اتوار، 26 اپریل، 2026

غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ


 غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ

کہتے ہیں انسان کا غصہ زیادہ سے زیادہ تین منٹ کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یا تو وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، یا اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ غصے میں تھا بھی یا نہیں۔ مگر جدید دور نے اس سادہ اصول کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے—اب غصہ صرف دل میں نہیں رہتا، بلکہ سیدھا موبائل کی اسکرین پر آ جاتا ہے، اور پھر وہاں سے پوری دنیا کا چکر لگا آتا ہے۔
پہلے زمانے میں غصہ آیا تو آدمی دروازہ پٹخ دیتا تھا، یا زیادہ ہوا تو برتن۔ اب غصہ آئے تو لوگ “پوسٹ” کر دیتے ہیں۔ اور وہ پوسٹ ایسی ہوتی ہے کہ تین منٹ کا غصہ تیس سال کی شرمندگی میں بدل سکتا ہے۔
ایک دلچسپ بات ایک صحافی نے کہی کہ دنیا کی بڑی فوجی طاقت کے صدر کے ٹویٹ کی عمر اوسطاً 43 سیکنڈ ہوتی ہے۔ یعنی ایک طرف ایٹمی طاقت، عالمی معیشت، سفارتی تعلقات—اور دوسری طرف 43 سیکنڈ کا جذباتی اظہار۔ انسان کا تین منٹ کا غصہ تو پھر بھی نسبتاً پائیدار معلوم ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس جدید دور کے طاقتور ترین افراد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون نہ ہوں تو کیا ہو؟ ذرا تصور کریں کہ کسی دن اچانک ان سے اسمارٹ فون لے کر ایک پرانا سا نوکیا 3310 ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔
اب وہ غصے میں ہیں۔ ٹویٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر پہلے میسج لکھنے کے لیے “abc” کو “2” سے، “def” کو “3” سے تلاش کرنا پڑے گا۔ ایک لفظ لکھنے میں ہی آدھا غصہ ختم ہو جائے گا۔ جملہ مکمل ہونے تک تین منٹ گزر چکے ہوں گے—اور اصول کے مطابق غصہ بھی۔
یوں دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے، صرف اس وجہ سے کہ “Send” بٹن تک پہنچنے میں دیر ہو گئی۔
اصل مسئلہ شاید غصہ نہیں، رفتار ہے۔ پہلے غصہ آتا تھا، گزرتا تھا، اور ختم ہو جاتا تھا۔ اب غصہ آتا ہے، فوراً نشر ہو جاتا ہے، اور پھر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ تین منٹ کی عارضی کیفیت، ڈیجیٹل دنیا میں مستقل ریکارڈ بن جاتی ہے۔
ہم سب اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے “ٹرمپ” ہیں—ہمارے ہاتھ میں بھی موبائل ہے، ہمیں بھی غصہ آتا ہے، اور ہم بھی اکثر 43 سیکنڈ کے اندر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کیا کہنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری بات عالمی خبر نہیں بنتی، مگر ہمارے تعلقات ضرور متاثر ہو جاتے ہیں۔
شاید حل بہت مشکل نہیں۔ اگلی بار غصہ آئے تو موبائل کو ایک طرف رکھ دیں۔ تین منٹ انتظار کریں۔ اگر اس کے بعد بھی بات ضروری لگے، تو کہہ دیں۔ ورنہ سمجھ لیں کہ آپ نے دنیا کو ایک چھوٹے سے بحران سے بچا لیا ہے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو—تو کم از کم ایک نوکیا 3310 ہی خرید لیں۔ دنیا کا نہیں تو آپ کا اپنا سکون ضرور واپس آ جائے گا۔

بدھ، 22 اپریل، 2026

اسلام آباد مذاکرات





اسلام آباد مذاکرات

اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور جس انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، وہ محض ایک روایتی سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ ان مذاکرات میں بار بار آنے والے اتار چڑھاؤ کسی فطری سفارتی رفتار کے بجائے ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں وقت، رفتار اور بیانیہ سب کچھ مخصوص سیاسی اہداف کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ پورا منظرنامہ بعض اوقات غیر حقیقی اور حد سے زیادہ اسٹیجڈ سا محسوس ہوتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی خاصی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے کو شعوری طور پر اس حد تک کھینچ رہے ہیں کہ اسے ایک بڑے عالمی سیاسی ایونٹ کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے، خصوصاً صدر شی جن پنگ کے ساتھ متوقع سربراہی ملاقات کے تناظر میں۔ 14 اور 15 مئی کی اس ملاقات سے قبل اگر کوئی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اسے نہ صرف ایک معاہدہ بلکہ ایک بڑی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جو عالمی سطح پر ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کرے گی۔

بین الاقوامی سیاست میں اس نوعیت کی تاخیر اور وقت بندی اکثر محض اتفاق نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے تاثر سازی کی واضح حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی کوشش بظاہر یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کریں جو نہ صرف بحرانوں کو سنبھال سکتا ہے بلکہ جنگ اور امن جیسے بڑے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی دوران اس پورے عمل کے ضمنی پہلو بھی اہم ہیں۔ اس دوران ایران کے ممکنہ بحری محاصرے جیسے اقدامات کے ذریعے نہ صرف خطے میں دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ امریکہ کے اندر موجود جنگ کے حامی طبقے کو بھی کسی حد تک مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک ہی حکمت عملی بیک وقت داخلی سیاسی دباؤ، خارجی سفارتی اہداف اور علاقائی طاقت کے توازن کو مینیج کرنے کا ذریعہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ یہ مذاکرات بظاہر ایران کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں، لیکن ان کی اصل نوعیت کہیں زیادہ وسیع اور جیوپولیٹیکل ہے۔ یہ محض ایک دوطرفہ یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی اسٹریٹجک کھیل کا حصہ ہیں، جہاں ہر قدم کے اثرات متعدد سمتوں میں پھیلتے ہیں—چاہے وہ چین کے ساتھ طاقت کا توازن ہو، مشرق وسطیٰ کی صورتحال ہو یا امریکہ کی داخلی سیاست۔

اسلام آباد مذاکرات کو صرف ایک سفارتی عمل سمجھنا کافی نہیں۔ یہ ایک ایسے عالمی سیاسی منظرنامے کا حصہ ہیں جہاں حقیقت، حکمت عملی اور تاثر ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ انہیں الگ کر کے دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے



کیوبا کا میزائل کرائسس 1962 زیادہ پرانی بات نہیں ہے
 ، جب دو بڑی طاقتیں انا کی کشمکش میں دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے تک لے گئیں۔ اس بحران کا حل اس وقت ممکن ہوا جب پسِ پردہ لچک دکھائی گئی، خفیہ سمجھوتے ہوئے، اور بظاہر برتری کا تاثر بھی برقرار رکھا گیا۔ گویا مسئلہ حل بھی ہوا اور انا بھی 
مجروح نہ ہونے دی گئی—یہی سفارتکاری کی اصل مہارت تھی۔
مگر سفیر تو اس بار بھی ماہر ہیں تو رکاوٹ کیا ہے؟
امریکہ اور ایران دونوں کا بیانیہ سخت، لہجہ دوٹوک اور مؤقف بظاہر غیر لچکدار ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دونوں کشیدگی کے خاتمے اور کسی نہ کسی مفاہمت کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ نیت کا نہیں، اس کے اظہار کا ہے۔ "ہاں" موجود ہے، مگر اسے "نہ" کے پردے میں چھپایا جا رہا ہے—
Fyodor Dostoevsky(1821-1881)
 نے لکھا تھا کہ انسان بسا اوقات اپنی آزادی اور خودداری کے اظہار میں ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جو اس کے اپنے ہی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔ آج امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی تلاش اسی انا پرستی کی عملی تصویر ہے—جہاں حقیقی مفاد پس منظر میں چلا گیا ہے اور وقار کا تاثر پیش منظر سنبھال چکاہے۔
عالمی مباحث میں کہا گیا کہ ایران کا امریکہ جیسی طاقت کے سامنے ڈٹ جانا ہی ایک بڑی کامیابی ہے۔ دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنا اور خطے میں طاقت کے توازن کو چیلنج کرنا—تجزیہ کار "نفسیاتی فتح" قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے: جب ایک حد تک مقصد حاصل ہو چکا تو مزید کس جیت کی تلاش ہے؟
دوسری طرف امریکہ بھی کسی واضح پسپائی کے تاثر سے بچنا چاہتا ہے۔ بڑی طاقتیں صرف فیصلے نہیں کرتیں، وہ بیانیہ بھی تشکیل دیتی ہیں—اور اس بیانیے میں کمزوری کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اسی لیے جنگ بندی کی خواہش کے باوجود اسے کھل کر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ثالثی کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے، مگر عملی پیش رفت انا کی دیوار سے ٹکرا کر رک جاتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر 
Thomas Schelling(1921-2016)
 اس کیفیت کو  کے "چکن گیم" سے تعبیر کرتے ہیں۔ 
ہمارے وہ دوست جو مرغوں کی لڑائی کے شوقین ہیں،  بیان کرتے ہیں: "اصل مرغا وہی ہوتا ہے جو مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے۔" 

جمعہ، 17 اپریل، 2026

ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت



 ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت

معاشرہ صرف قوانین، اداروں اور عمارتوں کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ رویّوں، ترجیحات اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہی اقدار کسی قوم کے اصل چہرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مگر جب یہی اقدار دولت اور غربت کے ترازو میں تولی جانے لگیں تو انصاف، عزت اور انسانیت سب کچھ مشکوک ہو جاتا ہے۔

"مایا تیرے تین نام، پرسو، پرسا، پرس رام
اور غربت تیرے تین نام، لچا، لانڈا، بئی مان"

یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ یہی وہ سچ ہے جسے ہم ماننے سے کتراتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں دولت صرف سہولت نہیں، شناخت بن چکی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اس کے نام کے ساتھ احترام خود بخود جڑ جاتا ہے۔ وہی شخص اگر کل تک عام تھا تو آج "صاحب"، "جناب" اور "محترم" بن جاتا ہے۔ اس کی بات میں وزن آ جاتا ہے، اس کی خاموشی بھی معنی خیز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی غلطیاں بھی حکمت کے پردے میں چھپ جاتی ہیں۔

اس کے برعکس غربت صرف محرومی نہیں بلکہ ایک الزام بن جاتی ہے۔ غریب کا نام اس کی پہچان نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے طعنہ بن جاتا ہے۔ اس کی عزت اس کی جیب کے ساتھ سکڑ جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اس کی خودداری کو تکبر سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ تضاد صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ ہمارے رویّوں، فیصلوں اور ترجیحات میں بھی نمایاں ہے۔ ہم انصاف کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر انصاف دیتے وقت حیثیت کو دیکھتے ہیں۔ ہم مساوات کی بات تو کرتے ہیں مگر تعلقات بناتے وقت معیار بدل جاتے ہیں۔

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے کردار، علم یا اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے جوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے جہاں عزت خریدی جا سکتی ہے اور تذلیل مفت میں بانٹی جاتی ہے۔

یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب معاشرہ دولت کو معیارِ عزت بنا لیتا ہے تو پھر دیانت، محنت اور سچائی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ لوگ اصولوں کی بجائے مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور یہ سوال کریں کہ ہم لوگوں کو کس بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ کیا واقعی عزت کا تعلق دولت سے ہے؟ یا پھر ہم نے سہولت کے لیے ایک غلط معیار اختیار کر لیا ہے؟

ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جائے، نہ کہ اس کی جیب سے۔ جہاں عزت کمائی جائے، خریدی نہ جائے۔ اور جہاں غربت جرم نہ ہو بلکہ ایک حالت سمجھی جائے جس کا حل تلاش کرنا اجتماعی ذمہ داری ہو۔

جب تک ہم اپنے رویّوں میں یہ تبدیلی نہیں لاتے، تب تک یہ کہاوت صرف الفاظ نہیں رہے گی بلکہ ہمارے معاشرے کی زندہ حقیقت بنی رہے گی—ایک ایسی حقیقت جو ہمیں آئینہ دکھاتی رہے گی، چاہے ہم آنکھیں بند ہی کیوں نہ کر لیں۔

جمعرات، 16 اپریل، 2026

امن کی آشا



امن کی آشا

 آج کے نازک عالمی حالات میں اگر اسلام آباد میں ایران، امریکہ  کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نہ امریکہ جیتا ہے، نہ اسرائیل—اگر کوئی جیتا ہے تو وہ امن ہے، اور اگر کوئی کامیاب ہوئی ہے تو وہ انسانیت ہے۔ شکست اگر کسی کو ہوئی ہے تو وہ جنونیت، جنگی بخار اور تباہی کو ہوئی ہے۔

جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طویل جنگ اپنے پیچھے لاشیں، بربادی، معاشی زوال اور نفسیاتی صدمات چھوڑ جاتی ہے، اور آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر  (ویتنام جنگ) ایک طویل اور تباہ کن جنگ تھی، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، مگر بالآخر(پیرس امن معاہدہ) کے ذریعے ہی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اسی طرح  (سوویت-افغان جنگ) میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خونریزی کا خاتمہ بھی   (جنیوا معاہدہ برائے افغانستان) جیسے مذاکراتی عمل سے ہوا۔

یہی حقیقت  (شمالی آئرلینڈ کا تنازع) میں بھی نظر آتی ہے، جہاں دہائیوں کی بدامنی کے بعد  (جمعہ عظیم امن معاہدہ) نے امن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح  (کولمبیا کا مسلح تنازع) کا خاتمہ بھی بندوق سے نہیں بلکہ  (کولمبیا-فارق امن معاہدہ) کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ جنگ جتنی بھی طویل اور شدید کیوں نہ ہو، اس کا اختتام بالآخر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی بصیرت پر ہی ہوتا ہے۔

اس تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات ایک ایسے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں عقل، تدبر اور مکالمہ طاقت، غرور اور تصادم پر غالب آ سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام اپنے اختلافات کو بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔

امن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ معاشروں کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جنگ جہاں نفرت کو جنم دیتی ہے، وہیں امن برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہب کی جنگ نہیں ہوتی؛ دنیا کا ہر مذہب بنیادی طور پر انسان کے احترام، جان کے تحفظ اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔

ایران کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چاہے نظامِ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہوئی ہو یا نہیں، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سخت گیر طرزِ حکمرانی کی جگہ ایک نسبتاً سیاسی طور پر بالغ اور حقیقت پسندانہ رویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت، خصوصاً اخلاقی اور عسکری سطح پر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل امریکی مدد اور سہارے کے بغیر اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

جہاں تک جیت اور ہار کا تعلق ہے تو جنگوں میں اصل شکست عام انسان کی ہوتی ہے—وہی انسان جو اپنے گھر، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیت اگر کسی کی ہوتی ہے تو وہ وقتی طاقت، سفاکیت اور بربریت کی ہوتی ہے، جو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔