زمین، زر اور زردار
کسی ملک کی معیشت کا اصل چہرہ اس کے بینک بیلنس، بلند عمارتوں یا ارب پتیوں کی تعداد نہیں؛ اس کے عام آدمی کی زندگی ہے۔ اگر قومی دولت بڑھ رہی ہو لیکن عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی جائے، نوجوان کے لیے روزگار اور متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر خواب بنتا جائے تو سوال صرف یہ نہیں کہ معیشت کتنی بڑھی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اس ترقی کا فائدہ کس کو پہنچا؟
ڈاکٹر محبوب الحق نے 1990ء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی پہلی انسانی ترقی رپورٹ کے آغاز میں لکھا تھا
“کسی قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔”
یہ محض ایک خوب صورت جملہ نہیں بلکہ ترقی کے روایتی تصور میں ایک بنیادی تبدیلی تھی۔ محبوب الحق کے نزدیک قومی آمدن اور پیداوار اہم ضرور ہیں، مگر معیشت کا حتمی مقصد انسان کی زندگی بہتر بنانا ہے؛ اسے تعلیم، صحت، روزگار، مواقع اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔
اسی لیے صرف شرحِ نمو کو ترقی کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر قومی آمدن بڑھے مگر عام آدمی کی قوتِ خرید گھٹ جائے، روزگار غیر یقینی ہو، تعلیم اور علاج مہنگے ہوجائیں اور اپنا گھر خریدنا اس کی استطاعت سے باہر نکل جائے تو معاشی اعداد و شمار خوش حالی کی مکمل تصویر نہیں دیتے۔
زمین اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ جائیداد کی قیمت بڑھتی ہے تو مالک کی دولت بڑھ جاتی ہے، مگر اسی شہر میں ایک نوجوان کے لیے گھر خریدنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ اس وقت حقیقی قومی دولت بنتا ہے جب وہ صنعت، ٹیکنالوجی، پیداوار اور روزگار پیدا کرے۔ غیر پیداواری اثاثوں میں گردش کرتا سرمایہ دولت کی قیمت تو بڑھا سکتا ہے، معیشت کی پیداواری قوت نہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص دولت مند کیوں ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دولت کیسے پیدا ہورہی ہے اور اس کے مواقع کتنے لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ صحت مند معیشت وہ ہے جس میں سرمایہ پیداوار کو بڑھائے، کاروبار روزگار پیدا کرے، مسابقت قائم رہے اور عام شہری کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کھلے ہوں۔
پاکستان میں معاشی کامیابی کا پیمانہ بھی اسی بنیاد پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ شرحِ نمو کتنی ہے یا قومی آمدن میں کتنا اضافہ ہوا؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عام آدمی کی قوتِ خرید کتنی باقی رہی، کتنے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا اور کتنے خاندان اپنے گھر کا خواب پورا کرسکے۔
کیونکہ آخرکار معیشت کا حساب قومی خزانے میں نہیں، انسان کی زندگی میں ہوتا ہے۔
اور اس زندگی کا سب سے پہلا امتحان گھر اور باورچی خانے میں ہوتا ہے۔ جب گھر بنانا دور کا خواب بن جائے اور باورچی خانہ چلانا روزمرہ جدوجہد کا محور، تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے دعوے عام آدمی کے لیے بے معنی ہوجاتے ہیں۔
زمین ہماری دولت ہے، زر ہماری ضرورت ہے اور زردار معیشت کا حصہ ہیں؛ مگر قوم کی اصل دولت اس کے لوگ ہیں۔
مگر پاکستانی انسان کی زندگی کیسے کٹ رہی ہے۔
بقول غالب
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں