ہم اکثر افغانوں کی زبان سے ایک فخر آمیز جملہ سنتے ہیں: “ہم نے روس کو توڑا اور امریکہ کو شکست دی۔” بظاہر یہ الفاظ فتح کی گھن گرج محسوس ہوتے ہیں، مگر جب تاریخ اور سیاست کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا شور اکثر حقیقت کی خاموشی کو چھپا لیتا ہے۔ کسی طاقت کو گرانا بذاتِ خود کامیابی نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اپنی سرزمین، اپنے لوگوں اور اپنی نسلوں کے حصے میں کیا آیا۔
سیاسی حکمت کا اصول سادہ مگر گہرا ہے: دشمن کی کمزوری تبھی معنی رکھتی ہے جب اپنی قوم کی مضبوطی میں ڈھل جائے۔ اگر میدانِ جنگ میں فتح کے باوجود بازار ویران ہوں، گھروں کے چراغ بجھ جائیں اور بچوں کے خواب ٹوٹ جائیں، تو پھر فتح اور شکست کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، امریکہ اور افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے تصادم اکثر عوام کی روزمرہ زندگی کو سب سے پہلے قربان کرتے ہیں۔
آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی سبق زندہ ہے۔ ایران کا موجودہ رویہ اسی شعور کی جھلک دکھاتا ہے کہ اصل جنگ دشمن کے خلاف نہیں بلکہ حالات کے خلاف ہوتی ہے۔ ریاستیں جب سنجیدہ ہوتی ہیں تو ان کا ہدف نعروں کی گونج نہیں بلکہ معیشت کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، روزگار کی فراہمی اور معاشرتی استحکام ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کی سب سے بڑی علامت میزائل نہیں بلکہ وہ سکون ہے جس میں ایک مزدور شام کو گھر لوٹ کر اپنے بچوں کے چہروں پر اطمینان دیکھ سکے۔
فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قوت محض عسکری برتری کا نام نہیں؛ یہ بصیرت، تدبر اور سمت کا مجموعہ ہے۔ سمت کے بغیر طاقت طوفان بن جاتی ہے—اور طوفان اپنے اور پرائے میں فرق نہیں کرتا۔ جو قومیں صرف مخالف کو توڑنے کے خواب دیکھتی ہیں، تاریخ اکثر انہیں خود ٹوٹتے ہوئے دکھاتی ہے۔ اس کے برعکس جو قومیں اپنے لوگوں کو سنبھالنے، اپنے اداروں کو مضبوط کرنے اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے پر توجہ دیتی ہیں، وہی اصل فاتح ٹھہرتی ہیں۔
حقیقی حکمت یہی ہے کہ دشمن کے زوال کو مقصد نہ بنایا جائے بلکہ اپنی قوم کے عروج کو نصب العین رکھا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سیاست دانائی بنتی ہے اور فلسفہ عملی زندگی کا چراغ — ایک ایسی روشنی جو بتاتی ہے کہ سب سے بڑی فتح میدان میں نہیں بلکہ معاشرے کے دل میں حاصل ہوتی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں