اتوار، 9 اگست، 2026

اپنی منزل خود دریافت کیجیے



اپنی منزل خود دریافت کیجیے

انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر اس کے سامنے امکانات کی ایک پوری کائنات بچھا دی جاتی ہے۔ وہ نہ اپنے ساتھ رزق لاتا ہے، نہ پیشہ، نہ مقام اور نہ پہچان۔ یہ سب اسے خود حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ناکامیوں کا ذائقہ چکھتا ہے، راستے بدلتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے، تب کہیں جا کر اپنی روزی، اپنی جگہ اور اپنا تعارف بناتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہم روزگار کی تلاش کو تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر زندگی کے مقصد کی تلاش دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ کوئی استاد ہمیں بتا دے گا کہ ہمیں کس سمت جانا ہے، کوئی بزرگ ہماری تقدیر کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں رکھ دے گا، یا معاشرہ ایک دن ہمارے لیے وہ راستہ منتخب کر دے گا جس پر چل کر ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ مقصد عطا نہیں کیا جاتا، دریافت کیا جاتا ہے۔

یہ دریافت بھی کسی نقشے پر نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے باطن تک پہنچنے سے پہلے ہی دوسروں کی آوازوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں والدین کی خواہشیں، جوانی میں معاشرے کی توقعات، اور عمر کے ہر موڑ پر "لوگ کیا کہیں گے" کا سایہ ہمارے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ ہم اپنی آواز اور دوسروں کی آواز میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔ پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی تو بہت گزاری، مگر اپنی زندگی کبھی نہیں گزاری۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہر شخص اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے؟

میرا جواب ہے: نہیں۔

اپنی مرضی سے صرف وہی شخص جی سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے۔

جس انسان کے پاس مقصد نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ دوسروں کی رائے کے سہارے چلتا ہے۔ اس کی سمت حالات طے کرتے ہیں، اس کے فیصلے ماحول بناتا ہے، اور اس کی خوشی دوسروں کی منظوری سے وابستہ رہتی ہے۔ وہ ہر تعریف پر پھول جاتا ہے اور ہر تنقید پر بکھر جاتا ہے، کیونکہ اس کے وجود کی بنیاد اندر نہیں، باہر ہوتی ہے۔

مقصد انسان کو صرف راستہ نہیں دیتا، ایک داخلی مرکز بھی عطا کرتا ہے۔ پھر وہ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ نہیں بدلتا۔ وہ جانتا ہے کہ درخت اگر اپنی جڑوں پر اعتماد کھو دے تو ہر موسم اس کے لیے آندھی بن جاتا ہے۔

کائنات کی ہر شے اپنے مقصد کے ساتھ وابستہ ہے۔ دریا سمندر کی تلاش میں بہتا ہے، بیج روشنی کی آرزو میں زمین کا سینہ چیرتا ہے، ستارے اپنے مدار سے انحراف نہیں کرتے، سورج ہر صبح کسی تالی، کسی تعریف اور کسی اجازت کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔ صرف انسان وہ مخلوق ہے جو دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرتے کرتے اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔

یہ زمانہ رائے کا زمانہ ہے۔ ہر شخص آپ کی زندگی پر تبصرہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی آپ کے خوابوں کو غیر حقیقی کہتا ہے، کوئی آپ کے فیصلوں کو ناپختہ، اور کوئی آپ کے راستے کو غلط قرار دیتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی سمت دوسروں کے ہاتھ میں دے دی تو آپ پوری عمر چوراہوں پر کھڑے رہیں گے، کیونکہ ہر شخص آپ کو الگ راستہ دکھائے گا۔

مقصد مل جانے کے بعد زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن واضح ضرور ہو جاتی ہے۔

مشکلات باقی رہتی ہیں، مخالفتیں بھی ختم نہیں ہوتیں، مگر انسان کے اندر ایک ایسی خاموش طاقت پیدا ہو جاتی ہے جو اسے ہر شور سے بلند کر دیتی ہے۔ پھر وہ ہر آواز کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ منزل کی طرف بڑھتے ہوئے مسافر راستے میں کھڑے ہر تماشائی سے بحث نہیں کرتے۔

شاید اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی آواز سے زیادہ اپنے ضمیر کی آواز پر یقین کیا۔ انہیں پتھر بھی ملے، تنہائی بھی ملی، تمسخر بھی ملا، مگر ان کے قدم اس لیے نہیں رکے کہ وہ لوگوں کے لیے نہیں، اپنے مقصد کے لیے چل رہے تھے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کامیابی کو مقصد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کامیابی صرف ایک نتیجہ ہے۔ مقصد اس سے کہیں بلند چیز ہے۔ کامیابی انسان کو شہرت دے سکتی ہے، دولت دے سکتی ہے، اختیار دے سکتی ہے، مگر مقصد اسے معنی دیتا ہے۔ اور معنی کے بغیر ہر کامیابی آخرکار ایک خالی برتن ثابت ہوتی ہے، جس میں شور تو بہت ہوتا ہے، سکون نہیں۔

اس لیے اگر آپ واقعی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ مت پوچھیے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ دنیا آپ سے کیا چاہتی ہے۔ صرف ایک سوال کیجیے:

میں اس دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں؟

ممکن ہے اس سوال کا جواب ایک دن میں نہ ملے، شاید برسوں لگ جائیں، شاید پوری زندگی کی مسافت طے کرنی پڑے۔ مگر یاد رکھیے، مقصد کی تلاش میں گزارا ہوا ایک دن بھی اس پوری عمر سے زیادہ قیمتی ہے جو دوسروں کے خواب پورے کرتے ہوئے گزر جائے۔

آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ انسان کی آزادی کا اعلان اس دن نہیں ہوتا جب وہ دوسروں کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، بلکہ اس دن ہوتا ہے جب وہ اپنے وجود کے معنی دریافت کر لیتا ہے۔ جس لمحے انسان کو اپنی منزل مل جاتی ہے، اسی لمحے دنیا کی آوازیں مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر تعریف اس کا راستہ نہیں بدلتی، تنقید اس کے قدم نہیں روکتی، اور زمانہ اس کی سمت متعین نہیں کرتا۔

کیونکہ جس مسافر کو اپنی منزل معلوم ہو، وہ راستوں سے نہیں ڈرتا؛ اور جسے اپنی منزل نہ معلوم ہو، وہ ہر چوراہے پر دوسروں سے راستہ پوچھتا رہ جاتا ہے۔

اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟




اختیار کی شاہراہ کہاں جاتی ہے؟

پاکستان کی کہانی ایک خواب سے شروع ہوئی تھی۔ وہ خواب کسی فوجی طاقت، کسی سلطنت یا کسی خاندان کا نہیں تھا، بلکہ عوام کے سیاسی شعور کا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ووٹ کی طاقت سے دنیا کو بتایا تھا کہ قومیں بندوق سے نہیں، اجتماعی فیصلے سے بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔ شاید اسی لیے پاکستان کا پہلا سرمایہ زمین نہیں بلکہ عوام کا اعتماد تھا۔

مگر تاریخ کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔قیامِ پاکستان کے بعد ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ تشکیل پانے لگا جس میں ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان طاقت کا توازن مسلسل بدلتا رہا۔ ہر بحران نے کسی ادارے کو زیادہ اختیار دیا اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں اختیار کم اور ذمہ داری زیادہ رہ گئی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، پارلیمان قائم رہی، انتخابات بھی ہوتے رہے، مگر یہ سوال کبھی دفن نہ ہو سکا کہ ریاست کے اہم فیصلوں کا آخری اختیار آخر کس کے پاس ہے۔

یہ تبدیلی صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہ رہی۔ ریاستی وسائل، قومی ترجیحات اور عوامی اثاثوں پر بھی عوام کی نفسیاتی ملکیت کمزور پڑنے لگی۔ جب ایک عام آدمی اپنی زندگی میں مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بے بسی کا سامنا کرتا ہے اور دوسری طرف طاقت کے مراکز کی قوت اور اثرورسوخ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے۔ کیا آزادی صرف پرچم بدلنے کا نام تھی ، پرچم کے ذہن میں آتے ہی وہ دور یاد آتا ہے جب اس سرزمین پر غیر ملکی حکمران حکومت کرتے تھے۔ اس زمانے میں بھی فیصلے کہیں اور ہوتے تھے اور عوام صرف ان فیصلوں کے نتائج بھگتتے تھے۔ آج حالات یقیناً مختلف ہیں، مگر اگر عوام کو اپنے ووٹ کی تاثیر محسوس نہ ہو تو تاریخ کا احساس بھی بدلنے لگتا ہے۔

بلوچستان اسی احساس کا سب سے پرانا اور سب سے گہرا استعارہ ہے۔ وہاں بے چینی کو اکثر طاقت سے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، مگر خاموشی ہمیشہ اطمینان نہیں ہوتی۔ بندوق خوف پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔ چند جمہوری ادوار میں سیاسی مصالحت کا راستہ اختیار کیا گیا، لیکن وہ قومی پالیسی نہ بن سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بے چینی نے صرف ایک صوبے تک محدود رہنے سے انکار کر دیا۔ اس کی لہریں خیبر پختونخوا تک پہنچیں اور اب کشمیر میں دستک دیتی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستانی سیاست کی البتہ ایک خوبی بھی ہے۔ اس نے ہر دور میں ایسے رہنما پیدا کیے جنہوں نے بند راستوں میں بھی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بینظیر بھٹو ایک دوسرے سے مختلف سیاسی مکتبِ فکر رکھتے تھے، مگر ایک بات میں سب شریک تھے: وہ عوامی سیاست کو ریاستی اختیار کا اصل سرچشمہ بنانا چاہتے تھے۔ ان کی کامیابیوں پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ انہوں نے اپنے اپنے حصے کی قیمت بھی ادا کی۔

عمران خان کی سیاسی داستان اس روایت میں ایک منفرد باب کا اضافہ کرتی ہے۔ ان کے بارے میں ایک مضبوط سیاسی تاثر یہ رہا کہ ان کے اقتدار تک پہنچنے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا، مگر اقتدار سے نکالنے کے بعد یہی تعلق اختلاف اور پھر تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ یوں وہ بھی اسی سیاسی دائرے میں داخل ہوگئے جہاں ماضی کے بہت سے منتخب رہنما پہلے آ چکے تھے۔ اس منظرنامے نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا کہ پاکستان میں اصل مسئلہ افراد کا ہے یا اختیار کے نظام کا؟

یہی سوال موجودہ حکمران اتحاد کے سامنے بھی کھڑا ہے۔ کیا اس کا انجام بھی اپنے پیش روؤں جیسا ہوگا یا اس بار تاریخ مختلف فیصلہ سنائے گی؟ اس کا جواب آنے والا وقت دے گا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں سیاست دان ایک طرف ریاستی استحکام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف عوامی بالادستی کے دعوے سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتے۔ یہی تضاد ان کی سیاست کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی وزن کو کمزور کیا ہے۔ اگر یہ تاثر عوام میں مزید مضبوط ہوتا ہے تو ممکن ہے اس کے نتائج صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہ رہیں۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت جب اپنے فطری توازن سے آگے بڑھتی ہے تو ردِعمل بھی غیر معمولی ہوتا ہے۔ جو بساط آج سیاست دانوں کو محدود کرنے کے لیے بچھائی جا رہی ہے، بعید نہیں کہ کل وہی بساط اپنے بچھانے والوں کے لیے بھی آزمائش بن جائے۔

اسی تناظر میں عوامی ریفرنڈم کی بات بھی سنائی دیتی ہے۔ اگر کبھی ایسا مرحلہ آیا اور منتخب سیاسی قوتوں نے خود اس کی قیادت کی تو طاقت کے موجودہ توازن میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ بعض لوگ اس ضمن میں ترکی کی مثال دیتے ہیں، اگرچہ پاکستان کے حالات، تاریخ اور ادارہ جاتی ساخت اس سے مختلف ہیں۔ پھر بھی تاریخ کا ایک اصول ہر جگہ یکساں رہتا ہے: طاقت ہمیشہ مستقل نہیں ہوتی، مگر عوام کا فیصلے کی بازگشت نسلوں تک سنائی دیتی ہے۔

آخر میں صرف ایک تاریخی واقعہ ۔ رومی سلطنت نے بے شمار جنگیں جیتیں، اس کی فوجیں نصف دنیا پر چھا گئیں، مگر ان کے زوال کی وجوہات میں مورخین لکھتے ہیں کہ سلطنت اپنی رعایا کے دل ہار چکی تھی۔

تاریخ کا قلم یہ نہیں پوچھنا کہ کون سا حکمران زیادہ طاقتور تھا، کس جماعت نے کتنی نشستیں جیتیں یا کس ادارے کے پاس کتنا اختیار تھا۔ وہ صرف یہ لکھے گا کہ کیا اس ریاست نے اپنے عوام کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ ملک واقعی انہی کا ہے؟

اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے



اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے
جب کوئی نوجوان دین کے بارے میں سوال کرتا ہے تو بعض لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں: "زیادہ سوال نہ کرو، ایمان کمزور ہو جائے گا۔" یہ جملہ شاید اخلاص سے کہا جاتا ہو، لیکن قرآن کا اسلوب اس سے مختلف ہے۔ قرآن انسان کو خاموش رہنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اس کی عقل کو بیدار کرتا ہے۔ وہ بار بار پوچھتا ہے: "کیا تم غور نہیں کرتے؟"، "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"، "کیا تم دیکھتے نہیں؟" اور "کیا تم سمجھتے نہیں؟"۔ گویا اسلام کا آغاز سوال سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام یقین پر۔
اسلام کی پوری فکری روایت اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے سوال کیا تاکہ یقین مزید پختہ ہو۔ فرشتوں نے سوال کیا تاکہ حکمت کو سمجھ سکیں۔ صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سینکڑوں سوال کیے، اور قرآن نے ان سوالات کے جوابات کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ اگر سوال کرنا ممنوع ہوتا تو وحی خود سوال و جواب کی صورت میں کیوں نازل ہوتی؟
قرآن تو اس سے بھی آگے بڑھ کر حکم دیتا ہے
"پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔"
(سورۃ النحل: 43)
یہ آیت صرف ایک دینی ہدایت نہیں، بلکہ علم حاصل کرنے کا آفاقی اصول ہے۔ لاعلمی کا علاج خاموشی نہیں، سوال ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بلاشبہ جہالت کا علاج سوال کرنا ہے۔"
(سنن ابی داؤد)
قرآن صرف سوال کرنے کی دعوت ہی نہیں دیتا بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندگانِ صالح کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے
"اور جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھوں اور بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے۔"
(سورۃ الفرقان: 73)
قرآن اپنے مثالی مومن کی تعریف یہ نہیں کرتا کہ وہ بغیر سوچے ہر بات قبول کر لیتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی آیات کو شعور، بصیرت اور سمجھ کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس کا ایمان علم پر قائم ہوتا ہے، غفلت پر نہیں۔
بدقسمتی سے ہم نے بعض اوقات دین کو اتنا نازک بنا دیا ہے کہ ایک سوال سے بھی اسے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ سچائی کبھی سوال سے نہیں ڈرتی۔ سوال تو صرف اس فکر کے لیے خطرہ بنتا ہے جس کے پاس دلیل نہ ہو۔ جس ایمان کی بنیاد تحقیق پر ہو، ہر نیا سوال اسے مزید مضبوط کرتا ہے۔
یاد رکھیے، لاعلم ہونا عیب نہیں، لاعلم رہنے پر اصرار کرنا عیب ہے۔ اسلام انسان کو عقل دیتا ہے، پھر اسے تحقیق کا حکم دیتا ہے، پھر اہلِ علم سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتا ہے، اور آخرکار فیصلہ اس کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:
"اور کہہ دیجیے: یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔"
(سورۃ الکہف: 29)
یہ آیت جبر کی نہیں، آزادیِ انتخاب کی آیت ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، لیکن اس اختیار سے پہلے تحقیق کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد کی گئی ہے۔ اسی لیے قرآن کی ابتدا میں فرمایا گیا:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے۔"
(سورۃ البقرہ: 2)
متقی وہ نہیں جو سوال سے ڈر جائے، بلکہ وہ ہے جو حق کی تلاش میں اخلاص کے ساتھ نکلے، دلیل کو سنے، تعصب سے بلند ہو کر تحقیق کرے، اور جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنے کا حوصلہ بھی رکھے۔
شاید یہی اسلام کی سب سے بڑی فکری عظمت ہے۔ یہ مذہب سوال سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اسے اپنے جواب پر یقین ہے۔ وہ انسان سے اندھی اطاعت نہیں مانگتا، بلکہ بیدار عقل، مطمئن دل اور شعوری ایمان چاہتا ہے۔ اسلام کا اصل معرکہ سوال کرنے والوں سے نہیں، بلکہ جہالت، تعصب اور اندھی تقلید سے ہے

جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے






جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے

مسلم دنیا میں اتحاد کا خواب نیا نہیں۔ تقریباً ایک صدی سے مسلمان ممالک یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ اتنی بڑی آبادی، وسیع جغرافیہ، بے شمار قدرتی وسائل، تاریخی ورثے اور دفاعی صلاحیت رکھنے کے باوجود وہ ایک ایسی مشترکہ طاقت کیوں نہیں بن سکے جو عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔

مکہ ڈیفنس اکارڈ کو بھی اسی تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ مسلم ممالک نے مشترکہ دفاع یا تعاون کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہو۔ تاریخ میں بارہا ایسے مواقع آئے جب امیدیں بلند ہوئیں، معاہدے ہوئے، ادارے قائم ہوئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کئی کوششیں اپنی ابتدائی روح برقرار نہ رکھ سکیں۔

اگر مسلم دنیا کے مجموعی وسائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک غیر معمولی قوت رکھتی ہے۔ تقریباً ستاون مسلم ممالک میں دو ارب کے قریب انسان بستے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ مسلم ممالک کے پاس ہے۔ ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ملانے والے اہم جغرافیائی راستے اسی خطے سے گزرتے ہیں۔ نوجوان آبادی، معدنی وسائل اور قدرتی دولت اسے دنیا کے اہم ترین خطوں میں شامل کرتے ہیں۔

دفاعی اعتبار سے بھی مسلم ممالک کے پاس بڑی قوت موجود ہے۔ مجموعی طور پر لاکھوں فوجی اہلکار، ہزاروں جنگی اور فوجی طیارے، دسیوں ہزار ٹینک، بڑی بحری قوت اور جدید دفاعی نظام رکھنے والے ممالک اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ ترکی، پاکستان، ایران، مصر اور بعض خلیجی ممالک دفاعی صنعت، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون اور جدید جنگی صلاحیتوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ صحت، تعلیم اور سائنس کے میدان میں بھی مسلم دنیا کے پاس لاکھوں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور محققین موجود ہیں۔

لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ وسائل کا ہونا اور ان وسائل کو مشترکہ طاقت میں تبدیل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اصل مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، مشترکہ وژن اور سیاسی ہم آہنگی کا ہے۔

اس مسئلے کی جڑیں تاریخ میں بھی موجود ہیں۔ تقریباً سو سال پہلے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کا سیاسی نقشہ بدل گیا۔ نئی ریاستیں وجود میں آئیں، نئی سرحدیں قائم ہوئیں اور ایک ایسا نظام پیدا ہوا جس میں مشترکہ تہذیبی رشتوں کے باوجود ہر ملک نے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

اسی پس منظر میں عرب اور عجم کی تقسیم بھی ایک اہم حقیقت بن کر سامنے آئی۔ عرب ممالک نے اپنی زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت کو بنیاد بنایا، جبکہ غیر عرب مسلم ممالک جیسے ترکی، ایران اور پاکستان نے اپنی قومی ترجیحات کے مطابق راستے اختیار کیے۔ اگرچہ اسلام نے نسل اور زبان کی بنیاد پر برتری کو رد کیا، لیکن سیاست میں تاریخی، ثقافتی اور علاقائی عوامل اپنا اثر رکھتے رہے۔

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان علاقائی تعاون کی کوشش اسی خواہش کا اظہار تھی۔ 1964ء میں تینوں ممالک نے علاقائی تعاون برائے ترقی، یعنی آر سی ڈی قائم کیا۔ مقصد یہ تھا کہ تین بڑے مسلم ممالک تجارت، معیشت اور ترقی کے میدان میں ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ ابتدا میں یہ منصوبہ بڑی امیدوں کے ساتھ شروع ہوا، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات، عالمی طاقتوں کے اثرات اور داخلی ترجیحات نے اس کے سفر کو محدود کر دیا۔ بعد میں یہی تصور اقتصادی تعاون تنظیم کی شکل میں سامنے آیا، مگر یہ بھی ایک مضبوط سیاسی اتحاد میں تبدیل نہ ہو سکا۔

خلیجی تعاون کونسل بھی اسی امید کے ساتھ قائم ہوئی تھی کہ خلیجی ممالک اپنی مشترکہ سلامتی اور معاشی طاقت کو ایک سمت دیں گے۔ ابتدا میں اس اتحاد سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، لیکن وقت کے ساتھ اندرونی اختلافات سامنے آئے۔ قطر اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی بحران نے واضح کر دیا کہ مشترکہ مذہب، زبان اور جغرافیہ بھی ہمیشہ سیاسی اختلافات کو ختم نہیں کر سکتے۔

عرب دنیا میں اتحاد کی خواہش یقیناً خوش آئند ہے۔ اگر عرب ممالک اپنی معاشی، سیاسی اور دفاعی طاقت کو یکجا کریں تو وہ دنیا میں ایک اہم قوت بن سکتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نسلوں سے موجود عرب برتری کا احساس بعض اوقات مساوات پر مبنی اتحاد کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ کوئی بھی اتحاد اس وقت مضبوط نہیں ہو سکتا جب ایک فریق خود کو فطری قائد اور دوسرے کو تابع سمجھے۔ کامیاب اتحاد برابری، احترام اور اعتماد سے بنتے ہیں۔

مسلم دنیا کے بعض ممالک نے تیل اور گیس کی دولت سے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ جدید شہر، بلند عمارتیں، عالمی معیار کے اسپتال، جامعات اور معاشی منصوبے اس ترقی کی علامت ہیں۔ لیکن دولت کے ساتھ ایک امتحان بھی آتا ہے۔ ایک دانشمند کا قول ہے:

"دولت سر کو اونچا کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔"

دولت اگر علم، تحقیق، انصاف اور خدمت کے ساتھ ہو تو قوموں کو ترقی دیتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ غرور شامل ہو جائے تو فاصلے پیدا کرنے لگتی ہے۔

پنجابی زبان کا ایک لفظ ہے: "شریکہ "۔ یہ صرف خاندانی مقابلے کا لفظ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی کیفیت کا اظہار ہے۔ شریکہ دشمنوں سے نہیں ہوتا، اکثر اپنے ہی لوگوں کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ جب بھائی بھائی کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے حسد کرے، جب ایک قوم دوسری قوم کی کمزوری کو اپنا فائدہ سمجھے، تو یہی کیفیت اجتماعی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
1969    سال 
میں جب اسلامی تعاون تنظیم قائم ہوئی تو صرف حکومتوں کے ایوانوں میں نہیں بلکہ عرب اور عجم دونوں کے عوام میں ایک نئی امید، ایک ولولہ اور ایک جذبہ پیدا ہوا تھا۔ عام مسلمان کو محسوس ہوا تھا کہ شاید اب مسلم دنیا اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک نئی سمت اختیار کرے گی۔ وہ ایک سیاسی اعلان سے بڑھ کر عوامی احساس کا نام تھا۔

آج مکہ ڈیفنس اکارڈ کے لیے بھی ہماری نیک خواہشات اس معاہدے میں شریک ممالک کے ساتھ ہیں۔ مکہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ کہا جاتا ہے: "تیری آواز مکے مدینے"۔ مکہ کی نسبت یقیناً اس کوشش کو ایک خاص اہمیت عطا کرتی ہے۔

لیکن امید کے ساتھ تاریخ کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔ ماضی کے کئی معاہدے بھی بڑے جوش، ولولے اور امیدوں کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ اسلامی تعاون تنظیم، آر سی ڈی اور خلیجی تعاون کونسل سب اپنے وقت میں ایک نئے دور کی نوید سمجھے گئے تھے، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ صرف جذبات اور اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ کامیابی کے لیے مسلسل اعتماد، عملی تعاون اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

مکہ ڈیفنس اکارڈ کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ کیا یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ رہتا ہے یا علم، تجارت، تحقیق، ترقی اور باہمی احترام کے ایک وسیع تر تعاون میں تبدیل ہوتا ہے۔

برطانوی مفکر جارج سینٹیانا کا مشہور قول ہے:

"جو لوگ ماضی کو یاد نہیں رکھتے، وہ اسے دہرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔"

ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک




ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک

دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو بظاہر چند کلومیٹر کی سمندری گزرگاہ ہوتے ہیں، مگر تاریخ انہیں غیر معمولی اہمیت عطا کر دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتی ہے، مگر اس کی اصل اہمیت اس کے پانیوں کی وسعت میں نہیں، اس جغرافیائی حیثیت میں ہے جس نے ہزاروں برس سے اسے تہذیبوں، سلطنتوں، تاجروں اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنا رکھا ہے۔

آج جب دنیا خلیج فارس کے تیل، ایران اور عالمی توانائی کی سیاست کی بات کرتی ہے تو آبنائے ہرمز کا نام فوراً سامنے آتا ہے۔ لیکن اس سمندری راستے کی کہانی جدید تیل کی سیاست سے بہت پرانی ہے۔ اس کی جڑیں اس دور تک جاتی ہیں جب نہ جدید ریاستیں تھیں، نہ بحری جہاز آج جیسے تھے اور نہ دنیا ایک عالمی منڈی میں تبدیل ہوئی تھی۔

قدیم ایران کی تہذیب جب خلیج فارس کے ساحلوں تک پہنچی تو یہ سمندر اس کے لیے محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں تھا بلکہ تجارت اور رابطے کا راستہ تھا۔ ہخامنشیوں کے زمانے میں ایران ایک عظیم سلطنت تھا جس کے جنوبی حصے خلیج فارس سے جڑے ہوئے تھے۔ ایران کی سرزمین سے نکلنے والی اشیا سمندری راستوں کے ذریعے عرب دنیا اور ہندوستان تک پہنچتی تھیں۔ اس زمانے میں آبنائے ہرمز کو آج جیسی عالمی تزویراتی اہمیت حاصل نہیں تھی، لیکن جغرافیہ اپنا کام کر رہا تھا؛ ایران اور بحرِ ہند کے درمیان سمندر ایک قدرتی پل بن رہا تھا۔

ساسانی دور میں خلیج فارس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایرانی سلطنت نے اپنے جنوبی سمندری راستوں کو تجارتی نظام کا حصہ بنایا اور ہندوستان، عربستان اور مشرقی افریقہ تک پہنچنے والے بحری رابطوں میں اپنا اثر قائم کیا۔ ایران کی طاقت صرف خشکی تک محدود نہیں رہی تھی؛ اس کی نظر سمندر کی طرف بھی تھی۔

پھر اسلام آیا، ساسانی سلطنت ختم ہوئی اور ایران ایک نئے مذہبی و سیاسی عہد میں داخل ہوگیا، لیکن خلیج فارس کی اہمیت برقرار رہی۔ بصرہ، سیراف اور دوسری بندرگاہیں بحرِ ہند کی وسیع تجارتی دنیا سے جڑ گئیں۔ ہندوستان سے مصالحے، کپڑے اور دوسری اشیا آتیں، مشرقی افریقہ سے سامان پہنچتا اور ایران کے راستے یہ تجارت وسیع اسلامی دنیا تک پھیلتی۔ اس دور میں سمندر مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے سے ملانے والا راستہ بن گیا۔

اسی تجارتی دنیا میں ہرمز ابھرا۔

قدیم ہرمز کی ریاست نے خلیج فارس اور بحرِ ہند کے درمیان تجارت پر اثر قائم کیا۔ ہرمز کے تاجروں کے رابطے ہندوستان، عربستان، ایران اور مشرقی افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ ہرمز صرف ایک جزیرہ نہیں تھا؛ وہ ایک ایسی تجارتی طاقت تھا جس کی اہمیت اس مقام سے پیدا ہوئی جہاں سمندری راستے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔

پھر سولہویں صدی آئی اور بحرِ ہند میں یورپی طاقتوں کا داخلہ ہوا۔ پرتگالیوں نے سمندری راستوں کو صرف تجارت کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں طاقت کے ذریعے اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ 1507ء میں افونسو ڈی البوکرک نے ہرمز پر قبضہ کیا اور 1515ء میں پرتگالیوں نے وہاں اپنا اقتدار مضبوط کرلیا۔ ہرمز میں قلعہ بنایا گیا اور ایک ایسا دور شروع ہوا جس میں پہلی مرتبہ ایک یورپی طاقت نے خلیج فارس کے اس اہم دروازے پر براہِ راست فوجی اثر قائم کرلیا۔

یہاں تاریخ ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ اس وقت ایران میں صفوی سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ شاہ عباس اول کے سامنے مغرب میں عثمانی طاقت کا مسئلہ تھا اور جنوب میں پرتگالیوں کی موجودگی ایک نیا چیلنج بن رہی تھی۔ صفوی ایران نے طاقت کے اس توازن کو سمجھا اور پرتگالیوں کو ہرمز سے نکالنے کے لیے انگریزوں کے ساتھ تعاون کیا۔ 1622ء میں صفوی فوج اور انگریزی بحری مدد نے پرتگالیوں کو ہرمز سے بے دخل کردیا۔

یہ واقعہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک دلچسپ سبق بھی ہے۔ جس یورپی طاقت سے ایران نے پرتگالیوں کو شکست دینے کے لیے تعاون کیا، وہی آگے چل کر خلیج فارس میں ایک نئی عالمی طاقت کے ظہور کی بنیاد بننے والی تھی۔ تاریخ میں مستقل دوست کم ہوتے ہیں، مستقل مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔

پرتگالیوں کے زوال کے بعد عمان کی بحری طاقت بھی خلیج فارس اور بحرِ ہند میں نمایاں ہوئی۔ مسقط ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا اور عمانی حکمرانوں نے پرتگالیوں کے خلاف طویل جدوجہد کی۔ یوں آبنائے ہرمز کے گرد ایرانی، عرب اور یورپی طاقتوں کی ایک مسلسل کشمکش جاری رہی۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ اس خطے میں داخل ہوا۔ اس کی اصل دلچسپی ہندوستان تھی۔ ہندوستان برطانوی سلطنت کا سب سے قیمتی حصہ تھا، اس لیے ہندوستان تک جانے والے سمندری راستوں کی حفاظت برطانیہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی۔ خلیج فارس اسی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن گئی۔ عمان، بحرین، کویت اور خلیج کے دوسرے حکمرانوں کے ساتھ برطانوی معاہدوں نے رفتہ رفتہ خطے میں برطانوی اثر بڑھا دیا۔

لیکن بیسویں صدی نے آبنائے ہرمز کو وہ اہمیت دی جس نے اسے عالمی سیاست کا مستقل کردار بنا دیا۔

تیل۔

جب خلیج فارس میں تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے اور صنعتی دنیا کی توانائی کی ضروریات بڑھیں تو آبنائے ہرمز محض تجارتی راستہ نہیں رہی۔ یہ عالمی معیشت کی شہ رگ بن گئی۔ خلیج فارس کے تیل کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچنے کے لیے یہ سمندری دروازہ انتہائی اہم ہوگیا۔

اسی لیے آج ایران کو سمجھنے کے لیے صرف تہران، اصفہان، شیراز اور مشہد کو دیکھنا کافی نہیں۔ ایران کے جنوب میں ایک اور ایران موجود ہے؛ وہ ایران جو سمندر کی طرف دیکھتا ہے، جو خلیج فارس کے ساحلوں سے بحرِ ہند تک پہنچتا ہے اور جس کے سامنے آبنائے ہرمز ایک ایسا دروازہ ہے جسے دنیا نظرانداز نہیں کر سکتی۔

ایرانی انقلاب کے بعد اس جغرافیائی حقیقت کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے شمالی کنارے اور اس کے قریب واقع اہم جزائر موجود ہیں۔ ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کے باعث عالمی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ کسی بڑے تنازع کی صورت میں آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے حساس مقام بن سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، دنیا کی نظریں واشنگٹن یا تہران سے پہلے کبھی کبھی ہرمز کے پانیوں پر جا ٹھہرتی ہیں۔ کیونکہ یہاں ہونے والا کوئی بھی بڑا واقعہ صرف ایران یا خلیج فارس کا مسئلہ نہیں رہتا؛ اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی پوری تاریخ کو دیکھا جائے تو ایک بات حیران کن طور پر واضح ہوتی ہے: طاقت ہمیشہ بدلتی رہی، مگر جغرافیہ نہیں بدلا۔ عیلامی اور قدیم ایرانی دنیا سے لے کر ہخامنشیوں، ساسانیوں، اسلامی تاجروں، ہرمز کے حکمرانوں، پرتگالیوں، صفویوں، عمانیوں، برطانویوں اور آج کی عالمی طاقتوں تک سب اس مختصر سمندری راستے کی اہمیت کو سمجھتے رہے۔

شاید یہی جغرافیہ کا سب سے بڑا سبق ہے۔

سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، بادشاہ بدل جاتے ہیں، مذہب اور سیاسی نظریات نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں، عالمی طاقتوں کے نام تبدیل ہوجاتے ہیں، مگر کچھ جغرافیائی مقامات تاریخ کے ہر دور میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔

آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی مقام ہے۔

یہ صرف ایران کا سمندری دروازہ نہیں؛ یہ ایران، عرب دنیا، بحرِ ہند اور عالمی معیشت کے درمیان وہ تاریخی پل ہے جس نے ہزاروں سال سے طاقت، تجارت اور تہذیب کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔