جمعہ، 11 ستمبر، 2026

یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟




اگر یمن اور سعودی عرب کے تعلقات کو محض موجودہ حوثی جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس تعلق کی تاریخی پیچیدگی

 نظرانداز ہوجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتہ سرحد، سلامتی، قبائلی تعلقات، معاشی مفادات، علاقائی سیاست اور ایران کے اثر و رسوخ کے کئی دھاگوں سے بنا ہے۔ موجودہ کشیدگی اسی طویل تاریخ کا تازہ ترین باب ہے۔

یمن اور سعودی عرب: پڑوسی، حریف یا ناگزیر ساتھی؟

یمن اور سعودی عرب دو ایسے پڑوسی ہیں جنہیں جغرافیہ نے ایک دوسرے سے جدا ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ سعودی عرب کی جنوبی سرحد یمن سے ملتی ہے، جبکہ یمن بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے دہانے پر واقع ہے۔ اس لیے ریاض کے لیے یمن محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ اس کی قومی سلامتی کا براہِ راست حصہ ہے۔ دوسری طرف یمن کے لیے سعودی عرب ایک طاقتور ہمسایہ، معاشی مرکز اور سیاسی اثر رکھنے والی علاقائی قوت ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد دوستی سے زیادہ ضرورت پر رہی ہے۔ 1934 میں دونوں کے درمیان جنگ ہوئی اور اسی سال طائف معاہدے نے تعلقات کو ایک عارضی بنیاد فراہم کی۔ بعد کے عشروں میں سرحدی تنازعات ختم نہ ہوسکے۔ بالآخر 12 جون 2000 کو جدہ میں ہونے والے بین الاقوامی سرحدی معاہدے نے دونوں ملکوں کی زمینی سرحد کے دیرینہ تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی۔ 

لیکن سرحد کا مسئلہ حل ہونے کے باوجود ایک بڑا سوال باقی رہا: یمن میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہو؟

یہ سوال اس لیے اہم تھا کہ سعودی عرب ایک مستحکم اور ایسا یمن چاہتا تھا جو اس کی جنوبی سرحد کے لیے خطرہ نہ بنے۔ یمن میں کمزور مرکزی حکومت، قبائلی تقسیم اور مسلسل سیاسی بحران نے سعودی پالیسی کو ہمیشہ محتاط رکھا۔ ریاض نے مختلف ادوار میں یمنی حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی کیا اور یمن کی داخلی سیاست میں اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔

1990 کی خلیجی جنگ نے اس تعلق کو شدید دھچکا پہنچایا۔ یمن کے اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح نے عراق کے کویت پر حملے کے معاملے میں ایسا موقف اختیار کیا جس سے سعودی عرب اور یمن کے تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی۔ سعودی عرب میں موجود بڑی تعداد میں یمنی کارکنوں کی واپسی نے یمن کی معیشت پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ یوں دونوں ملکوں کے تعلقات میں یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ سیاسی اختلاف صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام یمنی شہری کی زندگی تک پہنچ سکتا ہے۔

پھر 2014 آیا، جب حوثی تحریک نے صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ یمن کا بحران داخلی سیاسی تنازع سے بڑھ کر علاقائی طاقتوں کی کشمکش بن گیا۔ سعودی عرب نے حوثیوں کو اپنے لیے ایک ایسا خطرہ سمجھا جس میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا عنصر بھی شامل تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔ مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سہارا دینا اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔ 

مگر جنگ نے سعودی عرب کو وہ آسان فتح نہیں دی جس کی توقع ابتدائی مرحلے میں کی جاسکتی تھی۔ یمن کا دشوار جغرافیہ، قبائلی سیاست، مختلف مسلح گروہوں کے باہمی اختلافات اور حوثیوں کی گوریلا جنگ نے تنازع کو طویل کردیا۔ سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف حوثی نہیں رہے؛ جنوبی یمن میں علیحدگی پسند قوتیں، القاعدہ اور مختلف مقامی دھڑے بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتے رہے۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: یمن کو صرف فوجی طاقت سے قابو نہیں کیا جاسکتا۔

سعودی عرب دنیا کی بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن یمن کی جنگ نے ثابت کیا کہ فوجی برتری اور سیاسی فتح دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک ریاست کسی علاقے پر بمباری کرسکتی ہے، سرحد محفوظ کرسکتی ہے اور مخالف کے عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن وہ محض طاقت کے ذریعے ایک منقسم معاشرے میں پائیدار سیاسی نظم پیدا نہیں کرسکتی۔

اسی لیے 2022 کی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف بھی قدم بڑھایا۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوئیں اور عمان نے بھی ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن یہ امن مکمل سیاسی تصفیے میں تبدیل نہیں ہوسکا۔

اور اب 2026 میں صورتحال ایک بار پھر خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ ستمبر 2026 میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی، سعودی سرحد اور اہداف پر حملوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی قوتوں کی جوابی کارروائی نے برسوں سے قائم نازک توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ باب المندب کی اہمیت اس بحران کو محض سعودی-یمنی تنازع نہیں رہنے دیتی؛ یہ عالمی تجارت، بحیرۂ احمر اور توانائی کی ترسیل کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ 

یہاں ایران کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی نقطۂ نظر سے حوثیوں کی مضبوطی کا مطلب صرف یمن میں ایک مخالف گروہ کی طاقت نہیں بلکہ جنوبی سرحد کے قریب ایرانی اثر و رسوخ کا بڑھنا بھی ہے۔ دوسری طرف حوثی خود کو محض ایرانی مہرہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہیں اور یمنی قومی سیاست، زیدی شناخت اور اپنے داخلی مفادات کو اپنی جدوجہد کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اس لیے یمن کے بحران کو صرف سعودی عرب بمقابلہ ایران کہنا بھی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔

اصل المیہ یہ ہے کہ اس کشمکش کی قیمت یمنی عوام ادا کررہے ہیں۔ ایک غریب ملک طویل جنگ، بے گھر ہونے، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور انسانی بحران کا شکار ہے۔ جنگ نے یمن کی ریاست کو کمزور کیا، معیشت کو تباہ کیا اور معاشرے کو مزید تقسیم کردیا۔

سعودی عرب کے لیے بھی یہ جنگ ایک سبق ہے۔ جنوبی سرحد پر مستقل امن صرف سرحد پار فوجی طاقت سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسے ایک ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس میں یمن کی مختلف قوتوں کو قابلِ قبول سیاسی نظام میں جگہ ملے، سعودی سلامتی کی ضمانت ہو اور یمن کو کسی دوسری علاقائی طاقت کا میدانِ جنگ بننے سے روکا جائے۔

یمن کے لیے بھی حقیقت تلخ ہے۔ سعودی عرب کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن سعودی سرپرستی پر مکمل انحصار بھی یمن کی خودمختاری کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

اس لیے مستقبل کا راستہ نہ سعودی غلبے میں ہے، نہ حوثی عسکری فتح میں اور نہ ایرانی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ میں۔ راستہ ایک ایسے یمنی سیاسی سمجھوتے سے نکلتا ہے جس میں طاقت بندوق سے پارلیمان، مقامی حکومت اور سیاسی مذاکرات کی طرف منتقل ہو۔

یمن اور سعودی عرب کا جغرافیہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونے دے گا۔ سوال یہ نہیں کہ دونوں ایک دوسرے سے دور رہ سکتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے ذریعے رہیں گے یا ایک دوسرے کی سلامتی کو تسلیم کرتے ہوئے امن کے ذریعے؟

موجودہ بحران کا اصل فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

زمین ، زر اور زردار



زمین، زر اور زردار

کسی ملک کی معیشت کا اصل چہرہ اس کے بینک بیلنس، بلند عمارتوں یا ارب پتیوں کی تعداد نہیں؛ اس کے عام آدمی کی زندگی ہے۔ اگر قومی دولت بڑھ رہی ہو لیکن عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے، نوجوان کے لیے روزگار اور متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر خواب بنتا جائے تو سوال صرف یہ نہیں کہ معیشت کتنی بڑھی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کا فائدہ کس کو پہنچا؟

ڈاکٹر محبوب الحق نے 1990ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی پہلی انسانی ترقی رپورٹ کے آغاز میں لکھا تھا
“کسی قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔”
یہ محض ایک خوب صورت جملہ نہیں بلکہ ترقی کے روایتی تصور میں ایک بنیادی تبدیلی تھی۔ محبوب الحق کے نزدیک قومی آمدن اور پیداوار اہم ضرور ہیں، مگر معیشت کا حتمی مقصد انسان کی زندگی بہتر بنانا ہے؛ اسے تعلیم، صحت، روزگار، مواقع اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔

اسی لیے صرف شرحِ نمو کو ترقی کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر قومی آمدن بڑھے مگر عام آدمی کی قوتِ خرید گھٹ جائے، روزگار غیر یقینی ہو، تعلیم اور علاج مہنگے ہوجائیں اور اپنا گھر خریدنا اس کی استطاعت سے باہر نکل جائے تو معاشی اعداد و شمار خوش حالی کی مکمل تصویر نہیں دیتے۔

زمین اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ جائیداد کی قیمت بڑھتی ہے تو مالک کی دولت بڑھ جاتی ہے، مگر اسی شہر میں ایک نوجوان کے لیے گھر خریدنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ اس وقت حقیقی قومی دولت بنتا ہے جب وہ صنعت، ٹیکنالوجی، پیداوار اور روزگار پیدا کرے۔ غیر پیداواری اثاثوں میں گردش کرتا سرمایہ دولت کی قیمت تو بڑھا سکتا ہے، معیشت کی پیداواری قوت نہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص دولت مند کیوں ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دولت کیسے پیدا ہورہی ہے اور اس کے مواقع کتنے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ صحت مند معیشت وہ ہے جس میں سرمایہ  پیداوار کو بڑھائے، کاروبار روزگار پیدا کرے، مسابقت قائم رہے اور عام شہری کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کھلے ہوں۔

پاکستان میں معاشی کامیابی کا پیمانہ بھی اسی بنیاد پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ شرحِ نمو کتنی ہے یا قومی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عام آدمی کی قوتِ خرید کتنی باقی رہی، کتنے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا اور کتنے خاندان اپنے گھر کا خواب پورا کرسکے۔

کیونکہ آخرکار معیشت کا حساب قومی خزانے میں نہیں، انسان کی زندگی میں ہوتا ہے۔
اور اس زندگی کا سب سے پہلا امتحان گھر اور باورچی خانے میں ہوتا ہے۔ جب گھر بنانا دور کا خواب بن جائے اور باورچی خانہ چلانا روزمرہ جدوجہد کا محور، تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے عام آدمی کے لیے بے معنی ہوجاتے ہیں۔

زمین ہماری دولت ہے، زر ہماری ضرورت ہے اور زردار معیشت کا حصہ ہیں؛ مگر قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔

مگر پاکستانی انسان کی زندگی کیسے کٹ رہی ہے۔
بقول غالب 
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

منگل، 8 ستمبر، 2026

نئے تجربے کا پرانا مشورہ



نئے تجربے کا پرانا مشورہ

سہیل وڑائچ صاحب ملک کے قابلِ احترام، باخبر اور تجربہ کار صحافی ہیں۔  دہائیوں سے پاکستانی سیاست اور ریاستی معاملات کو قریب سے دیکھنے والے شخص کی حیثیت سے ان کی آرا یقیناً سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہیں۔ سانحہ پمز کے تناظر میں انہوں نے انتظامی اصلاح کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کا بنیادی مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور اسلام آباد کا انتظامی نظام زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ اس مقصد سے اختلاف کی گنجائش کم ہے؛ اختلاف صرف اس سوال پر ہے کہ اس مقصد کے حصول کا بہترین انتظامی راستہ کیا ہونا چاہیے؟

سانحہ پمز ایک قومی المیہ ہے۔ اس نے اداروں کے درمیان رابطے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، ذمہ داری کے تعین اور انتظامی جواب دہی کے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں، لیکن اصلاح کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ پہلے موجودہ نظام کی کمزوریوں کی درست تشخیص کی جائے، پھر یہ طے کیا جائے کہ خرابی کہاں ہے اور اسے دور کرنے کے لیے کس سطح پر تبدیلی درکار ہے۔

سہیل وڑائچ صاحب نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاح، مزید خودمختاری، سی ڈی اے کو اضافی اختیارات، بعض سرکاری اداروں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے اور ماضی کے مقامی حکومتوں کے تجربے سے استفادہ کرنے جیسی تجاویز دی ہیں۔ ان میں کئی نکات قابلِ غور ہیں، خصوصاً مقامی سطح پر اختیار اور انتظامی رابطے کو بہتر بنانے کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اختیار کو ایک ادارے میں مزید مرتکز کرنا واقعی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ ہوگا؟

مثلاً سی ڈی اے کو اگر شہری منصوبہ بندی، ترقی، سڑکوں اور شہری سہولتوں کے ساتھ اسکولوں اور اسپتالوں کی ذمہ داریاں بھی دے دی جائیں تو ممکن ہے انتظامی رابطہ کسی حد تک آسان ہوجائے، لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک ادارے پر اس کی بنیادی استعداد سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوجائیں۔ صحت اور تعلیم اپنے الگ تقاضے رکھتے ہیں؛ ان کے لیے ماہر افرادی قوت، مخصوص انتظامی ڈھانچہ، پیشہ ورانہ نگرانی اور الگ جواب دہی درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح اسلام آباد کو زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز اصولی طور پر قابلِ بحث نہیں بلکہ قابلِ غور ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ اختیار کس کو منتقل کیا جائے۔ اگر مقصد منتخب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہے تو یہ جمہوری اور انتظامی دونوں اعتبار سے ایک مثبت قدم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اختیار ایک غیر منتخب سرکاری ادارے سے دوسرے غیر منتخب ادارے کو منتقل ہو تو اسے عوامی خودمختاری کہنا مشکل ہوگا؛ یہ محض انتظامی مرکزیت کی ایک نئی شکل بن سکتی ہے۔

مختلف محکموں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے کے بجائے ان کے درمیان مضبوط رابطے کا نظام بھی ایک متبادل راستہ ہوسکتا ہے۔ صحت کا محکمہ صحت کی ذمہ داری پوری کرے، تعلیم کا محکمہ تعلیم کی، پولیس امن و امان کی، ریسکیو ہنگامی حالات کی اور سی ڈی اے شہری ترقی کی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بحران کی صورت میں ان اداروں کے درمیان رابطہ فوری، واضح اور مؤثر ہو، ذمہ داریاں پہلے سے متعین ہوں اور ناکامی کی صورت میں جواب دہی بھی واضح ہو۔

وزیرِ صحت یا کسی اعلیٰ افسر کی باقاعدہ موجودگی یقیناً نگرانی اور احساسِ ذمہ داری کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن مستقل اصلاح کسی ایک شخصیت کی موجودگی سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے آتی ہے جو شخصیتوں سے بالاتر ہو۔ اچھے نظام میں وزیر موجود ہو تو بھی کام ہوتا ہے اور وزیر موجود نہ ہو تو بھی۔

ماضی کے ضلعی حکومتوں کے تجربے سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا تصور اپنی جگہ اہم تھا، لیکن اس نظام کی خامیوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ صرف ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت آتی ہے جب اختیار، وسائل، ذمہ داری اور جواب دہی ایک ہی سطح پر متوازن ہوں۔

شاید پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصلاح کے بجائے اکثر نئے تجربے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ایک نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے دوسرا نظام لے آتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کی خامیاں سامنے آتی ہیں اور ایک نیا ماڈل تجویز کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اب نظام بدلنے سے زیادہ نظام کو درست طور پر چلانے پر توجہ دینا ہوگی۔

یہاں عوام کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کو سیاسی اور انتظامی شعور سے محروم سمجھنا درست نہیں۔ وہ اپنے علاقے کے اسکول، اسپتال، سڑک، پانی اور صفائی کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے نے کیا وعدہ کیا تھا اور کیا پورا کیا۔ اس لیے مقامی مسائل کا بہترین حل یہی ہے کہ جہاں ممکن ہو، فیصلہ سازی اور وسائل عوام کے منتخب نمائندوں کے قریب لائے جائیں اور انہیں براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔

پاکستان نے آٹھ دہائیوں میں بہت سے انتظامی تجربات کیے ہیں۔ اب شاید وقت آگیا ہے کہ ہم ہر مسئلے کا جواب ایک نئے ادارے، نئی اتھارٹی یا نئے ماڈل میں تلاش کرنے کے بجائے موجودہ اداروں کی استعداد، رابطے اور جواب دہی کو بہتر بنائیں۔ سی ڈی اے کو مزید اختیارات دینا ایک ممکنہ راستہ ہوسکتا ہے، مگر اسے واحد یا لازمی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ہو، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔
آخرکار مسئلہ کسی ایک ادارے یا کسی ایک انتظامی ماڈل کا نہیں؛ مسئلہ حکمرانی کے اس اصول کا ہے کہ اختیار جہاں ہو، ذمہ داری بھی وہیں ہو اور جواب دہی بھی وہیں ہو۔ پاکستان کو اب تجربات سے زیادہ تسلسل، نعروں سے زیادہ نظام اور مرکزیت سے زیادہ عوامی اختیار کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک اور انتظامی تجربے کو مسترد کرنے کے بجائے ہر تجویز کو اس کی عملی افادیت کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے—اور جہاں اختیار عوام تک منتقل کرنے، اداروں کو مؤثر بنانے اور جواب دہی یقینی بنانے کا راستہ نکلتا ہو، اسے اختیار کرنا چاہیے۔

میں کون ہوں کا خلاسہ



میں کون ہوں کا خلاصہ

 وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
"اور ہر صاحبِ علم کے اوپر ایک اور صاحبِ علم ہے۔"
شاید انسانی علم کی حدود بیان کرنے کے لیے اس سے زیادہ مختصر اور جامع جملہ ممکن نہیں۔
جدید انسان کو اس زمین پر نمودار ہوئے تقریباً تین لاکھ سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران وہ غاروں سے نکل کر شہر بسانے لگا، سمندروں کو عبور کیا، آسمان کی وسعتوں تک پہنچا، چاند پر قدم رکھا، ایٹم کے اندر جھانکا، انسانی جینیاتی رمز کو پڑھا اور ایسی مشینیں بنا لیں جو انسانی زبان کو سمجھ کر اس میں گفتگو کرسکتی ہیں۔ اب وہ جانوروں کے ابلاغ کو سمجھنے اور ان سے کسی درجے میں مکالمہ قائم کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔
یہ انسانی علم کی حیرت انگیز داستان ہے۔
مگر اس تمام پیش رفت کے باوجود ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے
انسان خود کیا ہے؟
یہ سوال اس لیے بنیادی ہے کہ انسان جس دنیا کو جانتا ہے، وہ اس کے حواس کے ذریعے اس تک پہنچنے والی دنیا ہے۔ بلی وہ کچھ دیکھ سکتی ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتا، کتا ایسی بو محسوس کرسکتا ہے جس کا انسانی حواس ادراک نہیں کرسکتے، اور بعض جاندار ایسی آوازیں سن سکتے ہیں جو ہماری سماعت کی حدود سے باہر ہیں۔
اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے
ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں، حقیقت صرف اتنی نہیں۔
سائنس نے انسانی حواس کی محدودیت کو دور کرنے کے لیے خوردبین، دوربین، حساس پیمائشی آلات اور بے شمار دوسرے ذرائع ایجاد کیے۔ ان کے ذریعے ہماری نگاہ کائنات کے دور ترین گوشوں اور مادے کی انتہائی باریک سطحوں تک پہنچ گئی۔ لیکن یہاں بھی ایک حد موجود ہے: یہ تمام آلات بھی انسانی عقل کی پیداوار ہیں اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والا علم انسانی فہم کے دائرے ہی میں آتا ہے۔
سمندر اس حقیقت کی ایک سادہ مثال ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے، مگر انسان آج بھی ان کی گہرائیوں اور حیاتیاتی تنوع کے بڑے حصے کو پوری طرح نہیں جانتا۔ اگر انسان اپنے ہی سیارے کے ایک بڑے حصے کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا تو اپنے اندر موجود اس پیچیدہ جہان کو مکمل طور پر جان لینا کس قدر دشوار ہوگا؟
یہاں سے سوال باہر کی دنیا سے اندر کی دنیا کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔
ہم دماغ کے بارے میں حیرت انگیز معلومات حاصل کرچکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ دماغ کے برقی اور کیمیائی عمل یادداشت، جذبات، زبان، فیصلوں اور رویوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ 
لیکن اس تمام علم کے باوجود ایک سوال ابھی تک پوری طرح حل نہیں ہوا
شعور آخر ہے کیا؟
ہم دماغ کی سرگرمی کو دیکھ اور ناپ سکتے ہیں، لیکن "میں" ہونے کا داخلی تجربہ کہاں سے آتا ہے؟ ہم درد کے دوران دماغ میں پیدا ہونے والی عصبی سرگرمی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں، مگر خود درد کا تجربہ کیا ہے؟ ہم یادداشت سے متعلق دماغی حصوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں، مگر انسان اپنے ماضی کو اپنا ماضی کیوں محسوس کرتا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں دماغ اور شعور کے سوال سے روح کا سوال جنم لیتا ہے۔
قرآن اس مقام پر انسان کو اس کی علمی حد یاد دلاتا ہے
"اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔"
غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں روح کی ماہیت کا مکمل نقشہ پیش کرنے کے بجائے انسان کو اس کے علم کی محدودیت کا احساس دلایا گیا ہے۔
یہاں سے سائنس اور مذہب کے سوالات کے دائرے الگ ہوجاتے ہیں۔ سائنس ان مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے جنہیں مشاہدے، تجربے اور پیمائش کے ذریعے جانچا جاسکتا ہے، جبکہ مذہب انسان کے وجود، مقصد، روح، موت اور آخرت جیسے سوالات کو ایک معنوی اور مابعد الطبیعی تناظر میں دیکھتا ہے۔
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ سائنس نے روح کو ثابت کردیا ہے؛ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ سائنس نے روح کو رد کردیا ہے۔ موجودہ سائنسی طریقۂ تحقیق روح کو براہِ راست ناپنے یا مشاہدہ کرنے کا کوئی ایسا قابلِ قبول طریقہ فراہم نہیں کرتا جس کی بنیاد پر اس کے وجود یا عدمِ وجود کا حتمی فیصلہ کیا جاسکے۔
مذہبی روایت اس سے آگے ایک اور امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ انبیاء کے بارے میں وحی، فرشتوں کے مشاہدے اور بعض غیر معمولی ادراکات کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان واقعات کو طبیعیات کے کسی فارمولے میں تبدیل کرنا درست نہیں، کیونکہ معجزہ سائنسی تجربے کی اصطلاح نہیں۔ تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
اگر انسانی حواس محدود ہیں تو کیا حقیقت بھی لازماً اتنی ہی محدود ہے جتنی ہماری آنکھ دیکھتی، کان سنتے اور عقل موجودہ سطح پر سمجھتی ہے؟
یہ سوال ہمیں پھر انسان کی طرف لے آتا ہے۔
انسان کائنات کے راز کھولنے میں مصروف ہے، مگر اپنے شعور کی آخری حقیقت ابھی تک نہیں جان سکا۔ وہ دماغ کی ساخت اور فعالیت کو سمجھ رہا ہے، مگر "میں" کی مکمل حقیقت اس کے سامنے نہیں کھلی۔ وہ موت کے جسمانی عمل کو بڑی حد تک سمجھ چکا ہے، مگر موت کے بعد شعور کا سوال اب بھی فلسفے اور مذہب کے سامنے موجود ہے۔
اس کے باوجود انسان اکثر خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر حتمی فیصلے سناتا ہے۔
شاید یہاں خدا سے پہلے ایک سوال خود انسان سے پوچھنا چاہیے
جس انسان نے ابھی اپنی ذات کو پوری طرح نہیں سمجھا، وہ کائنات کی آخری حقیقت کے بارے میں کس حد تک حتمی فیصلہ کرسکتا ہے؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے وجود پر سوال اٹھانا غلط ہے۔ خدا کا سوال انسانی فکر کے قدیم ترین اور گہرے ترین سوالات میں سے ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے انسان کو اپنے علم کی حدود کا بھی ادراک ہونا چاہیے۔
قرآن کا یہ فرمان—
وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
—اسی علمی انکسار کی دعوت دیتا ہے۔
انسان نے تقریباً تین لاکھ سال کے سفر میں کائنات کے بے شمار راز دریافت کیے ہیں، لیکن شاید اس کی سب سے بڑی دریافت ابھی باقی ہے:
خود انسان۔
شاید خدا کی تلاش کا راستہ بھی یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ کائنات کے آخری سرے تک پہنچنے سے پہلے انسان کو اپنے اندر اترنا ہوگا؛ اپنے شعور، اپنے ارادے، اپنی خواہش، اپنے خوف، اپنی اخلاقی ذمہ داری اور اپنے وجود کے معنی کو سمجھنا ہوگا۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان کائنات میں کہاں کھڑا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ خود کیا ہے۔
اور شاید اسی لیے صدیوں سے ایک معروف حکیمانہ و صوفیانہ قول انسانی فکر کو اپنی طرف متوجہ کرتا آیا ہے:
"مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"
"جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔"

بدھ، 2 ستمبر، 2026