منگل، 15 ستمبر، 2026

جب درندے انسان سے کلام کریں گے




جب درندے انسان سے کلام کریں گے
ہم صدیوں سے پرندوں کو چہچہاتے، بھیڑیوں کو غراتے، وہیل کو سمندر میں پکار لگاتے اور ہاتھیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مخصوص آوازوں میں رابطہ کرتے دیکھتے آئے ہیں۔ ہم نے ان آوازوں کو سنا ضرور، مگر ان کا مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ جس زبان کو ہم سمجھ نہیں سکے، اسے ہم نے زبان ہی نہیں سمجھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جانوروں کے کلام کا تصور جدید سائنس کی ایجاد نہیں۔ قدیم مذہبی روایات میں انسان اور جانور کے درمیان گفتگو کے واقعات ملتے ہیں۔
کتابِ پیدائش میں سانپ کا حوا سے گفتگو کرنا بیان ہوا ہے۔ کتابِ گنتی میں بلعام کے گدھے کا واقعہ آتا ہے، جس کا منہ خدا نے کھولا اور وہ اپنے سوار سے کلام کرنے لگا۔
قرآن اس تصور کو حضرت سلیمانؑ کے واقعے میں ایک اور جہت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"وَعُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ"
یعنی حضرت سلیمانؑ کو پرندوں کی بولی سمجھنے کا علم عطا کیا گیا۔
پھر ایک چیونٹی کا ذکر ہے جو دوسری چیونٹیوں کو سلیمانؑ کے لشکر سے بچنے کے لیے خبردار کرتی ہے۔ سلیمانؑ اس کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ پھر ہدہد آتا ہے اور ایک ایسی قوم کے بارے میں خبر دیتا ہے جس سے سلیمانؑ پہلے واقف نہیں تھے۔
یہاں کہانی صرف اتنی نہیں کہ ایک جانور بول رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جانور کے اظہار کو سمجھ رہا ہے۔
اور پھر رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث اس موضوع کو ایک بالکل مختلف سطح پر لے جاتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کریں..."
حدیث کے الفاظ ہیں:
"حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ"
یعنی:
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
یہاں ایک سوال لازماً پیدا ہوتا ہے: کیا اس کا تعلق اس سائنسی سفر سے جوڑا جاسکتا ہے جس پر انسان آج چل نکلا ہے؟


نہ حضرت سلیمانؑ کے واقعے کو جدید سائنس کا تجربہ کہا جاسکتا ہے، نہ بلعام کے گدھے کے واقعے کو سائنسی دلیل، اور نہ حدیثِ نبوی ﷺ کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں براہِ راست پیش گوئی قرار دینا درست ہوگا۔ مذہبی روایت اور سائنسی تحقیق کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔
لیکن سوال بہرحال دلچسپ ہے۔
کیونکہ سائنس اب واقعی جانوروں کی آوازوں کے اندر چھپے ہوئے معنی تلاش کرنے لگی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں سائنس دان وہیل، ڈولفن، ہاتھیوں، پرندوں اور دوسری مخلوقات کی آوازیں بڑی تعداد میں محفوظ کر رہے ہیں۔ پھر مصنوعی ذہانت ان آوازوں کا موازنہ کرکے یہ دیکھتی ہے کہ کون سی آواز کس موقع پر پیدا ہوتی ہے، کون سی آواز کس رویے کے ساتھ وابستہ ہے اور کیا مختلف آوازوں کے درمیان کوئی باقاعدہ ترتیب موجود ہے۔

فرض کیجیے ایک پرندہ ایک خاص آواز اس وقت نکالتا ہے جب شکاری قریب ہو۔ دوسری آواز اس وقت نکالتا ہے جب وہ اپنے بچے کو بلاتا ہے۔ تیسری آواز خوراک کی موجودگی میں سنائی دیتی ہے۔

ان آوازوں کو بار بار سننے والا انسان شاید صرف فرق محسوس کرے۔ لیکن مصنوعی ذہانت ہزاروں آوازوں کا ایک ساتھ موازنہ کرکے ان کے درمیان ایسے تعلقات تلاش کرسکتی ہے جو انسانی مشاہدے سے چھپے رہ جائیں۔

یہیں سے ایک نئے عہد کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اگر مشین یہ بتادے کہ فلاں آواز خطرے سے متعلق ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر ہم فوراً یہ دعویٰ کردیں کہ جانور نے کہا، "میرے ساتھ چلو، یہاں خطرہ ہے"، تو ہم سائنس سے آگے نکل جائیں گے۔
کیونکہ آواز کا مفہوم جاننا اور مکمل زبان سمجھ لینا دو مختلف چیزیں ہیں۔

ممکن ہے جانوروں کی زبان انسانی زبانوں سے بالکل مختلف ہو۔ ممکن ہے ان کے ہاں الفاظ کے بجائے آواز، حرکت، بو، جسمانی اشارے اور ماحول مل کر معنی پیدا کرتے ہوں۔ ممکن ہے ان کا پیغام کسی ایک لفظ میں نہیں بلکہ پورے رویے میں پوشیدہ ہو۔
اس لیے مستقبل کا جانور مترجم شاید ہماری طرح جملے نہ بنائے۔ ممکن ہے وہ صرف یہ بتائے
خطرہ۔
خوراک۔
بچہ قریب ہے۔
اجنبی موجود ہے۔
ساتھی کو بلایا جا رہا ہے۔
لیکن اگر کبھی مشین اس مقام تک پہنچ گئی جہاں وہ جانور کے اشارے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسی نظام میں جواب بھی دے سکے، تو معاملہ بہت آگے بڑھ جائے گا۔
پھر انسان صرف جانوروں کا مشاہدہ نہیں کرے گا، ان سے گفتگو بھی شروع کرسکے گا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہوگا جہاں انسان کو اپنے بارے میں ایک پرانا تصور بدلنا پڑے گا۔
ہم نے ہمیشہ خود کو کائنات کا سب سے زیادہ صاحبِ زبان جاندار سمجھا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو تہذیب کی بنیاد بنایا اور دوسروں کی آوازوں کو اکثر محض شور سمجھا۔ لیکن اگر ایک دن ہمیں معلوم ہوگیا کہ جنگل، سمندر اور آسمان بھی اپنے اپنے انداز میں مسلسل پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے تو مسئلہ جانوروں کی خاموشی کا نہیں، ہماری سماعت کا تھا۔
قرآن کہتا ہے:
"وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ"
"لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"
اس آیت کو مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔ لیکن اس میں انسان کے لیے ایک گہرا فکری سوال ضرور موجود ہے: کیا ہماری لاعلمی اس بات کی دلیل ہے کہ دوسری مخلوقات بے زبان ہیں، یا صرف یہ کہ ہم ان کی زبان نہیں جانتے؟
اور پھر حدیث کے وہ الفاظ
"حتی تکلم السباع الإنس"
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
ہم نہیں جانتے کہ اس پیش گوئی کا ظہور کس صورت میں ہوگا۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ آنے والی مشینیں جانوروں کی آوازوں کو واقعی کسی زبان کی طرح سمجھ پائیں گی یا نہیں۔
لیکن ایک بات ضرور بدل چکی ہے۔
انسان اب پہلی مرتبہ اس مفروضے کو سنجیدگی سے آزما رہا ہے کہ جانوروں کی آوازوں کے اندر معنی ہوسکتے ہیں۔

شاید مستقبل میں کسی دن انسان جنگل میں کھڑا ہو، ایک مشین کسی درندے کی آواز سنے اور پہلی مرتبہ اسے یہ معلوم ہوجائے کہ سامنے موجود مخلوق کیا کہنا چاہتی ہے۔
اس دن شاید سب سے بڑا انکشاف یہ نہ ہو کہ درندے بول سکتے ہیں۔
بلکہ یہ ہو کہ وہ ہمیشہ سے بول رہے تھے۔
ہم ہی ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں: