‏dilpazir لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏dilpazir لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

چار ستونوں پر کھڑی انسانیت





چار ستونوں پر کھڑی انسانیت

انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟

معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔

خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔

نسل و خاندان: جڑیں جو سایہ دیں

خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔

فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔

قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔

خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔

دولت: ہاتھ کی قوت، دل کا امتحان

دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔

فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔

دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔

سیاست: اختیار جو انصاف کا پابند ہو

سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔

عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔

سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مذہب: عقیدہ جو کردار میں اترے

مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔

اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔

مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔

ستونوں کی قوت، انسانیت کی چھت

نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔

آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔

انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔


ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026

سوچ کا بیج

سوچ کا بیج



”ہر برائی کا آغاز ہاتھوں سے نہیں، سوچ سے ہوتا ہے۔“ یہ ایک آفاقی اور نفسیاتی سچائی ہے ۔ انسان اچانک مجرم یا ظالم نہیں بن جاتا۔ برائی کا سفر ہمیشہ انسان کے ذہن کے کسی تاریک گوشے سے شروع ہوتا ہے۔ کسی کا حق چھیننے سے پہلے ذہن میں 'ذاتی فائدے' کا بیج انگڑائی لیتا ہے، کسی کے خلاف تشدد سے پہلے 'نفرت کا تصور' جنم لیتا ہے اور کسی کو نیچا دکھانے سے پہلے 'انتقام کی ہوس' پروان چڑھتی ہے۔ مادی عمل تو محض اس زہریلے بیج کا پھل ہے جسے انسان ایک مدت تک اپنے ذہن میں پالتا رہا ہو۔
جدید نفسیات اور نیوروسائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جب انسان اپنے ذاتی مفاد، تعصب یا ہوس کو اخلاقی اصولوں پر مقدم رکھتا ہے، تو دماغ کا جذباتی حصہ عقل پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنے غلط رویوں کو بھی درست ثابت کرنے کے لیے خود ساختہ جواز تراشنے لگتا ہے۔
انگریز مفکر جیمز ایلن نے اپنی کتاب "As a Man Thinketh" میں انسانی ذہن کو ایک باغ سے تشبیہ دی تھی۔ وہ لکھتا ہے کہ اگر آپ ایک باغ میں جان بوجھ کر اچھے پھولوں کے بیج نہیں بوئیں گے، تو وہاں خود رو زہریلی جڑی بوٹیاں خود بخود اگ آئیں گی۔
محسنِ انسانیت رسول اللہ ﷺ نے اسی باطنی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا: ”آگاہ ہو جاؤ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے؛ سنو، وہ دل (اور اس کی نیت) ہے“
سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی سوچ کو کنٹرول کر سکتا ہے؟ سائنسی جواب یہ ہے کہ ذہن میں پہلا منفی خیال آنا شاید آپ کے
بس میں نہ ہو، لیکن اس خیال کو شعوری انتخاب اور عمل میں بدلنے سے روکنا مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہے۔
منفی خیالات کو قابو میں رکھنے کا
سب سے کارگر، سستا اور سائنسی طور پر ثابت شدہ نسخے کا نام ہے" شکر گذاری"
شکر گزاری کوئی معمولی اخلاقی لفظ نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغ کی وائرنگ کو بدل دینے والا ایک الٰہی جادو ہے۔ جب انسان اپنی زندگی میں موجود نعمتوں، رشتوں اور موقعوں پر دل سے شکر گزار ہوتا ہے، تو دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونین جیسے کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے جو حسد، لالچ اور ناامیدی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ نفسیات کا اصول ہے کہ انسانی دماغ ایک ہی وقت میں شکر گزاری اور حسد دونوں محسوس نہیں کر سکتا۔ جو دل شکر سے بھرا ہو، وہاں کسی کے خلاف برائی کا بیج جگہ پا ہی نہیں سکتا۔
تمام ابراہیمی مذاہب اور مفکرین نے شکر گزاری کو سوچ کنٹرول کرنے کا محور بتایا ہے۔ یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون نے لکھا تھا کہ "انسان کی زیادہ تر برائیاں مادی چیزوں کے حصول کی اس تڑپ کا نتیجہ ہیں جن کی اسے ضرورت ہی نہیں ہوتی"—شکر گزاری اسی اندھی تڑپ کا علاج ہے۔ مسیحی مفکر سینٹ آگسٹین کے مطابق "جب انسان خالق کی نعمتوں کو چھوڑ کر مادی اشیاء پر قبضہ جمانے کی ہوس کرتا ہے تو برائی جنم لیتی ہے"۔ جبکہ قرآنِ کریم نے اس کا آفاقی حل پیش کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا:
"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا"
یہ 'زیادہ دینا' صرف مال و دولت کا نہیں، بلکہ مثبت سوچ، ذہنی سکون اور اخلاقی بلندی کا بھی ہے۔ صوفی دانشور واصف علی واصفؒ نے اسی نقطے کو یوں سمجھایا کہ جب انسان 'مزید' کی ہوس کے بجائے موجود پر شاکر ہو جاتا ہے، تو برائی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتا ہے۔
معاشرے کی تعمیرِ نو کا آغاز فرد کے ذہن سے ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک پرامن معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے کامیابی کا معیار بدلنا ہوگا۔ جہاں رشوت کو چالاکی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کو مہارت سمجھا جائے، وہاں زوال مقدر بن جاتا ہے۔ برائی کا بیج سوچ میں ضرور پنپتا ہے، لیکن اسے اکھاڑ پھینکنا انسان کا اپنا انتخاب ہے۔
شکووں، محرومیوں اور محرومیوں کا تزکرہ زندگی کے راستے میں کانٹے بکھیرتے ہیں، جبکہ شکر گزاری سے ذہن کی زمیں پر سکون کے پھول کھلتے ہیں۔

بدھ، 16 ستمبر، 2026

شب افروز موتی



شب افروز

قیمتی پتھروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بعض پتھر دن کی روشنی جذب کرکے رات کے اندھیرے میں بھی چمکتے ہیں۔ شب افروز  موتی کے بارے میں بھی ایسی ہی روایت مشہور ہے۔ میں اس علم کا ماہر نہیں، مگر اس تصور میں انسان کے اخلاق کے لیے ایک خوب صورت استعارہ ضرور دیکھتا ہوں۔ جس طرح کسی پتھر کی اصل چمک تاریکی میں نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح انسان کے کردار کی اصل روشنی بھی اس وقت دکھائی دیتی ہے جب دنیا کی نگاہیں اس سے ہٹ جائیں اور وہ اپنی نجی ازدواجی زندگی میں اپنے شریکِ حیات کے ساتھ ہو۔

عوامی زندگی میں خوش اخلاق ہونا اچھی بات ہے، مگر انسان کے کردار کی گہرائی کا اندازہ اس کے اس رویے سے ہوتا ہے جو وہ اپنے سب سے قریبی رشتے کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔ شریکِ حیات وہ شخص ہے جو انسان کی کامیابی ہی نہیں، اس کی کمزوری، تھکن، خاموشی، غصہ اور پریشانی بھی قریب سے دیکھتا ہے۔ اس لیے ازدواجی زندگی میں باہمی احترام، نرم گفتگو، اعتماد، وفاداری اور ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھنا محض گھریلو آداب نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق کی علامت ہیں۔

اختلاف ہر رشتے میں ہوسکتا ہے، مگر اصل امتحان اختلاف کے انداز میں ہے۔ کیا ہم ناراضی میں بھی دوسرے کی عزت برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی بات منوانے کے بجائے دوسرے کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم غصے کے لمحے میں بھی ایسے الفاظ سے بچتے ہیں جو دل پر دیر تک رہ جائیں؟ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ازدواجی تعلق کو مضبوط یا کمزور بناتی ہیں۔

انسان دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شائستگی سے پیش آسکتا ہے، مگر اگر وہ اپنے شریکِ حیات کے لیے احترام اور اطمینان کا باعث نہیں تو اس کی اخلاقی شخصیت ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو دکھاوے کا محتاج نہ ہو؛ جو تنہائی میں بھی وہی رہے جو محفل میں دکھائی دیتا ہے۔

اسی لیے شب افروز موتی میرے نزدیک ایک ایسے انسان کا استعارہ ہے جس کی اخلاقی روشنی اس کی نجی ازدواجی زندگی میں بھی قائم رہتی ہے۔ وہ اپنے شریکِ حیات کو محض ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھتا ہے جس کے احساسات، عزت اور سکون بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے اس کے اپنے۔

شاید انسان کے کردار کی سب سے خوب صورت پہچان یہی ہے کہ اس کے قریب رہنے والا شخص اس کے ساتھ رہ کر خود کو محفوظ، محترم اور عزیز محسوس کرے۔

تب انسان صرف روشنی میں چمکنے والا شخص نہیں رہتا؛ وہ واقعی شب افروز موتی بن جاتا ہے—ایسا انسان جس کی اصل روشنی دنیا کے سامنے نہیں، بلکہ اپنے سب سے قریبی رشتے کی خاموش دنیا میں دکھائی دیتی ہے۔

جب درندے انسان سے کلام کریں گے




جب درندے انسان سے کلام کریں گے
ہم صدیوں سے پرندوں کو چہچہاتے، بھیڑیوں کو غراتے، وہیل کو سمندر میں پکار لگاتے اور ہاتھیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مخصوص آوازوں میں رابطہ کرتے دیکھتے آئے ہیں۔ ہم نے ان آوازوں کو سنا ضرور، مگر ان کا مفہوم نہیں سمجھ سکے۔ شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ جس زبان کو ہم سمجھ نہیں سکے، اسے ہم نے زبان ہی نہیں سمجھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جانوروں کے کلام کا تصور جدید سائنس کی ایجاد نہیں۔ قدیم مذہبی روایات میں انسان اور جانور کے درمیان گفتگو کے واقعات ملتے ہیں۔
کتابِ پیدائش میں سانپ کا حوا سے گفتگو کرنا بیان ہوا ہے۔ کتابِ گنتی میں بلعام کے گدھے کا واقعہ آتا ہے، جس کا منہ خدا نے کھولا اور وہ اپنے سوار سے کلام کرنے لگا۔
قرآن اس تصور کو حضرت سلیمانؑ کے واقعے میں ایک اور جہت عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"وَعُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ"
یعنی حضرت سلیمانؑ کو پرندوں کی بولی سمجھنے کا علم عطا کیا گیا۔
پھر ایک چیونٹی کا ذکر ہے جو دوسری چیونٹیوں کو سلیمانؑ کے لشکر سے بچنے کے لیے خبردار کرتی ہے۔ سلیمانؑ اس کی بات سمجھ لیتے ہیں۔ پھر ہدہد آتا ہے اور ایک ایسی قوم کے بارے میں خبر دیتا ہے جس سے سلیمانؑ پہلے واقف نہیں تھے۔
یہاں کہانی صرف اتنی نہیں کہ ایک جانور بول رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جانور کے اظہار کو سمجھ رہا ہے۔
اور پھر رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث اس موضوع کو ایک بالکل مختلف سطح پر لے جاتی ہے۔
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کریں..."
حدیث کے الفاظ ہیں:
"حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ"
یعنی:
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
یہاں ایک سوال لازماً پیدا ہوتا ہے: کیا اس کا تعلق اس سائنسی سفر سے جوڑا جاسکتا ہے جس پر انسان آج چل نکلا ہے؟


نہ حضرت سلیمانؑ کے واقعے کو جدید سائنس کا تجربہ کہا جاسکتا ہے، نہ بلعام کے گدھے کے واقعے کو سائنسی دلیل، اور نہ حدیثِ نبوی ﷺ کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں براہِ راست پیش گوئی قرار دینا درست ہوگا۔ مذہبی روایت اور سائنسی تحقیق کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔
لیکن سوال بہرحال دلچسپ ہے۔
کیونکہ سائنس اب واقعی جانوروں کی آوازوں کے اندر چھپے ہوئے معنی تلاش کرنے لگی ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں سائنس دان وہیل، ڈولفن، ہاتھیوں، پرندوں اور دوسری مخلوقات کی آوازیں بڑی تعداد میں محفوظ کر رہے ہیں۔ پھر مصنوعی ذہانت ان آوازوں کا موازنہ کرکے یہ دیکھتی ہے کہ کون سی آواز کس موقع پر پیدا ہوتی ہے، کون سی آواز کس رویے کے ساتھ وابستہ ہے اور کیا مختلف آوازوں کے درمیان کوئی باقاعدہ ترتیب موجود ہے۔

فرض کیجیے ایک پرندہ ایک خاص آواز اس وقت نکالتا ہے جب شکاری قریب ہو۔ دوسری آواز اس وقت نکالتا ہے جب وہ اپنے بچے کو بلاتا ہے۔ تیسری آواز خوراک کی موجودگی میں سنائی دیتی ہے۔

ان آوازوں کو بار بار سننے والا انسان شاید صرف فرق محسوس کرے۔ لیکن مصنوعی ذہانت ہزاروں آوازوں کا ایک ساتھ موازنہ کرکے ان کے درمیان ایسے تعلقات تلاش کرسکتی ہے جو انسانی مشاہدے سے چھپے رہ جائیں۔

یہیں سے ایک نئے عہد کا آغاز ہوسکتا ہے۔
اگر مشین یہ بتادے کہ فلاں آواز خطرے سے متعلق ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن اگر ہم فوراً یہ دعویٰ کردیں کہ جانور نے کہا، "میرے ساتھ چلو، یہاں خطرہ ہے"، تو ہم سائنس سے آگے نکل جائیں گے۔
کیونکہ آواز کا مفہوم جاننا اور مکمل زبان سمجھ لینا دو مختلف چیزیں ہیں۔

ممکن ہے جانوروں کی زبان انسانی زبانوں سے بالکل مختلف ہو۔ ممکن ہے ان کے ہاں الفاظ کے بجائے آواز، حرکت، بو، جسمانی اشارے اور ماحول مل کر معنی پیدا کرتے ہوں۔ ممکن ہے ان کا پیغام کسی ایک لفظ میں نہیں بلکہ پورے رویے میں پوشیدہ ہو۔
اس لیے مستقبل کا جانور مترجم شاید ہماری طرح جملے نہ بنائے۔ ممکن ہے وہ صرف یہ بتائے
خطرہ۔
خوراک۔
بچہ قریب ہے۔
اجنبی موجود ہے۔
ساتھی کو بلایا جا رہا ہے۔
لیکن اگر کبھی مشین اس مقام تک پہنچ گئی جہاں وہ جانور کے اشارے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسی نظام میں جواب بھی دے سکے، تو معاملہ بہت آگے بڑھ جائے گا۔
پھر انسان صرف جانوروں کا مشاہدہ نہیں کرے گا، ان سے گفتگو بھی شروع کرسکے گا۔
اور شاید یہی وہ مقام ہوگا جہاں انسان کو اپنے بارے میں ایک پرانا تصور بدلنا پڑے گا۔
ہم نے ہمیشہ خود کو کائنات کا سب سے زیادہ صاحبِ زبان جاندار سمجھا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو تہذیب کی بنیاد بنایا اور دوسروں کی آوازوں کو اکثر محض شور سمجھا۔ لیکن اگر ایک دن ہمیں معلوم ہوگیا کہ جنگل، سمندر اور آسمان بھی اپنے اپنے انداز میں مسلسل پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے تو مسئلہ جانوروں کی خاموشی کا نہیں، ہماری سماعت کا تھا۔
قرآن کہتا ہے:
"وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ"
"لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔"
اس آیت کو مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی کہنا درست نہیں۔ لیکن اس میں انسان کے لیے ایک گہرا فکری سوال ضرور موجود ہے: کیا ہماری لاعلمی اس بات کی دلیل ہے کہ دوسری مخلوقات بے زبان ہیں، یا صرف یہ کہ ہم ان کی زبان نہیں جانتے؟
اور پھر حدیث کے وہ الفاظ
"حتی تکلم السباع الإنس"
"یہاں تک کہ درندے انسانوں سے کلام کریں گے۔"
ہم نہیں جانتے کہ اس پیش گوئی کا ظہور کس صورت میں ہوگا۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ آنے والی مشینیں جانوروں کی آوازوں کو واقعی کسی زبان کی طرح سمجھ پائیں گی یا نہیں۔
لیکن ایک بات ضرور بدل چکی ہے۔
انسان اب پہلی مرتبہ اس مفروضے کو سنجیدگی سے آزما رہا ہے کہ جانوروں کی آوازوں کے اندر معنی ہوسکتے ہیں۔

شاید مستقبل میں کسی دن انسان جنگل میں کھڑا ہو، ایک مشین کسی درندے کی آواز سنے اور پہلی مرتبہ اسے یہ معلوم ہوجائے کہ سامنے موجود مخلوق کیا کہنا چاہتی ہے۔
اس دن شاید سب سے بڑا انکشاف یہ نہ ہو کہ درندے بول سکتے ہیں۔
بلکہ یہ ہو کہ وہ ہمیشہ سے بول رہے تھے۔
ہم ہی ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔

پیر، 17 اگست، 2026

پاکستان اور پاکستانی



پاکستان اور پاکستانی

 استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔

ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔

فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔

استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔

یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟

یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔

قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔

استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔

فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔

قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔

استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔

پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔

آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔

اتوار، 3 اگست، 2025

بڑھاپا — وقت نہیں، محبت مانگتا ہے





 بڑھاپا — وقت نہیں، محبت مانگتا ہے

بڑھاپا زندگی کی سب سے سچی حقیقت ہے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں جسم کی توانائی، آنکھوں کی چمک، آواز کی روانی اور ذہن کی چستی پیچھے رہ جاتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ انسان کا دل، بڑھاپے میں بھی، ویسا ہی حساس اور محبت کا طلبگار رہتا ہے جیسا بچپن میں ہوتا ہے۔
اس عمر میں سب سے بڑی ضرورت ہوتی ہے — وقت۔
نہ پیسہ، نہ دوائی، نہ آرام دہ بستر — فقط تھوڑا سا وقت، محبت بھرا لمس، اور چند لمحوں کی دلجوئی۔
مگر المیہ یہ ہے کہ آج کی اولاد والدین کی اس محبت کی بھیک دینے پر بھی تیار نہیں۔ وہ ماں جس نے راتیں جاگ کر بچے پالے، وہ باپ جس نے اپنی خواہشیں مار کر بچوں کو سہولت دی — وہی ماں باپ آج ضعیفی کی دہلیز پر تنہا کر دیے جاتے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ باپ، ماں کے برعکس، سوال کا عادی نہیں ہوتا۔ وہ خاموشی سے اپنی ضروریات کو دباتا ہے، دکھ کو چھپاتا ہے، اور اولاد کی مصروفیت کا عذر خود بنا لیتا ہے۔ لیکن یہ اولاد کا فرض ہے کہ وہ اپنے والد کی ذاتی ضروریات پر نظر رکھے، ان میں کسی کمی کو محسوس کرے اور اس کی تلافی کرے۔
بڑھاپے میں والدین کی خدمت صرف خدمت نہیں، ان کی روح کی غذا ہے۔
ان کا ہاتھ تھامنا، ان کے چہرے کو چھونا، ان سے محبت سے بات کرنا — یہ سب انہیں توانائی دیتا ہے۔ یہ سادہ سے عمل انہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ اب بھی اپنے بچوں کی دنیا کا حصہ ہیں۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں بڑھاپے میں نظر انداز کیے گئے والدین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں میں اکثر ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جہاں والدین کو صرف اس لیے گھر سے نکال دیا جاتا ہے کہ وہ "خرچ" یا "پرائیویسی" کے لیے "غیر موزوں" ہو گئے۔
ایک 78 سالہ شخص لاہور کی سڑک پر روتا ہوا ملا جسے بیٹے نے نکال دیا۔ کراچی کی ایک ماں، الزائمر کی مریضہ، ایدھی ہوم میں پڑی رہتی ہے اور دن رات بیٹوں کو یاد کرتی ہے۔ راولپنڈی کا ایک استاد، جو سینکڑوں بچوں کا استاد رہا، بڑھاپے میں فٹ پاتھ پر آ بیٹھا۔
ان مناظر کو صرف پڑھ لینا کافی نہیں، انہیں محسوس کرنا ضروری ہے۔
اسلام نے والدین کی خدمت کو جنت کا راستہ قرار دیا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
"اگر والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو۔"
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص برباد ہو جائے جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور پھر بھی جنت حاصل نہ کی۔"
اسلام صرف عبادات کا دین نہیں، یہ تعلقات کا بھی دین ہے۔ اور سب سے پہلا تعلق — والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔
روزانہ اگر صرف پانچ منٹ بھی والدین کے ساتھ گزار لیے جائیں، ان کی آنکھوں میں دیکھا جائے، ان کی بات سنی جائے — تو وہ دن کا سب سے قیمتی لمحہ بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے:
کیا ہماری مصروفیات، ہمارے والدین سے زیادہ قیمتی ہیں؟
کیا آج جو وقت بچا رہے ہیں، وہی کل ہمارے بچے ہمیں واپس دیں گے؟
یاد رکھیں، بڑھاپا وقت نہیں مانگتا — محبت مانگتا ہے، موجودگی مانگتا ہے، توجہ مانگتا ہے۔
اگر ہم نے آج اپنے والدین کو وقت نہ دیا، تو کل ہم وقت کے سب سے بڑے قیدی ہوں گے — اور شاید ہمارے بچے بھی ہماری ہی مثال کو دہرا رہے ہوں گے۔


ہفتہ، 28 جون، 2025

تقابل

 






تقابل

تاریخ گواہ ہے کہ بعض شخصیات اپنی تنقید، تلخی اور تیزطراری کی بدولت منظرِ عام پر آتی ہیں۔  ان کا ہنر یہی ہے کہ وہ لفظوں کو نیزے کی طرح برتتے ہیں، جملوں کو تیر کی مانند چھوڑتے ہیں، اور طنز کو ایسی تلوار میں ڈھال دیتے ہیں جس کا زخم مدتوں تازہ رہتا ہے۔

ایسی ہی دو شخصیات کا تقابل سامنے آتا ہے—ایک وہ جو سیاست کے نام پر جیل میں بند ہے، دوسرا جو مزہب کی چمکتی تلوار سونت کر روایات کے خلاف نعرہ زن ہے ۔ دونوں ہی تنقید کر کے مشہور ہوئے۔ ایک نے کسی کو نہ بخشا، اور دوسرے نے کسی کو نہ چھوڑا۔

وہ خود پسند تھا، یہ بھی اپنی ذات کا اسیر ہے۔ وہ زبان کا دھنی تھا، فنِ تقریر کا ماہر، الفاظ کا جادوگر۔ یہ بھی خطابت میں کسی سے پیچھے نہیں، مگر دونوں کی زبان میں شیرینی کی جگہ کڑواہٹ ہے۔ نہ وہ مروّت کا قائل تھا، نہ یہ لحاظ برتنے کا عادی ہے۔

وہ پگڑیاں اچھالتا تھا، یہ روایات کو روندتا  ہے۔ اس کی زبان تیز تھی، اس کی بھی تلخ ہے۔ وہ باہر نکلتا تو اپنے جانثاروں کی معیت میں، نعرے بلند کرتا، ہجوم کو گرما دیتا۔ یہ البتہ مصلحت کی چادر اوڑھے، ایک فاصلے سے بولتا ہے، مگر وار اس کا بھی کم نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وہ سیاست دان ہوتے ہوئے مذہب کی چاشنی شامل کرتا تھا، وہیں یہ مذہب کی نمائندگی کرتے ہوئے سیاست کا تڑکا لگانا ضروری سمجھتا ہے۔ ایک نے مذہب کو سیاست میں برتا، دوسرے نے سیاست کو مذہب میں گوندھا۔ فرق صرف زاویے کا ہے، 

دونوں ہی خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں۔ وہ دانا کہلاتا تھا، یہ دانا بن بیٹھا ہے۔ مگر ایک فرق نمایاں ہے: وہ بات کر کے بھول جاتا، یہ بات کر کے یاد رکھتا ہے۔ وہ دل کا صاف تھا، چوٹ لگاتا اور آگے بڑھ جاتا؛ یہ دل میں گرہ باندھتا ہے، اور موقع پا کر گرہ کھول کر دکھاتا ہے۔

وہ نئی نسل کا  سوشل میڈیا پر ہیرو تھا، یہ بھی نوجوانوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ وہ  اونٹ کی طرح کینہ  پرور تھا،یہ لومڑی کی طرح مکار 


منگل، 24 جون، 2025

ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی



ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی

ڈونلڈ ٹرمپ جب دوسری بار امریکی صدارتی دوڑ میں کامیاب ہوا تو اس نے امریکی عوام کو امید دلا کر ووٹ لیے کہ اب امریکہ دنیا میں امن کا علمبردار بنے گا، امریکی فوج کو لاحاصل جنگوں سے نکالا جائے گا، اور معاشی خوشحالی کا راستہ کھلے گا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کی طاقت کو صرف امریکہ کی سرحدوں تک محدود رکھے گا اور غیر ملکی مداخلتوں کا سلسلہ ختم ہوگا۔

لیکن اقتدار سنبھالتے ہی جو منظر دنیا نے دیکھا، اس نے ثابت کر دیا کہ ٹرمپ نہ امن کا پیامبر ہے اور نہ کوئی اصولی سیاستدان بلکہ وہ بھی صیہونی اسلحہ سازوں اور اسرائیلی مفادات کے ہاتھوں میں کھیلنے والا ایک اور مہرہ ہے۔

دنیا کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے سب سے پہلے اس نے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے، غیر قانونی تارکین وطن کو نشانہ بنایا۔ امریکہ میں لاکھوں خاندانوں کو تقسیم کیا گیا، بچوں کو والدین سے جدا کر کے حراستی کیمپوں میں ڈال دیا گیا، اور یہ باور کرایا گیا کہ دنیا کی واحد سپر پاور اگر چاہے تو نہتے، بے بس اور کمزور لوگوں کو روند کر اپنی برتری ثابت کر سکتی ہے۔

لیکن طاقت کا مظاہرہ صرف اتنا کافی نہیں تھا۔ فلسطین میں، امریکہ کے اسلحے، مالی امداد اور سیاسی پشت پناہی سے اسرائیل نے عورتوں اور بچوں کو محصور کر کے غزہ کو قتل گاہ میں تبدیل کر دیا۔ امریکہ خاموش رہا بلکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنی ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال کرتا رہا۔

پھر باری آئی کمزور ریاستوں کی۔ یمن، صومالیہ، عراق اور شام کو پراکسی جنگوں کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ کہیں امریکہ براہِ راست حملہ آور ہوا، کہیں اسرائیل اور اس کے دوسرے اتحادیوں کو آگے بڑھایا گیا۔ ہر جگہ خون، بارود اور تباہی نے یہ پیغام دیا کہ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی تباہ کن قوت ہے۔

روس جیسی بڑی فوجی طاقت کے خلاف بھی امریکہ نے سازشوں کا دائرہ بڑھایا۔ یوکرین کی جنگ میں نیٹو اور امریکی مداخلت نے روس کو اشتعال دلایا اور یہاں تک نوبت آئی کہ روس کے اندر ہوائی اڈوں پر کھڑے جنگی طیارے تباہ کیے گئے۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ دشمن کے گھر کے اندر گھس کر مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن اس بار اسرائیل اور امریکہ نے جنگی تھیٹر میں بھارت کو شامل کیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی شدت بڑھائی اور پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگا کر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان نے نہ صرف سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھارت کو جواب دیا بلکہ عسکری سطح پر بھی بھارت کی جارحیت کو ناکام بنا دیا۔ یوں بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ چال ناکام ہوئی اور پاکستان نے دنیا کو بتا دیا کہ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور امریکی سازشوں کے باوجود اس کی سرحدیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔

جب ایران پر اسرائیل نے حملہ کر کے اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تو ایران نے نہایت محتاط انداز میں جواب دیا۔ اسرائیل پر میزائل برسے اور امریکہ کو اندازہ ہوا کہ ایران کوئی عام ملک نہیں، نہ اسے لبنان یا شام سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ کے پاس جنگ بندی کا ڈھونگ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔ یوں دنیا کو بتایا گیا کہ جنگ ختم ہو گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف وقتی خاموشی ہے۔

شام میں ایک نئی چال چلی گئی۔ اسرائیل کی شہہ پر ایک مسیحی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مذہبی بنیاد پر شام میں نئی خانہ جنگی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ فی الحال اس واقعے کو میڈیا سے چھپا لیا گیا ہے لیکن ہر ذی شعور جانتا ہے کہ شام کی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل جب چاہیں جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

ٹرمپ، جو اپنے آپ کو امن کا سفیر کہتا تھا، آج ثابت کر چکا ہے کہ وہ درحقیقت اسرائیل کے اشاروں پر چلنے والا ایسا جوکر ہے جو ہر گھنٹے بعد اپنا بیان بدلتا ہے، جو وعدے کرتا ہے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کرتا۔ نیتن یاہو جیسے بچوں کے قاتل اور انسانیت کے دشمن کی کٹھ پتلی بن کر، ٹرمپ نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے۔

اقوام عالم کے سامنے دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر کی شخصیت کا پول کھل چکا ہے ۔ کیا امریکی عوام کو بھی یہ ادراک ہو گیا ہے کہ ان کا نمائندہ امریکہ کے صدر کی بجائے ، نیتن یاہوجیسے جنگی مجرم کی کٹھ پتلی کا کرادار ادا کر رہا ہے ۔