اردو کالم اور مضامین
علم کی روشنی سے منور تحریریں جو ذہن کے تاریک گوشوں کو منور کر سکتی ہیں
جمعہ، 6 نومبر، 2026
سیاسی رہنماء سے مرشد بننے کا سفر
امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کا نیا باب
امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کا نیا باب
جمہوریت کی خوب صورتی یہ ہے کہ وہ مختلف مذاہب، نسلوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اپنی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کا موقع دیتی ہے۔ امریکہ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں مسلم امریکیوں کی کامیابیاں اسی جمہوری تنوع کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
امریکہ کو عموماً ایک ایسے معاشرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں مذہبی آزادی، شہری مساوات اور جمہوری حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں مسلمانوں کو کئی دہائیوں سے مذہبی تعصب، اسلاموفوبیا اور سیاسی شکوک و شبہات کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں امریکی کانگریس کے انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی محض چند نشستوں کا اضافہ نہیں بلکہ امریکی معاشرے میں بدلتے ہوئے سیاسی رجحانات کی علامت بھی ہے۔
تین نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں کم از کم چھ مسلمان امیدوار ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔ ان میں نیوجرسی سے ڈاکٹر آدم حماوی اور نیویارک سے داریالیزا آویلا شیولیئر پہلی مرتبہ کانگریس کا حصہ بنے، جبکہ راشدہ طلیب، الہان عمر، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ یوں امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں مسلم نمائندگی کا ایک نیا باب رقم ہوا۔
ڈاکٹر آدم حماوی کی کامیابی اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ وہ نیوجرسی سے کانگریس میں پہنچنے والے پہلے مسلمان نمائندے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے پلاسٹک سرجن، سابق امریکی فوجی معالج اور عراق جنگ کے تجربہ کار ڈاکٹر حماوی نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں، طبی اور تعلیمی قرضوں کے خاتمے اور امریکی خارجہ پالیسی جیسے موضوعات کو اہمیت دی۔ غزہ کے ایک ہسپتال میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا ان کا تجربہ بھی ان کی سیاسی شناخت کا حصہ رہا۔
نیویارک سے منتخب ہونے والی داریالیزا آویلا شیولیئر کی کامیابی بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ لاطینی امریکی پس منظر رکھنے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں جو نیویارک سے کانگریس میں پہنچی ہیں۔ شہری حقوق کے شعبے سے وابستہ اور اسلام قبول کرنے والی شیولیئر کی انتخابی مہم میں سماجی انصاف، شہری حقوق اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت جیسے موضوعات نمایاں رہے۔
دوسری طرف راشدہ طلیب، الہان عمر، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن کی دوبارہ کامیابی اس بات کا اظہار ہے کہ امریکی ووٹرز نے ان نمائندوں کو محض ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے سیاسی مؤقف، قانون سازی اور عوامی مسائل پر کردار کی بنیاد پر بھی قبول کیا ہے۔ راشدہ طلیب فلسطینی نژاد امریکی ہیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ الہان عمر صومالی نژاد ہیں اور امریکی سیاست میں تارکین وطن کے پس منظر سے آنے والی نمایاں آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن بھی شہری حقوق اور سماجی انصاف کے معاملات پر سرگرم رہے ہیں۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے: ان کامیابیوں کو صرف مسلمانوں کی انتخابی کامیابی قرار دینا کافی نہیں۔ یہ امریکی جمہوریت میں نسلی اور مذہبی تنوع کے بڑھتے ہوئے اثر کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ امریکی معاشرہ مختلف قومیتوں، مذاہب اور ثقافتوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے جمہوری نمائندگی کا تقاضا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں معاشرے کے تمام طبقات کو جگہ ملے۔ جب کوئی مسلمان، سیاہ فام، لاطینی امریکی یا تارکِ وطن پس منظر رکھنے والا شہری عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر کانگریس میں پہنچتا ہے تو وہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی نمائندگی کا آئینی حق حاصل کرتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنقید اور تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں میں اسلام کو سیاسی وفاداری کے پیمانے پر پرکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود ان امیدواروں کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ امریکی ووٹرز کا ایک قابلِ ذکر حصہ مذہبی شناخت کے بجائے امیدوار کی اہلیت، پالیسی اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتا ہے۔
اس انتخابی پیش رفت کو فلسطین اور غزہ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مسلم امریکی امیدواروں میں سے متعدد نے غزہ میں انسانی بحران، شہری آبادی کے تحفظ، انسانی امداد اور امریکی فوجی معاونت سے متعلق پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی داخلی سیاست اب عالمی انسانی مسائل سے الگ تھلگ نہیں رہی۔ امریکی ووٹرز کا ایک طبقہ خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ووٹ کے فیصلے میں اہمیت دے رہا ہے۔
البتہ کانگریس میں مسلم ارکان کی موجودگی کو کسی ایک مذہبی یا سیاسی مؤقف کی ضمانت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہر منتخب نمائندے کی اپنی ترجیحات، سیاسی وابستگیاں اور حلقۂ انتخاب کے سامنے جواب دہی ہوتی ہے۔ ان کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کو قانون سازی، عوامی خدمت اور شہری حقوق کے تحفظ میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔
امریکہ میں مسلم سیاسی نمائندگی کا سفر بھی ایک دن میں طے نہیں ہوا۔ 2006ء میں کیتھ ایلیسن پہلے مسلمان تھے جو امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کے بعد مسلمانوں کی سیاسی شرکت بتدریج بڑھی اور اب 2026ء کے انتخابات نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ یہ تبدیلی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جمہوریت میں کسی کمیونٹی کی مستقل سیاسی اہمیت اس کی تعداد سے زیادہ اس کی منظم شہری شرکت، ووٹ کے استعمال اور اجتماعی جدوجہد سے متعین ہوتی ہے۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے بھی اس پیش رفت میں ایک سبق موجود ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی اثر و رسوخ محض نعروں، احتجاج یا جذباتی وابستگی سے پیدا نہیں ہوتا؛ اس کے لیے تعلیم، تنظیم، سیاسی شعور، شہری حقوق کی پاسداری اور انتخابی عمل میں مسلسل شرکت ضروری ہے۔ امریکی مسلمانوں نے اپنے ووٹ، سیاسی تنظیم اور امیدوار کھڑے کرنے کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود جمہوری نظام کے اندر مؤثر آواز پیدا کی جا سکتی ہے۔
آخرکار، کسی جمہوریت کی اصل طاقت یہ نہیں کہ اس کے ایوانوں میں صرف اکثریت کی آواز سنائی دے، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف، تنوع اور مختلف شناختوں رکھنے والے شہریوں کو بھی اپنی بات کہنے اور فیصلوں میں حصہ لینے کا حق حاصل ہو۔ امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کا بڑھنا اسی جمہوری اصول کی ایک اہم مثال ہے۔
یہاں چھ نومنتخب یا دوبارہ منتخب ہونے والے مسلم ارکانِ ایوانِ نمائندگان کا ذکر ہے۔ عائشہ وہاب اگست 2026ء کے ضمنی انتخاب کے ذریعے پہلے ہی کانگریس کی رکن بن چکی تھیں۔ نومبر کے مکمل انتخاب میں ان کی نشست کے نتائج کی حتمی تصدیق زیرِ انتظار تھی۔
جمعرات، 5 نومبر، 2026
امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ
جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
چار ستونوں پر کھڑی انسانیت
چار ستونوں پر کھڑی انسانیت
انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟
معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔
خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔
انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟
معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔
خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔
نسل و خاندان: جڑیں جو سایہ دیں
خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔
فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔
قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔
خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔
خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔
فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔
قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔
خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔
دولت: ہاتھ کی قوت، دل کا امتحان
دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔
فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔
امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔
یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔
دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔
دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔
فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔
امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔
یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔
دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔
سیاست: اختیار جو انصاف کا پابند ہو
سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔
عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔
علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔
سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔
سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔
عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔
علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔
سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مذہب: عقیدہ جو کردار میں اترے
مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔
امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔
اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔
مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔
مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔
امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔
اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔
مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔
ستونوں کی قوت، انسانیت کی چھت
نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔
خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔
آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔
انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔
نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔
خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔
آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔
انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔

