بدھ، 11 فروری، 2026

گمان اور رویے





ہماری زندگی کی سب سے مسلسل جستجو اگر کسی شے کی ہے تو وہ خوشی اور سکون ہیں—وہ دو نایاب موتی جن کے لیے انسان عمر بھر سمندرِ حیات میں غوطے لگاتا رہتا ہے۔ مگر عجیب المیہ یہ ہے کہ جس سکون کی تلاش میں ہم دنیا بھر کے راستے ناپتے ہیں، اکثر اسی سکون کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہوتے ہیں۔ ہمارے خیالات، ہمارے گمان، اور ہمارے رویّے—یہی وہ نادیدہ معمار ہیں جو یا تو زندگی کے افق پر روشنی کی عمارت کھڑی کرتے ہیں یا اسے بدگمانی کے اندھیروں میں ڈبو دیتے ہیں۔
مثبت سوچ ایک نرم ہوا کی طرح ہے جو دل کے موسم کو معتدل رکھتی ہے، جبکہ غلط فہمیاں خزاں کی سرد آندھی بن کر رشتوں کے پتّے جھاڑ دیتی ہیں۔ جب انسان کو دوسروں میں خوبی دکھائی دینا بند ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے باطن میں منفی خیال کی کوئی خاموش بیماری جنم لے چکی ہے—ایسی بیماری جو شور نہیں کرتی مگر دلوں کے درمیان فاصلے اگا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے نہایت سادہ مگر تہہ دار الفاظ میں بیان کیا:
"اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ، إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ"
یعنی بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
انسان کا ذہن ایک عجب کارخانہ ہے—یہ حقیقت سے زیادہ قیاس پر یقین کر لیتا ہے، اور ثبوت سے پہلے فیصلہ صادر کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ محبت کے رشتے شکوک کے کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ڈیل کارنیگی کا قول اس نفسیاتی حقیقت کا آئینہ ہے کہ دنیا کی اکثر دشمنیاں غلط فہمیوں کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ ہم دوسروں کے بارے میں رائے بنانے میں جلدی کرتے ہیں، مگر اپنے گمانوں کا محاسبہ کرنے میں سستی۔
منفی سوچ کا پہلا زخم خود سوچنے والے کے دل پر لگتا ہے۔ کارل یونگ کے بقول جو شخص ہر چہرے میں عیب تلاش کرتا ہے، دراصل اپنے ہی باطن کے سایوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان روشنی پہچاننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے—وہ تعریف کرنا بھول جاتا ہے، شکرگزاری سے کترانے لگتا ہے، اور ہر مسکراہٹ میں سازش کا عکس ڈھونڈنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس مثبت سوچ ایک شفا بخش روشنی ہے۔ یہ مسئلے مٹاتی نہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ نورمن ونسنٹ پیل نے اسی سچ کو یوں بیان کیا کہ مثبت فکر مشکلات کو ختم نہیں کرتی بلکہ انسان کو ان سے بلند کر دیتی ہے۔ یہی کیفیت دل میں وہ اطمینان پیدا کرتی ہے جس کا ذکر قرآن نے یوں کیا:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
یعنی یادِ الٰہی سے دلوں کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
یہ قرار صرف عبادت کی ساعتوں میں نہیں اترتا؛ یہ طرزِ فکر کی زمین میں بھی اگتا ہے۔ جب انسان دوسروں کے لیے حسنِ ظن اختیار کرتا ہے، ان کے ارادوں کو خیر پر محمول کرتا ہے، اور ہر حال میں خیر تلاش کرتا ہے تو اس کے اپنے دل کا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ بدگمانی محبت کو کھا جاتی ہے، اور رومیؒ نے اسے دل کے اندر بھڑکتے جہنم سے تعبیر کیا ہے۔
دانائی یہ نہیں کہ انسان عیبوں کی فہرست یاد رکھے؛ دانائی یہ ہے کہ وہ خوبیوں کی تلاش میں رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خیالات کا احتساب کریں—اگر ہماری گفتگو میں تلخی بڑھ رہی ہے، اگر ہماری نظر ہر منظر میں نقص تلاش کرتی ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ ہمارے باطن کا موسم بدل رہا ہے۔ ایسے وقت علاج بھی ہمارے ہی ہاتھ میں ہے: شکرگزاری کو عادت بنانا، حسنِ ظن کو شعار بنانا، اور خود سے یہ عہد کرنا کہ ہم دوسروں کو ویسا دیکھیں گے جیسا ہم خود بننا چاہتے ہیں۔
زندگی اپنی اصل میں دشوار ضرور ہے مگر تاریک نہیں۔ روشنی کا سرچشمہ باہر نہیں، انسان کے اندر ہے۔ جو شخص لوگوں میں خامیاں نہیں بلکہ خوبیاں تلاش کرنے لگتا ہے، اس کے لیے دنیا کی سختیاں بھی نرم ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کوئی خارجی انعام نہیں، یہ دل کی داخلی کیفیت ہے—اور یہ کیفیت اسی دل میں اترتی ہے جو دوسروں کے لیے خیر سوچنے کا ہنر جانتا ہو۔
زندگی کو خوبصورت بنانے کا راز شاید اتنا ہی سادہ ہے:
لوگوں کے چہروں پر دھبے نہیں، روشنی تلاش کرو۔

کوئی تبصرے نہیں: