منگل، 10 فروری، 2026

دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون




دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون
کچھ لوگ مان لیتے ہیں کہ انہیں دوسروں کی زندگیاں درست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ ان کے پاس ہے  بظاہر یہ جذبہ اصلاح اور خیرخواہی کا لبادہ اوڑھے ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ رویّہ ایک فکری جنون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایسا جنون جو  نصیحت کو حکم اور اخلاق کو جبر میں بدل دیتا ہے۔
راہِ راست کوئی ایک لکیر نہیں جس پر تمام انسان یکساں چل سکیں۔ ہر انسان اپنے تجربے، شعور اور حالات کے مطابق زندگی کو سمجھتا ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ اپنی فہم کو حتمی سچ قرار دے کر دوسروں پر نافذ کرنے لگے تو مکالمہ ختم اور تصادم شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے خیرخواہی اپنی روح کھو بیٹھتی ہے اور طاقت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔
علم اس رویّے کے بالکل برعکس سمت میں رہنمائی کرتا ہے۔ سقراط نے حکمت کا آغاز خود احتسابی سے کیا اور کہا کہ اصل دانائی اپنی لاعلمی کا ادراک ہے۔ بدھ نے دکھ کی نشاندہی ضرور کی، مگر نجات کو ہر فرد کا ذاتی سفر قرار دیا۔ کانٹ کے نزدیک اخلاق وہ نہیں جو بیرونی دباؤ سے مسلط کیا جائے، بلکہ وہ ہے جسے انسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھ کر قبول کرے۔ ان مفکرین کے ہاں اصلاح کا مرکز ہمیشہ انسان کا باطن رہا، نہ کہ دوسروں کی نگرانی۔
دوسروں کو راہِ راست پر لانے کا جنون دراصل اکثر اپنی ذات سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے خوف، تضادات اور ناکامیوں کا سامنا نہیں کر پاتا، وہ دوسروں کے اعمال میں عیب تلاش کرنے لگتا ہے۔ نطشے نے اسی رویّے کو اخلاقی بالادستی کی بیماری کہا تھا، جہاں کمزور انسان اپنی کمزوری کو نیکی کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرتا ہے۔
جب یہی ذہنیت اجتماعی طاقت یا ریاستی اختیار کے ساتھ جڑ جائے تو نتائج مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ “درست انسان” بنانے کی ہر مہم نے آخرکار سوال کرنے والوں کو مجرم اور اختلاف رکھنے والوں کو باغی قرار دیا۔ جان اسٹورٹ مل نے خبردار کیا تھا کہ فرد کی آزادی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی تہذیب قائم نہیں رہ سکتی، اور جو معاشرہ بھلائی کے نام پر شعور پر قبضہ کرے، وہ دراصل آمریت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سچ اگر واقعی سچ ہو تو اسے زبردستی نافذ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، جبر سے منوایا گیا نظریہ ذہن پر بوجھ بن جاتا ہے، یقین نہیں۔ انسان کو بدلنے کا واحد پائیدار طریقہ مثال، مکالمہ اور برداشت ہے، نہ کہ حکم، نگرانی اور خوف 
شاید اسی لیے لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا
“ہر شخص دنیا کو بدلنے کی فکر میں رہتا ہے، مگر کوئی خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔”
اصل راہِ راست دوسروں کو سیدھا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے اندر جھانکنے میں ہے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو اسے دوسروں کو زبردستی ہدایت دینے کی حاجت نہیں رہتی — کیونکہ اس وقت اس کا وجود خود ایک خاموش دلیل بن چکا ہوتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: