خناس کی فطرت
صیہونیت کے سر تاج برطانیہ نے رکھا۔ یورپ نے ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلےاسےمضبوط کیا۔مگر اصل موڑ اس وقت آیا، مریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یوں اسرائیل ایک مقدس استثنا بن گیا۔
طاقت اگر حد سے بڑھا دی جائے، اگر اسے جواب دہی اور قانون کے بغیر تقدس عطا کر دیا جائے، تو پھر وہ طاقت نظم نہیں رہتی، وہ وحشت بن جاتی ہے۔
صیہونیت کے سر پر تاج سب سے پہلے برطانیہ نے رکھا۔ بالفور اعلامیے کے کاغذ پر محض ایک وعدہ نہیں لکھا گیا تھا، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل پر ایک مستقل زخم کندہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یورپ نے ہمدردی کے نام پر، ہولوکاسٹ کے کفارے کے بوجھ تلے، اور نوآبادیاتی مفادات کے تحفظ کی خاطر اس تاج کو مزید مضبوط کیا۔مگر اصل موڑ وہاں آیا، جہاں امریکی سرپرستی نے اس تاج میں نسلی برتری کا ہیرا جڑ دیا۔یہاں سے یہ تاج محض تحفظ کی علامت نہ رہا، بلکہ ایک کھلا اجازت نامہ بن گیا—ہر دیوار گرانے کا
ہر بستی اجاڑنے کا،اور ہر لاش کو “دفاع” کے جواز میں دفن کرنے کا۔یوں اسرائیل ایک ریاست نہیں رہا،بلکہ ایک مقدس استثنا بن گیا۔
اقوامِ عالم کے قوانین اس کے لیے کاغذ کے ٹکڑے ٹھہرے،انسانی حقوق اس کے سامنے بے آواز ہو گئے،اور اخلاقیات اس کی دہلیز پر جوتے اتار کر داخل ہونے لگیں۔
فلسطین کی گلیوں میں جب پتھر اٹھے،تو جواب میں فولاد اترا۔
جب بچوں کی چیخیں بلند ہوئیں، تو اسے حقِ دفاع کہا گیا۔
اور جب دنیا نے سوال کیا، تو ویٹو کی مہر نے ہر سوال کو دفن کر دیا۔
تاج کی تاریخ ہے ۔ وہ پہلے تحفظ دیتا ہے، پھر بے خوفی،اور آخرکار خود سری
آج المیہ یہ ہے کہ وہی امریکہ، جس نے اس تاج پر ہیرا پرویا تھا،اب خود اسی تاج کے سائے میں کھڑا ہے۔اسرائیل کو روکنے کی بات واشنگٹن میں سرگوشی بن چکی ہے،اور سرگوشی وہاں جرم سمجھی جاتی ہے۔کانگریس کے ایوان ہوں یا میڈیا کے کمرے،پٹہ دکھانا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔کیونکہ جسے برسوں یہ بتایا گیا ہو کہ وہ غلط نہیں ہو سکتا،وہ ایک دن یہ یقین کر لیتا ہے کہ اسے روکا بھی نہیں جا سکتا۔
یہ کہانی نئی نہیں۔روم میں محافظوں نے قیصر کو نگل لیا تھا
بغداد میں غلاموں نے خلیفہ کو کٹھ پتلی بنا دیا تھا، اور جدید دنیا میں پراکسی اپنے خالقوں کے لیے وبال بنتی دیکھی جا چکی ہے
مگر صیہونیت کا معاملہ سب سے مختلف اس لیے ہے کہ یہاں طاقت کے ساتھ اخلاقی برتری کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔اور یہی وہ خناس ہے جو سب سے آہستہ اور دیرسے اترتا ہے۔
آج آگ پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔امن ایک لفظ رہ گیا ہے، حقیقت نہیں۔
اور وہ ہاتھ جو کبھی تاج رکھنے کے لیے اٹھے تھے،آج کانپ رہے ہیں۔کیونکہ پٹہ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں۔
اصل غلطی آج نہیں ہو رہی۔اصل غلطی اُس دن ہوئی تھی جب صیہونیت کو بغیر حساب کے عزت دے دی گئی تھی۔
تاریخ یہی لکھتی ہے جو تاج کا عادی ہو جائے، وہ قانون کو توہین سمجھتا ہے
اور جب قانون کو ویٹو تلے مسخ کر دیا جائے،تو تاج پہنے لاڈلے کو پٹہ ڈالنا
مشکل نہیں،ناممکن ہو جاتا ہے۔
قدیم رومی کہاوت ہے-"ایک مرتبہ کتے کے سر پر تاج رکھ دیا جائے،تو پھر اسے پٹہ پہنانا ممکن نہیں رہتا۔"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں