منگل، 15 ستمبر، 2026
شب افروز موتی
جب درندے انسان سے کلام کریں گے
پیر، 17 اگست، 2026
پاکستان اور پاکستانی
پاکستان اور پاکستانی
استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔
ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔
یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔
فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔
استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔
یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔
لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔
پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟
یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔
اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔
اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔
اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔
قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔
استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔
ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔
فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔
قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔
استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔
اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔
پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔
آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔
اتوار، 3 اگست، 2025
بڑھاپا — وقت نہیں، محبت مانگتا ہے
ہفتہ، 28 جون، 2025
تقابل
تقابل
تاریخ گواہ ہے کہ بعض شخصیات اپنی تنقید، تلخی اور تیزطراری کی بدولت منظرِ عام پر آتی ہیں۔ ان کا ہنر یہی ہے کہ وہ لفظوں کو نیزے کی طرح برتتے ہیں، جملوں کو تیر کی مانند چھوڑتے ہیں، اور طنز کو ایسی تلوار میں ڈھال دیتے ہیں جس کا زخم مدتوں تازہ رہتا ہے۔
ایسی ہی دو شخصیات کا تقابل سامنے آتا ہے—ایک وہ جو سیاست کے نام پر جیل میں بند ہے، دوسرا جو مزہب کی چمکتی تلوار سونت کر روایات کے خلاف نعرہ زن ہے ۔ دونوں ہی تنقید کر کے مشہور ہوئے۔ ایک نے کسی کو نہ بخشا، اور دوسرے نے کسی کو نہ چھوڑا۔
وہ خود پسند تھا، یہ بھی اپنی ذات کا اسیر ہے۔ وہ زبان کا دھنی تھا، فنِ تقریر کا ماہر، الفاظ کا جادوگر۔ یہ بھی خطابت میں کسی سے پیچھے نہیں، مگر دونوں کی زبان میں شیرینی کی جگہ کڑواہٹ ہے۔ نہ وہ مروّت کا قائل تھا، نہ یہ لحاظ برتنے کا عادی ہے۔
وہ پگڑیاں اچھالتا تھا، یہ روایات کو روندتا ہے۔ اس کی زبان تیز تھی، اس کی بھی تلخ ہے۔ وہ باہر نکلتا تو اپنے جانثاروں کی معیت میں، نعرے بلند کرتا، ہجوم کو گرما دیتا۔ یہ البتہ مصلحت کی چادر اوڑھے، ایک فاصلے سے بولتا ہے، مگر وار اس کا بھی کم نہیں ہوتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وہ سیاست دان ہوتے ہوئے مذہب کی چاشنی شامل کرتا تھا، وہیں یہ مذہب کی نمائندگی کرتے ہوئے سیاست کا تڑکا لگانا ضروری سمجھتا ہے۔ ایک نے مذہب کو سیاست میں برتا، دوسرے نے سیاست کو مذہب میں گوندھا۔ فرق صرف زاویے کا ہے،
دونوں ہی خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں۔ وہ دانا کہلاتا تھا، یہ دانا بن بیٹھا ہے۔ مگر ایک فرق نمایاں ہے: وہ بات کر کے بھول جاتا، یہ بات کر کے یاد رکھتا ہے۔ وہ دل کا صاف تھا، چوٹ لگاتا اور آگے بڑھ جاتا؛ یہ دل میں گرہ باندھتا ہے، اور موقع پا کر گرہ کھول کر دکھاتا ہے۔
وہ نئی نسل کا سوشل میڈیا پر ہیرو تھا، یہ بھی نوجوانوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ وہ اونٹ کی طرح کینہ پرور تھا،یہ لومڑی کی طرح مکار
پیر، 23 جون، 2025
ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی
منگل، 17 جون، 2025
"امریکہ لڑے گا، چین تجارت کرے گا!"
پیر، 16 جون، 2025
کراچی کراچی ہے
جمعرات، 12 جون، 2025
گہرے زخم
پیر، 9 جون، 2025
صاف ستھرا پنجاب
یقین کیجیے، عید الاضحیٰ 2025 کے موقع پر پنجاب میں صفائی کے انتظامات نے ہر دل کو خوش کر دیا۔ اس بار صورتحال مختلف تھی کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ذاتی دلچسپی لیکر صفائی مہم کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا تھا۔ ان کا وژن تھا کہ عید کی خوشیاں شہر و دیہات میں صفائی کی خوبصورتی کے ساتھ منائی جائیں تاکہ شہریوں کو نہ صرف سکون ملے بلکہ ماحول بھی صاف ستھرا ہو۔
وزیر اعلیٰ کی نگرانی میں پنجاب بھر میں صفائی کے ایک منظم اور وسیع منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ 180,000 سے زائد صفائی کارکنوں کو متحرک کیا گیا اور 36,000 سے زائد گاڑیاں، ہزاروں بیلچے اور ہینڈ کارٹس ہر شہر کے کونے کونے تک پہنچائے گئے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک نظم و ضبط اور سنجیدگی کی علامت تھی جو وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ممکن ہو سکی۔
لاہور ڈویژن میں خصوصی توجہ دی گئی جہاں 754 کیمپ قائم کیے گئے تاکہ شہری آسانی سے قربانی کی آلائشیں جمع کرا سکیں۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر صفائی کے عمل کی نگرانی کے لیے سیف سٹی اتھارٹی اور ڈرون کیمرے بھی استعمال کیے گئے، تاکہ کوئی کمی بیشی نہ رہے۔ بدبو کو ختم کرنے کے لیے لاکھوں لیٹر گلاب کے پانی اور فینائل کا استعمال ہوا، جو اس مہم کی باریکیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ صفائی مہم محض ایک انتظامیہ کی کوشش نہیں بلکہ ایک وژن تھی جس نے پنجاب کو صاف ستھرا اور خوشبودار بنایا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذاتی دلچسپی نے ثابت کیا کہ اگر قیادت سنجیدگی سے کام کرے تو معمولی مسائل بھی عظیم کامیابیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس عید پر، پنجاب نے نہ صرف قربانی دی بلکہ صفائی کے جذبے کی بھی قربانی دی، جس کا سہرا بلا شبہ وزیر اعلیٰ کی قیادت کو جاتا ہے۔
یہی جذبہ ہے جو ہمارے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا، اور یہی مثال باقی صوبوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
اتوار، 8 جون، 2025
دودھ سے گولی تک
جمعرات، 5 جون، 2025
باریک واردات
سوشل میڈیا، جہاں ایک طرف عوامی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہے، وہیں دوسری طرف اب یہ غلط اطلاعات اور جھوٹی خبروں کا سب سے بڑا اڈہ بن چکا ہے۔ آج کل ایک خاص طرز کی وارداتیں انھی پلیٹ فارمز پر نظر آ رہی ہیں جنہیں اگر بغور نہ دیکھا جائے تو وہ قوم کے جذبات کو توڑنے، اداروں کے اعتماد کو مجروح کرنے اور معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
چند دن قبل ایک ایسی ہی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ایئر فورس کے ایک پائلٹ کو امریکہ میں کسی تقریب کے دوران تمغے سے نوازا گیا ہے۔ خبر میں نہ کوئی تصدیق تھی، نہ حوالہ۔ مگر سوشل میڈیا کے "رضاکاروں" نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا، تصاویر شیئر ہوئیں، مبارک بادیں دی گئیں، اور قوم جذباتی فضا میں بہک گئی۔
اس پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور باخبر محترم جناب افضل چوہان نے، جو مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، ایک ہوش رُبا ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ان کے مطابق نہ تو پاکستان ایئر فورس نے اس خبر کی تصدیق کی ہے، نہ حکومت نے۔ بلکہ ایئر فورس نے اپنے متحرک پائلٹوں کی باقاعدہ تصاویر جاری کیں جن میں وہ "نامزد" پائلٹ شامل ہی نہیں تھے۔
جناب افضل چوہان نے نشان دہی کی کہ یہ عمل دراصل ایک خاص ذہنیت کی جانب سے پھیلایا گیا بیانیہ ہے۔ امریکہ میں ایک مخصوص کمیونٹی کے لیے تمغہ دینے کی بات کو جان بوجھ کر وائرل کیا گیا تاکہ پاکستانی اداروں میں تفریق اور عوام میں تاثر سازی کا کھیل کھیلا جا سکے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ واردات صرف اسی واقعے تک محدود نہیں۔ سرگودھا، جو اپنے مالٹوں اور پاک فضائیہ کے اہم بیس کی وجہ سے معروف ہے، وہاں حال ہی میں ایک قتل کا واقعہ پیش آیا۔ تحقیقات کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا، ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی، مگر سوشل میڈیا پر فوراً اسے ایک مذہبی اقلیت سے جوڑ دیا گیا۔ مقصد؟ وہی — جذبات بھڑکانا، تعصب پیدا کرنا، اور قومی وحدت کو ٹھیس پہنچانا۔
یہی واردات بھارت پلوامہ واقعے میں کر چکا ہے۔ تحقیق سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر "رضاکاروں" نے ایک مخصوص بیانیہ اتارا اور بھارت میں جنگی جنون پھیلایا، نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان پر چڑھائی کر دی — اور بعد ازاں دنیا کے سامنے شرمندگی اٹھائی۔
آج پاکستان ایک بار پھر نشانے پر ہے۔ 10 مئی کو پاکستان نے عالمی سطح پر جو سفارتی، اخلاقی اور عسکری کامیابیاں حاصل کیں، انہیں ماند کرنے کے لیے یہ باریک وارداتیں ڈالی جا رہی ہیں۔ مخصوص ذہن رکھنے والے گروہ نہ صرف متحرک ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اپنا اثر بھی جما چکے ہیں۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ یہ وارداتیں کون کر رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کا شکار کیوں بنتے ہیں؟
کیا ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہم ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں؟ کیا ہمیں سیکھ لینا نہیں چاہیے کہ جذباتی ردعمل، بغیر تحقیق کے، ہمیں غیر ارادی طور پر دشمن کے بیانیے کا حصہ بنا دیتا ہے؟
یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم بالغ نظری کا مظاہرہ کریں۔ اداروں کو کمزور کرنے والی باتوں کا حصہ نہ بنیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ:
فارورڈ کرنے سے پہلے سوچیں
اگر ہم نے اس روش کو نہ بدلا تو کل یہی فیک نیوز، یہی افواہیں، ہمارے امن، ہماری یکجہتی اور ہمارے قومی وقار کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گی۔
انڈس واٹرز ٹریٹی کا دوطرفہ معاہدہ بننا: بھارت کے لیے ایک قدم آگے؟
انڈس واٹرز
ٹریٹی
بین الاقوامی معائدہ سے دو طرفہ
انڈس واٹرز ٹریٹی، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا، برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم دستاویز ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پانی کے منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے بلکہ خطے کی سیاسی کشیدگی میں بھی ایک نہ ختم ہونے والا موضوع رہا ہے۔ آج بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو ایک بین الاقوامی دستاویز سے ہٹا کر دوطرفہ سمجھوتے میں تبدیل کرنے کی خواہش سامنے آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کو اس تبدیلی سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
سب سے پہلے بات کریں تو، بھارت کو اس تبدیلی سے اپنی پانی کی پالیسیوں پر زیادہ خودمختاری حاصل ہو گی۔ فی الوقت، انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت عالمی بینک اور دیگر ثالث فریق پانی کے منصوبوں پر نظر رکھتے ہیں، جس سے بھارت کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ دوطرفہ معاہدہ بھارت کو اس بوجھ سے آزاد کرے گا اور وہ اپنی زمینی حدود میں پانی کے وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے گا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت کو پانی کے منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد میں تاخیر کا سامنا کم ہوگا۔ بین الاقوامی ثالثی کے بغیر بھارت تیزی سے فیصلہ سازی کر سکے گا، جو کہ زرعی، صنعتی اور توانائی کے شعبوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ خاص طور پر، بھارت ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس اور نئے ڈیم بنانے میں زیادہ آزاد ہو گا، جس سے توانائی کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
اسی کے ساتھ، بھارت کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بھی اس اقدام کے پیچھے کارفرما ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دیرینہ کشیدگی اور دہشت گردی کے الزامات نے بھارت کو محتاط بنا دیا ہے کہ وہ پانی جیسے حساس موضوع پر عالمی ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کرے۔ دوطرفہ معاہدہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ براہِ راست اور مضبوط مذاکرات کا موقع دے گا اور اسے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے زیادہ اختیار دے گا۔
آخر میں، یہ تبدیلی بھارت کو خطے میں اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع بھی دے سکتی ہے۔ عالمی ثالثوں کے بغیر بات چیت کا مطلب ہے کہ بھارت اپنے مفادات کو بہتر طریقے سے منوا سکے گا اور پاکستان پر دباؤ بڑھا سکے گا۔
یقیناً، اس تبدیلی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل اور خطے میں پانی کی تقسیم کے مسئلے پر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ مگر بھارت کے لیے یہ قدم اپنی پانی کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو مقدم رکھنے کی واضح ترجیح ہے۔
لہٰذا، انڈس واٹرز ٹریٹی کو دوطرفہ معاہدے میں تبدیل کرنا بھارت کے لیے ایک ایسا سیاسی اور اقتصادی حربہ ہو سکتا ہے جو اسے مستقبل کے پانی کے انتظام اور علاقائی سیاست میں ایک مضبوط پوزیشن دلائے۔
بدھ، 4 جون، 2025
معاشرتی دوغلاپن
جمعرات، 27 اگست، 2020
جواب آں غزل
میرا یہ نا دیدہ دوست ْ احمد رضا خان بریلوی کی حسام الحرمین کو جہالت اور فتنہ خیزیْ بتاتا ہے مگرْ سیف چشتائی ْ کا ذکر اس لیے نہیں کرتا کہ یہ گستاخون کی زبان درازیوں کی قاطع ہے۔
ہم میں ایک مسلمان, نام اان کا اشفاق احمد تھا انھوں نے بجا فرمایا تھا کہ ہم مسلمان ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں یہ غیر مسلم ہی ہیں جو سب کو مسلمان سمجھتے ہیں۔
آپ کو ْ گمراہْ اور ْ جاہل ْ لوگوں کے دھرنے میں ناچ اور گانا ہی نظر آیا ۔ جان کی امان ہو تو پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کے جشمے کا نمبر کیا ہے۔
آپ نے یہ شعر بھی جڑ دیا ہے
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
بھائی ہم امن پسند مسلمان اور پاکستانی ہیں ، مسلمانوں کے سب فرقے ہی نہیں غیر مسلم بھی ہمارے لئے محترم ہیں، ہمیں اپنے رحمت العالمین بنی ﷺ کی تعلیمات عزیز ہیں۔ ہم اول و آخر مصطفوی ہیں اور اس پر ہم شرمندہ نہیں ہیں ، ہمیں خنجر اٹھانے کی ضرورت ہے نہ تلوار ، ہمار ا ایک مقصد حیات ہے اور وہ کتاب میں درج ہے جو محفوظ ہے اور اس کا محافظ رب محمد ﷺ خود ہے ۔
پیر، 18 مئی، 2020
ہم سے پنگا ۔۔ ناٹ چنگا
مقتدر ادارہ دھرنے کے دوران غازیوں کا پشت بان بنا تھا ۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے ایک وفاقی وزیر کی قربانی قبول فرما کر ثابت کیا تھا کہ گستاخ اپنے انجام کو پہنچ چکے اور غازیوں کو واپشی کے لیے زاد راہ دے کر فارغ کر دیا دیا گیا تھا ۔ یہ ادارہ عمران خان کے دھرنے کے دوران انگلی تو کھڑی نہیں کرتا مگر عوام کو کھڑا نظر آتا ہے۔اور عوام سے زیادہ خواص موجودگی سے اپنی آئندہ کی راہ منور کرتے ہیں۔
سیاست میں " کلہ" عوامْ ہوا کرتے ہیں،امریکی سیاست دانوں کا ْ کلہ ْ کس قدر مضبوط ہے اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے مگر مجھے یہ کہنے میں باک نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرے میں کم ہی لوگوں کو امریکی سیاستدانوں کے کلے کی مظبوطی کا ادراک ہے
پاکستان میں عوام کا تجربہ یہ ہے کہ اختیارات کا محور و مرکز ْ طاقت ْ ہی ہے۔ اور طاقت کے لحاظ سے امریکہ کے سیکرٹری پاکستان کے وزیر اعظم کو فون مبارک باد کا فون کریں تو اخباروں میں سرخی اور ٹی وی پر ہیڈ لائنس بنتی ہیں۔اور پاکستان کے وزیرخارجہ کے کہنے پر ہمار ا دفتر خارجہ کوئی وضاحت بھی جاری کرے گا تو اس کو ملک کے اندر نہ باہر سنجیدہ لیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمان کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ہدائت کے بعد امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان میں اب اس کی ایک فون پر لیٹ جانے والوں کی حکومت نہیں ہے۔ معلوم نہیں ڈاکڑ صاحب کے ذہن میں لیٹ جانے والوں کے بارے میں کس کی تصویر ہے مگر مشرف اینڈ باقیات کے پیٹ میں اس بیان سے ایسا مروڑ اٹھاتھا جو ڈاکٹر کے کھڈے لائن لگ جانے کے بعد ہی ٹھیک ہوا ۔وزیر اعظم وزارت خارجہ گئے اور بیان دیا کہ ْ کسی بھی ملک سے خواہ مخواہ کا الجھاو نہیں چاہتے . اور جوشیلے پارٹی ورکروں کو مناسب پیغام دیا۔یاد دھانی کراتے رہنا ہمارافرض ہے کہ امریکہ کا ْ کلہْ پاکستان میں بھی مضبوط ہے اور اس کلے کے رکھوالے کلے کی مضبوطی کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ نواز شریف کی جیل یاترا کے بعد جوشیلے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی جماعت کوئی بھی ہو، حکمران جس نام کا بھی ہو، عوام کا ووٹ جس کے پاس بھی ہو پہلا اور آخری پیغام یہی ہے کہ کھاو پیو موج اڑاو مگر ْ ہم سے پنگا ۔۔ ناٹ چنگا ْ
پیر، 9 ستمبر، 2019
اوئے شرم کرو
سولہ دسمبر ۱۹۷۱ کی شام کوئی پاکستانی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ ہمارے ۹۲،۰۰۰ فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔مگر ایسا ہوا اور ایسا کرنے والا اس وقت کا کمانڈر انچیف اور ایسٹرن کمانڈ کا جنرل تھا۔ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی تو اپنا پستول دشمن جنرل کے حوالے کر کے قید ہو چکا تھا مگر راولپنڈی میں کمانڈر انچیف جنرل آغا محمدیحیی خان سے جب زبردستی استعفیٰ لیا گیا تو وہ شراب کے نشے میں دہت تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید بن معاویہ شرابی تھااور شراب کے نشے میں چھڑی سے ایک متبر ک اور پاکیزہ کٹے ہوئے سر کو ٹھکورا تھا۔ یہ چھڑی بڑی ظالم شے ہے تاریخ ہی نہیں جغرافیہ بھی بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ڈہاکہ کے پلٹن میدان میں نیازی سے پستول لینے سے بھی پہلے اس کی چھڑی لے لی گئی تھی۔جب مغربی پاکستان میں چھڑی کے خلاف بغاوت ابھری تو یہاں بھی چھڑی والے سے چھڑی لے لی گئی۔مگر پاکستان کے فوجی جوانوں کے دلوں میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم جناب ذولفقار علی بھٹو شہید نے مغربی پاکستان میں انڈیا کے بارڈر پر کھڑے ہو کر فوجی جوانوں سے کہا تھاکہ یہ شکست فوجی شکست نہیں ہے بلکہ سیاسی شکست ہے۔ یہ بھٹو کا نعرہ تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر اپنا ایٹم بم بنائیں گے۔فوج ہتھیاروں کے بل بوتے پر لٹرتی ہے اور اسے جذبہ اپنی قوم مہیا کرتی ہے۔ہتھیار اپنا ہونے کا فلسفہ ۱۹۴۷ ہی میں پاکستانیوں کو سمجھ آ گیا تھا جب حیدر آباد دکن پر بھارت نے حملہ کیا تو نظام نے جو نقد رقم دے کر بندوقیں خریدیں تھیں میدان عمل میں ناکارہ ثابت ہوئیں۔ اس وقت زمینی حالات یہ ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی نمبر ا ہو یا نہ ہو مگر سبز ہلالی پرچم کے لیے چیر پھاڑنے کو بے تاب ہے۔ ۲۲ کروڑ لوگ ان کی پشت پر صرف زبانی نہیں کھڑے بلکہ نصف صدی تک تین نسلوں نے گھاس کھا کر اپنے فوجیوں کے لیے وہ بندوق تیار کر کے رکھی ہے۔جو چلے تو چاغی کے سب سے بڑے پہاڑ کو خاکستر کر کے رکھ دے اور دنیا بھر کے جنگی ماہرین اس بندوق کے موثر ہونے کی گواہی دیں۔
ہماری فوج وہ ہے جو تین دہائیوں سے دشمنوں سے نبردآزما ہے۔ ہماری دو نسلیں تو پیدا ہی دہماکوں کے دوران ہوئی ہیں اور بموں سے کھیل کر جوان ہوئی ہیں۔ ہمارے پاکستان کے بوڑہے اپنے جوان بیٹوں کے لاشوں کو دفنا کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جوان خون وطن کی مٹی میں ہی جذب ہوا ہے۔
سابقہ ایک سال میں اس ملک خداداد پر کون سا کالا جادو کیا گیا ہے کہ فوجی جوان حیران ہیں کہ ان کا دشمن کون ہے؟
عوام یہ جان کر دانتوں میں انگلی دے لیتی ہے کہ ووٹ کے ذریعے دشمن کو شکست فاش دی جا چکی ہے۔ پاکستانی عوام جو اداروں سے مایوس ہو چکی ہے سوائے پاک فوج کے، حیران ہی نہیں پریشان بھی ہے۔ اور اس کی پریشانی کا سبب کوئی راز نہیں ہے۔ الیکشن کے بعد جو لوگ عوام پر مسلط کیے گیے ہیں۔ وہ حکمران چور اور ڈاکو بن گئے ہیں۔عوام نان جویں کر ترس رہی ہے۔ ۔ نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید ہو چلا ہے۔ عام ٓدمی مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔اداروں کے کرنے کے کام سوشل میڈیا فورس کے حوالے کر دیے گٗے ہیں۔
اس ملک کا سب سے بڑا ڈاکو آصف علی زرداری بتایا جاتا ہے مگر اس کے دور میں تو زندگی معمول پر تھی۔ ہمساٗے رشک بھری نظروں سے ہمیں دیکھا کرتے تھے۔ دشمن منہ کھولنے سے پہلے کئی بار سوچا کرتا تھا۔ سب سے بڑا چور نواز شریف بتایا جاتا ہے۔ عدالت نے تو اس کو اقامہ پر سات سال کے لیے جیل میں بھیجا ہوا ہے۔ اگر اس نے چوری کی ہے تو برآمد کیوں نہیں ہو رہی۔مگر اس کے دور میں بھی عوام کی امید کی ڈوری مضبوط ہی ہوئی تھی۔ کیا ملک کے میں موٹر ویز کا جال نہیں بچھایا گیا۔ میڑوبسوں کا چلنا اس خطے میں منفرد کام نہ تھا۔لاہور میں اورنج ٹرین پورے بر صغیر میں نئی چیز نہیں تھی۔ اسلام آباد کا ہوائی اڈہ کیا چوری کا شاخسانہ ہے۔
۔یہی مودی جو پاکستانی حکمرانوں کا فون اٹھانے کا روادار نہیں ہے خود چل کر لاہور آیا تھا۔ اس کے پیش رو نے مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر کچھ اعترافات بھی کیے تھے۔
ہمارے حقیقت پسند وزیر خارجہ کا بیان ہے کہ پاکستانی احمقوں کی جنت میں نہ رہیں۔ حالانکہ پاکستانی خود کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے احمقوں کی جنت میں وہ رہتے ہیں جو پاکستان کو مصر سمجھ بیٹھے ہیں۔ پاکستانیوں کو تو اس بیانئے پر یقین ہے کہ فوج اور پولیس میں ہمارے بیٹے اور بھتیجے ہیں۔ عوام اور فوجی جوانوں کا خون ایک ہے۔ وہ مادر وطن کے دفاع کے لیے بندوق لے کر نکلیں گے تو پورا پاکستان ان کی دفاعی لائن کو قائم رکھے گا۔ ہمارے سپہ سالار کا فرمانا ہے کہ اخلاقی قوت عسکری قوت سے زیادہ فیصلہ کن ہوتی ہے ۔ کیا موجودہ مسلط کردہ حکمران قوم کو اخلاقی طور پر متحد کر رہے ہیں یا عوام اور افواج پاکستان میں غلط قہمیوں کے بیج ہو رہے ہیں؟
پاکستان کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ اقتدار ایک مقدس امانت ہے جسے صرف منتخب نمائندے ہی استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔یہاں تو اقتدار کو ایسے لوگ بھی استعمال کر رہے ہیں جن کو عدالتوں نے ناہل قرار دیا ہوا ہے۔
یہ بیانیہ البتہ قابل قبول نہیں ہے کہ جو موجودہ حکومت کے جھوٹ کو سچ نہ مانے وہ دین کا منکر اور پاکستان کا غدار ہے۔ جو انصاف کے معیار پر انگلی اٹھائے اسے عدلیہ کا دشمن گردانا جاتا ہے۔ سیاسی مخالفین کے مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سن کر انصاف کا بول بالا کیا جاتا ہے۔ جب ملک کے اندر ظلم اور بے انصافی کا راج ہو گاتو لا محالہ قوم کی سوچ تقسیم ہو گی۔ یہ کیسا اجینڈا ہے جو عوام کو گروہوں میں بانٹ کر مایوسی کی آبیاری کررہا ہے اور امید کی ٹہنیاں کاٹ کرجلا رہا ہے۔
حالت یہ ہے کہ ایشیاء ٹائیگر بننے سے انکار کر کے عوام کے معاشی ترقی کے عزم کے سیلاب کے آگے بند باندہنے کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ یہ موجودہ حکمرانوں کے کس منشور کا حصہ ہے۔ لوگ ووٹ منشور کو دیتے ہیں۔ یہاں منشور کو لیٹ کر رکھ دیاگیا ہے۔
غریبوں کی روزمرہ اشیائے ضرورت پر جی ایس ٹی کے نام پر دنیا کا مہنگا ترین ٹیکس لگا کر رقم جہاز والوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ عمران خان کنٹینر پا کھڑے ہو کر فرمایا کرتے تھے اوئے شرم کرو۔۔یہ تمھارے باپ کا پیشہ ہے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ ۲۰۸ ارب کس کے باپ کا پیسہ ہے جو گیس کے بلوں اور کھاد کی قیمت کے ذریعے لوٹا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کو ۴۰۰ ارب کا ٹکہ لگا یا گیا مگر سرکاری خزانے میں کچھ بھی جمع نہ ہوا۔۔
وزیر اعظم کو ایسی خبریں ٹی وی سے پتہ چلتی ہیں، حالانکہ اس صدارتی آرڈیننس کی سمری وزیر اعظم نے قصر صدارت بھیجی تھی۔ جب ٓرڈیننس جاری ہو گیا تو دو وزیروں نے پریس کانفرنس کر کے اس کے فضائل بیان کیے اورجب لوگ اس آرڈیننس سے مستفید ہو چکے تو وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا۔پھر اس نوٹس لینے پر قوالوں کی پوری پارٹی میدان میں اتاری گٗی جس کی سربراہی حفیظ شیخ نے کی۔
وزیر اعظم سیاست کو تجارت بنا کر تجارت پر سیاست کر رہے ہیں۔ انھیں قانون، آئین حتیٰ کہ اخلاقیات کی بھی پرواہ نہیں ہے۔جہانگیر ترین اور رزاق داود کے جہازوں میں جلنے والے ایندہن کا جب بھی لیبارٹری میں فرانزک ہوا اس میں غریب عوام کے نچوڑے خون اور محنت کے پسینے کی آمیزش ضرور ثابت ہو گی۔عوام پر ظلم، زیادتی اور بے انصافی پر حکمرانوں نے کان اور آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ ان کو احساس ہی نہیں کہ غریب جب روزمرہ استعمال کی چیز کو ہاتھ لگاتا ہے تو مہنگائی اسے ایسا کرنٹ مارتی ہے کہ اس کا دماغ شل ہو کے رہ جاتا ہے۔
حکومتی باجوں پر نئی دہن یہ بجائی جا رہی ہے کہ اس کرپشن کا سبب وہ عدالتی اسٹے آرڈر ہیں جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے جاری کر رکھے ہیں۔ اس کے جواب میں بقول عمران خان یہی کہا جا سکتا ہے اوٗے شرم کرو مگر شرم اور حیا، قانوں اور قانون کی پاسداری سے عملی طور پر حکومت ہاتھ دہو چکی ہے۔










