بدھ، 7 اکتوبر، 2026

سمر قندی جج اور پاکستانی صدر




سمر قندی جج اور پاکستانی صدر


سمرقند سے اسلام آباد کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو پچاس کلومیٹر ہے، مگر انصاف کے سفر میں دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ صرف جغرافیہ کا نہیں، تقریباً تیرہ سو برس کا ہے۔

اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں سمرقند کے لوگوں نے شکایت کی کہ مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم نے شہر پر قبضہ کرتے ہوئے وہ شرائط پوری نہیں کیں جو جنگ اور فتح کے بارے میں رائج اسلامی اصولوں کے مطابق ضروری تھیں۔ ، نہ اسلام کی دعوت دی گئی نہ خراج بارے بتایا گیا اور نہ ہی اس کے باشندوں کو مناسب سوچ بچار کا موقع دیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شہر پر اچانک قبضہ کیا گیا ۔جو اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا ۔ لہذا فاتحین سے شہر کو خالی کرایا جائے ۔

یہ شکایت ایک ایسے خلیفہ کے سامنے پیش ہوئی جس کا اپنا سپہ سالار فاتح تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ چاہتے تو اسے ایک مفتوح شہر کی معمولی شکایت سمجھ کر نظرانداز کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے گورنر کو حکم دیا کہ شکایت کی باقاعدہ سماعت کے لیے قاضی مقرر کیا جائے اور فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے۔

چنانچہ قاضی جمیع بن حاضر الباجی نے مقدمہ سنا۔ مقدمہ کا مدعی ایک پادری تھا اور فاتح سپہ سالار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ قاضی نے یہ نہیں دیکھا کہ ایک طرف فاتح فوج ہے اور دوسری طرف مفتوح لوگ۔ اس نے صرف یہ دیکھا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔

سماعت کے دوران ثابت ہو گیا کہ پادری کا دعوی درست ہے ۔قاضی نے حکم دیا کہ اگر فتح مقررہ اصولوں کے مطابق نہیں ہوئی تو مسلم فوج شام سے پہلے سمر قند سے نکل جائے ۔

یہاں تاریخ کا اصل سبق شروع ہوتا ہے۔
حکمران نے اپنے سپہ سالار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا، فاتح فوج کو قانون کا متبادل نہیں بنایا اور ریاستی طاقت کو عدالتی فیصلے کے مقابل کھڑا نہیں کیا۔ بلکہ ریاست نے اپنے ہی طاقتور فریق کو عدالت کے سامنے لا کھڑا کیا۔
یہ واقعہ بلاذری نے فتوح البلدان میں نقل کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک عدالتی مقدمہ کی روداد معروف صحافی اعزاز سید
کے پروگرام ’’ٹاک شاک‘‘ میں بیان ہوئی ہے ۔ واقعے کے مطابق، اوورسیز پاکستانی عمر احمد عزیز نے 2008ء میں ڈی ایچ اے ویلی اسلام آبادکے اوورسیز بلاک میں پلاٹ کے لیے گیارہ سو ڈالر جمع کرائے۔ پلاٹ نہ مل سکا تو انہوں نے رقم واپس لینے کی کوشش شروع کی۔ معاملہ مختلف اداروں اور فورمز سے ہوتا ہوا 2024ء میں ایوانِ صدر تک پہنچا۔

صدرِ پاکستان کے دفتر سے، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کو رقم واپس کرنے کی ہدایت ہوئی، مگر ڈی ایچ اے کے نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اسلام آبادی جج نے ڈی ایچ اے کی اپیل پر سماعت شروع کردی ۔

سمرقند میں ایک شکایت نے ریاست کے طاقتور ترین ،اپنے ہی سپہ سالارکو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس نے خلاف فیصلہ صادر کیا تو اس پر عمل ہوا، اور شام سے پہلے سپہ سالار اپنی سپاہ کو لے کر سمرقند سے نکل گیا ۔

مگر اس انصاف نے سمر قندیوں کے دل میں فاتحین کے لیے وہ جگہ بنائی کہ عدالت میں مدعی پادری خود چل کر سپہ سالار کے پاس گیا اور اسے سمرقند میں داخل ہونے کی دعوت دی۔

ریاست کی اصل طاقت اس کے بڑے عہدوں، وسیع اختیارات یا طاقتور اداروں میں نہیں ہوتی۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ایک کمزور شہری کو بھی یقین ہو کہ اس کا حق کسی طاقتور شخص، ادارے یا عہدے کے سامنے بے معنی نہیں ہوگا۔

اسی لیے سمرقند کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں، ریاستی انصاف کا ایک اصول ہے۔ فاتح قتیبہ بن جرنیل تھا، مگر فیصلہ اس کے حق میں ہونا ضروری نہیں سمجھا گیا۔

شکایت کرنے والا سمرقند کا پادری تھا ، مگر ان کا غیر مسلم یا مفتوح ہونا ان کے حقِ انصاف میں رکاوٹ نہیں بنا۔

قاضی نے صرف ایک سوال دیکھا تھا:

حق کس کے ساتھ ہے؟

ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025ء کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر تھا، جبکہ شہری انصاف کے شعبے میں اس کی پوزیشن 129ویں تھی۔ یہ اشاریہ صرف عدالتوں کے فیصلوں کو نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی، مؤثریت، غیر جانب داری اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو بھی جانچتا ہے۔

اعداد اپنے اندر کوئی جذبات نہیں رکھتے، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔
وہ شخص جس کی زمین کسی تنازع میں پھنسی ہے۔
وہ شخص جس کی پنشن رکی ہوئی ہے۔
وہ شخص جس کی دکان یا مکان کا مقدمہ برسوں سے چل رہا ہے۔
وہ شخص جس کی جمع پونجی واپس نہیں ہو رہی۔
اور کبھی وہ شخص بھی جس کے صرف گیارہ سو ڈالر کسی نظام کے پیچیدہ راستوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

انصاف صرف یہ نہیں کہ آخرکار فیصلہ آ جائے۔ انصاف یہ بھی ہے کہ فیصلہ وقت پر آئے، حق دار تک پہنچے اور اسے اپنے حق کے لیے غیر معمولی طاقت کا سہارا نہ لینا پڑے۔

سمرقند کے قاضی نے ایک فاتح فوج کو یہ پیغام دیا تھا کہ فتح تمہیں قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔عدالت نے طاقت کو قانون کے تابع کیا تھا۔

ریاست کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مقابل کھڑے ایک کمزور انسان کے حق کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔

آج پاکستان میں کہیں بھی کسی سے پوچھ لیں:
"اگر حق ایک طرف ہو اور طاقت دوسری طرف، تو عدالت کا فیصلہ کس کے حق میں ہوگا؟"

جمعرات، 1 اکتوبر، 2026

میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد


میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد
بارہ جون 2018ء، رمضان المبارک کے دن تھے۔ راولپنڈی کا کمیٹی چوک حسبِ معمول مصروف تھا۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور نے ایک گاڑی کو غلط سمت سے آتے دیکھا اور اسے روکنے کی کوشش کی۔ بظاہر یہ ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی تھی؛ چالان ہونا تھا، جرمانہ ادا ہونا تھا اور چند لمحوں بعد معاملہ ختم ہوجانا تھا۔

مگر ایسا نہ ہوا۔ تلخی بڑھی، اشتعال نے شدت اختیار کی اور فائرنگ ہوگئی۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور اور ایک راہ گیر، نثار احمد، جاں بحق ہوگئے۔ ایک معمولی خلاف ورزی چند لمحوں میں انسانی المیے میں بدل گئی۔

اس واقعے کو صرف قتل کی ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا آسان ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بنیادی معاشرتی سوال موجود ہے: ہم اختلاف برداشت کرنا، روک ٹوک قبول کرنا اور غصے کے لمحے میں خود پر قابو رکھنا کب سیکھیں گے؟

قانون موجود ہونا ضروری ہے، مگر قانون کا احترام محض سزا کے خوف سے پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت جرم کے بعد فیصلہ کرتی ہے، پولیس قانون نافذ کرتی ہے؛ لیکن برداشت، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کا شعور اس سے کہیں پہلے انسان کے اندر تشکیل پاتا ہے۔

یہ تربیت سب سے پہلے گھر میں شروع ہوتی ہے، اسکول اسے آگے بڑھاتا ہے، مگر آج ایک تیسرا استاد بھی ہماری زندگی میں مسلسل موجود ہے۔ وہ استاد ہے میڈیا۔

ٹیلی وژن، اخبار، ریڈیو، فلم اور سوشل میڈیا صرف معلومات یا تفریح فراہم نہیں کرتے؛ وہ ہمیں رویوں کے نمونے بھی دکھاتے ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر یہ تصور تشکیل دیتے ہیں کہ طاقت کیا ہے، کامیابی کس چیز کا نام ہے، بہادری کیسی دکھائی دیتی ہے اور اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے۔

اسی لیے میڈیا کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ سمجھنا اس کی اصل قوت کو محدود کرنا ہے۔ میڈیا معاشرے کا خاموش استاد ہے۔

کینیڈین مفکر مارشل میک لوہن نے اسی حقیقت کو اپنے معروف جملے میں بیان کیا

“The medium is the message.”
یعنی ابلاغ کا ذریعہ خود بھی پیغام بن جاتا ہے۔ جس انداز میں کوئی بات ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے، وہ ہمارے ادراک اور رویے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ اثر مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی۔ اگر فلم، ڈرامہ یا سوشل میڈیا میں دھونس کو طاقت، انتقام کو بہادری، بدتمیزی کو بے باکی اور قانون شکنی کو ذہانت بنا کر پیش کیا جائے تو ناظر صرف ایک کہانی نہیں دیکھ رہا ہوتا؛ وہ ایک رویے کا نمونہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحمل، دیانت، قانون پسندی، مکالمے اور انسانی احترام کو باوقار کرداروں کے ذریعے دکھایا جائے تو یہی ذریعہ معاشرتی تربیت کا وسیلہ بن سکتا ہے۔

دنیا میں میڈیا اور تعلیم کے اس تعلق کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو صرف شہروں کی تعمیرِ نو نہیں کرنی تھی؛ اسے ایک نئے اجتماعی شعور کی بھی ضرورت تھی۔ ریڈیو، اخبارات اور فلموں سمیت ذرائع ابلاغ نے امن، جمہوریت اور شہری ذمہ داری سے متعلق تصورات کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی سطح پر اہمیت دی گئی۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے کہ خبر کا ماخذ کیا ہے، خبر اور رائے میں کیا فرق ہے اور گمراہ کن معلومات کو کس طرح پہچانا جائے۔

برطانیہ میں بی بی سی کی عوامی خدمت کی روایت نے بھی نشریات کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا۔ تعلیم، سائنس، تاریخ، ادب اور ثقافت کے پروگراموں کے ذریعے عوامی علم اور سماجی شعور کو نشریاتی ذمہ داری کا حصہ سمجھا گیا۔

آج پاکستان میں اس ضرورت کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوچکی ہے۔ موبائل فون نے ہر شہری کو صرف خبر کا صارف نہیں بلکہ خبر کا پھیلانے والا بھی بنا دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع، افواہ یا جعلی تصویر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے مصنوعی تصاویر، آوازوں اور ویڈیوز کی تیاری بھی آسان کردی ہے۔
اس لیے آج میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں، خبر کو پرکھنے کی عادت پیدا کرنا بھی ہے۔
لیکن میڈیا لٹریسی کا مطلب صرف جعلی خبر پہچاننا نہیں۔ اس کا ایک بڑا حصہ انسانی رویوں کی تربیت بھی ہے۔

ایک ڈرامہ یہ دکھا سکتا ہے کہ سرخ بتی پر رکنا محض جرمانے سے بچنے کا طریقہ نہیں بلکہ دوسرے انسان کی جان کا احترام ہے۔ ایک اشتہار قطار توڑنے والے کو چالاک نہیں بلکہ غیر ذمہ دار دکھا سکتا ہے۔ ایک سیاسی پروگرام یہ عملی مثال قائم کرسکتا ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود مخالف کی عزت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ کسی حادثے کی خبر صرف ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے بجائے یہ سوال بھی اٹھا سکتی ہے کہ اس حادثے کے پیچھے کون سی انسانی غفلت اور معاشرتی عادتیں کارفرما تھیں۔

اس طرح نصیحت کیے بغیر تربیت ممکن ہے۔
خاص طور پر سیاسی گفتگو میں میڈیا کا اثر بہت گہرا ہے۔ اگر اختلاف کا مطلب چیخنا، تضحیک، الزام اور ذاتی حملہ بن جائے تو ناظر کے سامنے ایک ایسا معاشرتی نمونہ آتا ہے جس میں مخالف کو شکست دینا، اسے سمجھنے سے زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس دلیل، تحمل اور احترام کے ساتھ اختلاف پیش کیا جائے تو وہی پروگرام ایک عملی درس گاہ بن سکتا ہے۔

جرائم کی رپورٹنگ بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جرم کو سنسنی میں تبدیل کرنا توجہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن جرم کے اسباب، نتائج اور سماجی پس منظر پر گفتگو عوام کو محض تماشائی بننے کے بجائے مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

کمیٹی چوک کا واقعہ اسی لیے ہمارے سامنے دوبارہ آتا ہے۔
راجہ رئیس داؤد کو واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ 12 نومبر 2020ء کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شاہد سرور اور نثار احمد کے قتل کے مقدمے میں اسے تین مرتبہ سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ اس کے ڈرائیور عمران اقبال کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے جرم کا فیصلہ کردیا، لیکن معاشرے کا سوال اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے:
ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی برداشت کیوں نہ ہوسکی؟ روک ٹوک انا کا مسئلہ کیوں بن گئی؟ غصے کے چند لمحوں پر قابو کیوں نہ پایا جاسکا؟

یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں؛ ہمارے اجتماعی مزاج کا سوال ہے۔
ہمیں ایسے شہری درکار ہیں جو صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ قانون کی ضرورت اور دوسرے انسان کے حق کو سمجھ کر رکیں؛ جو اختلاف کو اپنی توہین نہ سمجھیں؛ جو غصے میں ہاتھ اٹھانے کے بجائے خود کو روک سکیں؛ اور جو غیر مصدقہ خبر آگے بڑھانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں۔

اس تربیت میں گھر اور اسکول کا کردار بنیادی ہے، مگر جدید انسان کا بڑا حصہ میڈیا کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس لیے میڈیا کو اپنی طاقت کا شعور بھی ہونا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کا بھی۔

اس کا مقصد یہ نہیں کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ انہیں کیا سوچنا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ انہیں بہتر انداز میں سوچنے، سوال کرنے اور دوسروں کو سمجھنے کا موقع دیا جائے۔

ایک مہذب معاشرہ صرف قوانین، عدالتوں اور پولیس سے نہیں بنتا۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی عادتوں سے بنتا ہے: سرخ بتی پر رکنے سے، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے سے، مخالف کی بات سننے سے، غصے میں خود کو روکنے سے، عوامی املاک کا احترام کرنے سے اور غیر مصدقہ خبر کو آگے نہ بڑھانے سے۔
اگر میڈیا ان چھوٹی مگر بنیادی عادتوں کو قابلِ احترام بنا دے تو وہ صرف معاشرے کا آئینہ نہیں رہے گا۔
وہ معاشرے کی تعمیر کا خاموش، مگر طاقتور استاد بن جائے گا۔

بدھ، 30 ستمبر، 2026

سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے




سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے

’’مذہب انسان میں خدا کا خوف پیدا کرتا ہے"‘‘
"سیاست حکمرانوں میں عوام کا خوف پیدا کرتی ہے"
یہ جملے کسی مشہور تاریخی یا ادبی شخصیت کا باقاعدہ یا مستند قول نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستانی مجلسی و عوامی حلقوں میں رائج مقبول جملےہیں
البتہ تھامس جیفرسن ( امریکہ کے سابق صدر) نے کہا تھا "جب عوام حکومت سے ڈرتے ہیں تو یہ ظلم و آمریت ہے، لیکن جب حکومت عوام سے ڈرتی ہے تو یہ آزادی ہے۔"
شاید ہمارے عہد کا المیہ یہی ہے کہ مذہب نے خدا کا خوف اور سیاست نے عوام کا خوف کھو دیا ہے۔
مذہب انسان اور خدا کے تعلق، زندگی کے مقصد، خیر و شر، اخلاق اور آخرت کا شعور ہے۔ سیاست انسانوں کے اجتماعی معاملات، اقتدار، قانون، وسائل اور حقوق کے نظم کا نام ہے۔ ایک انسان کے باطن کو سنوارنے کا دعویٰ کرتا ہے، دوسری معاشرے کے ظاہر کو منظم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ دونوں کا مقصد، اپنے اصل تصور میں، انسان کو زیادہ محفوظ، عادل اور ذمہ دار بنانا تھا۔
لیکن ہم نے دونوں کو بدنام کر دیا۔
مذہب کو فرقے کی شناخت بنا دیا اور سیاست کو جماعت کی ۔ مذہب میں اختلاف کو کفر کا درجہ دے دیا ، سیاست میں اختلاف کو دشمنی کا۔ مذہبی رہنما نے اپنے پیروکاروں کو اپنے مخالف سے نفرت سکھائی اور سیاسی رہنما نے اپنے ووٹر کو دوسرے شہری سے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب روحانی اصلاح کے بجائے گروہی طاقت اور سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی جنگ بنتی گئی۔
مذہب جب اخلاق بنے تو انسان کو طاقتور کے سامنے کھڑا کرتا ہے، اور سیاست جب خدمت بنے تو طاقتور کو انسان کے سامنے جواب دہ بناتی ہے۔
پھر دونوں بے توقیر کیوں ہوئے؟
کیونکہ ہم نے اصولوں سے زیادہ اصولوں کے محافظوں پر بھروسا شروع کر دیا۔
ایک عالم کی غلطی کو مذہب کی غلطی سمجھ لیا، ایک سیاست دان کی بدعنوانی کو سیاست کی فطرت سمجھ لیا۔ حالانکہ مذہب اور مذہبی پیشوا ایک چیز نہیں، سیاست اور سیاست دان بھی ایک چیز نہیں۔
اصل خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب مقدس الفاظ کے پیچھے غیر مقدس مفادات چھپ جائیں۔جب مذہب سے روزگار، شہرت، ووٹ، فرقہ یا اقتدار حاصل کیا جائے تو مذہب کی زبان باقی رہتی ہے، روح چلی جاتی ہے۔
جب سیاست سے دولت، خاندان، انتقام یا ذاتی اقتدار حاصل کیا جائے تو جمہوریت کے نعرے باقی رہتے ہیں، عوام چلے جاتے ہیں۔
ہم نے مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا کہ انسان خدا سے زیادہ مذہبی گروہوں سے ڈرنے لگا، اور سیاست کو اتنا گندا کر دیا کہ شہری ریاست سے انصاف مانگنے کے بجائے اپنے سیاسی تعلقات تلاش کرنے لگا۔
یہی دونوں کی بے توقیری ہے۔
مذہب کا تقدس انسان کے کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔ سیاست کا تقدس عوام کی امانت میں ہوتا ہے۔
مذہب اگر انسان کو رحم، عدل، دیانت اور اخلاق نہیں سکھاتا تو سوال مذہب سے پہلے مذہبی رہنماء سے ہونا چاہیے۔
سیاست اگر کمزور کو تحفظ، اختلاف کرنے والے کو حق اور عام شہری کو انصاف نہیں دیتی تو سوال سیاست سے پہلے سیاست دان سے ہونا چاہیے۔
مذہب اور سیاست دونوں تب بدنام ہوتے ہیں جب مقدس اصولوں کو غیر مقدس ہاتھ استعمال کرنے لگتے ہیں۔
اور شاید ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب سے خدا کو اور سیاست سے عوام کو نکال کر، دونوں میں صرف اپنا مفاد باقی چھوڑ دیا ہے۔
مذہب کا سوال ہے: تم انسان کیسے ہو؟
سیاست کا سوال ہے: تم انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟
اگر دونوں سوال مر جائیں تو مذہب بھی رسم بن جاتا ہے اور سیاست بھی کاروبار۔
پھر مقدس موضوع باقی رہتے ہیں مگر ان پر گفتگو غیرمقدس ہو جاتی ہے اور
ان کی تقدیر میں صرف بے توقیری لکھی جاتی ہے۔
بے توقیری کا عالم یہ ہو گیا ہے کہ حجام نے بھی اپنی دوکان پرنوٹس چسپاں کیا ہوتا ہے "سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے"

منگل، 29 ستمبر، 2026

خوف زدہ انسان خطرناک ہوتا ہے



خوف زدہ انسان خطر ناک ہوتا ہے
یہودی مذہبی متون میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ سفر میں تھے۔ عیسو چار سو آدمیوں کے ساتھ سامنے تھا۔ رفتار تیز کی جا سکتی تھی، مگر یعقوبؑ نے کہا: "بچے نازک ہیں۔" طاقتور قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا، لیکن بچوں کو ان کی رفتار سے چلایا گیا۔
یہ صرف ایک باپ کا فیصلہ نہیں، ایک مذہبی اخلاقیات کا آئینہ ہے: بچہ پہلے بچہ ہے، کسی قوم کا نمائندہ بعد میں۔

مگر خوف انسان کے ذہن کو بدل دیتا ہے۔ خوف صرف ہمیں خطرے سے نہیں ڈراتا، وہ ہمیں اپنی شناخت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ جب انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’وہ‘‘ ہمارے لیے خطرہ ہے تو آہستہ آہستہ ’’وہ‘‘ ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ ایک گروہ بن جاتا ہے۔ پھر گروہ ایک شناخت بن جاتا ہے، شناخت دشمنی کی علامت، اور دشمنی اخلاقی فاصلے میں بدل جاتی ہے۔
یہ خوف کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ انسان خطرے کو دیکھتے دیکھتے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ’’بچہ‘‘ صرف بچہ نہیں رہتا؛ ’’دشمن کا بچہ‘‘ بن جاتا ہے۔

عرب معاشروں میں مذہب زندگی سے الگ کوئی کتابی تصور نہیں۔ مختلف مذاہب کی روایتوں میں انصاف، رحم، کمزوروں کی حفاظت اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب کی اخلاقی تعلیم سیاسی شناخت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کی مذہبی روایت میں یتیم پر ظلم سے روکا گیا ہے۔ تورات میں بیوہ اور یتیم کو تکلیف نہ دینے کا حکم ہے اور ان کی فریاد کو خدا کی سماعت سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے میں اسماعیلؑ نام کا روتا ہوا بچہ خدا کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
یعنی مذہبی روایت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بچہ کس قوم کا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ بچہ ہے۔

یعقوبؑ کے ہاں بچے کی نزاکت، ابراہیمؑ کے گھرانے میں بچے کی فریاد اور موسیٰؑ کی شریعت میں یتیم کا حق—تینوں ایک ہی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کمزور کی انسانیت اس کی شناخت سے بڑی ہے۔

پھر خوف اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ وہ پہلے شناخت بناتا ہے، پھر شناخت کے گرد خطرے کی کہانی تعمیر کرتا ہے، پھر ہر فرد کو اس خطرے کا ممکنہ نمائندہ بنا دیتا ہے۔ اس مقام پر ایک عام آدمی بھی ’’قوم‘‘ بن جاتا ہے، ایک عورت ’’دشمن کی عورت‘‘، اور ایک بچہ ’’مستقبل کا دشمن‘‘۔

اسرائیلی اور فلسطینی خوف کی تاریخیں ایک جیسی نہیں، مگر دونوں حقیقی انسانی خوف ہیں۔ اسرائیلی اجتماعی حافظے میں یہودیوں کی مسلسل بے وطنی ہے۔ فلسطینی اجتماعی حافظے میں بے دخلی، قبضہ، جنگ، تباہی، نقل مکانی اور اپنے بچوں کی ہلاکتوں اور مستقبل کے بارے میں عدمِ تحفظ کے تجربات موجود ہیں۔ 2023 کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی نے عدم تحٖفظ کو مزید گہرا کیا ہے۔

خوف انسانی سطح پر مشترک ہو سکتا ہے، مگر طاقت، حالات اور نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ اسرائیلی شہریوں نے اپنے تاریخی عدم تحفظ کا خوف جھیلا، غزہ کے فلسطینی شہریوں نے بڑے پیمانے پر ہلاکت، نقل مکانی، تباہی ، نسل کشی اور بنیادی ضروریات کے بحران کا سامنا کیا۔

مگر خوف کی نفسیات دونوں طرف ایک ہی خطرناک کام کر سکتی ہے: وہ انسان کو اس کی شناخت کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ پھر اسرائیلی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، اسرائیل بن جاتا ہے۔ فلسطینی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، فلسطین کا بچہ بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو انسان اپنے گروہ کے بچے کے لیے جو اخلاقی معیار رکھتا ہے، دوسرے کے بچے پر وہی معیار لاگو نہیں کرتا۔
اپنا بچہ معصوم۔
دوسرے کا بچہ خطرہ۔
اپنی ماں کا آنسو انسانی المیہ۔
دوسرے کی ماں کا آنسو جنگ کی قیمت۔
یہ صرف تعصب نہیںبلکہ یہ خوف کی پیدا کردہ اخلاقی تقسیم ہے۔

مذہب اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یتیم کے حق میں انصاف کرو، کمزور پر رحم کرو، بچے کی نزاکت کو سمجھو۔ سیاسی خوف کہتا ہے: پہلے اس کی شناخت دیکھو، پھر طے کرو کہ اس کے ساتھ کتنی انسانیت برتنی ہے۔

یہیں مذہب کی اخلاقی تعلیم اور مذہب کی سیاسی تعبیر آمنے سامنے آتی ہیں۔
مذہب بچے میں انسان دیکھتا ہے۔
خوف بچے میں شناخت دیکھتا ہے۔
سیاست شناخت میں خطرہ دیکھتی ہے۔
اور جب شناخت انسان سے بڑی ہو جائے تو انسان کی جان بھی شناخت کے تابع ہو جاتی ہے۔

شاید آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیلی بچہ زیادہ معصوم ہے یا فلسطینی بچہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوف نے ہمیں اتنا بدل دیا ہے کہ ہم بچے کو دیکھنے سے پہلے اس کی شناخت دیکھتے ہیں؟
حضرت یعقوبؑ نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا: "بچے نازک ہیں۔"
یہ جملہ اسرائیلی بچے پر بھی اتنا ہی صادق ہے جتنا فلسطینی بچے پر۔
بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، یہودی ہو یا مسلمان، ہمارا ہو یا کسی ’’دوسرے‘‘ کا—وہ پہلے بچہ ہے۔

اور شاید مذہب کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ خوف کے باوجود ہم انسان کو اس کی شناخت سے پہلے انسان دیکھتے رہیں۔

پیر، 28 ستمبر، 2026

دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق







دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق

میری نوجوانی میں خلیج کے ایک شیخ کی زکوٰۃ ایک مصری ملازم مستحقین میں تقسیم کرتا تھا۔ ایک شخص نے رقم لینے کے بجائے شیخ سے ملنے کی خواہش کی۔ سامنے پہنچا تو بولا:
’’مجھے رقم نہیں، ایک دکان چاہیے۔‘‘
شیخ نے کہا، ’’زکوٰۃ کی رقم سے دکان کا کرایہ ادا کرو او دوکان لے لو، مسئلہ کیا ہے‘‘
وہ بولا:
’’مجھے صرف رقم نہیں، آپ کی سرپرستی چاہیے۔‘‘
وہ صرف رقم  نہیں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع مانگ رہا تھا۔

کچھ عرصے بعد ایک دوسرے تاجر کو دیکھا۔ اس کے پاس کاروبار، سرمایہ اور چلتا ہوا بازار تھا، مگر اس نے سرمایہ مکان اور گاڑی میں لگا دیا۔ کاروبار کمزور ہوا اور چند سال بعد وہ اسی بازار میں سیلز مین تھا۔
ایک شخص موقع مانگ رہا تھا، دوسرے کے پاس موقع تھا مگر اس نے اسے ضائع کردیا۔

پھر اسلام آباد میں ایک تاجر کا گودام جل گیا۔ برسوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی۔ مگر اس نے اپنی موٹر سائیکل بیچی، کچھ سامان خریدا اور ریڑھی لگا لی۔
میں نے پوچھا، ’’کبھی کاؤنٹر پر بیٹھتے تھے، آج ریڑھی پر شرمندگی نہیں ہوتی؟‘‘
اس نے کہا:
’’پہلا مال بھی اللہ کی دین تھا۔ مجھے یقین ہے کہ دوبارہ اسی بازار میں اس سے بہتر دکان بنا لوں گا۔ مجھے اپنے رب سے مانگنے کا طریقہ آتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’وہ طریقہ کیا ہے؟‘‘
وہ بولا:
’’جو میرے بس میں ہے، اسے کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور جو میرے بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے اصرار کے ساتھ مانگتے شرمندہ نہیں ہوتا۔‘‘

یہ تینوں واقعات دراصل ایک ہی کہانی کے تین مرحلے ہیں: پہلے نے موقع مانگا، دوسرے نے موقع گنوایا، تیسرے سے موقع چھین لیا گیا—مگر اس نے اپنی محنت اور دعا سے دوبارہ موقع پیدا کرلیا۔

یہیں سے دعا کا اصل مفہوم سامنے آتا ہے۔ دعا انسان کو اسباب سے بے نیاز نہیں کرتی؛ اسے اسباب اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔‘‘
(النجم: 39)
اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے:
’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔‘‘
(الزمر: 53)
یعنی امید کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ امید وہ طاقت ہے جو اسے شکست کے بعد دوبارہ کھڑا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے:
’’اونٹنی کا گوڈا باندھو اور اللہ پر بھروسا کرو۔‘‘
یہی توکل ہے: سبب اختیار کرو، کوشش کرو، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردو۔

ہماری مشکل اکثر یہ نہیں کہ اللہ نے راستہ بند کردیا ہے؛ ہم منزل چاہتے ہیں مگر راستے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ دکان چاہیے مگر ریڑھی سے آغاز شرمندگی لگتا ہے۔ کامیابی چاہیے مگر چھوٹی شروعات قبول نہیں۔
حالانکہ چھوٹا کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتا، بے عملی کرتی ہے۔
اس لیے جب زندگی کچھ چھین لے تو یہ نہ پوچھیں:
’’میرے ساتھ ہی کیوں؟‘‘
پوچھیں:
’’اب میرے بس میں کیا ہے؟‘‘
جو بس میں ہے، وہ کریں؛ جو بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے مانگتے رہیں۔
ہاتھ دعا کے لیے آسمان کی طرف اٹھے رہیں، مگر رزق کے لیے زمین پر کام کرتے رہیں۔
جس تاجر کا گودام جل گیا تھا، وہ ریڑھی پر صرف سامان نہیں بیچ رہا تھا؛
وہ اپنی تباہ شدہ زندگی کا پہلا پہیہ دوبارہ گھما رہا تھا۔
شاید دعا کرنے اور صرف دعا مانگنے میں یہی فرق ہے:
ایک دعا کے بعد انتظار کرتا ہے، دوسرا دعا کے بعد اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔