ایران اور طاقت کا کھیل
تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ سب سے خطرناک طاقت وہ نہیں جو شور مچائے، بلکہ وہ ہے جو صرف موجود رہے، اور اپنی خاموشی سے ماحول کو قابو میں رکھے۔ کبھی کبھی، یہی خاموشی زمین کے نقشے بدل دیتی ہے، اور انسانیت کو ایسے فیصلوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے جن کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
آج ایران کے ارد گرد کی سرگرمیاں بھی کچھ ایسا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضاؤں میں ایندھن بھرتے طیارے، سرحدوں پر قطار در قطار توپ خانے، اور سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی سخت زبان—یہ سب محض ایک سادہ نتیجے کی طرف نہیں جاتے۔ سوال اب پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے: کیا یہ سب مذاکرات کی کامیابی کی حکمت ہے، یا ایک ایسی جنگ کی خاموشی، جس کی بازگشت نقشے بدل دے؟
ایران کے صحرائے سمنان میں نصب کردہ میزائل اور سرحدوں پر ٹنگی ہوئی توپ خانے کی قطاریں بظاہر طاقت کے مظاہرے ہیں، لیکن بعض ماہرین انہیں دباؤ کی زبان کہتے ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جو بولتی نہیں، مگر بات چیت کے دروازے کھولتی ہے، ایک قسم کی چپ مگر گونجدار حکمت۔
طاقت تاکہ بات ہو سکے
ایک گروہ کے مطابق، امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو جنگ کے دہانے تک لا کر مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ معروف اسٹریٹجک مبصر اسٹیفن والٹ کہتے ہیں:
"طاقت کا ارتکاز ہمیشہ جنگ کے لیے نہیں ہوتا، اکثر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے۔"
یہی وجہ ہے کہ فضائی تیاریوں، طیاروں کی آمد، اور سرحدوں پر مضبوط پوزیشنز کا مقصد ایران کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر بات نہ بنی تو قیمت بہت بھاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے بعض مشرق وسطیٰ کے حلیف بھی اطمینان ظاہر کر چکے ہیں کہ فوری حملہ فی الحال متوقع نہیں۔
رچرڈ ہاس کے مطابق:
"امریکہ کی اصل دلچسپی نظام گرانے میں نہیں، بلکہ نظام کو اس حد تک خوف میں مبتلا کرنے میں ہے کہ وہ رعایت دینے پر مجبور ہو جائے۔"
دوسرا رخ: فیصلہ کن دباؤ یا جنگ کی چھاپ
تصویر کا دوسرا رخ کہیں زیادہ تاریک ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ محض دباؤ نہیں، بلکہ ایک ایسے فیصلے کی تیاری ہے جس میں ایران کو 'سلامت رہنے' کا موقع شاید نہ دیا جائے۔ جون 2025 کی مثال ابھی تازہ ہے، جب مذاکرات کی آڑ میں ایران کو الجھایا گیا اور عملی کارروائی کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہی۔
اسرائیلی سلامتی ماہر ایال زِسر کے مطابق:
"یہ مرحلہ محض انتباہ کا نہیں، حتمی فیصلے کا لگتا ہے۔ اس بار ہدف صرف پروگرام نہیں، پورا اسٹرکچر ہے۔"
یہ ماہرین مزید کہتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ صرف مشورے تک محدود نہیں رہا، بلکہ واشنگٹن پر اس کا عملی اثر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے خطرے کو 'قابلِ انتظام' دکھانے کے پیچھے رائے عامہ کو ذہنی طور پر ایک بڑے اقدام کے لیے تیار کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے۔
ایران: جاگتا ہوا، تنہا نہیں
دونوں نظریات کے بیچ ایک حقیقت واضح ہے: ایران اس بار غافل نہیں۔ وہ ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے، ردِعمل کی تیاری میں ہے، اور اپنی بقاء کی حکمت عملی کو ہر لمحہ تازہ رکھتا ہے۔ خطے کی دیگر طاقتیں بھی خاموش تماشائی نہیں؛ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ نازک توازن ٹوٹا تو آگ صرف ایک سرحد تک محدود نہیں رہے گی۔
مشرق وسطی کا یہ لمحہ تاریخ کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔ ممکن ہے یہ سب حکمتِ عملی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہو، اور ممکن ہے یہ ایک ایسی جنگ کی تمہید ہو جو زبان سے زیادہ، نقشے اور تقدیر بدل دے۔
طاقت کی دنیا میں سب سے خطرناک سوال کبھی یہ نہیں ہوتا کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے: کیا جنگ کو اب روکا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج مشرق وسطی کی خاموش گونج میں سب سے بلند سنائی دے رہا ہے—ایک سوال جو نہ صرف ممالک بلکہ انسانیت کے ضمیر پر بھی بھاری ہے، اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی تیزترین تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں