سر! آپ کس کے پیروکار ہو؟
میں ایک پرانے محلے میں رہتا ہوں۔ گنجان آبادی،اور بوسیدہ نکاسیٔ آب یہاں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ گلی کے آخر میں ایک مسجد بھی ہے، اس لیے جمعہ کے روز اہلِ محلہ کوشش کرتے ہیں کہ راستہ صاف رہے اور نمازیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
مگر اس یومِ آزادی پر جمعہ کے دن موسلا دھار بارش نے پورے محلے کا نظام درہم برہم کر دیا۔ نالیاں ابل پڑیں، گندا پانی گلی میں پھیل گیا اور کچرا بھی بہہ کر باہر آگیا۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا، ’’کسی صفائی والے کو بلاؤ، گلی صاف کرواؤ۔‘‘
کچھ دیر بعد ایک نوجوان اور ایک ادھیڑ عمر شخص آگئے۔ انہوں نے نالیاں کھولیں، کچرا اٹھایا، جھاڑو دی اور پانی سے گلی دھو ڈالی۔ اذان سے پہلے راستہ صاف ہوچکا تھا۔
میرے گھر والوں نے دونوں کے لیے چائے بنوائی۔ میں نے انہیں اندر بلایا۔ نوجوان کا نام آصف تھا۔ اس نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیتے ہوئے جھجک کر کہا، ’’سر! آپ کے برتن ضائع ہوجائیں گے۔‘‘
میں نے کہا، ’’ایسی کوئی بات نہیں، اطمینان سے چائے پیو۔‘‘
آصف نے جس گلاس میں پانی پیا تھا، میں نے اسی میں پانی ڈال کر پی لیا۔
وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا۔ پھر بولا، ’’سر! میرے والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ بیماری میں فوت ہوگئے۔ میں سکول میں فیل ہوا تو پڑھائی چھوٹ گئی اور پھر یہی کام شروع کردیا۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’’میرے خاندان کے کسی بزرگ نے سترہ نسلیں پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ انہیں آپ کے نبیؐ کی وہ تعلیم پسند آئی تھی جس میں انسانوں کے درمیان ذات، نسب اور پیشے کی بنیاد پر امتیاز کو رد کیا گیا تھا۔ لیکن آج میرے نبیؐ کے ماننے والے بعض لوگ اس برتن کو بھی اپنے لیے ناقابلِ استعمال سمجھ لیتے ہیں جس میں ایک صفائی کرنے والا پانی پی لے۔‘‘
پھر اس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا:
’’سر! آپ کس کے پیروکار ہو؟‘‘
میں خاموش ہوگیا۔
یہ سوال میرے علم کا نہیں، میرے کردار کا تھا۔
ہم اکثر دین کو اپنی زبان، لباس، عبادات اور ظاہری شناخت سے ناپتے ہیں، مگر اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ہمارا سامنا ایسے انسان سے ہو جسے معاشرہ کمتر سمجھنے کا عادی ہوچکا ہے۔
ایک ڈاکٹر خون اور زخموں کے درمیان کام کرتا ہے۔ نرس مریض کے زخم صاف کرتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کی گندگی صاف کرتی ہے۔ کیا ان کے ہاتھ کسی خدمت کی وجہ سے کمتر ہوجاتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ گندگی کام میں ہوسکتی ہے، انسان میں نہیں۔
یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا ہوگا۔ کراہت ایک فطری انسانی کیفیت ہے، مگر تعصب ایک ذہنی رویہ ہے۔ کسی چیز سے طبعی کراہت محسوس ہونا بذاتِ خود اخلاقی جرم نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی اس کیفیت کو انسان کی تحقیر کا ذریعہ بنا دیتے ہیں؟
حضرت عبداللہ بن سلامؓ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ یہودی عالم تھے، اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی بنے۔ روایات میں ان کے سابق مذہبی ماحول سے جڑی بعض طبعی کراہتوں کا ذکر ملتا ہے۔ انسانی عادتیں ایک دن میں نہیں بدلتیं، مگر انسان اگر شعوری طور پر اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرے تو یہی تربیت کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح سے منسوب ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے پانی پینے کے بعد ایک نوجوان کو وہی پانی پینے کی پیشکش کی، مگر اس نے جھجک یا کراہت کے باعث انکار کردیا۔ اس واقعے کی تاریخی سند اپنی جگہ ایک الگ بحث ہے، لیکن اس سے ایک بنیادی انسانی حقیقت ضرور سامنے آتی ہے: بعض چیزوں سے کراہت فطری ہوسکتی ہے اور ہر شخص کو اپنی طبعی حساسیت پر قابو پانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کراہت، تکبر بن جائے؛ صفائی، طبقاتی امتیاز بن جائے؛ اور مذہب، انسانوں کے درمیان فاصلے کا جواز بن جائے۔
ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ کسی انسان کے جھوٹے میں شفا تلاش کرنا دین کی شرط ہے۔ اصل بات اس سے کہیں بڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس شخص نے ابھی ہمارے لیے گندگی صاف کی ہے، کیا ہم اسے صرف اس لیے کمتر سمجھیں گے کہ اس کا روزگار ہمارے معاشرتی معیار کے مطابق معزز نہیں؟
آصف نے میری گلی صاف کی تھی، مگر جاتے جاتے وہ میرے اندر کی ایک گندگی بھی صاف کرگیا۔
مجھے محسوس ہوا کہ نالیاں تو بارش نے بند کی تھیں، مگر شاید ہمارے دلوں میں بھی کچھ نالیاں برسوں سے بند پڑی ہیں۔ ان میں ذات، طبقہ، پیشہ، غربت اور مصنوعی برتری کا کچرا جمع ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ گلی کی نالی کھولنے کے لیے ایک صفائی والا کافی تھا، دل کی نالی کھولنے کے لیے انسان کو خود اپنے اندر اترنا پڑتا ہے۔
آصف کا سوال اب بھی میرے اندر گونج رہا ہے:
’’سر! آپ کس کے پیروکار ہو؟‘‘
شاید اس سوال کا جواب زبان سے نہیں، برتاؤ سے دینا پڑتا ہے۔
کیونکہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کس کا نام لیتا ہے؛ اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اس کے ماننے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔




