پیر، 17 اگست، 2026

حقیقی آزادی اور شعور



حقیقی آزادی اور شعور

انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی سب سے بڑی نعمت اس کی عقل ہے۔ وہ دیکھتا ہے، حیران ہوتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، دلیل تلاش کرتا ہے، امکانات کو پرکھتا ہے اور پھر کسی نتیجے تک پہنچتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے محض زندہ رہنے والی مخلوق سے ایک باشعور وجود بناتی ہے۔ لیکن انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ بھی ہے کہ انسان کبھی اپنی اسی عقل کو، جس نے اسے سوال کرنا سکھایا، کسی دوسرے انسان کے حوالے کر دیتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

غیر یقینی، خوف، تنہائی اور بحران کے لمحوں میں انسان ایسے شخص کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اسے یقین، سمت اور مقصد فراہم کرے۔ ابتدا میں یہ تعلق رہنمائی کا ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ رہنمائی اطاعت میں، اطاعت عقیدت میں، اور عقیدت شخصیت پرستی میں بدل سکتی ہے۔ اس مقام پر انسان کسی شخصیت کو صرف رہنما نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنے فیصلوں، اپنے یقین اور کبھی کبھی اپنی زندگی کا مرکز بنا لیتا ہے۔

جم جونز  ( 1931-1978)  ایک امریکی مذہبی مبلغ اور کرشماتی رہنما، اس انسانی کمزوری کی ایک المناک مثال ہے۔ اس نے پیپلز ٹیمپل نامی مذہبی و سماجی تحریک قائم کی۔ ابتدا میں وہ نسلی امتیاز، غربت اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا، مساوات کا تصور پیش کرتا اور محروم طبقات کو ایک بہتر معاشرے کا خواب دکھاتا تھا۔ اس پیغام نے مختلف طبقوں کے لوگوں کو اس کے قریب کیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ تحریک کے اصولوں سے زیادہ خود جونز کی شخصیت اہم ہوتی گئی۔

یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک رہنما، رہنما سے بڑھ کر حقیقت کا مرکزی حوالہ بننے لگا۔

جب کسی تحریک میں اصول سے زیادہ شخصیت، دلیل سے زیادہ عقیدت اور سوال سے زیادہ اطاعت اہم ہو جائے تو انسان کسی بات کو اس لیے درست نہیں سمجھتا کہ وہ معقول ہے، بلکہ اس لیے قبول کرنے لگتا ہے کہ اسے ایک بااثر شخصیت نے کہا ہے۔ یوں حقیقت کی کسوٹی دلیل سے ہٹ کر شخصیت بن جاتی ہے۔

یہ انسانی آزادی کے لیے خطرناک مرحلہ ہے۔

جونز کے پیروکاروں کی بڑی تعداد گیانا منتقل ہوئی، جہاں جونز ٹاؤن کے نام سے ایک اجتماعی بستی قائم کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہ ماحول ایسا بن گیا جہاں رہنما کا اثر لوگوں کی روزمرہ زندگی، تعلقات اور ذاتی فیصلوں تک پھیل گیا۔ بالآخر 18 نومبر 1978ء کو یہ تجربہ ایک ہولناک اجتماعی سانحے پر ختم ہوا۔ نو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکی کانگریس کے رکن لیو رائن اور ان کے ساتھی بھی اسی سانحے سے پہلے ہونے والے حملے میں قتل کر دیے گئے۔

مگر اس واقعے سے ایک بڑا سوال اٹھتا ہے: آخر وہ لوگ کون تھے جو اس نظام کا حصہ بنے؟

وہ سب جاہل یا کم تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ پیپلز ٹیمپل میں مختلف نسلی، سماجی اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے افراد شامل تھے۔ بعض تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے، بعض سماجی خدمت سے وابستہ تھے، بعض طبی خدمات فراہم کرتے تھے اور بعض اپنے معاشرتی حلقوں میں ذمہ دار اور بااثر سمجھے جاتے تھے۔ اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے:

تعلیم اور ذہانت انسان کو ہر نفسیاتی اثر سے محفوظ نہیں کرتیں۔

انسان کو غلام بنانے کے لیے ہمیشہ زنجیروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی لباس کا رنگ گروہی شناخت بن جاتا ہے، کبھی پگڑی یا مخصوص وضع قطع وفاداری کی علامت، کبھی نعرہ سوچ کا بدل، کبھی پرچم حق و باطل کی واحد کسوٹی، کبھی کسی بزرگ یا سیاسی رہنما کی تصویر عقیدت سے بڑھ کر اطاعت کا نشان، کبھی مخصوص الفاظ پورے گروہ کی ذہنی سرحد، کبھی جماعت کا نشان سچائی کی سند، اور کبھی سوشل میڈیا کا مسلسل بیانیہ حقیقت کا متبادل بن جاتا ہے۔

جب انسان ایک ہی رنگ دیکھتا ہے، ایک ہی نعرہ سنتا ہے، ایک ہی علامت سے وابستہ رہتا ہے اور ایک ہی نوعیت کی معلومات بار بار حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے گروہی وابستگی اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر اختلاف اسے دلیل نہیں، خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

یہیں سے تنقیدی شعور کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

سوال صرف ذہنی عادت نہیں؛ یہ آزادی کی حفاظت بھی ہے۔ سوال انسان کو اپنے سامنے رکھی ہوئی حقیقت کو پرکھنے کی مہلت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: یہ بات کیوں درست ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ اس کے خلاف کیا کہا گیا ہے؟ کیا میری رائے حقیقت پر قائم ہے یا صرف میری وابستگی کا نتیجہ ہے؟

انسان کے لیے یقین ضروری ہے، مگر اندھا یقین اسے اپنے ہی ذہن سے دور کرسکتا ہے۔

حیرت سوال پیدا کرتی ہے، سوال تحقیق کو جنم دیتا ہے، اور تحقیق انسان کو علم کے دروازے تک لے جاتی ہے۔

اسی لیے سوال کو شک یا بغاوت سمجھنا درست نہیں۔ سوال حقیقت تک پہنچنے کا ایک راستہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو شخص اپنے یقین کے بارے میں پوچھتا ہے، وہ دراصل اس کی بنیاد تلاش کرتا ہے۔ اور جو بنیاد تلاش کرتا ہے، وہ وراثت میں ملنے والی رائے اور غوروفکر سے حاصل ہونے والے یقین کے درمیان فرق کرنا سیکھتا ہے۔

یہ فرق دین کے میدان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

دین انسان کو خدا سے جوڑتا ہے، جبکہ شخصیت پرستی انسان کو ایک انسان سے باندھ دیتی ہے۔ عالم سے علم حاصل کرنا درست ہے، مگر عالم کو خطا سے پاک سمجھنا ضروری نہیں۔ رہنما سے رہنمائی لینا مفید ہے، مگر اپنی عقل اور اخلاقی ذمہ داری اس کے حوالے کردینا آزادی نہیں۔

حقیقی یقین عقل کو ختم نہیں کرتا؛ اسے ذمہ دار بناتا ہے۔

انسان اپنی عقل کسی دوسرے کے حوالے ایک ہی لمحے میں نہیں کرتا۔ یہ اختیار خاموشی سے منتقل ہوتا ہے۔ پہلے وہ سوچتا ہے: وہ مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ پھر اسے محسوس ہوتا ہے: اس سے سوال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے: اس کی بات ہی کافی ہے۔ اور آخرکار ایک دن وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے فیصلے بھی کوئی دوسرا کرنے لگتا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جب شخصیت، شعور پر غالب آجاتی ہے۔

حقیقی آزادی ہر بات کو رد کرنا نہیں، بلکہ سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ آزاد انسان اپنے پسندیدہ رہنما سے بھی اختلاف کرسکتا ہے، اپنے محبوب نظریے کو بھی سوال کے سامنے رکھ سکتا ہے، اپنی ہی رائے پر نظرثانی کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے بدل بھی سکتا ہے۔

یہ کمزوری نہیں، ذہنی بلوغت ہے۔

ایک انسان عالم سے سیکھ سکتا ہے، استاد سے رہنمائی لے سکتا ہے، اپنے مذہب سے وابستہ رہ سکتا ہے، کسی سیاسی نظریے کو پسند کرسکتا ہے، کسی رہنما کا احترام کرسکتا ہے، لیکن اسے اپنی عقل کی آخری ذمہ داری اپنے پاس رکھنی چاہیے۔

کیونکہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ انسان کیا مانتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں مانتا ہے۔

یہ "کیوں" ہی شعور کی ابتدا ہے۔

جب انسان اپنے یقین کے اسباب تلاش کرتا ہے تو وہ اپنے عقیدے، اپنی سیاست، اپنی شناخت اور اپنی وابستگیوں کو سمجھنے لگتا ہے۔ پھر کوئی نعرہ، رنگ، لباس، علامت یا شخصیت اس کے لیے حقیقت کا مکمل متبادل نہیں بنتی۔

شعور کے بغیر تعلیم محض معلومات کا ذخیرہ بن سکتی ہے، مذہب رسم بن سکتا ہے، سیاست شخصیت پرستی بن سکتی ہے اور اجتماعی وابستگی اندھی فرمانبرداری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال زندہ رہے تو راستہ کھلا رہتا ہے۔

حیرت انسان کو ٹھہرا کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے؛ سوال اسے تلاش پر لے جاتا ہے؛ تلاش علم کا دروازہ کھولتی ہے؛ اور علم انسان کو اپنی رائے قائم کرنے کی قوت دیتا ہے۔

شاید حقیقی آزادی بھی یہی ہے کہ انسان کے پاس یقین ہو، مگر سوال کرنے کی ہمت بھی؛ عقیدہ ہو، مگر شعور کے ساتھ؛ رہنمائی ہو، مگر اپنی عقل کی قیمت پر نہیں۔

انسان کو رہنما کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اپنی عقل کے مالک کی ضرورت خود اسے ہے۔ اسے استاد کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اپنے شعور سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے عقیدے کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر عقیدے کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی آزادی بھی ضروری ہے۔

آخرکار انسان کی فکری آزادی کسی حتمی جواب کے مل جانے میں نہیں، بلکہ سوال کرنے کی صلاحیت زندہ رکھنے میں ہے۔

کیونکہ جس انسان کے اندر سوال زندہ ہے، اس کے اندر شعور زندہ ہے؛ اور جس کا شعور زندہ ہے، اسے اپنی عقل کسی دوسرے انسان کے حوالے کرنا آسان نہیں رہتا۔ یہی حقیقی آزادی ہے۔

پاکستان اور پاکستانی



پاکستان اور پاکستانی

 استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔

ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔

فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔

استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔

یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟

یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔

قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔

استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔

فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔

قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔

استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔

پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔

آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔

اتوار، 16 اگست، 2026

بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری





بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری

کم سن بچوں، خصوصاً بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہیں جسے صرف قانونی جرم سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک بچے کے جسم، ذہن، اعتماد اور مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روک تھام کے لیے قانون کے ساتھ گھر، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور ریاستی نظام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان میں دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ یہ مکمل تصویر نہیں کیونکہ بہت سے واقعات بدنامی، خوف اور خاندانی دباؤ کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی State of Children in Pakistan 2025 کے مطابق 2025 میں پولیس ریکارڈ میں بچوں کے ریپ اور جنسی زیادتی سے متعلق دفعات کے تحت 5,024 چارجز رپورٹ ہوئے، جبکہ دیگر جنسی حملوں سے متعلق دفعات کے تحت 3,163 چارجز درج ہوئے۔ دستیاب اعداد میں لڑکیاں متاثرین کی اکثریت تھیں۔

ان اعداد کو کسی ایک ادارے یا طبقے کے خلاف فردِ جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ دینی مدارس بھی اس عمومی مسئلے سے الگ نہیں، لیکن محدود واقعات کی بنیاد پر تمام مدارس کو جرم کا مرکز قرار دینا تحقیق کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جہاں بچے بالغ افراد کی نگرانی میں رہتے یا تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں ان کے تحفظ کا نظام کتنا مؤثر ہے؟

یہ سوال گھروں کے بارے میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بچوں کے خلاف جنسی استحصال ہمیشہ کسی اجنبی کی طرف سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خطرہ قریبی حلقے ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ سگے رشتہ دار، سوتیلے رشتے، خاندان کے قریبی افراد، ہمسائے یا بچے کی نگہداشت کرنے والے افراد بھی اعتماد کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے معاشرے میں یہ شعور عام کرنا ضروری ہے کہ رشتہ چاہے کتنا ہی قریبی ہو، بچے کی جسمانی حرمت ناقابلِ تجاوز ہے۔

یہاں مسجد و منبر کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں مسجد ایک مؤثر سماجی ادارہ ہے اور امام و خطیب کی بات بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ اگر دینی رہنما بچوں کی حرمت، خاندانی ذمہ داری، جنسی جرائم کی قباحت اور جرم چھپانے کے نقصانات کو باقاعدہ اپنے خطابات کا حصہ بنائیں تو یہ ایک مؤثر قومی آگاہی مہم بن سکتی ہے۔

خاص طور پر سگے اور سوتیلے رشتوں کی حرمت کے بارے میں واضح دینی اور اخلاقی پیغام ضروری ہے۔ معاشرے میں یہ تصور عام ہونا چاہیے کہ رشتہ داری اعتماد کی ذمہ داری بڑھاتی ہے، اختیارات نہیں۔ کسی بچے کے ساتھ نامناسب رویہ صرف اس لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ ملزم اس کا رشتہ دار یا خاندان کا قابلِ احترام فرد ہے۔

مساجد والدین کو یہ بھی سمجھا سکتی ہیں کہ بچے کی کسی شکایت کو فوراً جھوٹ، شرارت یا بدنامی کا سبب نہ سمجھا جائے۔ اسے توجہ سے سننا، محفوظ ماحول دینا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے مدد لینا ضروری ہے۔ خاندان کی عزت جرم چھپانے سے نہیں بلکہ مظلوم کی حفاظت اور ظالم کو جواب دہ بنانے سے محفوظ رہتی ہے۔

اسی طرح دینی مدارس میں بچوں کے تحفظ کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔ اساتذہ اور عملے کی جانچ، واضح ضابطۂ اخلاق، شکایت کا محفوظ طریقہ، رہائشی بچوں کی نگرانی اور کسی شکایت کی صورت میں آزادانہ تحقیقات بنیادی انتظامی تقاضے ہونے چاہئیں۔ یہی اصول اسکولوں، یتیم خانوں اور دیگر رہائشی یا تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

ریاست کو بھی محض قانون بنانے کے بجائے اس کے نفاذ پر توجہ دینا ہوگی۔ پولیس، عدالت، child-protection اداروں اور صحت کے شعبے کے درمیان ایسا مربوط نظام ضروری ہے جس میں بچے کو شکایت کے بعد مزید خوف یا صدمے سے نہ گزرنا پڑے اور کسی بااثر شخص کو اپنے منصب یا تعلقات کی بنیاد پر تحفظ نہ مل سکے۔

اس مسئلے میں مذہبی قیادت کی سب سے بڑی خدمت شاید یہی ہوگی کہ وہ خاموشی کی ثقافت کو توڑے۔ مسجد کے منبر سے واضح کیا جائے کہ بچے اللہ کی امانت ہیں، ان کی عزت اور جسمانی حرمت کی حفاظت لازم ہے، کسی رشتے یا منصب کو اس حرمت سے تجاوز کا حق نہیں، اور جرم چھپانا مظلوم کی مدد نہیں بلکہ مجرم کو مزید موقع دینا ہے۔

اگر گھر بچے کو اعتماد دے، مدرسہ اور اسکول محفوظ ماحول فراہم کریں، ریاست قانون نافذ کرے اور مسجد و منبر مسلسل اخلاقی شعور پیدا کریں تو جنسی جرائم کے خلاف ایک حقیقی معاشرتی حصار قائم کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کی حفاظت صرف قانون کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہمارے اجتماعی کردار کا امتحان ہے۔ اور اس امتحان میں مسجد، مدرسہ اور منبر کو خاموش تماشائی نہیں بلکہ اصلاح کی مؤثر آواز بننا ہوگا۔

جدید انسان اور گمشدہ معنی



جدید انسان اور گمشدہ معنی
آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے زیادہ باخبر ادوار میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے پاس کائنات کے راز جاننے کے لیے طاقتور دوربینیں ہیں، انسانی جسم کو سمجھنے کے لیے جدید آلات ہیں، معلومات تک رسائی کے لیے مصنوعی ذہانت ہے اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لمحوں میں رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اس تمام علمی اور تکنیکی ترقی کے باوجود ایک سوال اب بھی اس کے سامنے کھڑا ہے: انسان آخر ہے کیا، اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

یہی وہ سوال ہے جہاں عبدالحکیم مراد کی فکری دنیا جدید ذہن سے مکالمہ شروع کرتی ہے۔

عبدالحکیم مراد کا اصل نام ٹموتھی ونٹر ہے۔ وہ 1960ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں مغربی فلسفے، مذہب، انسانی وجود اور جدید تہذیب کے بنیادی سوالات نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ اسلامی فکر کا مطالعہ ان کے لیے محض ایک مذہبی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری سفر بھی تھا۔ انہوں نے عربی اور اسلامی علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مسلم دنیا کے علمی مراکز میں وقت گزارا اور بالآخر اسلام کو اپنی فکری اور روحانی زندگی کا مرکز بنایا۔ بعد میں انہوں نے عبدالحکیم مراد کا نام اختیار کیا۔

ان کی شخصیت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ جدید مغربی ذہن کے سوالات سے واقف ہیں اور اسلامی روایت کو بھی اس کی کلاسیکی علمی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ نہ تو جدید دنیا کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور نہ اسلامی روایت کو جدید فیشن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مکالمے کا ہے: سوال جدید دنیا سے لیا جائے اور جواب اسلامی فکر کے وسیع علمی ورثے میں تلاش کیا جائے۔

جدید انسان کے بحران کو سمجھنے کے لیے شاید ’’علم‘‘ اور ’’معنی‘‘ کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر علم کی کثرت نے معنی کی ضمانت نہیں دی۔ ہم جانتے ہیں کہ ستارے کس فاصلے پر ہیں، انسانی خلیہ کس طرح کام کرتا ہے اور دماغ کے مختلف حصے کس طرح سرگرم ہوتے ہیں، لیکن یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ انسان کو زندگی کیوں ملی اور اسے زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی چاہیے۔

سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، لیکن ’’کیوں‘‘ کا ہر سوال سائنسی تجربے کے دائرے میں نہیں آتا۔ طبیعیات مادے کے قوانین بیان کرسکتی ہے، حیاتیات زندگی کے ارتقائی مراحل کا مطالعہ کرسکتی ہے اور نیورو سائنس دماغ کے افعال کو سمجھ سکتی ہے، لیکن ان علوم سے یہ نتیجہ خود بخود اخذ نہیں ہوتا کہ زندگی بے مقصد ہے، اخلاق محض انسانی اتفاق ہے یا شعور صرف مادے کی ایک پیچیدہ حرکت ہے۔

یہاں مراد اسلامی فکر کے اس بنیادی تصور کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس میں عقل اور وحی ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کے مختلف ذرائع ہیں۔ عقل انسان کو سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور استدلال کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ وحی اسے ان سوالات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے جنہیں تجرباتی علم مکمل طور پر حل نہیں کرسکتا۔ انسان کہاں سے آیا؟ اس کی آخری منزل کیا ہے؟ خیر اور شر کی بنیاد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اور انسان کو اپنی آزادی کس مقصد کے لیے استعمال کرنی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں صرف تجربہ گاہ میں رکھ کر حل نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں جدید انسان کے سامنے ایک اور سوال آتا ہے۔ اگر سائنس نے کائنات کی بہت سی ظاہری حقیقتوں کو سمجھا دیا ہے تو پھر مذہب کی ضرورت کیوں باقی ہے؟

مراد کی فکر میں جواب یہ ہے کہ سائنس اور مذہب بنیادی طور پر ایک ہی سوال کا جواب نہیں دے رہے۔ سائنس ’’کیسے‘‘ کو تلاش کرتی ہے، مذہب ’’کیوں‘‘ کو بھی موضوع بناتا ہے۔ سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ بارش کیسے بنتی ہے، لیکن یہ سوال کہ انسان اس قدرتی نظام کے سامنے حیرت، شکر اور ذمہ داری کا احساس کیوں کرے، ایک مختلف سطح کا سوال ہے۔

یہ فرق سائنس کی اہمیت کم نہیں کرتا بلکہ اس کے دائرۂ کار کو واضح کرتا ہے۔

جدید تہذیب نے انسان کو آزادی کا ایک وسیع تصور دیا۔ فرد کو اپنے عقائد، پیشے، رہن سہن اور ذاتی فیصلوں کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے۔ لیکن آزادی کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اگر انسان ہر خواہش پوری کرنے کے لیے آزاد ہے تو کیا وہ واقعی آزاد ہے؟

اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کا غلام بن جائے، مسلسل لذت، دولت، شہرت اور دوسروں کی منظوری کا محتاج رہے تو ظاہری آزادی کے باوجود وہ اندر سے آزاد نہیں رہتا۔

اسلامی تصورِ آزادی اسی مقام پر جدید تصور سے مکالمہ کرتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف بیرونی جبر سے آزاد نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے اپنے نفس کی غلامی سے بھی نجات دلانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے حقیقی آزادی یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرتا پھرے، بلکہ یہ ہے کہ انسان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہو کہ اسے کیا چاہنا چاہیے۔

یہاں اخلاق کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر اخلاق صرف معاشرتی اتفاق کا نام ہے تو کیا اکثریت کسی ظلم کو جائز قرار دے تو وہ اخلاقی ہوجائے گا؟ اگر سچ اور جھوٹ کی کوئی مستقل بنیاد نہیں تو ہم جھوٹ کو برا کیوں کہتے ہیں؟ اگر انصاف صرف انسانی قانون کا نام ہے تو پھر کوئی طاقتور معاشرہ اپنے مفاد میں کسی کمزور قوم کے ساتھ ناانصافی کرے تو اسے صرف اس لیے غلط کیسے کہا جائے کہ ہماری پسند مختلف ہے؟

اسلامی فکر اخلاق کو ایک ایسی بنیاد سے جوڑتی ہے جو انسان سے بلند ہے۔ خیر اور شر محض اکثریت کے فیصلے نہیں بلکہ ان کی ایک اخلاقی حقیقت ہے۔ خدا کا تصور اسی لیے صرف عبادت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بھی بن جاتا ہے۔

مراد کی فکر میں تصوف بھی اسی مکالمے کا اہم حصہ ہے۔ جدید انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ اس کے پاس رابطے بہت ہیں مگر حقیقی تعلق کم ہوسکتا ہے۔ اس کے پاس انتخاب بہت ہیں مگر سمت کا فقدان ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا کو تبدیل کرنے کی بے پناہ طاقت رکھتا ہے، مگر اپنے اندر کی بے چینی پر قابو پانے میں ناکام رہ سکتا ہے۔

تصوف اس بحران کو انسان کے باطن میں تلاش کرتا ہے۔ اس کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا کیسی ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان خود کیسا بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عبدالحکیم مراد جدید انسان کے لیے روحانیت کو ماضی کی کوئی فرسودہ چیز نہیں سمجھتے۔ ان کے فکری زاویے سے روحانی تربیت انسان کے اندر ایسی اخلاقی اور باطنی قوت پیدا کرسکتی ہے جو اسے اپنی خواہشات، خوف، حرص اور خود پسندی سے بلند ہونے میں مدد دیتی ہے۔

ان کی فکر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام اور مغرب کے تعلق کو صرف تصادم کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مغرب میں ایسی بہت سی اقدار ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا، اور اسلامی تہذیب کے پاس بھی عقل، علم، اخلاق، روحانیت اور اجتماعی زندگی کا ایک وسیع فکری ورثہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون مکمل طور پر درست اور کون مکمل طور پر غلط ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی تجربے کی مکمل تصویر کہاں سے حاصل ہوسکتی ہے؟

مراد اسی لیے جدید دنیا کے ساتھ ایک تنقیدی مکالمے کی بات کرتے ہیں۔ نہ اندھی تقلید، نہ اندھی مخالفت۔

وہ جدید انسان کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ مذہب کو محض ماضی کی رسم سمجھ کر مسترد نہ کرے اور اسلام کو صرف سیاسی نعروں یا چند ظاہری احکام تک محدود کرکے نہ دیکھے۔ اسلامی روایت کے اندر فلسفہ بھی ہے، کلام بھی، فقہ بھی، تصوف بھی، اخلاق بھی اور انسانی وجود کے بارے میں ایک وسیع فکری بحث بھی۔

شاید آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ مذہب اور عقل کو دو دشمن خیموں میں تقسیم کرنے کے بجائے ان کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمہ قائم کیا جائے۔

کیونکہ انسان صرف وہ نہیں جو وہ کھاتا ہے، پہنتا ہے، کماتا ہے یا ایجاد کرتا ہے۔ وہ وہ بھی ہے جو محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، سوال کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، موت سے ڈرتا ہے، حسن کے سامنے ٹھہر جاتا ہے اور تنہائی میں اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے۔

مصنوعی ذہانت شاید ہمیں یہ بتا دے کہ دماغ کس طرح معلومات کو منظم کرتا ہے، لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ انسان کو معنی کی تلاش کیوں رہتی ہے؟

سائنس شاید کائنات کے آغاز کے بارے میں مزید راز کھول دے، لیکن انسان پھر بھی پوچھے گا کہ وجود کے پیچھے کوئی مقصد ہے یا نہیں؟

جدید تہذیب شاید ہمیں بے شمار انتخاب دے دے، لیکن سوال پھر بھی یہی ہوگا کہ صحیح انتخاب کون سا ہے؟

عبدالحکیم مراد کی فکری اہمیت اسی مقام پر سامنے آتی ہے۔ وہ جدید انسان کے سوالات سے فرار اختیار نہیں کرتے بلکہ انہیں اسلامی روایت کے سامنے رکھتے ہیں۔ ان کا کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’اسلام کیا کہتا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اسلام انسان، عقل، آزادی، اخلاق، روح اور حقیقتِ وجود کے بارے میں کیا تصور پیش کرتا ہے؟

شاید جدید انسان کا سب سے بڑا بحران خدا کے انکار سے پہلے معنی کے فقدان کا بحران ہے۔ اور شاید مذہب کا سب سے بڑا کام انسان کو صرف چند عقائد دینا نہیں بلکہ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ اس کا وجود بے مقصد نہیں۔

آخرکار سوال وہی ہے جس سے ہر فلسفہ، ہر مذہب اور ہر انسان کبھی نہ کبھی دوچار ہوتا ہے:

میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کیوں آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟


اتوار، 9 اگست، 2026

اپنی منزل خود دریافت کیجیے



اپنی منزل خود دریافت کیجیے

انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر اس کے سامنے امکانات کی ایک پوری کائنات بچھا دی جاتی ہے۔ وہ نہ اپنے ساتھ رزق لاتا ہے، نہ پیشہ، نہ مقام اور نہ پہچان۔ یہ سب اسے خود حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ناکامیوں کا ذائقہ چکھتا ہے، راستے بدلتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے، تب کہیں جا کر اپنی روزی، اپنی جگہ اور اپنا تعارف بناتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہم روزگار کی تلاش کو تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر زندگی کے مقصد کی تلاش دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔

ہمیں لگتا ہے کہ کوئی استاد ہمیں بتا دے گا کہ ہمیں کس سمت جانا ہے، کوئی بزرگ ہماری تقدیر کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں رکھ دے گا، یا معاشرہ ایک دن ہمارے لیے وہ راستہ منتخب کر دے گا جس پر چل کر ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ مقصد عطا نہیں کیا جاتا، دریافت کیا جاتا ہے۔

یہ دریافت بھی کسی نقشے پر نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے باطن تک پہنچنے سے پہلے ہی دوسروں کی آوازوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں والدین کی خواہشیں، جوانی میں معاشرے کی توقعات، اور عمر کے ہر موڑ پر "لوگ کیا کہیں گے" کا سایہ ہمارے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ ہم اپنی آواز اور دوسروں کی آواز میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔ پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی تو بہت گزاری، مگر اپنی زندگی کبھی نہیں گزاری۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہر شخص اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے؟

میرا جواب ہے: نہیں۔

اپنی مرضی سے صرف وہی شخص جی سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے۔

جس انسان کے پاس مقصد نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ دوسروں کی رائے کے سہارے چلتا ہے۔ اس کی سمت حالات طے کرتے ہیں، اس کے فیصلے ماحول بناتا ہے، اور اس کی خوشی دوسروں کی منظوری سے وابستہ رہتی ہے۔ وہ ہر تعریف پر پھول جاتا ہے اور ہر تنقید پر بکھر جاتا ہے، کیونکہ اس کے وجود کی بنیاد اندر نہیں، باہر ہوتی ہے۔

مقصد انسان کو صرف راستہ نہیں دیتا، ایک داخلی مرکز بھی عطا کرتا ہے۔ پھر وہ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ نہیں بدلتا۔ وہ جانتا ہے کہ درخت اگر اپنی جڑوں پر اعتماد کھو دے تو ہر موسم اس کے لیے آندھی بن جاتا ہے۔

کائنات کی ہر شے اپنے مقصد کے ساتھ وابستہ ہے۔ دریا سمندر کی تلاش میں بہتا ہے، بیج روشنی کی آرزو میں زمین کا سینہ چیرتا ہے، ستارے اپنے مدار سے انحراف نہیں کرتے، سورج ہر صبح کسی تالی، کسی تعریف اور کسی اجازت کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔ صرف انسان وہ مخلوق ہے جو دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرتے کرتے اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔

یہ زمانہ رائے کا زمانہ ہے۔ ہر شخص آپ کی زندگی پر تبصرہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی آپ کے خوابوں کو غیر حقیقی کہتا ہے، کوئی آپ کے فیصلوں کو ناپختہ، اور کوئی آپ کے راستے کو غلط قرار دیتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی سمت دوسروں کے ہاتھ میں دے دی تو آپ پوری عمر چوراہوں پر کھڑے رہیں گے، کیونکہ ہر شخص آپ کو الگ راستہ دکھائے گا۔

مقصد مل جانے کے بعد زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن واضح ضرور ہو جاتی ہے۔

مشکلات باقی رہتی ہیں، مخالفتیں بھی ختم نہیں ہوتیں، مگر انسان کے اندر ایک ایسی خاموش طاقت پیدا ہو جاتی ہے جو اسے ہر شور سے بلند کر دیتی ہے۔ پھر وہ ہر آواز کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ منزل کی طرف بڑھتے ہوئے مسافر راستے میں کھڑے ہر تماشائی سے بحث نہیں کرتے۔

شاید اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی آواز سے زیادہ اپنے ضمیر کی آواز پر یقین کیا۔ انہیں پتھر بھی ملے، تنہائی بھی ملی، تمسخر بھی ملا، مگر ان کے قدم اس لیے نہیں رکے کہ وہ لوگوں کے لیے نہیں، اپنے مقصد کے لیے چل رہے تھے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کامیابی کو مقصد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کامیابی صرف ایک نتیجہ ہے۔ مقصد اس سے کہیں بلند چیز ہے۔ کامیابی انسان کو شہرت دے سکتی ہے، دولت دے سکتی ہے، اختیار دے سکتی ہے، مگر مقصد اسے معنی دیتا ہے۔ اور معنی کے بغیر ہر کامیابی آخرکار ایک خالی برتن ثابت ہوتی ہے، جس میں شور تو بہت ہوتا ہے، سکون نہیں۔

اس لیے اگر آپ واقعی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ مت پوچھیے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ دنیا آپ سے کیا چاہتی ہے۔ صرف ایک سوال کیجیے:

میں اس دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں؟

ممکن ہے اس سوال کا جواب ایک دن میں نہ ملے، شاید برسوں لگ جائیں، شاید پوری زندگی کی مسافت طے کرنی پڑے۔ مگر یاد رکھیے، مقصد کی تلاش میں گزارا ہوا ایک دن بھی اس پوری عمر سے زیادہ قیمتی ہے جو دوسروں کے خواب پورے کرتے ہوئے گزر جائے۔

آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ انسان کی آزادی کا اعلان اس دن نہیں ہوتا جب وہ دوسروں کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، بلکہ اس دن ہوتا ہے جب وہ اپنے وجود کے معنی دریافت کر لیتا ہے۔ جس لمحے انسان کو اپنی منزل مل جاتی ہے، اسی لمحے دنیا کی آوازیں مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر تعریف اس کا راستہ نہیں بدلتی، تنقید اس کے قدم نہیں روکتی، اور زمانہ اس کی سمت متعین نہیں کرتا۔

کیونکہ جس مسافر کو اپنی منزل معلوم ہو، وہ راستوں سے نہیں ڈرتا؛ اور جسے اپنی منزل نہ معلوم ہو، وہ ہر چوراہے پر دوسروں سے راستہ پوچھتا رہ جاتا ہے۔