اتوار، 8 فروری، 2026

ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ






ترکیے کا اسرائیل کو بڑا تھپڑ
عالمی انٹیلی جنس تاریخ میں بعض گرفتاریاں محض قانونی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ ریاستوں کے درمیان جاری خاموش جنگ کے پوشیدہ ابواب کو آشکار کر دیتی ہیں۔ ترکیے کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی (Milli İstihbarat Teşkilatı) کی حالیہ کارروائی بھی اسی نوعیت کی ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے منسلک ایک طویل المدت نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف خفیہ نگرانی اور جاسوسی میں ملوث تھا بلکہ عالمی تجارتی نظام کو تخریب کاری کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
ترک انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سامنے آنے والا نیٹ ورک کوئی عارضی سیل نہیں بلکہ کم از کم بارہ برس سے سرگرم ایک منظم آپریشن تھا۔ اس کے مرکزی کردار محمد بودک دریا اور ان کے ساتھی فیصل کریم اوغلو—جو فلسطینی نژاد ترک شہری ہیں—یورپ اور ایشیا میں درجنوں فرنٹ کمپنیوں، جعلی ویب پورٹلز اور متعدد بینک اکاؤنٹس کے ذریعے سرگرم رہے۔
بظاہر ان کمپنیوں کا کاروبار سنگِ مرمر، لاجسٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور صنعتی آلات کی تجارت تھا، مگر ترک تفتیش کے مطابق یہ تمام ڈھانچہ دراصل ایک کور انٹیلی جنس انفراسٹرکچر تھا، جس کا مقصد حساس ٹیکنالوجی تک رسائی، ہدفی نگرانی اور تخریب کاری تھا۔
اس نیٹ ورک کا سب سے خطرناک پہلو عالمی سپلائی چین میں دراندازی تھا۔ جدید دنیا میں اسلحہ، ڈرونز اور مواصلاتی آلات کی ترسیل اکثر نجی لاجسٹک کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ موساد سے منسلک اس سیل نے اسی کمزوری کو ہدف بنایا۔
ڈرون پرزہ جات اور مواصلاتی آلات راستے میں ری پیک یا ری کنفیگر کیے جاتے
بعض کیسز میں آلات کو بارودی مواد یا ریموٹ ایکسیس کوڈز سے آلودہ کیا جاتا
حتمی صارف—خصوصاً فلسطینی مزاحمتی نیٹ ورکس یا اسرائیل مخالف حلقے—اس بات سے مکمل لاعلم رہتے کہ استعمال ہونے والا آلہ دراصل ایک انٹیلی جنس ٹریپ ہے
یہ طریقۂ واردات جدید ہائبرڈ وارفیئر 
 کی ایک واضح مثال ہے، جس میں تجارت، ٹیکنالوجی اور جنگ کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔
اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں کسی خلا میں نہیں ہو رہیں۔ ترک تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ یہی سیل تیونسی ایوی ایشن انجینئر محمد الزواری کے نیٹ ورک میں دراندازی کی کوشش کر چکا تھا۔ الزواری وہی سائنس دان تھے جنہیں 2016 میں تیونس میں موساد نے قتل کیا—یہ قتل خود اسرائیلی میڈیا اور مغربی رپورٹس میں بھی بالواسطہ تسلیم شدہ ہے۔
نیٹ ورک نے الزواری کو ڈرون کے نمونے فراہم کرنے کی پیشکش کی
یہ نمونے دراصل نگرانی اور ڈیٹا ایکسٹرکشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے
مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ مستقبل کی ہدفی کارروائیوں کی تیاری تھا
یہ پہلو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ موساد کی کارروائیاں وقتی نہیں بلکہ لانگ ٹرم اسٹریٹجک ٹریکنگ پر مبنی ہوتی ہیں۔
حساس موڈمز اور آلات ترکی کے بجائے دیگر ممالک سے اسمگل کیے تاکہ لوکل نگرانی سے بچا جا سکے
یہ تمام عناصر اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ معاملہ کسی نجی گروہ کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی یافتہ انٹیلی جنس آپریشن کا تھا۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ برسوں میں پیجر ڈیوائسز، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کے ذریعے فلسطینی اور لبنانی اسرائیل مخالف شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ تمام واقعات ایک ہی پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
یعنی الیکٹرانک سپلائی چین کو بطور قاتل ہتھیار استعمال کرنا۔
ترکیے کی یہ کارروائی محض ایک انٹیلی جنس کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح ریاستی اعلان ہے
ترکی اپنی سرزمین پر خفیہ قتل اور تخریب کاری برداشت نہیں کرے گا
عالمی تجارت کو انٹیلی جنس جنگ کا میدان بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
یہ کیس عالمی سطح پر ایک بنیادی سوال کھڑا کرتا ہے
اگر ریاستی انٹیلی جنس ادارے تجارتی نظام کو یوں مسخ کرتے رہیں تو عالمی سلامتی، اعتماد اور انسانی جانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
اگر یہ نیٹ بے نقاب نہ ہوتا تو کتنے افراد اپنی ہی استعمال کردہ ٹیکنالوجی کے ہاتھوں مارے جاتے؟
ترکیے کی اس کارروائی کو اسی لیے محض ایک گرفتاری نہیں بلکہ جدید خفیہ جنگ کے خلاف ایک فیصلہ کن، دستاویزی اور تاریخی ضرب قرار دیا جا رہا ہے—ایسی ضرب جس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عقاب صرف آسمان میں نہیں، سپلائی چین اور سرکٹ بورڈز پر بھی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں: