امن کی آشا
آج کے نازک عالمی حالات میں اگر اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نہ امریکہ جیتا ہے، نہ اسرائیل—اگر کوئی جیتا ہے تو وہ امن ہے، اور اگر کوئی کامیاب ہوئی ہے تو وہ انسانیت ہے۔ شکست اگر کسی کو ہوئی ہے تو وہ جنونیت، جنگی بخار اور تباہی کو ہوئی ہے۔
جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طویل جنگ اپنے پیچھے لاشیں، بربادی، معاشی زوال اور نفسیاتی صدمات چھوڑ جاتی ہے، اور آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر (ویتنام جنگ) ایک طویل اور تباہ کن جنگ تھی، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، مگر بالآخر(پیرس امن معاہدہ) کے ذریعے ہی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اسی طرح (سوویت-افغان جنگ) میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خونریزی کا خاتمہ بھی (جنیوا معاہدہ برائے افغانستان) جیسے مذاکراتی عمل سے ہوا۔
یہی حقیقت (شمالی آئرلینڈ کا تنازع) میں بھی نظر آتی ہے، جہاں دہائیوں کی بدامنی کے بعد (جمعہ عظیم امن معاہدہ) نے امن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح (کولمبیا کا مسلح تنازع) کا خاتمہ بھی بندوق سے نہیں بلکہ (کولمبیا-فارق امن معاہدہ) کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ جنگ جتنی بھی طویل اور شدید کیوں نہ ہو، اس کا اختتام بالآخر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی بصیرت پر ہی ہوتا ہے۔
اس تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات ایک ایسے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں عقل، تدبر اور مکالمہ طاقت، غرور اور تصادم پر غالب آ سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام اپنے اختلافات کو بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔
امن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ معاشروں کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جنگ جہاں نفرت کو جنم دیتی ہے، وہیں امن برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہب کی جنگ نہیں ہوتی؛ دنیا کا ہر مذہب بنیادی طور پر انسان کے احترام، جان کے تحفظ اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔
ایران کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چاہے نظامِ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہوئی ہو یا نہیں، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سخت گیر طرزِ حکمرانی کی جگہ ایک نسبتاً سیاسی طور پر بالغ اور حقیقت پسندانہ رویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت، خصوصاً اخلاقی اور عسکری سطح پر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل امریکی مدد اور سہارے کے بغیر اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
جہاں تک جیت اور ہار کا تعلق ہے تو جنگوں میں اصل شکست عام انسان کی ہوتی ہے—وہی انسان جو اپنے گھر، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیت اگر کسی کی ہوتی ہے تو وہ وقتی طاقت، سفاکیت اور بربریت کی ہوتی ہے، جو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔



