جمعہ، 20 فروری، 2026

مشرقِ وسطیٰ کی کہانی فوجی توازن سے نہیں،بلکہ ممکنات سے لکھی جا رہی ہے




چند دن پہلے سوشل میڈیا کی گرد میں ایک خبر اڑی اور پھر خود ہی بیٹھ گئی: کہا گیا کہ محمد بن سلمان علیل ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں ان کے بھائی خالد بن سلمان کو ولی عہد بنانے کی سرگوشیاں جاری ہیں۔ خبر کی تردید تو جلد ہو گئی، مگر اس واقعے نے ایک اہم حقیقت آشکار کر دی — مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اصل خبریں وہ نہیں ہوتیں جو سچ ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو ممکن نظر آئیں۔
خلیجی سیاست بظاہر استحکام کا تاثر دیتی ہے، لیکن اندرونی سطح پر اعتماد کی دراڑیں نمایاں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات سفارتی مسکراہٹوں کے باوجود مفادات کی سرد جنگ میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ اختلافات وقتی نہیں بلکہ اس بدلتی دنیا کا عکس ہیں جہاں علاقائی طاقتیں خود کو عالمی طاقتوں کے زیرِ سایہ رکھنے کے بجائے اپنی الگ حیثیت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہی تبدیلی عالمی اتحادوں میں بھی نظر آتی ہے۔ نیٹو کے اندر بھی پالیسی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور ترکی جیسے ممالک کئی معاملات میں امریکہ کی ترجیحات سے مختلف راستہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سیاست اب یک قطبی نظم سے نکل کر طاقت کے متعدد مراکز کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس وسیع شطرنج میں ایران ایک منفرد مہرہ ہے۔ اس کی مذہبی حکومت دہائیوں سے قائم ہے اور اس کے حامی اسے نظریاتی استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاریخی طور پر اس پر حملہ عراق نے کیا تھا، جس کے نتائج نے پورے خطے کو بدل دیا اور بالآخر صدام حسین کو انجام تک پہنچایا۔ اس مثال کو اکثر اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے والا ہمیشہ فاتح نہیں ہوتا۔
مذہب اور نظریہ جب سیاست میں شامل ہو جائیں تو طاقت کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ ایران کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہاں لاکھوں افراد اپنے عقیدے کو ذاتی مفاد سے مقدم رکھتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی قوت کو صرف عسکری برتری سے شکست دینا مشکل ہوتا ہے۔
ادھر خلیجی سفارت کاری بھی خاموشی سے نئی سمتیں تراش رہی ہے۔ سلمان بن عبدالعزیز کا دورۂ روس اور اس دوران ہونے والے معاہدے اس بات کی علامت تھے کہ عالمی صف بندیاں جامد نہیں رہیں۔ اسی دوران چین اپنی بحری اور معاشی موجودگی کے ساتھ خلیج فارس میں اثر بڑھا رہا ہے، جبکہ ماسکو کا خیال ہے کہ اسے یوکرین کے محاذ پر الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پیچیدہ منظرنامے میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: اگر واشنگٹن تہران کے خلاف براہِ راست کارروائی نہیں کرتا تو کیا اس کی عالمی برتری پر سوال اٹھیں گے؟ اور اگر کرتا ہے تو کیا وہ ایک ایسی جنگ میں داخل ہو جائے گا جس کا انجام اس کے اپنے اثر و رسوخ کو کمزور کر دے؟ طاقت کے کھیل میں بعض فیصلے جیت کر بھی ہار جاتے ہیں۔
اسی لیے مشرقِ وسطیٰ آج ایک حساس توازن پر کھڑا ہے۔ اگر ایران میں کسی بیرونی مداخلت سے نظام بدلتا ہے تو اس کے جھٹکے صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے اقتدار کے ڈھانچے کو ہلا سکتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کشیدگی کے ماحول میں سب سے زیادہ جارحانہ موقف رکھنے والے رہنما بنیامین نیتن یاہو ہیں، جو ایران کے خلاف سخت اقدامات کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی سیاست میں اصل جنگ محاذوں پر نہیں بلکہ امکانات میں لڑی جا رہی ہے۔ افواہیں، اتحاد، معاہدے اور بیانات — سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں خاموشی بھی خبر ہے اور سکوت بھی اعلان۔ مشرقِ وسطیٰ کی کہانی  اب  فوجی توازن سے  نہیں،بلکہ  ممکنات سے  لکھی جا رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: