بدھ، 23 ستمبر، 2026

خرابی کہاں ہے؟



خرابی کہاں ہے؟

ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر انگلی کسی دوسرے کی طرف اٹھاتے ہیں۔ کبھی مسئلہ سیاست دانوں میں نظر آتا ہے، کبھی جرنیلوں میں، کبھی ججوں اور افسروں میں، کبھی مولویوں میں اور کبھی کسی اور طبقے میں۔ یوں ہم مسئلے کو اپنے سے باہر دھکیل کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، چند سخت جملے کہتے ہیں اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خرابی کہیں اور ہے، ہم میں نہیں۔

حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

جرنیل، سیاست دان، مولوی، جج، افسر، ڈاکٹر، وکیل اور استاد آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔ یہ سب اسی معاشرے کی گلیوں، محلوں، اسکولوں، مدرسوں اور گھروں سے اٹھ کر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت کسی خلا میں تشکیل نہیں پاتی۔ وہ وہی اقدار دیکھتے، سنتے اور سیکھتے ہیں جو ان کے اردگرد کا معاشرہ انہیں دیتا ہے۔ پھر جب انہیں اختیار، منصب اور موقع ملتا ہے تو ان کے اندر موجود رویے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

اس لیے اصل مسئلہ صرف افراد کا نہیں، رویوں کا ہے۔

اگر کسی معاشرے میں طاقت کو حق سمجھنے، قانون کو اپنی ضرورت کے مطابق موڑنے، سفارش کو قابلیت پر ترجیح دینے، جھوٹ کو مصلحت کا نام دینے اور ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر مقدم رکھنے کا چلن عام ہو جائے تو یہ رویے صرف عام آدمی تک محدود نہیں رہتے۔ یہی رویے اقتدار کے ایوانوں، عدالتوں، دفاتر، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچ جاتے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عام آدمی کے پاس اختیار کم ہوتا ہے اور صاحبِ منصب کے پاس زیادہ۔

جس شخص کو جتنا اختیار ملتا ہے، اس کے اندر موجود رویے کو اتنا ہی بڑا میدان مل جاتا ہے۔

ہم شکایت کرتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں، افسر کام نہیں کرتے، ڈاکٹر مریض کو لوٹتے ہیں، وکیل انصاف کو کاروبار بنا دیتے ہیں، جج فیصلوں میں تاخیر کرتے ہیں، استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور کھلاڑی سفارش کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مگر کبھی یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ یہ لوگ آئے کہاں سے ہیں؟

کیا یہ کسی دوسرے سیارے کے باشندے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے سے باہر کوئی ایسی فیکٹری ہے جہاں جرنیل، سیاست دان، افسر، ڈاکٹر، وکیل، جج اور استاد تیار کیے جاتے ہیں؟

نہیں۔

یہ ہم ہی ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو گھر میں اصولوں اور ایمانداری کی اہمیت سمجھاتے ہیں، لیکن اسی گھر میں کبھی یہ بھی سکھا دیتے ہیں کہ کام نکلوانے کے لیے تعلقات ضروری ہیں۔ ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہیں، مگر اپنے بیٹے، بھائی یا دوست کے لیے میرٹ سے استثنا چاہتے ہیں۔ ہم قانون کی بالادستی کے خواہش مند ہیں، مگر سڑک پر اپنی باری کا انتظار کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔ ہم رشوت کو برا کہتے ہیں، لیکن جب کوئی معمولی فائدہ ہمارے حصے میں آ جائے تو اسے ’’چائے پانی‘‘، ’’کام نکلوانا‘‘ یا ’’حق دلوانا‘‘ کہہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔

یہ معمولی سمجھوتے بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر یہی رویے رفتہ رفتہ اجتماعی کردار بناتے ہیں۔

پھر یہی بچے بڑے ہو کر افسر بنتے ہیں، ڈاکٹر بنتے ہیں، وکیل بنتے ہیں، استاد بنتے ہیں، سیاست میں آتے ہیں یا کسی ادارے میں اختیار حاصل کرتے ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ نظام ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ نظام کوئی الگ مخلوق نہیں۔ نظام انسان بناتے ہیں، ادارے انسان چلاتے ہیں اور اداروں کی ثقافت بھی انسانوں کے رویوں سے تشکیل پاتی ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں: ’’زمانہ ہی خراب ہے۔‘‘
’’ملک کے حالات ایسے ہیں۔‘‘
’’اوپر سے یہی ہو رہا ہے۔‘‘
’’سب ہی کرپٹ ہیں۔‘‘

ان جملوں میں شاید کچھ حقیقت ہو، مگر ان کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذمہ داری سے فرار کی سہولت دیتے ہیں۔

اگر ہر خرابی کی وجہ ہمیشہ کوئی دوسرا ہے تو پھر ہمیں اپنے اندر تبدیلی کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوگی؟

معاشرہ صرف پارلیمنٹ میں نہیں ہوتا۔ وہ عدالت میں بھی ہے، مگر گھر میں بھی ہے۔ وہ دفتر میں بھی ہے، مگر بازار میں بھی۔ وہ اسپتال میں بھی ہے، مگر سڑک پر بھی۔ وہ مدرسے اور اسکول میں بھی ہے، مگر اس چھوٹے سے فیصلے میں بھی ہے جو ہم اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں یقین ہو کہ ہمیں کوئی دیکھ نہیں رہا۔

اصل کردار شاید وہیں ظاہر ہوتا ہے۔

ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکمران کیسے ہیں؛ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم کیسے شہری ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ افسر رشوت کیوں لیتا ہے؛ یہ بھی کہ ہم اپنا کام جلدی کروانے کے لیے رشوت دینے پر کیوں آمادہ ہوتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ استاد پڑھاتا کیوں نہیں؛ یہ بھی کہ ہم تعلیم کو علم کے بجائے صرف نمبر اور سند کیوں سمجھتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ ڈاکٹر انسانیت کیوں بھول گیا؛ یہ بھی کہ ہم کامیابی کو دولت، عہدے اور ظاہری حیثیت کے ترازو میں کیوں تولتے ہیں۔

یہ سوال کسی ایک طبقے کو بری نہیں کرتا، بلکہ ہر طبقے کو اس کے حصے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکمران، ادارے یا بااختیار افراد اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جس کے پاس اختیار زیادہ ہے، اس کی جواب دہی بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن اجتماعی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشرہ اپنے اندر موجود ان رویوں کو بھی نہ دیکھے جو بعد میں طاقتور عہدوں پر پہنچ کر زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ہم اکثر تبدیلی اوپر سے چاہتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ حکمران بدل جائیں، افسر بدل جائیں، نظام بدل جائے، قانون بدل جائے، ادارے بدل جائیں۔

مگر شاید سوال یہ ہے کہ ہم خود کب بدلیں گے؟

قومیں صرف اچھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ اچھے شہری بھی اچھے ادارے پیدا کرتے ہیں، اور اچھے ادارے ایسے معاشرے سے جنم لیتے ہیں جہاں اصول صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی ہوں۔

اس لیے مسئلے کی نشاندہی ضروری ہے، مگر اس کے بعد آئینہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آسان ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان خود کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنے آپ سے سوال کرے:

جس معاشرے کی خرابیوں کا ہم روز ماتم کرتے ہیں، کیا ان خرابیوں کا کوئی چھوٹا سا حصہ ہمارے اپنے رویے میں بھی موجود ہے

شاید تبدیلی کا آغاز کسی حکمران، جرنیل، جج، افسر یا مولوی کو بدلنے سے پہلے اس ادراک سے ہوتا ہے۔

کہ

خرابی صرف وہاں نہیں ہے جہاں ہم انگلی اٹھا رہے ہیں؛ ممکن ہے خرابی میں تھوڑا سا حصہ ہم بھی ڈال رہے ہوں ۔

گندہ نالا چھوٹی چھوٹی گندی نالیوں کے ملنے سے ہی بنتا ہے ۔ 

جمعہ، 18 ستمبر، 2026

آئیں، حقیقی تبدیلی لائیں




آئیں، حقیقی تبدیلی لائیں

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ کوئی نظام بدلنا چاہتا ہے، کوئی سیاست، کوئی تعلیم اور کوئی معاشرتی رویے۔ مگر شاید ہم تبدیلی کے سب سے بنیادی دروازے کو بھول گئے ہیں—گھر۔ کیونکہ معاشرہ سڑکوں، ایوانوں اور اداروں میں بعد میں بنتا ہے، پہلے ایک بچے کے دل و دماغ میں تشکیل پاتا ہے۔

بچہ ہمارے گھر میں آتا ہے تو ہم اسے اپنی ملکیت سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے لیے اپنے خواب منتخب کرتے ہیں، اس کے راستے طے کرتے ہیں اور کبھی اپنی نامکمل خواہشوں کا بوجھ بھی اس کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ بچہ ملکیت نہیں، امانت ہے۔
ملکیت پر اختیار جتایا جاتا ہے، امانت کی حفاظت کی جاتی ہے۔
اگر بچہ امانت ہے تو ہماری ذمہ داری یہ نہیں کہ اسے اپنی مرضی کا انسان بنائیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانیں، اس کے سوال کو سنیں، اس کی شخصیت کا احترام کریں اور اسے اس قابل بنائیں کہ وہ ایک دن اپنے فیصلے خود کرسکے۔

والدین کی محبت کا کمال بچے کو ہمیشہ اپنے سائے میں رکھنا نہیں، بلکہ اسے اتنے مضبوط قدم دینا ہے کہ وہ ایک دن اس سائے سے نکل کر اپنی روشنی تلاش کرسکے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے ہماری تربیت کا نتیجہ ہی نہیں، ہماری تربیت کا امتحان بھی ہیں۔ وہ ہماری نصیحتیں کم اور ہمارے کردار کو زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ سچ بولیں تو ہمیں خود سچ کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ احترام کریں تو ہمیں پہلے ان کی شخصیت کا احترام کرنا ہوگا۔ ہم ان سے برداشت چاہتے ہیں تو ان کے سوال، اختلاف اور غلطی کو برداشت کرنا ہوگا۔

گھر کا ایک رویہ کبھی صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتا۔ آج ہم بچے کے ساتھ جس لہجے میں بات کرتے ہیں، ممکن ہے کل وہی لہجہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ اختیار کرے۔ یوں ہماری عادتیں خاموشی سے نسلوں کا سفر طے کرتی ہیں۔

اس لیے اگر ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو آغاز کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔

بچے کو بدلنے سے پہلے اپنا لہجہ بدلیں۔ اسے نصیحت کرنے سے پہلے اپنا کردار دیکھیں۔ اس کے مستقبل کی فکر کرنے سے پہلے اپنے آج کو درست کریں۔

کیونکہ ہماری اصل میراث وہ دولت نہیں جو ہم بچوں کے لیے چھوڑ جائیں گے؛ ہماری اصل میراث وہ انسان ہے جو ہم دنیا کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔

ہم بدلیں گے تو گھر بدلے گا، گھر بدلے گا تو نسل بدلے گی، اور نسل بدلے گی تو معاشرہ خود بدلنے لگے گا۔

آئیں،
حقیقی تبدیلی کا آغاز اپنی ذات اور اپنے گھر سے کریں۔

جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تکرار کا جادو



تکرار کا جادو
ایک جھوٹ پہلی بار سنائی دے تو شاید آدمی اسے مسترد کردے، مگر وہی بات بار بار سنائی جائے تو کبھی کبھی ذہن اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے اور اسی کو ہم تکرار کا جادو کہہ سکتے ہیں۔

امریکی ماہرینِ نفسیات لِن ہاشر، ڈیوڈ گولڈسٹین اور تھامس ٹوپینو
نے 1977ء میں تجربات کے ذریعے دکھایا کہ بار بار سنے جانے والے بیانات لوگوں کو نسبتاً زیادہ درست محسوس ہوسکتے ہیں، خواہ وہ حقیقتاً درست نہ ہوں۔ نفسیات میں اس رجحان کو
Illusory Truth Effect
یعنی "وہمِ صداقت کا اثر" کہا جاتا ہے۔

یہاں اصل کمال جھوٹ کا نہیں، انسانی ذہن کا ہے۔ دماغ ہر نئی بات کو مکمل تحقیق کے مرحلے سے نہیں گزارتا۔ جو بات پہلے سنی ہوئی ہو، اسے سمجھنے میں کم ذہنی محنت لگتی ہے۔ یہی مانوسیت بعض اوقات سچائی کا احساس پیدا کردیتی ہے۔ افواہ کی پیدائش اور پرورش اسی زمین پر ہوتی ہے۔ کسی شخص کے بارے میں کہا گیا، "میں نے سنا ہے کہ وہ ایسا ہے۔" دوسرے نے وہی بات آگے پہنچا دی۔ تیسرے نے کہا، "یہ بات تو کئی لوگوں سے سن چکا ہوں۔" کچھ عرصے بعد کسی محفل میں یہی بات پورے اعتماد سے یوں بیان ہونے لگتی ہے: "یہ تو سب کو معلوم ہے۔"
مگر حقیقت میں بدلا کیا؟ صرف تکرار بڑھی۔

تاریخ میں اس نفسیاتی حقیقت کو طاقتور سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ نازی جرمنی میں جوزف گوئبلز ( 1897–1945) کی قیادت میں پروپیگنڈا مشین نے ریڈیو، اخبارات، فلم، پوسٹرز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے مخصوص ریاستی پیغامات مسلسل عوام تک پہنچائے۔ مقصد صرف اطلاع دینا نہیں تھا؛ ایک خاص بیانیے کو مسلسل دہرا کر اسے عوامی ذہن کا حصہ بنانا بھی تھا۔

فرانسیسی مفکر گستاو لوبوں ( 1841–1931) نے اجتماعی نفسیات پر اپنی معروف کتاب
The Crowd
میں بھی تکرار اور اجتماعی ذہن کے تعلق پر بحث کی تھی۔ آج جدید تحقیق نے انسانی ذہن کے اسی رجحان کو تجربات کے ذریعے مزید واضح کیا ہے۔

ہمارے زمانے نے تکرار کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک خبر نمودار ہوتی ہے۔ ایک شخص اسے شیئر کرتا ہے، دوسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے، تیسرا ویڈیو بناتا ہے، چوتھا اسے کسی گروپ میں پہنچا دیتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہی دعویٰ درجنوں یا سیکڑوں جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ پھر کوئی کہتا ہے "یہ بات غلط کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے تو اسے ہر جگہ دیکھا ہے۔"

ایک خبر کا سو جگہ نظر آنا ضروری نہیں کہ سو آزاد ذرائع اس کی تصدیق کررہے ہوں۔ ممکن ہے وہ سب ایک ہی غیرمصدقہ دعوے کو نقل کررہے ہوں۔ اس لیے صحافت اور تحقیق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی مقبولیت نہیں، اس کا ماخذ اور ثبوت دیکھا جائے۔ تصویر وائرل ہو تو اس کی تاریخ معلوم کی جائے۔ کوئی دعویٰ سامنے آئے تو اصل دستاویز تلاش کی جائے۔ اعداد و شمار پیش ہوں تو متعلقہ رپورٹ دیکھی جائے۔ اور اگر ایک ہی بات ہر جگہ لکھی ہو تو یہ پوچھا جائے کہ کیا کسی نے نے خود تحقیق کی ہے یا سب ایک ہی ذریعے کی آواز دہرا رہے ہیں۔

برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل ( 1872–1970) کا ایک مشہور قول ہے:

"The trouble with the world is that the stupid are cocksure and the intelligent are full of doubt."
یعنی دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نادان اپنے یقین میں بہت پُراعتماد ہوتے ہیں، جبکہ سمجھ دار انسان سوال کی گنجائش رکھتے ہیں۔
آج کے اطلاعاتی سیلاب میں یہی سوال ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔

جھوٹ عموماً مختصر ہوتا ہے، جذبات کو چھوتا ہے اور فوراً پھیل جاتا ہے۔ سچ بعض اوقات پیچیدہ ہوتا ہے، تحقیق مانگتا ہے اور شواہد پیش کرتا ہے۔ جھوٹ کہہ سکتا ہے، "قصوروار یہی ہے"، مگر سچ پوچھتا ہے، "واقعہ کیا تھا؟ ثبوت کہاں ہے؟" ۔ اسی لیے سچ تک پہنچنے کے لیے کبھی کبھی شور سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ آپ نے سنا ہو گا"سچ ابھی جوتے پہن رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ شہر کا چکر لگا چکا ہوتا ہے"

زبان اس لیے خطرناک بھی ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ اسی وقت دکھائی نہیں دیتا جب لفظ ادا کیا جاتا ہے۔ زبان جسم انسانی کے ان دس اعضاء میں سے ایک ھے جن کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ "جب ایک چلتی تو باقی خوف زدہ رہتے ھیں "
اوردوسرے نو یہ ھیں
۔ دو کان
دو آنکھیں ،
ایک ناک ،
دو ھاتھ
اور دو پاوں ۔

تکرار واقعی جادو رکھتی ہے، موجودہ دور میں جھوٹے تکرار کی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اس کے خلاف سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔





بدھ، 16 ستمبر، 2026

غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے








غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے
پاکستان کے دشمنوں کی فہرست بنانا مشکل نہیں۔ بھارت کا نام لیا جاسکتا ہے، افغانستان کے بعض عناصر کی بات ہوسکتی ہے، بیرونی لابیز اور ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی یا سیاسی مقاصد کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کا اس کی سرحد کے باہر ہونا ضروری ہے؟

شاید نہیں۔
کسی قوم کو شکست دینے کا ایک طریقہ اس کی سرحد پر فوج کھڑی کرنا ہے، دوسرا اس کے اندر ایسا ذہن پیدا کرنا ہے جو اپنی قوت پر یقین ہی کھودے۔ جب ایک قوم کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ اس کے ادارے ناکام ہیں، اس کی سیاست ناقابلِ اصلاح ہے، اس کی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں، اس کے فیصلے خود نہیں ہوسکتے اور اس کی بقا کسی بڑی طاقت کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو شکست میدان میں نہیں، ذہن میں شروع ہوچکی ہوتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ مسئلہ صرف بیرونی دباؤ کا نہیں، فکری انحصار کا بھی ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات بہتر ہوں تو ایک حلقہ اسے غلامی قرار دیتا ہے، چین سے دوستی بڑھے تو دوسرا حلقہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے، ایران سے قربت کی کوشش ہو تو کسی کو علاقائی صف بندی کا خوف لاحق ہوجاتا ہے اور سعودی عرب سے تعلقات مضبوط ہوں تو کچھ لوگ اسے خودمختاری کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے لیے بہترین خارجہ پالیسی یہ ہو کہ وہ دنیا سے تعلق ہی ختم کرلے۔
مگر دنیا اس طرح نہیں چلتی۔

خارجہ پالیسی جذبات کا نہیں، مفادات کا نظم ہے۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے، چین پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور سعودی عرب ہمارا اہم مسلم، اقتصادی اور دفاعی شراکت دار۔ پاکستان کو سب سے تعلق رکھنا ہے، مگر کسی کے مفاد کا تابع بن کر نہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سے کیا چاہتا ہے۔
یہی سوال چین کے بارے میں ہونا چاہیے، یہی ایران کے بارے میں، یہی سعودی عرب کے بارے میں اور یہی دنیا کے ہر دوسرے ملک کے بارے میں۔
ایک خودمختار ریاست دوسروں کے مفادات کو سمجھتی ہے، مگر اپنے مفادات کا فیصلہ دوسروں کے حوالے نہیں کرتی۔

امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طبقہ اسے پاکستان کے تقریباً ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھتا ہے، دوسرا یہ تصور رکھتا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔ دونوں رویے اپنی جگہ ایک مسئلہ ہیں۔ پہلا ہمیں اپنی داخلی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچاتا ہے، دوسرا ہماری اپنی قوت سے انکار کرتا ہے۔
امریکہ طاقتور ہے، اس سے تعلق رکھنا پاکستان کی ضرورت ہوسکتی ہے؛ مگر طاقتور ہونا کسی ملک کو ہماری قسمت کا مالک نہیں بناتا۔
پاکستان کو امریکہ سے تجارت چاہیے، سرمایہ کاری چاہیے، ٹیکنالوجی چاہیے، تعلیم اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے ہیں۔ مگر اگر دوستی کی قیمت اپنی پالیسی کا اختیار چھوڑنا ہو تو یہ دوستی نہیں، انحصار ہے۔
پاکستان کو امریکہ کا دوست ہونا چاہیے، امریکی پالیسی کا مہرہ نہیں۔

چین کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات محض وقتی سفارتی ضرورت نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شراکت داری ہیں۔ CPEC نے انفراسٹرکچر، توانائی اور علاقائی رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے۔ اس کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا ممنوع نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کسی منصوبے کی لاگت زیادہ ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر کسی منصوبے سے پاکستان کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی توقع تھی تو حکومت سے جواب طلب ہونا چاہیے۔
لیکن اعتراض اس وقت غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے جب منصوبے کی کارکردگی نہیں بلکہ صرف اس کا چینی ہونا مسئلہ بن جائے۔

اسی طرح ہر امریکی منصوبے کو سازش سمجھ لینا بھی دانشمندی نہیں۔
قومی مفاد کا ترازو ایک ہونا چاہیے۔ منصوبہ واشنگٹن سے آئے یا بیجنگ سے، ریاض سے یا تہران سے، سوال ایک ہی ہو:
اس سے پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟

ایران کے معاملے میں بھی ہمیں دوسروں کی عینک اتار کر اپنا نقشہ دیکھنا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہماری سرحدیں ملتی ہیں۔ بلوچستان دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترک جغرافیائی حقیقت ہے۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی امن جیسے معاملات ایران کے ساتھ تعلقات کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔
ایران سے اچھے تعلقات رکھنا کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے تعلقات کا مطلب ایران سے دشمنی نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، عوامی، اقتصادی اور دفاعی رشتے کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار سے وابستہ ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ موجود ہے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات ھی ہیں۔
اس تعلق پر سوال ہوسکتے ہیں۔ ہونے چاہئیں۔
پاکستانی مزدوروں کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں؟ سرمایہ کاری سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟ دفاعی تعاون کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے؟
یہ سوال حب الوطنی کے خلاف نہیں۔

لیکن اگر ایران سے تعلق کو سعودی عرب کے خلاف اور سعودی عرب سے تعلق کو ایران کے خلاف سمجھا جائے تو پھر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنا رہا، وہ دوسروں کی کشمکش میں اپنا مقام تلاش کررہا ہے۔

پاکستان کو تہران سے بھی بات کرنی ہے اور ریاض سے بھی۔
یہ تضاد نہیں، سفارت کاری ہے۔

یہیں 1971 کا باب ہمارے سامنے کھلتا ہے، وہ باب جسے ہم نے شاید پڑھا کم اور دہرایا زیادہ ہے۔
پاکستان ٹوٹا تو ہم نے آسان جواب تلاش کیا: بھارت نے پاکستان توڑ دیا۔
بھارتی مداخلت حقیقت تھی۔ مکتی باہنی کی مسلح سرگرمیاں حقیقت تھیں۔ بیرونی طاقتوں کی صف بندیاں بھی حقیقت تھیں۔ لیکن کیا یہی مکمل حقیقت تھی؟
نہیں۔
مشرقی پاکستان میں سیاسی اور معاشی محرومیاں تھیں۔ 1970 کے انتخابات نے ایک واضح مینڈیٹ دیا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کا بحران پیدا ہوا۔ سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے۔ اختلاف تصادم میں تبدیل ہوا۔ پھر فوجی کارروائی، مسلح مزاحمت، بھارتی مداخلت اور عالمی حالات نے اس بحران کو ایسی منزل تک پہنچایا جہاں واپسی ممکن نہ رہی۔

تاریخ کو صرف دشمن کی سازش بنا دینا آسان ہے، مگر اس سے قوم اپنی غلطیوں سے محروم ہوجاتی ہے۔
دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک اپنی کمزوری ہے۔
1971 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ بیرونی قوتیں ہمیشہ مواقع تلاش کرتی ہیں، مگر انہیں کامیابی کا موقع اکثر اندرونی بحران فراہم کرتا ہے۔

آج بھی اگر سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے، صوبائی یا لسانی تقسیم گہری ہوجائے، ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں اور عوام ریاست سے مایوس ہوجائیں تو بیرونی طاقتوں کو کسی سازش کے لیے بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔
استعمار کی نئی شکل بھی یہی ہے۔ اب ہر مرتبہ فوج، توپ اور گورنر درکار نہیں۔ اثر و رسوخ قرض سے بھی قائم ہوسکتا ہے، تجارت سے بھی، اطلاعات سے بھی، ثقافت سے بھی اور بیانیے سے بھی۔
لیکن یہاں بھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ دنیا سے سیکھنا استعمار نہیں۔ غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا استعمار نہیں۔ مغربی سائنس سے فائدہ اٹھانا استعمار نہیں۔ چینی ٹیکنالوجی قبول کرنا استعمار نہیں۔
استعمار اس وقت ذہن میں جگہ بناتا ہے جب انسان فیصلہ کرنے کی اپنی صلاحیت دوسروں کے حوالے کردیتا ہے۔

پھر طاقتور ملک کی ہر بات دانشمندی اور اپنے ملک کی ہر بات حماقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ باہر کی کامیابی ترقی اور اندر کی کامیابی اتفاق دکھائی دیتی ہے۔ اپنی قوم کے عیب فطرت بن جاتے ہیں اور دوسروں کی خامیاں استثنا۔

یہاں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم لازماً آزاد فکر پیدا کرتی ہے۔ ایسا نہیں۔ ڈگری علم دے سکتی ہے، بصیرت کی ضمانت نہیں۔ کوئی شخص دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پڑھ کر بھی ذہنی طور پر دوسروں کا محتاج ہوسکتا ہے، جبکہ ایک عام آدمی اپنی محدود تعلیم کے باوجود غیر معمولی قومی شعور رکھ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔
اصل سوال یہ ہے:
آپ سوچتے کس کے دماغ سے ہیں؟

اگر ہر اہم فیصلے سے پہلے ہمیں یہ فکر لاحق ہو کہ واشنگٹن کیا سوچے گا، بیجنگ کیا کہے گا، لندن کیا سمجھے گا یا کسی اور طاقتور دارالحکومت کا ردعمل کیا ہوگا، تو ہمیں اپنی فکری آزادی کا جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان میں ایک اور رویہ بھی تیزی سے پھیلتا ہے: مایوسی۔
یہ ملک نہیں چل سکتا۔
یہ قوم ناکام ہے۔
یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔
سب چور ہیں۔
سب بکاؤ ہیں۔
سب نااہل ہیں۔
یہ جملے بعض اوقات غصے میں نکلتے ہیں، بعض اوقات سیاسی مایوسی سے اور بعض اوقات باقاعدہ بیانیے کے طور پر۔

لیکن یہاں فرق ضروری ہے۔
کرپشن پر لکھنا مایوسی نہیں۔
غربت کی نشاندہی کرنا مایوسی نہیں۔
حکومت کو ناکام کہنا مایوسی نہیں۔
اداروں کا احتساب کرنا بھی مایوسی نہیں۔
مایوسی اس وقت خطرناک بیانیہ بنتی ہے جب قوم کو اس کی بیماری تو دکھائی جائے مگر علاج کا امکان چھین لیا جائے؛ جب ہر ناکامی کو قومی فطرت اور ہر کامیابی کو اتفاق بنا دیا جائے۔
تنقید وہ ہے جو قوم کو جگائے؛ مایوسی وہ ہے جو قوم سے بیداری کی امید بھی چھین لے۔

اسی لیے ’’ملک دشمن‘‘ کی اصطلاح بھی سوچ سمجھ کر استعمال ہونی چاہیے۔
ہر حکومت مخالف شخص ملک دشمن نہیں۔
ہر فوج پر تنقید کرنے والا غدار نہیں۔
ہر امریکہ نواز شخص امریکی ایجنٹ نہیں۔
ہر چین نواز شخص چینی مفاد کا نمائندہ نہیں۔
ہر ایران نواز شخص ایرانی ایجنٹ نہیں۔
اور ہر سعودی عرب نواز شخص عرب مفادات کا ترجمان نہیں۔
ایک شہری حکومت کی مخالفت کرسکتا ہے، کسی ادارے کے فیصلے پر اعتراض کرسکتا ہے، خارجہ پالیسی سے اختلاف کرسکتا ہے اور پھر بھی پاکستان سے وفادار ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر کسی کے خلاف دشمن ریاست کے لیے کام کرنے، خفیہ فنڈنگ لینے، منظم پروپیگنڈا کرنے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس معاملے کو نعرے نہیں، قانون کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔
یہی ایک مہذب ریاست کا طریقہ ہے۔

پاکستان کو غداروں کی لمبی فہرست سے زیادہ مضبوط اداروں اور باشعور شہریوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں کسی ایک عالمی کیمپ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ اور چین میں سے ایک کا انتخاب، ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب، روس اور مغرب میں سے ایک کا انتخاب—یہ سوال ہی غلط ہے۔
پاکستان کو کسی اور کا انتخاب نہیں کرنا۔
پاکستان کو پاکستان کا انتخاب کرنا ہے۔
ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے، مگر دنیا کے پیچھے نہیں۔
ہمیں دوست بنانا ہیں، مگر سرپرست تلاش نہیں کرنے۔
ہمیں تنقید سننی ہے، مگر اپنی صلاحیت سے مایوس نہیں ہونا۔
ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہے، مگر اپنی قوم کو ناکام قرار نہیں دینا۔
ہمیں دشمنوں سے ہوشیار رہنا ہے، مگر ہر اختلاف کرنے والے کو دشمن بھی نہیں سمجھنا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی بیرونی طاقت کی اجازت کا محتاج نہیں۔

آج اصل جنگ شاید سرحد پر نہیں، تصورِ پاکستان کے اندر لڑی جارہی ہے۔ ایک تصور کہتا ہے پاکستان کو اپنی طاقت پر کھڑا ہونا چاہیے؛ دوسرا ہر مشکل کے بعد کسی بیرونی طاقت کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ ہماری خامیاں قابلِ اصلاح ہیں؛ دوسرا انہیں ہماری قسمت قرار دیتا ہے۔ ایک اختلاف کو اصلاح کا راستہ سمجھتا ہے؛ دوسرا اختلاف کو دشمنی بنا دیتا ہے۔ ایک دنیا سے تعلق چاہتا ہے مگر سر جھکا کر نہیں؛ دوسرا طاقتور کے سائے کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کیسا پاکستان دیں گے: ایسا پاکستان جو دنیا کے نقشے پر موجود ہو مگر فیصلوں میں دوسروں کا محتاج ہو، یا ایسا پاکستان جو دوست سب کا ہو، دشمن کسی کا نہ ہو، مگر اپنی قسمت کا مالک خود ہو۔ تاریخ میں قومیں صرف زمین کھو کر غلام نہیں ہوتیں؛ کبھی کبھی وہ اپنی خود اعتمادی کھو کر بھی غلام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوگی۔ اس کی اصل حفاظت اس دن ہوگی جب اس قوم کا ذہن یہ ماننے سے انکار کردے گا کہ اس کی تقدیر کوئی دوسرا لکھ سکتا ہے۔

منگل، 15 ستمبر، 2026

شب افروز موتی



شب افروز

قیمتی پتھروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بعض پتھر دن کی روشنی جذب کرکے رات کے اندھیرے میں بھی چمکتے ہیں۔ شب افروز  موتی کے بارے میں بھی ایسی ہی روایت مشہور ہے۔ میں اس علم کا ماہر نہیں، مگر اس تصور میں انسان کے اخلاق کے لیے ایک خوب صورت استعارہ ضرور دیکھتا ہوں۔ جس طرح کسی پتھر کی اصل چمک تاریکی میں نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح انسان کے کردار کی اصل روشنی بھی اس وقت دکھائی دیتی ہے جب دنیا کی نگاہیں اس سے ہٹ جائیں اور وہ اپنی نجی ازدواجی زندگی میں اپنے شریکِ حیات کے ساتھ ہو۔

عوامی زندگی میں خوش اخلاق ہونا اچھی بات ہے، مگر انسان کے کردار کی گہرائی کا اندازہ اس کے اس رویے سے ہوتا ہے جو وہ اپنے سب سے قریبی رشتے کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔ شریکِ حیات وہ شخص ہے جو انسان کی کامیابی ہی نہیں، اس کی کمزوری، تھکن، خاموشی، غصہ اور پریشانی بھی قریب سے دیکھتا ہے۔ اس لیے ازدواجی زندگی میں باہمی احترام، نرم گفتگو، اعتماد، وفاداری اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھنا محض گھریلو آداب نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کی علامت ہیں۔

اختلاف ہر رشتے میں ہوسکتا ہے، مگر اصل امتحان اختلاف کے انداز میں ہے۔ کیا ہم ناراضی میں بھی دوسرے کی عزت برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بات منوانے کے بجائے دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم غصے کے لمحے میں بھی ایسے الفاظ سے بچتے ہیں جو دل پر دیر تک رہ جائیں؟ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ازدواجی تعلق کو مضبوط یا کمزور بناتی ہیں۔

انسان دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شائستگی سے پیش آسکتا ہے، مگر اگر وہ اپنے شریکِ حیات کے لیے احترام اور اطمینان کا باعث نہیں تو اس کی اخلاقی شخصیت ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو دکھاوے کا محتاج نہ ہو؛ جو تنہائی میں بھی وہی رہے جو محفل میں دکھائی دیتا ہے۔

اسی لیے شب افروز موتی میرے نزدیک ایک ایسے انسان کا استعارہ ہے جس کی اخلاقی روشنی اس کی نجی ازدواجی زندگی میں بھی قائم رہتی ہے۔ وہ اپنے شریکِ حیات کو محض ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتا ہے جس کے احساسات، عزت اور سکون بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے اس کے اپنے۔

شاید انسان کے کردار کی سب سے خوب صورت پہچان یہی ہے کہ اس کے قریب رہنے والا شخص اس کے ساتھ رہ کر خود کو محفوظ، محترم اور عزیز محسوس کرے۔

تب انسان صرف روشنی میں چمکنے والا شخص نہیں رہتا؛ وہ واقعی شب افروز موتی بن جاتا ہے—ایسا انسان جس کی اصل روشنی دنیا کے سامنے نہیں، بلکہ اپنے سب سے قریبی رشتے کی خاموش دنیا میں دکھائی دیتی ہے۔