میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد
بارہ جون 2018ء، رمضان المبارک کے دن تھے۔ راولپنڈی کا کمیٹی چوک حسبِ معمول مصروف تھا۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور نے ایک گاڑی کو غلط سمت سے آتے دیکھا اور اسے روکنے کی کوشش کی۔ بظاہر یہ ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی تھی؛ چالان ہونا تھا، جرمانہ ادا ہونا تھا اور چند لمحوں بعد معاملہ ختم ہوجانا تھا۔
مگر ایسا نہ ہوا۔ تلخی بڑھی، اشتعال نے شدت اختیار کی اور فائرنگ ہوگئی۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور اور ایک راہ گیر، نثار احمد، جاں بحق ہوگئے۔ ایک معمولی خلاف ورزی چند لمحوں میں انسانی المیے میں بدل گئی۔
اس واقعے کو صرف قتل کی ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا آسان ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بنیادی معاشرتی سوال موجود ہے: ہم اختلاف برداشت کرنا، روک ٹوک قبول کرنا اور غصے کے لمحے میں خود پر قابو رکھنا کب سیکھیں گے؟
قانون موجود ہونا ضروری ہے، مگر قانون کا احترام محض سزا کے خوف سے پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت جرم کے بعد فیصلہ کرتی ہے، پولیس قانون نافذ کرتی ہے؛ لیکن برداشت، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کا شعور اس سے کہیں پہلے انسان کے اندر تشکیل پاتا ہے۔
یہ تربیت سب سے پہلے گھر میں شروع ہوتی ہے، اسکول اسے آگے بڑھاتا ہے، مگر آج ایک تیسرا استاد بھی ہماری زندگی میں مسلسل موجود ہے۔ وہ استاد ہے میڈیا۔
ٹیلی وژن، اخبار، ریڈیو، فلم اور سوشل میڈیا صرف معلومات یا تفریح فراہم نہیں کرتے؛ وہ ہمیں رویوں کے نمونے بھی دکھاتے ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر یہ تصور تشکیل دیتے ہیں کہ طاقت کیا ہے، کامیابی کس چیز کا نام ہے، بہادری کیسی دکھائی دیتی ہے اور اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے۔
اسی لیے میڈیا کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ سمجھنا اس کی اصل قوت کو محدود کرنا ہے۔ میڈیا معاشرے کا خاموش استاد ہے۔
کینیڈین مفکر مارشل میک لوہن نے اسی حقیقت کو اپنے معروف جملے میں بیان کیا
“The medium is the message.”
یعنی ابلاغ کا ذریعہ خود بھی پیغام بن جاتا ہے۔ جس انداز میں کوئی بات ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے، وہ ہمارے ادراک اور رویے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ اثر مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی۔ اگر فلم، ڈرامہ یا سوشل میڈیا میں دھونس کو طاقت، انتقام کو بہادری، بدتمیزی کو بے باکی اور قانون شکنی کو ذہانت بنا کر پیش کیا جائے تو ناظر صرف ایک کہانی نہیں دیکھ رہا ہوتا؛ وہ ایک رویے کا نمونہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحمل، دیانت، قانون پسندی، مکالمے اور انسانی احترام کو باوقار کرداروں کے ذریعے دکھایا جائے تو یہی ذریعہ معاشرتی تربیت کا وسیلہ بن سکتا ہے۔
دنیا میں میڈیا اور تعلیم کے اس تعلق کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو صرف شہروں کی تعمیرِ نو نہیں کرنی تھی؛ اسے ایک نئے اجتماعی شعور کی بھی ضرورت تھی۔ ریڈیو، اخبارات اور فلموں سمیت ذرائع ابلاغ نے امن، جمہوریت اور شہری ذمہ داری سے متعلق تصورات کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی سطح پر اہمیت دی گئی۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے کہ خبر کا ماخذ کیا ہے، خبر اور رائے میں کیا فرق ہے اور گمراہ کن معلومات کو کس طرح پہچانا جائے۔
برطانیہ میں بی بی سی کی عوامی خدمت کی روایت نے بھی نشریات کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا۔ تعلیم، سائنس، تاریخ، ادب اور ثقافت کے پروگراموں کے ذریعے عوامی علم اور سماجی شعور کو نشریاتی ذمہ داری کا حصہ سمجھا گیا۔
آج پاکستان میں اس ضرورت کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوچکی ہے۔ موبائل فون نے ہر شہری کو صرف خبر کا صارف نہیں بلکہ خبر کا پھیلانے والا بھی بنا دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع، افواہ یا جعلی تصویر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے مصنوعی تصاویر، آوازوں اور ویڈیوز کی تیاری بھی آسان کردی ہے۔
اس لیے آج میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں، خبر کو پرکھنے کی عادت پیدا کرنا بھی ہے۔
لیکن میڈیا لٹریسی کا مطلب صرف جعلی خبر پہچاننا نہیں۔ اس کا ایک بڑا حصہ انسانی رویوں کی تربیت بھی ہے۔
ایک ڈرامہ یہ دکھا سکتا ہے کہ سرخ بتی پر رکنا محض جرمانے سے بچنے کا طریقہ نہیں بلکہ دوسرے انسان کی جان کا احترام ہے۔ ایک اشتہار قطار توڑنے والے کو چالاک نہیں بلکہ غیر ذمہ دار دکھا سکتا ہے۔ ایک سیاسی پروگرام یہ عملی مثال قائم کرسکتا ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود مخالف کی عزت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ کسی حادثے کی خبر صرف ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے بجائے یہ سوال بھی اٹھا سکتی ہے کہ اس حادثے کے پیچھے کون سی انسانی غفلت اور معاشرتی عادتیں کارفرما تھیں۔
اس طرح نصیحت کیے بغیر تربیت ممکن ہے۔
خاص طور پر سیاسی گفتگو میں میڈیا کا اثر بہت گہرا ہے۔ اگر اختلاف کا مطلب چیخنا، تضحیک، الزام اور ذاتی حملہ بن جائے تو ناظر کے سامنے ایک ایسا معاشرتی نمونہ آتا ہے جس میں مخالف کو شکست دینا، اسے سمجھنے سے زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس دلیل، تحمل اور احترام کے ساتھ اختلاف پیش کیا جائے تو وہی پروگرام ایک عملی درس گاہ بن سکتا ہے۔
جرائم کی رپورٹنگ بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جرم کو سنسنی میں تبدیل کرنا توجہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن جرم کے اسباب، نتائج اور سماجی پس منظر پر گفتگو عوام کو محض تماشائی بننے کے بجائے مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
کمیٹی چوک کا واقعہ اسی لیے ہمارے سامنے دوبارہ آتا ہے۔
راجہ رئیس داؤد کو واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ 12 نومبر 2020ء کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شاہد سرور اور نثار احمد کے قتل کے مقدمے میں اسے تین مرتبہ سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ اس کے ڈرائیور عمران اقبال کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے جرم کا فیصلہ کردیا، لیکن معاشرے کا سوال اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے:
ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی برداشت کیوں نہ ہوسکی؟ روک ٹوک انا کا مسئلہ کیوں بن گئی؟ غصے کے چند لمحوں پر قابو کیوں نہ پایا جاسکا؟
یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں؛ ہمارے اجتماعی مزاج کا سوال ہے۔
ہمیں ایسے شہری درکار ہیں جو صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ قانون کی ضرورت اور دوسرے انسان کے حق کو سمجھ کر رکیں؛ جو اختلاف کو اپنی توہین نہ سمجھیں؛ جو غصے میں ہاتھ اٹھانے کے بجائے خود کو روک سکیں؛ اور جو غیر مصدقہ خبر آگے بڑھانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں۔
اس تربیت میں گھر اور اسکول کا کردار بنیادی ہے، مگر جدید انسان کا بڑا حصہ میڈیا کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس لیے میڈیا کو اپنی طاقت کا شعور بھی ہونا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کا بھی۔
اس کا مقصد یہ نہیں کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ انہیں کیا سوچنا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ انہیں بہتر انداز میں سوچنے، سوال کرنے اور دوسروں کو سمجھنے کا موقع دیا جائے۔
ایک مہذب معاشرہ صرف قوانین، عدالتوں اور پولیس سے نہیں بنتا۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی عادتوں سے بنتا ہے: سرخ بتی پر رکنے سے، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے سے، مخالف کی بات سننے سے، غصے میں خود کو روکنے سے، عوامی املاک کا احترام کرنے سے اور غیر مصدقہ خبر کو آگے نہ بڑھانے سے۔
اگر میڈیا ان چھوٹی مگر بنیادی عادتوں کو قابلِ احترام بنا دے تو وہ صرف معاشرے کا آئینہ نہیں رہے گا۔
وہ معاشرے کی تعمیر کا خاموش، مگر طاقتور استاد بن جائے گا۔
اردو کالم اور مضامین
علم کی روشنی سے منور تحریریں جو ذہن کے تاریک گوشوں کو منور کر سکتی ہیں
جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد
بدھ، 30 ستمبر، 2026
سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے
منگل، 29 ستمبر، 2026
خوف زدہ انسان خطرناک ہوتا ہے
خوف زدہ انسان خطر ناک ہوتا ہے
یہودی مذہبی متون میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ سفر میں تھے۔ عیسو چار سو آدمیوں کے ساتھ سامنے تھا۔ رفتار تیز کی جا سکتی تھی، مگر یعقوبؑ نے کہا: "بچے نازک ہیں۔" طاقتور قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا، لیکن بچوں کو ان کی رفتار سے چلایا گیا۔
یہ صرف ایک باپ کا فیصلہ نہیں، ایک مذہبی اخلاقیات کا آئینہ ہے: بچہ پہلے بچہ ہے، کسی قوم کا نمائندہ بعد میں۔
مگر خوف انسان کے ذہن کو بدل دیتا ہے۔ خوف صرف ہمیں خطرے سے نہیں ڈراتا، وہ ہمیں اپنی شناخت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ جب انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’وہ‘‘ ہمارے لیے خطرہ ہے تو آہستہ آہستہ ’’وہ‘‘ ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ ایک گروہ بن جاتا ہے۔ پھر گروہ ایک شناخت بن جاتا ہے، شناخت دشمنی کی علامت، اور دشمنی اخلاقی فاصلے میں بدل جاتی ہے۔
یہ خوف کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ انسان خطرے کو دیکھتے دیکھتے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ’’بچہ‘‘ صرف بچہ نہیں رہتا؛ ’’دشمن کا بچہ‘‘ بن جاتا ہے۔
عرب معاشروں میں مذہب زندگی سے الگ کوئی کتابی تصور نہیں۔ مختلف مذاہب کی روایتوں میں انصاف، رحم، کمزوروں کی حفاظت اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب کی اخلاقی تعلیم سیاسی شناخت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
حضرت موسیٰؑ کی مذہبی روایت میں یتیم پر ظلم سے روکا گیا ہے۔ تورات میں بیوہ اور یتیم کو تکلیف نہ دینے کا حکم ہے اور ان کی فریاد کو خدا کی سماعت سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے میں اسماعیلؑ نام کا روتا ہوا بچہ خدا کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
یعنی مذہبی روایت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بچہ کس قوم کا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ بچہ ہے۔
یعقوبؑ کے ہاں بچے کی نزاکت، ابراہیمؑ کے گھرانے میں بچے کی فریاد اور موسیٰؑ کی شریعت میں یتیم کا حق—تینوں ایک ہی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کمزور کی انسانیت اس کی شناخت سے بڑی ہے۔
پھر خوف اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ وہ پہلے شناخت بناتا ہے، پھر شناخت کے گرد خطرے کی کہانی تعمیر کرتا ہے، پھر ہر فرد کو اس خطرے کا ممکنہ نمائندہ بنا دیتا ہے۔ اس مقام پر ایک عام آدمی بھی ’’قوم‘‘ بن جاتا ہے، ایک عورت ’’دشمن کی عورت‘‘، اور ایک بچہ ’’مستقبل کا دشمن‘‘۔
اسرائیلی اور فلسطینی خوف کی تاریخیں ایک جیسی نہیں، مگر دونوں حقیقی انسانی خوف ہیں۔ اسرائیلی اجتماعی حافظے میں یہودیوں کی مسلسل بے وطنی ہے۔ فلسطینی اجتماعی حافظے میں بے دخلی، قبضہ، جنگ، تباہی، نقل مکانی اور اپنے بچوں کی ہلاکتوں اور مستقبل کے بارے میں عدمِ تحفظ کے تجربات موجود ہیں۔ 2023 کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی نے عدم تحٖفظ کو مزید گہرا کیا ہے۔
خوف انسانی سطح پر مشترک ہو سکتا ہے، مگر طاقت، حالات اور نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ اسرائیلی شہریوں نے اپنے تاریخی عدم تحفظ کا خوف جھیلا، غزہ کے فلسطینی شہریوں نے بڑے پیمانے پر ہلاکت، نقل مکانی، تباہی ، نسل کشی اور بنیادی ضروریات کے بحران کا سامنا کیا۔
مگر خوف کی نفسیات دونوں طرف ایک ہی خطرناک کام کر سکتی ہے: وہ انسان کو اس کی شناخت کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ پھر اسرائیلی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، اسرائیل بن جاتا ہے۔ فلسطینی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، فلسطین کا بچہ بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو انسان اپنے گروہ کے بچے کے لیے جو اخلاقی معیار رکھتا ہے، دوسرے کے بچے پر وہی معیار لاگو نہیں کرتا۔
اپنا بچہ معصوم۔
دوسرے کا بچہ خطرہ۔
اپنی ماں کا آنسو انسانی المیہ۔
دوسرے کی ماں کا آنسو جنگ کی قیمت۔
یہ صرف تعصب نہیںبلکہ یہ خوف کی پیدا کردہ اخلاقی تقسیم ہے۔
مذہب اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یتیم کے حق میں انصاف کرو، کمزور پر رحم کرو، بچے کی نزاکت کو سمجھو۔ سیاسی خوف کہتا ہے: پہلے اس کی شناخت دیکھو، پھر طے کرو کہ اس کے ساتھ کتنی انسانیت برتنی ہے۔
یہیں مذہب کی اخلاقی تعلیم اور مذہب کی سیاسی تعبیر آمنے سامنے آتی ہیں۔
مذہب بچے میں انسان دیکھتا ہے۔
خوف بچے میں شناخت دیکھتا ہے۔
سیاست شناخت میں خطرہ دیکھتی ہے۔
اور جب شناخت انسان سے بڑی ہو جائے تو انسان کی جان بھی شناخت کے تابع ہو جاتی ہے۔
شاید آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیلی بچہ زیادہ معصوم ہے یا فلسطینی بچہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوف نے ہمیں اتنا بدل دیا ہے کہ ہم بچے کو دیکھنے سے پہلے اس کی شناخت دیکھتے ہیں؟
حضرت یعقوبؑ نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا: "بچے نازک ہیں۔"
یہ جملہ اسرائیلی بچے پر بھی اتنا ہی صادق ہے جتنا فلسطینی بچے پر۔
بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، یہودی ہو یا مسلمان، ہمارا ہو یا کسی ’’دوسرے‘‘ کا—وہ پہلے بچہ ہے۔
اور شاید مذہب کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ خوف کے باوجود ہم انسان کو اس کی شناخت سے پہلے انسان دیکھتے رہیں۔
پیر، 28 ستمبر، 2026
دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق
اتوار، 27 ستمبر، 2026
کافکا کا انصاف اور غزہ
کافکا کا انصاف اور غزہ
فرانز کافکا کی کہانی ’’قانون کے سامنے‘‘ میں ایک دیہاتی انصاف لینے قانون کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ دروازہ کھلا ہے، مگر سامنے دربان کھڑا ہے۔ دیہاتی اندر جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ جواب ملتا ہے: ’’ابھی نہیں۔‘‘ وہ انتظار کرتا رہتا ہے۔ دن گزرتے ہیں، سال گزرتے ہیں، زندگی گزر جاتی ہے، مگر قانون کا دروازہ اس کے لیے نہیں کھلتا۔
کافکا کی کہانی کا اصل المیہ یہ نہیں کہ قانون موجود نہیں۔ قانون موجود ہے، دروازہ بھی کھلا ہے؛ مسئلہ صرف یہ ہے کہ دروازے پر دربان کھڑا ہے۔
غزہ کو دیکھیے۔ کافکا کی یہ تمثیل اچانک ایک ادبی کہانی نہیں رہتی، ہماری موجودہ دنیا کی تصویر بن جاتی ہے۔ وہاں گھر ملبے میں بدلتے ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھر جاتے ہیں، خاندان بکھرتے ہیں اور انسان اپنی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستے ہیں۔ دوسری طرف دنیا قانون، عدالت، قرارداد اور انسانی حقوق کی زبان بولتی ہے۔
عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں اسرائیل کے بارے میں عبوری اقدامات جاری کیے اور بعد کے احکامات میں غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق بھی اقدامات کیے۔ مگر عالمی قانون کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے کوئی 'طاقت" نہیں۔ جون 2025 میں سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد کو 14 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، لیکن امریکی ویٹو کے باعث وہ منظور نہ ہوسکی۔
انصاف کے ترازو میں پوری دنیا کی آواز سے ایک "ویٹو" بھاری بن جاتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قانون نے آواز تو دی، مگر اس آواز کو فیصلہ بنانے والی طاقت "دربان" کے پاس رہی۔
یہی عالمی سیاست کا تلخ پہلو ہے۔ ریاستیں صرف قانون سے نہیں چلتیں؛ ان کے اپنے مفادات، اتحاد، دفاعی ترجیحات اور جغرافیائی حساب کتاب ہوتے ہیں۔ مگر طاقت صرف میزائل، ٹینک اور ویٹو نہیں۔ طاقت اپنی کہانی بھی لکھتی ہے۔
طاقتور اپنے عمل کو دفاع، سلامتی، بقا اور خطرے کی زبان میں بیان کرسکتا ہے۔ کمزور کے پاس عموماً اپنے زخم ہوتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:
’’میرا گھر تباہ ہوگیا۔‘‘ طاقتور کہتا ہے:
’’مجھے اپنے دفاع کا حق ہے۔‘‘
کمزور اپنے مردے گنتا ہے؛ طاقتور اپنے خوف گنواتا ہے۔
اور جب دنیا کمزور کے زخموں سے زیادہ طاقتور کے خوف کو دیکھنے لگے تو سوال بھی بدل جاتا ہے۔ پہلے پوچھا جاتا ہے:
’’اس انسان کے ساتھ کیا ہوا؟‘‘
پھر پوچھا جاتا ہے:
’’اس طاقتور کو خطرہ کیوں محسوس ہوا؟‘‘
یہی بیانیے کی طاقت ہے۔
جس کے پاس فوج اور ہتھیار ہوں، اسے خطرہ محسوس ہوسکتا ہے؛ مگر جس کے پاس اپنے گھر اور جان کے تحفظ کی ضمانت بھی نہ ہو، اس کے زخم بھی حقیقی ہوتے ہیں۔
یہاں جنگل کی ایک پرانی سی کہانی یاد آتی ہے۔ شیر نے بکری کو پکڑ لیا۔ بکری چیخی تو جانور جمع ہوگئے۔ شیر نے کہا: ’’مجھے اس بکری سے خطرہ ہے، میں اپنے دفاع میں یہ سب کر رہا ہوں۔‘‘ بکری نے اپنے زخم دکھائے، اور کہا ’’مگر میرے پاس تو نہ پنجے ہیں، نہ دانت۔‘‘ شیر بولا: ’’خطرہ تمہاری طاقت سے نہیں، میرے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
ایک بوڑھا جانور آگے بڑھا۔ اس نے شیر کے پنجے دیکھے، بکری کے زخم دیکھے اور بولا:
’’خوف کی آواز ضرور سنو، مگر انصاف کرتے وقت یہ بھی دیکھو کہ پنجے کس کے پاس ہیں اور زخم کس کے جسم پر۔‘‘
کافکا کے دیہاتی کے سامنے ایک "دربان " تھا۔
آج دنیا کے سامنے دربانوں کا "ویٹو" نام کا ایک پورا نظام ہے۔
آج بھی قانون کا دروازہ کھلا ہے، دنیا بول رہی ہے، عدالتیں احکامات دے رہی ہیں، قراردادیں پیش ہورہی ہیں—مگر مظلوم پھر دروازے کے باہر کھڑا ہے۔ تو سوال یہ نہیں کہ قانون کہاں ہے؟ سوال یہ ہے:
قانون کے دروازے کی "ویٹؤ" نام کی چابی کس کے پاس ہے؟

