خوف زدہ انسان خطر ناک ہوتا ہے
یہودی مذہبی متون میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ سفر میں تھے۔ عیسو چار سو آدمیوں کے ساتھ سامنے تھا۔ رفتار تیز کی جا سکتی تھی، مگر یعقوبؑ نے کہا: "بچے نازک ہیں۔" طاقتور قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا، لیکن بچوں کو ان کی رفتار سے چلایا گیا۔
یہ صرف ایک باپ کا فیصلہ نہیں، ایک مذہبی اخلاقیات کا آئینہ ہے: بچہ پہلے بچہ ہے، کسی قوم کا نمائندہ بعد میں۔
مگر خوف انسان کے ذہن کو بدل دیتا ہے۔ خوف صرف ہمیں خطرے سے نہیں ڈراتا، وہ ہمیں اپنی شناخت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ جب انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’وہ‘‘ ہمارے لیے خطرہ ہے تو آہستہ آہستہ ’’وہ‘‘ ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ ایک گروہ بن جاتا ہے۔ پھر گروہ ایک شناخت بن جاتا ہے، شناخت دشمنی کی علامت، اور دشمنی اخلاقی فاصلے میں بدل جاتی ہے۔
یہ خوف کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ انسان خطرے کو دیکھتے دیکھتے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ’’بچہ‘‘ صرف بچہ نہیں رہتا؛ ’’دشمن کا بچہ‘‘ بن جاتا ہے۔
عرب معاشروں میں مذہب زندگی سے الگ کوئی کتابی تصور نہیں۔ مختلف مذاہب کی روایتوں میں انصاف، رحم، کمزوروں کی حفاظت اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب کی اخلاقی تعلیم سیاسی شناخت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
حضرت موسیٰؑ کی مذہبی روایت میں یتیم پر ظلم سے روکا گیا ہے۔ تورات میں بیوہ اور یتیم کو تکلیف نہ دینے کا حکم ہے اور ان کی فریاد کو خدا کی سماعت سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے میں اسماعیلؑ نام کا روتا ہوا بچہ خدا کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
یعنی مذہبی روایت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بچہ کس قوم کا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ بچہ ہے۔
یعقوبؑ کے ہاں بچے کی نزاکت، ابراہیمؑ کے گھرانے میں بچے کی فریاد اور موسیٰؑ کی شریعت میں یتیم کا حق—تینوں ایک ہی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کمزور کی انسانیت اس کی شناخت سے بڑی ہے۔
پھر خوف اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ وہ پہلے شناخت بناتا ہے، پھر شناخت کے گرد خطرے کی کہانی تعمیر کرتا ہے، پھر ہر فرد کو اس خطرے کا ممکنہ نمائندہ بنا دیتا ہے۔ اس مقام پر ایک عام آدمی بھی ’’قوم‘‘ بن جاتا ہے، ایک عورت ’’دشمن کی عورت‘‘، اور ایک بچہ ’’مستقبل کا دشمن‘‘۔
اسرائیلی اور فلسطینی خوف کی تاریخیں ایک جیسی نہیں، مگر دونوں حقیقی انسانی خوف ہیں۔ اسرائیلی اجتماعی حافظے میں یہودیوں کی مسلسل بے وطنی ہے۔ فلسطینی اجتماعی حافظے میں بے دخلی، قبضہ، جنگ، تباہی، نقل مکانی اور اپنے بچوں کی ہلاکتوں اور مستقبل کے بارے میں عدمِ تحفظ کے تجربات موجود ہیں۔ 2023 کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی نے عدم تحٖفظ کو مزید گہرا کیا ہے۔
خوف انسانی سطح پر مشترک ہو سکتا ہے، مگر طاقت، حالات اور نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ اسرائیلی شہریوں نے اپنے تاریخی عدم تحفظ کا خوف جھیلا، غزہ کے فلسطینی شہریوں نے بڑے پیمانے پر ہلاکت، نقل مکانی، تباہی ، نسل کشی اور بنیادی ضروریات کے بحران کا سامنا کیا۔
مگر خوف کی نفسیات دونوں طرف ایک ہی خطرناک کام کر سکتی ہے: وہ انسان کو اس کی شناخت کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ پھر اسرائیلی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، اسرائیل بن جاتا ہے۔ فلسطینی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، فلسطین کا بچہ بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو انسان اپنے گروہ کے بچے کے لیے جو اخلاقی معیار رکھتا ہے، دوسرے کے بچے پر وہی معیار لاگو نہیں کرتا۔
اپنا بچہ معصوم۔
دوسرے کا بچہ خطرہ۔
اپنی ماں کا آنسو انسانی المیہ۔
دوسرے کی ماں کا آنسو جنگ کی قیمت۔
یہ صرف تعصب نہیںبلکہ یہ خوف کی پیدا کردہ اخلاقی تقسیم ہے۔
مذہب اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یتیم کے حق میں انصاف کرو، کمزور پر رحم کرو، بچے کی نزاکت کو سمجھو۔ سیاسی خوف کہتا ہے: پہلے اس کی شناخت دیکھو، پھر طے کرو کہ اس کے ساتھ کتنی انسانیت برتنی ہے۔
یہیں مذہب کی اخلاقی تعلیم اور مذہب کی سیاسی تعبیر آمنے سامنے آتی ہیں۔
مذہب بچے میں انسان دیکھتا ہے۔
خوف بچے میں شناخت دیکھتا ہے۔
سیاست شناخت میں خطرہ دیکھتی ہے۔
اور جب شناخت انسان سے بڑی ہو جائے تو انسان کی جان بھی شناخت کے تابع ہو جاتی ہے۔
شاید آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیلی بچہ زیادہ معصوم ہے یا فلسطینی بچہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوف نے ہمیں اتنا بدل دیا ہے کہ ہم بچے کو دیکھنے سے پہلے اس کی شناخت دیکھتے ہیں؟
حضرت یعقوبؑ نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا: "بچے نازک ہیں۔"
یہ جملہ اسرائیلی بچے پر بھی اتنا ہی صادق ہے جتنا فلسطینی بچے پر۔
بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، یہودی ہو یا مسلمان، ہمارا ہو یا کسی ’’دوسرے‘‘ کا—وہ پہلے بچہ ہے۔
اور شاید مذہب کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ خوف کے باوجود ہم انسان کو اس کی شناخت سے پہلے انسان دیکھتے رہیں۔
اردو کالم اور مضامین
علم کی روشنی سے منور تحریریں جو ذہن کے تاریک گوشوں کو منور کر سکتی ہیں
منگل، 29 ستمبر، 2026
خوف زدہ انسان خطرناک ہوتا ہے
پیر، 28 ستمبر، 2026
دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق
اتوار، 27 ستمبر، 2026
کافکا کا انصاف اور غزہ
کافکا کا انصاف اور غزہ
فرانز کافکا کی کہانی ’’قانون کے سامنے‘‘ میں ایک دیہاتی انصاف لینے قانون کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ دروازہ کھلا ہے، مگر سامنے دربان کھڑا ہے۔ دیہاتی اندر جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ جواب ملتا ہے: ’’ابھی نہیں۔‘‘ وہ انتظار کرتا رہتا ہے۔ دن گزرتے ہیں، سال گزرتے ہیں، زندگی گزر جاتی ہے، مگر قانون کا دروازہ اس کے لیے نہیں کھلتا۔
کافکا کی کہانی کا اصل المیہ یہ نہیں کہ قانون موجود نہیں۔ قانون موجود ہے، دروازہ بھی کھلا ہے؛ مسئلہ صرف یہ ہے کہ دروازے پر دربان کھڑا ہے۔
غزہ کو دیکھیے۔ کافکا کی یہ تمثیل اچانک ایک ادبی کہانی نہیں رہتی، ہماری موجودہ دنیا کی تصویر بن جاتی ہے۔ وہاں گھر ملبے میں بدلتے ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھر جاتے ہیں، خاندان بکھرتے ہیں اور انسان اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستے ہیں۔ دوسری طرف دنیا قانون، عدالت، قرارداد اور انسانی حقوق کی زبان بولتی ہے۔
عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اسرائیل کے بارے میں عبوری اقدامات جاری کیے اور بعد کے احکامات میں غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق بھی اقدامات کیے۔ مگر عالمی قانون کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے کوئی 'طاقت" نہیں۔ جون 2025 میں سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد کو 14 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، لیکن امریکی ویٹو کے باعث وہ منظور نہ ہوسکی۔
انصاف کے ترازو میں پوری دنیا کی آواز سے ایک "ویٹو" بھاری بن جاتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قانون نے آواز تو دی، مگر اس آواز کو فیصلہ بنانے والی طاقت "دربان" کے پاس رہی۔
یہی عالمی سیاست کا تلخ پہلو ہے۔ ریاستیں صرف قانون سے نہیں چلتیں؛ ان کے اپنے مفادات، اتحاد، دفاعی ترجیحات اور جغرافیائی حساب کتاب ہوتے ہیں۔ مگر طاقت صرف میزائل، ٹینک اور ویٹو نہیں۔ طاقت اپنی کہانی بھی لکھتی ہے۔
طاقتور اپنے عمل کو دفاع، سلامتی، بقا اور خطرے کی زبان میں بیان کرسکتا ہے۔ کمزور کے پاس عموماً اپنے زخم ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:
’’میرا گھر تباہ ہوگیا۔‘‘ طاقتور کہتا ہے:
’’مجھے اپنے دفاع کا حق ہے۔‘‘
کمزور اپنے مردے گنتا ہے؛ طاقتور اپنے خوف گنواتا ہے۔
اور جب دنیا کمزور کے زخموں سے زیادہ طاقتور کے خوف کو دیکھنے لگے تو سوال بھی بدل جاتا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا ہے:
’’اس انسان کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘
پھر پوچھا جاتا ہے:
’’اس طاقتور کو خطرہ کیوں محسوس ہوا؟‘‘
یہی بیانیے کی طاقت ہے۔
جس کے پاس فوج اور ہتھیار ہوں، اسے خطرہ محسوس ہوسکتا ہے؛ مگر جس کے پاس اپنے گھر اور جان کے تحفظ کی ضمانت بھی نہ ہو، اس کے زخم بھی حقیقی ہوتے ہیں۔
یہاں جنگل کی ایک پرانی سی کہانی یاد آتی ہے۔ شیر نے بکری کو پکڑ لیا۔ بکری چیخی تو جانور جمع ہوگئے۔ شیر نے کہا: ’’مجھے اس بکری سے خطرہ ہے، میں اپنے دفاع میں یہ سب کر رہا ہوں۔‘‘ بکری نے اپنے زخم دکھائے، اور کہا ’’مگر میرے پاس تو نہ پنجے ہیں، نہ دانت۔‘‘ شیر بولا: ’’خطرہ تمہاری طاقت سے نہیں، میرے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
ایک بوڑھا جانور آگے بڑھا۔ اس نے شیر کے پنجے دیکھے، بکری کے زخم دیکھے اور بولا:
’’خوف کی آواز ضرور سنو، مگر انصاف کرتے وقت یہ بھی دیکھو کہ پنجے کس کے پاس ہیں اور زخم کس کے جسم پر۔‘‘
کافکا کے دیہاتی کے سامنے ایک "دربان " تھا۔
آج دنیا کے سامنے دربانوں کا "ویٹو" نام کا ایک پورا نظام ہے۔
آج بھی قانون کا دروازہ کھلا ہے، دنیا بول رہی ہے، عدالتیں احکامات دے رہی ہیں، قراردادیں پیش ہورہی ہیں—مگر مظلوم پھر دروازے کے باہر کھڑا ہے۔ تو سوال یہ نہیں کہ قانون کہاں ہے؟ سوال یہ ہے:
قانون کے دروازے کی "ویٹؤ" نام کی چابی کس کے پاس ہے؟
ہفتہ، 26 ستمبر، 2026
کائناتی کشمکش کا مسافر
بدھ، 23 ستمبر، 2026
خرابی کہاں ہے؟
خرابی کہاں ہے؟
ہم اپنے معاشرے کی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اکثر انگلی کسی دوسرے کی طرف اٹھاتے ہیں۔ کبھی مسئلہ سیاست دانوں میں نظر آتا ہے، کبھی جرنیلوں میں، کبھی ججوں اور افسروں میں، کبھی مولویوں میں اور کبھی کسی اور طبقے میں۔ یوں ہم مسئلے کو اپنے سے باہر دھکیل کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، چند سخت جملے کہتے ہیں اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ خرابی کہیں اور ہے، ہم میں نہیں۔
حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔
جرنیل، سیاست دان، مولوی، جج، افسر، ڈاکٹر، وکیل اور استاد آسمان سے نازل نہیں ہوتے۔ یہ سب اسی معاشرے کی گلیوں، محلوں، اسکولوں، مدرسوں اور گھروں سے اٹھ کر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت کسی خلا میں تشکیل نہیں پاتی۔ وہ وہی اقدار دیکھتے، سنتے اور سیکھتے ہیں جو ان کے اردگرد کا معاشرہ انہیں دیتا ہے۔ پھر جب انہیں اختیار، منصب اور موقع ملتا ہے تو ان کے اندر موجود رویے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
اس لیے اصل مسئلہ صرف افراد کا نہیں، رویوں کا ہے۔
اگر کسی معاشرے میں طاقت کو حق سمجھنے، قانون کو اپنی ضرورت کے مطابق موڑنے، سفارش کو قابلیت پر ترجیح دینے، جھوٹ کو مصلحت کا نام دینے اور ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر مقدم رکھنے کا چلن عام ہو جائے تو یہ رویے صرف عام آدمی تک محدود نہیں رہتے۔ یہی رویے اقتدار کے ایوانوں، عدالتوں، دفاتر، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچ جاتے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عام آدمی کے پاس اختیار کم ہوتا ہے اور صاحبِ منصب کے پاس زیادہ۔
جس شخص کو جتنا اختیار ملتا ہے، اس کے اندر موجود رویے کو اتنا ہی بڑا میدان مل جاتا ہے۔
ہم شکایت کرتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں، افسر کام نہیں کرتے، ڈاکٹر مریض کو لوٹتے ہیں، وکیل انصاف کو کاروبار بنا دیتے ہیں، جج فیصلوں میں تاخیر کرتے ہیں، استاد اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے اور کھلاڑی سفارش کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
مگر کبھی یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ یہ لوگ آئے کہاں سے ہیں؟
کیا یہ کسی دوسرے سیارے کے باشندے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے سے باہر کوئی ایسی فیکٹری ہے جہاں جرنیل، سیاست دان، افسر، ڈاکٹر، وکیل، جج اور استاد تیار کیے جاتے ہیں؟
نہیں۔
یہ ہم ہی ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو گھر میں اصولوں اور ایمانداری کی اہمیت سمجھاتے ہیں، لیکن اسی گھر میں کبھی یہ بھی سکھا دیتے ہیں کہ کام نکلوانے کے لیے تعلقات ضروری ہیں۔ ہم میرٹ کی حمایت کرتے ہیں، مگر اپنے بیٹے، بھائی یا دوست کے لیے میرٹ سے استثنا چاہتے ہیں۔ ہم قانون کی بالادستی کے خواہش مند ہیں، مگر سڑک پر اپنی باری کا انتظار کرنا مشکل سمجھتے ہیں۔ ہم رشوت کو برا کہتے ہیں، لیکن جب کوئی معمولی فائدہ ہمارے حصے میں آ جائے تو اسے ’’چائے پانی‘‘، ’’کام نکلوانا‘‘ یا ’’حق دلوانا‘‘ کہہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
یہ معمولی سمجھوتے بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر یہی رویے رفتہ رفتہ اجتماعی کردار بناتے ہیں۔
پھر یہی بچے بڑے ہو کر افسر بنتے ہیں، ڈاکٹر بنتے ہیں، وکیل بنتے ہیں، استاد بنتے ہیں، سیاست میں آتے ہیں یا کسی ادارے میں اختیار حاصل کرتے ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ نظام ایسا کیوں ہے۔ حالانکہ نظام کوئی الگ مخلوق نہیں۔ نظام انسان بناتے ہیں، ادارے انسان چلاتے ہیں اور اداروں کی ثقافت بھی انسانوں کے رویوں سے تشکیل پاتی ہے۔
ان جملوں میں شاید کچھ حقیقت ہو، مگر ان کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذمہ داری سے فرار کی سہولت دیتے ہیں۔
اگر ہر خرابی کی وجہ ہمیشہ کوئی دوسرا ہے تو پھر ہمیں اپنے اندر تبدیلی کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوگی؟
معاشرہ صرف پارلیمنٹ میں نہیں ہوتا۔ وہ عدالت میں بھی ہے، مگر گھر میں بھی ہے۔ وہ دفتر میں بھی ہے، مگر بازار میں بھی۔ وہ اسپتال میں بھی ہے، مگر سڑک پر بھی۔ وہ مدرسے اور اسکول میں بھی ہے، مگر اس چھوٹے سے فیصلے میں بھی ہے جو ہم اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں یقین ہو کہ ہمیں کوئی دیکھ نہیں رہا۔
اصل کردار شاید وہیں ظاہر ہوتا ہے۔
ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ حکمران کیسے ہیں؛ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم کیسے شہری ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ افسر رشوت کیوں لیتا ہے؛ یہ بھی کہ ہم اپنا کام جلدی کروانے کے لیے رشوت دینے پر کیوں آمادہ ہوتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ استاد پڑھاتا کیوں نہیں؛ یہ بھی کہ ہم تعلیم کو علم کے بجائے صرف نمبر اور سند کیوں سمجھتے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ ڈاکٹر انسانیت کیوں بھول گیا؛ یہ بھی کہ ہم کامیابی کو دولت، عہدے اور ظاہری حیثیت کے ترازو میں کیوں تولتے ہیں۔
یہ سوال کسی ایک طبقے کو بری نہیں کرتا، بلکہ ہر طبقے کو اس کے حصے کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکمران، ادارے یا بااختیار افراد اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ جس کے پاس اختیار زیادہ ہے، اس کی جواب دہی بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ لیکن اجتماعی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشرہ اپنے اندر موجود ان رویوں کو بھی نہ دیکھے جو بعد میں طاقتور عہدوں پر پہنچ کر زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتے ہیں۔
ہم اکثر تبدیلی اوپر سے چاہتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ حکمران بدل جائیں، افسر بدل جائیں، نظام بدل جائے، قانون بدل جائے، ادارے بدل جائیں۔
مگر شاید سوال یہ ہے کہ ہم خود کب بدلیں گے؟
قومیں صرف اچھے حکمرانوں سے نہیں بنتیں۔ اچھے شہری بھی اچھے ادارے پیدا کرتے ہیں، اور اچھے ادارے ایسے معاشرے سے جنم لیتے ہیں جہاں اصول صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی ہوں۔
اس لیے مسئلے کی نشاندہی ضروری ہے، مگر اس کے بعد آئینہ بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا آسان ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان خود کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنے آپ سے سوال کرے:
جس معاشرے کی خرابیوں کا ہم روز ماتم کرتے ہیں، کیا ان خرابیوں کا کوئی چھوٹا سا حصہ ہمارے اپنے رویے میں بھی موجود ہے
شاید تبدیلی کا آغاز کسی حکمران، جرنیل، جج، افسر یا مولوی کو بدلنے سے پہلے اس ادراک سے ہوتا ہے۔
کہ
خرابی صرف وہاں نہیں ہے جہاں ہم انگلی اٹھا رہے ہیں؛ ممکن ہے خرابی میں تھوڑا سا حصہ ہم بھی ڈال رہے ہوں ۔
گندہ نالا چھوٹی چھوٹی گندی نالیوں کے ملنے سے ہی بنتا ہے ۔


