منگل، 10 فروری، 2026

ایران اور طاقت کا کھیل




ایران اور طاقت کا کھیل

تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ سب سے خطرناک طاقت وہ نہیں جو شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو صرف موجود رہے، اور اپنی خاموشی سے ماحول کو قابو میں رکھے۔ کبھی کبھی، یہی خاموشی زمین کے نقشے بدل دیتی ہے، اور انسانیت کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

آج ایران کے ارد گرد کی سرگرمیاں بھی کچھ ایسا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضاؤں میں ایندھن بھرتے طیارے، سرحدوں پر قطار در قطار توپ خانے، اور سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی سخت زبان—یہ سب محض ایک سادہ نتیجے کی طرف نہیں جاتے۔ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے: کیا یہ سب مذاکرات کی کامیابی کی حکمت ہے، یا ایک ایسی جنگ کی خاموشی، جس کی بازگشت نقشے بدل دے؟

ایران کے صحرائے سمنان میں نصب کردہ میزائل اور سرحدوں پر ٹنگی ہوئی توپ خانے کی قطاریں بظاہر طاقت کے مظاہرے ہیں، لیکن بعض ماہرین انہیں دباؤ کی زبان کہتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو بولتی نہیں، مگر بات چیت کے دروازے کھولتی ہے، ایک قسم کی چپ مگر گونجدار حکمت۔

طاقت تاکہ بات ہو سکے
ایک گروہ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو جنگ کے دہانے تک لا کر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ معروف اسٹریٹجک مبصر اسٹیفن والٹ کہتے ہیں:
"طاقت کا ارتکاز ہمیشہ جنگ کے لیے نہیں ہوتا، اکثر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔"
یہی وجہ ہے کہ فضائی تیاریوں، طیاروں کی آمد، اور سرحدوں پر مضبوط پوزیشنز کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر بات نہ بنی تو قیمت بہت بھاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض مشرق وسطیٰ کے حلیف بھی اطمینان ظاہر کر چکے ہیں کہ فوری حملہ فی الحال متوقع نہیں۔

رچرڈ ہاس کے مطابق:
"امریکہ کی اصل دلچسپی نظام گرانے میں نہیں، بلکہ نظام کو اس حد تک خوف میں مبتلا کرنے میں ہے کہ وہ رعایت دینے پر مجبور ہو جائے۔"

دوسرا رخ: فیصلہ کن دباؤ یا جنگ کی چھاپ
تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ محض دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسے فیصلے کی تیاری ہے جس میں ایران کو 'سلامت رہنے' کا موقع شاید نہ دیا جائے۔ جون 2025 کی مثال ابھی تازہ ہے، جب مذاکرات کی آڑ میں ایران کو الجھایا گیا اور عملی کارروائی کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہی۔

اسرائیلی سلامتی ماہر ایال زِسر کے مطابق:
"یہ مرحلہ محض انتباہ کا نہیں، حتمی فیصلے کا لگتا ہے۔ اس بار ہدف صرف پروگرام نہیں، پورا اسٹرکچر ہے۔"
یہ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ صرف مشورے تک محدود نہیں رہا، بلکہ واشنگٹن پر اس کا عملی اثر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے خطرے کو 'قابلِ انتظام' دکھانے کے پیچھے رائے عامہ کو ذہنی طور پر ایک بڑے اقدام کے لیے تیار کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔

ایران: جاگتا ہوا، تنہا نہیں
دونوں نظریات کے بیچ ایک حقیقت واضح ہے: ایران اس بار غافل نہیں۔ وہ ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے، ردِعمل کی تیاری میں ہے، اور اپنی بقاء کی حکمت عملی کو ہر لمحہ تازہ رکھتا ہے۔ خطے کی دیگر طاقتیں بھی خاموش تماشائی نہیں؛ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ نازک توازن ٹوٹا تو آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی۔

مشرق وسطی کا یہ لمحہ تاریخ کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے یہ سب حکمتِ عملی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہو، اور ممکن ہے یہ ایک ایسی جنگ کی تمہید ہو جو زبان سے زیادہ، نقشے اور تقدیر بدل دے۔

طاقت کی دنیا میں سب سے خطرناک سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے: کیا جنگ کو اب روکا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج مشرق وسطی کی خاموش گونج میں سب سے بلند سنائی دے رہا ہے—ایک سوال جو نہ صرف ممالک بلکہ انسانیت کے ضمیر پر بھی بھاری ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی تیزترین تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

لاہور میں بسنت






لاہور میں بسنت

 جنریشن زی کے لیے یہ دو دن محض واقعات نہیں، بلکہ دو متضاد تجربات ہیں: ایک دن جب ہم نے خود کو بکھرتے دیکھا، اور دوسرا دن جب ہم نے خود کو سمیٹنے کی ایک روشن کوشش کی۔

آٹھ فروری کو لاہور کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ چھتوں پر صرف گڈے نہیں اڑے، ذہنوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ڈھول کی تھاپ پر قدم خود بخود تھرکنے لگے، قہقہے فضا میں گھل گئے، اور اجنبی ایک دوسرے کے لیے مانوس ہو گئے۔ بزرگ نسل نے نئی نسل کو گڈے دلائے، تجربہ کار ہاتھوں نے نو آموز ہاتھوں کو گڈا اڑانے کے رموز سکھائے۔ لوگ ایک دوسرے کی چھتوں تک پہنچے، مگر اصل میں وہ ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچے—وہ دل جو مدتوں سے بند پڑے تھے۔

یہ صرف بسنت نہیں تھی، یہ سماج کی ازسرِنو جڑت تھی۔
یہ ان قدروں کی خاموش واپسی تھی جنہیں ہم نے خوف اور بدگمانی کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا تھا۔

اس سے پہلے ہمارا رویہ کیا بن چکا تھا؟
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں میں بدل لیا تھا۔ اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور بھاری گیٹ—سب کچھ تحفظ کے نام پر، مگر انجام تنہائی کی صورت میں نکلا۔ عدمِ اعتماد نے ہمارے تعلقات کی ساخت بدل دی تھی۔ ہم سلام سے پہلے سوال اور ملاقات سے پہلے اندیشے پالنے لگے تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں سیاست کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا—مگر وہ کہیں راستہ بھٹک گئی۔

سیاست اپنی اصل میں کوئی داغ دار سرگرمی نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ سچی سیاست وہ ہوتی ہے جو معاشرے میں امید بانٹے، لوگوں کو مثبت سوچ عطا کرے، مستقبل کی سمت واضح کرے، اور بالخصوص نوجوانوں کو مقصد دکھائے۔ سیاستدان کا کام محض نعرہ لگانا نہیں، بلکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اکثر یہ سفر اتنا کٹھن ہو جاتا ہے کہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد کئی نام ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اس راہ میں اپنی آسائشیں، اپنی عزت، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر اپنے وژن سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی سیاست کا اصل وقار ہے، یہی اس کا اخلاقی وزن ہے۔

اسی تناظر میں آٹھ فروری کی بسنت کو دیکھنا چاہیے۔
یہ کوئی سیاسی مظاہرہ نہیں تھا، مگر ایک سماجی کوشش ضرور تھی—ایک غیر اعلانیہ اعلان کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔ کہ ہم اب بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، بغیر نفرت کے، بغیر اشتعال کے۔

اور پھر ذہن نا چاہتے ہوئے نو مئی کی طرف چلا جاتا ہے۔

نو مئی وہ دن تھا جب سیاست رہنمائی کے بجائے اشتعال میں بدل گئی۔ یہ دن کسی بیرونی دشمن کا نہیں، ہماری اندرونی شکست کا دن تھا۔ نو مئی ایک ایسا خنجر تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھ میں لیا، اور خود کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا۔

اس دن نفرت کے بیانیے تراشے گئے، زبانیں سخت ہو گئیں، اور اختلاف دشمنی میں بدل گیا۔ احتجاج اور تخریب کے درمیان حد مٹا دی گئی۔ ہم نے خود اپنا گریبان چاک کیا، اور پھر حیران ہوئے کہ آئینہ ہمیں ٹوٹا ہوا کیوں دکھا رہا ہے۔

نو مئی صرف تشدد کی ایک تاریخ نہیں، یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
اس دن ہم نے اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی شعور کو خود ہی اپنے ہاتھوں مجروح کیا۔ نتیجتاً خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں، اور معاشرہ ایک بار پھر بند گھروں، بند دلوں اور بند ذہنوں میں قید ہو گیا۔

جنریشن زی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جب جذبات عقل سے آزاد ہو جائیں تو نعرے بوجھ بن جاتے ہیں، اور جب سیاست اخلاق سے خالی ہو جائے تو قومیں خود اپنی بنیادیں کمزور کر لیتی ہیں۔

اور اسی لیے آٹھ فروری اہم ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ کہ اگر سیاست دوبارہ اپنی اصل روح—امید، سمت اور اخلاق—کی طرف لوٹ آئے، تو سماج دوبارہ سانس لے سکتا ہے۔ کہ ہم نفرت کے خنجروں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں کہ نو مئی کیوں پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم آٹھ فروری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

کیونکہ تاریخ صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی،
تاریخ یہ لکھتی ہے کہ قوموں نے کس لمحے کیا انتخاب کیا۔

اور انتخاب—
ہمیشہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔

کتے اور بھیریے کی کہانی





کتے اور بھیڑیے کی کہانی

 رتقاء کے کسی دھندلے، نیم روشن موڑ پر کتا اور بھیڑیا ایک ہی قبیلے کے فرد تھے۔ جبلّت مشترک تھی، بدن میں مماثلت تھی، اور بقا کی خواہش دونوں کے سینے میں یکساں دھڑکتی تھی۔ نہ فطرت نے ان کے درمیان لکیر کھینچی، نہ وقت نے انہیں جدا کیا۔ یہ فرق کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا—یہ فرق ایک سوچے سمجھے انتخاب سے پیدا ہوا۔

کتے نے انسان کے قریب رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جنگل کی وسعتوں کے بجائے دہلیز کو چنا۔ یہ قربت سہولت نہیں تھی، ایک ذمہ داری تھی—بھاری، مسلسل اور خاموش۔ اس نے انسان کے گھر، اس کے بچوں اور اس کے مال مویشی کی رکھوالی کی۔ اس نے اپنی ذات کو ڈھال بنایا، اپنے وجود کو خطرے کے سامنے رکھا، تاکہ پیچھے رہ جانے والے محفوظ رہیں۔
اس انتخاب کی قیمت بھی تھی۔ آزادی محدود ہوئی، اختیار مکمل نہ ملا، مگر دہلیز محفوظ رہی۔ اور یوں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ حفاظت طاقت کا مظاہرہ نہیں، قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔

بھیڑیے نے جنگل کی بے کنار وسعتوں کو چنا۔ اس نے کسی دہلیز سے وابستگی قبول نہ کی، کسی ذمے داری کو اپنے گلے کا ہار نہ بنایا۔ بھوک مٹانے کے لیے وہ کھلے میدان میں اترا، حملہ کیا، نوچا، اور خوف کو اپنی پہچان بنا لیا۔ اس کے نزدیک زندگی حفاظت کا نام نہیں، غلبے کا دوسرا نام ہے؛ ذمہ داری اس کے ہاں بوجھ ہے، فتح ہی اس کی اخلاقیات ہے۔

کتا آج بھی دہلیز پر بیٹھا ہے۔ اس کی خواہش سادہ ہے: جو اس کے پیچھے ہیں، وہ محفوظ رہیں۔ مگر انسانی سماج نے وقت کے ساتھ ایک عجیب اور سفاک فیصلہ کیا۔ اس نے وفاداری کو کمزوری قرار دے دیا۔ جب کسی ہم جنس کو کمتر دکھانا مقصود ہو، اسے “کتا” کہا جاتا ہے۔ یوں اصول پسندی، قانون کی پاسداری اور اخلاقی انکار تمسخر کا نشانہ بن جاتے ہیں، اور کردار کی جگہ چالاکی کو فضیلت کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

انسانی تاریخ ایسے محافظوں سے بھری پڑی ہے جو دروازوں پر کھڑے رہے، مگر فیصلہ ساز کمروں تک نہ پہنچ سکے۔ ان کے نام قراردادوں کے حاشیوں میں دب گئے، کیونکہ وہ فاتح نہیں تھے۔ فاتح وہ تھے جن کے ہاتھوں میں نقشے تھے، جنہوں نے سرخ لکیروں سے زمین بانٹی، اور جن کے فیصلوں کے بعد شہروں کے نام ملبے میں بدل گئے۔

یہ بھی تاریخ کا ایک تلخ تضاد ہے کہ خونخواری کو بہادری کہا جاتا ہے۔ کہیں آسمان سے آگ برستی ہے، کہیں بستیاں اجڑتی ہیں، اور کہیں ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے “ضروری اقدام” کا نام دے دیتے ہیں۔ میزوں پر فائلیں کھلتی ہیں، نقشوں پر نئی حد بندیاں بنتی ہیں، اور انسان صرف اعداد میں ڈھل جاتے ہیں—کسی رپورٹ کا ایک پیراگراف، کسی بریفنگ کی ایک سطر۔

رفتہ رفتہ یہی بھیڑیے دنیا کی بڑی کہانیوں کے مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔ ان کے لیے زبان نرم ہو جاتی ہے، الفاظ محتاط ہو جاتے ہیں، اور ظلم کو “توازن”، “سلامتی” یا “قومی مفاد” کا خوش نما عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جو اس بیانیے سے اختلاف کرے، جو طاقت کے بجائے اصول کی بات کرے، وہ غیر حقیقت پسند، جذباتی یا غیر ذمہ دار قرار پاتا ہے۔

مسئلہ بھیڑیوں کی موجودگی نہیں—طاقت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ اصل مسئلہ وہ عالمی ہجوم ہے جو ان کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ تالیاں ہیں جو ہر گرتے ہوئے شہر کے بعد بجتی ہیں۔ وہ خاموشی ہے جو ہر چیخ کے بعد چھا جاتی ہے۔ اصل بحران یہ ہے کہ ہم نے طاقت کو عقل کا مترادف، اور اخلاق کو رکاوٹ سمجھ لیا ہے۔

جب  پیمانے بگڑ جائیں تو محافظ مجرم دکھائی دینے لگتا ہے، اور آگ لگانے والا رہنما۔ پھر دہلیز پر بیٹھا کتا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے، اور جنگل سے آنے والا بھیڑیا معتبر۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے اپنی ہی حفاظت پر شرمندہ ہونے لگتے ہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ کتا درست ہے یا بھیڑیا طاقتور۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کن فیصلوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم کن ہاتھوں سے مصافحہ کرتے ہیں، اور کن آنکھوں سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیونکہ جس دن دنیا اپنے محافظوں کو بوجھ، اور اپنے جلادوں کو ناگزیر سمجھ لے، اس دن ظلم محض ایک عمل نہیں رہتا—وہ عالمی روایت بن جاتا ہے۔

اور جب ظلم روایت بن جائے،
تو تاریخ نہیں مرتی—
انسان مرنے لگتا ہے۔





خناس کی فطرت



خناس کی فطرت


صیہونیت کے سر تاج  برطانیہ نے رکھا۔ یورپ نے  ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلےاسےمضبوط کیا۔مگر اصل موڑ اس وقت آیا، مریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یوں اسرائیل ایک مقدس استثنا بن گیا۔
 طاقت اگر حد سے بڑھا دی جائے، اگر اسے جواب دہی اور قانون کے بغیر تقدس عطا کر دیا جائے، تو پھر وہ طاقت نظم نہیں رہتی، وہ وحشت بن جاتی ہے۔
صیہونیت کے سر پر تاج سب سے پہلے برطانیہ نے رکھا۔ بالفور اعلامیے کے کاغذ پر محض ایک وعدہ نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک مستقل زخم کندہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یورپ نے ہمدردی کے نام پر، ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلے، اور نوآبادیاتی مفادات کے تحفظ کی خاطر اس تاج کو مزید مضبوط کیا۔مگر اصل موڑ وہاں آیا، جہاں امریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یہاں سے یہ تاج محض تحفظ کی علامت نہ رہا، بلکہ ایک کھلا اجازت نامہ بن گیا—ہر دیوار گرانے کا
ہر بستی اجاڑنے کا،اور ہر لاش کو “دفاع” کے جواز میں دفن کرنے کا۔یوں اسرائیل ایک ریاست نہیں رہا،بلکہ ایک مقدس استثنا بن گیا۔
اقوامِ عالم کے قوانین اس کے لیے کاغذ کے ٹکڑے ٹھہرے،انسانی حقوق اس کے سامنے بے آواز ہو گئے،اور اخلاقیات اس کی دہلیز پر جوتے اتار کر داخل ہونے لگیں۔
فلسطین کی گلیوں میں جب پتھر اٹھے،تو جواب میں فولاد اترا۔
جب بچوں کی چیخیں بلند ہوئیں، تو اسے حقِ دفاع کہا گیا۔
اور جب دنیا نے سوال کیا، تو ویٹو کی مہر نے ہر سوال کو دفن کر دیا۔
تاج کی تاریخ ہے ۔ وہ پہلے تحفظ دیتا ہے، پھر بے خوفی،اور آخرکار خود سری
آج المیہ یہ ہے کہ وہی امریکہ، جس نے اس تاج پر ہیرا پرویا تھا،اب خود اسی تاج کے سائے میں کھڑا ہے۔اسرائیل کو روکنے کی بات واشنگٹن میں سرگوشی بن چکی ہے،اور سرگوشی وہاں جرم سمجھی جاتی ہے۔کانگریس کے ایوان ہوں یا میڈیا کے کمرے،پٹہ دکھانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔کیونکہ جسے برسوں یہ بتایا گیا ہو کہ وہ غلط نہیں ہو سکتا،وہ ایک دن یہ یقین کر لیتا ہے کہ اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ کہانی نئی نہیں۔روم میں محافظوں نے قیصر کو نگل لیا تھا
بغداد میں غلاموں نے خلیفہ کو کٹھ پتلی بنا دیا تھا، اور جدید دنیا میں پراکسی اپنے خالقوں کے لیے وبال بنتی دیکھی جا چکی ہے
مگر صیہونیت کا معاملہ سب سے مختلف اس لیے ہے کہ یہاں طاقت کے ساتھ اخلاقی برتری کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔اور یہی وہ خناس ہے جو سب سے آہستہ اور دیرسے اترتا ہے۔
آج آگ پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔امن ایک لفظ رہ گیا ہے، حقیقت نہیں۔
اور وہ ہاتھ جو کبھی تاج رکھنے کے لیے اٹھے تھے،آج کانپ رہے ہیں۔کیونکہ پٹہ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں۔
اصل غلطی آج نہیں ہو رہی۔اصل غلطی اُس دن ہوئی تھی جب صیہونیت کو بغیر حساب کے عزت دے دی گئی تھی۔
تاریخ یہی لکھتی ہے جو تاج کا عادی ہو جائے، وہ قانون کو توہین سمجھتا ہے
اور جب قانون کو ویٹو تلے مسخ کر دیا جائے،تو تاج پہنے لاڈلے کو پٹہ ڈالنا
مشکل نہیں،ناممکن ہو جاتا ہے۔
قدیم رومی کہاوت  ہے-"ایک مرتبہ کتے کے سر پر تاج رکھ دیا جائے،تو پھر اسے پٹہ پہنانا ممکن نہیں رہتا۔"

پیر، 9 فروری، 2026

بند گلی



بند گلی

تاریخ میں کچھ مراحل ایسے آتے ہیں جب طاقت آگے بڑھنے کے بجائے خود اپنے گرد گھومنے لگتی ہے۔ فیصلہ کرنے کی  جرأت ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ  ایران  کشیدگی اسی کیفیت کی نمائندہ ہے—ایسا لمحہ جہاں ہر اقدام نقصان اور ہر تاخیر مزید نقصان کا پیش خیمہ ہے۔

واشنگٹن یہ حقیقت جانتا ہے کہ ایران پر حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسا عمل ہوگا جو سرحدوں، اتحادوں اور طے شدہ حدوں کو بے معنی کر دے گا۔ اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ امریکی سیاسی ڈھانچہ پسپائی کو شکست اور ضبط کو کمزوری سمجھتا ہے۔ یوں فیصلہ اور عدم فیصلہ دونوں یکساں خطرناک بن چکے ہیں۔
ایسے ہی حالات میں سلطنتیں براہِ راست فیصلے کرنے کے بجائے بالواسطہ راستے اختیار کرتی ہیں۔ سفارتی پیغامات، ثالثی کی کوششیں اور محدود تصادم کے فارمولے اسی سوچ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک خلیجی ریاست کے ذریعے پیش کی گئی تجویز بھی اسی منطق پر مبنی تھی --محدود امریکی حملہ، محدود ایرانی جواب، اور یوں جنگ کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ
تہران کا موقف واضح تھا  نہ محدود جنگ، نہ علامتی تصادم۔ یا تو مکمل تصفیہ—جس میں پابندیوں کا خاتمہ اور سیاسی حقیقت کا اعتراف شامل ہو—یا پھر کھلی محاذ آرائی۔ ایران کے نزدیک جزوی جنگ صرف ایک طویل، تدریجی تباہی کا دوسرا نام ہے۔
یہ موقف واشنگٹن کے لیے اس لیے پریشان کن ثابت ہوا کہ وہ جذباتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک تھا۔ اس نے اس مفروضے کو چیلنج کر دیا کہ جنگ کو ہمیشہ منظم اور محدود رکھا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادھوری جنگیں تصادم کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ اسے مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکی فیصلہ سازی اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی تقسیم، قانونی تنازعات اور سماجی اخلاقی بحران اس صلاحیت کو کمزور کر چکے ہیں کہ امریکہ بیرونی محاذ پر واضح اور مستقل پالیسی اختیار کر سکے۔ جو طاقت اندر سے منقسم ہو، وہ باہر استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔
اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کوئی انجام بھی استحکام کی ضمانت نہیں دیتا۔
اگر امریکہ عسکری طور پر غالب آ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ امن نہیں بلکہ خطے کی مزید تقسیم ہوگا۔ کمزور ریاستیں، غیر یقینی سرحدیں اور مستقل کشیدگی—یہی وہ نقشہ ہوگا جو “فتح” کے بعد ابھرے گا۔
اور اگر ایران اس تصادم سے مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ کا دور اختتام کو پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں علاقائی طاقتیں خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھیں گی، عالمی قوتیں نئے اتحاد تشکیل دیں گی، اور خطہ ایک بار پھر غیر یقینی طاقت آزمائی کا میدان بن جائے گا۔
یوں مسئلہ صرف جنگ یا امن کا نہیں رہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ طاقت کے تمام روایتی فارمولے ناکام ہو چکے ہیں۔ سفارت کاری کمزوری سمجھی جا رہی ہے، جنگ ناقابلِ پیش گوئی ہے، اور تاخیر مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں گہرا کر رہی ہے۔
یہ بحران دراصل ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے: امریکہ اپنی حدوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں، اور ایران اپنی سیاسی و معاشی گھٹن کو خاموشی سے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس ٹکراؤ میں سب سے خطرناک مفروضہ یہ ہے کہ صورتحال کو اب بھی مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
 جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں تو فیصلے مذاکرات سے نہیں، طاقت کے ذریعے ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئر کا 1991 میں دیا گیا بیان آج بھی گونجتا ہے
یہ جنگ امریکہ کی سرزمین سے بہت دور لڑی جائے گی، اور امریکی عوام کو اس کی قیمت اپنے شہروں اور گلیوں میں ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسی یقین دہانیاں وقتی ہوتی ہیں۔ جنگیں ابتدا میں دور رہ سکتی ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی مستقل طور پر دور نہیں رہتے۔