اپنی منزل خود دریافت کیجیے
انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں، مگر اس کے سامنے امکانات کی ایک پوری کائنات بچھا دی جاتی ہے۔ وہ نہ اپنے ساتھ رزق لاتا ہے، نہ پیشہ، نہ مقام اور نہ پہچان۔ یہ سب اسے خود حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتا ہے، ناکامیوں کا ذائقہ چکھتا ہے، راستے بدلتا ہے، گرتا ہے، سنبھلتا ہے، تب کہیں جا کر اپنی روزی، اپنی جگہ اور اپنا تعارف بناتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم روزگار کی تلاش کو تو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، مگر زندگی کے مقصد کی تلاش دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔
ہمیں لگتا ہے کہ کوئی استاد ہمیں بتا دے گا کہ ہمیں کس سمت جانا ہے، کوئی بزرگ ہماری تقدیر کا نقشہ ہمارے ہاتھ میں رکھ دے گا، یا معاشرہ ایک دن ہمارے لیے وہ راستہ منتخب کر دے گا جس پر چل کر ہم مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن زندگی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ مقصد عطا نہیں کیا جاتا، دریافت کیا جاتا ہے۔
یہ دریافت بھی کسی نقشے پر نہیں ہوتی؛ یہ انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے باطن تک پہنچنے سے پہلے ہی دوسروں کی آوازوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بچپن میں والدین کی خواہشیں، جوانی میں معاشرے کی توقعات، اور عمر کے ہر موڑ پر "لوگ کیا کہیں گے" کا سایہ ہمارے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ ہم اپنی آواز اور دوسروں کی آواز میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔ پھر ایک دن احساس ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی تو بہت گزاری، مگر اپنی زندگی کبھی نہیں گزاری۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہر شخص اپنی مرضی سے زندگی گزار سکتا ہے؟
میرا جواب ہے: نہیں۔
اپنی مرضی سے صرف وہی شخص جی سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے۔
جس انسان کے پاس مقصد نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ دوسروں کی رائے کے سہارے چلتا ہے۔ اس کی سمت حالات طے کرتے ہیں، اس کے فیصلے ماحول بناتا ہے، اور اس کی خوشی دوسروں کی منظوری سے وابستہ رہتی ہے۔ وہ ہر تعریف پر پھول جاتا ہے اور ہر تنقید پر بکھر جاتا ہے، کیونکہ اس کے وجود کی بنیاد اندر نہیں، باہر ہوتی ہے۔
مقصد انسان کو صرف راستہ نہیں دیتا، ایک داخلی مرکز بھی عطا کرتا ہے۔ پھر وہ ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ نہیں بدلتا۔ وہ جانتا ہے کہ درخت اگر اپنی جڑوں پر اعتماد کھو دے تو ہر موسم اس کے لیے آندھی بن جاتا ہے۔
کائنات کی ہر شے اپنے مقصد کے ساتھ وابستہ ہے۔ دریا سمندر کی تلاش میں بہتا ہے، بیج روشنی کی آرزو میں زمین کا سینہ چیرتا ہے، ستارے اپنے مدار سے انحراف نہیں کرتے، سورج ہر صبح کسی تالی، کسی تعریف اور کسی اجازت کے بغیر طلوع ہوتا ہے۔ صرف انسان وہ مخلوق ہے جو دوسروں کی نگاہوں میں اپنی قدر تلاش کرتے کرتے اپنی اصل منزل بھول جاتا ہے۔
یہ زمانہ رائے کا زمانہ ہے۔ ہر شخص آپ کی زندگی پر تبصرہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی آپ کے خوابوں کو غیر حقیقی کہتا ہے، کوئی آپ کے فیصلوں کو ناپختہ، اور کوئی آپ کے راستے کو غلط قرار دیتا ہے۔ اگر آپ نے اپنی سمت دوسروں کے ہاتھ میں دے دی تو آپ پوری عمر چوراہوں پر کھڑے رہیں گے، کیونکہ ہر شخص آپ کو الگ راستہ دکھائے گا۔
مقصد مل جانے کے بعد زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن واضح ضرور ہو جاتی ہے۔
مشکلات باقی رہتی ہیں، مخالفتیں بھی ختم نہیں ہوتیں، مگر انسان کے اندر ایک ایسی خاموش طاقت پیدا ہو جاتی ہے جو اسے ہر شور سے بلند کر دیتی ہے۔ پھر وہ ہر آواز کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ منزل کی طرف بڑھتے ہوئے مسافر راستے میں کھڑے ہر تماشائی سے بحث نہیں کرتے۔
شاید اسی لیے تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی آواز سے زیادہ اپنے ضمیر کی آواز پر یقین کیا۔ انہیں پتھر بھی ملے، تنہائی بھی ملی، تمسخر بھی ملا، مگر ان کے قدم اس لیے نہیں رکے کہ وہ لوگوں کے لیے نہیں، اپنے مقصد کے لیے چل رہے تھے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم کامیابی کو مقصد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ کامیابی صرف ایک نتیجہ ہے۔ مقصد اس سے کہیں بلند چیز ہے۔ کامیابی انسان کو شہرت دے سکتی ہے، دولت دے سکتی ہے، اختیار دے سکتی ہے، مگر مقصد اسے معنی دیتا ہے۔ اور معنی کے بغیر ہر کامیابی آخرکار ایک خالی برتن ثابت ہوتی ہے، جس میں شور تو بہت ہوتا ہے، سکون نہیں۔
اس لیے اگر آپ واقعی اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ مت پوچھیے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ دنیا آپ سے کیا چاہتی ہے۔ صرف ایک سوال کیجیے:
میں اس دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں؟
ممکن ہے اس سوال کا جواب ایک دن میں نہ ملے، شاید برسوں لگ جائیں، شاید پوری زندگی کی مسافت طے کرنی پڑے۔ مگر یاد رکھیے، مقصد کی تلاش میں گزارا ہوا ایک دن بھی اس پوری عمر سے زیادہ قیمتی ہے جو دوسروں کے خواب پورے کرتے ہوئے گزر جائے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھیے کہ انسان کی آزادی کا اعلان اس دن نہیں ہوتا جب وہ دوسروں کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، بلکہ اس دن ہوتا ہے جب وہ اپنے وجود کے معنی دریافت کر لیتا ہے۔ جس لمحے انسان کو اپنی منزل مل جاتی ہے، اسی لمحے دنیا کی آوازیں مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر تعریف اس کا راستہ نہیں بدلتی، تنقید اس کے قدم نہیں روکتی، اور زمانہ اس کی سمت متعین نہیں کرتا۔
کیونکہ جس مسافر کو اپنی منزل معلوم ہو، وہ راستوں سے نہیں ڈرتا؛ اور جسے اپنی منزل نہ معلوم ہو، وہ ہر چوراہے پر دوسروں سے راستہ پوچھتا رہ جاتا ہے۔

