غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ
اردو کالم اور مضامین
علم کی روشنی سے منور تحریریں جو ذہن کے تاریک گوشوں کو منور کر سکتی ہیں
اتوار، 26 اپریل، 2026
غصہ، موبائل اور 43 سیکنڈ
بدھ، 22 اپریل، 2026
اسلام آباد مذاکرات
مر جائے مگر میدان نہ چھوڑے
جمعہ، 17 اپریل، 2026
ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت
ناموں کا بدلتا معیار اور معاشرتی منافقت
معاشرہ صرف قوانین، اداروں اور عمارتوں کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ رویّوں، ترجیحات اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ یہی اقدار کسی قوم کے اصل چہرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مگر جب یہی اقدار دولت اور غربت کے ترازو میں تولی جانے لگیں تو انصاف، عزت اور انسانیت سب کچھ مشکوک ہو جاتا ہے۔
یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ یہی وہ سچ ہے جسے ہم ماننے سے کتراتے ہیں مگر روزمرہ زندگی میں اس پر عمل پیرا بھی رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں دولت صرف سہولت نہیں، شناخت بن چکی ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اس کے نام کے ساتھ احترام خود بخود جڑ جاتا ہے۔ وہی شخص اگر کل تک عام تھا تو آج "صاحب"، "جناب" اور "محترم" بن جاتا ہے۔ اس کی بات میں وزن آ جاتا ہے، اس کی خاموشی بھی معنی خیز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی غلطیاں بھی حکمت کے پردے میں چھپ جاتی ہیں۔
اس کے برعکس غربت صرف محرومی نہیں بلکہ ایک الزام بن جاتی ہے۔ غریب کا نام اس کی پہچان نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے طعنہ بن جاتا ہے۔ اس کی عزت اس کی جیب کے ساتھ سکڑ جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور اس کی خودداری کو تکبر سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ تضاد صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ ہمارے رویّوں، فیصلوں اور ترجیحات میں بھی نمایاں ہے۔ ہم انصاف کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر انصاف دیتے وقت حیثیت کو دیکھتے ہیں۔ ہم مساوات کی بات تو کرتے ہیں مگر تعلقات بناتے وقت معیار بدل جاتے ہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے کردار، علم یا اخلاق کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے جوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ رہا ہے جہاں عزت خریدی جا سکتی ہے اور تذلیل مفت میں بانٹی جاتی ہے۔
یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جب معاشرہ دولت کو معیارِ عزت بنا لیتا ہے تو پھر دیانت، محنت اور سچائی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ لوگ اصولوں کی بجائے مفاد کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور یہ سوال کریں کہ ہم لوگوں کو کس بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ کیا واقعی عزت کا تعلق دولت سے ہے؟ یا پھر ہم نے سہولت کے لیے ایک غلط معیار اختیار کر لیا ہے؟
ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے کردار سے پہچانا جائے، نہ کہ اس کی جیب سے۔ جہاں عزت کمائی جائے، خریدی نہ جائے۔ اور جہاں غربت جرم نہ ہو بلکہ ایک حالت سمجھی جائے جس کا حل تلاش کرنا اجتماعی ذمہ داری ہو۔
جب تک ہم اپنے رویّوں میں یہ تبدیلی نہیں لاتے، تب تک یہ کہاوت صرف الفاظ نہیں رہے گی بلکہ ہمارے معاشرے کی زندہ حقیقت بنی رہے گی—ایک ایسی حقیقت جو ہمیں آئینہ دکھاتی رہے گی، چاہے ہم آنکھیں بند ہی کیوں نہ کر لیں۔
جمعرات، 16 اپریل، 2026
امن کی آشا
امن کی آشا
آج کے نازک عالمی حالات میں اگر اسلام آباد میں ایران، امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ لمحہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نہ امریکہ جیتا ہے، نہ اسرائیل—اگر کوئی جیتا ہے تو وہ امن ہے، اور اگر کوئی کامیاب ہوئی ہے تو وہ انسانیت ہے۔ شکست اگر کسی کو ہوئی ہے تو وہ جنونیت، جنگی بخار اور تباہی کو ہوئی ہے۔
جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طویل جنگ اپنے پیچھے لاشیں، بربادی، معاشی زوال اور نفسیاتی صدمات چھوڑ جاتی ہے، اور آخرکار فریقین کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر (ویتنام جنگ) ایک طویل اور تباہ کن جنگ تھی، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، مگر بالآخر(پیرس امن معاہدہ) کے ذریعے ہی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اسی طرح (سوویت-افغان جنگ) میں ایک دہائی تک جاری رہنے والی خونریزی کا خاتمہ بھی (جنیوا معاہدہ برائے افغانستان) جیسے مذاکراتی عمل سے ہوا۔
یہی حقیقت (شمالی آئرلینڈ کا تنازع) میں بھی نظر آتی ہے، جہاں دہائیوں کی بدامنی کے بعد (جمعہ عظیم امن معاہدہ) نے امن کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح (کولمبیا کا مسلح تنازع) کا خاتمہ بھی بندوق سے نہیں بلکہ (کولمبیا-فارق امن معاہدہ) کے ذریعے ممکن ہوا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کو ثابت کرتی ہیں کہ جنگ جتنی بھی طویل اور شدید کیوں نہ ہو، اس کا اختتام بالآخر مکالمے، مفاہمت اور سیاسی بصیرت پر ہی ہوتا ہے۔
اس تناظر میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات ایک ایسے موڑ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں عقل، تدبر اور مکالمہ طاقت، غرور اور تصادم پر غالب آ سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام اپنے اختلافات کو بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔
امن کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ کرتا ہے بلکہ معاشروں کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ جنگ جہاں نفرت کو جنم دیتی ہے، وہیں امن برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ مذہب کی جنگ نہیں ہوتی؛ دنیا کا ہر مذہب بنیادی طور پر انسان کے احترام، جان کے تحفظ اور عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔
ایران کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو چاہے نظامِ حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) ہوئی ہو یا نہیں، لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ سخت گیر طرزِ حکمرانی کی جگہ ایک نسبتاً سیاسی طور پر بالغ اور حقیقت پسندانہ رویہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی قیادت، خصوصاً اخلاقی اور عسکری سطح پر شدید تنقید اور سوالات کی زد میں آ چکی ہے، جبکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل امریکی مدد اور سہارے کے بغیر اپنی جارحانہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
جہاں تک جیت اور ہار کا تعلق ہے تو جنگوں میں اصل شکست عام انسان کی ہوتی ہے—وہی انسان جو اپنے گھر، اپنے پیاروں اور اپنے مستقبل سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیت اگر کسی کی ہوتی ہے تو وہ وقتی طاقت، سفاکیت اور بربریت کی ہوتی ہے، جو بالآخر خود اپنے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔

