جمعرات، 12 فروری، 2026

H اشرافیہ کا کردار



اشرافیہ کا کردار

کنفیوشس نےکہا تھا “ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” کیا آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

جو لوگ 1980 کی دہائی میں فکری شعور رکھتے تھے، انہیں ایک نام ضرور یاد ہوگا—زبگنیو برژنسکی۔ وہ محض ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ عالمی سیاست کی گہری پرتوں کو سمجھنے والے مفکر تھے۔ 1977 سے 1981 تک صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برژنسکی نے 1970 میں ایک ایسی کتاب لکھی جو آج نصف صدی بعد پیش گوئی نہیں بلکہ تشریح بن چکی ہے

Between Two Ages: America’s Role in the Technetronic Era۔

اگر اس کتاب کا نچوڑ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو مفہوم یہ تھا کہ مستقبل میں جمہور کے نام پر فیصلے جمہور نہیں کریں گے، بلکہ ایک محدود اور غیر مرئی گروہ کرے گا۔ یہ وہ طبقہ ہوگا جس کے ہاتھ میں پانچ بنیادی قوتیں مرکوز ہوں گی: میڈیا اور کمیونیکیشن، انسانی شعور پر اثراندازی، روایتی سیاست کا زوال، ڈیٹا اور نگرانی، اور قوم سے بالاتر طاقتوں کا ابھار۔

برژنسکی نے لکھا تھا کہ ٹی وی، سیٹلائٹ، اور پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی رائے کو تشکیل دیں گے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے انسانی سوچ، رویّوں اور ترجیحات کو اس حد تک متاثر کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ فرد خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک طے شدہ فریم میں سوچ رہا ہوگا۔ جماعتیں، نظریات اور پارلیمان کمزور پڑیں گی، جبکہ ٹیکنوکریٹس، ماہرین اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ ساز بن جائیں گی۔ ڈیٹا نگرانی کا ہتھیار بنے گا، پرائیویسی ایک تصور رہ جائے گی، اور طاقت قومی سرحدوں سے آزاد ہو کر ملٹی نیشنل اداروں اور عالمی نیٹ ورکس میں منتقل ہو جائے گی۔

آج، جب ایپسٹین فائلز سے متعلق خبریں اور انکشافات عالمی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں، تو برژنسکی کی وہ باتیں محض نظریہ نہیں رہتیں بلکہ ایک عملی حقیقت کا عکس دکھائی دیتی ہیں۔ ان خبروں نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ عالمی اشرافیہ کسی ایک ملک، نسل یا خطے کی نمائندہ نہیں۔ اس کی شناخت اس کی  ذہنیت ہے۔ یوں یہ طبقہ ایک قوم نہیں بلکہ ایک غیر مرئی کلب ہے—مشترکہ سوچ، مشترکہ مفاد اور مشترکہ خواہشات کا حامل۔

یہ لوگ دنیا پر اپنا تسلظ  فیصلوں، منصوبہ بندی اور بیانیے کے ذریعے قائم کرتے  ہیں۔ ان کے اقدامات عام آنکھ کو دکھائی نہیں دیتے، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا محاذ سائبر ڈومین ہے—جہاں الفاظ تراشے جاتے ہیں، معنی گھڑے جاتے ہیں اور بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔ یہاں انسانی سوچ کو ہموار کیا جاتا ہے، جذبات کو سمت دی جاتی ہے، اور رائے عامہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ طاقت  خاموشی سے کام کرتی ہے، مگر اس کی گرفت وسیع اور دیرپا ہوتی ہے۔

ان کا دوسرا محاذ معیشت ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالی نظام کے ذریعے وسائل، محنت اور فیصلے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھلتے ہیں جہاں ہر لین دین ڈیٹا بن جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا نگرانی اور کنٹرول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بظاہر سہولت اور ترقی کی زبان بولی جاتی ہے، مگر حقیقت میں مالی آزادی بتدریج مشروط ہوتی جاتی ہے اور اختیار کہیں اور مرتکز ہو جاتا ہے۔

ایپسٹین فائلز سے جڑی بحث نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے: طاقت خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ قوانین اور اصول اکثر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور طبقات کے لیے بیانیہ، وضاحتیں اور خاموشی کافی سمجھی جاتی ہے۔  یہ اشرافیہ  کنٹرول کے تصور کی وارث ہے—ایک ایسی غیر مرئی قوت جو انسانی سوچ، رویّوں اور وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

آج سیاستدان بولتے ضرور ہیں، مگر فیصلوں کے پیچھے اکثر کسی اور طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذہن سائبر میں لکھے جاتے ہیں، وسائل ڈیجیٹل میں بندھتے ہیں، اور انسانی رویّے ایک خاص فریم میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے—خاموش، مگر نہایت طاقتور۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کبھی قبائل میں بٹی، پھر عقائد کی بنیاد پر منقسم رہی۔ آج لگتا ہے دنیا دو ذہنیتوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف خیر، بھلائی، ایثار اور انسان دوستی؛ اور دوسری طرف ہوس، لالچ، غیر انسانی رویّے اور اقتدار کی بے لگام خواہش۔

کنفیوشس نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کر دیا تھا: “اگر تم دنیا پر حکمرانی چاہتے ہو تو پہلے اپنے کردار پر حکمرانی کرو۔ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” سوال یہ ہے کہ آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

بدھ، 11 فروری، 2026

گمان اور رویے





ہماری زندگی کی سب سے مسلسل جستجو اگر کسی شے کی ہے تو وہ خوشی اور سکون ہیں—وہ دو نایاب موتی جن کے لیے انسان عمر بھر سمندرِ حیات میں غوطے لگاتا رہتا ہے۔ مگر عجیب المیہ یہ ہے کہ جس سکون کی تلاش میں ہم دنیا بھر کے راستے ناپتے ہیں، اکثر اسی سکون کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہوتے ہیں۔ ہمارے خیالات، ہمارے گمان، اور ہمارے رویّے—یہی وہ نادیدہ معمار ہیں جو یا تو زندگی کے افق پر روشنی کی عمارت کھڑی کرتے ہیں یا اسے بدگمانی کے اندھیروں میں ڈبو دیتے ہیں۔
مثبت سوچ ایک نرم ہوا کی طرح ہے جو دل کے موسم کو معتدل رکھتی ہے، جبکہ غلط فہمیاں خزاں کی سرد آندھی بن کر رشتوں کے پتّے جھاڑ دیتی ہیں۔ جب انسان کو دوسروں میں خوبی دکھائی دینا بند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے باطن میں منفی خیال کی کوئی خاموش بیماری جنم لے چکی ہے—ایسی بیماری جو شور نہیں کرتی مگر دلوں کے درمیان فاصلے اگا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے نہایت سادہ مگر تہہ دار الفاظ میں بیان کیا:
"اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"
یعنی بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
انسان کا ذہن ایک عجب کارخانہ ہے—یہ حقیقت سے زیادہ قیاس پر یقین کر لیتا ہے، اور ثبوت سے پہلے فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ محبت کے رشتے شکوک کے کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی کا قول اس نفسیاتی حقیقت کا آئینہ ہے کہ دنیا کی اکثر دشمنیاں غلط فہمیوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے بارے میں رائے بنانے میں جلدی کرتے ہیں، مگر اپنے گمانوں کا محاسبہ کرنے میں سستی۔
منفی سوچ کا پہلا زخم خود سوچنے والے کے دل پر لگتا ہے۔ کارل یونگ کے بقول جو شخص ہر چہرے میں عیب تلاش کرتا ہے، دراصل اپنے ہی باطن کے سایوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان روشنی پہچاننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے—وہ تعریف کرنا بھول جاتا ہے، شکرگزاری سے کترانے لگتا ہے، اور ہر مسکراہٹ میں سازش کا عکس ڈھونڈنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس مثبت سوچ ایک شفا بخش روشنی ہے۔ یہ مسئلے مٹاتی نہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ نورمن ونسنٹ پیل نے اسی سچ کو یوں بیان کیا کہ مثبت فکر مشکلات کو ختم نہیں کرتی بلکہ انسان کو ان سے بلند کر دیتی ہے۔ یہی کیفیت دل میں وہ اطمینان پیدا کرتی ہے جس کا ذکر قرآن نے یوں کیا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
یعنی یادِ الٰہی سے دلوں کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
یہ قرار صرف عبادت کی ساعتوں میں نہیں اترتا؛ یہ طرزِ فکر کی زمین میں بھی اگتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے حسنِ ظن اختیار کرتا ہے، ان کے ارادوں کو خیر پر محمول کرتا ہے، اور ہر حال میں خیر تلاش کرتا ہے تو اس کے اپنے دل کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ بدگمانی محبت کو کھا جاتی ہے، اور رومیؒ نے اسے دل کے اندر بھڑکتے جہنم سے تعبیر کیا ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان عیبوں کی فہرست یاد رکھے؛ دانائی یہ ہے کہ وہ خوبیوں کی تلاش میں رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خیالات کا احتساب کریں—اگر ہماری گفتگو میں تلخی بڑھ رہی ہے، اگر ہماری نظر ہر منظر میں نقص تلاش کرتی ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ ہمارے باطن کا موسم بدل رہا ہے۔ ایسے وقت علاج بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہے: شکرگزاری کو عادت بنانا، حسنِ ظن کو شعار بنانا، اور خود سے یہ عہد کرنا کہ ہم دوسروں کو ویسا دیکھیں گے جیسا ہم خود بننا چاہتے ہیں۔
زندگی اپنی اصل میں دشوار ضرور ہے مگر تاریک نہیں۔ روشنی کا سرچشمہ باہر نہیں، انسان کے اندر ہے۔ جو شخص لوگوں میں خامیاں نہیں بلکہ خوبیاں تلاش کرنے لگتا ہے، اس کے لیے دنیا کی سختیاں بھی نرم ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کوئی خارجی انعام نہیں، یہ دل کی داخلی کیفیت ہے—اور یہ کیفیت اسی دل میں اترتی ہے جو دوسروں کے لیے خیر سوچنے کا ہنر جانتا ہو۔
زندگی کو خوبصورت بنانے کا راز شاید اتنا ہی سادہ ہے:
لوگوں کے چہروں پر دھبے نہیں، روشنی تلاش کرو۔

منگل، 10 فروری، 2026

دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون




دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون
کچھ لوگ مان لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی زندگیاں درست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ ان کے پاس ہے  بظاہر یہ جذبہ اصلاح اور خیرخواہی کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ رویّہ ایک فکری جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا جنون جو  نصیحت کو حکم اور اخلاق کو جبر میں بدل دیتا ہے۔
راہِ راست کوئی ایک لکیر نہیں جس پر تمام انسان یکساں چل سکیں۔ ہر انسان اپنے تجربے، شعور اور حالات کے مطابق زندگی کو سمجھتا ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ اپنی فہم کو حتمی سچ قرار دے کر دوسروں پر نافذ کرنے لگے تو مکالمہ ختم اور تصادم شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے خیرخواہی اپنی روح کھو بیٹھتی ہے اور طاقت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
علم اس رویّے کے بالکل برعکس سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ سقراط نے حکمت کا آغاز خود احتسابی سے کیا اور کہا کہ اصل دانائی اپنی لاعلمی کا ادراک ہے۔ بدھ نے دکھ کی نشاندہی ضرور کی، مگر نجات کو ہر فرد کا ذاتی سفر قرار دیا۔ کانٹ کے نزدیک اخلاق وہ نہیں جو بیرونی دباؤ سے مسلط کیا جائے، بلکہ وہ ہے جسے انسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھ کر قبول کرے۔ ان مفکرین کے ہاں اصلاح کا مرکز ہمیشہ انسان کا باطن رہا، نہ کہ دوسروں کی نگرانی۔
دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون دراصل اکثر اپنی ذات سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے خوف، تضادات اور ناکامیوں کا سامنا نہیں کر پاتا، وہ دوسروں کے اعمال میں عیب تلاش کرنے لگتا ہے۔ نطشے نے اسی رویّے کو اخلاقی بالادستی کی بیماری کہا تھا، جہاں کمزور انسان اپنی کمزوری کو نیکی کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔
جب یہی ذہنیت اجتماعی طاقت یا ریاستی اختیار کے ساتھ جڑ جائے تو نتائج مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ “درست انسان” بنانے کی ہر مہم نے آخرکار سوال کرنے والوں کو مجرم اور اختلاف رکھنے والوں کو باغی قرار دیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا کہ فرد کی آزادی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی تہذیب قائم نہیں رہ سکتی، اور جو معاشرہ بھلائی کے نام پر شعور پر قبضہ کرے، وہ دراصل آمریت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچ اگر واقعی سچ ہو تو اسے زبردستی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، جبر سے منوایا گیا نظریہ ذہن پر بوجھ بن جاتا ہے، یقین نہیں۔ انسان کو بدلنے کا واحد پائیدار طریقہ مثال، مکالمہ اور برداشت ہے، نہ کہ حکم، نگرانی اور خوف 
شاید اسی لیے لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا
“ہر شخص دنیا کو بدلنے کی فکر میں رہتا ہے، مگر کوئی خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔”
اصل راہِ راست دوسروں کو سیدھا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے میں ہے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو اسے دوسروں کو زبردستی ہدایت دینے کی حاجت نہیں رہتی — کیونکہ اس وقت اس کا وجود خود ایک خاموش دلیل بن چکا ہوتا ہے۔

اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ



اسرائیل کی امریکی ساکھ کا خاتمہ
تاریخ میں بعض فیصلے میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں اور بیانیوں میں نتائج   پیدا کرتے ہیں۔ یحییٰ سنوار کا ’’طوفان‘‘ کی جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی ایسا ہی ایک قدم ثابت ہوا، جس نے نہ صرف غزہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ کھولا بلکہ امریکہ کے اندر اسرائیل کی سب سے قیمتی متاع—عوامی حمایت—کو آگ لگا دی۔
یہ محض عسکری تصادم نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا سیاسی دھماکہ تھا جس نے اسرائیل کو امریکہ میں عوامی رائے کا مسئلہ بنا دیا۔ وہ اسرائیل جو دہائیوں تک امریکی سیاست میں ایک ’’ناقابلِ سوال‘‘ اتحادی رہا، اچانک ایک ناپسندیدہ علامت میں بدلنے لگا—ایسی علامت جو امریکی عوام کے ذہن میں اپنے ہی ملک میں بڑھتی بدعنوانی، اخلاقی زوال اور بیرونی جنگوں کے بوجھ سے جڑ گئی۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ میں سیاسی طور پر ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دائیں بازو سے بائیں بازو تک، کیمپسوں سے سڑکوں تک، نوجوانوں سے دانش وروں تک—ہر سطح پر اس کی غیر مشروط حمایت میں واضح دراڑ پڑ چکی ہے۔ یہ وہ کاری ضرب ہے جس نے اسرائیل کے سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثے، یعنی امریکہ کے ساتھ اس کے مستقبل کے تعلق، کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ کہنا اب محض قیاس نہیں رہا کہ امریکہ میں جلد یا بدیر ایسا صدر منتخب ہوگا جو اسرائیل کا مخالف ہوگا—اور سخت مخالف ہوگا۔ اسی طرح ایک ایسا سیاسی دھارا بھی ابھرے گا جس کی اسرائیل سے دشمنی نظریاتی نوعیت کی ہوگی۔ جب وہ وقت آئے گا، تو اسرائیل کے پاس سہارا لینے کے لیے نہ خطے میں کوئی اخلاقی جواز بچے گا، نہ عالمی سطح پر کوئی مضبوط کریڈٹ۔
غزہ کے محاذ پر بھی اسرائیل کی حکمتِ عملی ایک اسٹریٹجک ناکامی کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوئی۔ اسرائیلی قیادت نے دانستہ   ایک ایسی جنگِ نیست و نابود چھیڑی، جس میں ہزاروں جانیں تو لے لی گئیں، شہر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے، مگر بدلے میں اسرائیل نے اپنی ہی وجودی قانونی حیثیت جلا ڈالی۔ نہ وہ تاریخی فلسطین میں آبادیاتی حقیقت بدل سکے، نہ اپنی سرحدوں پر جغرافیائی توازن کو اپنے حق میں موڑ پائے۔
اس کے برعکس، یہ دلیل زیادہ وزنی ہوتی جا رہی ہے کہ اسرائیل نے اپنے گرد و نواح کو پہلے سے زیادہ خطرناک بارودی سرنگوں کے میدان میں بدل دیا۔ یمن میں انصار اللہ جیسے زیادہ منظم، زیادہ اہل اور زیادہ دشمن عناصر کو اخلاقی جواز ملا، اور ان عرب حکومتوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی جو اسرائیل کو خطے کے تانے بانے میں ضم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اس تمام منظرنامے میں ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: نیتن یاہو کی سیاسی حماقت، یحییٰ سنوار کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ثابت ہوئی۔ سات اکتوبر سے قبل شاید کسی نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ اسرائیلی قیادت خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سب سے مضبوط قلعے—امریکی حمایت—میں شگاف ڈال دے گی۔
یہ جنگ بارود اور ٹیکنالوجی سے لڑی گئی، مگر فیصلہ تاریخ، رائے عامہ اور اخلاقی بیانیے کے میدان میں ہو چکا ہے۔

ایران اور طاقت کا کھیل




ایران اور طاقت کا کھیل

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ سب سے خطرناک طاقت وہ نہیں جو شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو صرف موجود رہے، اور اپنی خاموشی سے ماحول کو قابو میں رکھے۔ کبھی کبھی، یہی خاموشی زمین کے نقشے بدل دیتی ہے، اور انسانیت کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

آج ایران کے ارد گرد کی سرگرمیاں بھی کچھ ایسا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضاؤں میں ایندھن بھرتے طیارے، سرحدوں پر قطار در قطار توپ خانے، اور سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی سخت زبان—یہ سب محض ایک سادہ نتیجے کی طرف نہیں جاتے۔ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے: کیا یہ سب مذاکرات کی کامیابی کی حکمت ہے، یا ایک ایسی جنگ کی خاموشی، جس کی بازگشت نقشے بدل دے؟

ایران کے صحرائے سمنان میں نصب کردہ میزائل اور سرحدوں پر ٹنگی ہوئی توپ خانے کی قطاریں بظاہر طاقت کے مظاہرے ہیں، لیکن بعض ماہرین انہیں دباؤ کی زبان کہتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو بولتی نہیں، مگر بات چیت کے دروازے کھولتی ہے، ایک قسم کی چپ مگر گونجدار حکمت۔

طاقت تاکہ بات ہو سکے
ایک گروہ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو جنگ کے دہانے تک لا کر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ معروف اسٹریٹجک مبصر اسٹیفن والٹ کہتے ہیں:
"طاقت کا ارتکاز ہمیشہ جنگ کے لیے نہیں ہوتا، اکثر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔"
یہی وجہ ہے کہ فضائی تیاریوں، طیاروں کی آمد، اور سرحدوں پر مضبوط پوزیشنز کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر بات نہ بنی تو قیمت بہت بھاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض مشرق وسطیٰ کے حلیف بھی اطمینان ظاہر کر چکے ہیں کہ فوری حملہ فی الحال متوقع نہیں۔

رچرڈ ہاس کے مطابق:
"امریکہ کی اصل دلچسپی نظام گرانے میں نہیں، بلکہ نظام کو اس حد تک خوف میں مبتلا کرنے میں ہے کہ وہ رعایت دینے پر مجبور ہو جائے۔"

دوسرا رخ: فیصلہ کن دباؤ یا جنگ کی چھاپ
تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ محض دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسے فیصلے کی تیاری ہے جس میں ایران کو 'سلامت رہنے' کا موقع شاید نہ دیا جائے۔ جون 2025 کی مثال ابھی تازہ ہے، جب مذاکرات کی آڑ میں ایران کو الجھایا گیا اور عملی کارروائی کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہی۔

اسرائیلی سلامتی ماہر ایال زِسر کے مطابق:
"یہ مرحلہ محض انتباہ کا نہیں، حتمی فیصلے کا لگتا ہے۔ اس بار ہدف صرف پروگرام نہیں، پورا اسٹرکچر ہے۔"
یہ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ صرف مشورے تک محدود نہیں رہا، بلکہ واشنگٹن پر اس کا عملی اثر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے خطرے کو 'قابلِ انتظام' دکھانے کے پیچھے رائے عامہ کو ذہنی طور پر ایک بڑے اقدام کے لیے تیار کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔

ایران: جاگتا ہوا، تنہا نہیں
دونوں نظریات کے بیچ ایک حقیقت واضح ہے: ایران اس بار غافل نہیں۔ وہ ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے، ردِعمل کی تیاری میں ہے، اور اپنی بقاء کی حکمت عملی کو ہر لمحہ تازہ رکھتا ہے۔ خطے کی دیگر طاقتیں بھی خاموش تماشائی نہیں؛ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ نازک توازن ٹوٹا تو آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی۔

مشرق وسطی کا یہ لمحہ تاریخ کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے یہ سب حکمتِ عملی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہو، اور ممکن ہے یہ ایک ایسی جنگ کی تمہید ہو جو زبان سے زیادہ، نقشے اور تقدیر بدل دے۔

طاقت کی دنیا میں سب سے خطرناک سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے: کیا جنگ کو اب روکا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج مشرق وسطی کی خاموش گونج میں سب سے بلند سنائی دے رہا ہے—ایک سوال جو نہ صرف ممالک بلکہ انسانیت کے ضمیر پر بھی بھاری ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی تیزترین تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔