پیر، 9 فروری، 2026

فلسطینیوں کی امریکہ سےبے دخلی کا نیا المیہ

 



“شیڈو فلائٹس” اسکینڈل

تاریخ اکثر ظلم کو اس لمحے قلم بند نہیں کرتی جب وہ وقوع پذیر ہوتا ہے، بلکہ ابتظار کیا جاتا ہے کہ  اسے کوئی نام دیا جا چکا ہو ۔ آج جس معاملے کو “شیڈو فلائٹس” کہا جا رہا ہے، وہ بھی ایسا ہی ایک نام ہے—ایک ایسا دعویٰ جو  دولت، سیاسی طاقت اور نظریاتی وابستگی کے اس خوفناک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتا ہے جو بند کمروں میں انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔
سوژل میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ایک خطرناک حد عبور کی گئی ہے، جب ریاستی اختیار اور نجی مفادات کے درمیان لکیر مٹا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق   امریکی سکیورٹی اداروں کو ایک طرح کی “جبری ٹریول ایجنسی” میں تبدیل کر دیا گیا، جس کا مقصد قانونی امیگریشن کا نفاذ نہیں بلکہ ایک مخصوص صہیونی بے دخلی ایجنڈے کی تکمیل تھا۔
اس بیانیے کا مرکزی کردار ایک اسرائیلی نژاد امریکی ارب پتی ہے، جس کا ذاتی طیارہ مبینہ طور پر امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے زیرِ استعمال رہا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ارب پتی ٹرمپ خاندان کے نہایت قریب تھا، اور اس کا طیارہ معمول کی انتظامی ضروریات کے بجائے ایک خفیہ اور سیاسی طور پر نہایت حساس مشن کے لیے استعمال ہوا۔
سب سے سنگین الزام فلسطینی قیدیوں سے متعلق ہے۔ دعویٰ ہے کہ انہیں ریاستِ ایریزونا سے براہِ راست تل ابیب منتقل کیا گیا—خاموشی سے، جبر کے ساتھ، اور دانستہ تذلیل کے ماحول میں۔ یہ کارروائی کسی ایک افسر کی زیادتی نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ بتائی جاتی ہے، جس کا مقصد فلسطینی وجود کو صرف مقبوضہ  فلسطینی زمین سے ہی نہیں بلکہ جلاوطنی میں بھی مٹانا ہے ۔
ایسے واقعات اس تلخ حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں جس کا اظہار امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے ناقدین برسوں سے کرتے آ رہے ہیں: کہ امریکی خارجہ پالیسی اب عوامی اداروں کی پیداوار کم اور طاقتور مالی اشرافیہ کے ہاتھوں میں ایک آلہ زیادہ بن چکی ہے۔ اس منظرنامے میں امریکی ریاست—اپنے قوانین، اداروں اور وسائل سمیت—قابض قوت کی سلامتی کے مفادات کے لیے استعمال ہوتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کو بوجھ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
“شیڈو فلائٹس” کا اسکینڈل محض طیاروں یا ملک بدری کا معاملہ نہیں۔ یہ طاقت کے اخلاقی ڈھانچے پر ایک سوال ہے: ریاستی مشینری کو کون چلا رہا ہے، کس کا دکھ نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور جب دولت اور نظریہ ایک ہی سمت میں کھینچنے لگیں تو قانون کس قدر آسانی سے مڑ جاتا ہے۔

سرکاری  خاموشی کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب ریاستی اختیار عملی طور پر نجی ملکیت بن جائے، اور بے دخلی ایک انسانی المیے کے بجائے محض ایک انتظامی کارروائی بن کر رہ جائے، تو پھر انصاف—قومی ہو یا بین الاقوامی—کہاں باقی رہ جاتا ہے؟

کوئی تبصرے نہیں: