جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تکرار کا جادو



تکرار کا جادو
ایک جھوٹ پہلی بار سنائی دے تو شاید آدمی اسے مسترد کردے، مگر وہی بات بار بار سنائی جائے تو کبھی کبھی ذہن اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے اور اسی کو ہم تکرار کا جادو کہہ سکتے ہیں۔

امریکی ماہرینِ نفسیات لِن ہاشر، ڈیوڈ گولڈسٹین اور تھامس ٹوپینو
نے 1977ء میں تجربات کے ذریعے دکھایا کہ بار بار سنے جانے والے بیانات لوگوں کو نسبتاً زیادہ درست محسوس ہوسکتے ہیں، خواہ وہ حقیقتاً درست نہ ہوں۔ نفسیات میں اس رجحان کو
Illusory Truth Effect
یعنی "وہمِ صداقت کا اثر" کہا جاتا ہے۔

یہاں اصل کمال جھوٹ کا نہیں، انسانی ذہن کا ہے۔ دماغ ہر نئی بات کو مکمل تحقیق کے مرحلے سے نہیں گزارتا۔ جو بات پہلے سنی ہوئی ہو، اسے سمجھنے میں کم ذہنی محنت لگتی ہے۔ یہی مانوسیت بعض اوقات سچائی کا احساس پیدا کردیتی ہے۔ افواہ کی پیدائش اور پرورش اسی زمین پر ہوتی ہے۔ کسی شخص کے بارے میں کہا گیا، "میں نے سنا ہے کہ وہ ایسا ہے۔" دوسرے نے وہی بات آگے پہنچا دی۔ تیسرے نے کہا، "یہ بات تو کئی لوگوں سے سن چکا ہوں۔" کچھ عرصے بعد کسی محفل میں یہی بات پورے اعتماد سے یوں بیان ہونے لگتی ہے: "یہ تو سب کو معلوم ہے۔"
مگر حقیقت میں بدلا کیا؟ صرف تکرار بڑھی۔

تاریخ میں اس نفسیاتی حقیقت کو طاقتور سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ نازی جرمنی میں جوزف گوئبلز ( 1897–1945) کی قیادت میں پروپیگنڈا مشین نے ریڈیو، اخبارات، فلم، پوسٹرز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے مخصوص ریاستی پیغامات مسلسل عوام تک پہنچائے۔ مقصد صرف اطلاع دینا نہیں تھا؛ ایک خاص بیانیے کو مسلسل دہرا کر اسے عوامی ذہن کا حصہ بنانا بھی تھا۔

فرانسیسی مفکر گستاو لوبوں ( 1841–1931) نے اجتماعی نفسیات پر اپنی معروف کتاب
The Crowd
میں بھی تکرار اور اجتماعی ذہن کے تعلق پر بحث کی تھی۔ آج جدید تحقیق نے انسانی ذہن کے اسی رجحان کو تجربات کے ذریعے مزید واضح کیا ہے۔

ہمارے زمانے نے تکرار کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک خبر نمودار ہوتی ہے۔ ایک شخص اسے شیئر کرتا ہے، دوسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے، تیسرا ویڈیو بناتا ہے، چوتھا اسے کسی گروپ میں پہنچا دیتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہی دعویٰ درجنوں یا سیکڑوں جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ پھر کوئی کہتا ہے "یہ بات غلط کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے تو اسے ہر جگہ دیکھا ہے۔"

ایک خبر کا سو جگہ نظر آنا ضروری نہیں کہ سو آزاد ذرائع اس کی تصدیق کررہے ہوں۔ ممکن ہے وہ سب ایک ہی غیرمصدقہ دعوے کو نقل کررہے ہوں۔ اس لیے صحافت اور تحقیق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی مقبولیت نہیں، اس کا ماخذ اور ثبوت دیکھا جائے۔ تصویر وائرل ہو تو اس کی تاریخ معلوم کی جائے۔ کوئی دعویٰ سامنے آئے تو اصل دستاویز تلاش کی جائے۔ اعداد و شمار پیش ہوں تو متعلقہ رپورٹ دیکھی جائے۔ اور اگر ایک ہی بات ہر جگہ لکھی ہو تو یہ پوچھا جائے کہ کیا کسی نے نے خود تحقیق کی ہے یا سب ایک ہی ذریعے کی آواز دہرا رہے ہیں۔

برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل ( 1872–1970) کا ایک مشہور قول ہے:

"The trouble with the world is that the stupid are cocksure and the intelligent are full of doubt."
یعنی دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نادان اپنے یقین میں بہت پُراعتماد ہوتے ہیں، جبکہ سمجھ دار انسان سوال کی گنجائش رکھتے ہیں۔
آج کے اطلاعاتی سیلاب میں یہی سوال ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔

جھوٹ عموماً مختصر ہوتا ہے، جذبات کو چھوتا ہے اور فوراً پھیل جاتا ہے۔ سچ بعض اوقات پیچیدہ ہوتا ہے، تحقیق مانگتا ہے اور شواہد پیش کرتا ہے۔ جھوٹ کہہ سکتا ہے، "قصوروار یہی ہے"، مگر سچ پوچھتا ہے، "واقعہ کیا تھا؟ ثبوت کہاں ہے؟" ۔ اسی لیے سچ تک پہنچنے کے لیے کبھی کبھی شور سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ آپ نے سنا ہو گا"سچ ابھی جوتے پہن رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ شہر کا چکر لگا چکا ہوتا ہے"

زبان اس لیے خطرناک بھی ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ اسی وقت دکھائی نہیں دیتا جب لفظ ادا کیا جاتا ہے۔ زبان جسم انسانی کے ان دس اعضاء میں سے ایک ھے جن کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ "جب ایک چلتی تو باقی خوف زدہ رہتے ھیں "
اوردوسرے نو یہ ھیں
۔ دو کان
دو آنکھیں ،
ایک ناک ،
دو ھاتھ
اور دو پاوں ۔

تکرار واقعی جادو رکھتی ہے، موجودہ دور میں جھوٹے تکرار کی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اس کے خلاف سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔





بدھ، 16 ستمبر، 2026

غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے








غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے
پاکستان کے دشمنوں کی فہرست بنانا مشکل نہیں۔ بھارت کا نام لیا جاسکتا ہے، افغانستان کے بعض عناصر کی بات ہوسکتی ہے، بیرونی لابیز اور ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی یا سیاسی مقاصد کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کا اس کی سرحد کے باہر ہونا ضروری ہے؟

شاید نہیں۔
کسی قوم کو شکست دینے کا ایک طریقہ اس کی سرحد پر فوج کھڑی کرنا ہے، دوسرا اس کے اندر ایسا ذہن پیدا کرنا ہے جو اپنی قوت پر یقین ہی کھودے۔ جب ایک قوم کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ اس کے ادارے ناکام ہیں، اس کی سیاست ناقابلِ اصلاح ہے، اس کی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں، اس کے فیصلے خود نہیں ہوسکتے اور اس کی بقا کسی بڑی طاقت کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو شکست میدان میں نہیں، ذہن میں شروع ہوچکی ہوتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ مسئلہ صرف بیرونی دباؤ کا نہیں، فکری انحصار کا بھی ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات بہتر ہوں تو ایک حلقہ اسے غلامی قرار دیتا ہے، چین سے دوستی بڑھے تو دوسرا حلقہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے، ایران سے قربت کی کوشش ہو تو کسی کو علاقائی صف بندی کا خوف لاحق ہوجاتا ہے اور سعودی عرب سے تعلقات مضبوط ہوں تو کچھ لوگ اسے خودمختاری کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے لیے بہترین خارجہ پالیسی یہ ہو کہ وہ دنیا سے تعلق ہی ختم کرلے۔
مگر دنیا اس طرح نہیں چلتی۔

خارجہ پالیسی جذبات کا نہیں، مفادات کا نظم ہے۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے، چین پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور سعودی عرب ہمارا اہم مسلم، اقتصادی اور دفاعی شراکت دار۔ پاکستان کو سب سے تعلق رکھنا ہے، مگر کسی کے مفاد کا تابع بن کر نہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سے کیا چاہتا ہے۔
یہی سوال چین کے بارے میں ہونا چاہیے، یہی ایران کے بارے میں، یہی سعودی عرب کے بارے میں اور یہی دنیا کے ہر دوسرے ملک کے بارے میں۔
ایک خودمختار ریاست دوسروں کے مفادات کو سمجھتی ہے، مگر اپنے مفادات کا فیصلہ دوسروں کے حوالے نہیں کرتی۔

امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طبقہ اسے پاکستان کے تقریباً ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھتا ہے، دوسرا یہ تصور رکھتا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔ دونوں رویے اپنی جگہ ایک مسئلہ ہیں۔ پہلا ہمیں اپنی داخلی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچاتا ہے، دوسرا ہماری اپنی قوت سے انکار کرتا ہے۔
امریکہ طاقتور ہے، اس سے تعلق رکھنا پاکستان کی ضرورت ہوسکتی ہے؛ مگر طاقتور ہونا کسی ملک کو ہماری قسمت کا مالک نہیں بناتا۔
پاکستان کو امریکہ سے تجارت چاہیے، سرمایہ کاری چاہیے، ٹیکنالوجی چاہیے، تعلیم اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے ہیں۔ مگر اگر دوستی کی قیمت اپنی پالیسی کا اختیار چھوڑنا ہو تو یہ دوستی نہیں، انحصار ہے۔
پاکستان کو امریکہ کا دوست ہونا چاہیے، امریکی پالیسی کا مہرہ نہیں۔

چین کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات محض وقتی سفارتی ضرورت نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شراکت داری ہیں۔ CPEC نے انفراسٹرکچر، توانائی اور علاقائی رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے۔ اس کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا ممنوع نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کسی منصوبے کی لاگت زیادہ ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر کسی منصوبے سے پاکستان کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی توقع تھی تو حکومت سے جواب طلب ہونا چاہیے۔
لیکن اعتراض اس وقت غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے جب منصوبے کی کارکردگی نہیں بلکہ صرف اس کا چینی ہونا مسئلہ بن جائے۔

اسی طرح ہر امریکی منصوبے کو سازش سمجھ لینا بھی دانشمندی نہیں۔
قومی مفاد کا ترازو ایک ہونا چاہیے۔ منصوبہ واشنگٹن سے آئے یا بیجنگ سے، ریاض سے یا تہران سے، سوال ایک ہی ہو:
اس سے پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟

ایران کے معاملے میں بھی ہمیں دوسروں کی عینک اتار کر اپنا نقشہ دیکھنا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہماری سرحدیں ملتی ہیں۔ بلوچستان دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترک جغرافیائی حقیقت ہے۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی امن جیسے معاملات ایران کے ساتھ تعلقات کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔
ایران سے اچھے تعلقات رکھنا کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے تعلقات کا مطلب ایران سے دشمنی نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، عوامی، اقتصادی اور دفاعی رشتے کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار سے وابستہ ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ موجود ہے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات ھی ہیں۔
اس تعلق پر سوال ہوسکتے ہیں۔ ہونے چاہئیں۔
پاکستانی مزدوروں کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں؟ سرمایہ کاری سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟ دفاعی تعاون کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے؟
یہ سوال حب الوطنی کے خلاف نہیں۔

لیکن اگر ایران سے تعلق کو سعودی عرب کے خلاف اور سعودی عرب سے تعلق کو ایران کے خلاف سمجھا جائے تو پھر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنا رہا، وہ دوسروں کی کشمکش میں اپنا مقام تلاش کررہا ہے۔

پاکستان کو تہران سے بھی بات کرنی ہے اور ریاض سے بھی۔
یہ تضاد نہیں، سفارت کاری ہے۔

یہیں 1971 کا باب ہمارے سامنے کھلتا ہے، وہ باب جسے ہم نے شاید پڑھا کم اور دہرایا زیادہ ہے۔
پاکستان ٹوٹا تو ہم نے آسان جواب تلاش کیا: بھارت نے پاکستان توڑ دیا۔
بھارتی مداخلت حقیقت تھی۔ مکتی باہنی کی مسلح سرگرمیاں حقیقت تھیں۔ بیرونی طاقتوں کی صف بندیاں بھی حقیقت تھیں۔ لیکن کیا یہی مکمل حقیقت تھی؟
نہیں۔
مشرقی پاکستان میں سیاسی اور معاشی محرومیاں تھیں۔ 1970 کے انتخابات نے ایک واضح مینڈیٹ دیا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کا بحران پیدا ہوا۔ سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے۔ اختلاف تصادم میں تبدیل ہوا۔ پھر فوجی کارروائی، مسلح مزاحمت، بھارتی مداخلت اور عالمی حالات نے اس بحران کو ایسی منزل تک پہنچایا جہاں واپسی ممکن نہ رہی۔

تاریخ کو صرف دشمن کی سازش بنا دینا آسان ہے، مگر اس سے قوم اپنی غلطیوں سے محروم ہوجاتی ہے۔
دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک اپنی کمزوری ہے۔
1971 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ بیرونی قوتیں ہمیشہ مواقع تلاش کرتی ہیں، مگر انہیں کامیابی کا موقع اکثر اندرونی بحران فراہم کرتا ہے۔

آج بھی اگر سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے، صوبائی یا لسانی تقسیم گہری ہوجائے، ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں اور عوام ریاست سے مایوس ہوجائیں تو بیرونی طاقتوں کو کسی سازش کے لیے بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔
استعمار کی نئی شکل بھی یہی ہے۔ اب ہر مرتبہ فوج، توپ اور گورنر درکار نہیں۔ اثر و رسوخ قرض سے بھی قائم ہوسکتا ہے، تجارت سے بھی، اطلاعات سے بھی، ثقافت سے بھی اور بیانیے سے بھی۔
لیکن یہاں بھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ دنیا سے سیکھنا استعمار نہیں۔ غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا استعمار نہیں۔ مغربی سائنس سے فائدہ اٹھانا استعمار نہیں۔ چینی ٹیکنالوجی قبول کرنا استعمار نہیں۔
استعمار اس وقت ذہن میں جگہ بناتا ہے جب انسان فیصلہ کرنے کی اپنی صلاحیت دوسروں کے حوالے کردیتا ہے۔

پھر طاقتور ملک کی ہر بات دانشمندی اور اپنے ملک کی ہر بات حماقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ باہر کی کامیابی ترقی اور اندر کی کامیابی اتفاق دکھائی دیتی ہے۔ اپنی قوم کے عیب فطرت بن جاتے ہیں اور دوسروں کی خامیاں استثنا۔

یہاں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم لازماً آزاد فکر پیدا کرتی ہے۔ ایسا نہیں۔ ڈگری علم دے سکتی ہے، بصیرت کی ضمانت نہیں۔ کوئی شخص دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پڑھ کر بھی ذہنی طور پر دوسروں کا محتاج ہوسکتا ہے، جبکہ ایک عام آدمی اپنی محدود تعلیم کے باوجود غیر معمولی قومی شعور رکھ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔
اصل سوال یہ ہے:
آپ سوچتے کس کے دماغ سے ہیں؟

اگر ہر اہم فیصلے سے پہلے ہمیں یہ فکر لاحق ہو کہ واشنگٹن کیا سوچے گا، بیجنگ کیا کہے گا، لندن کیا سمجھے گا یا کسی اور طاقتور دارالحکومت کا ردعمل کیا ہوگا، تو ہمیں اپنی فکری آزادی کا جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان میں ایک اور رویہ بھی تیزی سے پھیلتا ہے: مایوسی۔
یہ ملک نہیں چل سکتا۔
یہ قوم ناکام ہے۔
یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔
سب چور ہیں۔
سب بکاؤ ہیں۔
سب نااہل ہیں۔
یہ جملے بعض اوقات غصے میں نکلتے ہیں، بعض اوقات سیاسی مایوسی سے اور بعض اوقات باقاعدہ بیانیے کے طور پر۔

لیکن یہاں فرق ضروری ہے۔
کرپشن پر لکھنا مایوسی نہیں۔
غربت کی نشاندہی کرنا مایوسی نہیں۔
حکومت کو ناکام کہنا مایوسی نہیں۔
اداروں کا احتساب کرنا بھی مایوسی نہیں۔
مایوسی اس وقت خطرناک بیانیہ بنتی ہے جب قوم کو اس کی بیماری تو دکھائی جائے مگر علاج کا امکان چھین لیا جائے؛ جب ہر ناکامی کو قومی فطرت اور ہر کامیابی کو اتفاق بنا دیا جائے۔
تنقید وہ ہے جو قوم کو جگائے؛ مایوسی وہ ہے جو قوم سے بیداری کی امید بھی چھین لے۔

اسی لیے ’’ملک دشمن‘‘ کی اصطلاح بھی سوچ سمجھ کر استعمال ہونی چاہیے۔
ہر حکومت مخالف شخص ملک دشمن نہیں۔
ہر فوج پر تنقید کرنے والا غدار نہیں۔
ہر امریکہ نواز شخص امریکی ایجنٹ نہیں۔
ہر چین نواز شخص چینی مفاد کا نمائندہ نہیں۔
ہر ایران نواز شخص ایرانی ایجنٹ نہیں۔
اور ہر سعودی عرب نواز شخص عرب مفادات کا ترجمان نہیں۔
ایک شہری حکومت کی مخالفت کرسکتا ہے، کسی ادارے کے فیصلے پر اعتراض کرسکتا ہے، خارجہ پالیسی سے اختلاف کرسکتا ہے اور پھر بھی پاکستان سے وفادار ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر کسی کے خلاف دشمن ریاست کے لیے کام کرنے، خفیہ فنڈنگ لینے، منظم پروپیگنڈا کرنے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس معاملے کو نعرے نہیں، قانون کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔
یہی ایک مہذب ریاست کا طریقہ ہے۔

پاکستان کو غداروں کی لمبی فہرست سے زیادہ مضبوط اداروں اور باشعور شہریوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں کسی ایک عالمی کیمپ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ اور چین میں سے ایک کا انتخاب، ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب، روس اور مغرب میں سے ایک کا انتخاب—یہ سوال ہی غلط ہے۔
پاکستان کو کسی اور کا انتخاب نہیں کرنا۔
پاکستان کو پاکستان کا انتخاب کرنا ہے۔
ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے، مگر دنیا کے پیچھے نہیں۔
ہمیں دوست بنانا ہیں، مگر سرپرست تلاش نہیں کرنے۔
ہمیں تنقید سننی ہے، مگر اپنی صلاحیت سے مایوس نہیں ہونا۔
ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہے، مگر اپنی قوم کو ناکام قرار نہیں دینا۔
ہمیں دشمنوں سے ہوشیار رہنا ہے، مگر ہر اختلاف کرنے والے کو دشمن بھی نہیں سمجھنا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی بیرونی طاقت کی اجازت کا محتاج نہیں۔

آج اصل جنگ شاید سرحد پر نہیں، تصورِ پاکستان کے اندر لڑی جارہی ہے۔ ایک تصور کہتا ہے پاکستان کو اپنی طاقت پر کھڑا ہونا چاہیے؛ دوسرا ہر مشکل کے بعد کسی بیرونی طاقت کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ ہماری خامیاں قابلِ اصلاح ہیں؛ دوسرا انہیں ہماری قسمت قرار دیتا ہے۔ ایک اختلاف کو اصلاح کا راستہ سمجھتا ہے؛ دوسرا اختلاف کو دشمنی بنا دیتا ہے۔ ایک دنیا سے تعلق چاہتا ہے مگر سر جھکا کر نہیں؛ دوسرا طاقتور کے سائے کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کیسا پاکستان دیں گے: ایسا پاکستان جو دنیا کے نقشے پر موجود ہو مگر فیصلوں میں دوسروں کا محتاج ہو، یا ایسا پاکستان جو دوست سب کا ہو، دشمن کسی کا نہ ہو، مگر اپنی قسمت کا مالک خود ہو۔ تاریخ میں قومیں صرف زمین کھو کر غلام نہیں ہوتیں؛ کبھی کبھی وہ اپنی خود اعتمادی کھو کر بھی غلام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوگی۔ اس کی اصل حفاظت اس دن ہوگی جب اس قوم کا ذہن یہ ماننے سے انکار کردے گا کہ اس کی تقدیر کوئی دوسرا لکھ سکتا ہے۔

منگل، 15 ستمبر، 2026

شب افروز موتی



شب افروز

قیمتی پتھروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بعض پتھر دن کی روشنی جذب کرکے رات کے اندھیرے میں بھی چمکتے ہیں۔ شب افروز  موتی کے بارے میں بھی ایسی ہی روایت مشہور ہے۔ میں اس علم کا ماہر نہیں، مگر اس تصور میں انسان کے اخلاق کے لیے ایک خوب صورت استعارہ ضرور دیکھتا ہوں۔ جس طرح کسی پتھر کی اصل چمک تاریکی میں نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح انسان کے کردار کی اصل روشنی بھی اس وقت دکھائی دیتی ہے جب دنیا کی نگاہیں اس سے ہٹ جائیں اور وہ اپنی نجی ازدواجی زندگی میں اپنے شریکِ حیات کے ساتھ ہو۔

عوامی زندگی میں خوش اخلاق ہونا اچھی بات ہے، مگر انسان کے کردار کی گہرائی کا اندازہ اس کے اس رویے سے ہوتا ہے جو وہ اپنے سب سے قریبی رشتے کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔ شریکِ حیات وہ شخص ہے جو انسان کی کامیابی ہی نہیں، اس کی کمزوری، تھکن، خاموشی، غصہ اور پریشانی بھی قریب سے دیکھتا ہے۔ اس لیے ازدواجی زندگی میں باہمی احترام، نرم گفتگو، اعتماد، وفاداری اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھنا محض گھریلو آداب نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کی علامت ہیں۔

اختلاف ہر رشتے میں ہوسکتا ہے، مگر اصل امتحان اختلاف کے انداز میں ہے۔ کیا ہم ناراضی میں بھی دوسرے کی عزت برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بات منوانے کے بجائے دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم غصے کے لمحے میں بھی ایسے الفاظ سے بچتے ہیں جو دل پر دیر تک رہ جائیں؟ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ازدواجی تعلق کو مضبوط یا کمزور بناتی ہیں۔

انسان دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شائستگی سے پیش آسکتا ہے، مگر اگر وہ اپنے شریکِ حیات کے لیے احترام اور اطمینان کا باعث نہیں تو اس کی اخلاقی شخصیت ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو دکھاوے کا محتاج نہ ہو؛ جو تنہائی میں بھی وہی رہے جو محفل میں دکھائی دیتا ہے۔

اسی لیے شب افروز موتی میرے نزدیک ایک ایسے انسان کا استعارہ ہے جس کی اخلاقی روشنی اس کی نجی ازدواجی زندگی میں بھی قائم رہتی ہے۔ وہ اپنے شریکِ حیات کو محض ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتا ہے جس کے احساسات، عزت اور سکون بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے اس کے اپنے۔

شاید انسان کے کردار کی سب سے خوب صورت پہچان یہی ہے کہ اس کے قریب رہنے والا شخص اس کے ساتھ رہ کر خود کو محفوظ، محترم اور عزیز محسوس کرے۔

تب انسان صرف روشنی میں چمکنے والا شخص نہیں رہتا؛ وہ واقعی شب افروز موتی بن جاتا ہے—ایسا انسان جس کی اصل روشنی دنیا کے سامنے نہیں، بلکہ اپنے سب سے قریبی رشتے کی خاموش دنیا میں دکھائی دیتی ہے۔

جب درندے انسان سے کلام کریں گے




جب درندے انسان سے کلام کریں گے
ہم صدیوں سے پرندوں کو چہچہاتے، بھیڑیوں کو غراتے، وہیل کو سمندر میں پکار لگاتے اور ہاتھیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مخصوص آوازوں میں رابطہ کرتے دیکھتے آئے ہیں۔ ہم نے ان آوازوں کو سنا ضرور، مگر ان کا مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ جس زبان کو ہم سمجھ نہیں سکے، اسے ہم نے زبان ہی نہیں سمجھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جانوروں کے کلام کا تصور جدید سائنس کی ایجاد نہیں۔ قدیم مذہبی روایات میں انسان اور جانور کے درمیان گفتگو کے واقعات ملتے ہیں۔
کتابِ پیدائش میں سانپ کا حوا سے گفتگو کرنا بیان ہوا ہے۔ کتابِ گنتی میں بلعام کے گدھے کا واقعہ آتا ہے، جس کا منہ خدا نے کھولا اور وہ اپنے سوار سے کلام کرنے لگا۔
قرآن اس تصور کو حضرت سلیمانؑ کے واقعے میں ایک اور جہت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"وَعُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ"
یعنی حضرت سلیمانؑ کو پرندوں کی بولی سمجھنے کا علم عطا کیا گیا۔
پھر ایک چیونٹی کا ذکر ہے جو دوسری چیونٹیوں کو سلیمانؑ کے لشکر سے بچنے کے لیے خبردار کرتی ہے۔ سلیمانؑ اس کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ پھر ہدہد آتا ہے اور ایک ایسی قوم کے بارے میں خبر دیتا ہے جس سے سلیمانؑ پہلے واقف نہیں تھے۔
یہاں کہانی صرف اتنی نہیں کہ ایک جانور بول رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جانور کے اظہار کو سمجھ رہا ہے۔
اور پھر رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث اس موضوع کو ایک بالکل مختلف سطح پر لے جاتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کریں..."
حدیث کے الفاظ ہیں:
"حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ"
یعنی:
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
یہاں ایک سوال لازماً پیدا ہوتا ہے: کیا اس کا تعلق اس سائنسی سفر سے جوڑا جاسکتا ہے جس پر انسان آج چل نکلا ہے؟


نہ حضرت سلیمانؑ کے واقعے کو جدید سائنس کا تجربہ کہا جاسکتا ہے، نہ بلعام کے گدھے کے واقعے کو سائنسی دلیل، اور نہ حدیثِ نبوی ﷺ کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں براہِ راست پیش گوئی قرار دینا درست ہوگا۔ مذہبی روایت اور سائنسی تحقیق کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔
لیکن سوال بہرحال دلچسپ ہے۔
کیونکہ سائنس اب واقعی جانوروں کی آوازوں کے اندر چھپے ہوئے معنی تلاش کرنے لگی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں سائنس دان وہیل، ڈولفن، ہاتھیوں، پرندوں اور دوسری مخلوقات کی آوازیں بڑی تعداد میں محفوظ کر رہے ہیں۔ پھر مصنوعی ذہانت ان آوازوں کا موازنہ کرکے یہ دیکھتی ہے کہ کون سی آواز کس موقع پر پیدا ہوتی ہے، کون سی آواز کس رویے کے ساتھ وابستہ ہے اور کیا مختلف آوازوں کے درمیان کوئی باقاعدہ ترتیب موجود ہے۔

فرض کیجیے ایک پرندہ ایک خاص آواز اس وقت نکالتا ہے جب شکاری قریب ہو۔ دوسری آواز اس وقت نکالتا ہے جب وہ اپنے بچے کو بلاتا ہے۔ تیسری آواز خوراک کی موجودگی میں سنائی دیتی ہے۔

ان آوازوں کو بار بار سننے والا انسان شاید صرف فرق محسوس کرے۔ لیکن مصنوعی ذہانت ہزاروں آوازوں کا ایک ساتھ موازنہ کرکے ان کے درمیان ایسے تعلقات تلاش کرسکتی ہے جو انسانی مشاہدے سے چھپے رہ جائیں۔

یہیں سے ایک نئے عہد کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اگر مشین یہ بتادے کہ فلاں آواز خطرے سے متعلق ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر ہم فوراً یہ دعویٰ کردیں کہ جانور نے کہا، "میرے ساتھ چلو، یہاں خطرہ ہے"، تو ہم سائنس سے آگے نکل جائیں گے۔
کیونکہ آواز کا مفہوم جاننا اور مکمل زبان سمجھ لینا دو مختلف چیزیں ہیں۔

ممکن ہے جانوروں کی زبان انسانی زبانوں سے بالکل مختلف ہو۔ ممکن ہے ان کے ہاں الفاظ کے بجائے آواز، حرکت، بو، جسمانی اشارے اور ماحول مل کر معنی پیدا کرتے ہوں۔ ممکن ہے ان کا پیغام کسی ایک لفظ میں نہیں بلکہ پورے رویے میں پوشیدہ ہو۔
اس لیے مستقبل کا جانور مترجم شاید ہماری طرح جملے نہ بنائے۔ ممکن ہے وہ صرف یہ بتائے
خطرہ۔
خوراک۔
بچہ قریب ہے۔
اجنبی موجود ہے۔
ساتھی کو بلایا جا رہا ہے۔
لیکن اگر کبھی مشین اس مقام تک پہنچ گئی جہاں وہ جانور کے اشارے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسی نظام میں جواب بھی دے سکے، تو معاملہ بہت آگے بڑھ جائے گا۔
پھر انسان صرف جانوروں کا مشاہدہ نہیں کرے گا، ان سے گفتگو بھی شروع کرسکے گا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہوگا جہاں انسان کو اپنے بارے میں ایک پرانا تصور بدلنا پڑے گا۔
ہم نے ہمیشہ خود کو کائنات کا سب سے زیادہ صاحبِ زبان جاندار سمجھا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو تہذیب کی بنیاد بنایا اور دوسروں کی آوازوں کو اکثر محض شور سمجھا۔ لیکن اگر ایک دن ہمیں معلوم ہوگیا کہ جنگل، سمندر اور آسمان بھی اپنے اپنے انداز میں مسلسل پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے تو مسئلہ جانوروں کی خاموشی کا نہیں، ہماری سماعت کا تھا۔
قرآن کہتا ہے:
"وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ"
"لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"
اس آیت کو مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔ لیکن اس میں انسان کے لیے ایک گہرا فکری سوال ضرور موجود ہے: کیا ہماری لاعلمی اس بات کی دلیل ہے کہ دوسری مخلوقات بے زبان ہیں، یا صرف یہ کہ ہم ان کی زبان نہیں جانتے؟
اور پھر حدیث کے وہ الفاظ
"حتی تکلم السباع الإنس"
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
ہم نہیں جانتے کہ اس پیش گوئی کا ظہور کس صورت میں ہوگا۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ آنے والی مشینیں جانوروں کی آوازوں کو واقعی کسی زبان کی طرح سمجھ پائیں گی یا نہیں۔
لیکن ایک بات ضرور بدل چکی ہے۔
انسان اب پہلی مرتبہ اس مفروضے کو سنجیدگی سے آزما رہا ہے کہ جانوروں کی آوازوں کے اندر معنی ہوسکتے ہیں۔

شاید مستقبل میں کسی دن انسان جنگل میں کھڑا ہو، ایک مشین کسی درندے کی آواز سنے اور پہلی مرتبہ اسے یہ معلوم ہوجائے کہ سامنے موجود مخلوق کیا کہنا چاہتی ہے۔
اس دن شاید سب سے بڑا انکشاف یہ نہ ہو کہ درندے بول سکتے ہیں۔
بلکہ یہ ہو کہ وہ ہمیشہ سے بول رہے تھے۔
ہم ہی ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔

عزم ، عوامی حمائت اور جغرافیے کی فتح


عزم ، عوامی حمائت اور جغرافیے کی فتح

 طاقتور ملک اپنے مقابل کو صرف اپنی طاقت کے پیمانے سے دیکھتا ہے۔ اسے اپنی فوج کی تعداد، اپنے ہتھیاروں، ٹیکنالوجی، دولت اور وسائل پر اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ مخالف کے عزم، جغرافیے، حکمتِ عملی اور عوامی حمایت کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ پھر بظاہر کمزور قوم میدانِ جنگ میں طاقتور کو ایسا سبق سکھا دیتی ہے جسے تاریخ صدیوں تک یاد رکھتی ہے۔

ایک طرف فرانس تھا؛ ایک بڑی یورپی طاقت، ایک وسیع نوآبادیاتی سلطنت کا مالک، جدید اسلحے اور تربیت یافتہ فوج کا حامل۔ دوسری طرف ویت منہ 
 کی وہ قوت تھی جو بنیادی طور پر مقامی ویت نامی مزاحمت کی نمائندگی کرتی تھی۔ ظاہری موازنے میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ فرانس کے پاس جدید فوجی سازوسامان تھا، فضائی طاقت تھی، توپ خانہ تھا اور جنگی تجربہ تھا، جبکہ ویت منہ کے پاس وسائل محدود تھے۔

مگر جنگ صرف وسائل سے نہیں لڑی جاتی۔
فرانس نے "ڈین بین پھو " کے علاقے میں ایک مضبوط فوجی اڈہ قائم کیا۔ فرانسیسی قیادت کا خیال تھا کہ ویت منہ کی افواج اس قلعہ بند مقام پر براہِ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں فرانسیسی فوج اپنے جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت سے مخالف کو شکست دینے کا تصور کر رہی تھی۔
لیکن فرانسیسی قیادت ایک چیز کو سمجھنے میں ناکام رہی: جس جنگ کو وہ ہتھیاروں کی جنگ سمجھ رہے تھے، ویت منہ اسے ارادے، وقت اور جغرافیے کی جنگ سمجھ رہا تھا۔

ویت منہ کے کمانڈر جنرل "وو نگوین جیاپ"  نے روایتی انداز میں حملہ کرنے کے بجائے فرانسیسی اڈے کا محاصرہ شروع کردیا۔ توپیں پہاڑوں میں چھپائی گئیں۔ ہزاروں مقامی لوگ رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے۔ دشوار گزار راستوں سے خوراک، گولہ بارود اور فوجی سامان محاذ تک پہنچایا گیا۔

فرانس کے پاس طاقتور توپیں تھیں، مگر ویت منہ کے پاس وہ پہاڑ تھے جن پر توپیں چھپائی جاسکتی تھیں۔
فرانس کے پاس طیارے تھے، مگر ویت منہ نے زمین پر ایسا محاصرہ قائم کردیا تھا کہ فضائی رسد بھی مسلسل خطرے میں آگئی۔
فرانس کے پاس جدید فوج تھی، مگر جیاپ کے پاس وقت تھا۔
اور جنگ میں کبھی کبھی وقت بھی ایک ہتھیار بن جاتا ہے۔

 مارچ 1954ء کو ڈین بین پھو کی جنگ شروع ہوئی۔ فرانسیسی فوج کو ابتدا میں شاید اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس مقام کو اپنی طاقت کا مظہر سمجھ رہی ہے، وہی اس کے لیے ایک جال بننے والا ہے۔
ویت منہ نے فرانسیسی دفاعی پوزیشنوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا۔ خندقیں آگے بڑھتی گئیں۔ فرانسیسی فوج کا دائرہ سکڑتا گیا۔ رسد مشکل ہوتی گئی اور بالآخر وہ لمحہ آگیا جب جدید فوجی طاقت رکھنے والی فرانسیسی فوج ایک ایسے محاصرے میں پھنس چکی تھی جس سے نکلنا آسان نہیں تھا۔
7 ، صرف 56 روز بعد 
، 7 مئی 1954ء کو فرانسیسی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔
ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والی مقامی قوت کے ہاتھوں فیصلہ کن شکست کھا چکی تھی۔
یہ صرف ایک فوجی شکست نہیں تھی۔ اس شکست نے فرانس کے پورے نوآبادیاتی منصوبے کو ہلا کر رکھ دیا اور فرانسیسی ہندچین میں اس کے مستقبل پر بنیادی سوال کھڑا کردیا۔ بالآخر فرانس کو ویت نام اور خطے سے اپنے نوآبادیاتی اقتدار کے خاتمے کی طرف جانا پڑا۔

ڈین بین پھو  کی لڑائی ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتی ہے:
طاقت اور فتح ایک ہی چیز نہیں۔
ایک ملک کے پاس زیادہ ٹینک ہوسکتے ہیں، زیادہ طیارے ہوسکتے ہیں، جدید ترین میزائل ہوسکتے ہیں، بڑی فوج ہوسکتی ہے، زیادہ دولت ہوسکتی ہے؛ لیکن اگر اسے یہ یقین ہوجائے کہ مخالف صرف اس لیے ہار جائے گا کہ وہ کمزور ہے، تو یہی یقین اس کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔

تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بڑی طاقتیں چھوٹی قوموں کو محض اعداد و شمار کی نظر سے دیکھتی رہیں اور پھر جنگ کے میدان میں انہیں معلوم ہوا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتیں، اپنے یقین سے بھی لڑتی ہیں۔

ڈین بین پھو میں فرانس کے پاس بندوقیں زیادہ تھیں، مگر ویت منہ کے پاس مقصد زیادہ واضح تھا۔
فرانس کے پاس جدید فوجی ٹیکنالوجی تھی، مگر جیاپ نے جنگ کو اپنی شرائط پر لڑا۔
فرانس کے پاس طاقت تھی، مگر ویت منہ نے اس طاقت کو استعمال کرنے کا موقع ہی محدود کردیا۔
یہاں ایک اور اہم سبق بھی ہے۔ کمزور فریق کا کامیاب ہونا محض جذبات یا بہادری کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے حکمتِ عملی، مقامی جغرافیے کا گہرا علم، رسد کا غیر معمولی انتظام، طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت اور عوامی تعاون موجود تھا۔


آج دنیا پھر طاقت کے مظاہروں کے دور میں داخل ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے جنگی بجٹ، جدید میزائلوں، ڈرونز، طیارہ بردار جہازوں اور ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد گنواتی ہیں۔ چھوٹے ممالک اپنی کمزوری جانتے ہیں، مگر تاریخ انہیں یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ جنگ کا نتیجہ طے نہیں کرتا۔



جنگ جیتنے کے لیے صرف دشمن سے زیادہ طاقتور ہونا کافی نہیں؛ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دشمن کس چیز کے لیے لڑ رہا ہے، کتنی دیر لڑ سکتا ہے اور اس کی زمین اس کے لیے کتنی بڑی طاقت بن سکتی ہے۔


طاقت اگر غرور بن جائے تو کمزوری بن سکتی ہے۔

اور کمزوری اگر عزم، حکمت اور صبر کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔