اتوار، 25 اکتوبر، 2026

اصل معرکہ







اصل معرکہ

پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث بظاہر طرزِ حکومت کے انتخاب کا معاملہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال چھپا ہے: اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا یا چند طاقت ور حلقے اپنی مرضی کا نظام قائم کریں گے؟ ہمارے ہاں سیاسی اشرافیہ، مفاداتی گروہوں اور بیوروکریسی کے بعض حلقوں کو صدارتی نظام میں مسائل کا حل دکھائی دیتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی اور حکومت کی جواب دہی کو جمہوریت کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل اختلاف نظام کے نام سے زیادہ اس بات پر ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوگا، اس پر نگرانی کون کرے گا اور اسے آئینی حدود سے تجاوز کرنے سے کون روکے گا۔

صدارتی نظام کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایک طاقت ور صدر تیزی سے فیصلے کر سکتا ہے، سیاسی سودے بازی کم کر سکتا ہے اور حکومت کو استحکام دے سکتا ہے۔ یہ دلیل بظاہر دل کش ہے، مگر اس میں ایک بنیادی سوال نظرانداز ہو جاتا ہے: کیا طاقت ور حکمران لازماً بہتر حکمران بھی ہوتا ہے؟ اگر بدعنوانی، اقربا پروری، نااہلی اور ادارہ جاتی کمزوری پورے نظام میں موجود ہوں تو صرف ایک طاقت ور عہدہ تخلیق کرنے سے یہ خرابیاں کیسے ختم ہو جائیں گی؟ فیصلے جلد کرنا اور درست فیصلے کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اختیار کو ایک مرکز میں جمع کرنے سے انتظامی رفتار تو بڑھ سکتی ہے، لیکن اس سے شفافیت، انصاف اور جواب دہی خودبخود پیدا نہیں ہوتیں۔

امریکی سیاسی مفکر جیمز میڈیسن نے 
 حکومت کے اختیارات کے توازن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’اقتدار کی خواہش کو اقتدار کی دوسری خواہش کے ذریعے متوازن ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ حکومت کو انسانوں پر اختیار دینے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے اختیار کے غلط استعمال سے روکنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ یہ اصول صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظاموں پر لاگو ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکمران، خواہ وہ صدر ہو یا وزیرِاعظم، اس وقت تک جواب دہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اختیارات پر مؤثر نگرانی موجود نہ ہو۔

سیاسیات کے معروف محقق خوان لِنز نے اپنے مقالے
 The Perils of Presidentialism
 میں صدارتی نظام کے ممکنہ خطرات پر بحث کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ صدر اور پارلیمان دونوں اپنے اپنے انتخابی مینڈیٹ کی بنیاد پر جائز اختیار کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو جائے تو آئینی تصادم سیاسی بحران میں بدل سکتا ہے۔ صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت بظاہر استحکام دیتی ہے، لیکن اگر وہ عوامی اعتماد کھو دے یا پارلیمان سے اس کا ٹکراؤ ناقابلِ حل ہو جائے تو اسے تبدیل کرنے کا آئینی راستہ نسبتاً پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ لِنز کے مطابق بعض حالات میں پارلیمانی نظام کی بظاہری سیاسی بے ثباتی دراصل ایک لچک ثابت ہوتی ہے: وزیرِاعظم یا کابینہ تبدیل ہو سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ پورا جمہوری نظام ہی بحران کا شکار ہو جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ گہری سیاسی تقسیم اور متعدد جماعتوں والے معاشروں میں پارلیمانی نظام عموماً جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کا بہتر امکان فراہم کرتا ہے۔ 
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پارلیمانی نظام کامیاب اور ہر صدارتی نظام ناکام ہوتا ہے۔ امریکا ایک طویل عرصے سے صدارتی جمہوریت کی مثال ہے، جبکہ پارلیمانی نظام رکھنے والے بعض ممالک بھی سیاسی بحرانوں سے دوچار ہوئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی نظام کی کامیابی کا فیصلہ صرف آئینی نام سے نہیں ہوتا؛ سیاسی جماعتوں کی ساخت، قانون کی حکمرانی، اداروں کی خودمختاری اور اختلافات کو آئینی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہوتی ہے۔

پارلیمانی نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ حکومت پارلیمان کے اعتماد سے قائم رہتی ہے۔ اگر وزیرِاعظم یا کابینہ اعتماد کھو دے تو آئینی طریقے سے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں حکومت کا خاتمہ لازماً جمہوریت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت اور براہِ راست انتخابی حیثیت بعض حالات میں اسے پارلیمان کے مقابلے میں مضبوط جواز فراہم کرتی ہے۔ اگر دونوں کے درمیان تصادم بڑھ جائے تو بحران کے حل کے لیے زیادہ پیچیدہ آئینی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک نظام میں حکومت کی تبدیلی پورے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے ممکن ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے میں صدر اور مقننہ کی کشمکش وسیع تر سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ امکانات ہیں، قطعی نتائج نہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں اس بحث کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہاں پارلیمانی اداروں کو بار بار غیر آئینی مداخلتوں، مارشل لا اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس صورتِ حال کی پوری ذمہ داری صرف غیر منتخب قوتوں پر ڈال کر سیاسی قیادت کو بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے پارلیمان، انتخابات اور آئینی طریقۂ کار پر اعتماد کرنے کے بجائے غیر جمہوری مدد کی تلاش میں نکلتی ہیں تو وہ اپنے مخالف کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں پورے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے اقتدار کی اصل کشمکش عوامی نمائندگی کے بجائے طاقت کے دوسرے مراکز میں منتقل ہونے لگتی ہے۔

دوسرے ممالک کے تجربات اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مصر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی تاریخ میں نظام کی نوعیت کے ساتھ ساتھ فوج، سیاسی قیادت اور منتخب اداروں کے باہمی تعلق نے بھی جمہوریت کے مستقبل کو متاثر کیا۔

مصر میں 2011ء کے عوامی انقلاب کے بعد محمد مرسی انتخابات کے ذریعے صدر بنے، لیکن 2013ء میں فوج نے ان کی حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد سیاسی اقتدار ایک بار پھر مضبوط صدارتی مرکز میں مرتکز ہوا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ صرف انتخابی عمل موجود ہونا کافی نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا اور فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی طاقت ور ادارہ اپنے آپ کو منتخب حکومت کے فیصلوں سے بالاتر سمجھنے لگے تو انتخابی مینڈیٹ جمہوری نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتا۔

انڈونیشیا میں صدر سہارتو کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد 1998ء میں اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔ فوج کے سیاسی کردار کو محدود کرنے، انتخابی نظام کو بہتر بنانے اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے باوجود فوجی اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انڈونیشیا پر 2020ء میں شائع ہونے والی تحقیق میں میدی کوساندی اور صوبور وھونو نے نشان دہی کی کہ جمہوری اصلاحات کے دو عشروں بعد بھی فوج سیاسی عمل میں اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بحالی محض آئینی تبدیلی کا نام نہیں؛ اس کے لیے سیاسی اور ریاستی اداروں کے تعلقات میں دیرپا اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ 

بنگلہ دیش میں بھی سیاسی جماعتوں کی شدید محاذ آرائی، انتخابی عمل پر عدم اعتماد اور اقتدار کی کشمکش نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ 2007ء میں فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت قائم ہوئی اور سیاسی سرگرمیاں محدود ہوئیں۔ اگست 2024ء میں طویل احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوگئی، جس کے بعد ملک ایک نئے سیاسی انتقال سے گزرا۔ بنگلہ دیش کا تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پارلیمانی نظام کا وجود بذاتِ خود سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں مخالفین کے حقِ سیاست، شفاف انتخابات اور آئینی حدود کو تسلیم نہ کریں تو پارلیمانی سیاست بھی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

تھائی لینڈ میں 2006ء اور 2014ء کی فوجی بغاوتوں نے منتخب حکومتوں اور فوجی اثر و رسوخ کے درمیان جاری کشمکش کو نمایاں کیا۔ وہاں انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے باوجود فوجی مداخلتوں نے جمہوری تسلسل کو بار بار متاثر کیا۔ انڈونیشیا، مصر، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی مثالیں ایک جیسی نہیں، لیکن ان سے ایک مشترکہ سبق ضرور ملتا ہے: جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا اور اقتدار کی منتقلی کے لیے متفقہ قواعد کا احترام کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

یہیں پاکستان کی سیاسی بحث کا اصل سوال سامنے آتا ہے۔ کیا صدارتی نظام کے حامی اختیارات کو ایک مرکز میں جمع کرکے فیصلہ سازی آسان بنانا چاہتے ہیں، یا ان کی ترجیح اداروں کی اصلاح اور جواب دہی کا نظام قائم کرنا ہے؟ اسی طرح کیا پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی کا اصول اس وقت بھی تسلیم کریں گے جب اس سے ان کی اپنی جماعت یا پسندیدہ قیادت کے اختیارات محدود ہوں؟ ان سوالات کے جواب نعروں سے نہیں، سیاسی عمل اور عملی رویّوں سے ملیں گے۔

سیاسی اتفاقِ رائے اس لیے ضروری ہے کہ جمہوری نظام کی بنیاد صرف اکثریت حاصل کرنا نہیں بلکہ اقتدار کے استعمال کے قواعد کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ سیاسی قوتوں کو کم از کم ان اصولوں پر متفق ہونا ہوگا کہ حکومت آئینی طریقے سے قائم ہوگی اور تبدیل ہوگی، پارلیمان کو بے اثر نہیں کیا جائے گا، غیر منتخب ادارے سیاسی فیصلوں پر قبضہ نہیں کریں گے اور اختلافات کا حل آئین کے اندر تلاش کیا جائے گا۔ دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاج شہریوں کے جمہوری حقوق ہیں، لیکن اگر ان کا نتیجہ آئینی عمل کو کمزور کرنا یا غیر جمہوری مداخلت کا راستہ کھولنا ہو تو احتجاج کے مقصد اور اس کے نتیجے کے درمیان تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔

پارلیمانی بالادستی کے حامیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ مختلف جماعتوں، نظریات، علاقائی مفادات اور شخصی قیادتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود اگر وہ مشترکہ اصولوں پر منظم نہ ہوں تو ان کی اجتماعی قوت منتشر رہتی ہے۔ دوسری طرف اقتدار کو ایک مرکز میں مرتکز کرنے کے خواہش مند حلقوں کے لیے اپنا ہدف متعین کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے پارلیمان کی بالادستی کا دفاع صرف تقریروں سے نہیں ہو سکتا؛ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات کے باوجود آئینی اصولوں پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

اس جدوجہد میں عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ خود کو باشعور کہنے والے شہری اگر ہر بار شخصیات کے پیچھے چلیں، ماضی کے تجربات سے سبق نہ سیکھیں اور مستقل اجتماعی جدوجہد کے بجائے وقتی نعروں پر اکتفا کریں تو ان کی سیاسی قوت مؤثر نہیں بن پائے گی۔ لیکن تمام ذمہ داری عوام پر ڈالنا بھی درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل سے اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اندرونی جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے نزدیک آئینی اصول شخصی اور جماعتی مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔

یہ سفر طویل ہو سکتا ہے۔ جمہوری ادارے ایک دن میں مضبوط نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی نئے نظام کے نفاذ سے تمام مسائل فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ ’’آہستہ چل، مگر چلتا رہ‘‘ اس جدوجہد کا اصول ہونا چاہیے: رفتار کم ہو سکتی ہے، لیکن سمت آئینی بالادستی، جواب دہی اور عوامی اختیار کی طرف ہونی چاہیے۔

پاکستان کا اصل معرکہ صدارتی یا پارلیمانی نظام کے نام پر نہیں، اس اصول پر ہے کہ اقتدار کسی فرد، ادارے یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے اور اسے آئین کے تابع رہنا چاہیے۔ سیاسی تحقیق یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مختلف نظام کس طرح کام کرتے ہیں اور کن حالات میں بحران پیدا ہو سکتے ہیں؛ مگر پاکستان کے لیے کوئی بھی نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام اس کے آئینی قواعد کو تسلیم کریں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ صدر زیادہ طاقت ور ہو یا وزیرِاعظم؛ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کو آئین کا پابند کون بنائے گا۔ جب تک اس سوال کا جواب اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر جواب دہی کی صورت میں نہیں ملتا، نظام بدلنے کے نعرے لگتے رہیں گے اور اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ قائم رہے گی۔ کشتی کو ساحل تک پہنچانے کے لیے منزل کا تعین کافی نہیں؛ ملاح اور مسافروں کو بھی ایک سمت میں سفر کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

نفرت اور سازش







نفرت اور سازش

نفرت ایک جذبہ ہے، جبکہ سازش ایک منصوبہ بند عمل۔ نفرت کسی شخص، قوم، مذہب یا نظریے کے خلاف پیدا ہوتی ہے، لیکن سازش اس وقت جنم لیتی ہے جب کوئی اپنے جذبات یا مفادات کے تحت خفیہ طور پر دوسروں کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کرتا ہے۔ ہر نفرت سازش نہیں بنتی اور ہر سازش کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی؛ کبھی اقتدار، دولت، خوف اور ذاتی مفاد بھی اس کے محرکات ہوتے ہیں۔

تاریخ اس فرق کو سمجھنے کے لیے کئی مثالیں پیش کرتی ہے۔ سنہ 44 قبل مسیح میں رومی رہنما جولیس سیزر کو سینیٹ کے بعض ارکان نے قتل کر دیا۔ انہیں خدشہ تھا کہ سیزر کی بڑھتی ہوئی طاقت جمہوری اداروں کو کمزور کر دے گی۔ سیاسی مخالفت ایک بات تھی، لیکن خفیہ منصوبہ بنا کر قتل کرنا سازش تھی۔

ایشیا کی تاریخ میں مغلیہ سلطنت کی تخت نشینی کی جنگ بھی قابلِ غور ہے۔ شاہ جہاں کی بیماری کے بعد اس کے بیٹوں، خصوصاً دارا شکوہ اور اورنگزیب، کے درمیان اقتدار کے لیے کشمکش شروع ہوئی۔ اس تنازعے کو محض بھائیوں کی نفرت قرار دینا درست نہیں؛ سلطنت پر قبضہ، سیاسی اتحاد اور اقتدار کی خواہش بھی فیصلہ کن عوامل تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں مشرقی پاکستان کا سانحہ اس حقیقت کی تلخ مثال ہے کہ سیاسی اختلاف کو بروقت حل نہ کیا جائے تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں ناکامی، سیاسی مذاکرات کا تعطل اور 25 مارچ 1971ء کو شروع ہونے والی فوجی کارروائی نے بحران کو شدید کر دیا۔ بالآخر ملک تقسیم ہو گیا۔ اس المیے کو صرف نفرت کا نتیجہ کہنا ناکافی ہے؛ سیاسی غلط فیصلے، اقتدار کی کشمکش اور طاقت کا استعمال بھی اس کے بنیادی عوامل تھے۔

افریقہ میں روانڈا کی نسل کشی نفرت کے ہولناک نتائج کی مثال ہے۔ سنہ 1994ء میں توتسی اقلیت کے خلاف برسوں سے پھیلائے جانے والے تعصب اور نفرت انگیز پروپیگنڈے نے قتلِ عام کے لیے ماحول پیدا کیا۔ انتہا پسند عناصر نے اس نفرت کو منظم تشدد میں بدل دیا اور چند ماہ میں لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے۔ یہاں نفرت محض ایک احساس نہیں رہی بلکہ اسے منصوبہ بندی اور طاقت کے ذریعے انسانی تباہی کا ذریعہ بنایا گیا۔

کانگو کے رہنما پیٹریس لومومبا کا قتل ایک مختلف پہلو سامنے لاتا ہے۔ آزادی کے بعد سرد جنگ کے ماحول میں ان کے سیاسی رجحانات اور ملک کے مستقبل پر بیرونی طاقتوں کے مفادات باہم متصادم ہوئے۔ ان کے خلاف قتل کے خفیہ منصوبوں پر غور اور کوششوں کا ذکر امریکی سرکاری دستاویزات میں موجود ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ سازش کا محرک ذاتی نفرت کے بجائے سیاسی مفاد اور اقتدار کا خوف بھی ہو سکتا ہے۔

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ نفرت اور سازش میں تعلق ضرور ہے، لیکن دونوں مترادف نہیں۔ کسی سے اختلاف کرنا، اسے ناپسند کرنا یا اس کے نظریات پر تنقید کرنا سازش نہیں۔ البتہ جھوٹے شواہد تیار کرنا، خفیہ طور پر لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا اور کسی کو ناجائز نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنانا سازش کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا فیصلہ قیاس آرائی سے نہیں، شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

معاشروں کا المیہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اختلاف کو دشمنی بنا دیا جائے، کسی گروہ کو اجتماعی طور پر مجرم ٹھہرایا جائے اور مفادات کے حصول کے لیے نفرت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ مہذب معاشرے اختلاف کو مکالمے، شکایت کو قانون اور اقتدار کی کشمکش کو آئینی طریقوں سے حل کرتے ہیں۔

نفرت دل میں جنم لیتی ہے، سازش ارادے اور منصوبہ بندی سے وجود میں آتی ہے۔ نفرت انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتی ہے، لیکن جب اسے طاقت، مفاد اور منظم عمل کا سہارا مل جائے تو یہ افراد ہی نہیں، پوری قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026

ذمہ دار شہری


 

ذمہ دار شہری

ہماری اجتماعی زندگی میں  ایک عجیب تضاد ہے۔ ہم ہر محرومی کا الزام حکومت کو دیتے ہیں، ہر خرابی کا ذمہ دار حکمرانوں کو ٹھہراتے ہیں اور ہر مسئلے کے حل کی امید ریاست سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ سڑک پر گندگی ہو تو حکومت قصوروار، ٹریفک کا نظام خراب ہو تو حکومت ذمہ دار، بازار میں ملاوٹ ہو تو حکومت غافل، تجاوزات بڑھ جائیں تو انتظامیہ ناکام، اور قانون کی خلاف ورزی عام ہو جائے تو ہم حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال کیا ہے کہ جن خرابیوں کا شکوہ ہم حکومت سے کرتے ہیں، ان میں ہمارا اپنا حصہ کتنا ہے؟

حکومت سے سوال کرنا شہری کا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا احتساب کرنا بھی اسی شہری کی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے حقوق کے بارے میں تو پوری طرح بیدار ہوتے ہیں، مگر فرائض کی باری آئے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سڑکیں صاف ہوں، مگر کوڑا اپنے گھر سے باہر پھینکتے ہوئے نہیں سوچتے۔ ہم ٹریفک کا منظم نظام چاہتے ہیں، مگر سرخ بتی پر رکنے کے بجائے موقع ملتے ہی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر جب کوئی تجاوز ہمارے اپنے کاروبار یا مفاد میں ہو تو ہمیں اس میں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم رشوت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، لیکن اپنا کام جلد کرانے کے لیے ناجائز ادائیگی کو بعض اوقات مجبوری کا نام دے دیتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قومی مسائل محض حکومتی ناکامی نہیں رہتے بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم خود کچھ کرنے کے بجائے حکومت سے ہر چیز کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو مسائل حل کرنے والا ادارہ تو سمجھ لیا ہے، مگر خود کو اس ریاست کا فعال حصہ سمجھنے کی تربیت نہیں پائی۔ ہم حکومت کو ایک الگ مخلوق تصور کرتے ہیں، جیسے وہ ہم سے مختلف لوگوں پر مشتمل کوئی ادارہ ہو، جس کی کامیابی یا ناکامی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ حکومت، ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے سے الگ تھلگ وجود نہیں رکھتے۔ حکومت انتظامی اختیار استعمال کرتی ہے، قانون بناتی ہے، اداروں کے ذریعے اس کا نفاذ کرتی ہے اور شہریوں کے جان و مال، حقوق اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ لیکن قانون کی مؤثر عملداری کے لیے شہریوں کا تعاون، سماجی قبولیت اور انفرادی ذمہ داری بھی ناگزیر ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے۔ حکومت کو قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس، عدالتوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر انتظامی محکموں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ان اداروں کی کامیابی کا انحصار صرف ان کے اہل کاروں پر نہیں۔ اگر لاکھوں شہری روزانہ قانون توڑنے کو اپنا حق سمجھنے لگیں تو چند اہل کاروں کے لیے ہر خلاف ورزی روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قانون کی عملداری صرف ڈنڈے، جرمانے اور سزا سے قائم نہیں ہوتی؛ اس کے لیے شہریوں کے ضمیر، اجتماعی رویے اور قانون کے احترام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

اب ذرا اپنے آپ سے پوچھیں: کیا ہم واقعی قانون کی عملداری چاہتے ہیں، یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون دوسروں پر نافذ ہو اور ہمیں اپنی مرضی کے مطابق چلنے کی آزادی حاصل رہے؟

یہ سوال معمولی نہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دوسرا شخص قطار میں اپنی باری کا انتظار کرے، لیکن ہمیں جلدی ہو تو ہم قطار توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دکاندار ناپ تول میں کمی نہ کرے، مگر اپنے کاروبار میں معمولی بے ایمانی کو ہنر سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم سرکاری اہل کار سے دیانت داری کی توقع رکھتے ہیں، لیکن جب کوئی اہل کار اصول کے مطابق کام کرتے ہوئے ہماری ناجائز درخواست مسترد کر دے تو ہم اسے بدتمیز، نااہل یا رشوت نہ لینے کے باوجود کسی اور طرح سے قصوروار قرار دینے لگتے ہیں۔

یہ رویہ دراصل قانون کے احترام سے زیادہ اپنے مفاد کے احترام کی علامت ہے۔

قانون کی حقیقی پاسداری کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب قانون ہماری خواہش کے مطابق ہو، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی پابندی سے ہمیں ذاتی نقصان، تاخیر یا زحمت برداشت کرنا پڑے۔ جو شخص صرف سزا کے خوف سے قانون مانتا ہے، وہ موقع ملنے پر اس کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص قانون کو اجتماعی زندگی کے تحفظ اور دوسروں کے حقوق کی ضمانت سمجھتا ہے، وہ نگرانی نہ ہونے کے باوجود اس کی پابندی کرتا ہے۔

یہی فرق قانون کے خوف اور قانون کے احترام میں ہے۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم قانون توڑنے والوں کو دل اور ذہن سے برا سمجھتے ہیں؟ یہاں مراد کسی انسان سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ اس کے غلط عمل کو غلط تسلیم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اکثر خلاف ورزی کرنے والے کے عمل کو اس کے سماجی مرتبے، دولت، تعلقات یا اپنے ذاتی مفاد کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی قانون توڑے تو ہم اسے برا کہتے ہیں، لیکن یہی کام ہمارا دوست، رشتہ دار یا بااثر شخص کرے تو اس کے لیے جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی حالات کا عذر پیش کرتے ہیں، کبھی نظام کی خرابی کا حوالہ دیتے ہیں اور کبھی یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیتے ہیں کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔

لیکن اگر کوئی غلط کام عام ہو جائے تو کیا وہ درست بھی ہو جاتا ہے؟ اگر رشوت لینا، سفارش کرانا، ٹریفک قوانین توڑنا، سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال میں لانا یا دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنا معاشرے میں رواج پا جائے تو کیا ہم اسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟ کسی برائی کی کثرت اس کی اخلاقی حیثیت تبدیل نہیں کرتی۔ اگر ہم قانون شکنی کو دل سے غلط نہیں سمجھتے تو محض سخت قوانین بنا دینے سے معاشرے میں پائیدار تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔

قانون کے احترام کا ایک اور عملی پہلو یہ ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں اور سرکاری اہل کاروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شہری قطار توڑنے سے انکار کرے، ٹریفک قوانین کی پابندی کرے یا ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کرے تو کیا ہم اس کے رویے کو سراہتے ہیں یا اسے سادہ لوح اور بے وقوف سمجھتے ہیں؟ اگر کوئی سرکاری اہل کار دباؤ، سفارش یا ناجائز مطالبے کے باوجود قانون کے مطابق کام کرے تو کیا ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے کام میں رکاوٹ سمجھ کر اس کے خلاف شکایتیں کرنے لگتے ہیں؟

جس معاشرے میں قانون ماننے والا شخص نقصان اٹھائے اور قانون توڑنے والا اپنے تعلقات یا اثر و رسوخ کے باعث فائدہ حاصل کرے، وہاں قانون کا احترام کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس لیے شہریوں کی ذمہ داری صرف اپنی ذات تک قانون کی پابندی محدود رکھنا نہیں، بلکہ قانون کے مطابق کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصول پسند شہری اور دیانت دار سرکاری اہل کار معاشرے کے مخالف نہیں، بلکہ اس کے بہتر مستقبل کے معاون ہیں۔

تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر سرکاری اہل کار کا دفاع کیا جائے یا ہر حکومتی اقدام کو درست مان لیا جائے۔ اگر کوئی اہل کار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، قانون کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کرے یا امتیازی سلوک روا رکھے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی شہری ذمہ داری ہے۔ قانون کی عملداری کا مطلب اندھی اطاعت نہیں، بلکہ قانون کے مطابق اختیار کا استعمال، شفاف احتساب اور سب کے لیے یکساں انصاف ہے۔ شہریوں کو حکومتی اداروں سے سوال کرنے، شکایت درج کرانے اور قانونی طریقے سے اصلاح کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اب آخری سوال کی طرف آئیے: کیا ہم قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟

ضروری نہیں کہ ہر شہری کسی خلاف ورزی کرنے والے سے براہ راست الجھے یا خود قانون نافذ کرنے والا بن جائے۔ بعض حالات میں ایسا کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم اپنی استطاعت اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم خود قانون کی پابندی کریں، بچوں کو قانون اور شہری ذمہ داری کی تربیت دیں، خلاف ورزی کو معمول سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، متعلقہ ادارے کو مناسب طریقے سے اطلاع دیں، ثبوت موجود ہوں تو قانونی شکایت درج کرائیں، رشوت اور سفارش کے ذریعے ناجائز کام کرانے سے انکار کریں اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے شہری تنظیموں، مقامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے تعاون کریں۔

ہم سڑک پر کوڑا پھینکنے سے خود اجتناب کر سکتے ہیں۔ غلط پارکنگ کے بجائے مناسب جگہ تلاش کر سکتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کر سکتے ہیں۔ کسی غیر قانونی کام کے لیے اپنی سفارش استعمال کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اپنے کاروبار میں ناپ تول، قیمتوں اور صارفین کے حقوق کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ سرکاری املاک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے کے بجائے قومی امانت تصور کر سکتے ہیں۔ یہ چھوٹے اقدامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی زندگی میں بڑے نتائج کی بنیاد بنتے ہیں۔

حکومت کا فرض ہے کہ قانون منصفانہ بنائے، اسے بلاامتیاز نافذ کرے، اداروں کو مؤثر بنائے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو شہریوں کو اس سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ لیکن حکومت کی ناکامی کسی شہری کے لیے قانون توڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ اسی طرح شہریوں کی بے احتیاطی یا قانون شکنی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتی۔ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کی عملداری صرف جرائم کی روک تھام کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے جس میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ ملے، محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے، کاروبار کرنے والے کو منصفانہ مواقع میسر آئیں اور عام شہری کو اپنے جان و مال کے تحفظ کا یقین ہو۔ ایسا معاشرہ صرف حکومتی احکامات سے نہیں بنتا؛ اسے شہریوں کے کردار، اداروں کی دیانت داری اور قانون کے یکساں نفاذ سے تشکیل دینا پڑتا ہے۔

قومیں صرف اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ ان کے قوانین کتنے اچھے ہیں، بلکہ اس بات سے بھی کہ ان کے شہری ان قوانین کو کس حد تک اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں اور ان کے ادارے ان پر کس قدر منصفانہ انداز میں عمل کرتے ہیں۔

لہٰذا اگلی بار جب ہم کسی قومی مسئلے پر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرائیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے بھی سوال کریں: کیا میں اس مسئلے کو پیدا کرنے والے رویے کا حصہ تو نہیں؟ کیا میں اپنے مفاد کے لیے قانون سے انحراف تو نہیں کرتا؟ کیا میں قانون کی پابندی کرنے والے کا ساتھ دیتا ہوں؟ اور کیا میں اپنی استطاعت کے مطابق خلاف ورزی روکنے کے لیے کچھ کرتا ہوں؟

حکومت سے جواب طلب کرنا ہمارا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا جواب دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ تبدیلی کا آغاز حکومت سے مطالبے کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے، مگر اسے اپنے عمل تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ جب شہری قانون کو صرف دوسروں پر نافذ ہونے والی پابندی نہیں بلکہ اپنی اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری سمجھنے لگیں گے، تبھی قانون کی عملداری محض ایک نعرے سے نکل کر قومی زندگی کی حقیقت بن سکے گی۔


سوچ کا بیج

سوچ کا بیج



”ہر برائی کا آغاز ہاتھوں سے نہیں، سوچ سے ہوتا ہے۔“ یہ ایک آفاقی اور نفسیاتی سچائی ہے ۔ انسان اچانک مجرم یا ظالم نہیں بن جاتا۔ برائی کا سفر ہمیشہ انسان کے ذہن کے کسی تاریک گوشے سے شروع ہوتا ہے۔ کسی کا حق چھیننے سے پہلے ذہن میں 'ذاتی فائدے' کا بیج انگڑائی لیتا ہے، کسی کے خلاف تشدد سے پہلے 'نفرت کا تصور' جنم لیتا ہے اور کسی کو نیچا دکھانے سے پہلے 'انتقام کی ہوس' پروان چڑھتی ہے۔ مادی عمل تو محض اس زہریلے بیج کا پھل ہے جسے انسان ایک مدت تک اپنے ذہن میں پالتا رہا ہو۔
جدید نفسیات اور نیوروسائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جب انسان اپنے ذاتی مفاد، تعصب یا ہوس کو اخلاقی اصولوں پر مقدم رکھتا ہے، تو دماغ کا جذباتی حصہ عقل پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنے غلط رویوں کو بھی درست ثابت کرنے کے لیے خود ساختہ جواز تراشنے لگتا ہے۔
انگریز مفکر جیمز ایلن نے اپنی کتاب "As a Man Thinketh" میں انسانی ذہن کو ایک باغ سے تشبیہ دی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر آپ ایک باغ میں جان بوجھ کر اچھے پھولوں کے بیج نہیں بوئیں گے، تو وہاں خود رو زہریلی جڑی بوٹیاں خود بخود اگ آئیں گی۔
محسنِ انسانیت رسول اللہ ﷺ نے اسی باطنی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”آگاہ ہو جاؤ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے؛ سنو، وہ دل (اور اس کی نیت) ہے“
سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی سوچ کو کنٹرول کر سکتا ہے؟ سائنسی جواب یہ ہے کہ ذہن میں پہلا منفی خیال آنا شاید آپ کے
بس میں نہ ہو، لیکن اس خیال کو شعوری انتخاب اور عمل میں بدلنے سے روکنا مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہے۔
منفی خیالات کو قابو میں رکھنے کا
سب سے کارگر، سستا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ نسخے کا نام ہے" شکر گذاری"
شکر گزاری کوئی معمولی اخلاقی لفظ نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغ کی وائرنگ کو بدل دینے والا ایک الٰہی جادو ہے۔ جب انسان اپنی زندگی میں موجود نعمتوں، رشتوں اور موقعوں پر دل سے شکر گزار ہوتا ہے، تو دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونین جیسے کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے جو حسد، لالچ اور ناامیدی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ نفسیات کا اصول ہے کہ انسانی دماغ ایک ہی وقت میں شکر گزاری اور حسد دونوں محسوس نہیں کر سکتا۔ جو دل شکر سے بھرا ہو، وہاں کسی کے خلاف برائی کا بیج جگہ پا ہی نہیں سکتا۔
تمام ابراہیمی مذاہب اور مفکرین نے شکر گزاری کو سوچ کنٹرول کرنے کا محور بتایا ہے۔ یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون نے لکھا تھا کہ "انسان کی زیادہ تر برائیاں مادی چیزوں کے حصول کی اس تڑپ کا نتیجہ ہیں جن کی اسے ضرورت ہی نہیں ہوتی"—شکر گزاری اسی اندھی تڑپ کا علاج ہے۔ مسیحی مفکر سینٹ آگسٹین کے مطابق "جب انسان خالق کی نعمتوں کو چھوڑ کر مادی اشیاء پر قبضہ جمانے کی ہوس کرتا ہے تو برائی جنم لیتی ہے"۔ جبکہ قرآنِ کریم نے اس کا آفاقی حل پیش کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا:
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا"
یہ 'زیادہ دینا' صرف مال و دولت کا نہیں، بلکہ مثبت سوچ، ذہنی سکون اور اخلاقی بلندی کا بھی ہے۔ صوفی دانشور واصف علی واصفؒ نے اسی نقطے کو یوں سمجھایا کہ جب انسان 'مزید' کی ہوس کے بجائے موجود پر شاکر ہو جاتا ہے، تو برائی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے۔
معاشرے کی تعمیرِ نو کا آغاز فرد کے ذہن سے ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک پرامن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے کامیابی کا معیار بدلنا ہوگا۔ جہاں رشوت کو چالاکی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کو مہارت سمجھا جائے، وہاں زوال مقدر بن جاتا ہے۔ برائی کا بیج سوچ میں ضرور پنپتا ہے، لیکن اسے اکھاڑ پھینکنا انسان کا اپنا انتخاب ہے۔
شکووں، محرومیوں اور محرومیوں کا تزکرہ زندگی کے راستے میں کانٹے بکھیرتے ہیں، جبکہ شکر گزاری سے ذہن کی زمیں پر سکون کے پھول کھلتے ہیں۔

جمعہ، 16 اکتوبر، 2026

بوٹ سے ری بوٹ تک



 پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بعض سیاست دان عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض طاقت کے مراکز کے قریب ہونے کو اپنی سیاسی قوت سمجھتے ہیں۔ پہلے طبقے کو ووٹ، جلسوں اور عوامی حمایت سے اپنی حیثیت منوانا پڑتی ہے، جبکہ دوسرے طبقے کی سیاست کا نمایاں حوالہ ان کے روابط، دعوے اور مقتدر حلقوں تک رسائی ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کردار بدلتے رہتے ہیں، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ پاکستان میں اصل سیاسی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں یا اقتدار کے پسِ پردہ موجود قوتیں؟

پیر پگاڑا مرحوم مردان علی شاہ، شیخ رشید احمد اور فیصل ووڈا تین مختلف مزاجوں کے سیاست دان ہیں، لیکن ان کے سیاسی تذکروں میں طاقت کے مراکز سے قربت کا حوالہ نمایاں رہا ہے۔ پیر پگاڑا کی سیاست کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ ان کی شخصیت، خاندانی روایت اور سیاسی روابط ایک مخصوص تاریخی ماحول میں پروان چڑھے۔ شیخ رشید نے بھی ایک زمانے میں فوجی قیادت سے قربت کے حوالے سے اپنی سیاسی شناخت بنائی، تاہم جب انہوں نے خود کو فوج کا نمائندہ قرار دینے کا دعویٰ کیا تو ان کے بقول فوجی ہیڈکوارٹر کے دروازے ان پر بند ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت کے قریب ہونے کا تاثر اور طاقت کی حقیقی نمائندگی دو الگ باتیں ہیں۔

فیصل ووڈا صاحب کا معاملہ بھی اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ اٹھا کر لانے کے واقعے نے انہیں خاصی شہرت دی۔ اب ان کی پریس کانفرنس میں نظام کو ”ری بوٹ“ کرنے کی بات سامنے آئی تو سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ بوٹ سے شہرت حاصل کرنے والے سیاست دان کا ری بوٹ کی اصطلاح استعمال کرنا اپنی جگہ دلچسپ ہے، لیکن اصل سوال الفاظ کے انتخاب کا نہیں، اس سیاسی طرزِ عمل کا ہے جس میں بعض شخصیات اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے خود کو طاقت کے مراکز سے قریب دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

فیصل ووڈا صاحب کی حالیہ گفتگو کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ جب ملک میں پارلیمان، حکومت، صدرِ مملکت اور متعلقہ ریاستی ادارے موجود ہیں تو نظام کی تبدیلی یا کسی غیر معمولی انتظامی اقدام کے بارے میں سیاسی اعلان کرنے کی ضرورت اور اختیار کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ اگر کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا معاملہ ہو تو اس کے لیے آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ پارلیمان، وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت کے اپنے اپنے آئینی کردار ہیں۔ متعلقہ فیصلے انہی اداروں کے مقررہ دائرۂ اختیار میں ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی غیر سرکاری سیاسی اعلان سے ان کی جگہ لی جا سکتی ہے۔

ریاستی نظام کسی ٹی وی پروگرام، پریس کانفرنس یا کسی ایک شخصیت کے بیان سے نہیں چلتا۔ اس کے لیے آئین، قانون اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے پاس کوئی مستند اطلاع ہے تو اسے مناسب فورم پر پیش کرنا چاہیے، اور اگر وہ کسی ممکنہ تبدیلی کا محض تاثر دے رہا ہے تو اسے یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس کی بات کی بنیاد کیا ہے۔ سیاست میں مبہم اشارے بعض اوقات شہ سرخیاں تو بن جاتے ہیں، لیکن ان سے عوام کے ذہنوں میں غیر ضروری قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس طرزِ سیاست کے مقابلے میں عوامی مقبولیت کی ایک دوسری روایت بھی موجود ہے۔ حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان مختلف ادوار اور مختلف سیاسی نظریات کے نمائندے ہیں، مگر ان سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر براہِ راست عوامی حمایت کو اپنی سیاست کا اہم ستون بنایا۔ ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان کے نام عوامی جلسوں، انتخابی معرکوں، سیاسی تحریکوں اور اجتماعی یادداشت کا حصہ بنے۔

عوامی مقبولیت بھی کسی رہنما کو ہر غلطی سے مبرا نہیں کرتی، جس طرح مقتدر حلقوں سے قربت کسی سیاست دان کی ہر بات کو غلط ثابت نہیں کرتی۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کون آئینی حدود کا احترام کرتا ہے، کون عوام کے مسائل حل کرتا ہے، کون اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور کون سیاست کو محض ذاتی تشہیر کا ذریعہ بناتا ہے۔

آج عمران خان اور شہباز شریف دو مختلف سیاسی راستوں کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے بیانیے اور عوامی حمایت کے ذریعے روایتی سیاسی بندوبست کو چیلنج کیا، لیکن ان کی سیاست کے ساتھ تنازعات، قانونی مقدمات اور سزاؤں کا باب بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مقدمات اور سزاؤں کے بارے میں سیاسی و قانونی اختلافات اپنی جگہ، تاہم کسی بھی رہنما کی تاریخ مرتب کرتے وقت اس کی مقبولیت کے ساتھ اس کے فیصلوں اور ان کے نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہو گا۔

دوسری طرف شہباز شریف کی شناخت انتظامی سرگرمی، منصوبوں کی رفتار اور عملی حکمتِ عملی سے وابستہ رہی ہے۔ ان کے حامی ان کی انتظامی صلاحیت کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے طرزِ حکمرانی اور سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے تعریف کسی رہنما کے لیے سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن ملکی سیاست میں اس کی اصل قدر کا تعین عوامی فلاح، معاشی بہتری، حکمرانی کے معیار اور اداروں کی مضبوطی سے ہونا چاہیے۔

ان دونوں رہنماؤں کے بارے میں تاریخ کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ یہ فیصلہ محض نعروں، جلسوں، پریس کانفرنسوں یا بیرونی شخصیات کی تحسین سے نہیں ہو گا۔ وقت کے ساتھ یہ دیکھا جائے گا کہ کس نے ملک کو کیا دیا، کس نے اداروں کو کتنا مضبوط کیا اور کس کی سیاست نے عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کی۔

فیصل ووڈا صاحب کے لیے بھی اس بحث میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔ سیاست میں کسی طاقتور شخصیت کے قریب ہونے کا تاثر وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتا ہے، مگر مستقل سیاسی شناخت کے لیے اپنا موقف، عوامی اعتماد اور عملی کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ شیخ رشید کے سیاسی تجربے سے سبق لینے کا مشورہ دینے والے ان کے دشمن نہیں، بلکہ ممکن ہے وہ انہیں اس راستے کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہتے ہوں جس میں سیاسی حیثیت اپنے دعووں کے بجائے دوسروں کی طاقت سے اخذ کی جاتی ہے۔

نظام کو ری بوٹ کرنے کی بات کرنا آسان ہے، لیکن کسی نظام کو بہتر بنانا محض ایک اصطلاح دہرانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے آئینی بالادستی، شفاف طرزِ حکمرانی، جواب دہی اور عوامی اعتماد ضروری ہیں۔ کمپیوٹر کا نظام خراب ہو تو بٹن دبا کر دوبارہ چلایا جا سکتا ہے، مگر ریاست کا نظام محض ری بوٹ سے درست نہیں ہوتا؛ اس کی خرابیوں کی تشخیص، ذمہ داروں کا تعین اور اصلاح کی سنجیدہ کوشش درکار ہوتی ہے۔

آخر میں سوال وہی ہے : سیاست میں کامیابی طاقت کے قریب ہونے میں ہے یا عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں؟ شاید وقتی اقتدار کے لیے پہلی راہ زیادہ آسان دکھائی دے، لیکن دیرپا سیاسی شناخت کے لیے دوسری راہ زیادہ پائیدار ہے۔ بوٹ سے شہرت حاصل کی جا سکتی ہے، ری بوٹ کا نعرہ بھی لگایا جا سکتا ہے، مگر تاریخ میں وہی سیاست دان زندہ رہتے ہیں جن کی پہچان کسی طاقتور دروازے تک رسائی نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد اور اپنے عمل سے قائم ہوتی ہے۔