لاہور میں بسنت
جنریشن زی کے لیے یہ دو دن محض واقعات نہیں، بلکہ دو متضاد تجربات ہیں: ایک دن جب ہم نے خود کو بکھرتے دیکھا، اور دوسرا دن جب ہم نے خود کو سمیٹنے کی ایک روشن کوشش کی۔
آٹھ فروری کو لاہور کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ چھتوں پر صرف گڈے نہیں اڑے، ذہنوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوا۔ ڈھول کی تھاپ پر قدم خود بخود تھرکنے لگے، قہقہے فضا میں گھل گئے، اور اجنبی ایک دوسرے کے لیے مانوس ہو گئے۔ بزرگ نسل نے نئی نسل کو گڈے دلائے، تجربہ کار ہاتھوں نے نو آموز ہاتھوں کو گڈا اڑانے کے رموز سکھائے۔ لوگ ایک دوسرے کی چھتوں تک پہنچے، مگر اصل میں وہ ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچے—وہ دل جو مدتوں سے بند پڑے تھے۔
یہ صرف بسنت نہیں تھی، یہ سماج کی ازسرِنو جڑت تھی۔
یہ ان قدروں کی خاموش واپسی تھی جنہیں ہم نے خوف اور بدگمانی کے نام پر پسِ پشت ڈال دیا تھا۔
اس سے پہلے ہمارا رویہ کیا بن چکا تھا؟
ہم نے اپنے گھروں کو قلعوں میں بدل لیا تھا۔ اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور بھاری گیٹ—سب کچھ تحفظ کے نام پر، مگر انجام تنہائی کی صورت میں نکلا۔ عدمِ اعتماد نے ہمارے تعلقات کی ساخت بدل دی تھی۔ ہم سلام سے پہلے سوال اور ملاقات سے پہلے اندیشے پالنے لگے تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں سیاست کو رہنمائی کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا—مگر وہ کہیں راستہ بھٹک گئی۔
سیاست اپنی اصل میں کوئی داغ دار سرگرمی نہیں، یہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ سچی سیاست وہ ہوتی ہے جو معاشرے میں امید بانٹے، لوگوں کو مثبت سوچ عطا کرے، مستقبل کی سمت واضح کرے، اور بالخصوص نوجوانوں کو مقصد دکھائے۔ سیاستدان کا کام محض نعرہ لگانا نہیں، بلکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
یہ راستہ آسان نہیں ہوتا۔
اکثر یہ سفر اتنا کٹھن ہو جاتا ہے کہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد کئی نام ہماری اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہیں—وہ لوگ جنہوں نے اس راہ میں اپنی آسائشیں، اپنی عزت، حتیٰ کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر اپنے وژن سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہی سیاست کا اصل وقار ہے، یہی اس کا اخلاقی وزن ہے۔
اسی تناظر میں آٹھ فروری کی بسنت کو دیکھنا چاہیے۔
یہ کوئی سیاسی مظاہرہ نہیں تھا، مگر ایک سماجی کوشش ضرور تھی—ایک غیر اعلانیہ اعلان کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔ کہ ہم اب بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں، بغیر نفرت کے، بغیر اشتعال کے۔
اور پھر ذہن نا چاہتے ہوئے نو مئی کی طرف چلا جاتا ہے۔
نو مئی وہ دن تھا جب سیاست رہنمائی کے بجائے اشتعال میں بدل گئی۔ یہ دن کسی بیرونی دشمن کا نہیں، ہماری اندرونی شکست کا دن تھا۔ نو مئی ایک ایسا خنجر تھا جو ہم نے خود اپنے ہاتھ میں لیا، اور خود کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا۔
اس دن نفرت کے بیانیے تراشے گئے، زبانیں سخت ہو گئیں، اور اختلاف دشمنی میں بدل گیا۔ احتجاج اور تخریب کے درمیان حد مٹا دی گئی۔ ہم نے خود اپنا گریبان چاک کیا، اور پھر حیران ہوئے کہ آئینہ ہمیں ٹوٹا ہوا کیوں دکھا رہا ہے۔
نو مئی صرف تشدد کی ایک تاریخ نہیں، یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔
اس دن ہم نے اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنے اجتماعی شعور کو خود ہی اپنے ہاتھوں مجروح کیا۔ نتیجتاً خوشیاں ہم سے روٹھ گئیں، اور معاشرہ ایک بار پھر بند گھروں، بند دلوں اور بند ذہنوں میں قید ہو گیا۔
جنریشن زی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
انہوں نے یہ سبق سیکھا کہ جب جذبات عقل سے آزاد ہو جائیں تو نعرے بوجھ بن جاتے ہیں، اور جب سیاست اخلاق سے خالی ہو جائے تو قومیں خود اپنی بنیادیں کمزور کر لیتی ہیں۔
اور اسی لیے آٹھ فروری اہم ہے۔
یہ دن یاد دلاتا ہے کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ کہ اگر سیاست دوبارہ اپنی اصل روح—امید، سمت اور اخلاق—کی طرف لوٹ آئے، تو سماج دوبارہ سانس لے سکتا ہے۔ کہ ہم نفرت کے خنجروں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ نو مئی کیوں پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم آٹھ فروری کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
کیونکہ تاریخ صرف واقعات محفوظ نہیں کرتی،
تاریخ یہ لکھتی ہے کہ قوموں نے کس لمحے کیا انتخاب کیا۔
اور انتخاب—
ہمیشہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں