جمعہ، 31 جولائی، 2026

خواب سے اہم نسبت رسول کی حفاظت



 نسبتِ رسول ﷺ کی حفاظت

خواب انسانی وجود کی وہ پراسرار سرحد ہے جہاں بیداری کے قوانین کچھ دیر کے لیے معطل دکھائی دیتے ہیں۔ جسم بستر پر ہوتا ہے اور شعور کبھی ماضی میں اتر جاتا ہے، کبھی ایسے لوگوں سے ملا دیتا ہے جو دنیا میں نہیں رہے، کبھی فاصلے مٹا دیتا ہے اور کبھی ایسی چیز دکھا دیتا ہے جس کا بیداری میں کوئی ظاہری امکان نظر نہیں آتا۔ اسی لیے خواب کو محض ذہنی انتشار کہہ کر نظر انداز کردینا انسانی تجربے کی ایک بڑی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔

اسلام نے بھی خواب کو معمولی نہیں سمجھا۔ قرآنِ مجید میں حضرت یوسفؑ، حضرت ابراہیمؑ اور عزیزِ مصر کے خواب محفوظ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی رؤیائے صالحہ کی اہمیت بیان فرمائی۔ مگر خواب کی اصل حساسیت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں خواب دیکھنے والا یہ کہتا ہے

’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘

یہ بظاہر ایک شخص کا ذاتی تجربہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی نسبت جڑ جاتی ہے جس کی حفاظت اسلامی تہذیب میں ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتی رہی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔‘‘

صحیح بخاری کی یہ روایت رؤیتِ نبوی ﷺ کی خصوصی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا دعویٰ کرنے والا شخص خواب میں سنی ہوئی ہر بات کو بیداری میں حدیثِ نبوی قرار دے سکتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق ہے

رؤیت ایک شخصی تجربہ ہے؛ نسبتِ رسول ﷺ ایک دینی دعویٰ ہے۔

اور اسی فرق نے اسلامی علمی روایت میں احتیاط کو جنم دیا۔

نسبتِ رسول ﷺ معمولی نسبت نہیں

مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب اقوال کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ حدیث کی حفاظت ایک مستقل علمی فن بن گئی۔ محدثین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ روایت اچھی اور بامعنی ہے یا نہیں؛ انہوں نے پوچھا: راوی کون ہے؟ کس سے روایت کرتا ہے؟ دونوں کی ملاقات ہوئی؟ راوی کا حافظہ کیسا تھا؟ اس کی دیانت کیا تھی؟ روایت کی دوسری اسناد کیا کہتی ہیں؟ متن دوسری روایات سے متصادم تو نہیں؟

یہاں تک کہ راویوں کی پیدائش و وفات، سفر، اساتذہ، شاگرد اور ملاقاتوں تک کا حساب رکھا گیا۔

یہ شک نہیں تھا؛ یہ نسبت کی حفاظت تھی۔

اور یہی اصول خواب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

ایک شخص کہتا ہے، ’’میں نے خواب دیکھا۔‘‘ یہ اس کا تجربہ ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔‘‘ اب نسبت پیدا ہوگئی۔ پھر اگر وہ کہے، ’’رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا‘‘ تو بات مزید حساس ہوگئی، کیونکہ اب خواب ایک قولِ رسول ﷺ کی نسبت بن چکا ہے۔

یہیں سے سوال شروع ہوتا ہے: خواب کا ماخذ کیا ہے؟ روایت کب کی ہے؟ راوی کون ہے؟ کیا کوئی خارجی نشانی ہے؟ کوئی گواہ ہے؟ کیا اس کا کوئی مادی اثر بیداری میں ظاہر ہوا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا بیان کردہ بات قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟

خوابوں کی تمام حکایات ایک درجے کی نہیں

صوفیانہ تذکروں اور کتبِ مناقب میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق خوابوں کے کئی واقعات ملتے ہیں، مگر انہیں ایک ہی درجے میں رکھنا علمی احتیاط کے خلاف ہوگا۔

ایک قسم وہ ہے جس میں خواب میں ملنے والی مادی چیز بیداری میں بھی موجود پائی گئی۔

ابو الخیر الأقطع کے بارے میں روایت ہے کہ شدید فاقے کے زمانے میں خواب میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں روٹی عطا فرمائی۔ انہوں نے نصف کھائی اور بیدار ہوئے تو باقی نصف روٹی ہاتھ میں موجود تھی۔ اسی نوعیت کی حکایات ابن الجلاد اور محمد بن العلاء سے بھی منسوب ہیں۔

یہ واقعات اس لیے غیر معمولی ہیں کہ یہاں خواب اور بیداری کے درمیان محض معنوی تعلق نہیں، بلکہ مادی شے کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری قسم میں خواب میں ملنے والی چیز بیداری میں اسی جنس یا تعداد کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ سُدیر الصیرفی سے منسوب روایت میں خواب میں آٹھ رطب ملنے اور اگلے دن امام جعفر صادقؓ کے ہاں آٹھ رطب ملنے کا ذکر ہے۔ یہاں خواب کے وہی رطب بیداری میں آنے کا دعویٰ نہیں، بلکہ عدد اور جنس کی مطابقت ہے۔

ابو حبیب النباجی سے منسوب اٹھارہ کھجوروں کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے، 

تیسری قسم میں خواب کی مادی چیز بیداری میں نہیں ملتی، لیکن خواب کے بعد جسمانی اثر ظاہر ہوتا ہے۔

قصیدۂ بردہ کے شاعر محمد بن سعید البوصیری کے بارے میں مشہور مناقبی روایت ہے کہ بیماری کے زمانے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدح میں قصیدہ لکھا۔ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی، آپ ﷺ نے ان کے چہرے پر دستِ مبارک پھیرا اور اپنی بردہ ان پر ڈال دی۔ بیدار ہوئے تو شفا پاچکے تھے۔

سعد الدین الفارقی سے منسوب روایت میں بھی خواب، بردہ اور آنکھوں کی شفا کا ذکر ملتا ہے۔

ان دونوں حضرات کاخعاب کے بعد صحت مند ہو جانا ۔ ان کے خواب کے نظر انے والے نتائج ہیں 

ایک اور قسم میں خواب کا حسی اثر بیان ہوتا ہے، مثلاً کھجور کھانے کے خواب کے بعد بیداری میں اس کا ذائقہ محسوس ہونا۔ ایسی روایات میں مادی ثبوت اور مضبوط خارجی شہادت نہ ہونے کے باعث زیادہ احتیاط ضروری ہے۔

یوں خوابوں کے یہ واقعات چار سطحوں پر آتے ہیں:

مادی چیز کا بیداری میں موجود ہونا،
جنس یا تعداد کی مماثلت،
خواب کے بعد جسمانی اثر،
اور محض حسی مماثلت۔

ان سب کو ایک ہی درجہ دینا درست نہیں۔

نشانی خواب کو کہاں لے جاتی ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔

’’میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا‘‘ ایک شخص کا بیان ہے۔

لیکن اگر خواب کے بعد کوئی ایسی چیز سامنے آئے جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ سکیں تو معاملے میں ایک خارجی قرینہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ابو الخیر الأقطع کے ہاتھ میں روٹی، بعض روایات میں درہم کا بیداری میں موجود ہونا، سُدیر کے واقعے میں آٹھ رطب کی مطابقت اور بوصیری کے واقعے میں بیماری کے بعد شفا اسی لیے اہم ہیں کہ روایت نگار خواب کو کسی خارجی اثر کے ساتھ جوڑتا ہے۔

لیکن یہاں بھی ایک بنیادی اصول فراموش نہیں ہونا چاہیے:

نشانی روایت کو حیرت انگیز بناتی ہے؛ سند اسے تاریخی بناتی ہے۔

اور اگر کوئی خارجی واقعہ متعدد افراد نے دیکھا بھی ہو تو وہ  صرف دعوے کے لیے ایک اضافی قرینہ پیدا کرتا ہے۔


اسلامی تہذیب نے رسول اللہ ﷺ کی نسبت کی حفاظت صرف حدیث میں نہیں کی۔ سیرت، شمائل، مناقب، کرامات اور خوابوں کے تذکروں میں بھی اہلِ علم نے ماخذ، زمانہ، راوی، سند، متن اور قرائن کو اہمیت دی۔

یقیناً حدیث، منقبت اور خواب ایک ہی درجے کے مصادر نہیں۔ حدیث کی حجیت اور خواب کی شخصی یا مناقبی حیثیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک اخلاقی اصول مشترک ہے:

رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی بات منسوب ہو تو اسے بے احتیاطی سے آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔

یہاں شاید سب سے اہم بات یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھنا خود ایک دعویٰ ہوسکتا ہے، مگر آپ ﷺ کی طرف کسی بات کو منسوب کرنا ایک امانت ہے۔

اسی لیے اہلِ علم کسی خواب کو سن کر صرف یہ نہیں پوچھتے کہ ’’خواب کتنا خوبصورت تھا؟‘‘ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا ماخذ ہے، کیا قرینہ ہے، کوئی خارجی اثر ہے یا نہیں، کوئی گواہ ہے یا نہیں، اور بیان کردہ بات قرآن و سنت کے معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔

یہ حیل و حجت نہیں۔

یہ ادبِ نسبت ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ ﷺ کی طرف منسوب ہر بات فوراً قبول کرلی جائے؛ محبت کا بلند تر تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے نام سے کوئی ایسی بات آگے نہ بڑھے جو ثابت نہ ہو۔

خواب اپنی جگہ ایک راز ہے، روحانی تجربہ ہے، کبھی بشارت ہے اور کبھی انسان کے باطن کی ایک پراسرار کیفیت۔ لیکن نسبتِ رسول ﷺ ایک مقدس امانت ہے۔

اور امانت کا سب سے پہلا حق یہی ہے کہ اسے محبت سے قبول کرنے سے پہلے تحقیق سے محفوظ کیا جائے۔

جمعہ، 17 جولائی، 2026

تین چہرے ایک کہانی

 

تین چہرے، ایک کہانی

سیاست بھی کبھی کبھی فلم کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں کردار بدلتے رہتے ہیں، مناظر تبدیل ہوتے ہیں، لیکن کہانی کے کچھ بنیادی عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں: عوام کی امیدیں، تبدیلی کے خواب، طاقت کی کشمکش اور ایک ایسا مرکزی کردار جو پورے منظرنامے پر چھا جائے۔ اکیسویں صدی کی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ، عمران خان اور نریندر مودی ایسی ہی تین شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ممالک میں سیاست کے روایتی انداز کو بدلنے کی کوشش کی۔

یہ تینوں رہنما مختلف ملکوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف سیاسی روایات سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی سیاسی کہانی میں کچھ مشترک پہلو ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب نے اپنی سیاست کو ایک مضبوط شخصی شناخت کے ساتھ آگے بڑھایا اور اپنے حامیوں کے لیے محض ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک امید، ایک علامت اور ایک تحریک کی شکل اختیار کی۔

ٹرمپ کی سیاست کا مرکزی کردار خود ٹرمپ کی شخصیت رہی۔ انہوں نے امریکی سیاست میں ایک ایسا انداز متعارف کرایا جس میں روایتی سیاسی زبان کے بجائے براہِ راست گفتگو، سخت مؤقف اور جذباتی اپیل نمایاں تھی۔ انہوں نے واشنگٹن کے پرانے سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کا بیانیہ اختیار کیا اور خود کو عام امریکی شہری کی آواز کے طور پر پیش کیا۔

عمران خان کی سیاسی کہانی بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد اقتدار تک پہنچنے کی داستان ہے۔ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوانوں تک ان کا سفر غیر معمولی رہا۔ انہوں نے اپنی سیاست کو تبدیلی، احتساب اور خود مختاری کے نعروں سے جوڑا۔ ان کے حامیوں کے نزدیک وہ پرانے سیاسی نظام کے مقابل ایک نئی امید تھے، جبکہ ناقدین ان کے سیاسی انداز کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔

نریندر مودی نے بھی بھارتی سیاست میں ایک مضبوط شخصی قیادت کا تصور پیش کیا۔ ایک عام پس منظر سے سیاسی سفر شروع کر کے وہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچے۔ ان کی سیاست میں ترقی، قومی شناخت اور مضبوط قیادت کے تصورات نمایاں رہے۔ انہوں نے جدید ذرائع ابلاغ اور عوامی رابطے کے نئے طریقوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

ان تینوں رہنماؤں کی ایک بڑی مشترک خصوصیت عوام سے براہِ راست تعلق قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے روایتی سیاسی ذرائع کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا، بڑے جلسوں اور عوامی خطابات کو اپنی سیاسی طاقت بنایا۔ آج کی دنیا میں جہاں ایک پیغام چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، ان رہنماؤں نے اس تبدیلی کو سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔

ان کی سیاست میں ایک اور مماثلت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو روایتی سیاسی طبقے سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے امریکی سیاسی اشرافیہ پر تنقید کی، عمران خان نے پاکستان کے روایتی سیاسی خاندانوں کو چیلنج کیا، جبکہ مودی نے بھارت میں ایک نئے سیاسی تصور اور مضبوط قیادت کا بیانیہ پیش کیا۔

لیکن ہر بڑی کہانی کی طرح اس کہانی میں بھی اختلافات اور تنقید کے پہلو موجود ہیں۔ مخالفین کے مطابق شخصی سیاست کبھی کبھی اداروں اور اجتماعی نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ حامیوں کے نزدیک مضبوط شخصیت ہی بڑے فیصلے کرنے اور تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ٹرمپ، عمران خان اور مودی کی سیاست کا موازنہ دراصل تین افراد کا نہیں بلکہ جدید سیاسی دور کا مطالعہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں نظریات کے ساتھ شخصیت بھی سیاست کا طاقتور ذریعہ بن چکی ہے، جہاں جلسوں کے ساتھ سوشل میڈیا بھی میدانِ سیاست ہے، اور جہاں ایک رہنما کی آواز لاکھوں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی بن سکتی ہے۔

 تاریخ ان تینوں رہنماؤں کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ وہ کتنے مقبول تھے، بلکہ اس بنیاد پر بھی کرے گی کہ انہوں نے اپنے ممالک، اداروں اور معاشروں پر کیا اثرات چھوڑے۔ کیونکہ سیاست کے اس بڑے پردے پر کردار آتے جاتے رہتے ہیں، مگر کہانی کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔

اتوار، 12 جولائی، 2026

جنگ سے بڑا زخم: تقسیم شدہ معاشرہ


ایران پر امریکی جارحیت 

جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات معاشروں کے اندر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ میزائل عمارتوں کو گرا سکتے ہیں، بم انفراسٹرکچر کو تباہ کر سکتے ہیں، لیکن نفرت، عدم اعتماد اور معاشرتی تقسیم وہ زخم ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں ہمیشہ بیرونی حملوں سے نہیں ٹوٹتیں، بلکہ اکثر ان کا زوال اندرونی انتشار سے شروع ہوتا ہے۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔ دنیا کی توجہ عسکری کارروائیوں، فضائی حملوں اور دفاعی نظاموں پر مرکوز رہی، لیکن اس جنگ کا ایک اہم پہلو ایرانی معاشرے کا ردعمل تھا۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور سماجی مباحث کا مرکز رہا ہے۔ مختلف طبقات حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے، احتجاجی تحریکیں بھی سامنے آئیں، لیکن جب بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو معاشرے کے ایک بڑے حصے نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور ریاستی بقا کو ترجیح دی۔

سیاسیات میں اس رجحان کو Rally Around the Flag Effect کہا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی قوم کو بیرونی خطرہ درپیش ہو تو لوگ نظریاتی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کے گرد متحد ہو جاتے ہیں۔ تاریخ میں برطانیہ، ویت نام اور سوویت یونین سمیت کئی ممالک میں یہ کیفیت دیکھی جا چکی ہے۔ ایران کی حالیہ صورتحال بھی اسی اصول کی عکاس ہے۔

اس موقع پر ابنِ خلدون کی فکر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف مقدمہ میں "عصبیت" یا اجتماعی یکجہتی کو ریاستوں کی اصل طاقت قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق جب کسی معاشرے میں مشترکہ شناخت، باہمی اعتماد اور اجتماعی مقصد کا شعور موجود ہو تو وہ بڑے سے بڑے بحران کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ لیکن جب گروہی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو ریاست اندر سے کمزور ہونے لگتی ہے۔ ایران کا حالیہ تجربہ اسی نظریے کی ایک عملی مثال دکھائی دیتا ہے۔

اسی حقیقت کو علامہ محمد اقبال نے نہایت سادگی اور گہرائی کے ساتھ بیان کیا تھا:

"فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں"

اقبال کے نزدیک فرد کی اصل قوت اس کے اجتماعی وجود سے وابستہ ہے۔ جب افراد اپنی ذاتی وابستگیوں سے بلند ہو کر ایک بڑے قومی مقصد کا حصہ بن جاتے ہیں تو معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور قومی مزاحمت کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

تاہم جنگ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ جس طرح بعض اوقات بیرونی خطرات قوموں کو متحد کرتے ہیں، اسی طرح وہ معاشروں میں نفرت اور جذباتیت کو بھی ہوا دے سکتے ہیں۔ جب عالمی تنازعات مقامی سطح پر جذباتی نعروں میں تبدیل ہو جائیں تو عقل، برداشت اور مکالمے کی جگہ اشتعال اور انتقام لینے لگتے ہیں۔

جرمن سیاسی مفکرہ ہنّا آرنٹ نے اسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا:

"نفرت کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے جب لوگ سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔"

ان کے نزدیک معاشروں کا اصل بحران اس وقت شروع ہوتا ہے جب لوگ حقائق کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں۔ جب تنقیدی سوچ ختم ہو جائے تو اختلافِ رائے دشمنی میں بدل جاتا ہے اور انسان مخالف نقطۂ نظر رکھنے والے کو محض ایک دشمن کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔

ہنّا آرنٹ کے اس خیال کی عملی توسیع والٹیر کے اس مشہور قول میں ملتی ہے:

"میں تمہاری رائے سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن تمہیں وہ رائے رکھنے کے حق کا دفاع آخری دم تک کروں گا۔"

یہی وہ اصول ہے جس پر مہذب معاشرے استوار ہوتے ہیں۔ اختلاف کو برداشت کرنا طاقت کی علامت ہے، جبکہ اختلاف کو نفرت میں بدل دینا معاشرتی کمزوری کی نشانی ہے۔

بدقسمتی سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے اسی کمزوری کی جھلک دکھائی۔ کراچی میں امریکی سفارتی تنصیبات کے گرد ہونے والے پرتشدد واقعات اور ان میں انسانی جانوں کا ضیاع اس بات کی یاد دہانی تھا کہ جب بین الاقوامی سیاست مذہبی جذبات کے ساتھ خلط ملط ہو جائے تو احتجاج اور تشدد کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح شمالی علاقوں اور سکردو میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ ہزاروں میل دور ہونے والی جنگ کا ردعمل اپنے ہی معاشرے کے افراد کے خلاف کیوں ظاہر ہوتا ہے؟

یہ کوئی نئی صورتحال نہیں۔ 1947ء کی تقسیمِ ہند بھی اسی نفسیات کی ایک المناک مثال تھی۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے لوگ اچانک ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ مذہبی اور سیاسی جذبات نے عقل اور انسانیت کو پسِ پشت دھکیل دیا، اور نفرت نے ایسے زخم چھوڑے جن کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس پوری صورتحال میں ایک واضح سبق پوشیدہ ہے۔ ہماری اصل طاقت صرف عسکری صلاحیت نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، مسالک اور سیاسی نظریات کا مجموعہ ہے۔ اگر یہ تنوع باہمی احترام اور قومی شعور کے ساتھ جڑا رہے تو یہی ہماری قوت بن جاتا ہے، لیکن اگر یہی اختلافات نفرت اور تقسیم میں بدل جائیں تو وہ کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں۔

قومی سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ دلوں اور ذہنوں کے درمیان موجود اعتماد کو برقرار رکھنے کا نام بھی ہے۔ دنیا کی طاقتیں ہمیشہ ان معاشروں کو آسان ہدف سمجھتی ہیں جو اندرونی طور پر منقسم ہوں۔ اس لیے ہر قوم کی پہلی ذمہ داری اپنی داخلی یکجہتی کو محفوظ رکھنا ہے۔

ایران کی حالیہ جنگ کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہتھیار ضروری ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ اہم قومی یکجہتی ہے۔ میزائل دشمن کے حملوں کو روک سکتے ہیں، مگر نفرت، تعصب اور داخلی انتشار کا مقابلہ صرف شعور، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری سے کیا جا سکتا ہے۔

تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: سرحدوں پر ہونے والی جنگیں ایک دن ختم ہو جاتی ہیں، لیکن معاشرتی تقسیم کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑی فتح صرف میدانِ جنگ میں کامیابی نہیں، بلکہ اپنے معاشرے کو نفرت سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ کیونکہ جنگ سے بڑا زخم دشمن کا حملہ نہیں، اپنے ہی معاشرے کا بکھر جانا ہے۔


منگل، 5 مئی، 2026

موبائل فون کا شعوری استعمال

 



موبائل فون کا شعوری استعمال
آج کا انسان بظاہر آزاد ہے، مگر حقیقت میں اس کی توجہ، وقت اور عادات ایک چھوٹی سی اسکرین کے تابع ہو چکی ہیں۔ موبائل فون، جو کبھی سہولت کے طور پر آیا تھا، اب ہماری زندگی کے ہر گوشے میں اس طرح سرایت کر چکا ہے کہ اس کے بغیر لمحہ بھر رہنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ موبائل فون ضروری ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے مالک ہیں یا یہ ہمارا مالک بن چکا ہے؟
روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ کھانے کی میز ہو یا دوستوں کی محفل، ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے—وہ دنیا جو اس کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ اس کے اردگرد۔ بظاہر ہم جڑے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تضاد جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس نے رابطہ تو آسان کیا، مگر تعلق کو کمزور کر دیا۔
مسئلہ صرف وقت کے ضیاع کا نہیں، بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کا بھی ہے۔ مسلسل اسکرین کے سامنے رہنا توجہ کو منتشر کرتا ہے، نیند کے نظام کو بگاڑتا ہے اور انسان کو ایک بے نام سی تھکن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ رات گئے تک موبائل استعمال کرنا اب ایک عادت بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ اگلے دن کی کارکردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو آن لائن دنیا کا ہے، جہاں ہر خبر سچ نہیں ہوتی اور ہر معلومات معتبر نہیں ہوتی۔ بغیر تحقیق کے مواد کو قبول کرنا اور آگے پھیلانا ایک فکری بحران کو جنم دیتا ہے۔ اس صورتحال میں موبائل فون محض ایک آلہ نہیں رہتا بلکہ سوچ کو تشکیل دینے والا ذریعہ بن جاتا ہے—اور اگر اس کا استعمال غیر محتاط ہو تو یہی ذریعہ گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی روشن ہے۔ یہی موبائل فون علم کا خزانہ بھی ہے، سیکھنے کا ذریعہ بھی اور ترقی کا راستہ بھی۔ اگر اسے شعوری طور پر استعمال کیا جائے تو ایک عام انسان بھی عالمی سطح کی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے اور اپنے وقت کو مفید بنا سکتا ہے۔ فرق صرف نیت اور استعمال کے انداز کا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم موبائل فون کے استعمال کے لیے حدود مقرر کریں۔ ہر لمحہ فون چیک کرنے کے بجائے مخصوص اوقات طے کیے جائیں، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کیے جائیں اور کچھ مقامات کو مکمل طور پر “نو فون زون” قرار دیا جائے خاص طور پر دسترخوان۔ اسی طرح بچوں کے لیے اس کے استعمال پر خاص توجہ دی جائے، کیونکہ ان کی عادات وہیں سے تشکیل پاتی ہیں جہاں ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
 موبائل فون  کی افادیت یا نقصان کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم اس کے استعمال پر کنٹرول حاصل کر لیں تو یہ ہماری زندگی کو آسان اور بامقصد بنا سکتا ہے، اور اگر ہم اس کے تابع ہو جائیں تو یہی سہولت ایک خاموش قید میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
 فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم اس چھوٹی سی اسکرین کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے دیں گے، یا اسے ایک مفید آلے کے طور پر اپنے قابو میں رکھیں گے؟ 

اتوار، 26 اپریل، 2026

غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ


 غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ

کہتے ہیں انسان کا غصہ زیادہ سے زیادہ تین منٹ کا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یا تو وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، یا اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ غصے میں تھا بھی یا نہیں۔ مگر جدید دور نے اس سادہ اصول کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے—اب غصہ صرف دل میں نہیں رہتا، بلکہ سیدھا موبائل کی اسکرین پر آ جاتا ہے، اور پھر وہاں سے پوری دنیا کا چکر لگا آتا ہے۔
پہلے زمانے میں غصہ آیا تو آدمی دروازہ پٹخ دیتا تھا، یا زیادہ ہوا تو برتن۔ اب غصہ آئے تو لوگ “پوسٹ” کر دیتے ہیں۔ اور وہ پوسٹ ایسی ہوتی ہے کہ تین منٹ کا غصہ تیس سال کی شرمندگی میں بدل سکتا ہے۔
ایک دلچسپ بات ایک صحافی نے کہی کہ دنیا کی بڑی فوجی طاقت کے صدر کے ٹویٹ کی عمر اوسطاً 43 سیکنڈ ہوتی ہے۔ یعنی ایک طرف ایٹمی طاقت، عالمی معیشت، سفارتی تعلقات—اور دوسری طرف 43 سیکنڈ کا جذباتی اظہار۔ انسان کا تین منٹ کا غصہ تو پھر بھی نسبتاً پائیدار معلوم ہوتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر اس جدید دور کے طاقتور ترین افراد کے ہاتھ میں اسمارٹ فون نہ ہوں تو کیا ہو؟ ذرا تصور کریں کہ کسی دن اچانک ان سے اسمارٹ فون لے کر ایک پرانا سا نوکیا 3310 ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔
اب وہ غصے میں ہیں۔ ٹویٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر پہلے میسج لکھنے کے لیے “abc” کو “2” سے، “def” کو “3” سے تلاش کرنا پڑے گا۔ ایک لفظ لکھنے میں ہی آدھا غصہ ختم ہو جائے گا۔ جملہ مکمل ہونے تک تین منٹ گزر چکے ہوں گے—اور اصول کے مطابق غصہ بھی۔
یوں دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے، صرف اس وجہ سے کہ “Send” بٹن تک پہنچنے میں دیر ہو گئی۔
اصل مسئلہ شاید غصہ نہیں، رفتار ہے۔ پہلے غصہ آتا تھا، گزرتا تھا، اور ختم ہو جاتا تھا۔ اب غصہ آتا ہے، فوراً نشر ہو جاتا ہے، اور پھر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ تین منٹ کی عارضی کیفیت، ڈیجیٹل دنیا میں مستقل ریکارڈ بن جاتی ہے۔
ہم سب اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے “ٹرمپ” ہیں—ہمارے ہاتھ میں بھی موبائل ہے، ہمیں بھی غصہ آتا ہے، اور ہم بھی اکثر 43 سیکنڈ کے اندر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کیا کہنا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری بات عالمی خبر نہیں بنتی، مگر ہمارے تعلقات ضرور متاثر ہو جاتے ہیں۔
شاید حل بہت مشکل نہیں۔ اگلی بار غصہ آئے تو موبائل کو ایک طرف رکھ دیں۔ تین منٹ انتظار کریں۔ اگر اس کے بعد بھی بات ضروری لگے، تو کہہ دیں۔ ورنہ سمجھ لیں کہ آپ نے دنیا کو ایک چھوٹے سے بحران سے بچا لیا ہے۔
اور اگر یہ ممکن نہ ہو—تو کم از کم ایک نوکیا 3310 ہی خرید لیں۔ دنیا کا نہیں تو آپ کا اپنا سکون ضرور واپس آ جائے گا۔