ہفتہ، 22 اگست، 2026

شام نیا "امحان گاہ"


شام ، نیا "امتحان گاہ"۔
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک محدود فوجی کارروائی پورے خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
18 اگست کو اسرائیل نے شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع ابو الظہور فضائی اڈے پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اسے خدشہ تھا کہ اس اڈے پر ترک فوجی موجودگی قائم کی جا سکتی ہے۔ ترکیہ نے اس مؤقف کو مسترد کیا اور اسرائیلی حملے کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے بھی بعد میں کہا کہ اس واقعے نے اسرائیل اور ترکیہ کو براہِ راست فوجی تصادم کے قریب پہنچا دیا تھا۔ 
یہ واقعہ بظاہر شام پر اسرائیلی حملہ تھا، لیکن اس کے پیچھے اصل مسئلہ شام کے مستقبل پر اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔
شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ترکیہ نے نئی شامی حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی، دفاعی اور عسکری تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ اسرائیل اس بڑھتے ہوئے ترک اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ تزویراتی خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابو الظہور کا واقعہ محض ایک فضائی حملہ نہیں بلکہ اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان شام کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے مقابلے کی علامت بن گیا ہے۔
لیکن اس کہانی میں ایک نئی اور انتہائی اہم تبدیلی آ چکی ہے۔
اب ترکیہ اکیلا نہیں ہے۔
7 اگست میں مکہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے اعلان کے مطابق ایک رکن کے خلاف مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے نے خطے میں ایک نئی دفاعی صف بندی کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ 
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے
اگر شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم ہوتا ہے تو کیا مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب اور پاکستان کو بھی اس بحران میں کھینچ لے گا؟
اس سوال کا جواب سادہ نہیں۔
معاہدے کی اصل طاقت اس کے الفاظ سے زیادہ اس کی سیاسی تعبیر اور عملی نفاذ میں ہوگی۔ اگر ترکیہ پر حملہ اس معاہدے کے تحت ’’مسلح حملہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے تو نظریاتی طور پر سعودی عرب اور پاکستان کے لیے ترکیہ کے دفاع کی ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کا مطلب فوراً اسرائیل کے خلاف براہِ راست جنگ ہو۔
دونوں ممالک کے پاس فوجی، سفارتی اور اقتصادی ردعمل کے کئی درجات موجود ہیں۔
سعودی عرب کا ممکنہ کردار
سعودی عرب اس بحران میں سب سے پہلے سفارتی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔
ریاض خطے میں اپنی سیاسی اور مذہبی حیثیت کے باعث اسرائیل، امریکا، ترکیہ اور شام سب کے ساتھ رابطے رکھتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ترکیہ کی حمایت کرتے ہوئے براہِ راست جنگ کو روکنے کی کوشش کرے۔
لیکن اگر اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تصادم بڑھتا ہے اور معاملہ مکہ دفاعی معاہدے کی حدود تک پہنچتا ہے تو سعودی عرب پر سیاسی دباؤ بہت بڑھ جائے گا۔
اس وقت سعودی عرب کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہوگا کہ ترکیہ کی دفاعی مدد کہاں تک کی جائے؟
کیا صرف سفارتی حمایت؟
کیا انٹیلی جنس تعاون؟
کیا فضائی دفاع؟
کیا مالی اور لاجسٹک مدد؟
یا براہِ راست فوجی شرکت؟
ان میں سے آخری امکان سب سے زیادہ خطرناک ہوگا، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک مقامی شام-اسرائیل تنازع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب غالباً آخری مرحلے تک براہِ راست جنگ سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن اگر معاہدے کے تحت ترکیہ کے خلاف واضح بیرونی حملہ تصور کیا گیا تو ریاض مکمل طور پر غیر جانب دار رہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوگا۔
پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟
پاکستان کا معاملہ مزید پیچیدہ ہے۔
پاکستان ترکیہ کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ بھی اس کے گہرے عسکری تعلقات موجود ہیں۔ اب تینوں ممالک ایک ہی دفاعی معاہدے میں شریک ہیں۔ اس لیے ترکیہ کے خلاف کسی بڑے فوجی حملے کی صورت میں اسلام آباد پر بھی سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھے گا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف فوراً اپنی فوج شام بھیج دے گا۔
پاکستان کے لیے سب سے قابلِ عمل راستہ غالباً براہِ راست جنگ کے بجائے دفاعی، تکنیکی، انٹیلی جنس، تربیتی اور سفارتی تعاون ہوگا۔
پاکستان پہلے بھی سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے فوجی تعاون کر چکا ہے۔ اس لیے اگر خلیجی سلامتی براہِ راست خطرے میں آئے تو پاکستان کا کردار زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
لیکن شام میں ترک افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان محدود جھڑپ اور ترکیہ پر مکمل پیمانے کے حملے میں بہت بڑا فرق ہے۔
پہلی صورت میں پاکستان شاید سفارتی اور دفاعی تعاون تک محدود رہنے کو ترجیح دے۔
دوسری صورت میں مکہ دفاعی معاہدے کی سیاسی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔
کیا پاکستان اسرائیل کے خلاف جنگ کرے گا؟
اس سوال کا جواب فی الحال نہیں کہا جا سکتا۔
یہ کہنا کہ پاکستان لازماً اسرائیل کے خلاف فوج بھیجے گا، موجودہ شواہد سے آگے بڑھ جانا ہوگا۔
زیادہ حقیقت پسندانہ منظرنامہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے سفارتی حمایت، دفاعی مشاورت، انٹیلی جنس تعاون اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ پوزیشن اختیار کرے گا۔
اگر تنازع ترکیہ کی سرزمین یا براہِ راست ترک فوجی تنصیبات تک پہنچتا ہے تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ معاہدہ ایک علامتی دستاویز سے بڑھ کر عملی دفاعی بندوبست بن سکتا ہے۔
اور شام؟
اس پورے معاملے میں سب سے اہم ملک شاید شام ہی ہے۔
شام اس وقت تباہ حال ریاست سے دوبارہ تعمیر ہونے والی ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے ترکیہ کی فوجی اور سیاسی مدد کی ضرورت ہے، لیکن وہ اسرائیل کے ساتھ ایک نئی بڑی جنگ بھی نہیں چاہتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شام اب خود مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران بتایا کہ دمشق اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ 
اگر شام بھی اس دفاعی بندوبست میں شامل ہو جاتا ہے تو معاملہ مزید تبدیل ہو جائے گا۔
تب ایک طرف اسرائیل ہوگا اور دوسری طرف ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور ممکنہ طور پر شام کا ایک نیا دفاعی فریم ورک۔
یہ صورتحال خطے میں طاقت کے ایک نئے توازن کو جنم دے سکتی ہے۔
مگر اصل خطرہ جنگ سے زیادہ غلط فہمی ہے
موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک کے مطابق امریکا اب اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان ایک ایسا ’’عدمِ تصادم‘‘ کا نظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف غلط اندازے سے کارروائی نہ کریں۔ 
اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ ایک معمولی واقعہ بھی انتہائی خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی طیارہ شام میں کارروائی کرتا ہے۔
ترکیہ اسے اپنی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائی سمجھتا ہے۔
ترکیہ جواب دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
سعودی عرب ترکیہ کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان دفاعی معاہدے کی وجہ سے سیاسی دباؤ میں آتا ہے۔
اور پھر ایک محدود شام-اسرائیل تنازع دیکھتے ہی دیکھتے ایک علاقائی بحران بن سکتا ہے۔
یہی وہ منظرنامہ ہے جس سے امریکا، یورپ اور خطے کی دوسری طاقتیں بچنا چاہیں گی۔
تین ممکنہ منظرنامے
موجودہ حالات کو تین ممکنہ راستوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلا راستہ: سفارتی دباؤ
امریکا اور دوسرے ممالک اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان عدمِ تصادم کا نظام قائم کر دیں۔ اسرائیل شام میں ترک فوجی موجودگی کے خلاف اپنی حدود طے کرے اور ترکیہ بھی اسرائیلی فوجی مفادات کو براہِ راست چیلنج کرنے سے گریز کرے۔
یہ سب سے کم خطرناک راستہ ہے۔
دوسرا راستہ: بالواسطہ مقابلہ
ترکیہ شام کی فوج کو مضبوط کرے، اسرائیل شامی عسکری تنصیبات پر حملے جاری رکھے، مگر دونوں ممالک کی افواج براہِ راست ایک دوسرے پر حملہ نہ کریں۔
یہ ایک طویل ’’پراکسی‘‘ یا بالواسطہ کشمکش بن سکتی ہے۔
تیسرا راستہ: براہِ راست تصادم
اگر اسرائیل اور ترکیہ کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست کارروائی کرتی ہیں تو مکہ دفاعی معاہدہ پہلی مرتبہ حقیقی امتحان سے گزرے گا۔
تب سعودی عرب اور پاکستان کے سامنے فیصلہ ہوگا کہ معاہدے کی روح کو کس حد تک عملی شکل دی جائے۔
یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں شام کا بحران ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اصل سوال اب ترکیہ کا نہیں، مکہ معاہدے کا ہے
چند ہفتے پہلے تک اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست جنگ ایک بعید امکان دکھائی دیتی تھی۔
اب صورتحال مختلف ہے۔
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ اسرائیل اور ترکیہ شام میں ایک دوسرے کے عسکری مفادات کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ شام خود مکہ معاہدے میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ اور امریکا کو اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان عدمِ تصادم کا نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ 
اس لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ اسرائیل نے شام پر حملہ کیوں کیا۔
اصل سوال یہ ہوگا
اگر ترکیہ نے اس حملے کا جواب دیا تو مکہ میں بننے والا نیا دفاعی اتحاد کہاں تک جائے گا؟
اور اس سے بھی بڑا سوال
کیا سعودی عرب اور پاکستان ترکیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر اس تنازع کو روکیں گے، یا اس میں شامل ہو کر اسے ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل کر دیں گے؟
فی الحال زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ تینوں ممالک جنگ کو روکنے اور اپنی نئی دفاعی صف بندی کو بازدار قوت کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے، نہ کہ فوراً جنگ میں کودنے کو۔
لیکن تاریخ میں بعض اوقات اتحاد جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں بنتے۔
وہ جنگ کو روکنے کے لیے بنتے ہیں۔
اور کبھی کبھی یہی اتحاد دشمن کو روکنے کی کوشش میں ایسے واقعات کو جنم دے دیتے ہیں جنہیں روکنا بعد میں خود مشکل ہو جاتا ہے۔
شام اس وقت صرف ایک ملک نہیں، مشرقِ وسطیٰ کے نئے طاقت کے توازن کا "امتحان گاہ" بن چکا ہے۔

پیر، 17 اگست، 2026

حقیقی آزادی اور شعور






حقیقی آزادی اور شعور

انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی سب سے بڑی نعمت اس کی عقل ہے۔ وہ دیکھتا ہے، حیران ہوتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، دلیل تلاش کرتا ہے، امکانات کو پرکھتا ہے اور پھر کسی نتیجے تک پہنچتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے محض زندہ رہنے والی مخلوق سے ایک باشعور وجود بناتی ہے۔ لیکن انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ بھی ہے کہ انسان کبھی اپنی اسی عقل کو، جس نے اسے سوال کرنا سکھایا، کسی دوسرے انسان کے حوالے کر دیتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

غیر یقینی، خوف، تنہائی اور بحران کے لمحوں میں انسان ایسے شخص کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اسے یقین، سمت اور مقصد فراہم کرے۔ ابتدا میں یہ تعلق رہنمائی کا ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ رہنمائی اطاعت میں، اطاعت عقیدت میں، اور عقیدت شخصیت پرستی میں بدل سکتی ہے۔ اس مقام پر انسان کسی شخصیت کو صرف رہنما نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنے فیصلوں، اپنے یقین اور کبھی کبھی اپنی زندگی کا مرکز بنا لیتا ہے۔

جم جونز  ( 1931-1978)  ایک امریکی مذہبی مبلغ اور کرشماتی رہنما، اس انسانی کمزوری کی ایک المناک مثال ہے۔ اس نے پیپلز ٹیمپل نامی مذہبی و سماجی تحریک قائم کی۔ ابتدا میں وہ نسلی امتیاز، غربت اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا، مساوات کا تصور پیش کرتا اور محروم طبقات کو ایک بہتر معاشرے کا خواب دکھاتا تھا۔ اس پیغام نے مختلف طبقوں کے لوگوں کو اس کے قریب کیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ تحریک کے اصولوں سے زیادہ خود جونز کی شخصیت اہم ہوتی گئی۔

یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک رہنما، رہنما سے بڑھ کر حقیقت کا مرکزی حوالہ بننے لگا۔

جب کسی تحریک میں اصول سے زیادہ شخصیت، دلیل سے زیادہ عقیدت اور سوال سے زیادہ اطاعت اہم ہو جائے تو انسان کسی بات کو اس لیے درست نہیں سمجھتا کہ وہ معقول ہے، بلکہ اس لیے قبول کرنے لگتا ہے کہ اسے ایک بااثر شخصیت نے کہا ہے۔ یوں حقیقت کی کسوٹی دلیل سے ہٹ کر شخصیت بن جاتی ہے۔

یہ انسانی آزادی کے لیے خطرناک مرحلہ ہے۔

جونز کے پیروکاروں کی بڑی تعداد گیانا منتقل ہوئی، جہاں جونز ٹاؤن کے نام سے ایک اجتماعی بستی قائم کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہ ماحول ایسا بن گیا جہاں رہنما کا اثر لوگوں کی روزمرہ زندگی، تعلقات اور ذاتی فیصلوں تک پھیل گیا۔ بالآخر 18 نومبر 1978ء کو یہ تجربہ ایک ہولناک اجتماعی سانحے پر ختم ہوا۔ نو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکی کانگریس کے رکن لیو رائن اور ان کے ساتھی بھی اسی سانحے سے پہلے ہونے والے حملے میں قتل کر دیے گئے۔

مگر اس واقعے سے ایک بڑا سوال اٹھتا ہے: آخر وہ لوگ کون تھے جو اس نظام کا حصہ بنے؟

وہ سب جاہل یا کم تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ پیپلز ٹیمپل میں مختلف نسلی، سماجی اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے افراد شامل تھے۔ بعض تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے، بعض سماجی خدمت سے وابستہ تھے، بعض طبی خدمات فراہم کرتے تھے اور بعض اپنے معاشرتی حلقوں میں ذمہ دار اور بااثر سمجھے جاتے تھے۔ اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے:

تعلیم اور ذہانت انسان کو ہر نفسیاتی اثر سے محفوظ نہیں کرتیں۔

انسان کو غلام بنانے کے لیے ہمیشہ زنجیروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی لباس کا رنگ گروہی شناخت بن جاتا ہے، کبھی پگڑی یا مخصوص وضع قطع وفاداری کی علامت، کبھی نعرہ سوچ کا بدل، کبھی پرچم حق و باطل کی واحد کسوٹی، کبھی کسی بزرگ یا سیاسی رہنما کی تصویر عقیدت سے بڑھ کر اطاعت کا نشان، کبھی مخصوص الفاظ پورے گروہ کی ذہنی سرحد، کبھی جماعت کا نشان سچائی کی سند، اور کبھی سوشل میڈیا کا مسلسل بیانیہ حقیقت کا متبادل بن جاتا ہے۔

جب انسان ایک ہی رنگ دیکھتا ہے، ایک ہی نعرہ سنتا ہے، ایک ہی علامت سے وابستہ رہتا ہے اور ایک ہی نوعیت کی معلومات بار بار حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے گروہی وابستگی اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر اختلاف اسے دلیل نہیں، خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

یہیں سے تنقیدی شعور کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

سوال صرف ذہنی عادت نہیں؛ یہ آزادی کی حفاظت بھی ہے۔ سوال انسان کو اپنے سامنے رکھی ہوئی حقیقت کو پرکھنے کی مہلت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: یہ بات کیوں درست ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ اس کے خلاف کیا کہا گیا ہے؟ کیا میری رائے حقیقت پر قائم ہے یا صرف میری وابستگی کا نتیجہ ہے؟

انسان کے لیے یقین ضروری ہے، مگر اندھا یقین اسے اپنے ہی ذہن سے دور کرسکتا ہے۔

حیرت سوال پیدا کرتی ہے، سوال تحقیق کو جنم دیتا ہے، اور تحقیق انسان کو علم کے دروازے تک لے جاتی ہے۔

اسی لیے سوال کو شک یا بغاوت سمجھنا درست نہیں۔ سوال حقیقت تک پہنچنے کا ایک راستہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو شخص اپنے یقین کے بارے میں پوچھتا ہے، وہ دراصل اس کی بنیاد تلاش کرتا ہے۔ اور جو بنیاد تلاش کرتا ہے، وہ وراثت میں ملنے والی رائے اور غوروفکر سے حاصل ہونے والے یقین کے درمیان فرق کرنا سیکھتا ہے۔

یہ فرق دین کے میدان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

دین انسان کو خدا سے جوڑتا ہے، جبکہ شخصیت پرستی انسان کو ایک انسان سے باندھ دیتی ہے۔ عالم سے علم حاصل کرنا درست ہے، مگر عالم کو خطا سے پاک سمجھنا ضروری نہیں۔ رہنما سے رہنمائی لینا مفید ہے، مگر اپنی عقل اور اخلاقی ذمہ داری اس کے حوالے کردینا آزادی نہیں۔

حقیقی یقین عقل کو ختم نہیں کرتا؛ اسے ذمہ دار بناتا ہے۔

انسان اپنی عقل کسی دوسرے کے حوالے ایک ہی لمحے میں نہیں کرتا۔ یہ اختیار خاموشی سے منتقل ہوتا ہے۔ پہلے وہ سوچتا ہے: وہ مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ پھر اسے محسوس ہوتا ہے: اس سے سوال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے: اس کی بات ہی کافی ہے۔ اور آخرکار ایک دن وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے فیصلے بھی کوئی دوسرا کرنے لگتا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جب شخصیت، شعور پر غالب آجاتی ہے۔

حقیقی آزادی ہر بات کو رد کرنا نہیں، بلکہ سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ آزاد انسان اپنے پسندیدہ رہنما سے بھی اختلاف کرسکتا ہے، اپنے محبوب نظریے کو بھی سوال کے سامنے رکھ سکتا ہے، اپنی ہی رائے پر نظرثانی کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے بدل بھی سکتا ہے۔

یہ کمزوری نہیں، ذہنی بلوغت ہے۔

ایک انسان عالم سے سیکھ سکتا ہے، استاد سے رہنمائی لے سکتا ہے، اپنے مذہب سے وابستہ رہ سکتا ہے، کسی سیاسی نظریے کو پسند کرسکتا ہے، کسی رہنما کا احترام کرسکتا ہے، لیکن اسے اپنی عقل کی آخری ذمہ داری اپنے پاس رکھنی چاہیے۔

کیونکہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ انسان کیا مانتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں مانتا ہے۔

یہ "کیوں" ہی شعور کی ابتدا ہے۔

جب انسان اپنے یقین کے اسباب تلاش کرتا ہے تو وہ اپنے عقیدے، اپنی سیاست، اپنی شناخت اور اپنی وابستگیوں کو سمجھنے لگتا ہے۔ پھر کوئی نعرہ، رنگ، لباس، علامت یا شخصیت اس کے لیے حقیقت کا مکمل متبادل نہیں بنتی۔

شعور کے بغیر تعلیم محض معلومات کا ذخیرہ بن سکتی ہے، مذہب رسم بن سکتا ہے، سیاست شخصیت پرستی بن سکتی ہے اور اجتماعی وابستگی اندھی فرمانبرداری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال زندہ رہے تو راستہ کھلا رہتا ہے۔

حیرت انسان کو ٹھہرا کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے؛ سوال اسے تلاش پر لے جاتا ہے؛ تلاش علم کا دروازہ کھولتی ہے؛ اور علم انسان کو اپنی رائے قائم کرنے کی قوت دیتا ہے۔

شاید حقیقی آزادی بھی یہی ہے کہ انسان کے پاس یقین ہو، مگر سوال کرنے کی ہمت بھی؛ عقیدہ ہو، مگر شعور کے ساتھ؛ رہنمائی ہو، مگر اپنی عقل کی قیمت پر نہیں۔

انسان کو رہنما کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اپنی عقل کے مالک کی ضرورت خود اسے ہے۔ اسے استاد کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اپنے شعور سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے عقیدے کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر عقیدے کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی آزادی بھی ضروری ہے۔

آخرکار انسان کی فکری آزادی کسی حتمی جواب کے مل جانے میں نہیں، بلکہ سوال کرنے کی صلاحیت زندہ رکھنے میں ہے۔

کیونکہ جس انسان کے اندر سوال زندہ ہے، اس کے اندر شعور زندہ ہے؛ اور جس کا شعور زندہ ہے، اسے اپنی عقل کسی دوسرے انسان کے حوالے کرنا آسان نہیں رہتا۔ یہی حقیقی آزادی ہے۔

پاکستان اور پاکستانی



پاکستان اور پاکستانی

 استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔

ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔

فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔

استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔

یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟

یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔

قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔

استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔

فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔

قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔

استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔

پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔

آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔

اتوار، 16 اگست، 2026

بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری





بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری

کم سن بچوں، خصوصاً بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہیں جسے صرف قانونی جرم سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک بچے کے جسم، ذہن، اعتماد اور مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روک تھام کے لیے قانون کے ساتھ گھر، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور ریاستی نظام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان میں دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ یہ مکمل تصویر نہیں کیونکہ بہت سے واقعات بدنامی، خوف اور خاندانی دباؤ کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی State of Children in Pakistan 2025 کے مطابق 2025 میں پولیس ریکارڈ میں بچوں کے ریپ اور جنسی زیادتی سے متعلق دفعات کے تحت 5,024 چارجز رپورٹ ہوئے، جبکہ دیگر جنسی حملوں سے متعلق دفعات کے تحت 3,163 چارجز درج ہوئے۔ دستیاب اعداد میں لڑکیاں متاثرین کی اکثریت تھیں۔

ان اعداد کو کسی ایک ادارے یا طبقے کے خلاف فردِ جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ دینی مدارس بھی اس عمومی مسئلے سے الگ نہیں، لیکن محدود واقعات کی بنیاد پر تمام مدارس کو جرم کا مرکز قرار دینا تحقیق کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جہاں بچے بالغ افراد کی نگرانی میں رہتے یا تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں ان کے تحفظ کا نظام کتنا مؤثر ہے؟

یہ سوال گھروں کے بارے میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بچوں کے خلاف جنسی استحصال ہمیشہ کسی اجنبی کی طرف سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خطرہ قریبی حلقے ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ سگے رشتہ دار، سوتیلے رشتے، خاندان کے قریبی افراد، ہمسائے یا بچے کی نگہداشت کرنے والے افراد بھی اعتماد کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے معاشرے میں یہ شعور عام کرنا ضروری ہے کہ رشتہ چاہے کتنا ہی قریبی ہو، بچے کی جسمانی حرمت ناقابلِ تجاوز ہے۔

یہاں مسجد و منبر کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں مسجد ایک مؤثر سماجی ادارہ ہے اور امام و خطیب کی بات بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ اگر دینی رہنما بچوں کی حرمت، خاندانی ذمہ داری، جنسی جرائم کی قباحت اور جرم چھپانے کے نقصانات کو باقاعدہ اپنے خطابات کا حصہ بنائیں تو یہ ایک مؤثر قومی آگاہی مہم بن سکتی ہے۔

خاص طور پر سگے اور سوتیلے رشتوں کی حرمت کے بارے میں واضح دینی اور اخلاقی پیغام ضروری ہے۔ معاشرے میں یہ تصور عام ہونا چاہیے کہ رشتہ داری اعتماد کی ذمہ داری بڑھاتی ہے، اختیارات نہیں۔ کسی بچے کے ساتھ نامناسب رویہ صرف اس لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ ملزم اس کا رشتہ دار یا خاندان کا قابلِ احترام فرد ہے۔

مساجد والدین کو یہ بھی سمجھا سکتی ہیں کہ بچے کی کسی شکایت کو فوراً جھوٹ، شرارت یا بدنامی کا سبب نہ سمجھا جائے۔ اسے توجہ سے سننا، محفوظ ماحول دینا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے مدد لینا ضروری ہے۔ خاندان کی عزت جرم چھپانے سے نہیں بلکہ مظلوم کی حفاظت اور ظالم کو جواب دہ بنانے سے محفوظ رہتی ہے۔

اسی طرح دینی مدارس میں بچوں کے تحفظ کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔ اساتذہ اور عملے کی جانچ، واضح ضابطۂ اخلاق، شکایت کا محفوظ طریقہ، رہائشی بچوں کی نگرانی اور کسی شکایت کی صورت میں آزادانہ تحقیقات بنیادی انتظامی تقاضے ہونے چاہئیں۔ یہی اصول اسکولوں، یتیم خانوں اور دیگر رہائشی یا تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

ریاست کو بھی محض قانون بنانے کے بجائے اس کے نفاذ پر توجہ دینا ہوگی۔ پولیس، عدالت، child-protection اداروں اور صحت کے شعبے کے درمیان ایسا مربوط نظام ضروری ہے جس میں بچے کو شکایت کے بعد مزید خوف یا صدمے سے نہ گزرنا پڑے اور کسی بااثر شخص کو اپنے منصب یا تعلقات کی بنیاد پر تحفظ نہ مل سکے۔

اس مسئلے میں مذہبی قیادت کی سب سے بڑی خدمت شاید یہی ہوگی کہ وہ خاموشی کی ثقافت کو توڑے۔ مسجد کے منبر سے واضح کیا جائے کہ بچے اللہ کی امانت ہیں، ان کی عزت اور جسمانی حرمت کی حفاظت لازم ہے، کسی رشتے یا منصب کو اس حرمت سے تجاوز کا حق نہیں، اور جرم چھپانا مظلوم کی مدد نہیں بلکہ مجرم کو مزید موقع دینا ہے۔

اگر گھر بچے کو اعتماد دے، مدرسہ اور اسکول محفوظ ماحول فراہم کریں، ریاست قانون نافذ کرے اور مسجد و منبر مسلسل اخلاقی شعور پیدا کریں تو جنسی جرائم کے خلاف ایک حقیقی معاشرتی حصار قائم کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کی حفاظت صرف قانون کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہمارے اجتماعی کردار کا امتحان ہے۔ اور اس امتحان میں مسجد، مدرسہ اور منبر کو خاموش تماشائی نہیں بلکہ اصلاح کی مؤثر آواز بننا ہوگا۔

جدید انسان اور گمشدہ معنی



جدید انسان اور گمشدہ معنی
آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے زیادہ باخبر ادوار میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے پاس کائنات کے راز جاننے کے لیے طاقتور دوربینیں ہیں، انسانی جسم کو سمجھنے کے لیے جدید آلات ہیں، معلومات تک رسائی کے لیے مصنوعی ذہانت ہے اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لمحوں میں رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اس تمام علمی اور تکنیکی ترقی کے باوجود ایک سوال اب بھی اس کے سامنے کھڑا ہے: انسان آخر ہے کیا، اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

یہی وہ سوال ہے جہاں عبدالحکیم مراد کی فکری دنیا جدید ذہن سے مکالمہ شروع کرتی ہے۔

عبدالحکیم مراد کا اصل نام ٹموتھی ونٹر ہے۔ وہ 1960ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں مغربی فلسفے، مذہب، انسانی وجود اور جدید تہذیب کے بنیادی سوالات نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ اسلامی فکر کا مطالعہ ان کے لیے محض ایک مذہبی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری سفر بھی تھا۔ انہوں نے عربی اور اسلامی علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مسلم دنیا کے علمی مراکز میں وقت گزارا اور بالآخر اسلام کو اپنی فکری اور روحانی زندگی کا مرکز بنایا۔ بعد میں انہوں نے عبدالحکیم مراد کا نام اختیار کیا۔

ان کی شخصیت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ جدید مغربی ذہن کے سوالات سے واقف ہیں اور اسلامی روایت کو بھی اس کی کلاسیکی علمی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ نہ تو جدید دنیا کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور نہ اسلامی روایت کو جدید فیشن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مکالمے کا ہے: سوال جدید دنیا سے لیا جائے اور جواب اسلامی فکر کے وسیع علمی ورثے میں تلاش کیا جائے۔

جدید انسان کے بحران کو سمجھنے کے لیے شاید ’’علم‘‘ اور ’’معنی‘‘ کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر علم کی کثرت نے معنی کی ضمانت نہیں دی۔ ہم جانتے ہیں کہ ستارے کس فاصلے پر ہیں، انسانی خلیہ کس طرح کام کرتا ہے اور دماغ کے مختلف حصے کس طرح سرگرم ہوتے ہیں، لیکن یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ انسان کو زندگی کیوں ملی اور اسے زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی چاہیے۔

سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، لیکن ’’کیوں‘‘ کا ہر سوال سائنسی تجربے کے دائرے میں نہیں آتا۔ طبیعیات مادے کے قوانین بیان کرسکتی ہے، حیاتیات زندگی کے ارتقائی مراحل کا مطالعہ کرسکتی ہے اور نیورو سائنس دماغ کے افعال کو سمجھ سکتی ہے، لیکن ان علوم سے یہ نتیجہ خود بخود اخذ نہیں ہوتا کہ زندگی بے مقصد ہے، اخلاق محض انسانی اتفاق ہے یا شعور صرف مادے کی ایک پیچیدہ حرکت ہے۔

یہاں مراد اسلامی فکر کے اس بنیادی تصور کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس میں عقل اور وحی ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کے مختلف ذرائع ہیں۔ عقل انسان کو سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور استدلال کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ وحی اسے ان سوالات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے جنہیں تجرباتی علم مکمل طور پر حل نہیں کرسکتا۔ انسان کہاں سے آیا؟ اس کی آخری منزل کیا ہے؟ خیر اور شر کی بنیاد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اور انسان کو اپنی آزادی کس مقصد کے لیے استعمال کرنی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں صرف تجربہ گاہ میں رکھ کر حل نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں جدید انسان کے سامنے ایک اور سوال آتا ہے۔ اگر سائنس نے کائنات کی بہت سی ظاہری حقیقتوں کو سمجھا دیا ہے تو پھر مذہب کی ضرورت کیوں باقی ہے؟

مراد کی فکر میں جواب یہ ہے کہ سائنس اور مذہب بنیادی طور پر ایک ہی سوال کا جواب نہیں دے رہے۔ سائنس ’’کیسے‘‘ کو تلاش کرتی ہے، مذہب ’’کیوں‘‘ کو بھی موضوع بناتا ہے۔ سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ بارش کیسے بنتی ہے، لیکن یہ سوال کہ انسان اس قدرتی نظام کے سامنے حیرت، شکر اور ذمہ داری کا احساس کیوں کرے، ایک مختلف سطح کا سوال ہے۔

یہ فرق سائنس کی اہمیت کم نہیں کرتا بلکہ اس کے دائرۂ کار کو واضح کرتا ہے۔

جدید تہذیب نے انسان کو آزادی کا ایک وسیع تصور دیا۔ فرد کو اپنے عقائد، پیشے، رہن سہن اور ذاتی فیصلوں کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے۔ لیکن آزادی کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اگر انسان ہر خواہش پوری کرنے کے لیے آزاد ہے تو کیا وہ واقعی آزاد ہے؟

اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کا غلام بن جائے، مسلسل لذت، دولت، شہرت اور دوسروں کی منظوری کا محتاج رہے تو ظاہری آزادی کے باوجود وہ اندر سے آزاد نہیں رہتا۔

اسلامی تصورِ آزادی اسی مقام پر جدید تصور سے مکالمہ کرتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف بیرونی جبر سے آزاد نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے اپنے نفس کی غلامی سے بھی نجات دلانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے حقیقی آزادی یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرتا پھرے، بلکہ یہ ہے کہ انسان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہو کہ اسے کیا چاہنا چاہیے۔

یہاں اخلاق کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر اخلاق صرف معاشرتی اتفاق کا نام ہے تو کیا اکثریت کسی ظلم کو جائز قرار دے تو وہ اخلاقی ہوجائے گا؟ اگر سچ اور جھوٹ کی کوئی مستقل بنیاد نہیں تو ہم جھوٹ کو برا کیوں کہتے ہیں؟ اگر انصاف صرف انسانی قانون کا نام ہے تو پھر کوئی طاقتور معاشرہ اپنے مفاد میں کسی کمزور قوم کے ساتھ ناانصافی کرے تو اسے صرف اس لیے غلط کیسے کہا جائے کہ ہماری پسند مختلف ہے؟

اسلامی فکر اخلاق کو ایک ایسی بنیاد سے جوڑتی ہے جو انسان سے بلند ہے۔ خیر اور شر محض اکثریت کے فیصلے نہیں بلکہ ان کی ایک اخلاقی حقیقت ہے۔ خدا کا تصور اسی لیے صرف عبادت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بھی بن جاتا ہے۔

مراد کی فکر میں تصوف بھی اسی مکالمے کا اہم حصہ ہے۔ جدید انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ اس کے پاس رابطے بہت ہیں مگر حقیقی تعلق کم ہوسکتا ہے۔ اس کے پاس انتخاب بہت ہیں مگر سمت کا فقدان ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا کو تبدیل کرنے کی بے پناہ طاقت رکھتا ہے، مگر اپنے اندر کی بے چینی پر قابو پانے میں ناکام رہ سکتا ہے۔

تصوف اس بحران کو انسان کے باطن میں تلاش کرتا ہے۔ اس کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا کیسی ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان خود کیسا بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عبدالحکیم مراد جدید انسان کے لیے روحانیت کو ماضی کی کوئی فرسودہ چیز نہیں سمجھتے۔ ان کے فکری زاویے سے روحانی تربیت انسان کے اندر ایسی اخلاقی اور باطنی قوت پیدا کرسکتی ہے جو اسے اپنی خواہشات، خوف، حرص اور خود پسندی سے بلند ہونے میں مدد دیتی ہے۔

ان کی فکر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام اور مغرب کے تعلق کو صرف تصادم کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مغرب میں ایسی بہت سی اقدار ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا، اور اسلامی تہذیب کے پاس بھی عقل، علم، اخلاق، روحانیت اور اجتماعی زندگی کا ایک وسیع فکری ورثہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون مکمل طور پر درست اور کون مکمل طور پر غلط ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی تجربے کی مکمل تصویر کہاں سے حاصل ہوسکتی ہے؟

مراد اسی لیے جدید دنیا کے ساتھ ایک تنقیدی مکالمے کی بات کرتے ہیں۔ نہ اندھی تقلید، نہ اندھی مخالفت۔

وہ جدید انسان کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ مذہب کو محض ماضی کی رسم سمجھ کر مسترد نہ کرے اور اسلام کو صرف سیاسی نعروں یا چند ظاہری احکام تک محدود کرکے نہ دیکھے۔ اسلامی روایت کے اندر فلسفہ بھی ہے، کلام بھی، فقہ بھی، تصوف بھی، اخلاق بھی اور انسانی وجود کے بارے میں ایک وسیع فکری بحث بھی۔

شاید آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ مذہب اور عقل کو دو دشمن خیموں میں تقسیم کرنے کے بجائے ان کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمہ قائم کیا جائے۔

کیونکہ انسان صرف وہ نہیں جو وہ کھاتا ہے، پہنتا ہے، کماتا ہے یا ایجاد کرتا ہے۔ وہ وہ بھی ہے جو محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، سوال کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، موت سے ڈرتا ہے، حسن کے سامنے ٹھہر جاتا ہے اور تنہائی میں اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے۔

مصنوعی ذہانت شاید ہمیں یہ بتا دے کہ دماغ کس طرح معلومات کو منظم کرتا ہے، لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ انسان کو معنی کی تلاش کیوں رہتی ہے؟

سائنس شاید کائنات کے آغاز کے بارے میں مزید راز کھول دے، لیکن انسان پھر بھی پوچھے گا کہ وجود کے پیچھے کوئی مقصد ہے یا نہیں؟

جدید تہذیب شاید ہمیں بے شمار انتخاب دے دے، لیکن سوال پھر بھی یہی ہوگا کہ صحیح انتخاب کون سا ہے؟

عبدالحکیم مراد کی فکری اہمیت اسی مقام پر سامنے آتی ہے۔ وہ جدید انسان کے سوالات سے فرار اختیار نہیں کرتے بلکہ انہیں اسلامی روایت کے سامنے رکھتے ہیں۔ ان کا کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’اسلام کیا کہتا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اسلام انسان، عقل، آزادی، اخلاق، روح اور حقیقتِ وجود کے بارے میں کیا تصور پیش کرتا ہے؟

شاید جدید انسان کا سب سے بڑا بحران خدا کے انکار سے پہلے معنی کے فقدان کا بحران ہے۔ اور شاید مذہب کا سب سے بڑا کام انسان کو صرف چند عقائد دینا نہیں بلکہ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ اس کا وجود بے مقصد نہیں۔

آخرکار سوال وہی ہے جس سے ہر فلسفہ، ہر مذہب اور ہر انسان کبھی نہ کبھی دوچار ہوتا ہے:

میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کیوں آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟