عدل کی میزان
قیامت کا منظر تھا، مگر اس کے کردار حقیقت کے دھاگوں سے جُڑے ہوئے تھے۔ ابتدا میں ہر طرف شور تھا—بکھرتے قدم، چیختی آوازیں، اور خوف زدہ چہرے۔ پھر اچانک ایسا سکوت طاری ہوا جیسے کائنات نے اپنی سانس روک لی ہو۔ آوازیں دب گئیں، انسان رُک گئے، اور ایک غیر مرئی قوت نے وقت کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
اسی سکوت میں ایک وسیع اسٹیج نمودار ہوا۔ یہ نہ شاہانہ تھا، نہ پرشکوہ۔ بس ایک سادہ مگر ہیبت ناک منظر، جس پر ایک شفاف آلہ رکھا گیا تھا۔ اتنا شفاف کہ کسی بھی عمل، کسی بھی نیت، کسی بھی جرم کو چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ لوگوں کی نگاہیں اسی آلے پر جم گئیں اور سب نے سمجھ لیا یہ عدل کی میزان ہے۔
منصف کی موجودگی کا سب کو احساس تھا مگر نہ چہرہ، نہ آواز، نہ کوئی علامت۔ مگر یقین ایسا پختہ تھا کہ کسی کو شک نہ رہا- یہاں فیصلہ ہو گا—اور فیصلہ کسی طاقت، کسی اثر و رسوخ، کسی سیاسی مصلحت، کسی مالی چمک یا خاندانی وجاہت کے نام پر متاثر نہیں ہوگا۔ یہ عدالت صرف انسان کے عمل کو تول رہی تھی۔
پہلے گواہوں کے طور پر جو چہرے سامنے آئے، وہ کسی ایک زمانے کے نہ تھے۔ یہ انسانی تاریخ کے مظلوم اور دفن شدہ صفحات تھے—کم عمر بچیاں، جنہیں ہر دور نے اپنے اندازسے مارا۔
ایک بچی آگے بڑھی۔ جسے صرف لڑکی ہونے کی سزا میں زندہ دفن کر دیا گیا۔ اس کا جرم صرف وجود تھا۔ خاموشی کے باوجود اس کی موجودگی نے پورے نظام پر سوال کھڑا کیا: میرا ہونا کب جرم بنا؟
دوسری بچی قرونِ وسطیٰ کی تھی۔ اسے خاندانی یا سیاسی مفاد کے لیے وقت سے پہلے بالغ کر دیا گیا تھا۔ اس کا بچپن چھین لیا گیا، لیکن آج میزان کے سامنے وہ اپنی پوری انسانی پہچان کے ساتھ کھڑی تھی۔
تیسری بچی نوآبادیاتی دور کی نمائندہ تھی۔ فاتح نے زمین کے ساتھ اس کے جسم کو بھی فتح سمجھا۔ اسے تاریخ میں ایک سطر میں “ضمنی نقصان” کہا گیا، مگر میزان کے سامنے وہ ایک مکمل انسان تھی، اور اس کے سوال نے پوری تہذیب کے خلاف فردِ جرم قائم کر دیا۔
پھر جدید دور کی بچیاں آئیں۔ کسی کے ہاتھ میں بم سے ٹوٹی گڑیا تھی، جو جنگ زدہ شہروں کی داستان سناتی تھی۔ کسی کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو جنسی تشدد کے بعد کبھی نہیں جاتا۔ کسی کا جسم بھوک سے نڈھال تھا، ایسی دنیا میں جہاں اناج وافر تھا ۔ یہ سب بول نہیں رہی تھیں، الزام نہیں لگا رہی تھیں، بس موجود تھیں—اور یہی موجودگی سب سے بڑی گواہی تھی۔
اسی لمحے سب پر حقیقت واضح ہو گئی: یہاں کسی ملک کا، کسی ادارے یا سیاسی بلاک کا محاسبہ نہیں ہو گا۔ نہ کسی تنظیم، نہ کسی مالی ادارے، نہ کسی نظریے یا اتحاد کی صفائی قبول کی جائے گی۔ فیصلہ فرد کے خلاف ہو گا۔
وہ فرد جو حکم دیتا، وہ جس نے دستخط کیے، جو خاموش رہا، جو فائدہ اٹھایا—سب اس میزان کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یہاں کسی کو کہنا ممکن نہ ہوگا کہ “میں نظام کا حصہ تھا” کیونکہ یہاں نظام نہیں،عمل تولا جا رہا تھا ۔
میزان میں ذرا بھی لغزش نہ تھی۔ اس کے لیے انسان کے پردے—قوم، ریاست، ادارہ، نظریہ—معنی نہیں رکھتے تھے۔ یہاں صرف عمل کا وزن لیا جا رہا تھا۔
فضا میں ایک سوال معلق تھا
جب تاریخ میں یہ سب ہو رہا تھا، تم کہاں کھڑے تھے؟
میں جاگ اٹھا، مگر یقین ہو گیا کہ یہ محض خواب نہیں تھا۔ یہ ایک انتباہ تھا: ایک دن منصف نظر نہیں آئے گا، مگر عدل ہر فرد کو پہچان لے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں