جمعہ، 6 نومبر، 2026

سیاسی رہنماء سے مرشد بننے کا سفر




سیاسی رہنما سے مرشد بننے کا سفر

تاریخ کے صفحات میں بعض کردار ایسے بھی ملتے ہیں جو اپنی زندگی کا آغاز خدمتِ خلق کے دعووں سے کرتے ہیں، سیاست کے میدان میں مقبولیت حاصل کرتے ہیں، عوام کے جذبات کو اپنی قوت بناتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کی ذات پر سوال اٹھانا بھی جرم سمجھا جانے لگتا ہے۔ ان کا سفر محض ایک سیاسی رہنما کے عروج و زوال کی کہانی نہیں ہوتا، بلکہ اس نفسیاتی عمل کی داستان بھی ہوتا ہے جس میں عوامی اعتماد، شخصیت پرستی میں اور سیاسی وفاداری اندھی عقیدت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ امریکی تاریخ کا ایک کردار اس المیے کی نمایاں مثال ہے، جس کا انجام آج بھی انسان کو اقتدار، عقیدت اور اجتماعی نفسیات کے خطرناک امتزاج سے خبردار کرتا ہے۔

جم جونز نے اپنی عوامی زندگی کا آغاز سماجی خدمت، مساوات اور محروم طبقات کے حقوق کی حمایت سے کیا۔ وہ جانتا تھا کہ غربت، نسلی امتیاز اور معاشرتی ناانصافی سے دوچار لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کے لیے محض تقریر کافی نہیں ہوتی؛ ان کے دکھوں کو اپنی زبان دینا اور ان کی امیدوں کو ایک مشترکہ مقصد میں ڈھالنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس نے یہی راستہ اختیار کیا۔ سماجی انصاف کے وعدوں نے اسے ایسے لوگوں میں مقبول بنایا جو ایک بہتر معاشرے کے خواب دیکھتے تھے۔

اس کی مقبولیت کا دائرہ بڑھا تو وہ محض ایک سماجی کارکن نہیں رہا، بلکہ ایک بااثر عوامی کردار بن گیا۔ اس نے اپنی جماعت کو منظم کیا اور لوگوں کے درمیان ایک ایسی وابستگی پیدا کی جو معمول کی سیاسی حمایت سے آگے نکل گئی۔ اس کے پیروکار اس کے پروگراموں میں شریک ہوتے، اس کے پیغام کو آگے پہنچاتے اور اس کے نظریات کو اپنی اجتماعی شناخت کا حصہ سمجھنے لگے۔ یوں ایک ایسی جماعت تشکیل پانے لگی جس کی طاقت صرف تعداد میں نہیں، بلکہ اپنے رہنما کے ساتھ غیر معمولی جذباتی تعلق میں بھی پوشیدہ تھی۔

اس تعلق کو مضبوط بنانے میں موسیقی، اجتماعی اجتماعات اور پُرجوش خطابت نے اہم کردار ادا کیا۔ موسیقی نے مجمعے کو ایک جذباتی وحدت دی، نعروں نے مشترکہ شناخت کو تقویت بخشی اور تقریروں نے اس وابستگی کو ایک نظریاتی جواز فراہم کیا۔ لوگوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ کسی عام جماعت کا حصہ نہیں، بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیے جدوجہد کرنے والے قافلے کے رکن ہیں۔ اس قافلے کی منزل ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں ناانصافی کا خاتمہ ہو۔

یہاں تک تو کہانی ایک مقبول رہنما کی سیاسی و سماجی کامیابی کی دکھائی دیتی ہے، مگر اصل تبدیلی اس وقت شروع ہوئی جب مقصد سے وابستگی، رہنما کی ذات سے غیر مشروط وفاداری میں ڈھلنے لگی۔ اب اس کی حمایت کا پیمانہ اس کی پالیسیوں اور کارکردگی سے زیادہ اس کے بیانئے سے وابستہ ہونے لگا۔ اختلافِ رائے کو اصلاح کی کوشش سمجھنے کے بجائے مشترکہ مقصد سے انحراف تصور کیا جانے لگا۔ یوں ایک منظم جماعت رفتہ رفتہ شخصیت پرستی کے حصار میں داخل ہوتی چلی گئی۔

اس سفر میں اس کی زوجہ کا کردار بھی اہم تھا۔ وہ تنظیمی اور انتظامی معاملات میں شریک رہی اور جماعت کے اندرونی نظام کو چلانے میں اس نے اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔ دونوں کی ذاتی زندگی اور تنظیمی سرگرمیاں ایک دوسرے سے اس طرح جڑ گئیں کہ رہنما کے گرد قائم ہونے والا نظام محض ایک سیاسی یا سماجی تحریک نہ رہا، بلکہ ایک ایسا حلقۂ اختیار بن گیا جس میں وفاداری اور شخصی وابستگی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی۔

لیکن اقتدار کی خواہش جب احتساب سے آزاد ہو جائے تو اس کے ساتھ خطرات بھی بڑھنے لگتے ہیں۔ رہنما کی شخصیت جتنی بڑی ہوتی گئی، اس کے طرزِ عمل پر سوال اٹھانے کی گنجائش اتنی ہی کم ہوتی گئی۔ اس کی تنظیم پر مالی معاملات، پیروکاروں کے ساتھ بدسلوکی، نفسیاتی دباؤ اور لوگوں پر غیر معمولی کنٹرول کے الزامات سامنے آنے لگے۔ اس کی ذاتی زندگی اور منشیات کے استعمال سے متعلق بھی تنازعات اور الزامات رپورٹ ہوئے۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ جس نظام میں رہنما کی ذات ہی حق و باطل کا پیمانہ بن جائے، وہاں اس کے خلاف شکایت کرنا بھی وفاداری کے امتحان میں ناکام ہونے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے۔ پیروکاروں کے لیے یہ تسلیم کرنا دشوار ہوتا گیا کہ جس شخص کو وہ نجات دہندہ سمجھتے ہیں، اس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ اسی نفسیاتی حصار میں سوال دبنے لگے، شکایات بڑھنے لگیں اور تنظیم کے اندرونی معاملات بیرونی دنیا کی توجہ حاصل کرنے لگے۔

جب قانونی دباؤ اور عوامی تنقید میں اضافہ ہوا تو اس رہنما کے لیے اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا مشکل ہونے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ سیاسی اثر و رسوخ، منظم جماعت اور عوامی مقبولیت ہر بحران میں ڈھال نہیں بن سکتے۔ قانون اور معاشرتی احتساب سے بچنے کے لیے محض مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب اس کے کردار میں ایک اور تبدیلی نمایاں ہوئی: سیاسی و سماجی رہنما کی حیثیت رفتہ رفتہ ایک ایسے مذہبی پیشوا کی صورت اختیار کرنے لگی جس کے گرد عقیدت، قربانی اور نجات کا تصور مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

اس نے اپنے پیروکاروں کے سامنے ایک اجتماعی زندگی کا خواب پیش کیا، جس میں مساوات، بھائی چارے، مشترکہ ملکیت اور بیرونی دنیا کی ناانصافیوں سے نجات کے وعدے شامل تھے۔ مذہبی زبان اور روحانی دعووں نے اس خواب کو مزید جذباتی قوت دی۔ اب معاملہ کسی سیاسی پروگرام کی حمایت تک محدود نہیں رہا تھا؛ رہنما کی بات کو ایک ایسے پیغام کی حیثیت دی جانے لگی جس سے اختلاف گویا پورے اجتماعی مقصد سے انکار تھا۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ مذہب انسان کو اخلاقی جواب دہی، سچائی، عدل اور خود احتسابی کی طرف بلاتا ہے، جب کہ شخصیت پرستی کا نظام اکثر رہنما کو انھی اصولوں سے بالاتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روحانی رہنمائی کا مقصد انسان کے شعور کو بیدار کرنا ہے، اسے اپنی عقل اور اخلاقی ذمہ داری سے محروم کرنا نہیں۔ جب کسی شخص کی خواہش کو مقدس حکم اور اس کی اطاعت کو نجات کی ضمانت بنا دیا جائے تو عقیدت، استحصال کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

جم جونز نے بالآخر اپنے پیروکاروں کے ایک بڑے گروہ کو امریکہ سے گیانا منتقل کر دیا، جہاں اس نے جونز ٹاؤن کے نام سے ایک بستی قائم کی۔ یہ اقدام بظاہر ایک متبادل معاشرے کی تعمیر تھا، جہاں لوگ نسلی امتیاز، معاشرتی ناانصافی اور بیرونی دنیا کے استحصالی نظام سے دور زندگی گزار سکیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس خواب کی صورت بدلنے لگی۔ بستی میں رہنما کا اختیار مضبوط ہوتا گیا، نگرانی اور خوف کی فضا گہری ہوتی گئی اور بیرونی دنیا سے رابطے محدود ہونے لگے۔ جن لوگوں نے آزادی اور مساوات کی امید میں اس بستی کو اپنا گھر بنایا تھا، ان میں سے بعض کے لیے وہاں سے نکلنا بھی دشوار ہوتا چلا گیا۔

پھر وہ دن آیا جس نے اس پوری داستان کو ایک ہول ناک انجام سے دوچار کر دیا۔

18 نومبر 1978ء کو امریکی کانگریس کے رکن لیو ریان ایک وفد کے ساتھ جونز ٹاؤن پہنچے۔ ان کا مقصد وہاں موجود افراد کی شکایات اور حالات کا جائزہ لینا تھا۔ دورے کے دوران بعض افراد نے بستی چھوڑنے کی خواہش ظاہر کی۔ واپسی کے موقع پر ریان کے وفد اور وہاں سے نکلنے کے خواہش مند افراد پر حملہ کیا گیا، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد جونز ٹاؤن میں اجتماعی اموات کا المناک سلسلہ پیش آیا۔ نو سو سے زیادہ افراد جان سے گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ بہت سے افراد کو زہریلا مشروب پینے پر مجبور کیا گیا، جب کہ بعض اموات کے حالات مختلف تھے۔ جم جونز بھی اسی روز گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔

یہ محض ایک بستی کی تباہی نہیں تھی؛ یہ اس خواب کی شکست تھی جسے مساوات، سماجی انصاف اور نجات کے نام پر پیش کیا گیا تھا۔ جن لوگوں نے اپنے رہنما پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ساتھ ایک نئی دنیا بسانے کا فیصلہ کیا تھا، وہ اسی نظام کے ہاتھوں اپنی جانوں سے محروم ہو گئے جسے ان کے سامنے تحفظ اور آزادی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا تھا۔

جم جونز کی کہانی ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہر مقبول رہنما یا مذہبی پیشوا خطرناک ہوتا ہے۔ اس کا اصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی رہنما کو اس کے نعروں، خطابت، مقبولیت یا روحانی دعووں کی بنیاد پر احتساب سے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ سماجی خدمت کا دعویٰ کردار کی ضمانت نہیں، موسیقی اور جذباتی خطابت سچائی کا ثبوت نہیں، اور لوگوں کی غیر مشروط وفاداری کسی شخص کو خطا سے پاک نہیں بنا دیتی۔

معاشرے اس وقت زیادہ محفوظ ہوتے ہیں جب ان کے شہری اپنے رہنماؤں سے محبت کے باوجود سوال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جب مذہبی عقیدت اخلاقی ذمہ داری سے جڑی رہتی ہے اور جب سیاسی مقبولیت قانون سے بالاتر ہونے کا پروانہ نہیں بنتی۔ تاریخ بار بار یاد دلاتی ہے کہ رہنما کا اصل امتحان اس کے پیروکاروں کی تعداد نہیں، بلکہ اس کے اختیار کی حدود، اس کے کردار کی سچائی اور انسانی جان کے احترام میں پوشیدہ ہے۔

جب رہنما کو سوال سے بالاتر اور اس کی خواہش کو آخری سچ سمجھ لیا جائے تو قافلے منزل سے پہلے ہی راستہ کھو دیتے ہیں۔ جونز ٹاؤن کا المیہ اسی حقیقت کی ایک خونچکاں یاد دہانی ہے۔

امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کا نیا باب


 

امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کا نیا باب

جمہوریت کی خوب صورتی یہ ہے کہ وہ مختلف مذاہب، نسلوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو اپنی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کا موقع دیتی ہے۔ امریکہ کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں مسلم امریکیوں کی کامیابیاں اسی جمہوری تنوع کی ایک نمایاں مثال ہیں۔

امریکہ کو عموماً ایک ایسے معاشرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں مذہبی آزادی، شہری مساوات اور جمہوری حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں مسلمانوں کو کئی دہائیوں سے مذہبی تعصب، اسلاموفوبیا اور سیاسی شکوک و شبہات کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں امریکی کانگریس کے انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی محض چند نشستوں کا اضافہ نہیں بلکہ امریکی معاشرے میں بدلتے ہوئے سیاسی رجحانات کی علامت بھی ہے۔

تین نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں کم از کم چھ مسلمان امیدوار ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے۔ ان میں نیوجرسی سے ڈاکٹر آدم حماوی اور نیویارک سے داریالیزا آویلا شیولیئر پہلی مرتبہ کانگریس کا حصہ بنے، جبکہ راشدہ طلیب، الہان عمر، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ یوں امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں مسلم نمائندگی کا ایک نیا باب رقم ہوا۔

ڈاکٹر آدم حماوی کی کامیابی اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ وہ نیوجرسی سے کانگریس میں پہنچنے والے پہلے مسلمان نمائندے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے پلاسٹک سرجن، سابق امریکی فوجی معالج اور عراق جنگ کے تجربہ کار ڈاکٹر حماوی نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں، طبی اور تعلیمی قرضوں کے خاتمے اور امریکی خارجہ پالیسی جیسے موضوعات کو اہمیت دی۔ غزہ کے ایک ہسپتال میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا ان کا تجربہ بھی ان کی سیاسی شناخت کا حصہ رہا۔

نیویارک سے منتخب ہونے والی داریالیزا آویلا شیولیئر کی کامیابی بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ لاطینی امریکی پس منظر رکھنے والی پہلی مسلمان خاتون ہیں جو نیویارک سے کانگریس میں پہنچی ہیں۔ شہری حقوق کے شعبے سے وابستہ اور اسلام قبول کرنے والی شیولیئر کی انتخابی مہم میں سماجی انصاف، شہری حقوق اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت جیسے موضوعات نمایاں رہے۔

دوسری طرف راشدہ طلیب، الہان عمر، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن کی دوبارہ کامیابی اس بات کا اظہار ہے کہ امریکی ووٹرز نے ان نمائندوں کو محض ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے سیاسی مؤقف، قانون سازی اور عوامی مسائل پر کردار کی بنیاد پر بھی قبول کیا ہے۔ راشدہ طلیب فلسطینی نژاد امریکی ہیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ الہان عمر صومالی نژاد ہیں اور امریکی سیاست میں تارکین وطن کے پس منظر سے آنے والی نمایاں آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن بھی شہری حقوق اور سماجی انصاف کے معاملات پر سرگرم رہے ہیں۔

یہاں ایک اہم حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے: ان کامیابیوں کو صرف مسلمانوں کی انتخابی کامیابی قرار دینا کافی نہیں۔ یہ امریکی جمہوریت میں نسلی اور مذہبی تنوع کے بڑھتے ہوئے اثر کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ امریکی معاشرہ مختلف قومیتوں، مذاہب اور ثقافتوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے جمہوری نمائندگی کا تقاضا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں معاشرے کے تمام طبقات کو جگہ ملے۔ جب کوئی مسلمان، سیاہ فام، لاطینی امریکی یا تارکِ وطن پس منظر رکھنے والا شہری عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہو کر کانگریس میں پہنچتا ہے تو وہ اپنی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی نمائندگی کا آئینی حق حاصل کرتا ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنقید اور تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں میں اسلام کو سیاسی وفاداری کے پیمانے پر پرکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود ان امیدواروں کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ امریکی ووٹرز کا ایک قابلِ ذکر حصہ مذہبی شناخت کے بجائے امیدوار کی اہلیت، پالیسی اور عوامی خدمت کو ترجیح دیتا ہے۔

اس انتخابی پیش رفت کو فلسطین اور غزہ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مسلم امریکی امیدواروں میں سے متعدد نے غزہ میں انسانی بحران، شہری آبادی کے تحفظ، انسانی امداد اور امریکی فوجی معاونت سے متعلق پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی داخلی سیاست اب عالمی انسانی مسائل سے الگ تھلگ نہیں رہی۔ امریکی ووٹرز کا ایک طبقہ خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ووٹ کے فیصلے میں اہمیت دے رہا ہے۔

البتہ کانگریس میں مسلم ارکان کی موجودگی کو کسی ایک مذہبی یا سیاسی مؤقف کی ضمانت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہر منتخب نمائندے کی اپنی ترجیحات، سیاسی وابستگیاں اور حلقۂ انتخاب کے سامنے جواب دہی ہوتی ہے۔ ان کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کو قانون سازی، عوامی خدمت اور شہری حقوق کے تحفظ میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔

امریکہ میں مسلم سیاسی نمائندگی کا سفر بھی ایک دن میں طے نہیں ہوا۔ 2006ء میں کیتھ ایلیسن پہلے مسلمان تھے جو امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کے بعد مسلمانوں کی سیاسی شرکت بتدریج بڑھی اور اب 2026ء کے انتخابات نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ یہ تبدیلی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جمہوریت میں کسی کمیونٹی کی مستقل سیاسی اہمیت اس کی تعداد سے زیادہ اس کی منظم شہری شرکت، ووٹ کے استعمال اور اجتماعی جدوجہد سے متعین ہوتی ہے۔

پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے بھی اس پیش رفت میں ایک سبق موجود ہے۔ جمہوری معاشروں میں سیاسی اثر و رسوخ محض نعروں، احتجاج یا جذباتی وابستگی سے پیدا نہیں ہوتا؛ اس کے لیے تعلیم، تنظیم، سیاسی شعور، شہری حقوق کی پاسداری اور انتخابی عمل میں مسلسل شرکت ضروری ہے۔ امریکی مسلمانوں نے اپنے ووٹ، سیاسی تنظیم اور امیدوار کھڑے کرنے کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود جمہوری نظام کے اندر مؤثر آواز پیدا کی جا سکتی ہے۔

آخرکار، کسی جمہوریت کی اصل طاقت یہ نہیں کہ اس کے ایوانوں میں صرف اکثریت کی آواز سنائی دے، بلکہ یہ ہے کہ وہاں اختلاف، تنوع اور مختلف شناختوں رکھنے والے شہریوں کو بھی اپنی بات کہنے اور فیصلوں میں حصہ لینے کا حق حاصل ہو۔ امریکی کانگریس میں مسلم نمائندگی کا بڑھنا اسی جمہوری اصول کی ایک اہم مثال ہے۔

یہاں چھ نومنتخب یا دوبارہ منتخب ہونے والے مسلم ارکانِ ایوانِ نمائندگان کا ذکر ہے۔ عائشہ  وہاب اگست 2026ء کے ضمنی انتخاب کے ذریعے پہلے ہی کانگریس کی رکن بن چکی تھیں۔ نومبر کے مکمل انتخاب میں ان کی نشست کے نتائج کی حتمی تصدیق زیرِ انتظار تھی۔


جمعرات، 5 نومبر، 2026

امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ




امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ
ایک مسلمان، ایک تارکین وطن خاندان کا فرزند اور امریکی سینیٹ کا نیا چہرہ

امریکی سیاست میں مذہب، نسل اور خاندانی پس منظر ہمیشہ سے اہم موضوعات رہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے امریکہ میں سیاسی نمائندگی کا تصور وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ کبھی سیاہ فام شہریوں کو سیاسی حقوق کے حصول کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑی، کبھی خواتین کو انتخابی عمل میں مساوی شرکت کے لیے تحریک چلانا پڑی اور کبھی تارکین وطن کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے غیر معمولی محنت کرنا پڑی۔ اب اسی تاریخ میں ایک نیا باب عبدالرحمٰن ال-سید کے نام سے جڑ رہا ہے۔

عبدالرحمٰن ال-سید، جنہیں عبدال ال-سید
 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک امریکی معالج، وبائی امراض کے ماہر اور ترقی پسند سیاست دان ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کی نشست جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ وہ ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ 3 جنوری 2027ء کو عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کی کامیابی اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان امریکی ہیں۔

عبدال ال-سید 31 اکتوبر 1984ء کو مشی گن کے شہر روچسٹر ہلز میں ایک مصری تارکین وطن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین بہتر مستقبل کی تلاش میں مصر سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن سے حیاتیات اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی، پھر روڈز اسکالرشپ پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے اوریل کالج سے صحت عامہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں کولمبیا یونیورسٹی سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ ان کا علمی پس منظر اس بات کی مثال ہے کہ انہوں نے طب، تحقیق اور سماجی بہبود کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے اپنی عملی زندگی کی بنیاد رکھی۔

کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ میں وبائی امراض کے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے انہوں نے صحت عامہ اور سماجی ناہمواری کے موضوعات پر تحقیق کی۔ ان کے سو سے زیادہ تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ تاہم ان کی اصل پہچان اس وقت سامنے آئی جب 2015ء میں انہیں ڈیٹرائٹ شہر کے محکمہ صحت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس وقت ڈیٹرائٹ مالی بحران اور انتظامی مسائل کا شکار تھا۔ انہوں نے صحت عامہ کے شعبے میں بچوں کو مفت چشمے فراہم کرنے، اسکولوں میں سیسے کی آلودگی کے خاتمے، نشہ آور ادویات کی زائد مقدار سے ہونے والی اموات روکنے اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے جیسے منصوبوں پر کام کیا۔ ان کی کوششوں میں طبی قرضوں کے بوجھ سے پریشان شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

یہاں ایک اہم بات قابل غور ہے کہ عبدال ال-سید نے سیاست میں آنے سے پہلے عوامی خدمت کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کے نزدیک صحت محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی انصاف کا معاملہ بھی ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں تو اس کے لیے بیماری محض جسمانی تکلیف نہیں رہتی بلکہ غربت اور بے بسی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

ان کا سیاسی سفر بھی خاصا دلچسپ ہے۔ 2018ء میں انہوں نے مشی گن کی گورنر شپ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں حصہ لیا۔ اگرچہ وہ کامیاب نہ ہو سکے، لیکن ان کی انتخابی مہم نے ترقی پسند سیاست کے ایک نئے چہرے کو متعارف کرایا۔ انہیں برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔ ان کا منشور صحت کی سہولت، صاف پانی، تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور کارپوریٹ اداروں کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے جیسے عوامی مسائل پر مبنی تھا۔ اس انتخاب میں ناکامی کے باوجود انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی بلکہ عوامی رابطوں اور سماجی خدمت کے ذریعے اپنی سیاسی شناخت مضبوط بنائی۔

2026ء کے سینیٹ انتخابات میں ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ہی کانگریس کی رکن ہیلی سٹیونز سے ہوا۔ سخت مقابلے کے بعد انہوں نے پرائمری انتخاب جیت لیا۔ جنرل الیکشن میں ان کے مدمقابل ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز تھے۔ انتخابی نتائج میں عبدال ال-سید کو تقریباً 52.4 فیصد اور ان کے مخالف کو 45.6 فیصد ووٹ ملے۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنی جماعت میں ترقی پسند سیاست کے لیے جگہ بنائی بلکہ امریکی سینیٹ میں مذہبی نمائندگی کی تاریخ بھی بدل دی۔

ان کے سیاسی منشور کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت کی کامیابی کا پیمانہ محض معاشی ترقی یا قومی دولت میں اضافہ نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہونا چاہیے۔ وہ "صحت کی سہولیات سب کے لیے"

 کے حامی ہیں، جس کے تحت ہر شہری کو آمدنی اور ملازمت کی حیثیت سے قطع نظر صحت کی سہولت فراہم کی جائے۔ وہ انتہائی امیر افراد پر ویلتھ ٹیکس عائد کرنے، انتخابی مہمات کی سرکاری مالی معاونت اور سیاست میں کارپوریٹ سرمایہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا ایک اہم مطالبہ امریکی سینیٹ میں فلی بسٹر
 (Filibuster)
 کے خاتمے سے متعلق ہے۔ فلی بسٹر ایسا پارلیمانی طریقہ ہے جس کے ذریعے سینیٹ میں اقلیتی جماعت کسی قانون پر بحث ختم ہونے اور ووٹنگ کی طرف پیش رفت کو روک سکتی ہے۔ عام قانون سازی میں بحث ختم کرنے کے لیے عموماً 60 سینیٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس طرح اگر حکمران جماعت کے پاس 51 یا 55 نشستیں بھی ہوں تو بعض قوانین منظور کرانا مشکل ہو سکتا ہے۔ فلی بسٹر کے حامی اسے اقلیت کے حقوق اور اتفاق رائے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین کے نزدیک یہ منتخب اکثریت کی قانون سازی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ عبدال ال-سید اس طریقہ کار کو ختم کرنے کے حامی ہیں تاکہ منتخب حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو عملی شکل دے سکے۔

مشرق وسطیٰ اور غزہ کا مسئلہ بھی ان کی سیاست کا نمایاں حصہ رہا ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد جاری رکھنے کی پالیسی پر تنقید کی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ اس موقف نے انہیں ترقی پسند حلقوں اور فلسطینی حقوق کے حامیوں میں نمایاں کیا، تاہم امریکی سیاست میں اسرائیل سے متعلق پالیسی کے باعث انہیں اختلاف اور تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

عبدال ال-سید کی کامیابی کا ایک اور اہم پہلو ان کی مسلم شناخت ہے۔ امریکہ میں مسلمان شہریوں کی تعداد اور سماجی کردار میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، لیکن قومی سیاست کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں ان کی نمائندگی محدود رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے مذہبی پس منظر کو بھی موضوع بنایا گیا اور بعض مخالف حلقوں (بشمول صدر ٹرمپ)نے ان کی شناخت پر سوالات اٹھائے۔ اس کے باوجود ان کا انتخاب اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ امریکی شہری کسی امیدوار کو اس کی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم، سیاسی سوچ، عوامی خدمات اور انتخابی منشور کی بنیاد پر بھی منتخب کر سکتے ہیں۔

تاہم اس کامیابی کو امریکی معاشرے میں مذہبی تعصب کے مکمل خاتمے کی علامت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ایک انتخابی کامیابی پورے معاشرے کے رویوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس کے باوجود یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی نمائندگی کے دروازے پہلے کی نسبت زیادہ متنوع ہو رہے ہیں اور تارکین وطن خاندانوں سے تعلق رکھنے والی نئی نسل قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

اب عبدال ال-سید کے سامنے اصل امتحان شروع ہوگا۔ امریکی سینیٹ میں 100 ارکان ہوتے ہیں اور وہاں کسی سیاسی منشور کو قانون سازی میں تبدیل کرنے کے لیے محض عوامی مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔ جماعتی اختلافات، پارلیمانی قواعد، کارپوریٹ لابنگ اور سیاسی مفادات کے درمیان انہیں اپنے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

ان کی کامیابی میں ایک تارکین وطن خاندان کی نسلوں کی محنت، تعلیم کی قوت، عوامی خدمت اور جمہوری عمل میں شرکت کی اہمیت بھی پوشیدہ ہے۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کی اصل خوبصورتی صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کو فیصلہ سازی کے عمل میں نمائندگی مل سکے۔

بالآخر کسی بھی جمہوریت کی عظمت کا تعین اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس کے ایوانوں میں کون سے خاندان، نسل یا مذہب کے لوگ بیٹھے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ان ایوانوں میں بیٹھنے والے عوام کی زندگی کتنی بہتر بناتے ہیں۔ عبدال ال-سید نے امریکی سیاست کے دروازے پر ایک نئی دستک دی ہے۔ اب تاریخ یہ فیصلہ ان کے انتخابی منشور سے نہیں بلکہ ان کی عملی کارکردگی سے کرے گی۔

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

چار ستونوں پر کھڑی انسانیت





چار ستونوں پر کھڑی انسانیت

انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟

معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔

خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔

نسل و خاندان: جڑیں جو سایہ دیں

خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔

فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔

قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔

خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔

دولت: ہاتھ کی قوت، دل کا امتحان

دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔

فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔

دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔

سیاست: اختیار جو انصاف کا پابند ہو

سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔

عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔

سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مذہب: عقیدہ جو کردار میں اترے

مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔

اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔

مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔

ستونوں کی قوت، انسانیت کی چھت

نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔

آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔

انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔


اتوار، 25 اکتوبر، 2026

اصل معرکہ







اصل معرکہ

پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث بظاہر طرزِ حکومت کے انتخاب کا معاملہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال چھپا ہے: اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا یا چند طاقت ور حلقے اپنی مرضی کا نظام قائم کریں گے؟ ہمارے ہاں سیاسی اشرافیہ، مفاداتی گروہوں اور بیوروکریسی کے بعض حلقوں کو صدارتی نظام میں مسائل کا حل دکھائی دیتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی اور حکومت کی جواب دہی کو جمہوریت کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل اختلاف نظام کے نام سے زیادہ اس بات پر ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوگا، اس پر نگرانی کون کرے گا اور اسے آئینی حدود سے تجاوز کرنے سے کون روکے گا۔

صدارتی نظام کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایک طاقت ور صدر تیزی سے فیصلے کر سکتا ہے، سیاسی سودے بازی کم کر سکتا ہے اور حکومت کو استحکام دے سکتا ہے۔ یہ دلیل بظاہر دل کش ہے، مگر اس میں ایک بنیادی سوال نظرانداز ہو جاتا ہے: کیا طاقت ور حکمران لازماً بہتر حکمران بھی ہوتا ہے؟ اگر بدعنوانی، اقربا پروری، نااہلی اور ادارہ جاتی کمزوری پورے نظام میں موجود ہوں تو صرف ایک طاقت ور عہدہ تخلیق کرنے سے یہ خرابیاں کیسے ختم ہو جائیں گی؟ فیصلے جلد کرنا اور درست فیصلے کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اختیار کو ایک مرکز میں جمع کرنے سے انتظامی رفتار تو بڑھ سکتی ہے، لیکن اس سے شفافیت، انصاف اور جواب دہی خودبخود پیدا نہیں ہوتیں۔

امریکی سیاسی مفکر جیمز میڈیسن نے 
 حکومت کے اختیارات کے توازن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’اقتدار کی خواہش کو اقتدار کی دوسری خواہش کے ذریعے متوازن ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ حکومت کو انسانوں پر اختیار دینے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے اختیار کے غلط استعمال سے روکنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ یہ اصول صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظاموں پر لاگو ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکمران، خواہ وہ صدر ہو یا وزیرِاعظم، اس وقت تک جواب دہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اختیارات پر مؤثر نگرانی موجود نہ ہو۔

سیاسیات کے معروف محقق خوان لِنز نے اپنے مقالے
 The Perils of Presidentialism
 میں صدارتی نظام کے ممکنہ خطرات پر بحث کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ صدر اور پارلیمان دونوں اپنے اپنے انتخابی مینڈیٹ کی بنیاد پر جائز اختیار کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو جائے تو آئینی تصادم سیاسی بحران میں بدل سکتا ہے۔ صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت بظاہر استحکام دیتی ہے، لیکن اگر وہ عوامی اعتماد کھو دے یا پارلیمان سے اس کا ٹکراؤ ناقابلِ حل ہو جائے تو اسے تبدیل کرنے کا آئینی راستہ نسبتاً پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ لِنز کے مطابق بعض حالات میں پارلیمانی نظام کی بظاہری سیاسی بے ثباتی دراصل ایک لچک ثابت ہوتی ہے: وزیرِاعظم یا کابینہ تبدیل ہو سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ پورا جمہوری نظام ہی بحران کا شکار ہو جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ گہری سیاسی تقسیم اور متعدد جماعتوں والے معاشروں میں پارلیمانی نظام عموماً جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کا بہتر امکان فراہم کرتا ہے۔ 
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پارلیمانی نظام کامیاب اور ہر صدارتی نظام ناکام ہوتا ہے۔ امریکا ایک طویل عرصے سے صدارتی جمہوریت کی مثال ہے، جبکہ پارلیمانی نظام رکھنے والے بعض ممالک بھی سیاسی بحرانوں سے دوچار ہوئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی نظام کی کامیابی کا فیصلہ صرف آئینی نام سے نہیں ہوتا؛ سیاسی جماعتوں کی ساخت، قانون کی حکمرانی، اداروں کی خودمختاری اور اختلافات کو آئینی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہوتی ہے۔

پارلیمانی نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ حکومت پارلیمان کے اعتماد سے قائم رہتی ہے۔ اگر وزیرِاعظم یا کابینہ اعتماد کھو دے تو آئینی طریقے سے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں حکومت کا خاتمہ لازماً جمہوریت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت اور براہِ راست انتخابی حیثیت بعض حالات میں اسے پارلیمان کے مقابلے میں مضبوط جواز فراہم کرتی ہے۔ اگر دونوں کے درمیان تصادم بڑھ جائے تو بحران کے حل کے لیے زیادہ پیچیدہ آئینی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک نظام میں حکومت کی تبدیلی پورے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے ممکن ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے میں صدر اور مقننہ کی کشمکش وسیع تر سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ امکانات ہیں، قطعی نتائج نہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں اس بحث کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہاں پارلیمانی اداروں کو بار بار غیر آئینی مداخلتوں، مارشل لا اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس صورتِ حال کی پوری ذمہ داری صرف غیر منتخب قوتوں پر ڈال کر سیاسی قیادت کو بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے پارلیمان، انتخابات اور آئینی طریقۂ کار پر اعتماد کرنے کے بجائے غیر جمہوری مدد کی تلاش میں نکلتی ہیں تو وہ اپنے مخالف کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں پورے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے اقتدار کی اصل کشمکش عوامی نمائندگی کے بجائے طاقت کے دوسرے مراکز میں منتقل ہونے لگتی ہے۔

دوسرے ممالک کے تجربات اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مصر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی تاریخ میں نظام کی نوعیت کے ساتھ ساتھ فوج، سیاسی قیادت اور منتخب اداروں کے باہمی تعلق نے بھی جمہوریت کے مستقبل کو متاثر کیا۔

مصر میں 2011ء کے عوامی انقلاب کے بعد محمد مرسی انتخابات کے ذریعے صدر بنے، لیکن 2013ء میں فوج نے ان کی حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد سیاسی اقتدار ایک بار پھر مضبوط صدارتی مرکز میں مرتکز ہوا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ صرف انتخابی عمل موجود ہونا کافی نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا اور فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی طاقت ور ادارہ اپنے آپ کو منتخب حکومت کے فیصلوں سے بالاتر سمجھنے لگے تو انتخابی مینڈیٹ جمہوری نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتا۔

انڈونیشیا میں صدر سہارتو کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد 1998ء میں اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔ فوج کے سیاسی کردار کو محدود کرنے، انتخابی نظام کو بہتر بنانے اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے باوجود فوجی اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انڈونیشیا پر 2020ء میں شائع ہونے والی تحقیق میں میدی کوساندی اور صوبور وھونو نے نشان دہی کی کہ جمہوری اصلاحات کے دو عشروں بعد بھی فوج سیاسی عمل میں اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بحالی محض آئینی تبدیلی کا نام نہیں؛ اس کے لیے سیاسی اور ریاستی اداروں کے تعلقات میں دیرپا اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ 

بنگلہ دیش میں بھی سیاسی جماعتوں کی شدید محاذ آرائی، انتخابی عمل پر عدم اعتماد اور اقتدار کی کشمکش نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ 2007ء میں فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت قائم ہوئی اور سیاسی سرگرمیاں محدود ہوئیں۔ اگست 2024ء میں طویل احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوگئی، جس کے بعد ملک ایک نئے سیاسی انتقال سے گزرا۔ بنگلہ دیش کا تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پارلیمانی نظام کا وجود بذاتِ خود سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں مخالفین کے حقِ سیاست، شفاف انتخابات اور آئینی حدود کو تسلیم نہ کریں تو پارلیمانی سیاست بھی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

تھائی لینڈ میں 2006ء اور 2014ء کی فوجی بغاوتوں نے منتخب حکومتوں اور فوجی اثر و رسوخ کے درمیان جاری کشمکش کو نمایاں کیا۔ وہاں انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے باوجود فوجی مداخلتوں نے جمہوری تسلسل کو بار بار متاثر کیا۔ انڈونیشیا، مصر، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی مثالیں ایک جیسی نہیں، لیکن ان سے ایک مشترکہ سبق ضرور ملتا ہے: جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا اور اقتدار کی منتقلی کے لیے متفقہ قواعد کا احترام کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

یہیں پاکستان کی سیاسی بحث کا اصل سوال سامنے آتا ہے۔ کیا صدارتی نظام کے حامی اختیارات کو ایک مرکز میں جمع کرکے فیصلہ سازی آسان بنانا چاہتے ہیں، یا ان کی ترجیح اداروں کی اصلاح اور جواب دہی کا نظام قائم کرنا ہے؟ اسی طرح کیا پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی کا اصول اس وقت بھی تسلیم کریں گے جب اس سے ان کی اپنی جماعت یا پسندیدہ قیادت کے اختیارات محدود ہوں؟ ان سوالات کے جواب نعروں سے نہیں، سیاسی عمل اور عملی رویّوں سے ملیں گے۔

سیاسی اتفاقِ رائے اس لیے ضروری ہے کہ جمہوری نظام کی بنیاد صرف اکثریت حاصل کرنا نہیں بلکہ اقتدار کے استعمال کے قواعد کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ سیاسی قوتوں کو کم از کم ان اصولوں پر متفق ہونا ہوگا کہ حکومت آئینی طریقے سے قائم ہوگی اور تبدیل ہوگی، پارلیمان کو بے اثر نہیں کیا جائے گا، غیر منتخب ادارے سیاسی فیصلوں پر قبضہ نہیں کریں گے اور اختلافات کا حل آئین کے اندر تلاش کیا جائے گا۔ دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاج شہریوں کے جمہوری حقوق ہیں، لیکن اگر ان کا نتیجہ آئینی عمل کو کمزور کرنا یا غیر جمہوری مداخلت کا راستہ کھولنا ہو تو احتجاج کے مقصد اور اس کے نتیجے کے درمیان تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔

پارلیمانی بالادستی کے حامیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ مختلف جماعتوں، نظریات، علاقائی مفادات اور شخصی قیادتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود اگر وہ مشترکہ اصولوں پر منظم نہ ہوں تو ان کی اجتماعی قوت منتشر رہتی ہے۔ دوسری طرف اقتدار کو ایک مرکز میں مرتکز کرنے کے خواہش مند حلقوں کے لیے اپنا ہدف متعین کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے پارلیمان کی بالادستی کا دفاع صرف تقریروں سے نہیں ہو سکتا؛ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات کے باوجود آئینی اصولوں پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

اس جدوجہد میں عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ خود کو باشعور کہنے والے شہری اگر ہر بار شخصیات کے پیچھے چلیں، ماضی کے تجربات سے سبق نہ سیکھیں اور مستقل اجتماعی جدوجہد کے بجائے وقتی نعروں پر اکتفا کریں تو ان کی سیاسی قوت مؤثر نہیں بن پائے گی۔ لیکن تمام ذمہ داری عوام پر ڈالنا بھی درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل سے اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اندرونی جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے نزدیک آئینی اصول شخصی اور جماعتی مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔

یہ سفر طویل ہو سکتا ہے۔ جمہوری ادارے ایک دن میں مضبوط نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی نئے نظام کے نفاذ سے تمام مسائل فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ ’’آہستہ چل، مگر چلتا رہ‘‘ اس جدوجہد کا اصول ہونا چاہیے: رفتار کم ہو سکتی ہے، لیکن سمت آئینی بالادستی، جواب دہی اور عوامی اختیار کی طرف ہونی چاہیے۔

پاکستان کا اصل معرکہ صدارتی یا پارلیمانی نظام کے نام پر نہیں، اس اصول پر ہے کہ اقتدار کسی فرد، ادارے یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے اور اسے آئین کے تابع رہنا چاہیے۔ سیاسی تحقیق یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مختلف نظام کس طرح کام کرتے ہیں اور کن حالات میں بحران پیدا ہو سکتے ہیں؛ مگر پاکستان کے لیے کوئی بھی نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام اس کے آئینی قواعد کو تسلیم کریں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ صدر زیادہ طاقت ور ہو یا وزیرِاعظم؛ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کو آئین کا پابند کون بنائے گا۔ جب تک اس سوال کا جواب اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر جواب دہی کی صورت میں نہیں ملتا، نظام بدلنے کے نعرے لگتے رہیں گے اور اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ قائم رہے گی۔ کشتی کو ساحل تک پہنچانے کے لیے منزل کا تعین کافی نہیں؛ ملاح اور مسافروں کو بھی ایک سمت میں سفر کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔