اگر یمن اور سعودی عرب کے تعلقات کو محض موجودہ حوثی جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس تعلق کی تاریخی پیچیدگی
نظرانداز ہوجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتہ سرحد، سلامتی، قبائلی تعلقات، معاشی مفادات، علاقائی سیاست اور ایران کے اثر و رسوخ کے کئی دھاگوں سے بنا ہے۔ موجودہ کشیدگی اسی طویل تاریخ کا تازہ ترین باب ہے۔
یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟
یمن اور سعودی عرب دو ایسے پڑوسی ہیں جنہیں جغرافیہ نے ایک دوسرے سے جدا ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ سعودی عرب کی جنوبی سرحد یمن سے ملتی ہے، جبکہ یمن بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے دہانے پر واقع ہے۔ اس لیے ریاض کے لیے یمن محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ اس کی قومی سلامتی کا براہِ راست حصہ ہے۔ دوسری طرف یمن کے لیے سعودی عرب ایک طاقتور ہمسایہ، معاشی مرکز اور سیاسی اثر رکھنے والی علاقائی قوت ہے۔
دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد دوستی سے زیادہ ضرورت پر رہی ہے۔ 1934 میں دونوں کے درمیان جنگ ہوئی اور اسی سال طائف معاہدے نے تعلقات کو ایک عارضی بنیاد فراہم کی۔ بعد کے عشروں میں سرحدی تنازعات ختم نہ ہوسکے۔ بالآخر 12 جون 2000 کو جدہ میں ہونے والے بین الاقوامی سرحدی معاہدے نے دونوں ملکوں کی زمینی سرحد کے دیرینہ تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔
لیکن سرحد کا مسئلہ حل ہونے کے باوجود ایک بڑا سوال باقی رہا: یمن میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو؟
یہ سوال اس لیے اہم تھا کہ سعودی عرب ایک مستحکم اور ایسا یمن چاہتا تھا جو اس کی جنوبی سرحد کے لیے خطرہ نہ بنے۔ یمن میں کمزور مرکزی حکومت، قبائلی تقسیم اور مسلسل سیاسی بحران نے سعودی پالیسی کو ہمیشہ محتاط رکھا۔ ریاض نے مختلف ادوار میں یمنی حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی کیا اور یمن کی داخلی سیاست میں اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔
1990 کی خلیجی جنگ نے اس تعلق کو شدید دھچکا پہنچایا۔ یمن کے اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح نے عراق کے کویت پر حملے کے معاملے میں ایسا موقف اختیار کیا جس سے سعودی عرب اور یمن کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی۔ سعودی عرب میں موجود بڑی تعداد میں یمنی کارکنوں کی واپسی نے یمن کی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ یوں دونوں ملکوں کے تعلقات میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ سیاسی اختلاف صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام یمنی شہری کی زندگی تک پہنچ سکتا ہے۔
پھر 2014 آیا، جب حوثی تحریک نے صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ یمن کا بحران داخلی سیاسی تنازع سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں کی کشمکش بن گیا۔ سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنے لیے ایک ایسا خطرہ سمجھا جس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا عنصر بھی شامل تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔ مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سہارا دینا اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔
مگر جنگ نے سعودی عرب کو وہ آسان فتح نہیں دی جس کی توقع ابتدائی مرحلے میں کی جاسکتی تھی۔ یمن کا دشوار جغرافیہ، قبائلی سیاست، مختلف مسلح گروہوں کے باہمی اختلافات اور حوثیوں کی گوریلا جنگ نے تنازع کو طویل کردیا۔ سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف حوثی نہیں رہے؛ جنوبی یمن میں علیحدگی پسند قوتیں، القاعدہ اور مختلف مقامی دھڑے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتے رہے۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: یمن کو صرف فوجی طاقت سے قابو نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی عرب دنیا کی بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن یمن کی جنگ نے ثابت کیا کہ فوجی برتری اور سیاسی فتح دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک ریاست کسی علاقے پر بمباری کرسکتی ہے، سرحد محفوظ کرسکتی ہے اور مخالف کے عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن وہ محض طاقت کے ذریعے ایک منقسم معاشرے میں پائیدار سیاسی نظم پیدا نہیں کرسکتی۔
اسی لیے 2022 کی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف بھی قدم بڑھایا۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئیں اور عمان نے بھی ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ امن مکمل سیاسی تصفیے میں تبدیل نہیں ہوسکا۔
اور اب 2026 میں صورتحال ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ ستمبر 2026 میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی، سعودی سرحد اور اہداف پر حملوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کی جوابی کارروائی نے برسوں سے قائم نازک توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ باب المندب کی اہمیت اس بحران کو محض سعودی-یمنی تنازع نہیں رہنے دیتی؛ یہ عالمی تجارت، بحیرۂ احمر اور توانائی کی ترسیل کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
یہاں ایران کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی نقطۂ نظر سے حوثیوں کی مضبوطی کا مطلب صرف یمن میں ایک مخالف گروہ کی طاقت نہیں بلکہ جنوبی سرحد کے قریب ایرانی اثر و رسوخ کا بڑھنا بھی ہے۔ دوسری طرف حوثی خود کو محض ایرانی مہرہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہیں اور یمنی قومی سیاست، زیدی شناخت اور اپنے داخلی مفادات کو اپنی جدوجہد کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اس لیے یمن کے بحران کو صرف سعودی عرب بمقابلہ ایران کہنا بھی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔
اصل المیہ یہ ہے کہ اس کشمکش کی قیمت یمنی عوام ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک طویل جنگ، بے گھر ہونے، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ جنگ نے یمن کی ریاست کو کمزور کیا، معیشت کو تباہ کیا اور معاشرے کو مزید تقسیم کردیا۔
سعودی عرب کے لیے بھی یہ جنگ ایک سبق ہے۔ جنوبی سرحد پر مستقل امن صرف سرحد پار فوجی طاقت سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس میں یمن کی مختلف قوتوں کو قابلِ قبول سیاسی نظام میں جگہ ملے، سعودی سلامتی کی ضمانت ہو اور یمن کو کسی دوسری علاقائی طاقت کا میدانِ جنگ بننے سے روکا جائے۔
یمن کے لیے بھی حقیقت تلخ ہے۔ سعودی عرب کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن سعودی سرپرستی پر مکمل انحصار بھی یمن کی خودمختاری کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
اس لیے مستقبل کا راستہ نہ سعودی غلبے میں ہے، نہ حوثی عسکری فتح میں اور نہ ایرانی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ میں۔ راستہ ایک ایسے یمنی سیاسی سمجھوتے سے نکلتا ہے جس میں طاقت بندوق سے پارلیمان، مقامی حکومت اور سیاسی مذاکرات کی طرف منتقل ہو۔
یمن اور سعودی عرب کا جغرافیہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونے دے گا۔ سوال یہ نہیں کہ دونوں ایک دوسرے سے دور رہ سکتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے ذریعے رہیں گے یا ایک دوسرے کی سلامتی کو تسلیم کرتے ہوئے امن کے ذریعے؟
موجودہ بحران کا اصل فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔


