے، اور سرخرو انسانیت ہوئی ہے۔ شکست جنون، جنگی بخار اور تباہی کی ہے۔

آٹھ اپریل 2026 ایک یادگار دن کے طور پر ابھرا، جب انسانیت کے دل میں امن کے غالب آنے کی امید نے جنم لیا۔ عقل، تحمل اور مکالمے نے طاقت کے غرور کو پیچھے چھوڑ دیا، اور دنیا نے دیکھا کہ تباہی کے دہانے پر کھڑا انسان بھی دانش مندی سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگ مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ویتنام جنگ، سوویت-افغان جنگ، شمالی آئرلینڈ کا تنازع اور کولمبیا کا مسلح تصادم سب مذاکرات اور امن معاہدوں کے ذریعے ختم ہوئے۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ دیرپا امن کا راستہ طاقت نہیں بلکہ مکالمہ، مفاہمت اور سیاسی بصیرت ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے پھر واضح کیا کہ جدید جنگیں صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز پر بڑھتا ہوا تناؤ اور امریکی سخت مؤقف نے عالمی خوف اور غیر یقینی میں اضافہ کیا، مگر آخری لمحات میں جنگ بندی نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچایا۔

اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اسی دانش کا مظہر ہیں، جہاں اختلافات کو ہتھیاروں کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امن نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ معاشرتی استحکام اور ترقی کی بنیاد بھی ہے۔

ایران میں سخت گیر طرزِ حکمرانی میں کمی اور اسرائیلی قیادت کے اخلاقی و عسکری تنقید کا سامنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جارحانہ پالیسی کے لیے امریکی حمایت لازمی ہے۔ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی، معاشی اور سفارتی محاذوں پر بھی لڑی جاتی ہیں، اور سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔

جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں—جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور سماجی بگاڑ۔ امن کے برعکس ترقی، استحکام اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے۔ بڑی طاقتیں اکثر حد سے تجاوز کر جاتی ہیں، مگر آخرکار سمجھ آتا ہے کہ امن کے ذریعے سب کچھ محفوظ رہتا ہے۔

یہ سارا منظرنامہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانیت کی بقا طاقت کے بے لگام استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ کنٹرول میں ہے۔ ہتھیاروں کی چمک وقتی ہو سکتی ہے، مگر ایک اٹل سچ یہی ہے کہ دنیا میں سب سے خوبصورت شے امن ہے۔

Peace is far more beautiful than even the most beautiful armada.


شکم کی قید




 شکم کی قید
جنوبی امریکہ کے گھنے اور پُراسرار جنگلات، یعنی  ایمیزون رین فاریسٹ میں بسنے والے قبائل کی زندگی ہمیشہ فطرت کے سخت اصولوں کے تابع رہی تھی۔ مسلسل بارشیں برستی تھیں، زمین دلدل بن چکی ہوتی تھی اور گھنے درخت سورج کی روشنی تک کو زمین تک پہنچنے نہیں دیتے تھے۔ ان حالات میں کھیتی باڑی تقریباً ناممکن ہو چکی تھی۔ شکار بھی کبھی نصیب ہوتا تھا اور کبھی دن خالی ہاتھ گزر جاتے تھے، جبکہ جانور پالنا اس ماحول میں ایک مشکل ترین کام تھا۔
ان کے پاس ایک ہی بڑا سہارا ہوا کرتا تھا دریائے ایمیزون، جس کی مچھلیاں ان کی خوراک کا بنیادی ذریعہ تھیں۔ مگر یہاں بھی ایک مسئلہ درپیش تھا کہ ان کے پاس جدید جال یا شکار کے مؤثر ذرائع موجود نہیں تھے۔
ان مشکل حالات میں انہوں نے علم کی طرف رجوع کیا تھا۔ انہوں نے جنگل کے کچھ ایسے پودے دریافت کیے تھے جن کی جڑوں میں قدرتی زہریلا مادہ پایا جاتا تھا۔ جب یہ جڑیں پانی میں ڈالی جاتی تھیں تو مچھلیاں وقتی طور پر بے ہوش ہو کر سطحِ آب پر آ جاتی تھیں۔ یوں وہ آسانی سے اپنی ضرورت کے مطابق مچھلیاں پکڑ لیتے تھے، جبکہ باقی مچھلیاں کچھ دیر بعد ہوش میں آ کر واپس پانی میں چلی جاتی تھیں۔
یہ ایک غیر معمولی مثال تھی—علم کے ذریعے مسئلے کے حل کی۔
مگر المیہ یہ تھا کہ یہاں پہنچ کر ان کا سفر رک گیا تھا۔ جب ان کی بنیادی ضرورت پوری ہو گئی تو انہوں نے مزید علم حاصل کرنے، تحقیق کرنے یا ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ان کا علم وہیں رک گیا تھا جہاں ان کا شکم بھر جاتا تھا۔
آج  یہ کہانی صرف ایک جنگل تک محدود نہیں رہتی—بلکہ ہمارے حال کا آئینہ بن جاتی ہے۔
آج ہمارا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ہم بھی علم حاصل کرتے ہیں، مگر اس کا مقصد زیادہ تر صرف روزی کمانا، شکم پالنا اور ذاتی ضروریات پوری کرنا رہ گیا ہے۔ ہم نے علم کو ایک بلند مقصد، ایک فکری قوت اور ایک تہذیبی سرمایہ بنانے کے بجائے اسے صرف ذریعۂ معاش بنا دیا ہے۔
دنیا میں وہ اقوام آگے بڑھ رہی ہیں جو علم کو طاقت سمجھتی ہیں—جو تحقیق کرتی ہیں، نئی راہیں تلاش کرتی ہیں اور کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جبکہ ہم اپنی محدود سوچ کے ساتھ صرف اپنی ضروریات کے گرد گھوم رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ عالمی منظرنامے میں ہماری حیثیت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ہم خود فیصلے کرنے کے بجائے دوسروں کے فیصلوں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ ہماری مثال بھی کہیں نہ کہیں انہی مچھلیوں جیسی بنتی جا رہی ہے، جنہیں بڑی طاقتیں اپنی ضرورت کے مطابق چن لیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟
اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا تضاد ہے۔ ہم زبانی طور پر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اپنی تاریخ پر فخر کرتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم دنیاوی مفادات اور ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا علم، ہماری سوچ اور ہماری ترجیحات—سب کچھ “شکم” کے گرد محدود ہو چکی ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں خود سے ایک سنجیدہ سوال کرنا ہوگا:
کیا علم صرف زندہ رہنے کے لیے ہے؟ یا پھر ایک باوقار، خودمختار اور ترقی یافتہ قوم بننے کے لیے؟
جب تک ہم علم کو شکم کی قید سے نکال کر شعور، تحقیق اور قیادت کا ذریعہ نہیں بنائیں گے، تب تک ہم بھی اسی دائرے میں 
قید رہیں گے—جہاں بقا تو ہے، مگر ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔
منقول