جمعہ، 20 مارچ، 2026

یہ جنگ سرحدوں کی نہیں، توانائی کے نقشے کی ہے


 یہ جنگ سرحدوں کی نہیں، توانائی کے نقشے کی ہے

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ کے دہانے پر کھڑا ہے، مگر اس بار کہانی صرف میزائلوں اور فضائی حملوں کی نہیں۔ اس جنگ کے پیچھے ایک گہرا، خاموش اور زیادہ خطرناک ایجنڈا کارفرما ہے—طاقت، توازن اور توانائی کا کنٹرول۔

اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کو محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹیجک منصوبے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

اسرائیل کا پہلا ہدف واضح ہے: ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو اس حد تک محدود کر دیا جائے کہ وہ آئندہ کسی بڑے خطرے کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس کے لیے نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنانا، میزائل اور ڈرون پروگرام کو کمزور کرنا، اور خطے میں موجود اس کے اتحادی نیٹ ورک—جیسے حزب اللہ—کو محدود کرنا ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسے سادہ الفاظ میں ایک پیشگی روک تھام کہا جا سکتا ہے۔

مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

دوسرا بڑا ہدف علاقائی طاقت کے توازن کو بدلنا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا اثر کم ہو اور اس کی جگہ ایک نیا سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل پائے، جس میں خلیجی ممالک اور دیگر اتحادی اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ دراصل خطے کی ازسرِنو تشکیل

 (regional re-engineering) 

کی ایک کوشش ہے—خاموش مگر دور رس اثرات رکھنے والی۔

تیسرا عنصر ہے ڈیٹرنس—یعنی ایسا خوف پیدا کرنا کہ آئندہ کوئی ریاست یا گروہ اسرائیل کو چیلنج کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اسرائیل ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہے: جواب سخت ہوگا، فوری ہوگا، اور فیصلہ کن ہوگا۔

لیکن اس پوری تصویر کا سب سے اہم، اور شاید سب سے کم زیرِ بحث پہلو ہے—توانائی۔

بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات میں تیل اور توانائی کا ذکر محض معاشی گفتگو نہیں، بلکہ ایک واضح جغرافیائی اشارہ 

(geostrategic signal)

 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل جنگ صرف زمین پر نہیں، بلکہ ان راستوں پر ہے جہاں سے دنیا کی معیشت کو توانائی ملتی ہے۔

اگر ایران مضبوط رہتا ہے تو وہ آبنائے ہرمز اور دیگر توانائی روٹس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے عالمی طاقتیں بھی پریشان ہوتی ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ توانائی کا بہاؤ اس کے مخالف کے کنٹرول میں ہو۔

اسی لیے متبادل راستے، جیسے باکو-تبلیسی-جےہان پائپ لائن، غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ جب خلیجی سپلائی خطرے میں ہو، تو یہی راہداری عالمی توانائی کے توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ تیل کا ذکر دراصل عالمی بیانیے کو متاثر کرنے کی کوشش بھی ہے—دنیا کو یہ باور کروانا کہ یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں، بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہے۔ یوں مغربی دنیا کو اس بیانیے کے ساتھ کھڑا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اب ایک اہم سوال: کیا اسرائیل واقعی مکمل جنگ چاہتا ہے؟

حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

یہ کہنا کہ اسرائیل صرف جنگ کا خواہاں ہے، ایک سادہ اور سطحی تجزیہ ہوگا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اسرائیل ایک کنٹرولڈ تصادم چاہتا ہے—ایسا تصادم جس میں ایران کمزور ہو جائے، مگر عالمی نظام مکمل طور پر نہ بکھرے۔ اس حکمت عملی کو عسکری اصطلاح میں 

“escalation dominance” 

کہا جاتا ہے۔

مگر ہر حکمت عملی کے اپنے خطرات ہوتے ہیں۔

اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، سپلائی چین متاثر ہوگی، اور عالمی معیشت دباؤ میں آ جائے گی۔ یہ وہ پہلو ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل نقصان وہیں سے شروع ہوتا ہے۔

آخرکار، اس پوری صورتحال کو ایک جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے

اسرائیل کا ہدف ایران کو اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ نہ عسکری خطرہ رہے، نہ توانائی کے عالمی نقشے پر اثر انداز ہو سکے۔

اور نیتن یاہو کا تیل سے متعلق بیان ہمیں یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ

یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں، بلکہ توانائی کے عالمی نقشے کی جنگ ہے۔

جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ





 جنگ، معیشت اور انسانیت کا خسارہ

دنیا ایک بار پھر اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری کی میزیں بھی بچھی ہوئی ہیں اور جنگی طیارے بھی فضا میں گشت کر رہے ہیں۔ جینیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر یہ امید ضرور پیدا کی تھی کہ شاید ایک نیا معاہدہ جنم لے گا، جیسا کہ ماضی میں 2015 کے جوہری معاہدے کی صورت میں ہوا تھا۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا تھا، اور عالمی طاقتیں ایک ممکنہ تصادم کو روکنے کے قریب نظر آ رہی تھیں۔

مگر جون 2025 میں، انہی مذاکرات کے دوران، ایران پر حملہ ہوا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب بات چیت کے ساتھ ساتھ طاقت کا استعمال کیا گیا ہو، مگر اس بار اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں اعتماد ایک نایاب شے بن چکا ہے۔

پھر 28 فروردی 2026 کا واقعہ—ایک ایسا موڑ جس نے اس تنازعے کو مکمل جنگی کیفیت میں بدل دیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو ابتدائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد متبادل قیادت کو بھی ختم کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رہیں۔ یہ حکمت عملی کسی ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

مگر ایران نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ اس نے جواب دیا—مسلسل اور شدید۔ امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس ردعمل نے یہ واضح کیا کہ ریاستیں صرف قیادت سے نہیں بلکہ اجتماعی ارادے سے چلتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس مزاحمت کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ یوٹیوبرز اور تجزیہ کار اسے استقامت اور حوصلے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ مگر اس بیانیے کے پیچھے ایک حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے—اور وہ ہے معیشت، اور اس سے جڑی عوام کی زندگی۔

ایران ایک طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ، بے روزگاری، اور بنیادی اشیاء کی قلت—یہ سب عوامل پہلے ہی عوام کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔ اب جنگی اخراجات، سپلائی لائنز کی رکاوٹ، اور عالمی تنہائی اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔

یہاں ایک اور بڑی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جس پر کم بات ہو رہی ہے:

ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا مجموعی طور پر معاشی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ توانائی کے وسائل—تیل اور گیس—صرف متحارب ممالک کا مسئلہ نہیں رہتے۔ ان کی کمیابی پوری دنیا کو متاثر کرتی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت ہل جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، خوراک—سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔

اس کے باوجود، امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے والے ممالک کی تعداد نہایت کم دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر ممالک ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہیں—"دیکھو اور انتظار کرو"۔ نہ کھل کر مداخلت، نہ مؤثر ثالثی، بس حالات کا مشاہدہ۔

یہ خاموشی بھی ایک طرح کا کردار ہے—اور بعض اوقات یہ کردار بھی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔

جنگ کا دائرہ جب وسیع ہوتا ہے تو اس کا نقصان سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ انسانیت اس کی سب سے بڑی قیمت ادا کرتی ہے۔ بچے، عام شہری، کمزور طبقات—یہ سب اس آگ میں جھلس جاتے ہیں جسے سیاسی اور عسکری فیصلے بھڑکاتے ہیں۔

ایسے میں ایک تلخ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ دنیا میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو کشیدگی کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں اپنا فائدہ دیکھتی ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے یہ نقطہ نظر سامنے آتا ہے کہ وہ خطے میں مسلسل دباؤ اور تصادم کی کیفیت کو اپنی سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا مبالغہ، مگر اس کی موجودگی خود عالمی بے اعتمادی کی علامت ہے۔

اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس سب میں ہار کون رہا ہے؟

اور جواب ہے: انسانیت۔

جنگیں وقتی فتح دے سکتی ہیں، مگر طویل المدت میں وہ معیشتوں کو کھوکھلا، معاشروں کو تقسیم، اور انسان کو بے بس کر دیتی ہیں۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ امن کی ضرورت ہے، مگر افسوس کہ امن کی آوازیں کمزور اور جنگ کا شور زیادہ بلند ہے۔

اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو شاید کل سوال یہ نہ ہو کہ جنگ کس نے جیتی،
بلکہ یہ ہو کہ انسانیت نے کیا کھو دیا۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

Has Israel Become an American Financial Liability?

 


Has Israel Become an American Financial Liability? 

For decades, the United States has described Israel as its most important partner in the Middle East. From Congress to the White House, support for the Israeli state has been a cornerstone of U.S. foreign policy. But in 2026, amid shifting public sentiment and ongoing conflict in the region, an increasingly vocal segment of Americans now questions whether this alliance still serves U.S. interests—or whether it has become a strategic and financial liability.

At the heart of this debate is money: the vast amounts of U.S. taxpayer funds allocated to support Israel. According to historical aid data compiled by the U.S. Congressional Research Service and other public records, Israel has been the largest cumulative recipient of American foreign assistance since World War II. Adjusted for inflation, Israel has received roughly $310 billion in total economic and military aid from the United States since its founding in 1948 through 2024. 

Much of this support has been concentrated in recent decades. Under a series of bilateral agreements—especially the 2016 Memorandum of Understanding (MOU)—the U.S. agreed to provide $38 billion in military aid from 2019 through 2028, averaging $3.8 billion per year. In fiscal year 2024 alone, approximately $6.8 billion in aid was obligated to Israel by the U.S. government, almost entirely for military assistance. 

These figures are enormous by any standard, and they have fueled a wider debate not merely about dollars spent abroad but about American priorities at home. Critics argue that taxpayers’ money would be better spent on domestic needs—healthcare, education, infrastructure—especially amid persistent economic challenges like inflation, rising debt, and stagnant wages. Some commentators highlight that cumulative aid since 1990 could have contributed to substantial domestic investment if redirected. While exact cumulative figures since 1990 vary by methodology, the sheer scale of U.S. assistance—hundreds of billions in total—creates a perception among critics that the alliance is too costly. 

For many Americans, resentment is not just about dollars but about human costs and strategic entanglement. As tensions with Iran have escalated and conflict with militant groups in Gaza persists, some U.S. veterans and activists argue that Americans are being drawn into wars that primarily serve another country’s agenda. A symbolic moment came during a recent congressional hearing when former U.S. Marine veteran Brian McGinnis stood before lawmakers shouting, “No one wants to fight for Israel,” and was removed by Capitol security. Supporters of the protest depicted the scene as alarming evidence that U.S. foreign policy elites are disconnected from ordinary citizens’ views on war and peace.

These episodes reflect a growing dissatisfaction among portions of the public. According to recent polls, a substantial number of Americans now believe that the United States supports Israel too much, particularly in the context of the Gaza conflict and broader Middle East policy. 

The financial critique is often tied to geopolitical concerns. Critics argue that unwavering U.S. support for Israel has made America a target of extremist groups and complicated relations with Arab and Muslim-majority nations. They contend that Washington’s alliance has constrained U.S. strategic flexibility in the region while inflaming anti‑American sentiment abroad.

Yet supporters of the alliance offer a starkly different assessment. They argue that Israel provides considerable strategic value to the United States, especially in intelligence sharing, military cooperation, and technological innovation. Israel’s military and intelligence capabilities, particularly in surveillance and counterterrorism, are cited by proponents as critical tools in U.S. efforts to counter extremist threats and preserve stability in a volatile region.

Moreover, while critics focus on the aid totals, analysts emphasize that a significant portion of U.S. aid to Israel comes back to the U.S. economy. The majority of military aid is spent on American defense contractors and equipment, supporting jobs and technological development in the U.S. defense sector.

In addition, strategic considerations like maintaining influence in the Middle East, balancing the power of regional adversaries, and securing access to emerging technologies factor into policymakers’ calculations. For decades, these arguments played well across party lines; bipartisan support for Israel remained robust even as broader public opinion shifted.

Indeed, recent polling suggests that American sympathies in the Israel‑Palestine conflict have shifted significantly, with younger generations expressing more balanced or critical views of Israel’s policies than in the past.  These changing attitudes feed into the debate about whether continued, unconditional support serves long-term U.S. interests.

Perhaps most challenging for foreign policy elites is that this debate is no longer confined to academic or activist circles. Congressional hearings, veteran protests, and public opinion polls signal a broader shift in the national conversation. The image of American troops dying in distant conflicts—not for direct national defense but in wars with complex regional dynamics—has become a potent political issue.

This shift raises several questions for American foreign policy: How should the United States balance its strategic commitments with domestic priorities? What level of foreign assistance aligns with national interest without undermining public confidence? And how should policymakers respond when a significant portion of the electorate feels that longstanding alliances no longer reflect their values or priorities?

In the end, whether Israel is viewed as an asset or a liability comes down to perspective. For advocates of strong global engagement, the U.S.-Israel relationship remains a cornerstone of American strategy in a troubled region. For critics, the partnership has become a costly—and potentially dangerous—entanglement that demands reevaluation.

What is clear is that the debate has moved beyond foreign policy circles into the mainstream of American political life. With shifting public opinion, record levels of financial support on the books, and mounting calls for reassessment, the question of Israel’s role in U.S. strategy is now one of the most contested issues in modern American geopolitics.


جمعہ، 20 فروری، 2026

مشرقِ وسطیٰ کی کہانی فوجی توازن سے نہیں،بلکہ ممکنات سے لکھی جا رہی ہے




چند دن پہلے سوشل میڈیا کی گرد میں ایک خبر اڑی اور پھر خود ہی بیٹھ گئی: کہا گیا کہ محمد بن سلمان علیل ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہد بنانے کی سرگوشیاں جاری ہیں۔ خبر کی تردید تو جلد ہو گئی، مگر اس واقعے نے ایک اہم حقیقت آشکار کر دی — مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل خبریں وہ نہیں ہوتیں جو سچ ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو ممکن نظر آئیں۔
خلیجی سیاست بظاہر استحکام کا تاثر دیتی ہے، لیکن اندرونی سطح پر اعتماد کی دراڑیں نمایاں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات سفارتی مسکراہٹوں کے باوجود مفادات کی سرد جنگ میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اختلافات وقتی نہیں بلکہ اس بدلتی دنیا کا عکس ہیں جہاں علاقائی طاقتیں خود کو عالمی طاقتوں کے زیرِ سایہ رکھنے کے بجائے اپنی الگ حیثیت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہی تبدیلی عالمی اتحادوں میں بھی نظر آتی ہے۔ نیٹو کے اندر بھی پالیسی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ترکی جیسے ممالک کئی معاملات میں امریکہ کی ترجیحات سے مختلف راستہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سیاست اب یک قطبی نظم سے نکل کر طاقت کے متعدد مراکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس وسیع شطرنج میں ایران ایک منفرد مہرہ ہے۔ اس کی مذہبی حکومت دہائیوں سے قائم ہے اور اس کے حامی اسے نظریاتی استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر اس پر حملہ عراق نے کیا تھا، جس کے نتائج نے پورے خطے کو بدل دیا اور بالآخر صدام حسین کو انجام تک پہنچایا۔ اس مثال کو اکثر اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے والا ہمیشہ فاتح نہیں ہوتا۔
مذہب اور نظریہ جب سیاست میں شامل ہو جائیں تو طاقت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ایران کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہاں لاکھوں افراد اپنے عقیدے کو ذاتی مفاد سے مقدم رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی قوت کو صرف عسکری برتری سے شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔
ادھر خلیجی سفارت کاری بھی خاموشی سے نئی سمتیں تراش رہی ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز کا دورۂ روس اور اس دوران ہونے والے معاہدے اس بات کی علامت تھے کہ عالمی صف بندیاں جامد نہیں رہیں۔ اسی دوران چین اپنی بحری اور معاشی موجودگی کے ساتھ خلیج فارس میں اثر بڑھا رہا ہے، جبکہ ماسکو کا خیال ہے کہ اسے یوکرین کے محاذ پر الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پیچیدہ منظرنامے میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: اگر واشنگٹن تہران کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرتا تو کیا اس کی عالمی برتری پر سوال اٹھیں گے؟ اور اگر کرتا ہے تو کیا وہ ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کا انجام اس کے اپنے اثر و رسوخ کو کمزور کر دے؟ طاقت کے کھیل میں بعض فیصلے جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔
اسی لیے مشرقِ وسطیٰ آج ایک حساس توازن پر کھڑا ہے۔ اگر ایران میں کسی بیرونی مداخلت سے نظام بدلتا ہے تو اس کے جھٹکے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے اقتدار کے ڈھانچے کو ہلا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کشیدگی کے ماحول میں سب سے زیادہ جارحانہ موقف رکھنے والے رہنما بنیامین نیتن یاہو ہیں، جو ایران کے خلاف سخت اقدامات کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی سیاست میں اصل جنگ محاذوں پر نہیں بلکہ امکانات میں لڑی جا رہی ہے۔ افواہیں، اتحاد، معاہدے اور بیانات — سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں خاموشی بھی خبر ہے اور سکوت بھی اعلان۔ مشرقِ وسطیٰ کی کہانی  اب  فوجی توازن سے  نہیں،بلکہ  ممکنات سے  لکھی جا رہی ہے۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

فتح کی تعریف




ہم اکثر افغانوں کی زبان سے ایک فخر آمیز جملہ سنتے ہیں: “ہم نے روس کو توڑا اور امریکہ کو شکست دی۔” بظاہر یہ الفاظ فتح کی گھن گرج محسوس ہوتے ہیں، مگر جب تاریخ اور سیاست کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا شور اکثر حقیقت کی خاموشی کو چھپا لیتا ہے۔ کسی طاقت کو گرانا بذاتِ خود کامیابی نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنی نسلوں کے حصے میں کیا آیا۔

سیاسی حکمت کا اصول سادہ مگر گہرا ہے: دشمن کی کمزوری تبھی معنی رکھتی ہے جب اپنی قوم کی مضبوطی میں ڈھل جائے۔ اگر میدانِ جنگ میں فتح کے باوجود بازار ویران ہوں، گھروں کے چراغ بجھ جائیں اور بچوں کے خواب ٹوٹ جائیں، تو پھر فتح اور شکست کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، امریکہ اور افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے تصادم اکثر عوام کی روزمرہ زندگی کو سب سے پہلے قربان کرتے ہیں۔

آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی سبق زندہ ہے۔ ایران کا موجودہ رویہ اسی شعور کی جھلک دکھاتا ہے کہ اصل جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حالات کے خلاف ہوتی ہے۔ ریاستیں جب سنجیدہ ہوتی ہیں تو ان کا ہدف نعروں کی گونج نہیں بلکہ معیشت کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور معاشرتی استحکام ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی علامت میزائل نہیں بلکہ وہ سکون ہے جس میں ایک مزدور شام کو گھر لوٹ کر اپنے بچوں کے چہروں پر اطمینان دیکھ سکے۔

فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوت محض عسکری برتری کا نام نہیں؛ یہ بصیرت، تدبر اور سمت کا مجموعہ ہے۔ سمت کے بغیر طاقت طوفان بن جاتی ہے—اور طوفان اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتا۔ جو قومیں صرف مخالف کو توڑنے کے خواب دیکھتی ہیں، تاریخ اکثر انہیں خود ٹوٹتے ہوئے دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں اپنے لوگوں کو سنبھالنے، اپنے اداروں کو مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے پر توجہ دیتی ہیں، وہی اصل فاتح ٹھہرتی ہیں۔

حقیقی حکمت یہی ہے کہ دشمن کے زوال کو مقصد نہ بنایا جائے بلکہ اپنی قوم کے عروج کو نصب العین رکھا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست دانائی بنتی ہے اور فلسفہ عملی زندگی کا چراغ — ایک ایسی روشنی جو بتاتی ہے کہ سب سے بڑی فتح میدان میں نہیں بلکہ معاشرے کے دل میں حاصل ہوتی ہے۔