پیر، 16 فروری، 2026

جنگ کا نیا پیمانہ



جنگ کا نیا پیمانہ 
کامیابی کی تعریف ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، خصوصاً جنگ اور سیاست کی دنیا میں۔ روایتی سوچ یہ تھی کہ فتح کا معیار صرف زمین کا قبضہ، دشمن کا جانی نقصان یا عسکری برتری ہوتی ہے۔ مگر اکیسویں صدی میں جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ اب کامیابی  نئے پیمانوں سے ناپی جاتی ہے: دنیا آپ کو کیسے دیکھتی ہے، آپ کی کہانی کون بیان کرتا ہے، اور آپ نے قدم کب اٹھایا۔ یہی عناصر جدید حکمتِ عملی کی اصل روح ہیں۔
سات اکتوبر کا واقعہ اسی حقیقت کی نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ اس دن نے یہ دکھایا کہ نسبتاً کمزور فریق بھی اگر ادراک، بیانیہ اور وقت کا درست استعمال کرے تو طاقتور حریف کو وقتی طور پر دفاعی پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ یہ محض عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ نفسیاتی اور سیاسی سطح پر اثر ڈالنے والی حکمتِ عملی تھی۔
یحییٰ سنوار اس تناظر میں ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ طویل قید، تنظیمی تجربہ اور خفیہ حکمتِ عملی کی مہارت نے ان کی سوچ کو روایتی عسکری قیادت سے مختلف بنایا۔ ان کے نزدیک جنگ صرف گولی اور بارود کا نام نہیں بلکہ ذہن، میڈیا اور عالمی رائے عامہ کا میدان بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکمتِ عملی میں عسکری اقدام ہمیشہ ایک بڑے سیاسی پیغام کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی بساط بھی بدل دی۔ چند ماہ قبل تک خطے میں تعلقات کی نئی صف بندی کی بات ہو رہی تھی اور بعض ممکنہ معاہدے تاریخ ساز قرار دیے جا رہے تھے۔ لیکن اچانک پیش آنے والے واقعے نے اس پیش رفت کو سست کر دیا۔ عوامی ردعمل نے حکومتوں کو محتاط بنا دیا اور سفارتی رفتار رک گئی۔ یوں ایک دن کی کارروائی نے برسوں کی سفارت کاری کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا۔
اس واقعے کا ایک اور اثر دفاعی برتری کے تصور پر پڑا۔ طویل عرصے سے جدید ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس صلاحیت کو ناقابلِ شکست ڈھال سمجھا جاتا تھا، مگر اچانک حملے نے یہ تاثر کمزور کر دیا۔ عسکری ماہرین کو ماننا پڑا کہ ہائبرڈ جنگ — یعنی روایتی اور غیر روایتی حربوں کا امتزاج — طاقت کے توازن کو غیر متوقع انداز میں بدل سکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس دن نے بیانیہ تبدیل کیا۔ جو تنازعہ عالمی ترجیحات میں نیچے چلا گیا تھا وہ دوبارہ عالمی بحث کا مرکز بن گیا۔ میڈیا، پارلیمانوں اور عوامی حلقوں میں گفتگو کا رخ بدل گیا اور بڑی طاقتوں کو اپنے مؤقف واضح کرنے پڑے۔ اس طرح ایک علاقائی واقعہ عالمی سیاسی گفتگو کا محور بن گیا۔
یہ سب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ اصل معرکہ ذہنوں، خبروں، سفارت کاری اور تاثر کے میدان میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک دن کی کارروائی برسوں کے توازن بدل دیتی ہے اور طاقت کی تعریف نئے سرے سے لکھی جاتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ اپنا فیصلہ دیر سے سناتی ہے، مگر اتنا واضح ہے کہ سات اکتوبر نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے — ایسا مرحلہ جہاں قوت، کمزوری اور حکمتِ عملی کے معنی بدل چکے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں: