پیر، 9 فروری، 2026

بند گلی



بند گلی

تاریخ میں کچھ مراحل ایسے آتے ہیں جب طاقت آگے بڑھنے کے بجائے خود اپنے گرد گھومنے لگتی ہے۔ فیصلہ کرنے کی  جرأت ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ  ایران  کشیدگی اسی کیفیت کی نمائندہ ہے—ایسا لمحہ جہاں ہر اقدام نقصان اور ہر تاخیر مزید نقصان کا پیش خیمہ ہے۔

واشنگٹن یہ حقیقت جانتا ہے کہ ایران پر حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسا عمل ہوگا جو سرحدوں، اتحادوں اور طے شدہ حدوں کو بے معنی کر دے گا۔ اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ممکن نہیں، کیونکہ امریکی سیاسی ڈھانچہ پسپائی کو شکست اور ضبط کو کمزوری سمجھتا ہے۔ یوں فیصلہ اور عدم فیصلہ دونوں یکساں خطرناک بن چکے ہیں۔
ایسے ہی حالات میں سلطنتیں براہِ راست فیصلے کرنے کے بجائے بالواسطہ راستے اختیار کرتی ہیں۔ سفارتی پیغامات، ثالثی کی کوششیں اور محدود تصادم کے فارمولے اسی سوچ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک خلیجی ریاست کے ذریعے پیش کی گئی تجویز بھی اسی منطق پر مبنی تھی --محدود امریکی حملہ، محدود ایرانی جواب، اور یوں جنگ کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ
تہران کا موقف واضح تھا  نہ محدود جنگ، نہ علامتی تصادم۔ یا تو مکمل تصفیہ—جس میں پابندیوں کا خاتمہ اور سیاسی حقیقت کا اعتراف شامل ہو—یا پھر کھلی محاذ آرائی۔ ایران کے نزدیک جزوی جنگ صرف ایک طویل، تدریجی تباہی کا دوسرا نام ہے۔
یہ موقف واشنگٹن کے لیے اس لیے پریشان کن ثابت ہوا کہ وہ جذباتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک تھا۔ اس نے اس مفروضے کو چیلنج کر دیا کہ جنگ کو ہمیشہ منظم اور محدود رکھا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ادھوری جنگیں تصادم کو ختم نہیں کرتیں، بلکہ اسے مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکی فیصلہ سازی اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی تقسیم، قانونی تنازعات اور سماجی اخلاقی بحران اس صلاحیت کو کمزور کر چکے ہیں کہ امریکہ بیرونی محاذ پر واضح اور مستقل پالیسی اختیار کر سکے۔ جو طاقت اندر سے منقسم ہو، وہ باہر استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔
اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کوئی انجام بھی استحکام کی ضمانت نہیں دیتا۔
اگر امریکہ عسکری طور پر غالب آ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ امن نہیں بلکہ خطے کی مزید تقسیم ہوگا۔ کمزور ریاستیں، غیر یقینی سرحدیں اور مستقل کشیدگی—یہی وہ نقشہ ہوگا جو “فتح” کے بعد ابھرے گا۔
اور اگر ایران اس تصادم سے مضبوط ہو کر نکلتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ کا دور اختتام کو پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں علاقائی طاقتیں خلا کو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھیں گی، عالمی قوتیں نئے اتحاد تشکیل دیں گی، اور خطہ ایک بار پھر غیر یقینی طاقت آزمائی کا میدان بن جائے گا۔
یوں مسئلہ صرف جنگ یا امن کا نہیں رہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ طاقت کے تمام روایتی فارمولے ناکام ہو چکے ہیں۔ سفارت کاری کمزوری سمجھی جا رہی ہے، جنگ ناقابلِ پیش گوئی ہے، اور تاخیر مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں گہرا کر رہی ہے۔
یہ بحران دراصل ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے: امریکہ اپنی حدوں کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں، اور ایران اپنی سیاسی و معاشی گھٹن کو خاموشی سے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس ٹکراؤ میں سب سے خطرناک مفروضہ یہ ہے کہ صورتحال کو اب بھی مکمل طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
 جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں تو فیصلے مذاکرات سے نہیں، طاقت کے ذریعے ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں سابق امریکی صدر جارج بش سینئر کا 1991 میں دیا گیا بیان آج بھی گونجتا ہے
یہ جنگ امریکہ کی سرزمین سے بہت دور لڑی جائے گی، اور امریکی عوام کو اس کی قیمت اپنے شہروں اور گلیوں میں ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ایسی یقین دہانیاں وقتی ہوتی ہیں۔ جنگیں ابتدا میں دور رہ سکتی ہیں، مگر ان کے اثرات کبھی مستقل طور پر دور نہیں رہتے۔

کوئی تبصرے نہیں: