جمعرات، 12 فروری، 2026

H اشرافیہ کا کردار



اشرافیہ کا کردار

کنفیوشس نےکہا تھا “ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” کیا آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

جو لوگ 1980 کی دہائی میں فکری شعور رکھتے تھے، انہیں ایک نام ضرور یاد ہوگا—زبگنیو برژنسکی۔ وہ محض ایک سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ عالمی سیاست کی گہری پرتوں کو سمجھنے والے مفکر تھے۔ 1977 سے 1981 تک صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برژنسکی نے 1970 میں ایک ایسی کتاب لکھی جو آج نصف صدی بعد پیش گوئی نہیں بلکہ تشریح بن چکی ہے

Between Two Ages: America’s Role in the Technetronic Era۔

اگر اس کتاب کا نچوڑ ایک سطر میں بیان کیا جائے تو مفہوم یہ تھا کہ مستقبل میں جمہور کے نام پر فیصلے جمہور نہیں کریں گے، بلکہ ایک محدود اور غیر مرئی گروہ کرے گا۔ یہ وہ طبقہ ہوگا جس کے ہاتھ میں پانچ بنیادی قوتیں مرکوز ہوں گی: میڈیا اور کمیونیکیشن، انسانی شعور پر اثراندازی، روایتی سیاست کا زوال، ڈیٹا اور نگرانی، اور قوم سے بالاتر طاقتوں کا ابھار۔

برژنسکی نے لکھا تھا کہ ٹی وی، سیٹلائٹ، اور پھر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز عوامی رائے کو تشکیل دیں گے۔ ریاستیں اور طاقتور ادارے انسانی سوچ، رویّوں اور ترجیحات کو اس حد تک متاثر کرنے کے قابل ہو جائیں گے کہ فرد خود کو آزاد سمجھتے ہوئے بھی ایک طے شدہ فریم میں سوچ رہا ہوگا۔ جماعتیں، نظریات اور پارلیمان کمزور پڑیں گی، جبکہ ٹیکنوکریٹس، ماہرین اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ ساز بن جائیں گی۔ ڈیٹا نگرانی کا ہتھیار بنے گا، پرائیویسی ایک تصور رہ جائے گی، اور طاقت قومی سرحدوں سے آزاد ہو کر ملٹی نیشنل اداروں اور عالمی نیٹ ورکس میں منتقل ہو جائے گی۔

آج، جب ایپسٹین فائلز سے متعلق خبریں اور انکشافات عالمی میڈیا میں گردش کر رہے ہیں، تو برژنسکی کی وہ باتیں محض نظریہ نہیں رہتیں بلکہ ایک عملی حقیقت کا عکس دکھائی دیتی ہیں۔ ان خبروں نے کم از کم یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ عالمی اشرافیہ کسی ایک ملک، نسل یا خطے کی نمائندہ نہیں۔ اس کی شناخت اس کی  ذہنیت ہے۔ یوں یہ طبقہ ایک قوم نہیں بلکہ ایک غیر مرئی کلب ہے—مشترکہ سوچ، مشترکہ مفاد اور مشترکہ خواہشات کا حامل۔

یہ لوگ دنیا پر اپنا تسلظ  فیصلوں، منصوبہ بندی اور بیانیے کے ذریعے قائم کرتے  ہیں۔ ان کے اقدامات عام آنکھ کو دکھائی نہیں دیتے، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان کا پہلا محاذ سائبر ڈومین ہے—جہاں الفاظ تراشے جاتے ہیں، معنی گھڑے جاتے ہیں اور بیانیہ ترتیب پاتا ہے۔ یہاں انسانی سوچ کو ہموار کیا جاتا ہے، جذبات کو سمت دی جاتی ہے، اور رائے عامہ آہستہ آہستہ ایک مخصوص دائرے میں بند ہو جاتی ہے۔ طاقت  خاموشی سے کام کرتی ہے، مگر اس کی گرفت وسیع اور دیرپا ہوتی ہے۔

ان کا دوسرا محاذ معیشت ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالی نظام کے ذریعے وسائل، محنت اور فیصلے ایک ایسے ڈھانچے میں ڈھلتے ہیں جہاں ہر لین دین ڈیٹا بن جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا نگرانی اور کنٹرول کا مؤثر ذریعہ ہے۔ بظاہر سہولت اور ترقی کی زبان بولی جاتی ہے، مگر حقیقت میں مالی آزادی بتدریج مشروط ہوتی جاتی ہے اور اختیار کہیں اور مرتکز ہو جاتا ہے۔

ایپسٹین فائلز سے جڑی بحث نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے: طاقت خود کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ قوانین اور اصول اکثر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ طاقتور طبقات کے لیے بیانیہ، وضاحتیں اور خاموشی کافی سمجھی جاتی ہے۔  یہ اشرافیہ  کنٹرول کے تصور کی وارث ہے—ایک ایسی غیر مرئی قوت جو انسانی سوچ، رویّوں اور وسائل پر اثرانداز ہوتی ہے۔

آج سیاستدان بولتے ضرور ہیں، مگر فیصلوں کے پیچھے اکثر کسی اور طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ذہن سائبر میں لکھے جاتے ہیں، وسائل ڈیجیٹل میں بندھتے ہیں، اور انسانی رویّے ایک خاص فریم میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے—خاموش، مگر نہایت طاقتور۔

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کبھی قبائل میں بٹی، پھر عقائد کی بنیاد پر منقسم رہی۔ آج لگتا ہے دنیا دو ذہنیتوں میں بٹ گئی ہے۔ ایک طرف خیر، بھلائی، ایثار اور انسان دوستی؛ اور دوسری طرف ہوس، لالچ، غیر انسانی رویّے اور اقتدار کی بے لگام خواہش۔

کنفیوشس نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کر دیا تھا: “اگر تم دنیا پر حکمرانی چاہتے ہو تو پہلے اپنے کردار پر حکمرانی کرو۔ اخلاق کے بغیر اقتدار محض ایک وقتی سایہ ہے۔” سوال یہ ہے کہ آج کی اشرافیہ اس سایے کو حقیقت سمجھ بیٹھی ہے، یا دنیا واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں اخلاق اقتدار کے مقابلے میں ایک کمزور آواز بن گیا ہے

کوئی تبصرے نہیں: