سمر قندی جج اور پاکستانی صدر
سمرقند سے اسلام آباد کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو پچاس کلومیٹر ہے، مگر انصاف کے سفر میں دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ صرف جغرافیہ کا نہیں، تقریباً تیرہ سو برس کا ہے۔
اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں سمرقند کے لوگوں نے شکایت کی کہ مسلم سپہ سالار قتیبہ بن مسلم نے شہر پر قبضہ کرتے ہوئے وہ شرائط پوری نہیں کیں جو جنگ اور فتح کے بارے میں رائج اسلامی اصولوں کے مطابق ضروری تھیں۔ ، نہ اسلام کی دعوت دی گئی نہ خراج بارے بتایا گیا اور نہ ہی اس کے باشندوں کو مناسب سوچ بچار کا موقع دیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شہر پر اچانک قبضہ کیا گیا ۔جو اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا ۔ لہذا فاتحین سے شہر کو خالی کرایا جائے ۔
یہ شکایت ایک ایسے خلیفہ کے سامنے پیش ہوئی جس کا اپنا سپہ سالار فاتح تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ چاہتے تو اسے ایک مفتوح شہر کی معمولی شکایت سمجھ کر نظرانداز کر سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے گورنر کو حکم دیا کہ شکایت کی باقاعدہ سماعت کے لیے قاضی مقرر کیا جائے اور فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے۔
چنانچہ قاضی جمیع بن حاضر الباجی نے مقدمہ سنا۔ مقدمہ کا مدعی ایک پادری تھا اور فاتح سپہ سالار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ قاضی نے یہ نہیں دیکھا کہ ایک طرف فاتح فوج ہے اور دوسری طرف مفتوح لوگ۔ اس نے صرف یہ دیکھا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔
سماعت کے دوران ثابت ہو گیا کہ پادری کا دعوی درست ہے ۔قاضی نے حکم دیا کہ اگر فتح مقررہ اصولوں کے مطابق نہیں ہوئی تو مسلم فوج شام سے پہلے سمر قند سے نکل جائے ۔
یہاں تاریخ کا اصل سبق شروع ہوتا ہے۔
حکمران نے اپنے سپہ سالار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا، فاتح فوج کو قانون کا متبادل نہیں بنایا اور ریاستی طاقت کو عدالتی فیصلے کے مقابل کھڑا نہیں کیا۔ بلکہ ریاست نے اپنے ہی طاقتور فریق کو عدالت کے سامنے لا کھڑا کیا۔
یہ واقعہ بلاذری نے فتوح البلدان میں نقل کیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک عدالتی مقدمہ کی روداد معروف صحافی اعزاز سید
کے پروگرام ’’ٹاک شاک‘‘ میں بیان ہوئی ہے ۔ واقعے کے مطابق، اوورسیز پاکستانی عمر احمد عزیز نے 2008ء میں ڈی ایچ اے ویلی اسلام آبادکے اوورسیز بلاک میں پلاٹ کے لیے گیارہ سو ڈالر جمع کرائے۔ پلاٹ نہ مل سکا تو انہوں نے رقم واپس لینے کی کوشش شروع کی۔ معاملہ مختلف اداروں اور فورمز سے ہوتا ہوا 2024ء میں ایوانِ صدر تک پہنچا۔
صدرِ پاکستان کے دفتر سے، ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کو رقم واپس کرنے کی ہدایت ہوئی، مگر ڈی ایچ اے کے نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اسلام آبادی جج نے ڈی ایچ اے کی اپیل پر سماعت شروع کردی ۔
سمرقند میں ایک شکایت نے ریاست کے طاقتور ترین ،اپنے ہی سپہ سالارکو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس نے خلاف فیصلہ صادر کیا تو اس پر عمل ہوا، اور شام سے پہلے سپہ سالار اپنی سپاہ کو لے کر سمرقند سے نکل گیا ۔
مگر اس انصاف نے سمر قندیوں کے دل میں فاتحین کے لیے وہ جگہ بنائی کہ عدالت میں مدعی پادری خود چل کر سپہ سالار کے پاس گیا اور اسے سمرقند میں داخل ہونے کی دعوت دی۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے بڑے عہدوں، وسیع اختیارات یا طاقتور اداروں میں نہیں ہوتی۔ ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ایک کمزور شہری کو بھی یقین ہو کہ اس کا حق کسی طاقتور شخص، ادارے یا عہدے کے سامنے بے معنی نہیں ہوگا۔
اسی لیے سمرقند کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں، ریاستی انصاف کا ایک اصول ہے۔ فاتح قتیبہ بن جرنیل تھا، مگر فیصلہ اس کے حق میں ہونا ضروری نہیں سمجھا گیا۔
شکایت کرنے والا سمرقند کا پادری تھا ، مگر ان کا غیر مسلم یا مفتوح ہونا ان کے حقِ انصاف میں رکاوٹ نہیں بنا۔
قاضی نے صرف ایک سوال دیکھا تھا:
حق کس کے ساتھ ہے؟
ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے 2025ء کے قانون کی حکمرانی کے اشاریے میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر تھا، جبکہ شہری انصاف کے شعبے میں اس کی پوزیشن 129ویں تھی۔ یہ اشاریہ صرف عدالتوں کے فیصلوں کو نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی، انصاف تک رسائی، مؤثریت، غیر جانب داری اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو بھی جانچتا ہے۔
اعداد اپنے اندر کوئی جذبات نہیں رکھتے، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے۔
وہ شخص جس کی زمین کسی تنازع میں پھنسی ہے۔
وہ شخص جس کی پنشن رکی ہوئی ہے۔
وہ شخص جس کی دکان یا مکان کا مقدمہ برسوں سے چل رہا ہے۔
وہ شخص جس کی جمع پونجی واپس نہیں ہو رہی۔
اور کبھی وہ شخص بھی جس کے صرف گیارہ سو ڈالر کسی نظام کے پیچیدہ راستوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
انصاف صرف یہ نہیں کہ آخرکار فیصلہ آ جائے۔ انصاف یہ بھی ہے کہ فیصلہ وقت پر آئے، حق دار تک پہنچے اور اسے اپنے حق کے لیے غیر معمولی طاقت کا سہارا نہ لینا پڑے۔
سمرقند کے قاضی نے ایک فاتح فوج کو یہ پیغام دیا تھا کہ فتح تمہیں قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔عدالت نے طاقت کو قانون کے تابع کیا تھا۔
ریاست کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مقابل کھڑے ایک کمزور انسان کے حق کی کتنی حفاظت کرتی ہے۔
آج پاکستان میں کہیں بھی کسی سے پوچھ لیں:
"اگر حق ایک طرف ہو اور طاقت دوسری طرف، تو عدالت کا فیصلہ کس کے حق میں ہوگا؟"

