ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026

ذمہ دار شہری


 

ذمہ دار شہری

ہماری اجتماعی زندگی میں  ایک عجیب تضاد ہے۔ ہم ہر محرومی کا الزام حکومت کو دیتے ہیں، ہر خرابی کا ذمہ دار حکمرانوں کو ٹھہراتے ہیں اور ہر مسئلے کے حل کی امید ریاست سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ سڑک پر گندگی ہو تو حکومت قصوروار، ٹریفک کا نظام خراب ہو تو حکومت ذمہ دار، بازار میں ملاوٹ ہو تو حکومت غافل، تجاوزات بڑھ جائیں تو انتظامیہ ناکام، اور قانون کی خلاف ورزی عام ہو جائے تو ہم حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال کیا ہے کہ جن خرابیوں کا شکوہ ہم حکومت سے کرتے ہیں، ان میں ہمارا اپنا حصہ کتنا ہے؟

حکومت سے سوال کرنا شہری کا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا احتساب کرنا بھی اسی شہری کی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے حقوق کے بارے میں تو پوری طرح بیدار ہوتے ہیں، مگر فرائض کی باری آئے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سڑکیں صاف ہوں، مگر کوڑا اپنے گھر سے باہر پھینکتے ہوئے نہیں سوچتے۔ ہم ٹریفک کا منظم نظام چاہتے ہیں، مگر سرخ بتی پر رکنے کے بجائے موقع ملتے ہی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر جب کوئی تجاوز ہمارے اپنے کاروبار یا مفاد میں ہو تو ہمیں اس میں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم رشوت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، لیکن اپنا کام جلد کرانے کے لیے ناجائز ادائیگی کو بعض اوقات مجبوری کا نام دے دیتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قومی مسائل محض حکومتی ناکامی نہیں رہتے بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم خود کچھ کرنے کے بجائے حکومت سے ہر چیز کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو مسائل حل کرنے والا ادارہ تو سمجھ لیا ہے، مگر خود کو اس ریاست کا فعال حصہ سمجھنے کی تربیت نہیں پائی۔ ہم حکومت کو ایک الگ مخلوق تصور کرتے ہیں، جیسے وہ ہم سے مختلف لوگوں پر مشتمل کوئی ادارہ ہو، جس کی کامیابی یا ناکامی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ حکومت، ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے سے الگ تھلگ وجود نہیں رکھتے۔ حکومت انتظامی اختیار استعمال کرتی ہے، قانون بناتی ہے، اداروں کے ذریعے اس کا نفاذ کرتی ہے اور شہریوں کے جان و مال، حقوق اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ لیکن قانون کی مؤثر عملداری کے لیے شہریوں کا تعاون، سماجی قبولیت اور انفرادی ذمہ داری بھی ناگزیر ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے۔ حکومت کو قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس، عدالتوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر انتظامی محکموں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ان اداروں کی کامیابی کا انحصار صرف ان کے اہل کاروں پر نہیں۔ اگر لاکھوں شہری روزانہ قانون توڑنے کو اپنا حق سمجھنے لگیں تو چند اہل کاروں کے لیے ہر خلاف ورزی روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قانون کی عملداری صرف ڈنڈے، جرمانے اور سزا سے قائم نہیں ہوتی؛ اس کے لیے شہریوں کے ضمیر، اجتماعی رویے اور قانون کے احترام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

اب ذرا اپنے آپ سے پوچھیں: کیا ہم واقعی قانون کی عملداری چاہتے ہیں، یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون دوسروں پر نافذ ہو اور ہمیں اپنی مرضی کے مطابق چلنے کی آزادی حاصل رہے؟

یہ سوال معمولی نہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دوسرا شخص قطار میں اپنی باری کا انتظار کرے، لیکن ہمیں جلدی ہو تو ہم قطار توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دکاندار ناپ تول میں کمی نہ کرے، مگر اپنے کاروبار میں معمولی بے ایمانی کو ہنر سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم سرکاری اہل کار سے دیانت داری کی توقع رکھتے ہیں، لیکن جب کوئی اہل کار اصول کے مطابق کام کرتے ہوئے ہماری ناجائز درخواست مسترد کر دے تو ہم اسے بدتمیز، نااہل یا رشوت نہ لینے کے باوجود کسی اور طرح سے قصوروار قرار دینے لگتے ہیں۔

یہ رویہ دراصل قانون کے احترام سے زیادہ اپنے مفاد کے احترام کی علامت ہے۔

قانون کی حقیقی پاسداری کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب قانون ہماری خواہش کے مطابق ہو، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی پابندی سے ہمیں ذاتی نقصان، تاخیر یا زحمت برداشت کرنا پڑے۔ جو شخص صرف سزا کے خوف سے قانون مانتا ہے، وہ موقع ملنے پر اس کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص قانون کو اجتماعی زندگی کے تحفظ اور دوسروں کے حقوق کی ضمانت سمجھتا ہے، وہ نگرانی نہ ہونے کے باوجود اس کی پابندی کرتا ہے۔

یہی فرق قانون کے خوف اور قانون کے احترام میں ہے۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم قانون توڑنے والوں کو دل اور ذہن سے برا سمجھتے ہیں؟ یہاں مراد کسی انسان سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ اس کے غلط عمل کو غلط تسلیم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اکثر خلاف ورزی کرنے والے کے عمل کو اس کے سماجی مرتبے، دولت، تعلقات یا اپنے ذاتی مفاد کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی قانون توڑے تو ہم اسے برا کہتے ہیں، لیکن یہی کام ہمارا دوست، رشتہ دار یا بااثر شخص کرے تو اس کے لیے جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی حالات کا عذر پیش کرتے ہیں، کبھی نظام کی خرابی کا حوالہ دیتے ہیں اور کبھی یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیتے ہیں کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔

لیکن اگر کوئی غلط کام عام ہو جائے تو کیا وہ درست بھی ہو جاتا ہے؟ اگر رشوت لینا، سفارش کرانا، ٹریفک قوانین توڑنا، سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال میں لانا یا دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنا معاشرے میں رواج پا جائے تو کیا ہم اسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟ کسی برائی کی کثرت اس کی اخلاقی حیثیت تبدیل نہیں کرتی۔ اگر ہم قانون شکنی کو دل سے غلط نہیں سمجھتے تو محض سخت قوانین بنا دینے سے معاشرے میں پائیدار تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔

قانون کے احترام کا ایک اور عملی پہلو یہ ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں اور سرکاری اہل کاروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شہری قطار توڑنے سے انکار کرے، ٹریفک قوانین کی پابندی کرے یا ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کرے تو کیا ہم اس کے رویے کو سراہتے ہیں یا اسے سادہ لوح اور بے وقوف سمجھتے ہیں؟ اگر کوئی سرکاری اہل کار دباؤ، سفارش یا ناجائز مطالبے کے باوجود قانون کے مطابق کام کرے تو کیا ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے کام میں رکاوٹ سمجھ کر اس کے خلاف شکایتیں کرنے لگتے ہیں؟

جس معاشرے میں قانون ماننے والا شخص نقصان اٹھائے اور قانون توڑنے والا اپنے تعلقات یا اثر و رسوخ کے باعث فائدہ حاصل کرے، وہاں قانون کا احترام کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس لیے شہریوں کی ذمہ داری صرف اپنی ذات تک قانون کی پابندی محدود رکھنا نہیں، بلکہ قانون کے مطابق کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصول پسند شہری اور دیانت دار سرکاری اہل کار معاشرے کے مخالف نہیں، بلکہ اس کے بہتر مستقبل کے معاون ہیں۔

تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر سرکاری اہل کار کا دفاع کیا جائے یا ہر حکومتی اقدام کو درست مان لیا جائے۔ اگر کوئی اہل کار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، قانون کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کرے یا امتیازی سلوک روا رکھے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی شہری ذمہ داری ہے۔ قانون کی عملداری کا مطلب اندھی اطاعت نہیں، بلکہ قانون کے مطابق اختیار کا استعمال، شفاف احتساب اور سب کے لیے یکساں انصاف ہے۔ شہریوں کو حکومتی اداروں سے سوال کرنے، شکایت درج کرانے اور قانونی طریقے سے اصلاح کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اب آخری سوال کی طرف آئیے: کیا ہم قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟

ضروری نہیں کہ ہر شہری کسی خلاف ورزی کرنے والے سے براہ راست الجھے یا خود قانون نافذ کرنے والا بن جائے۔ بعض حالات میں ایسا کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم اپنی استطاعت اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم خود قانون کی پابندی کریں، بچوں کو قانون اور شہری ذمہ داری کی تربیت دیں، خلاف ورزی کو معمول سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، متعلقہ ادارے کو مناسب طریقے سے اطلاع دیں، ثبوت موجود ہوں تو قانونی شکایت درج کرائیں، رشوت اور سفارش کے ذریعے ناجائز کام کرانے سے انکار کریں اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے شہری تنظیموں، مقامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے تعاون کریں۔

ہم سڑک پر کوڑا پھینکنے سے خود اجتناب کر سکتے ہیں۔ غلط پارکنگ کے بجائے مناسب جگہ تلاش کر سکتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کر سکتے ہیں۔ کسی غیر قانونی کام کے لیے اپنی سفارش استعمال کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اپنے کاروبار میں ناپ تول، قیمتوں اور صارفین کے حقوق کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ سرکاری املاک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے کے بجائے قومی امانت تصور کر سکتے ہیں۔ یہ چھوٹے اقدامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی زندگی میں بڑے نتائج کی بنیاد بنتے ہیں۔

حکومت کا فرض ہے کہ قانون منصفانہ بنائے، اسے بلاامتیاز نافذ کرے، اداروں کو مؤثر بنائے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو شہریوں کو اس سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ لیکن حکومت کی ناکامی کسی شہری کے لیے قانون توڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ اسی طرح شہریوں کی بے احتیاطی یا قانون شکنی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتی۔ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کی عملداری صرف جرائم کی روک تھام کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے جس میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ ملے، محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے، کاروبار کرنے والے کو منصفانہ مواقع میسر آئیں اور عام شہری کو اپنے جان و مال کے تحفظ کا یقین ہو۔ ایسا معاشرہ صرف حکومتی احکامات سے نہیں بنتا؛ اسے شہریوں کے کردار، اداروں کی دیانت داری اور قانون کے یکساں نفاذ سے تشکیل دینا پڑتا ہے۔

قومیں صرف اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ ان کے قوانین کتنے اچھے ہیں، بلکہ اس بات سے بھی کہ ان کے شہری ان قوانین کو کس حد تک اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں اور ان کے ادارے ان پر کس قدر منصفانہ انداز میں عمل کرتے ہیں۔

لہٰذا اگلی بار جب ہم کسی قومی مسئلے پر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرائیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے بھی سوال کریں: کیا میں اس مسئلے کو پیدا کرنے والے رویے کا حصہ تو نہیں؟ کیا میں اپنے مفاد کے لیے قانون سے انحراف تو نہیں کرتا؟ کیا میں قانون کی پابندی کرنے والے کا ساتھ دیتا ہوں؟ اور کیا میں اپنی استطاعت کے مطابق خلاف ورزی روکنے کے لیے کچھ کرتا ہوں؟

حکومت سے جواب طلب کرنا ہمارا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا جواب دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ تبدیلی کا آغاز حکومت سے مطالبے کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے، مگر اسے اپنے عمل تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ جب شہری قانون کو صرف دوسروں پر نافذ ہونے والی پابندی نہیں بلکہ اپنی اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری سمجھنے لگیں گے، تبھی قانون کی عملداری محض ایک نعرے سے نکل کر قومی زندگی کی حقیقت بن سکے گی۔


سوچ کا بیج

سوچ کا بیج



”ہر برائی کا آغاز ہاتھوں سے نہیں، سوچ سے ہوتا ہے۔“ یہ ایک آفاقی اور نفسیاتی سچائی ہے ۔ انسان اچانک مجرم یا ظالم نہیں بن جاتا۔ برائی کا سفر ہمیشہ انسان کے ذہن کے کسی تاریک گوشے سے شروع ہوتا ہے۔ کسی کا حق چھیننے سے پہلے ذہن میں 'ذاتی فائدے' کا بیج انگڑائی لیتا ہے، کسی کے خلاف تشدد سے پہلے 'نفرت کا تصور' جنم لیتا ہے اور کسی کو نیچا دکھانے سے پہلے 'انتقام کی ہوس' پروان چڑھتی ہے۔ مادی عمل تو محض اس زہریلے بیج کا پھل ہے جسے انسان ایک مدت تک اپنے ذہن میں پالتا رہا ہو۔
جدید نفسیات اور نیوروسائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جب انسان اپنے ذاتی مفاد، تعصب یا ہوس کو اخلاقی اصولوں پر مقدم رکھتا ہے، تو دماغ کا جذباتی حصہ عقل پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنے غلط رویوں کو بھی درست ثابت کرنے کے لیے خود ساختہ جواز تراشنے لگتا ہے۔
انگریز مفکر جیمز ایلن نے اپنی کتاب "As a Man Thinketh" میں انسانی ذہن کو ایک باغ سے تشبیہ دی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر آپ ایک باغ میں جان بوجھ کر اچھے پھولوں کے بیج نہیں بوئیں گے، تو وہاں خود رو زہریلی جڑی بوٹیاں خود بخود اگ آئیں گی۔
محسنِ انسانیت رسول اللہ ﷺ نے اسی باطنی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”آگاہ ہو جاؤ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے؛ سنو، وہ دل (اور اس کی نیت) ہے“
سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی سوچ کو کنٹرول کر سکتا ہے؟ سائنسی جواب یہ ہے کہ ذہن میں پہلا منفی خیال آنا شاید آپ کے
بس میں نہ ہو، لیکن اس خیال کو شعوری انتخاب اور عمل میں بدلنے سے روکنا مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہے۔
منفی خیالات کو قابو میں رکھنے کا
سب سے کارگر، سستا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ نسخے کا نام ہے" شکر گذاری"
شکر گزاری کوئی معمولی اخلاقی لفظ نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغ کی وائرنگ کو بدل دینے والا ایک الٰہی جادو ہے۔ جب انسان اپنی زندگی میں موجود نعمتوں، رشتوں اور موقعوں پر دل سے شکر گزار ہوتا ہے، تو دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونین جیسے کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے جو حسد، لالچ اور ناامیدی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ نفسیات کا اصول ہے کہ انسانی دماغ ایک ہی وقت میں شکر گزاری اور حسد دونوں محسوس نہیں کر سکتا۔ جو دل شکر سے بھرا ہو، وہاں کسی کے خلاف برائی کا بیج جگہ پا ہی نہیں سکتا۔
تمام ابراہیمی مذاہب اور مفکرین نے شکر گزاری کو سوچ کنٹرول کرنے کا محور بتایا ہے۔ یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون نے لکھا تھا کہ "انسان کی زیادہ تر برائیاں مادی چیزوں کے حصول کی اس تڑپ کا نتیجہ ہیں جن کی اسے ضرورت ہی نہیں ہوتی"—شکر گزاری اسی اندھی تڑپ کا علاج ہے۔ مسیحی مفکر سینٹ آگسٹین کے مطابق "جب انسان خالق کی نعمتوں کو چھوڑ کر مادی اشیاء پر قبضہ جمانے کی ہوس کرتا ہے تو برائی جنم لیتی ہے"۔ جبکہ قرآنِ کریم نے اس کا آفاقی حل پیش کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا:
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا"
یہ 'زیادہ دینا' صرف مال و دولت کا نہیں، بلکہ مثبت سوچ، ذہنی سکون اور اخلاقی بلندی کا بھی ہے۔ صوفی دانشور واصف علی واصفؒ نے اسی نقطے کو یوں سمجھایا کہ جب انسان 'مزید' کی ہوس کے بجائے موجود پر شاکر ہو جاتا ہے، تو برائی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے۔
معاشرے کی تعمیرِ نو کا آغاز فرد کے ذہن سے ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک پرامن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے کامیابی کا معیار بدلنا ہوگا۔ جہاں رشوت کو چالاکی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کو مہارت سمجھا جائے، وہاں زوال مقدر بن جاتا ہے۔ برائی کا بیج سوچ میں ضرور پنپتا ہے، لیکن اسے اکھاڑ پھینکنا انسان کا اپنا انتخاب ہے۔
شکووں، محرومیوں اور محرومیوں کا تزکرہ زندگی کے راستے میں کانٹے بکھیرتے ہیں، جبکہ شکر گزاری سے ذہن کی زمیں پر سکون کے پھول کھلتے ہیں۔

جمعہ، 16 اکتوبر، 2026

بوٹ سے ری بوٹ تک



 پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بعض سیاست دان عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض طاقت کے مراکز کے قریب ہونے کو اپنی سیاسی قوت سمجھتے ہیں۔ پہلے طبقے کو ووٹ، جلسوں اور عوامی حمایت سے اپنی حیثیت منوانا پڑتی ہے، جبکہ دوسرے طبقے کی سیاست کا نمایاں حوالہ ان کے روابط، دعوے اور مقتدر حلقوں تک رسائی ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کردار بدلتے رہتے ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ پاکستان میں اصل سیاسی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں یا اقتدار کے پسِ پردہ موجود قوتیں؟

پیر پگاڑا مرحوم مردان علی شاہ، شیخ رشید احمد اور فیصل ووڈا تین مختلف مزاجوں کے سیاست دان ہیں، لیکن ان کے سیاسی تذکروں میں طاقت کے مراکز سے قربت کا حوالہ نمایاں رہا ہے۔ پیر پگاڑا کی سیاست کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ ان کی شخصیت، خاندانی روایت اور سیاسی روابط ایک مخصوص تاریخی ماحول میں پروان چڑھے۔ شیخ رشید نے بھی ایک زمانے میں فوجی قیادت سے قربت کے حوالے سے اپنی سیاسی شناخت بنائی، تاہم جب انہوں نے خود کو فوج کا نمائندہ قرار دینے کا دعویٰ کیا تو ان کے بقول فوجی ہیڈکوارٹر کے دروازے ان پر بند ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے قریب ہونے کا تاثر اور طاقت کی حقیقی نمائندگی دو الگ باتیں ہیں۔

فیصل ووڈا صاحب کا معاملہ بھی اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ اٹھا کر لانے کے واقعے نے انہیں خاصی شہرت دی۔ اب ان کی پریس کانفرنس میں نظام کو ”ری بوٹ“ کرنے کی بات سامنے آئی تو سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ بوٹ سے شہرت حاصل کرنے والے سیاست دان کا ری بوٹ کی اصطلاح استعمال کرنا اپنی جگہ دلچسپ ہے، لیکن اصل سوال الفاظ کے انتخاب کا نہیں، اس سیاسی طرزِ عمل کا ہے جس میں بعض شخصیات اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے خود کو طاقت کے مراکز سے قریب دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

فیصل ووڈا صاحب کی حالیہ گفتگو کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ جب ملک میں پارلیمان، حکومت، صدرِ مملکت اور متعلقہ ریاستی ادارے موجود ہیں تو نظام کی تبدیلی یا کسی غیر معمولی انتظامی اقدام کے بارے میں سیاسی اعلان کرنے کی ضرورت اور اختیار کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ اگر کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا معاملہ ہو تو اس کے لیے آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ پارلیمان، وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت کے اپنے اپنے آئینی کردار ہیں۔ متعلقہ فیصلے انہی اداروں کے مقررہ دائرۂ اختیار میں ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی غیر سرکاری سیاسی اعلان سے ان کی جگہ لی جا سکتی ہے۔

ریاستی نظام کسی ٹی وی پروگرام، پریس کانفرنس یا کسی ایک شخصیت کے بیان سے نہیں چلتا۔ اس کے لیے آئین، قانون اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے پاس کوئی مستند اطلاع ہے تو اسے مناسب فورم پر پیش کرنا چاہیے، اور اگر وہ کسی ممکنہ تبدیلی کا محض تاثر دے رہا ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس کی بات کی بنیاد کیا ہے۔ سیاست میں مبہم اشارے بعض اوقات شہ سرخیاں تو بن جاتے ہیں، لیکن ان سے عوام کے ذہنوں میں غیر ضروری قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس طرزِ سیاست کے مقابلے میں عوامی مقبولیت کی ایک دوسری روایت بھی موجود ہے۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان مختلف ادوار اور مختلف سیاسی نظریات کے نمائندے ہیں، مگر ان سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر براہِ راست عوامی حمایت کو اپنی سیاست کا اہم ستون بنایا۔ ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان کے نام عوامی جلسوں، انتخابی معرکوں، سیاسی تحریکوں اور اجتماعی یادداشت کا حصہ بنے۔

عوامی مقبولیت بھی کسی رہنما کو ہر غلطی سے مبرا نہیں کرتی، جس طرح مقتدر حلقوں سے قربت کسی سیاست دان کی ہر بات کو غلط ثابت نہیں کرتی۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کون آئینی حدود کا احترام کرتا ہے، کون عوام کے مسائل حل کرتا ہے، کون اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور کون سیاست کو محض ذاتی تشہیر کا ذریعہ بناتا ہے۔

آج عمران خان اور شہباز شریف دو مختلف سیاسی راستوں کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے بیانیے اور عوامی حمایت کے ذریعے روایتی سیاسی بندوبست کو چیلنج کیا، لیکن ان کی سیاست کے ساتھ تنازعات، قانونی مقدمات اور سزاؤں کا باب بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مقدمات اور سزاؤں کے بارے میں سیاسی و قانونی اختلافات اپنی جگہ، تاہم کسی بھی رہنما کی تاریخ مرتب کرتے وقت اس کی مقبولیت کے ساتھ اس کے فیصلوں اور ان کے نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو گا۔

دوسری طرف شہباز شریف کی شناخت انتظامی سرگرمی، منصوبوں کی رفتار اور عملی حکمتِ عملی سے وابستہ رہی ہے۔ ان کے حامی ان کی انتظامی صلاحیت کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے طرزِ حکمرانی اور سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے تعریف کسی رہنما کے لیے سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن ملکی سیاست میں اس کی اصل قدر کا تعین عوامی فلاح، معاشی بہتری، حکمرانی کے معیار اور اداروں کی مضبوطی سے ہونا چاہیے۔

ان دونوں رہنماؤں کے بارے میں تاریخ کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ یہ فیصلہ محض نعروں، جلسوں، پریس کانفرنسوں یا بیرونی شخصیات کی تحسین سے نہیں ہو گا۔ وقت کے ساتھ یہ دیکھا جائے گا کہ کس نے ملک کو کیا دیا، کس نے اداروں کو کتنا مضبوط کیا اور کس کی سیاست نے عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کی۔

فیصل ووڈا صاحب کے لیے بھی اس بحث میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ سیاست میں کسی طاقتور شخصیت کے قریب ہونے کا تاثر وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتا ہے، مگر مستقل سیاسی شناخت کے لیے اپنا موقف، عوامی اعتماد اور عملی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ شیخ رشید کے سیاسی تجربے سے سبق لینے کا مشورہ دینے والے ان کے دشمن نہیں، بلکہ ممکن ہے وہ انہیں اس راستے کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہتے ہوں جس میں سیاسی حیثیت اپنے دعووں کے بجائے دوسروں کی طاقت سے اخذ کی جاتی ہے۔

نظام کو ری بوٹ کرنے کی بات کرنا آسان ہے، لیکن کسی نظام کو بہتر بنانا محض ایک اصطلاح دہرانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے آئینی بالادستی، شفاف طرزِ حکمرانی، جواب دہی اور عوامی اعتماد ضروری ہیں۔ کمپیوٹر کا نظام خراب ہو تو بٹن دبا کر دوبارہ چلایا جا سکتا ہے، مگر ریاست کا نظام محض ری بوٹ سے درست نہیں ہوتا؛ اس کی خرابیوں کی تشخیص، ذمہ داروں کا تعین اور اصلاح کی سنجیدہ کوشش درکار ہوتی ہے۔

آخر میں سوال وہی ہے : سیاست میں کامیابی طاقت کے قریب ہونے میں ہے یا عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں؟ شاید وقتی اقتدار کے لیے پہلی راہ زیادہ آسان دکھائی دے، لیکن دیرپا سیاسی شناخت کے لیے دوسری راہ زیادہ پائیدار ہے۔ بوٹ سے شہرت حاصل کی جا سکتی ہے، ری بوٹ کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے، مگر تاریخ میں وہی سیاست دان زندہ رہتے ہیں جن کی پہچان کسی طاقتور دروازے تک رسائی نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد اور اپنے عمل سے قائم ہوتی ہے۔


منگل، 13 اکتوبر، 2026

سیاسی یتیم کی کہانی




سیاسی یتیم کی کہانی


سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست نہیں ہوتا؛ مستقل صرف مفادات ہوتے ہیں۔ طاقتور کو جب تک آپ کی ضرورت رہتی ہے، آپ اس کے معتمد، اتحادی اور اقتدار کے شریک دکھائی دیتے ہیں، لیکن جس دن آپ کی افادیت ختم ہو جائے، برسوں کی وفاداری بھی بے معنی ہو سکتی ہے۔ سرپرست اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتا ہے، اقتدار کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور کل تک طاقت کے ایوانوں تک رسائی رکھنے والا آج اپنی آواز سنانے کے لیے بھی محتاج ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک اتحادی سیاسی یتیم بن جاتا ہے۔

تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو طاقتور بنانے کے لیے اپنی قوت، دولت اور اثرورسوخ صرف کر دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طاقت کو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پروان چڑھا رہے ہیں، کل وہی طاقت انہیں غیرضروری سمجھ سکتی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے بنگال کا جگت سیٹھ خاندان اسی تلخ حقیقت کی ایک قابلِ غور مثال ہے۔

اس زمانے میں جگت سیٹھ خاندان برصغیر کے امیر ترین اور بااثر تجارتی و سرمایہ دار خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ خاندان کے نمایاں سربراہ فتح چند کو مغل بادشاہ محمد شاہ نے 1720ء کی دہائی میں ’’جگت سیٹھ‘‘ کا خطاب دیا۔  اس خطاب نے  خاندان کے لیے دولت، مالی وسائل اور حکمرانوں تک رسائی کے دروازے کھول دیے ۔ بظاہر اس کی حیثیت اتنی مضبوط تھی کہ کوئی سیاسی تبدیلی اس کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔

لیکن تاریخ میں دولت اور اثرورسوخ ہمیشہ تحفظ کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں طاقت کس کے ہاتھ میں جا رہی ہے۔

1757

ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کے خلاف سازش میں جگت سیٹھ خاندان کے مفادات ایسٹ انڈیا کمپنی سے جا ملے۔ خاندان نے انگریزوں کی مالی معاونت کی اور نواب کی حکومت کی تبدیلی میں کردار ادا کیا۔

یہیں سے اس کہانی کا بنیادی سبق سامنے آتا ہے: جس طاقت کو آپ اپنے مخالف کو ہٹانے کے لیے مضبوط کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ کامیابی کے بعد آپ کے مفادات کا بھی خیال رکھے۔ آپ کسی کو اقتدار تک پہنچانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد اقتدار کی سمت کا تعین آپ کے ہاتھ میں رہے، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔

جگت سیٹھ خاندان کی بعد کی تاریخ اس خطرے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ 1763ء میں خاندان کے اہم افراد مہتاب چند اور سوروپ چند قتل کر دیے گئے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات، اقتدار کی کشمکش اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے غلبے نے خاندان کی سابقہ حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ جو خاندان کبھی حکمرانوں کو مالی سہارا دینے اور سیاسی معاملات پر اثرانداز ہونے کی قوت رکھتا تھا، وہ نئے اقتدار کے نظام میں اپنی پرانی اہمیت برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کی داستان ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدار کی تبدیلی میں دوسروں کے لیے راستہ کھولنے والے بھی ہمیشہ اپنے لیے محفوظ راستہ نہیں بنا پاتے۔

یہ واقعہ صرف ایک امیر خاندان کے عروج و زوال کی کہانی نہیں؛ یہ اس سیاسی ذہنیت کا نوحہ بھی ہے جو اپنی قوت پیدا کرنے کے بجائے کسی طاقتور کی سرپرستی کو کامیابی کی ضمانت سمجھ بیٹھتی ہے۔

آج بھی سیاست میں ایسے خاندان، گروہ اور جماعتیں دکھائی دیتی ہیں جو اپنی تنظیم، نظریے، عوامی حمایت اور آزادانہ فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے کے بجائے کسی طاقتور سرپرست کے سہارے اپنی حیثیت قائم کرتی ہیں۔ جب تک ان کی ضرورت باقی رہتی ہے، انہیں اہمیت دی جاتی ہے؛ ان کے لیے راستے کھلے رہتے ہیں اور ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ لیکن جب سرپرست کے مقاصد بدل جائیں، ترجیحات تبدیل ہو جائیں یا کوئی نیا اتحادی زیادہ کارآمد دکھائی دینے لگے تو پرانے ساتھی کی حیثیت بھی بدل سکتی ہے۔

اس وقت سب سے تلخ انکشاف یہ ہوتا ہے کہ جسے وہ اقتدار میں شراکت سمجھ رہا تھا، ممکن ہے وہ محض ایک عارضی ضرورت ہو۔ جس تعلق کو وہ وفاداری کا رشتہ خیال کرتا تھا، طاقتور فریق اسے مفادات کا معاہدہ سمجھتا ہو۔ دونوں کے درمیان یہی فرق اکثر عروج اور زوال کے فاصلے کو طے کرتا ہے۔

اگرایسا فریق خاندان کی بجائے سیاسی جماعت ہو تو

ایسی جماعت کے لیے اصل امتحان اقتدار سے محرومی نہیں، بلکہ سرپرستی کے بغیر اپنی بقا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنے کارکنوں کو متحد رکھ سکتی ہے؟ کیا وہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف اعتماد کے ساتھ پیش کر سکتی ہے؟ کیا وہ آزادانہ سیاسی فیصلے کرنے اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہو تو بحران کسی ایک سیاسی عہدے یا حکومتی منصب کے خاتمے تک محدود نہیں رہتا؛ پوری جماعت کی شناخت اور مستقبل خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: سرپرستی سے فائدہ اٹھانا سیاسی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، لیکن سرپرستی کو اپنی بنیاد بنا لینا خطرناک انحصار ہے۔  اتحاد، مفاہمت اور مشترکہ مفادات  سیاست کا حصہ ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی جماعت کی طاقت کا سرچشمہ عوام کے بجائے کوئی دوسرا مرکز بن جائے، اس کی ترجیحات اپنی ضرورتوں کے بجائے سرپرست کی خواہشات سے طے ہونے لگیں اور اس کے فیصلے آزادانہ غوروفکر کے بجائے منظوری کے محتاج ہو جائیں۔

سرپرست کی ضرورت ختم ہوتے ہی ایسے تعلقات کی اصل نوعیت سامنے آ جاتی ہے۔ طاقتور فریق اپنا راستہ بدل لیتا ہے، لیکن انحصار کرنے والا اپنی کمزوریوں کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ اسے نئے سرے سے عوام کا اعتماد حاصل کرنا، کارکنوں کو متحرک کرنا اور اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنا پڑتی ہے۔ بعض جماعتیں اس مرحلے کو اپنی اصلاح کا موقع بنا لیتی ہیں، جبکہ بعض اپنی سابقہ سرپرستی کے خاتمے کو ہی اپنے زوال کی آخری وجہ سمجھتی رہتی ہیں۔

سیاسی یتیمی  اس دن شروع نہیں ہوتی جب سرپرست ہاتھ کھینچ لیتا ہے؛ اس کا آغاز اس دن ہو جاتا ہے جب کوئی اپنی منزل، راستے اور فیصلوں کا اختیار کسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہے۔ سرپرست کا ہاتھ اٹھنے پر صرف سہارا نہیں چھنتا، اس انحصار کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: دوسروں کے سہارے اقتدار تک پہنچنا ممکن ہے، مگر اپنی قوت کے بغیر اقتدار میں اپنی جگہ برقرار رکھنا مشکل۔ جو اپنی بقا کا اختیار کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، اسے ایک دن اپنی بے بسی کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھوں ہوتا دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

بدھ، 7 اکتوبر، 2026

سمر قندی جج اور پاکستانی صدر




سمر قندی جج اور پاکستانی صدر


سمرقند سے اسلام آباد کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو پچاس کلومیٹر ہے، مگر انصاف کے سفر میں دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ صرف جغرافیہ کا نہیں، تقریباً تیرہ سو برس کا ہے۔

اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں سمرقند کے لوگوں نے شکایت کی کہ مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم نے شہر پر قبضہ کرتے ہوئے وہ شرائط پوری نہیں کیں جو جنگ اور فتح کے بارے میں رائج اسلامی اصولوں کے مطابق ضروری تھیں۔ ، نہ اسلام کی دعوت دی گئی نہ خراج بارے بتایا گیا اور نہ ہی اس کے باشندوں کو مناسب سوچ بچار کا موقع دیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شہر پر اچانک قبضہ کیا گیا ۔جو اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا ۔ لہذا فاتحین سے شہر کو خالی کرایا جائے ۔

یہ شکایت ایک ایسے خلیفہ کے سامنے پیش ہوئی جس کا اپنا سپہ سالار فاتح تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ چاہتے تو اسے ایک مفتوح شہر کی معمولی شکایت سمجھ کر نظرانداز کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے گورنر کو حکم دیا کہ شکایت کی باقاعدہ سماعت کے لیے قاضی مقرر کیا جائے اور فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے۔

چنانچہ قاضی جمیع بن حاضر الباجی نے مقدمہ سنا۔ مقدمہ کا مدعی ایک پادری تھا اور فاتح سپہ سالار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ قاضی نے یہ نہیں دیکھا کہ ایک طرف فاتح فوج ہے اور دوسری طرف مفتوح لوگ۔ اس نے صرف یہ دیکھا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔

سماعت کے دوران ثابت ہو گیا کہ پادری کا دعوی درست ہے ۔قاضی نے حکم دیا کہ اگر فتح مقررہ اصولوں کے مطابق نہیں ہوئی تو مسلم فوج شام سے پہلے سمر قند سے نکل جائے ۔

یہاں تاریخ کا اصل سبق شروع ہوتا ہے۔
حکمران نے اپنے سپہ سالار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا، فاتح فوج کو قانون کا متبادل نہیں بنایا اور ریاستی طاقت کو عدالتی فیصلے کے مقابل کھڑا نہیں کیا۔ بلکہ ریاست نے اپنے ہی طاقتور فریق کو عدالت کے سامنے لا کھڑا کیا۔
یہ واقعہ بلاذری نے فتوح البلدان میں نقل کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک عدالتی مقدمہ کی روداد معروف صحافی اعزاز سید
کے پروگرام ’’ٹاک شاک‘‘ میں بیان ہوئی ہے ۔ واقعے کے مطابق، اوورسیز پاکستانی عمر احمد عزیز نے 2008ء میں ڈی ایچ اے ویلی اسلام آبادکے اوورسیز بلاک میں پلاٹ کے لیے گیارہ سو ڈالر جمع کرائے۔ پلاٹ نہ مل سکا تو انہوں نے رقم واپس لینے کی کوشش شروع کی۔ معاملہ مختلف اداروں اور فورمز سے ہوتا ہوا 2024ء میں ایوانِ صدر تک پہنچا۔

صدرِ پاکستان کے دفتر سے، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کو رقم واپس کرنے کی ہدایت ہوئی، مگر ڈی ایچ اے کے نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اسلام آبادی جج نے ڈی ایچ اے کی اپیل پر سماعت شروع کردی ۔

سمرقند میں ایک شکایت نے ریاست کے طاقتور ترین ،اپنے ہی سپہ سالارکو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس نے خلاف فیصلہ صادر کیا تو اس پر عمل ہوا، اور شام سے پہلے سپہ سالار اپنی سپاہ کو لے کر سمرقند سے نکل گیا ۔

مگر اس انصاف نے سمر قندیوں کے دل میں فاتحین کے لیے وہ جگہ بنائی کہ عدالت میں مدعی پادری خود چل کر سپہ سالار کے پاس گیا اور اسے سمرقند میں داخل ہونے کی دعوت دی۔

ریاست کی اصل طاقت اس کے بڑے عہدوں، وسیع اختیارات یا طاقتور اداروں میں نہیں ہوتی۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ایک کمزور شہری کو بھی یقین ہو کہ اس کا حق کسی طاقتور شخص، ادارے یا عہدے کے سامنے بے معنی نہیں ہوگا۔

اسی لیے سمرقند کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں، ریاستی انصاف کا ایک اصول ہے۔ فاتح قتیبہ بن جرنیل تھا، مگر فیصلہ اس کے حق میں ہونا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

شکایت کرنے والا سمرقند کا پادری تھا ، مگر ان کا غیر مسلم یا مفتوح ہونا ان کے حقِ انصاف میں رکاوٹ نہیں بنا۔

قاضی نے صرف ایک سوال دیکھا تھا:

حق کس کے ساتھ ہے؟

ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025ء کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر تھا، جبکہ شہری انصاف کے شعبے میں اس کی پوزیشن 129ویں تھی۔ یہ اشاریہ صرف عدالتوں کے فیصلوں کو نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی، مؤثریت، غیر جانب داری اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو بھی جانچتا ہے۔

اعداد اپنے اندر کوئی جذبات نہیں رکھتے، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔
وہ شخص جس کی زمین کسی تنازع میں پھنسی ہے۔
وہ شخص جس کی پنشن رکی ہوئی ہے۔
وہ شخص جس کی دکان یا مکان کا مقدمہ برسوں سے چل رہا ہے۔
وہ شخص جس کی جمع پونجی واپس نہیں ہو رہی۔
اور کبھی وہ شخص بھی جس کے صرف گیارہ سو ڈالر کسی نظام کے پیچیدہ راستوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

انصاف صرف یہ نہیں کہ آخرکار فیصلہ آ جائے۔ انصاف یہ بھی ہے کہ فیصلہ وقت پر آئے، حق دار تک پہنچے اور اسے اپنے حق کے لیے غیر معمولی طاقت کا سہارا نہ لینا پڑے۔

سمرقند کے قاضی نے ایک فاتح فوج کو یہ پیغام دیا تھا کہ فتح تمہیں قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔عدالت نے طاقت کو قانون کے تابع کیا تھا۔

ریاست کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مقابل کھڑے ایک کمزور انسان کے حق کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔

آج پاکستان میں کہیں بھی کسی سے پوچھ لیں:
"اگر حق ایک طرف ہو اور طاقت دوسری طرف، تو عدالت کا فیصلہ کس کے حق میں ہوگا؟"