dilpazir لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
dilpazir لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 اگست، 2026

پاکستان اور پاکستانی



پاکستان اور پاکستانی

 استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔

ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔

فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔

استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔

یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟

یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔

قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔

استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔

فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔

قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔

استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔

پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔

آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔

پیر، 23 جون، 2025

ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی



ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی

ڈونلڈ ٹرمپ جب دوسری بار امریکی صدارتی دوڑ میں کامیاب ہوا تو اس نے امریکی عوام کو امید دلا کر ووٹ لیے کہ اب امریکہ دنیا میں امن کا علمبردار بنے گا، امریکی فوج کو لاحاصل جنگوں سے نکالا جائے گا، اور معاشی خوشحالی کا راستہ کھلے گا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کی طاقت کو صرف امریکہ کی سرحدوں تک محدود رکھے گا اور غیر ملکی مداخلتوں کا سلسلہ ختم ہوگا۔

لیکن اقتدار سنبھالتے ہی جو منظر دنیا نے دیکھا، اس نے ثابت کر دیا کہ ٹرمپ نہ امن کا پیامبر ہے اور نہ کوئی اصولی سیاستدان بلکہ وہ بھی صیہونی اسلحہ سازوں اور اسرائیلی مفادات کے ہاتھوں میں کھیلنے والا ایک اور مہرہ ہے۔

دنیا کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے سب سے پہلے اس نے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے، غیر قانونی تارکین وطن کو نشانہ بنایا۔ امریکہ میں لاکھوں خاندانوں کو تقسیم کیا گیا، بچوں کو والدین سے جدا کر کے حراستی کیمپوں میں ڈال دیا گیا، اور یہ باور کرایا گیا کہ دنیا کی واحد سپر پاور اگر چاہے تو نہتے، بے بس اور کمزور لوگوں کو روند کر اپنی برتری ثابت کر سکتی ہے۔

لیکن طاقت کا مظاہرہ صرف اتنا کافی نہیں تھا۔ فلسطین میں، امریکہ کے اسلحے، مالی امداد اور سیاسی پشت پناہی سے اسرائیل نے عورتوں اور بچوں کو محصور کر کے غزہ کو قتل گاہ میں تبدیل کر دیا۔ امریکہ خاموش رہا بلکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنی ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال کرتا رہا۔

پھر باری آئی کمزور ریاستوں کی۔ یمن، صومالیہ، عراق اور شام کو پراکسی جنگوں کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ کہیں امریکہ براہِ راست حملہ آور ہوا، کہیں اسرائیل اور اس کے دوسرے اتحادیوں کو آگے بڑھایا گیا۔ ہر جگہ خون، بارود اور تباہی نے یہ پیغام دیا کہ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی تباہ کن قوت ہے۔

روس جیسی بڑی فوجی طاقت کے خلاف بھی امریکہ نے سازشوں کا دائرہ بڑھایا۔ یوکرین کی جنگ میں نیٹو اور امریکی مداخلت نے روس کو اشتعال دلایا اور یہاں تک نوبت آئی کہ روس کے اندر ہوائی اڈوں پر کھڑے جنگی طیارے تباہ کیے گئے۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ دشمن کے گھر کے اندر گھس کر مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن اس بار اسرائیل اور امریکہ نے جنگی تھیٹر میں بھارت کو شامل کیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی شدت بڑھائی اور پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگا کر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان نے نہ صرف سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھارت کو جواب دیا بلکہ عسکری سطح پر بھی بھارت کی جارحیت کو ناکام بنا دیا۔ یوں بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ چال ناکام ہوئی اور پاکستان نے دنیا کو بتا دیا کہ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور امریکی سازشوں کے باوجود اس کی سرحدیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔

جب ایران پر اسرائیل نے حملہ کر کے اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تو ایران نے نہایت محتاط انداز میں جواب دیا۔ اسرائیل پر میزائل برسے اور امریکہ کو اندازہ ہوا کہ ایران کوئی عام ملک نہیں، نہ اسے لبنان یا شام سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ کے پاس جنگ بندی کا ڈھونگ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔ یوں دنیا کو بتایا گیا کہ جنگ ختم ہو گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف وقتی خاموشی ہے۔

شام میں ایک نئی چال چلی گئی۔ اسرائیل کی شہہ پر ایک مسیحی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مذہبی بنیاد پر شام میں نئی خانہ جنگی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ فی الحال اس واقعے کو میڈیا سے چھپا لیا گیا ہے لیکن ہر ذی شعور جانتا ہے کہ شام کی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل جب چاہیں جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

ٹرمپ، جو اپنے آپ کو امن کا سفیر کہتا تھا، آج ثابت کر چکا ہے کہ وہ درحقیقت اسرائیل کے اشاروں پر چلنے والا ایسا جوکر ہے جو ہر گھنٹے بعد اپنا بیان بدلتا ہے، جو وعدے کرتا ہے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کرتا۔ نیتن یاہو جیسے بچوں کے قاتل اور انسانیت کے دشمن کی کٹھ پتلی بن کر، ٹرمپ نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے۔

اقوام عالم کے سامنے دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر کی شخصیت کا پول کھل چکا ہے ۔ کیا امریکی عوام کو بھی یہ ادراک ہو گیا ہے کہ ان کا نمائندہ امریکہ کے صدر کی بجائے ، نیتن یاہوجیسے جنگی مجرم کی کٹھ پتلی کا کرادار ادا کر رہا ہے ۔  

منگل، 17 جون، 2025

"امریکہ لڑے گا، چین تجارت کرے گا!"




دنیا کی دو بڑی طاقتیں — چین اور امریکہ — مشرقِ وسطیٰ کے ایک ممکنہ نئے محاذ کی جانب دیکھ رہی ہیں، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف چین نے ایران میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، تو دوسری طرف امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف اور مالیاتی معاون ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ان کے معاشی مفادات انہیں اس جنگ میں براہِ راست گھسیٹ سکتے ہیں؟
چین کی ایران میں سرمایہ کاری

چین اور ایران نے 2021 میں ایک پچیس سالہ معاشی اور تزویراتی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت چین ایران میں توانائی، مواصلات، بندرگاہوں، ریلویز، اور دیگر انفراسٹرکچر پر مبینہ طور پر 400 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ایران عالمی پابندیوں کے باعث چین کو رعایتی نرخوں پر تیل بیچتا ہے، اور چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار بن چکا ہے۔
مزید برآں، ایران چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" میں ایک مرکزی سنگ میل ہے، جو ایشیا کو یورپ اور افریقہ سے جوڑنے کی چینی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ تاہم امریکی پابندیوں کے باعث چینی کمپنیوں کی اکثریت ایران میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے، اور بیشتر منصوبے صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہیں۔
امریکہ کی اسرائیل میں سرمایہ کاری

امریکہ ہر سال اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدے کا حصہ ہے۔ جدید میزائل سسٹمز جیسے آئرن ڈوم، ڈیویڈز سلِنگ اور ایرو میزائل چین کی مدد سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، بایوٹیک اور ڈیفنس انڈسٹری میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا ایک اہم مرکز بھی ہے، جہاں مشترکہ فوجی مشقیں اور نگرانی کے نظام موجود ہیں۔
کیا مالی مفادات ان کو جنگ میں کھینچ لائیں گے؟
امریکہ

امریکہ کا اسرائیل سے عسکری و سفارتی تعلق اتنا گہرا ہے کہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں امریکہ کا میدان میں اترنا بعید از قیاس نہیں۔ اندرونی سیاسی دباؤ، اسرائیل نواز لابی، اور دفاعی صنعت کے مفادات اس امکان کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
تاہم امریکہ کے معاشی مفادات بھی دائو پر لگ سکتے ہیں، کیونکہ اگر جنگ مشرق وسطیٰ سے آگے بڑھ گئی تو عالمی مارکیٹ میں افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ کے لیے اسرائیل کا تحفظ اس کے علاقائی تسلط کی علامت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی خطرے میں مداخلت سے گریز نہیں کرے گا۔
چین

اس کے برعکس چین نے اب تک خود کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگی سیاست سے دور رکھا ہے۔ وہ ایران میں سرمایہ کاری ضرور کر رہا ہے، لیکن وہ ایران کا فوجی حلیف نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات مضبوط کیے ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔
چین کی کوشش ہو گی کہ وہ اس تنازعہ کو سفارتی طریقے سے سلجھائے، تاکہ نہ صرف اس کے اقتصادی منصوبے محفوظ رہیں بلکہ وہ دنیا کے سامنے ایک امن پسند طاقت کے طور پر بھی ابھرے۔
نتیجہ

امریکہ اور چین دونوں کی مشرقِ وسطیٰ میں سرمایہ کاری موجود ہے، مگر ان کا رویہ مختلف ہے۔ امریکہ کا جھکاؤ اسرائیل کی عسکری حمایت کی طرف ہے، جبکہ چین کا مفاد اقتصادی استحکام اور سفارتی بیلنس میں ہے۔
اگر جنگ بھڑکتی ہے تو امریکہ براہ راست میدان میں آ سکتا ہے، لیکن چین پسِ پردہ رہ کر مفادات کا تحفظ کرے گا۔
"امریکہ لڑے گا، چین تجارت کرے گا!"

پیر، 16 جون، 2025

کراچی کراچی ہے





کراچی کو صرف شہر کہنا ناانصافی ہوگی۔ یہ دراصل ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں ہر صفحہ کسی محلے، ہر جملہ کسی چورنگی اور ہر حرف کسی دلچسپ نام پر مشتمل ہے۔ ایک دفعہ میں نے سوچا کہ کراچی کے تمام علاقوں کی سیر کی جائے، لیکن اس "معصوم" خیال نے مجھے ایسے ایسے ناموں اور جگہوں تک پہنچا دیا جہاں پہنچ کر ہنسی، حیرت، الجھن اور کبھی کبھار افسوس — سب ایک ساتھ محسوس ہونے لگے۔

سفر کا آغاز "پاپوش نگر" سے کیا۔ نام سن کر یہی گمان ہوا کہ شاید جوتے یا چپلوں کا کوئی مشہور بازار ہو گا۔ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ "انڈا موڑ" آ گیا۔ لگا شاید ناشتہ مفت ملے گا، لیکن وہاں صرف دھوپ اور دھوئیں کا تڑکا تھا۔ اس کے فوراً بعد "کریلا موڑ" کا بورڈ نظر آیا اور مجھے لگا کہ کراچی نے اب میرے میٹھے خوابوں پر کڑوا سچ انڈیل دیا ہے۔

راستے میں "بھائ جان چوک" آیا۔ میں نے ایک رکشے والے سے پوچھا کہ یہاں کوئی مشہور بھائ جان رہتے ہیں؟ بولا: "یہاں سب بھائ جان ہی ہیں، نام رکھ کے کیا فرق پڑتا ہے؟" پھر "چیل چوک" پہنچا تو آسمان پر چیلیں ایسے گھوم رہی تھیں جیسے کوئی انتخابی مہم ہو اور وہ امیدوار ہوں!

"مچھر کالونی" کا نام سنتے ہی جسم پر خارش ہونے لگی، گویا وہاں کے مچھر صرف خون نہیں چوستے، اعصاب بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ "بھینس کالونی" میں جا کر لگا کہ شہر میں سب سے زیادہ آسودہ زندگی شاید وہی گزار رہی ہیں۔ پھر ایک مقام آیا "ناگن چورنگی"، میں نے فوراً فون پر امی کو کال کر کے کہا: "اگر میں واپس نہ آ سکوں تو ناگن نے آ لیا ہوگا۔"

شہر میں کچھ جگہیں وقت کے ساتھ مزاحیہ بن گئی ہیں۔ "دو منٹ چورنگی" پر میں 35 منٹ رُکا رہا اور آخرکار سمجھ گیا کہ یہاں ’دو منٹ‘ کا مطلب عام وقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ "خاموش کالونی" میں سناٹا ایسا کہ لگا جیسے سب لوگ قید ہیں یا قسم کھائی ہو کہ نہ بولیں گے نہ ہنسیں گے۔ "فیوچر کالونی" میں داخل ہوا تو امیدیں باندھیں، لیکن "گٹر باغیچہ" کی بدبو نے واپس ماضی میں دھکیل دیا۔

جب میں "خدا کی بستی" پہنچا تو لگا شاید یہاں کچھ سکون ملے گا، لیکن کچھ فاصلے پر ہی "رنچھوڑ لائن" آ گئی، تو سوچا، شاید یہاں کے لوگ جنگ سے پہلے ہی ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ "چمڑا چورنگی"، "مرغی خانہ"، "دنبہ گوٹھ" اور "بوتل گلی" جیسے ناموں نے میرے تصور کو اس قدر مشغول رکھا کہ مجھے لگا جیسے میں کسی مزاحیہ کہانی کا مرکزی کردار ہوں۔

پھر "بےروزگار چوک" آیا۔ وہاں ایک بینچ پر بیٹھا لڑکا بولا: "بھائی! نوکری نہیں، تو یہاں آ کے وقت گزار لو۔ کم از کم شہر سچ بولتا ہے۔" اور واقعی، کراچی جھوٹ نہیں بولتا۔ یہ شہر جیسا ہے، ویسا ہی نام رکھتا ہے۔

"پریشان چوک" پر پہنچتے ہی دل بھی پریشان ہو گیا اور میں نے خدا سے دعا مانگی — وہ دعا جو "دعا چوک" تک پہنچ کر شاید سنی گئی۔ کیونکہ اگلی سڑک تھی "اللہ والا ٹاؤن"… اور وہاں پہنچ کر لگا کہ کسی نے کہا ہو: "بیٹا، اب واپس چلے جاؤ۔ جتنا دیکھا، کافی ہے۔"

کراچی کے یہ نام صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک مذاق، ایک سچائی اور ایک تلخ حقیقت ہیں۔ ان میں ہنسی بھی چھپی ہے، بے بسی بھی، اور وہ رنگ بھی جو صرف کراچی جیسے شہر میں پنپ سکتے ہیں۔

اگر آپ کراچی کو صرف بحریہ، ڈیفنس یا گلشن کے زاویے سے دیکھتے ہیں، تو یقین جانئے، آپ نے اصل کراچی کو ابھی چھوا بھی نہیں۔

کراچی کا ہر علاقہ، ہر چوراہا، ہر کالونی — اپنی ایک پوری فلم ہے۔ بس آپ کو کردار بننے کی ہمت ہونی چاہیے۔

نوٹ: اگر آپ کبھی "اچانک چوک" جائیں، تو خبردار رہیں۔ وہاں کچھ بھی، کبھی بھی، اچانک ہو سکتا ہے!

جمعرات، 12 جون، 2025

گہرے زخم






اکتوبر 2023 سے جون 2025 تک مشرقِ وسطیٰ کی فضا مسلسل بارود کی بُو سے مہکتی رہی۔ ایک طرف فلسطین کے جلتے گھر، دوسری طرف ایران کے سائے میں پلتے خواب – اور ان کے بیچ اسرائیل کا وہ ہاتھ جو دور سے حملہ کرتا رہا، مگر اثرات تہران، دمشق، بیروت، اور نطنز تک محسوس کیے گئے۔

یہ دورانیہ محض حملوں کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک منظم حکمت عملی کی عکاسی ہے – وہ حکمت عملی جو ایران کو نہ صرف جوہری میدان میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے، بلکہ اس کی عسکری اور سائنسی قیادت کو بھی مفلوج کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

یکم اپریل 2024 کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی فضائی حملے میں سات پاسدارانِ انقلاب (IRGC) افسر، ایک ایرانی مشیر، اور دو شہری مارے گئے۔ اس حملے نے ایران کی "سفارتی حدود" کو بھی غیر محفوظ کر دیا۔ یہ پیغام صرف شام کو نہیں، بلکہ تہران کو تھا۔

19 اپریل 2024 کو اسرائیل نے ایران کے اسفہان علاقے کے قریب فضائی حملہ کر کے نطنز جوہری تنصیب کے دفاعی ریڈارز اور S-300 بیٹریوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ علامتی نہیں تھا، بلکہ جوہری صلاحیتوں کی کمر توڑنے کی سنجیدہ کوشش تھی۔

ستمبر اور اکتوبر 2024 کے درمیان اسرائیل نے بیروت، بغداد، اور ایران کے اندر کئی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل عباس نیلفروشان، اور دیگر افسران کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے لیے یہ صرف ہلاکتیں نہیں تھیں بلکہ نظریاتی و دفاعی بنیادوں پر ایک ضرب تھی۔

12 
اور 13 جون کو اسرائیل نے جو کچھ کیا، وہ صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ ایک "خاموش اعلانِ جنگ" تھا۔ آپریشن رائزنگ لائن 
(Rising Lion) 
کے تحت ایران کی جوہری، میزائل، اور عسکری تنصیبات پر شدید حملے کیے گئے۔
اس حملے میں ایران کی فوجی اور سائنسی قیادت کا دل چیر کر رکھ دیا گیا:
میجر جنرل حسین سلیمی – پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ، مارے گئے۔
میجر جنرل غلام علی راشد – IRGC کمانڈر، ہلاک ہوئے۔
میجر جنرل محمد باقری – مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، بعض ذرائع کے مطابق ہلاک، بعض کے مطابق زخمی۔
علی شمخانی – خامنہ‌ای کے سینیئر مشیر، شدید زخمی۔
فریدون عباسی داوانی – ایٹمی سائنسدان، مارے گئے۔
محمد مهدی طهرانچی – جوہری طبیعات کے پروفیسر، جان سے گئے۔
عبدالحمید منوشہر اور احمدرضا زلفغہری – شاہد بہشتی یونیورسٹی سے وابستہ سائنسدان، ہلاک۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور دیگر شہروں کے شہری علاقوں پر بھی حملے ہوئے جن میں بچوں سمیت کئی عام شہری زخمی یا ہلاک ہوئے۔ اس جنگ میں فوجی مارے جاتے ہیں، مگر اصل قیمت ہمیشہ عوام ادا کرتے ہیں۔
سوال جو باقی رہ گیا

ان حملوں کے بعد دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ امریکہ نے کسی واضح شمولیت سے انکار کیا، جبکہ 
IAEA
 صرف جوہری نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ؟ اس کا کردار ایک رسمی بیان تک محدود رہا۔

ایران نے "شدید ردعمل" کا عندیہ دیا ہے، لیکن کیا اس کی قیادت باقی بچی ہے جو جواب دے سکے؟ یا کیا اسرائیل نے اپنی حکمتِ عملی سے واقعی ایران کو جوہری طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے؟
 اسرائیل نے ایران کی پسلیوں میں گہرے زخم دیے ہیں – کچھ جسمانی، کچھ نظریاتی۔ اب ایران کا اگلا قدم مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل طے کرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتا، بلکہ یہ ہے کہ کتنے مرے، اور کتنے اب بھی مرنے کو تیار ہیں۔


پیر، 9 جون، 2025

صاف ستھرا پنجاب



یقین کیجیے، عید الاضحیٰ 2025 کے موقع پر پنجاب میں صفائی کے انتظامات نے ہر دل کو خوش کر دیا۔ اس بار صورتحال مختلف تھی کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ذاتی دلچسپی لیکر صفائی مہم کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا تھا۔ ان کا وژن تھا کہ عید کی خوشیاں شہر و دیہات میں صفائی کی خوبصورتی کے ساتھ منائی جائیں تاکہ شہریوں کو نہ صرف سکون ملے بلکہ ماحول بھی صاف ستھرا ہو۔

وزیر اعلیٰ کی نگرانی میں پنجاب بھر میں صفائی کے ایک منظم اور وسیع منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ 180,000 سے زائد صفائی کارکنوں کو متحرک کیا گیا اور 36,000 سے زائد گاڑیاں، ہزاروں بیلچے اور ہینڈ کارٹس ہر شہر کے کونے کونے تک پہنچائے گئے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک نظم و ضبط اور سنجیدگی کی علامت تھی جو وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ممکن ہو سکی۔

لاہور ڈویژن میں خصوصی توجہ دی گئی جہاں 754 کیمپ قائم کیے گئے تاکہ شہری آسانی سے قربانی کی آلائشیں جمع کرا سکیں۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر صفائی کے عمل کی نگرانی کے لیے سیف سٹی اتھارٹی اور ڈرون کیمرے بھی استعمال کیے گئے، تاکہ کوئی کمی بیشی نہ رہے۔ بدبو کو ختم کرنے کے لیے لاکھوں لیٹر گلاب کے پانی اور فینائل کا استعمال ہوا، جو اس مہم کی باریکیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ صفائی مہم محض ایک انتظامیہ کی کوشش نہیں بلکہ ایک وژن تھی جس نے پنجاب کو صاف ستھرا اور خوشبودار بنایا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذاتی دلچسپی نے ثابت کیا کہ اگر قیادت سنجیدگی سے کام کرے تو معمولی مسائل بھی عظیم کامیابیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس عید پر، پنجاب نے نہ صرف قربانی دی بلکہ صفائی کے جذبے کی بھی قربانی دی، جس کا سہرا بلا شبہ وزیر اعلیٰ کی قیادت کو جاتا ہے۔

یہی جذبہ ہے جو ہمارے معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا، اور یہی مثال باقی صوبوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔

اتوار، 8 جون، 2025

دودھ سے گولی تک




کبھی گائے دودھ دیتی تھی، آج گولیاں دیتی ہے۔ کبھی گائے کا تقدس ماں کے رتبے تک محدود تھا، آج وہ مسلمانوں پر موت کا پروانہ بن چکی ہے — کہیں دادری میں اخلاق مارا جاتا ہے، کہیں فلسطین میں مسجد اقصیٰ کے گرد سرخ گائیں گردش کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے: یہ تقدس کب زہر بن گیا؟ اور کیسے ہنود و یہود نے اس "مقدس جانور" کو مسلمانوں کے خلاف اتحاد کی بنیاد بنا دیا؟
بھارت میں گائے کو "گاؤ ماتا" کہا جاتا ہے۔ رگ وید سے لے کر منوسمرتی تک ہندو مت کی کتب گائے کو دھرتی کی ماں، رزق کی دیوی، اور امن کی علامت قرار دیتی ہیں۔ مگر جب بی جے پی نے اقتدار سنبھالا تو یہی گائے امن کی جگہ نفرت کی علامت بن گئی۔ اخلاق احمد ہو، پہلو خان ہو، یا جنید — سب کے قاتل یہی گائے کے رکھوالے تھے۔
کشمیر میں تو حد ہی ہو گئی: عید پر قربانی کرنے کی کوشش پر گھروں پر چھاپے، مسجدوں کے سامنے گاؤ رکشکوں کی پہرہ داری، اور گوشت کھانے پر دہشت گردی کے الزامات۔
اب آ جائیے فلسطین کی طرف۔ وہاں بھی ایک گائے کا ذکر ہو رہا ہے — سرخ گائے، یعنی "Red Heifer"۔ یہ وہی گائے ہے جسے یہودی عقیدے میں پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کتابِ گنتی کے مطابق اس گائے کی راکھ سے طہارت حاصل کی جاتی تھی۔
مگر بات یہیں نہیں رکی۔ صہیونی گروہوں نے اعلان کیا کہ مسجد اقصیٰ کے مقام پر تیسرا ہیکل بنانے سے پہلے سرخ گائے کی قربانی ضروری ہے۔ چنانچہ امریکہ سے پانچ سرخ گائیں منگوائی گئیں، اور انہیں اسرائیل لا کر خاص مقام پر رکھا گیا۔
یہ ایک مذہبی حربہ نہیں، ایک سیاسی تلوار ہے — جس کا ہدف صرف مسجد اقصیٰ نہیں، بلکہ پورا فلسطین ہے۔
 افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل ان معاملات میں ایک دوسرے کے اتنے قریب آ چکے ہیں کہ ان کا اتحاد صرف دفاعی نہیں، نظریاتی ہو چکا ہے۔ دونوں ریاستوں کا ہدف مسلم اکثریتی علاقے — کشمیر اور فلسطین — اور دونوں نے اپنے اپنے مقدس بیانیے — گائے اور ہیکل — کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ہتھیار میں بدل دیا ہے۔
گزشتہ برس ایک کشمیری نوجوان نے کہا:
"بھارت کہتا ہے کہ یہ گائے مقدس ہے، ہم کہتے ہیں کہ ہماری جان بھی مقدس ہے، مگر گائے بچ جاتی ہے اور ہم مر جاتے ہیں۔"
یہی آواز فلسطین کے ایک بچے کی زبانی بھی سنی جا سکتی ہے:
"یہ سرخ گائے جب بھی شہر میں آتی ہے، ہمیں لگتا ہے ہماری مسجد کی چھت ہٹائی جائے گی۔"
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہندو قوم پرستی اور صہیونی تحریک دونوں نے اپنے مذہب کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا؟ یا یہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے؟ اگر ہم تاریخ پڑھیں، سیاست سمجھیں، اور آج کے عالمی اتحاد و معاہدات کا تجزیہ کریں، تو ہمیں یہ واضح نظر آتا ہے کہ گائے اب صرف جانور نہیں — یہ ایک نظریاتی بارود ہے جس کے ایک سرے پر بھارت، دوسرے پر اسرائیل، اور درمیان میں صرف مسلمان۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم "مقدس" اور "مسلح" کے فرق کو سمجھیں۔ گائے کو مذہب کا تقدس تو مل سکتا ہے، مگکسی انسان کا خون بہانے کا جواز نہیں۔۔۔ 
کشمیر میں نہ فلسطین میں

جمعرات، 5 جون، 2025

باریک واردات

باریک واردات

سوشل میڈیا، جہاں ایک طرف عوامی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہے، وہیں دوسری طرف اب یہ غلط اطلاعات اور جھوٹی خبروں کا سب سے بڑا اڈہ بن چکا ہے۔ آج کل ایک خاص طرز کی وارداتیں انھی پلیٹ فارمز پر نظر آ رہی ہیں جنہیں اگر بغور نہ دیکھا جائے تو وہ قوم کے جذبات کو توڑنے، اداروں کے اعتماد کو مجروح کرنے اور معاشرے میں فرقہ واریت پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

چند دن قبل ایک ایسی ہی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ایئر فورس کے ایک پائلٹ کو امریکہ میں کسی تقریب کے دوران تمغے سے نوازا گیا ہے۔ خبر میں نہ کوئی تصدیق تھی، نہ حوالہ۔ مگر سوشل میڈیا کے "رضاکاروں" نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا، تصاویر شیئر ہوئیں، مبارک بادیں دی گئیں، اور قوم جذباتی فضا میں بہک گئی۔

اس پر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور باخبر محترم جناب افضل چوہان نے، جو مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، ایک ہوش رُبا ویڈیو پیغام جاری کیا۔ ان کے مطابق نہ تو پاکستان ایئر فورس نے اس خبر کی تصدیق کی ہے، نہ حکومت نے۔ بلکہ ایئر فورس نے اپنے متحرک پائلٹوں کی باقاعدہ تصاویر جاری کیں جن میں وہ "نامزد" پائلٹ شامل ہی نہیں تھے۔

جناب افضل چوہان نے نشان دہی کی کہ یہ عمل دراصل ایک خاص ذہنیت کی جانب سے پھیلایا گیا بیانیہ ہے۔ امریکہ میں ایک مخصوص کمیونٹی کے لیے تمغہ دینے کی بات کو جان بوجھ کر وائرل کیا گیا تاکہ پاکستانی اداروں میں تفریق اور عوام میں تاثر سازی کا کھیل کھیلا جا سکے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ واردات صرف اسی واقعے تک محدود نہیں۔ سرگودھا، جو اپنے مالٹوں اور پاک فضائیہ کے اہم بیس کی وجہ سے معروف ہے، وہاں حال ہی میں ایک قتل کا واقعہ پیش آیا۔ تحقیقات کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا، ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی، مگر سوشل میڈیا پر فوراً اسے ایک مذہبی اقلیت سے جوڑ دیا گیا۔ مقصد؟ وہی — جذبات بھڑکانا، تعصب پیدا کرنا، اور قومی وحدت کو ٹھیس پہنچانا۔

یہی واردات بھارت پلوامہ واقعے میں کر چکا ہے۔ تحقیق سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر "رضاکاروں" نے ایک مخصوص بیانیہ اتارا اور بھارت میں جنگی جنون پھیلایا، نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان پر چڑھائی کر دی — اور بعد ازاں دنیا کے سامنے شرمندگی اٹھائی۔

آج پاکستان ایک بار پھر نشانے پر ہے۔ 10 مئی کو پاکستان نے عالمی سطح پر جو سفارتی، اخلاقی اور عسکری کامیابیاں حاصل کیں، انہیں ماند کرنے کے لیے یہ باریک وارداتیں ڈالی جا رہی ہیں۔ مخصوص ذہن رکھنے والے گروہ نہ صرف متحرک ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اپنا اثر بھی جما چکے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ یہ وارداتیں کون کر رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

کیا ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہم ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں؟ کیا ہمیں سیکھ لینا نہیں چاہیے کہ جذباتی ردعمل، بغیر تحقیق کے، ہمیں غیر ارادی طور پر دشمن کے بیانیے کا حصہ بنا دیتا ہے؟

یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم بالغ نظری کا مظاہرہ کریں۔ اداروں کو کمزور کرنے والی باتوں کا حصہ نہ بنیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ:

فارورڈ کرنے سے پہلے سوچیں

اگر ہم نے اس روش کو نہ بدلا تو کل یہی فیک نیوز، یہی افواہیں، ہمارے امن، ہماری یکجہتی اور ہمارے قومی وقار کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گی۔


انڈس واٹرز ٹریٹی کا دوطرفہ معاہدہ بننا: بھارت کے لیے ایک قدم آگے؟

 



 انڈس واٹرز 

ٹریٹی 

بین الاقوامی معائدہ سے دو طرفہ  

انڈس واٹرز ٹریٹی، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا، برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم دستاویز ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پانی کے منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے بلکہ خطے کی سیاسی کشیدگی میں بھی ایک نہ ختم ہونے والا موضوع رہا ہے۔ آج بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو ایک بین الاقوامی دستاویز سے ہٹا کر دوطرفہ سمجھوتے میں تبدیل کرنے کی خواہش سامنے آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت کو اس تبدیلی سے کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟

سب سے پہلے بات کریں تو، بھارت کو اس تبدیلی سے اپنی پانی کی پالیسیوں پر زیادہ خودمختاری حاصل ہو گی۔ فی الوقت، انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت عالمی بینک اور دیگر ثالث فریق پانی کے منصوبوں پر نظر رکھتے ہیں، جس سے بھارت کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ دوطرفہ معاہدہ بھارت کو اس بوجھ سے آزاد کرے گا اور وہ اپنی زمینی حدود میں پانی کے وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے گا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت کو پانی کے منصوبوں کی منظوری اور عملدرآمد میں تاخیر کا سامنا کم ہوگا۔ بین الاقوامی ثالثی کے بغیر بھارت تیزی سے فیصلہ سازی کر سکے گا، جو کہ زرعی، صنعتی اور توانائی کے شعبوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ خاص طور پر، بھارت ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس اور نئے ڈیم بنانے میں زیادہ آزاد ہو گا، جس سے توانائی کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

اسی کے ساتھ، بھارت کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بھی اس اقدام کے پیچھے کارفرما ہیں۔ پاکستان کے ساتھ دیرینہ کشیدگی اور دہشت گردی کے الزامات نے بھارت کو محتاط بنا دیا ہے کہ وہ پانی جیسے حساس موضوع پر عالمی ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کرے۔ دوطرفہ معاہدہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ براہِ راست اور مضبوط مذاکرات کا موقع دے گا اور اسے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے زیادہ اختیار دے گا۔

آخر میں، یہ تبدیلی بھارت کو خطے میں اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع بھی دے سکتی ہے۔ عالمی ثالثوں کے بغیر بات چیت کا مطلب ہے کہ بھارت اپنے مفادات کو بہتر طریقے سے منوا سکے گا اور پاکستان پر دباؤ بڑھا سکے گا۔

یقیناً، اس تبدیلی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل اور خطے میں پانی کی تقسیم کے مسئلے پر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ مگر بھارت کے لیے یہ قدم اپنی پانی کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو مقدم رکھنے کی واضح ترجیح ہے۔

لہٰذا، انڈس واٹرز ٹریٹی کو دوطرفہ معاہدے میں تبدیل کرنا بھارت کے لیے ایک ایسا سیاسی اور اقتصادی حربہ ہو سکتا ہے جو اسے مستقبل کے پانی کے انتظام اور علاقائی سیاست میں ایک مضبوط پوزیشن دلائے۔

بدھ، 4 جون، 2025

معاشرتی دوغلاپن




پاکستانی معاشرہ روایات، مذہب، اور قانون کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اس امتزاج میں ایک ایسا ادارہ بھی شامل ہے جو بظاہر محبت، ہم آہنگی اور رفاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے — یعنی "شادی"۔ مگر جب اس ادارے کے پردے ہٹتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے: عورت کو آج بھی ایک مکمل انسان، برابری کے حقدار فریق اور خودمختار شریکِ حیات تسلیم نہیں کیا جاتا۔
اسلام نے واضح طور پر مرد و عورت دونوں کو برابری کی بنیاد پر مقام دیا۔ قرآن مجید میں بدکاری کے جرم میں مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں سزا مقرر کی گئی ہے:
"الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ"
(سورۃ النور، آیت 2)
لیکن ہمارے ہاں جرم کی تلوار صرف عورت کی گردن پر چلتی ہے۔ اس کی عصمت پر سوال اٹھتا ہے، اس کی تربیت پر انگلیاں اٹھتی ہیں، اور بدنامی صرف اس کے حصے میں آتی ہے۔ مرد بچ نکلتا ہے، جیسے وہ اس معاشرتی کھیل کا نگران ہو۔
صدر ایوب کے دور میں جب مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 نافذ ہوا، تو امید بندھی کہ شاید اب معاشرہ قانون کی سمت بڑھے گا۔ اس قانون میں 16 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی پر پابندی لگائی گئی اور مرد کو دوسری شادی کے لیے اجازت نامہ لازم قرار دیا گیا۔ لیکن آج، 60 سال بعد بھی ان قوانین پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔ گویا رسم و رواج کا راج قانون پر حاوی ہے۔
اکثر سنتے ہیں کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کو ازدواجی زندگی کی تربیت دی جانی چاہیے۔ مگر یہ بات صرف تقریروں میں زندہ ہے۔ نہ اسکولوں میں کوئی نصاب ہے، نہ دینی مدارس میں کوئی شعور۔ مغرب کو ہم کافر کہہ کر رد کر دیتے ہیں، مگر وہاں شادی سے پہلے تربیت لازمی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں شادی زندگی کی پہلی اور آخری بڑی تبدیلی ہے — اور سب کچھ خود سیکھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جیسے تجربہ گنیہ پگھلا دے گا۔
ایک اور تضاد دیکھیے: مرد کو گھر کا سربراہ کہا جاتا ہے، خواہ وہ مالی طور پر صفر ہو اور عورت کے ہاتھوں سے ہی چولہا جلتا ہو۔ قرآن کہتا ہے:
"الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَي النِّسَاءِ بِمَا أَنْفَقُوا..."
(سورۃ النساء، آیت 34)
مگر ہم نے قوامیت کو "حاکمیت" میں بدل دیا۔ مرد کی جنسی، مالی اور نفسیاتی ضروریات کو اولیت دی جاتی ہے۔ عورت کا وجود صرف اس کی "عفت" سے وابستہ کر دیا گیا ہے، اور اسے گھر کی عزت کا ستون بنا دیا گیا — چاہے مرد خود بے راہ روی کا شکار ہو۔
شادی کو بھی دو دلوں کا بندھن نہیں بلکہ دو خاندانوں، ذات برادریوں، اور سماجی طبقات کا "معاہدہ" بنا دیا گیا ہے۔ جہیز، رسم، رواج، وٹہ سٹہ، خاندان کی عزت — یہ سب شادی کے اصل مقصد سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔
کیا عورت مکمل انسان نہیں؟ کیا اس کی خواہشات، رائے، اور خودمختاری بے معنی ہیں؟ کیا ہم اپنی بیٹیوں کو صرف پردے، حیا اور شرم کے اصولوں سے آراستہ کریں گے، یا انہیں شعور، تعلیم اور فیصلہ سازی کا حق بھی دیں گے؟
ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ اسلام کی اصل تعلیمات کے مطابق؟ یا اس سماجی سانچے کے مطابق جو مرد کو خدا اور عورت کو گناہ سمجھتا ہے؟
یہ سوال صرف عورتوں کے لیے نہیں، بلکہ ایک بہتر معاشرے کے لیے ہے۔
شادی اگر برابری، محبت اور شعور پر مبنی ہو، تو یہ زندگی کا حسین ترین تجربہ بن سکتی ہے۔ ورنہ یہ ایک جبر کا نظام ہے — جس سے صرف ظالم کو سکون ہے، 
مظلوم کو نہیں۔
تحریر: دلپزیر

شادی کی عمر کے بارے میں ملک میں جاری بحث میں چند بنیادی حقائق کوپس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ اس کالم میں ان ہی پوشیدہ حقائق کو منظر عام پر لانا مقصود ہے

جمعرات، 27 اگست، 2020

جواب آں غزل



میرے اس فیس بک کے اکاونٹ میں جب دوستوں کی تعداد ۵ ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے تو نئے دوستوں کو گلہ پیدا ہوتا ہے کہ میں ان کو 
Add
 نہیں کر رہا ۔ اس گلے سے بچنے کے لئے میں وقت کے ساتھ ساتھ چھانٹی کا عمل جاری رکھتا ہوں لیکن اس کے با وجود اس لسٹ میں بہت سے ایسے افراد ہیں جو معاشرتی اور دینی حوالے سے مجھ سے مختلف سوچ رکھتے ہیں مگر ہم ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کر کے بات کو سنتے اور کچھ حاصل کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ ْ اختلاف باعث رحمت ْ اسی وقت تک ہے جب ہماری نیت رحمت کے حصول کی ہو البتہ نیت اگر فرقہ پرستی اور اپنی سیاسی دوکان چمکانے کی ہو تو ایسی پوسٹ کی حقیقت کی طرف اشارہ کر دینا میرا اخلاقی منصب ہے۔۔
میرے ایک دوست نے اسلام آبا د میں میرے پیر و مرشد کے سانحہ ارتعال پر میرے لکھے ہوئے ایک  شذرے کو بنیا د بنا کر  بلند درگا ہ گولڑہ شریف کے بلند کنگروں پر سنگ باری کی کوشش ہے اور قبلہ پیر مہر علی شاہ کے صاحبزادگان کے بارے میں اپنی ذہنی پستگی اور زہر آلودہ زبان کو دراز کرتے ہوئے لکھا ہے ْ افسوس کہ پیران گولڑہ شریف ۔۔۔ 
فتنہ قادیانیت ، اس کے ہمدردوں اور بہی خواہوں کے قلوب پر ْ گولڑہ شریف ْ نے جو چرکہ لگایا تھا لگتا ہے وہ زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس پیپ زدہ ْ چرکےْ سے بدبودار مواد خارج ہوتا رہتا ہے ۔ جو کبھی ْ انسانیتْ کے لفافے میں چھپایا جاتا ہے تو کبھی ْ مسلک ْ کے کیپسول میں اور اج کل ْ لبرل ازمْ کے پھول دار شاپر میں ڈہانپا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ْ بدبوْ کیسی ہی خوش شکل بوتل میں بند کر دی جائے ، ڈھکنا کھلنے پر گردو پیش کو کثیف ہی کرتی ہے ۔
میرا یہ نا دیدہ دوست ْ احمد رضا خان بریلوی کی حسام الحرمین کو جہالت اور فتنہ خیزیْ بتاتا ہے مگرْ سیف چشتائی ْ کا ذکر اس لیے نہیں کرتا کہ یہ گستاخون کی زبان درازیوں کی قاطع ہے۔
ہم لوگوں کہ یہ ریت رہی ہے کہ ذاتی تنقید اور شخصی یاوہ گوئی پر بھی مسکرا دیا کرتے ہیں۔ کہ ہمارے مرشد اعلیٰ ، رہبر کامل رسول اللہ ﷺ نے جو دین عطا فرمایا ہے اس دین کی میزان میں عفو درگذر، معافی اور احسان کا پلڑا سدا انکسار کی طرح جھکا ہی رہا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ جب خاتم المرسلیں کا خون مبارک نعلین مبارک کو تر کر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتہ نازل ہو کر منتظر حکم نبی ﷺ تھا تو ہمارے رحیم آقا کے لبوں سے وہ تاریخ ساز خیر خواہی ادا ہوئی کہ طائف والوں کی نسلیں سرخرو ہو رہی ہیں۔ہم اسی تعلیم کو لے کر چل رہے ہیں۔ ہم اس شجاع علی ابن طالب کے پیرو کار ہیں جو دشمن کو مغلوب کر لینے کے بعد ذاتی عناد کے شک پر عدو کے سینے سے اتر آتے ہیں ۔ ہم نے سبق یہ سیکھا کہ اصل شجاعت غصے کی حالت میں بھی حق کو تھامے رکھنے میں ہی ہے۔ 





گولڑہ شریف کے مکین رحمت العالمین کی تعلیمات کے مبلغ ہیں، ان کی نسبتیں علی سے ہوتی ہوئی مہر علی سے گذر کر یہاں تک پہنچی ہیں ۔ تدبر، فراست رواداری ن کا ہی نہیں ان کے متعلقین کا بھی زاد راہ ہے۔ اور قبلہ عالم حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف کے کنگروں کو اس قدر بلند فرما گئے ہیں کہ مسلکی بغض وعناد کا مارا لکھاری کیسی بھی سنگ باری کی کوشش کر لے ، اس کے سنگ کا علم و حکمت اور فیضان نبی ﷺ کے بلند کنگروں تک رسائی پانا ممکن ہی نہیں ہے۔۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکتے ہیں وہ اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کے عمل پر غصہ کیا جائے۔ یہ صاحب ْ افغانستان کے ملا عمرْ اور ْ کفر کو بر سر عام برہنہ کرنے والا حق نواز جھنگھو ی ْ کو اپنا مسلکی سرمایہ جانتے ہیں، ہمیں کیا اعتراض ہے ، البتہ شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا کاندہلوی کے بارے ، جو امت مسلمہ کے اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے ، مدعی کا دعویٰ حقائق کے بر 
خلاف  ہے ۔کہ انھوں نے اپنی مشہور زمانہ کتاب فضائل اعمال  میں فضائل صحابہ کے صفحہ 
142
 پر اللہ کا فرمان نقل فریایا ہے ْ جو میرے کسی ولی کو ستائے اس کو میری طرف سے لڑائی کا اعلان ہےْ اور ان کی اسی کتاب کے اصل نسخہ میں وہ عبارت حذف کر دینا جو نبی اکرم کی شان میں انھوں نے اپنے ایمان کا حصہ بتائی ہیں اور یہ ترمیم شدہ ایڈیشن ان ہی کے ْ ہاںْ سے پرنٹ شدہ ہے ورنہ تبلیغی جماعت والے تو عکسی ایڈیشن ہی استعمال کرتے ہیں۔ شیخ الحدیث محمد ذکریا کاندھلوی ، جن کو اس گئے گذرے دور میں جنت البقیع میں دفن ہونے کا شرف حاصل ہے,  کی تما م تصانیف کی ایڈٹنگ کر لیں اس کے بعد ہی آپ ان کو حق نواز جھنگوی کا ہم مسلک بتاہئے گا۔ 
مولانا اشرف علی تھانوی کو اہل تصوف کا دشمن بنا کر پیش کرنے والے ان کی مثنوی روم کی شرع میں لکھی درجن سے زیادہ جلدوں کو کہاں چھپائیں گے اور حضرت امداد اللہ مہاجر مکی کی ذات پر یاوہ گوئی پر اتنا ہی عرض ہے کہ اپنی بساط سے بڑھ کر اونچی جگہ ہاتھ مارنے کی کوشش میں بعض اوقات بے وقوف گر کر اپنی ریڑھ کی ہڈی ہی کا نقصان کر بیٹھتا ہے۔
عرض ہے ہم نے ستر سالوں میں سوائے تنقید کے کچھ نہ کیا کہ یہ کام سہل ترین ہے اور رنگ بھی چوکھا لاتا ہے ۔ اب بطور تجربہ ہی سہی ، تنقید کو چھوڑ کر تعمیر کی بات کریں۔ اہل حدیث کافر، ادیوبندیوں کے
22
  فرقے کافر، بریلویوں کے
4
  فرقے کافر،

 شیعوں کے 
21
 فرقے کافر۔   اور یہ معرکہ تنقیدی ذہن کے مولویوں ہی کا مارا ہوا ہے۔

ہم میں ایک مسلمان,  نام اان کا اشفاق احمد تھا انھوں نے بجا فرمایا تھا کہ ہم مسلمان ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں یہ غیر مسلم ہی ہیں جو سب کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ 
کبھی سر سے تنقیدی ٹوپی اتار کر، مسلکی دھاری داررومال سے منہ صاف کر کے ، اس بات پر غور کی جیے گا کہ لفظ مولوی جو استا د کا ہم معنی تھا ۔ معاشرے میں گالی کیوں بن گیا۔ امام مسجد ، جو ہمارے سروں کا تاج ہوا کرتا تھا ، اس کے لیے دو رکعت کے امام کی اصطلاح کسی کالجیٹ بابو نے ایجاد نہیں کی ہے۔ اور اب مولوی کو مولبی بنانے میں بھی کسی لبرل نے حصہ نہیں ڈالا ہے۔
اس حقیقت کو کون جھٹلائے گا کہ دنیا کی محرومی اور علم نافع کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اور رہے گا۔ آپ کو رہنے کے لیے اٹیچڈ باتھ والا بیڈ روم چاہیں ، ڈرائنگ روم قالینوں اور فانوسوں سے آاراستہ ہو ، علم برائے فروخت کا کتبہ سیائیڈ ٹیبل پر سجا ہو، گاڑی ائر کنڈیشنڈ ہو ، عباء و جبہ لشکارے مارے اور منہ جب بھی کھلے آگ برسائے۔ اور توقع یہ ہو کہ آپ کو سب سے بڑا مسلمان سمجھا جائے کہ آپ کے پاس جنگجو لوگوں کا جتھہ ہے جو کلاشنکوف کی زبان میں بات کرتا ہے۔ اور طاقت سے اسلام کا اپنا ورژن صیح ثابت کرنے کے لئے انسانی لاشے گرا کر کامیابی کا جشن مناتا ہے ۔ ہر کمزور آپ کو منافق اور محمد ﷺ کا نام لیوا آپ کو بدعتی نظر آتا ہے۔ 
آپ کو ْ گمراہْ اور ْ جاہل ْ لوگوں کے دھرنے میں ناچ اور گانا ہی نظر آیا ۔ جان کی امان ہو تو پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کے جشمے کا نمبر کیا ہے۔
آپ نے یہ شعر بھی جڑ دیا ہے
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

بھائی ہم امن پسند مسلمان اور پاکستانی ہیں ، مسلمانوں کے سب فرقے ہی نہیں غیر مسلم بھی ہمارے لئے محترم ہیں، ہمیں اپنے رحمت العالمین بنی ﷺ کی تعلیمات عزیز ہیں۔ ہم اول و آخر مصطفوی ہیں اور اس پر ہم شرمندہ نہیں ہیں ، ہمیں خنجر اٹھانے کی ضرورت ہے نہ تلوار ، ہمار ا ایک مقصد حیات ہے اور وہ کتاب میں درج ہے جو محفوظ ہے اور اس کا محافظ رب محمد ﷺ خود ہے ۔
آخر میں ایک واقعہ :
یہ
1984
کی بات ہے ، میں حکومت کویت کا ملازم تھا ۔ بغداد شریف سے درگاہ غوث پاک کے سجادہ نشین کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا ، محفل میں عرب بھی شامل تھے ۔ ایک عمر رسیدہ شخص نے دوران گفتگو کہا ْ کوئی شخص آپ کے پر دادا کی بے ادبی کرے تویہ شدید تر ہے اس سے کہ کوئی آپ کے والدکی بے ادبی کرے ۔ مگر بسبب زمانی طور پر قریب تر ہونے کے ، آپ والد کی بے ادبی پر زیادہ رد عمل کا اظہار کریں گے ْ

ہمارے پیر اور مرشد ہمارے استاد ہوتے ہیں، ہم استادوں کی جوتیاں سیدہی کر کے ان سے علم پاتے ہیں اور ادب سیکھتے ہیں۔ ان کا رتبہ والد ہی کی طرح کا ہوتا ہے اور والد زمانی طور پر پڑدادا سے قریب تر ہوتا ہے۔ 

پیر، 18 مئی، 2020

ہم سے پنگا ۔۔ ناٹ چنگا


پاکستان اور امریکہ میں وہی فرق ہے جو علامہ خادم حسین رضوی اور اور پاکستان کے مقتدرادارے میں ہے ، علامہ صاحب تاجدار ختم النبوت کا علم لے کر اٹھے اور راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد میں دھرنا نمبر ایک  دیا عاشقان رسول ﷺ میں سے درجن بھر کا خون بہا ، ایک وفاقی وزیر کی قربانی منظور ہوئی ، الیکشن میں حصہ لیا اور اب ان کے پیروکار چھوٹے علاموں کا کردار اتنا رہ گیا تھا کہ وہ جمعہ کے اجتماع کے بعد دعا مانگتےتھے  ْ یاالہی، گستاخان رسول ﷺ پر ٓآپ کا قہر نازل ہو چکا مگر ابھی ان میں جان باقی ہے ، کربلاء کے شہیدوں کے صدقے ان کو مکمل نیست ونابود فرما اور نئے حکمرانوں کو توفیق بخش کہ وہ پانچ سال تک تیرے دین کی خدمت کر سکیں ۔ مولا کریم ان کو گستاخی رسول کی ہمت نہ دینا ورنہ ہمارے امیر المجاہدین کسی وقت بھی سر پر کفن باندھ کر نکل سکتے ہیں ْ 
مقتدر ادارہ دھرنے کے دوران غازیوں کا پشت بان بنا تھا ۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے ایک وفاقی وزیر کی قربانی قبول فرما کر ثابت کیا تھا کہ  گستاخ اپنے انجام کو پہنچ چکے اور غازیوں کو واپشی کے لیے زاد راہ دے کر فارغ کر دیا دیا گیا تھا ۔ یہ ادارہ  عمران خان کے دھرنے کے دوران انگلی تو کھڑی نہیں کرتا مگر عوام کو کھڑا نظر آتا ہے۔اور عوام سے زیادہ خواص موجودگی سے اپنی آئندہ کی راہ منور کرتے ہیں۔
سیاست میں " کلہ" عوامْ ہوا کرتے ہیں،امریکی سیاست دانوں کا ْ کلہ ْ کس قدر مضبوط ہے اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے مگر مجھے یہ کہنے میں باک نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرے میں کم ہی لوگوں کو امریکی سیاستدانوں کے کلے کی مظبوطی کا ادراک ہے
پاکستان میں عوام کا تجربہ یہ ہے کہ اختیارات کا محور و مرکز ْ طاقت ْ ہی ہے۔ اور طاقت کے لحاظ سے امریکہ کے سیکرٹری پاکستان کے وزیر اعظم کو فون مبارک باد کا فون کریں تو اخباروں میں سرخی اور ٹی وی پر ہیڈ لائنس بنتی ہیں۔اور پاکستان کے وزیرخارجہ کے کہنے پر ہمار ا دفتر خارجہ کوئی وضاحت بھی جاری کرے گا تو اس کو ملک کے اندر نہ باہر سنجیدہ لیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمان کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ہدائت کے بعد امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان میں اب اس کی ایک فون پر لیٹ جانے والوں کی حکومت نہیں ہے۔ معلوم نہیں ڈاکڑ  صاحب کے ذہن میں لیٹ جانے والوں کے بارے میں کس کی تصویر ہے مگر مشرف اینڈ باقیات کے پیٹ میں اس بیان سے ایسا مروڑ اٹھاتھا جو ڈاکٹر کے کھڈے لائن لگ جانے کے بعد ہی ٹھیک ہوا ۔وزیر اعظم  وزارت خارجہ گئے اور بیان دیا کہ ْ کسی بھی ملک سے خواہ مخواہ کا الجھاو نہیں چاہتے . اور جوشیلے پارٹی ورکروں کو مناسب پیغام دیا۔یاد دھانی کراتے رہنا ہمارافرض ہے کہ امریکہ کا ْ کلہْ پاکستان میں بھی مضبوط ہے اور اس کلے کے رکھوالے کلے کی مضبوطی کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ نواز شریف کی جیل یاترا کے بعد جوشیلے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی جماعت کوئی بھی ہو، حکمران جس نام کا بھی ہو، عوام کا ووٹ جس کے پاس بھی ہو پہلا اور آخری پیغام یہی ہے کہ کھاو پیو موج اڑاو مگر ْ ہم سے پنگا ۔۔ ناٹ چنگا ْ    

پیر، 9 ستمبر، 2019

اوئے شرم کرو

پاکستان کے فوجی جوان جو غازیوں کی زندگی جیتے ہیں اور جب وطن پر قربان ہو جاتے ہیں تو ان کے گاوں اور محلے والے ان کی تربت پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں۔ ہماری بہترسالہ فوجی تاریخ قربانیوں اور معجزوں سے عبارت ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ایک تن تنہا پاکستانی مجاہداللہ اکبر کا نعرہ لگا کر دشمن کے دو سو فوجیوں کو گھیر لایا تھا۔ 

سولہ دسمبر ۱۹۷۱ کی شام کوئی پاکستانی اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ ہمارے ۹۲،۰۰۰ فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔مگر ایسا ہوا اور ایسا کرنے والا اس وقت کا کمانڈر انچیف اور ایسٹرن کمانڈ کا جنرل تھا۔ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی تو اپنا پستول دشمن جنرل کے حوالے کر کے قید ہو چکا تھا مگر راولپنڈی میں کمانڈر انچیف جنرل آغا محمدیحیی خان سے جب زبردستی استعفیٰ لیا گیا تو وہ شراب کے نشے میں دہت تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید بن معاویہ شرابی تھااور شراب کے نشے میں چھڑی سے ایک متبر ک اور پاکیزہ کٹے ہوئے سر کو ٹھکورا تھا۔ یہ چھڑی بڑی ظالم شے ہے تاریخ ہی نہیں جغرافیہ بھی بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ڈہاکہ کے پلٹن میدان میں نیازی سے پستول لینے سے بھی پہلے اس کی چھڑی لے لی گئی تھی۔جب مغربی پاکستان میں چھڑی کے خلاف بغاوت ابھری تو یہاں بھی چھڑی والے سے چھڑی لے لی گئی۔مگر پاکستان کے فوجی جوانوں کے دلوں میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم جناب ذولفقار علی بھٹو شہید نے مغربی پاکستان میں انڈیا کے بارڈر پر کھڑے ہو کر فوجی جوانوں سے کہا تھاکہ یہ شکست فوجی شکست نہیں ہے بلکہ سیاسی شکست ہے۔ یہ بھٹو کا نعرہ تھا کہ ہم گھاس کھائیں گے مگر اپنا ایٹم بم بنائیں گے۔فوج ہتھیاروں کے بل بوتے پر لٹرتی ہے اور اسے جذبہ اپنی قوم مہیا کرتی ہے۔ہتھیار اپنا ہونے کا فلسفہ ۱۹۴۷ ہی میں پاکستانیوں کو سمجھ آ گیا تھا جب حیدر آباد دکن پر بھارت نے حملہ کیا تو نظام نے جو نقد رقم دے کر بندوقیں خریدیں تھیں میدان عمل میں ناکارہ ثابت ہوئیں۔ اس وقت زمینی حالات یہ ہیں کہ ہماری فوج دنیا کی نمبر ا ہو یا نہ ہو مگر سبز ہلالی پرچم کے لیے چیر پھاڑنے کو بے تاب ہے۔ ۲۲ کروڑ لوگ ان کی پشت پر صرف زبانی نہیں کھڑے بلکہ نصف صدی تک تین نسلوں نے گھاس کھا کر اپنے فوجیوں کے لیے وہ بندوق تیار کر کے رکھی ہے۔جو چلے تو چاغی کے سب سے بڑے پہاڑ کو خاکستر کر کے رکھ دے اور دنیا بھر کے جنگی ماہرین اس بندوق کے موثر ہونے کی گواہی دیں۔ 

ہماری فوج وہ ہے جو تین دہائیوں سے دشمنوں سے نبردآزما ہے۔ ہماری دو نسلیں تو پیدا ہی دہماکوں کے دوران ہوئی ہیں اور بموں سے کھیل کر جوان ہوئی ہیں۔ ہمارے پاکستان کے بوڑہے اپنے جوان بیٹوں کے لاشوں کو دفنا کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جوان خون وطن کی مٹی میں ہی جذب ہوا ہے۔
سابقہ ایک سال میں اس ملک خداداد پر کون سا کالا جادو کیا گیا ہے کہ فوجی جوان حیران ہیں کہ ان کا دشمن کون ہے؟

عوام یہ جان کر دانتوں میں انگلی دے لیتی ہے کہ ووٹ کے ذریعے دشمن کو شکست فاش دی جا چکی ہے۔ پاکستانی عوام جو اداروں سے مایوس ہو چکی ہے سوائے پاک فوج کے، حیران ہی نہیں پریشان بھی ہے۔ اور اس کی پریشانی کا سبب کوئی راز نہیں ہے۔ الیکشن کے بعد جو لوگ عوام پر مسلط کیے گیے ہیں۔ وہ حکمران چور اور ڈاکو بن گئے ہیں۔عوام نان جویں کر ترس رہی ہے۔ ۔ نوجوان اپنے مستقبل سے نا امید ہو چلا ہے۔ عام ٓدمی مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔اداروں کے کرنے کے کام سوشل میڈیا فورس کے حوالے کر دیے گٗے ہیں۔ 

اس ملک کا سب سے بڑا ڈاکو آصف علی زرداری بتایا جاتا ہے مگر اس کے دور میں تو زندگی معمول پر تھی۔ ہمساٗے رشک بھری نظروں سے ہمیں دیکھا کرتے تھے۔ دشمن منہ کھولنے سے پہلے کئی بار سوچا کرتا تھا۔ سب سے بڑا چور نواز شریف بتایا جاتا ہے۔ عدالت نے تو اس کو اقامہ پر سات سال کے لیے جیل میں بھیجا ہوا ہے۔ اگر اس نے چوری کی ہے تو برآمد کیوں نہیں ہو رہی۔مگر اس کے دور میں بھی عوام کی امید کی ڈوری مضبوط ہی ہوئی تھی۔ کیا ملک کے میں موٹر ویز کا جال نہیں بچھایا گیا۔ میڑوبسوں کا چلنا اس خطے میں منفرد کام نہ تھا۔لاہور میں اورنج ٹرین پورے بر صغیر میں نئی چیز نہیں تھی۔ اسلام آباد کا ہوائی اڈہ کیا چوری کا شاخسانہ ہے۔

۔یہی مودی جو پاکستانی حکمرانوں کا فون اٹھانے کا روادار نہیں ہے خود چل کر لاہور آیا تھا۔ اس کے پیش رو نے مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر کچھ اعترافات بھی کیے تھے۔

ہمارے حقیقت پسند وزیر خارجہ کا بیان ہے کہ پاکستانی احمقوں کی جنت میں نہ رہیں۔ حالانکہ پاکستانی خود کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔ انھیں معلوم ہے احمقوں کی جنت میں وہ رہتے ہیں جو پاکستان کو مصر سمجھ بیٹھے ہیں۔ پاکستانیوں کو تو اس بیانئے پر یقین ہے کہ فوج اور پولیس میں ہمارے بیٹے اور بھتیجے ہیں۔ عوام اور فوجی جوانوں کا خون ایک ہے۔ وہ مادر وطن کے دفاع کے لیے بندوق لے کر نکلیں گے تو پورا پاکستان ان کی دفاعی لائن کو قائم رکھے گا۔ ہمارے سپہ سالار کا فرمانا ہے کہ اخلاقی قوت عسکری قوت سے زیادہ فیصلہ کن ہوتی ہے ۔ کیا موجودہ مسلط کردہ حکمران قوم کو اخلاقی طور پر متحد کر رہے ہیں یا عوام اور افواج پاکستان میں غلط قہمیوں کے بیج ہو رہے ہیں؟

پاکستان کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ اقتدار ایک مقدس امانت ہے جسے صرف منتخب نمائندے ہی استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔یہاں تو اقتدار کو ایسے لوگ بھی استعمال کر رہے ہیں جن کو عدالتوں نے ناہل قرار دیا ہوا ہے۔ 

یہ بیانیہ البتہ قابل قبول نہیں ہے کہ جو موجودہ حکومت کے جھوٹ کو سچ نہ مانے وہ دین کا منکر اور پاکستان کا غدار ہے۔ جو انصاف کے معیار پر انگلی اٹھائے اسے عدلیہ کا دشمن گردانا جاتا ہے۔ سیاسی مخالفین کے مقدمات روزانہ کی بنیاد پر سن کر انصاف کا بول بالا کیا جاتا ہے۔ جب ملک کے اندر ظلم اور بے انصافی کا راج ہو گاتو لا محالہ قوم کی سوچ تقسیم ہو گی۔ یہ کیسا اجینڈا ہے جو عوام کو گروہوں میں بانٹ کر مایوسی کی آبیاری کررہا ہے اور امید کی ٹہنیاں کاٹ کرجلا رہا ہے۔

حالت یہ ہے کہ ایشیاء ٹائیگر بننے سے انکار کر کے عوام کے معاشی ترقی کے عزم کے سیلاب کے آگے بند باندہنے کی تبلیغ کی جاتی ہے۔ یہ موجودہ حکمرانوں کے کس منشور کا حصہ ہے۔ لوگ ووٹ منشور کو دیتے ہیں۔ یہاں منشور کو لیٹ کر رکھ دیاگیا ہے۔

غریبوں کی روزمرہ اشیائے ضرورت پر جی ایس ٹی کے نام پر دنیا کا مہنگا ترین ٹیکس لگا کر رقم جہاز والوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ عمران خان کنٹینر پا کھڑے ہو کر فرمایا کرتے تھے اوئے شرم کرو۔۔یہ تمھارے باپ کا پیشہ ہے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ ۲۰۸ ارب کس کے باپ کا پیسہ ہے جو گیس کے بلوں اور کھاد کی قیمت کے ذریعے لوٹا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کو ۴۰۰ ارب کا ٹکہ لگا یا گیا مگر سرکاری خزانے میں کچھ بھی جمع نہ ہوا۔۔

وزیر اعظم کو ایسی خبریں ٹی وی سے پتہ چلتی ہیں، حالانکہ اس صدارتی آرڈیننس کی سمری وزیر اعظم نے قصر صدارت بھیجی تھی۔ جب ٓرڈیننس جاری ہو گیا تو دو وزیروں نے پریس کانفرنس کر کے اس کے فضائل بیان کیے اورجب لوگ اس آرڈیننس سے مستفید ہو چکے تو وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا۔پھر اس نوٹس لینے پر قوالوں کی پوری پارٹی میدان میں اتاری گٗی جس کی سربراہی حفیظ شیخ نے کی۔ 

وزیر اعظم سیاست کو تجارت بنا کر تجارت پر سیاست کر رہے ہیں۔ انھیں قانون، آئین حتیٰ کہ اخلاقیات کی بھی پرواہ نہیں ہے۔جہانگیر ترین اور رزاق داود کے جہازوں میں جلنے والے ایندہن کا جب بھی لیبارٹری میں فرانزک ہوا اس میں غریب عوام کے نچوڑے خون اور محنت کے پسینے کی آمیزش ضرور ثابت ہو گی۔عوام پر ظلم، زیادتی اور بے انصافی پر حکمرانوں نے کان اور آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ ان کو احساس ہی نہیں کہ غریب جب روزمرہ استعمال کی چیز کو ہاتھ لگاتا ہے تو مہنگائی اسے ایسا کرنٹ مارتی ہے کہ اس کا دماغ شل ہو کے رہ جاتا ہے۔

حکومتی باجوں پر نئی دہن یہ بجائی جا رہی ہے کہ اس کرپشن کا سبب وہ عدالتی اسٹے آرڈر ہیں جو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے جاری کر رکھے ہیں۔ اس کے جواب میں بقول عمران خان یہی کہا جا سکتا ہے اوٗے شرم کرو مگر شرم اور حیا، قانوں اور قانون کی پاسداری سے عملی طور پر حکومت ہاتھ دہو چکی ہے۔

ہفتہ، 20 جولائی، 2019

پٹکے


پاکستان کا نظام عدل اور تفتیش کا انتظام برطانیہ کا بنایا ہوا ہے۔ برطانیہ کے تفتیشی ادارے اپنی مستعدی کی شہرت کے باوجود بعض مقدمات میں پھنس جایا کرتے تھے اور تفتیش آگے نہیں بڑھ پاتی تھی۔ اٹھارویں صدی میں لندن کی پولیس نے جرائم میں ملوث گروہوں کی سر کوبی کے لیے ادارے سے باہر کے لوگوں کو مجرموں گروہوں میں شامل کرنا شروع کیا۔ یہ لوگ گینگ میں شامل ہو کر جرم کرتے اور ساتھ ساتھ مخبری کا فریضہ بھی سرانجام دیتے۔ جب مجرم گینگ پکڑا جاتا تھا یہ مخبر بھی گرفتار شدگان میں شامل ہوتے۔انھیں عدالت میں پیش کیا جاتا۔ پولیس عدالت کے سامنے مخبر سے کیا گیا معافی کا وعدہ رکھتی اور عدالت مخبر کو رہا کر دیتی۔ اس بندوبست کا بانی لندن کا ایک قانون دان اور جج فیرنی چارلس (متوفی ۴۹۷۱)  تھا۔ لندن میں اس بندوبست کی کامیابی کے بعد اس بندوبست کو انڈیا میں بھی رائج کیا گیا۔ مگر یہاں اس بندوبست میں وہ شفافیت نہیں رہی جو لندن میں تھی۔ 
پاکستان میں فوجداری مقدمات میں یہ بندوبست اب بھی موجود ہے البتہ سیاسی مقدمات میں اس کا استعمال  ۷۷۹۱ میں جنرل ضیاء االحق کے دور میں کامیابی سے ہوا۔ اس دور میں میں فیڈرل سیکورٹی فورس کے دو افسران اور ایک سپاہی وعدہ معاف گواہ بنے۔ ان کی گواہی پر پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میں پھانسی کی سزا ہوئی۔
اس کے بعد جو بھی سیاسی کیس بنا اس میں عام طور پر وعدہ معاف گواہوں کے بیانات پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ وعدہ معاف گواہ عدالت میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہے۔اور اس مجرم کی نشان دہی کرتا ہے جس کے ایماء پر اس نے جرم کیا ہوتا ہے۔ مقدمے کے اختتام پر تفتیشی ادارہ عدالت سے اس کی معافی کی درخواست کرتا ہے۔ یہ اختیار عدالت کا ہوتا ہے کہ وہ وعدہ معاف گواہ کر بری کر دے یا اسے سزا دے۔ 
ایم کیو ایم کے رہنماء الطاف حسین پر مقدمات بننا شروع ہوئے تو صولت مرزا کا نام بطور وعدہ معاف گواہ سامنے آیا۔صولت مرزا کو گو پھانسی دے دے گئی مگر اس کی وجوہات سیاسی تھیں۔
پاکستان میں سابقہ صدر آصف زرداری کے خلاف مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کی بنیاد وعدہ معاف گواہوں کے بیانات پر رکھی گئی۔ لیاری گینگ کے مشہور کیس میں زرداری صاحب کے خلاف مقدمات ایک وعدہ معاف گواہ عزیر بلوچ کے بیانات پر رکھی گی۔جج ارشد ملک کی عدالت میں زرداری صاحب اور محترمہ فریال تالپور کے خلاف چلنے میں مقدمے میں شیر محمد کا نام بطور وعدہ معاف گاہ سامنے آیا۔ 
سابق وایر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور مقدمے میں شائد رفیع صاحب وعدہ معاف گاہ بنے۔
راجہ پرویز مشرف کے خلاف ایک وعدہ معاف گواہ رانا محمد امجد ہیں۔
اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے مقدمے کے وعدہ معاف گواہ گلزار احمد ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں 
جنرل مشرف کے دور میں اسحاق ڈار کو وعدہ معاف گواہ بنا کر نواز شریف کو سزا دی گئی تھی۔
مشرف ہی کے دور میں نواز شریف پر طیارہ اغوا کا کیس بنا تھا اس میں وعدہ معاف گواہ امین اللہ چوہدری بنے۔
موجودہ دور چوروں اور ڈاکووں کے خلاف، سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت سے صادق اور امین کی سند پانے والوں کا ہے۔ مگر تمام مقدمات کے ساتھ کوئی نہ کوئی وعدہ معاف گواہ جڑا ہوا ہے مثال کے طور پر سابقہ وزیر ریلوے 
خواجہ رفیق کے خلاف کرپشن کے مقدمے میں قیصر امیں بٹ، سلیمان شہباز کے خلاف مقدمے میں مشتاق چینی،شہباز شریف کے خلاف مقدمات میں فواد حسن فواد اور احد چیمہ، سابقہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مقدمے میں عابد سعید وعدہ معاف گواہ ہیں۔ 
پاکستان میں جتنے بھی سی ایس پی افسر وعدہ معاف گواہ بنتے ہیں وہ اپنے اعترافی بیان کے چند دنوں بعد ہی رہا ہو کر گھر واپس آجاتے ہیں۔ البتہ شہبازشریف کے خلاف مقدمات سے جڑے ایسے گواہوں کو رہا نہ کرنے کی وجوہات قانونی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشرتی ہیں۔
ٹی ٹی پی کے سابقہ ترجمان لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان کو بھی وعدہ معاف گواہ کہا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں کم از کم دو نام ایسے ہیں جنھوں نے نیب کی کوششوں کے باوجود وعدہ معاف گواہ کا پٹکا اپنے گلے میں ڈالنے سے انکار کیا ہے ایک نام کیپٹن محمد صفدر اعوان کا ہے جنھوں نے نواز شریف کے پناما کیس میں اور دوسرا نام عبدالجبار قدوائی کا ہے جنھوں نے آصف زرداری کے خلاف بے نامی مقدمات میں وعدہ معاف گاہ بننے سے انکار کیا۔
وعدہ معاف گواہوں کے بارے میں پاکستان کے ماہر قانون سابقہ جسٹس ناصر الملک صاحب نے ایک مقدمے کے فیصلے میں لکھا تھا کہ ایسے گواہوں کے بیان پر انحصارکر کے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔


اتوار، 3 مارچ، 2019

تلوار سےایٹمی میزائل تک


یہ تصویرابو دھابی میں منعقد ہونے والے، او آئی سی کے وزراء خارجہ کے 46 واں اجلاس کے اپنے اختتام کو پہنچنے کے بعد رسمی طور پر میڈیا کو جاری کی گئی ۔ تصویر کے کیپشن میں بتایا گیا ہے کہ شیخ عبداللہ بن زاید، ڈاکٹر یوسف العثمان اور ششما سواراج اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں شامل ہیں۔

اس اجلاس میں 56ممالک بطور ممبر اور 6 ممالک بطور مبصر شریک ہوئے۔ بھارت نہ ممبر ہے نہ ی مبصر مگر اس کو متحدہ عر ب امارات کے وزیر اعظم کی خصوصی دعوت پر بطور
 مہمان خصوصی 

مدعو کیا گیا تھا۔

اجلاس میں شیخ عبداللہ بن زایدنے کہا کہ ایران ہمسائیوں کے معاملات میں دخل اندازی کر کے علاقے میں بد امنی اور فرقہ واریت پھیلانا بند کرے اور کہا کہ وہ ان گروہوں کی مدد بند کرے جو علاقے میں اختلافات کو بڑہاوا دیتے ہیں۔

جناب عادل الجبیر کا کہنا تھا ایران دہشت گردی کا کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے، دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے اور امارات کے تین جزائر پر قابض ہے۔

ششما سواراج نے کہا کہ اگر ہم نے انسانیت کو بچانا ہے تو ہمیں ، دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ملک پر 
واضح کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ہاں سے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو ختم کرے اور دہشت گرد تنظیموں کو وسائل مہیا کرنا اور اپنے ہاں پناہ دینا بند کرے۔

جس وقت ششما سواراج خطاب کر رہی تھیں اس وقت کیمرہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی خالی کرسی دکھا رہا تھا اور بتایا جا رہا تھا کہ پاکستان نے ، بھارت کی وزیر خارجہ کو بطور مہمان خصوصی اس کانفرس میں بلائے جانے پر، کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے ، بائیکاٹ کی وجہ یہ ہے کہ

ْ پلوامہ کے واقعہ کے بعد دونوں ایٹمی ، ہمسائیہ ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں ْ 

ٓیہ ایک سطر کا بیانیہ ہے جس پر انسانیت کے دوستوں، مظلومیت کے ہمدردوں، انصاف کے طلبگاروں اور 
ریاستی جبر کے شکار کمزور اور بے بس انسانوں کو مایوسی ہوتی ہے۔ مایوسی انسان کو بند گلی میں دھکیلتی ہے ۔ حالیہ مایوس کا نام عادل احمد ڈار تھا۔ جو ظلم ، بربریت، دہشت اور ریاستی جبر سے مایوس ہو کر پلوامہ میں خود اپنی جان قربان کرگیا ۔ 

پاکستانیوں اور کشمیریوں کو ادراک کرنا ہو گا۔ کہ ان کو ایک سطری ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو موجودہ عالمی طور پر مقبول بیانیے کی جگہ لے سکے۔ 

تلوار سے لے کر ایٹمی میزائل تک ، انسان کو تبدیل نہیں کر سکتے ، صرف بیانئے کی تبدیلی میں مدد گار ہو سکتے ہیں