منگل، 29 ستمبر، 2026

خوف زدہ انسان خطرناک ہوتا ہے



خوف زدہ انسان خطر ناک ہوتا ہے
یہودی مذہبی متون میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ سفر میں تھے۔ عیسو چار سو آدمیوں کے ساتھ سامنے تھا۔ رفتار تیز کی جا سکتی تھی، مگر یعقوبؑ نے کہا: "بچے نازک ہیں۔" طاقتور قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا، لیکن بچوں کو ان کی رفتار سے چلایا گیا۔
یہ صرف ایک باپ کا فیصلہ نہیں، ایک مذہبی اخلاقیات کا آئینہ ہے: بچہ پہلے بچہ ہے، کسی قوم کا نمائندہ بعد میں۔

مگر خوف انسان کے ذہن کو بدل دیتا ہے۔ خوف صرف ہمیں خطرے سے نہیں ڈراتا، وہ ہمیں اپنی شناخت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ جب انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’وہ‘‘ ہمارے لیے خطرہ ہے تو آہستہ آہستہ ’’وہ‘‘ ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ ایک گروہ بن جاتا ہے۔ پھر گروہ ایک شناخت بن جاتا ہے، شناخت دشمنی کی علامت، اور دشمنی اخلاقی فاصلے میں بدل جاتی ہے۔
یہ خوف کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ انسان خطرے کو دیکھتے دیکھتے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ’’بچہ‘‘ صرف بچہ نہیں رہتا؛ ’’دشمن کا بچہ‘‘ بن جاتا ہے۔

عرب معاشروں میں مذہب زندگی سے الگ کوئی کتابی تصور نہیں۔ مختلف مذاہب کی روایتوں میں انصاف، رحم، کمزوروں کی حفاظت اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب کی اخلاقی تعلیم سیاسی شناخت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کی مذہبی روایت میں یتیم پر ظلم سے روکا گیا ہے۔ تورات میں بیوہ اور یتیم کو تکلیف نہ دینے کا حکم ہے اور ان کی فریاد کو خدا کی سماعت سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے میں اسماعیلؑ نام کا روتا ہوا بچہ خدا کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
یعنی مذہبی روایت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بچہ کس قوم کا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ بچہ ہے۔

یعقوبؑ کے ہاں بچے کی نزاکت، ابراہیمؑ کے گھرانے میں بچے کی فریاد اور موسیٰؑ کی شریعت میں یتیم کا حق—تینوں ایک ہی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کمزور کی انسانیت اس کی شناخت سے بڑی ہے۔

پھر خوف اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ وہ پہلے شناخت بناتا ہے، پھر شناخت کے گرد خطرے کی کہانی تعمیر کرتا ہے، پھر ہر فرد کو اس خطرے کا ممکنہ نمائندہ بنا دیتا ہے۔ اس مقام پر ایک عام آدمی بھی ’’قوم‘‘ بن جاتا ہے، ایک عورت ’’دشمن کی عورت‘‘، اور ایک بچہ ’’مستقبل کا دشمن‘‘۔

اسرائیلی اور فلسطینی خوف کی تاریخیں ایک جیسی نہیں، مگر دونوں حقیقی انسانی خوف ہیں۔ اسرائیلی اجتماعی حافظے میں یہودیوں کی مسلسل بے وطنی ہے۔ فلسطینی اجتماعی حافظے میں بے دخلی، قبضہ، جنگ، تباہی، نقل مکانی اور اپنے بچوں کی ہلاکتوں اور مستقبل کے بارے میں عدمِ تحفظ کے تجربات موجود ہیں۔ 2023 کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی نے عدم تحٖفظ کو مزید گہرا کیا ہے۔

خوف انسانی سطح پر مشترک ہو سکتا ہے، مگر طاقت، حالات اور نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ اسرائیلی شہریوں نے اپنے تاریخی عدم تحفظ کا خوف جھیلا، غزہ کے فلسطینی شہریوں نے بڑے پیمانے پر ہلاکت، نقل مکانی، تباہی ، نسل کشی اور بنیادی ضروریات کے بحران کا سامنا کیا۔

مگر خوف کی نفسیات دونوں طرف ایک ہی خطرناک کام کر سکتی ہے: وہ انسان کو اس کی شناخت کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ پھر اسرائیلی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، اسرائیل بن جاتا ہے۔ فلسطینی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، فلسطین کا بچہ بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو انسان اپنے گروہ کے بچے کے لیے جو اخلاقی معیار رکھتا ہے، دوسرے کے بچے پر وہی معیار لاگو نہیں کرتا۔
اپنا بچہ معصوم۔
دوسرے کا بچہ خطرہ۔
اپنی ماں کا آنسو انسانی المیہ۔
دوسرے کی ماں کا آنسو جنگ کی قیمت۔
یہ صرف تعصب نہیںبلکہ یہ خوف کی پیدا کردہ اخلاقی تقسیم ہے۔

مذہب اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یتیم کے حق میں انصاف کرو، کمزور پر رحم کرو، بچے کی نزاکت کو سمجھو۔ سیاسی خوف کہتا ہے: پہلے اس کی شناخت دیکھو، پھر طے کرو کہ اس کے ساتھ کتنی انسانیت برتنی ہے۔

یہیں مذہب کی اخلاقی تعلیم اور مذہب کی سیاسی تعبیر آمنے سامنے آتی ہیں۔
مذہب بچے میں انسان دیکھتا ہے۔
خوف بچے میں شناخت دیکھتا ہے۔
سیاست شناخت میں خطرہ دیکھتی ہے۔
اور جب شناخت انسان سے بڑی ہو جائے تو انسان کی جان بھی شناخت کے تابع ہو جاتی ہے۔

شاید آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیلی بچہ زیادہ معصوم ہے یا فلسطینی بچہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوف نے ہمیں اتنا بدل دیا ہے کہ ہم بچے کو دیکھنے سے پہلے اس کی شناخت دیکھتے ہیں؟
حضرت یعقوبؑ نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا: "بچے نازک ہیں۔"
یہ جملہ اسرائیلی بچے پر بھی اتنا ہی صادق ہے جتنا فلسطینی بچے پر۔
بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، یہودی ہو یا مسلمان، ہمارا ہو یا کسی ’’دوسرے‘‘ کا—وہ پہلے بچہ ہے۔

اور شاید مذہب کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ خوف کے باوجود ہم انسان کو اس کی شناخت سے پہلے انسان دیکھتے رہیں۔

پیر، 28 ستمبر، 2026

دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق







دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق

میری نوجوانی میں خلیج کے ایک شیخ کی زکوٰۃ ایک مصری ملازم مستحقین میں تقسیم کرتا تھا۔ ایک شخص نے رقم لینے کے بجائے شیخ سے ملنے کی خواہش کی۔ سامنے پہنچا تو بولا:
’’مجھے رقم نہیں، ایک دکان چاہیے۔‘‘
شیخ نے کہا، ’’زکوٰۃ کی رقم سے دکان کا کرایہ ادا کرو او دوکان لے لو، مسئلہ کیا ہے‘‘
وہ بولا:
’’مجھے صرف رقم نہیں، آپ کی سرپرستی چاہیے۔‘‘
وہ صرف رقم  نہیں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع مانگ رہا تھا۔

کچھ عرصے بعد ایک دوسرے تاجر کو دیکھا۔ اس کے پاس کاروبار، سرمایہ اور چلتا ہوا بازار تھا، مگر اس نے سرمایہ مکان اور گاڑی میں لگا دیا۔ کاروبار کمزور ہوا اور چند سال بعد وہ اسی بازار میں سیلز مین تھا۔
ایک شخص موقع مانگ رہا تھا، دوسرے کے پاس موقع تھا مگر اس نے اسے ضائع کردیا۔

پھر اسلام آباد میں ایک تاجر کا گودام جل گیا۔ برسوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی۔ مگر اس نے اپنی موٹر سائیکل بیچی، کچھ سامان خریدا اور ریڑھی لگا لی۔
میں نے پوچھا، ’’کبھی کاؤنٹر پر بیٹھتے تھے، آج ریڑھی پر شرمندگی نہیں ہوتی؟‘‘
اس نے کہا:
’’پہلا مال بھی اللہ کی دین تھا۔ مجھے یقین ہے کہ دوبارہ اسی بازار میں اس سے بہتر دکان بنا لوں گا۔ مجھے اپنے رب سے مانگنے کا طریقہ آتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’وہ طریقہ کیا ہے؟‘‘
وہ بولا:
’’جو میرے بس میں ہے، اسے کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور جو میرے بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے اصرار کے ساتھ مانگتے شرمندہ نہیں ہوتا۔‘‘

یہ تینوں واقعات دراصل ایک ہی کہانی کے تین مرحلے ہیں: پہلے نے موقع مانگا، دوسرے نے موقع گنوایا، تیسرے سے موقع چھین لیا گیا—مگر اس نے اپنی محنت اور دعا سے دوبارہ موقع پیدا کرلیا۔

یہیں سے دعا کا اصل مفہوم سامنے آتا ہے۔ دعا انسان کو اسباب سے بے نیاز نہیں کرتی؛ اسے اسباب اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔‘‘
(النجم: 39)
اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے:
’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔‘‘
(الزمر: 53)
یعنی امید کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ امید وہ طاقت ہے جو اسے شکست کے بعد دوبارہ کھڑا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے:
’’اونٹنی کا گوڈا باندھو اور اللہ پر بھروسا کرو۔‘‘
یہی توکل ہے: سبب اختیار کرو، کوشش کرو، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردو۔

ہماری مشکل اکثر یہ نہیں کہ اللہ نے راستہ بند کردیا ہے؛ ہم منزل چاہتے ہیں مگر راستے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ دکان چاہیے مگر ریڑھی سے آغاز شرمندگی لگتا ہے۔ کامیابی چاہیے مگر چھوٹی شروعات قبول نہیں۔
حالانکہ چھوٹا کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتا، بے عملی کرتی ہے۔
اس لیے جب زندگی کچھ چھین لے تو یہ نہ پوچھیں:
’’میرے ساتھ ہی کیوں؟‘‘
پوچھیں:
’’اب میرے بس میں کیا ہے؟‘‘
جو بس میں ہے، وہ کریں؛ جو بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے مانگتے رہیں۔
ہاتھ دعا کے لیے آسمان کی طرف اٹھے رہیں، مگر رزق کے لیے زمین پر کام کرتے رہیں۔
جس تاجر کا گودام جل گیا تھا، وہ ریڑھی پر صرف سامان نہیں بیچ رہا تھا؛
وہ اپنی تباہ شدہ زندگی کا پہلا پہیہ دوبارہ گھما رہا تھا۔
شاید دعا کرنے اور صرف دعا مانگنے میں یہی فرق ہے:
ایک دعا کے بعد انتظار کرتا ہے، دوسرا دعا کے بعد اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔




اتوار، 27 ستمبر، 2026

کافکا کا انصاف اور غزہ






کافکا کا انصاف اور غزہ

فرانز کافکا کی کہانی ’’قانون کے سامنے‘‘ میں ایک دیہاتی انصاف لینے قانون کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ دروازہ کھلا ہے، مگر سامنے دربان کھڑا ہے۔ دیہاتی اندر جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ جواب ملتا ہے: ’’ابھی نہیں۔‘‘ وہ انتظار کرتا رہتا ہے۔ دن گزرتے ہیں، سال گزرتے ہیں، زندگی گزر جاتی ہے، مگر قانون کا دروازہ اس کے لیے نہیں کھلتا۔

کافکا کی کہانی کا اصل المیہ یہ نہیں کہ قانون موجود نہیں۔ قانون موجود ہے، دروازہ بھی کھلا ہے؛ مسئلہ صرف یہ ہے کہ دروازے پر دربان کھڑا ہے۔

غزہ کو دیکھیے۔ کافکا کی یہ تمثیل اچانک ایک ادبی کہانی نہیں رہتی، ہماری موجودہ دنیا کی تصویر بن جاتی ہے۔ وہاں گھر ملبے میں بدلتے ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھر جاتے ہیں، خاندان بکھرتے ہیں اور انسان اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستے ہیں۔ دوسری طرف دنیا قانون، عدالت، قرارداد اور انسانی حقوق کی زبان بولتی ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اسرائیل کے بارے میں عبوری اقدامات جاری کیے اور بعد کے احکامات میں غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق بھی اقدامات کیے۔ مگر عالمی قانون کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے کوئی 'طاقت" نہیں۔ جون 2025 میں سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد کو 14 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، لیکن امریکی ویٹو کے باعث وہ منظور نہ ہوسکی۔

انصاف کے ترازو میں پوری دنیا کی آواز سے ایک "ویٹو" بھاری بن جاتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قانون نے آواز تو دی، مگر اس آواز کو فیصلہ بنانے والی طاقت "دربان" کے پاس رہی۔

یہی عالمی سیاست کا تلخ پہلو ہے۔ ریاستیں صرف قانون سے نہیں چلتیں؛ ان کے اپنے مفادات، اتحاد، دفاعی ترجیحات اور جغرافیائی حساب کتاب ہوتے ہیں۔ مگر طاقت صرف میزائل، ٹینک اور ویٹو نہیں۔ طاقت اپنی کہانی بھی لکھتی ہے۔

طاقتور اپنے عمل کو دفاع، سلامتی، بقا اور خطرے کی زبان میں بیان کرسکتا ہے۔ کمزور کے پاس عموماً اپنے زخم ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:
’’میرا گھر تباہ ہوگیا۔‘‘ طاقتور کہتا ہے:
’’مجھے اپنے دفاع کا حق ہے۔‘‘
کمزور اپنے مردے گنتا ہے؛ طاقتور اپنے خوف گنواتا ہے۔

اور جب دنیا کمزور کے زخموں سے زیادہ طاقتور کے خوف کو دیکھنے لگے تو سوال بھی بدل جاتا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا ہے:
’’اس انسان کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘
پھر پوچھا جاتا ہے:
’’اس طاقتور کو خطرہ کیوں محسوس ہوا؟‘‘
یہی بیانیے کی طاقت ہے۔

جس کے پاس فوج اور ہتھیار ہوں، اسے خطرہ محسوس ہوسکتا ہے؛ مگر جس کے پاس اپنے گھر اور جان کے تحفظ کی ضمانت بھی نہ ہو، اس کے زخم بھی حقیقی ہوتے ہیں۔

یہاں جنگل کی ایک پرانی سی کہانی یاد آتی ہے۔ شیر نے بکری کو پکڑ لیا۔ بکری چیخی تو جانور جمع ہوگئے۔ شیر نے کہا: ’’مجھے اس بکری سے خطرہ ہے، میں اپنے دفاع میں یہ سب کر رہا ہوں۔‘‘ بکری نے اپنے زخم دکھائے، اور کہا ’’مگر میرے پاس تو نہ پنجے ہیں، نہ دانت۔‘‘ شیر بولا: ’’خطرہ تمہاری طاقت سے نہیں، میرے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
ایک بوڑھا جانور آگے بڑھا۔ اس نے شیر کے پنجے دیکھے، بکری کے زخم دیکھے اور بولا:
’’خوف کی آواز ضرور سنو، مگر انصاف کرتے وقت یہ بھی دیکھو کہ پنجے کس کے پاس ہیں اور زخم کس کے جسم پر۔‘‘

کافکا کے دیہاتی کے سامنے ایک "دربان " تھا۔
آج دنیا کے سامنے دربانوں کا "ویٹو" نام کا ایک پورا نظام ہے۔

آج بھی قانون کا دروازہ کھلا ہے، دنیا بول رہی ہے، عدالتیں احکامات دے رہی ہیں، قراردادیں پیش ہورہی ہیں—مگر مظلوم پھر دروازے کے باہر کھڑا ہے۔ تو سوال یہ نہیں کہ قانون کہاں ہے؟ سوال یہ ہے:

قانون کے دروازے کی "ویٹؤ" نام کی چابی کس کے پاس ہے؟


ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

کائناتی کشمکش کا مسافر



کائناتی کشمکش کا مسافر
کائنات کے اس عظیم اور وسیع کارخانے میں انسان ہمیشہ سے اپنے وجود کی حقیقت کو تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف رہا ہے۔ بظاہر مٹی اور گوشت پوست کا نظر آنے والا یہ انسان صرف ایک مادی جسم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ نادیدہ قوتوں، کیفیات اور نوری و ناری مخلوقات کا ایک ایسا حیرت انگیز مجموعہ ہے جو اسے "اشرف المخلوقات" کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ اگر انسان خود سے یہ سوال کرے کہ "میں کون ہوں؟" تو اس کا جواب اسے اپنے اندر کے دو متضاد نظاموں اور اپنے باہر موجود نادیدہ نگرانوں کے مطالعے سے ملتا ہے۔ عرب دنیا کے عظیم مجدد اور مفکر امام غزالیؒ اپنی معرکہ آرا کتاب کیمیائے سعادت میں لکھتے ہیں: "اپنے آپ کو پہچاننے کی چابی اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے، اور جو اپنے نفس کو نہیں پہچانتا وہ کسی چیز کو نہیں پہچان سکتا۔"

انسان کا باطنی وجود دو متضاد عناصر کی آویزش (کشمکش) کا نام ہے، جنہیں ہم روح اور نفس کہتے ہیں۔ روح انسانی وجود کا وہ پاکیزہ اور نورانی حصہ ہے جو "عالمِ امر" (اللہ کے حکم) سے آیا ہے۔ یہ انسان کے اندر نیکی، سچائی اور محبت کی شمع روشن رکھتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي" (اور یہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے)۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ اپنے فتاویٰ اور رسائل میں لکھتے ہیں کہ روح جسم کے فنا ہونے سے فنا نہیں ہوتی۔ جسم تو محض ایک لباس یا سواری ہے، اصل انسان اور مخاطبِ الٰہی یہ روح ہی ہے جو اپنے اندر ادراک اور بقا کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عیسائی الہیات دان سینٹ آگسٹین لکھتے ہیں کہ روح ایک ایسا غیر مادی جوہر ہے جو جسم پر حکمرانی کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ خدا کی محبت کے بغیر کبھی سکون نہیں پا سکتی۔ اسی طرح نامور یہودی فلسفی مارٹن بوبر اپنی کتاب میں اور تو میں بیان کرتے ہیں کہ روح کی اصل حقیقت مادی اشیاء میں نہیں، بلکہ خدا اور انسان کے درمیان قائم ہونے والے ایک مخلصانہ، گہرے اور لافانی تعلق کا نام ہے۔ معاصر مفکر پروفیسر احمد رفیق اختر فرماتے ہیں کہ انسان دراصل ایک باطنی اور نورانی وجود ہے جو مادی دنیا کا تجربہ کرنے کے لیے جسم کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔
روح کے برعکس، نفس انسان کی مادی اور حیوانی خواہشات کا مرکز ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ" (بیشک نفس تو برائی پر بہت زیادہ اکسانے والا ہے)۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ نفسِ انسانی فطرتاً سرکش اور الٰہ بننے کا مدعی ہے۔ اس کا علاج صرف شریعت کی پابندی اور ذکرِ الٰہی سے ہی ممکن ہے۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ نفس کی مثال ایک بیمار اور ضدی بچے کی سی ہے۔ اسے مٹا دینا مقصد نہیں، بلکہ اس کی اصلاح اور تربیت مقصود ہے۔ مشہور یہودی ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی شخصیت کا جو تین گنا ڈھانچہ (لا شعور، انا، اور فوقانی انا) پیش کیا، وہ اسلامی تصوف کے نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ (ملامت کرنے والا ضمیر)۔ اور نفسِ مطمئنہ کے درجات سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

انسان صرف اپنے اندرونی خیالات ہی سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ارد گرد دو ایسی نادیدہ مخلوقات بھی مستقل موجود ہیں جو اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جنہیں شریعت میں "قرین" کہا گیا ہے۔ جنات میں سے ایک شیطان ہر انسان کے ساتھ مقرر کر دیا جاتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ جنات میں سے اس کا ایک ساتھی (قرین) اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر نہ کر دیا گیا ہو۔" (صحیح مسلم)۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ اپنی تفسیر تدبرِ قرآن میں لکھتے ہیں کہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار 'وسوسہ اندازی' ہے۔ وہ انسان کے دل میں برے خیالات کو اس طرح سجاتا ہے کہ انسان انہیں اپنی ہی سوچ سمجھنے لگتا ہے۔ عیسائی مفکر سی ایس لوئس نے اپنی مشہور کتاب اسکرو ٹیپ کے خطوط میں شیطانی چالوں کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نادیدہ شیطانی قوتیں انسان پر کبھی زبردستی گناہ مسلط نہیں کرتیں، بلکہ وہ انسان کے فہم اور عقل کو مفلوج کرتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔
دوسری طرف، شیطان کے شر کو بے اثر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ بھی مقرر فرمایا ہے جو دل میں اچھے خیالات (الہام) پیدا کرتا ہے۔ مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں کہ فرشتے کا الہام دراصل انسان کا وہ 'صحیح ضمیر' ہے جو اسے ہر غلط قدم پر ٹوکتا ہے۔ کائنات کا پورا نظام ایک مثبت رخ پر چل رہا ہے، اور فرشتہ انسان کو اسی مثبت سوچ سے جوڑتا ہے۔

ان چار چیزوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو انسان کی زندگی کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں اور اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انسان کے کندھوں پر موجود کراماً کاتبین اس کے ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ" (انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے)۔ دوسری طرف، معقبات (محافظ فرشتے) انسان کے آگے اور پیچھے پہرہ دیتے ہیں۔ عیسائی روایت میں بھی اسے "محافظ فرشتہ" کہا گیا ہے جو ہر انسان کی مادی اور باطنی خطرات سے نگہبانی کرتا ہے۔

میں مٹی کے جسم میں قید ایک پیاسی روح ہوں، جسے نفس کی مادی خواہشات کے سمندر کو پار کرنا ہے۔ میں کائنات کا وہ مرکزی نقطہ ہوں جس کے ایک طرف شیطان وسوسوں کا جال بچھائے کھڑا ہے اور دوسری طرف فرشتہ نیکی کا الہام کر رہا ہے۔ میرے اعمال کو کراماً کاتبین ریکارڈ کر رہے ہیں اور میری زندگی کی حفاظت معقبات کر رہے ہیں۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے انسان کی اسی خودی اور اس کے مقام کو پہچاننے کا درس دیتے ہوئے کیا خوب فرمایا تھا:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن!
انسانی وجود نیکی اور بدی کا ایک میدانِ جنگ ہے۔ اس کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ دنیا کے تمام عظیم دانشوروں اور مذہبی متون کے افکار کی روشنی میں عقل اور ارادے کی آزادی کا صحیح استعمال کرے، اپنے نفس اور شیطان کو مغلوب کرے، روح اور فرشتے کی آواز پر لبیک کہے اور اپنے خالق کے سامنے سرخرو ہو سکے۔

بدھ، 23 ستمبر، 2026

خرابی کہاں ہے؟



خرابی کہاں ہے؟

ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر انگلی کسی دوسرے کی طرف اٹھاتے ہیں۔ کبھی مسئلہ سیاست دانوں میں نظر آتا ہے، کبھی جرنیلوں میں، کبھی ججوں اور افسروں میں، کبھی مولویوں میں اور کبھی کسی اور طبقے میں۔ یوں ہم مسئلے کو اپنے سے باہر دھکیل کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، چند سخت جملے کہتے ہیں اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خرابی کہیں اور ہے، ہم میں نہیں۔

حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

جرنیل، سیاست دان، مولوی، جج، افسر، ڈاکٹر، وکیل اور استاد آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔ یہ سب اسی معاشرے کی گلیوں، محلوں، اسکولوں، مدرسوں اور گھروں سے اٹھ کر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت کسی خلا میں تشکیل نہیں پاتی۔ وہ وہی اقدار دیکھتے، سنتے اور سیکھتے ہیں جو ان کے اردگرد کا معاشرہ انہیں دیتا ہے۔ پھر جب انہیں اختیار، منصب اور موقع ملتا ہے تو ان کے اندر موجود رویے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

اس لیے اصل مسئلہ صرف افراد کا نہیں، رویوں کا ہے۔

اگر کسی معاشرے میں طاقت کو حق سمجھنے، قانون کو اپنی ضرورت کے مطابق موڑنے، سفارش کو قابلیت پر ترجیح دینے، جھوٹ کو مصلحت کا نام دینے اور ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر مقدم رکھنے کا چلن عام ہو جائے تو یہ رویے صرف عام آدمی تک محدود نہیں رہتے۔ یہی رویے اقتدار کے ایوانوں، عدالتوں، دفاتر، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچ جاتے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عام آدمی کے پاس اختیار کم ہوتا ہے اور صاحبِ منصب کے پاس زیادہ۔

جس شخص کو جتنا اختیار ملتا ہے، اس کے اندر موجود رویے کو اتنا ہی بڑا میدان مل جاتا ہے۔

ہم شکایت کرتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں، افسر کام نہیں کرتے، ڈاکٹر مریض کو لوٹتے ہیں، وکیل انصاف کو کاروبار بنا دیتے ہیں، جج فیصلوں میں تاخیر کرتے ہیں، استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور کھلاڑی سفارش کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مگر کبھی یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ یہ لوگ آئے کہاں سے ہیں؟

کیا یہ کسی دوسرے سیارے کے باشندے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے سے باہر کوئی ایسی فیکٹری ہے جہاں جرنیل، سیاست دان، افسر، ڈاکٹر، وکیل، جج اور استاد تیار کیے جاتے ہیں؟

نہیں۔

یہ ہم ہی ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو گھر میں اصولوں اور ایمانداری کی اہمیت سمجھاتے ہیں، لیکن اسی گھر میں کبھی یہ بھی سکھا دیتے ہیں کہ کام نکلوانے کے لیے تعلقات ضروری ہیں۔ ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہیں، مگر اپنے بیٹے، بھائی یا دوست کے لیے میرٹ سے استثنا چاہتے ہیں۔ ہم قانون کی بالادستی کے خواہش مند ہیں، مگر سڑک پر اپنی باری کا انتظار کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔ ہم رشوت کو برا کہتے ہیں، لیکن جب کوئی معمولی فائدہ ہمارے حصے میں آ جائے تو اسے ’’چائے پانی‘‘، ’’کام نکلوانا‘‘ یا ’’حق دلوانا‘‘ کہہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔

یہ معمولی سمجھوتے بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر یہی رویے رفتہ رفتہ اجتماعی کردار بناتے ہیں۔

پھر یہی بچے بڑے ہو کر افسر بنتے ہیں، ڈاکٹر بنتے ہیں، وکیل بنتے ہیں، استاد بنتے ہیں، سیاست میں آتے ہیں یا کسی ادارے میں اختیار حاصل کرتے ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ نظام ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ نظام کوئی الگ مخلوق نہیں۔ نظام انسان بناتے ہیں، ادارے انسان چلاتے ہیں اور اداروں کی ثقافت بھی انسانوں کے رویوں سے تشکیل پاتی ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں: ’’زمانہ ہی خراب ہے۔‘‘
’’ملک کے حالات ایسے ہیں۔‘‘
’’اوپر سے یہی ہو رہا ہے۔‘‘
’’سب ہی کرپٹ ہیں۔‘‘

ان جملوں میں شاید کچھ حقیقت ہو، مگر ان کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذمہ داری سے فرار کی سہولت دیتے ہیں۔

اگر ہر خرابی کی وجہ ہمیشہ کوئی دوسرا ہے تو پھر ہمیں اپنے اندر تبدیلی کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوگی؟

معاشرہ صرف پارلیمنٹ میں نہیں ہوتا۔ وہ عدالت میں بھی ہے، مگر گھر میں بھی ہے۔ وہ دفتر میں بھی ہے، مگر بازار میں بھی۔ وہ اسپتال میں بھی ہے، مگر سڑک پر بھی۔ وہ مدرسے اور اسکول میں بھی ہے، مگر اس چھوٹے سے فیصلے میں بھی ہے جو ہم اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں یقین ہو کہ ہمیں کوئی دیکھ نہیں رہا۔

اصل کردار شاید وہیں ظاہر ہوتا ہے۔

ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکمران کیسے ہیں؛ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم کیسے شہری ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ افسر رشوت کیوں لیتا ہے؛ یہ بھی کہ ہم اپنا کام جلدی کروانے کے لیے رشوت دینے پر کیوں آمادہ ہوتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ استاد پڑھاتا کیوں نہیں؛ یہ بھی کہ ہم تعلیم کو علم کے بجائے صرف نمبر اور سند کیوں سمجھتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ ڈاکٹر انسانیت کیوں بھول گیا؛ یہ بھی کہ ہم کامیابی کو دولت، عہدے اور ظاہری حیثیت کے ترازو میں کیوں تولتے ہیں۔

یہ سوال کسی ایک طبقے کو بری نہیں کرتا، بلکہ ہر طبقے کو اس کے حصے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکمران، ادارے یا بااختیار افراد اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جس کے پاس اختیار زیادہ ہے، اس کی جواب دہی بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن اجتماعی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشرہ اپنے اندر موجود ان رویوں کو بھی نہ دیکھے جو بعد میں طاقتور عہدوں پر پہنچ کر زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ہم اکثر تبدیلی اوپر سے چاہتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ حکمران بدل جائیں، افسر بدل جائیں، نظام بدل جائے، قانون بدل جائے، ادارے بدل جائیں۔

مگر شاید سوال یہ ہے کہ ہم خود کب بدلیں گے؟

قومیں صرف اچھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ اچھے شہری بھی اچھے ادارے پیدا کرتے ہیں، اور اچھے ادارے ایسے معاشرے سے جنم لیتے ہیں جہاں اصول صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی ہوں۔

اس لیے مسئلے کی نشاندہی ضروری ہے، مگر اس کے بعد آئینہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آسان ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان خود کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنے آپ سے سوال کرے:

جس معاشرے کی خرابیوں کا ہم روز ماتم کرتے ہیں، کیا ان خرابیوں کا کوئی چھوٹا سا حصہ ہمارے اپنے رویے میں بھی موجود ہے

شاید تبدیلی کا آغاز کسی حکمران، جرنیل، جج، افسر یا مولوی کو بدلنے سے پہلے اس ادراک سے ہوتا ہے۔

کہ

خرابی صرف وہاں نہیں ہے جہاں ہم انگلی اٹھا رہے ہیں؛ ممکن ہے خرابی میں تھوڑا سا حصہ ہم بھی ڈال رہے ہوں ۔

گندہ نالا چھوٹی چھوٹی گندی نالیوں کے ملنے سے ہی بنتا ہے ۔