ترقی یافتہ دنیا کی اخلاقی شکست
انسان نے صدیوں کی مسلسل جدوجہد، تحقیق اور فکری ارتقاء کے بعد ایک ایسے دور میں قدم رکھا تھا جہاں مشینیں سوچنے لگی تھیں، فاصلے سمٹ چکے تھے، اور وقت کو قابو میں کرنے کا فن سیکھ لیا گیا تھا۔ ہم نے اس عہد کو مصنوعی ذہانت کا نام دیا—ایک ایسا مرحلہ جہاں انسان اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان ترقی کر گیا ہے؟ یا صرف اس کے ہتھیار جدید ہو گئے ہیں؟
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جاری جنگ جب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، تو دنیا کے سامنے ایک تلخ حقیقت کھل کر آ رہی ہے: انسان نے ٹیکنالوجی تو حاصل کر لی، مگر انسانیت کھو دی۔
یہ وہی دنیا ہے جہاں چند لمحوں میں ایک پیغام براعظموں کو عبور کر لیتا ہے، مگر اسی دنیا میں میزائل بھی پلک جھپکتے ہی شہروں کو ملبے میں بدل دیتے ہیں۔ یہ وہی زمانہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھی، مگر اب یہی ذہانت جنگی حکمت عملیوں، ڈرون حملوں اور تباہی کے نئے طریقوں میں جھونک دی گئی ہے۔
اس جنگ نے ایک اور پہلو بھی واضح کر دیا ہے: طاقت کا توازن اب انسانیت کے حق میں نہیں رہا۔ جو توانائی کبھی انسانوں کو قریب لانے، سفر آسان بنانے اور دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنانے کے لیے استعمال ہو رہی تھی، وہی توانائی اب تباہی کے لیے صرف ہو رہی ہے۔ ایندھن مہنگا ہو رہا ہے، فضائی حدود غیر محفوظ ہو رہی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے—یعنی وہ تمام عوامل جو دنیا کو جوڑتے تھے، اب ٹوٹنے لگے ہیں۔
سفر جو کبھی آسانی کی علامت تھے، اب خوف کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔ ہوائی جہاز جو فاصلے کم کرتے تھے، اب جنگی طیاروں کے سائے میں دبے ہوئے ہیں۔ سمندر جو تجارت کے راستے تھے، اب عسکری نقل و حرکت کے میدان بن چکے ہیں۔ گویا انسان نے فاصلے تو کم کر لیے، مگر دلوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی۔
یہ جنگ صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ کی نہیں ہے؛ یہ دراصل انسانیت اور طاقت کے درمیان ایک کشمکش ہے۔ ایک طرف وہ انسان ہے جو ترقی، امن اور علم کا خواہاں ہے، اور دوسری طرف وہ نظام ہے جو طاقت، غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی رہی ہے کہ جنگیں کبھی بھی دیرپا حل نہیں ہوتیں، مگر ہر دور میں انسان اس سبق کو بھلا دیتا ہے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں تباہی کے ایسے ہتھیار دیے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، مگر اخلاقی شعور وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی، تو بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ترقی کا شکار بن جائے۔ مصنوعی ذہانت، جو انسان کے لیے ایک نعمت بن سکتی تھی، کہیں اس کی تباہی کا ذریعہ نہ بن جائے۔

