جمعہ، 20 فروری، 2026

مشرقِ وسطیٰ کی کہانی فوجی توازن سے نہیں،بلکہ ممکنات سے لکھی جا رہی ہے




چند دن پہلے سوشل میڈیا کی گرد میں ایک خبر اڑی اور پھر خود ہی بیٹھ گئی: کہا گیا کہ محمد بن سلمان علیل ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہد بنانے کی سرگوشیاں جاری ہیں۔ خبر کی تردید تو جلد ہو گئی، مگر اس واقعے نے ایک اہم حقیقت آشکار کر دی — مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل خبریں وہ نہیں ہوتیں جو سچ ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو ممکن نظر آئیں۔
خلیجی سیاست بظاہر استحکام کا تاثر دیتی ہے، لیکن اندرونی سطح پر اعتماد کی دراڑیں نمایاں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات سفارتی مسکراہٹوں کے باوجود مفادات کی سرد جنگ میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اختلافات وقتی نہیں بلکہ اس بدلتی دنیا کا عکس ہیں جہاں علاقائی طاقتیں خود کو عالمی طاقتوں کے زیرِ سایہ رکھنے کے بجائے اپنی الگ حیثیت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہی تبدیلی عالمی اتحادوں میں بھی نظر آتی ہے۔ نیٹو کے اندر بھی پالیسی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ترکی جیسے ممالک کئی معاملات میں امریکہ کی ترجیحات سے مختلف راستہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سیاست اب یک قطبی نظم سے نکل کر طاقت کے متعدد مراکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس وسیع شطرنج میں ایران ایک منفرد مہرہ ہے۔ اس کی مذہبی حکومت دہائیوں سے قائم ہے اور اس کے حامی اسے نظریاتی استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر اس پر حملہ عراق نے کیا تھا، جس کے نتائج نے پورے خطے کو بدل دیا اور بالآخر صدام حسین کو انجام تک پہنچایا۔ اس مثال کو اکثر اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے والا ہمیشہ فاتح نہیں ہوتا۔
مذہب اور نظریہ جب سیاست میں شامل ہو جائیں تو طاقت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ایران کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہاں لاکھوں افراد اپنے عقیدے کو ذاتی مفاد سے مقدم رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی قوت کو صرف عسکری برتری سے شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔
ادھر خلیجی سفارت کاری بھی خاموشی سے نئی سمتیں تراش رہی ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز کا دورۂ روس اور اس دوران ہونے والے معاہدے اس بات کی علامت تھے کہ عالمی صف بندیاں جامد نہیں رہیں۔ اسی دوران چین اپنی بحری اور معاشی موجودگی کے ساتھ خلیج فارس میں اثر بڑھا رہا ہے، جبکہ ماسکو کا خیال ہے کہ اسے یوکرین کے محاذ پر الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پیچیدہ منظرنامے میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: اگر واشنگٹن تہران کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرتا تو کیا اس کی عالمی برتری پر سوال اٹھیں گے؟ اور اگر کرتا ہے تو کیا وہ ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کا انجام اس کے اپنے اثر و رسوخ کو کمزور کر دے؟ طاقت کے کھیل میں بعض فیصلے جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔
اسی لیے مشرقِ وسطیٰ آج ایک حساس توازن پر کھڑا ہے۔ اگر ایران میں کسی بیرونی مداخلت سے نظام بدلتا ہے تو اس کے جھٹکے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے اقتدار کے ڈھانچے کو ہلا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کشیدگی کے ماحول میں سب سے زیادہ جارحانہ موقف رکھنے والے رہنما بنیامین نیتن یاہو ہیں، جو ایران کے خلاف سخت اقدامات کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی سیاست میں اصل جنگ محاذوں پر نہیں بلکہ امکانات میں لڑی جا رہی ہے۔ افواہیں، اتحاد، معاہدے اور بیانات — سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں خاموشی بھی خبر ہے اور سکوت بھی اعلان۔ مشرقِ وسطیٰ کی کہانی  اب  فوجی توازن سے  نہیں،بلکہ  ممکنات سے  لکھی جا رہی ہے۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

فتح کی تعریف




ہم اکثر افغانوں کی زبان سے ایک فخر آمیز جملہ سنتے ہیں: “ہم نے روس کو توڑا اور امریکہ کو شکست دی۔” بظاہر یہ الفاظ فتح کی گھن گرج محسوس ہوتے ہیں، مگر جب تاریخ اور سیاست کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا شور اکثر حقیقت کی خاموشی کو چھپا لیتا ہے۔ کسی طاقت کو گرانا بذاتِ خود کامیابی نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنی نسلوں کے حصے میں کیا آیا۔

سیاسی حکمت کا اصول سادہ مگر گہرا ہے: دشمن کی کمزوری تبھی معنی رکھتی ہے جب اپنی قوم کی مضبوطی میں ڈھل جائے۔ اگر میدانِ جنگ میں فتح کے باوجود بازار ویران ہوں، گھروں کے چراغ بجھ جائیں اور بچوں کے خواب ٹوٹ جائیں، تو پھر فتح اور شکست کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، امریکہ اور افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے تصادم اکثر عوام کی روزمرہ زندگی کو سب سے پہلے قربان کرتے ہیں۔

آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی سبق زندہ ہے۔ ایران کا موجودہ رویہ اسی شعور کی جھلک دکھاتا ہے کہ اصل جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حالات کے خلاف ہوتی ہے۔ ریاستیں جب سنجیدہ ہوتی ہیں تو ان کا ہدف نعروں کی گونج نہیں بلکہ معیشت کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور معاشرتی استحکام ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی علامت میزائل نہیں بلکہ وہ سکون ہے جس میں ایک مزدور شام کو گھر لوٹ کر اپنے بچوں کے چہروں پر اطمینان دیکھ سکے۔

فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوت محض عسکری برتری کا نام نہیں؛ یہ بصیرت، تدبر اور سمت کا مجموعہ ہے۔ سمت کے بغیر طاقت طوفان بن جاتی ہے—اور طوفان اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتا۔ جو قومیں صرف مخالف کو توڑنے کے خواب دیکھتی ہیں، تاریخ اکثر انہیں خود ٹوٹتے ہوئے دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں اپنے لوگوں کو سنبھالنے، اپنے اداروں کو مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے پر توجہ دیتی ہیں، وہی اصل فاتح ٹھہرتی ہیں۔

حقیقی حکمت یہی ہے کہ دشمن کے زوال کو مقصد نہ بنایا جائے بلکہ اپنی قوم کے عروج کو نصب العین رکھا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست دانائی بنتی ہے اور فلسفہ عملی زندگی کا چراغ — ایک ایسی روشنی جو بتاتی ہے کہ سب سے بڑی فتح میدان میں نہیں بلکہ معاشرے کے دل میں حاصل ہوتی ہے۔

پیر، 16 فروری، 2026

جنگ کا نیا پیمانہ



جنگ کا نیا پیمانہ 
کامیابی کی تعریف ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، خصوصاً جنگ اور سیاست کی دنیا میں۔ روایتی سوچ یہ تھی کہ فتح کا معیار صرف زمین کا قبضہ، دشمن کا جانی نقصان یا عسکری برتری ہوتی ہے۔ مگر اکیسویں صدی میں جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ اب کامیابی  نئے پیمانوں سے ناپی جاتی ہے: دنیا آپ کو کیسے دیکھتی ہے، آپ کی کہانی کون بیان کرتا ہے، اور آپ نے قدم کب اٹھایا۔ یہی عناصر جدید حکمتِ عملی کی اصل روح ہیں۔
سات اکتوبر کا واقعہ اسی حقیقت کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ اس دن نے یہ دکھایا کہ نسبتاً کمزور فریق بھی اگر ادراک، بیانیہ اور وقت کا درست استعمال کرے تو طاقتور حریف کو وقتی طور پر دفاعی پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ یہ محض عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ نفسیاتی اور سیاسی سطح پر اثر ڈالنے والی حکمتِ عملی تھی۔
یحییٰ سنوار اس تناظر میں ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ طویل قید، تنظیمی تجربہ اور خفیہ حکمتِ عملی کی مہارت نے ان کی سوچ کو روایتی عسکری قیادت سے مختلف بنایا۔ ان کے نزدیک جنگ صرف گولی اور بارود کا نام نہیں بلکہ ذہن، میڈیا اور عالمی رائے عامہ کا میدان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکمتِ عملی میں عسکری اقدام ہمیشہ ایک بڑے سیاسی پیغام کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی بساط بھی بدل دی۔ چند ماہ قبل تک خطے میں تعلقات کی نئی صف بندی کی بات ہو رہی تھی اور بعض ممکنہ معاہدے تاریخ ساز قرار دیے جا رہے تھے۔ لیکن اچانک پیش آنے والے واقعے نے اس پیش رفت کو سست کر دیا۔ عوامی ردعمل نے حکومتوں کو محتاط بنا دیا اور سفارتی رفتار رک گئی۔ یوں ایک دن کی کارروائی نے برسوں کی سفارت کاری کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا۔
اس واقعے کا ایک اور اثر دفاعی برتری کے تصور پر پڑا۔ طویل عرصے سے جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس صلاحیت کو ناقابلِ شکست ڈھال سمجھا جاتا تھا، مگر اچانک حملے نے یہ تاثر کمزور کر دیا۔ عسکری ماہرین کو ماننا پڑا کہ ہائبرڈ جنگ — یعنی روایتی اور غیر روایتی حربوں کا امتزاج — طاقت کے توازن کو غیر متوقع انداز میں بدل سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس دن نے بیانیہ تبدیل کیا۔ جو تنازعہ عالمی ترجیحات میں نیچے چلا گیا تھا وہ دوبارہ عالمی بحث کا مرکز بن گیا۔ میڈیا، پارلیمانوں اور عوامی حلقوں میں گفتگو کا رخ بدل گیا اور بڑی طاقتوں کو اپنے مؤقف واضح کرنے پڑے۔ اس طرح ایک علاقائی واقعہ عالمی سیاسی گفتگو کا محور بن گیا۔
یہ سب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ اصل معرکہ ذہنوں، خبروں، سفارت کاری اور تاثر کے میدان میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک دن کی کارروائی برسوں کے توازن بدل دیتی ہے اور طاقت کی تعریف نئے سرے سے لکھی جاتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ اپنا فیصلہ دیر سے سناتی ہے، مگر اتنا واضح ہے کہ سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے — ایسا مرحلہ جہاں قوت، کمزوری اور حکمتِ عملی کے معنی بدل چکے ہیں۔

جمعرات، 12 فروری، 2026

H اشرافیہ کا کردار



اشرافیہ کا کردار

کنفیوشس نےکہا تھا “ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” کیا آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

جو لوگ 1980 کی دہائی میں فکری شعور رکھتے تھے، انہیں ایک نام ضرور یاد ہوگا—زبگنیو برژنسکی۔ وہ محض ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ عالمی سیاست کی گہری پرتوں کو سمجھنے والے مفکر تھے۔ 1977 سے 1981 تک صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برژنسکی نے 1970 میں ایک ایسی کتاب لکھی جو آج نصف صدی بعد پیش گوئی نہیں بلکہ تشریح بن چکی ہے

Between Two Ages: America’s Role in the Technetronic Era۔

اگر اس کتاب کا نچوڑ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو مفہوم یہ تھا کہ مستقبل میں جمہور کے نام پر فیصلے جمہور نہیں کریں گے، بلکہ ایک محدود اور غیر مرئی گروہ کرے گا۔ یہ وہ طبقہ ہوگا جس کے ہاتھ میں پانچ بنیادی قوتیں مرکوز ہوں گی: میڈیا اور کمیونیکیشن، انسانی شعور پر اثراندازی، روایتی سیاست کا زوال، ڈیٹا اور نگرانی، اور قوم سے بالاتر طاقتوں کا ابھار۔

برژنسکی نے لکھا تھا کہ ٹی وی، سیٹلائٹ، اور پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی رائے کو تشکیل دیں گے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے انسانی سوچ، رویّوں اور ترجیحات کو اس حد تک متاثر کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ فرد خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک طے شدہ فریم میں سوچ رہا ہوگا۔ جماعتیں، نظریات اور پارلیمان کمزور پڑیں گی، جبکہ ٹیکنوکریٹس، ماہرین اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ ساز بن جائیں گی۔ ڈیٹا نگرانی کا ہتھیار بنے گا، پرائیویسی ایک تصور رہ جائے گی، اور طاقت قومی سرحدوں سے آزاد ہو کر ملٹی نیشنل اداروں اور عالمی نیٹ ورکس میں منتقل ہو جائے گی۔

آج، جب ایپسٹین فائلز سے متعلق خبریں اور انکشافات عالمی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں، تو برژنسکی کی وہ باتیں محض نظریہ نہیں رہتیں بلکہ ایک عملی حقیقت کا عکس دکھائی دیتی ہیں۔ ان خبروں نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ عالمی اشرافیہ کسی ایک ملک، نسل یا خطے کی نمائندہ نہیں۔ اس کی شناخت اس کی  ذہنیت ہے۔ یوں یہ طبقہ ایک قوم نہیں بلکہ ایک غیر مرئی کلب ہے—مشترکہ سوچ، مشترکہ مفاد اور مشترکہ خواہشات کا حامل۔

یہ لوگ دنیا پر اپنا تسلظ  فیصلوں، منصوبہ بندی اور بیانیے کے ذریعے قائم کرتے  ہیں۔ ان کے اقدامات عام آنکھ کو دکھائی نہیں دیتے، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا محاذ سائبر ڈومین ہے—جہاں الفاظ تراشے جاتے ہیں، معنی گھڑے جاتے ہیں اور بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔ یہاں انسانی سوچ کو ہموار کیا جاتا ہے، جذبات کو سمت دی جاتی ہے، اور رائے عامہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ طاقت  خاموشی سے کام کرتی ہے، مگر اس کی گرفت وسیع اور دیرپا ہوتی ہے۔

ان کا دوسرا محاذ معیشت ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالی نظام کے ذریعے وسائل، محنت اور فیصلے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھلتے ہیں جہاں ہر لین دین ڈیٹا بن جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا نگرانی اور کنٹرول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بظاہر سہولت اور ترقی کی زبان بولی جاتی ہے، مگر حقیقت میں مالی آزادی بتدریج مشروط ہوتی جاتی ہے اور اختیار کہیں اور مرتکز ہو جاتا ہے۔

ایپسٹین فائلز سے جڑی بحث نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے: طاقت خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ قوانین اور اصول اکثر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور طبقات کے لیے بیانیہ، وضاحتیں اور خاموشی کافی سمجھی جاتی ہے۔  یہ اشرافیہ  کنٹرول کے تصور کی وارث ہے—ایک ایسی غیر مرئی قوت جو انسانی سوچ، رویّوں اور وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

آج سیاستدان بولتے ضرور ہیں، مگر فیصلوں کے پیچھے اکثر کسی اور طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذہن سائبر میں لکھے جاتے ہیں، وسائل ڈیجیٹل میں بندھتے ہیں، اور انسانی رویّے ایک خاص فریم میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے—خاموش، مگر نہایت طاقتور۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کبھی قبائل میں بٹی، پھر عقائد کی بنیاد پر منقسم رہی۔ آج لگتا ہے دنیا دو ذہنیتوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف خیر، بھلائی، ایثار اور انسان دوستی؛ اور دوسری طرف ہوس، لالچ، غیر انسانی رویّے اور اقتدار کی بے لگام خواہش۔

کنفیوشس نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کر دیا تھا: “اگر تم دنیا پر حکمرانی چاہتے ہو تو پہلے اپنے کردار پر حکمرانی کرو۔ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” سوال یہ ہے کہ آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

بدھ، 11 فروری، 2026

گمان اور رویے





ہماری زندگی کی سب سے مسلسل جستجو اگر کسی شے کی ہے تو وہ خوشی اور سکون ہیں—وہ دو نایاب موتی جن کے لیے انسان عمر بھر سمندرِ حیات میں غوطے لگاتا رہتا ہے۔ مگر عجیب المیہ یہ ہے کہ جس سکون کی تلاش میں ہم دنیا بھر کے راستے ناپتے ہیں، اکثر اسی سکون کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہوتے ہیں۔ ہمارے خیالات، ہمارے گمان، اور ہمارے رویّے—یہی وہ نادیدہ معمار ہیں جو یا تو زندگی کے افق پر روشنی کی عمارت کھڑی کرتے ہیں یا اسے بدگمانی کے اندھیروں میں ڈبو دیتے ہیں۔
مثبت سوچ ایک نرم ہوا کی طرح ہے جو دل کے موسم کو معتدل رکھتی ہے، جبکہ غلط فہمیاں خزاں کی سرد آندھی بن کر رشتوں کے پتّے جھاڑ دیتی ہیں۔ جب انسان کو دوسروں میں خوبی دکھائی دینا بند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے باطن میں منفی خیال کی کوئی خاموش بیماری جنم لے چکی ہے—ایسی بیماری جو شور نہیں کرتی مگر دلوں کے درمیان فاصلے اگا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے نہایت سادہ مگر تہہ دار الفاظ میں بیان کیا:
"اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"
یعنی بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
انسان کا ذہن ایک عجب کارخانہ ہے—یہ حقیقت سے زیادہ قیاس پر یقین کر لیتا ہے، اور ثبوت سے پہلے فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ محبت کے رشتے شکوک کے کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی کا قول اس نفسیاتی حقیقت کا آئینہ ہے کہ دنیا کی اکثر دشمنیاں غلط فہمیوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے بارے میں رائے بنانے میں جلدی کرتے ہیں، مگر اپنے گمانوں کا محاسبہ کرنے میں سستی۔
منفی سوچ کا پہلا زخم خود سوچنے والے کے دل پر لگتا ہے۔ کارل یونگ کے بقول جو شخص ہر چہرے میں عیب تلاش کرتا ہے، دراصل اپنے ہی باطن کے سایوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان روشنی پہچاننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے—وہ تعریف کرنا بھول جاتا ہے، شکرگزاری سے کترانے لگتا ہے، اور ہر مسکراہٹ میں سازش کا عکس ڈھونڈنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس مثبت سوچ ایک شفا بخش روشنی ہے۔ یہ مسئلے مٹاتی نہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ نورمن ونسنٹ پیل نے اسی سچ کو یوں بیان کیا کہ مثبت فکر مشکلات کو ختم نہیں کرتی بلکہ انسان کو ان سے بلند کر دیتی ہے۔ یہی کیفیت دل میں وہ اطمینان پیدا کرتی ہے جس کا ذکر قرآن نے یوں کیا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
یعنی یادِ الٰہی سے دلوں کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
یہ قرار صرف عبادت کی ساعتوں میں نہیں اترتا؛ یہ طرزِ فکر کی زمین میں بھی اگتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے حسنِ ظن اختیار کرتا ہے، ان کے ارادوں کو خیر پر محمول کرتا ہے، اور ہر حال میں خیر تلاش کرتا ہے تو اس کے اپنے دل کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ بدگمانی محبت کو کھا جاتی ہے، اور رومیؒ نے اسے دل کے اندر بھڑکتے جہنم سے تعبیر کیا ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان عیبوں کی فہرست یاد رکھے؛ دانائی یہ ہے کہ وہ خوبیوں کی تلاش میں رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خیالات کا احتساب کریں—اگر ہماری گفتگو میں تلخی بڑھ رہی ہے، اگر ہماری نظر ہر منظر میں نقص تلاش کرتی ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ ہمارے باطن کا موسم بدل رہا ہے۔ ایسے وقت علاج بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہے: شکرگزاری کو عادت بنانا، حسنِ ظن کو شعار بنانا، اور خود سے یہ عہد کرنا کہ ہم دوسروں کو ویسا دیکھیں گے جیسا ہم خود بننا چاہتے ہیں۔
زندگی اپنی اصل میں دشوار ضرور ہے مگر تاریک نہیں۔ روشنی کا سرچشمہ باہر نہیں، انسان کے اندر ہے۔ جو شخص لوگوں میں خامیاں نہیں بلکہ خوبیاں تلاش کرنے لگتا ہے، اس کے لیے دنیا کی سختیاں بھی نرم ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کوئی خارجی انعام نہیں، یہ دل کی داخلی کیفیت ہے—اور یہ کیفیت اسی دل میں اترتی ہے جو دوسروں کے لیے خیر سوچنے کا ہنر جانتا ہو۔
زندگی کو خوبصورت بنانے کا راز شاید اتنا ہی سادہ ہے:
لوگوں کے چہروں پر دھبے نہیں، روشنی تلاش کرو۔