‏pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

چار ستونوں پر کھڑی انسانیت





چار ستونوں پر کھڑی انسانیت

انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟

معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔

خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔

نسل و خاندان: جڑیں جو سایہ دیں

خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔

فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔

قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔

خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔

دولت: ہاتھ کی قوت، دل کا امتحان

دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔

فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔

دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔

سیاست: اختیار جو انصاف کا پابند ہو

سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔

عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔

سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مذہب: عقیدہ جو کردار میں اترے

مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔

اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔

مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔

ستونوں کی قوت، انسانیت کی چھت

نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔

آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔

انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔


اتوار، 25 اکتوبر، 2026

اصل معرکہ







اصل معرکہ

پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث بظاہر طرزِ حکومت کے انتخاب کا معاملہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال چھپا ہے: اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا یا چند طاقت ور حلقے اپنی مرضی کا نظام قائم کریں گے؟ ہمارے ہاں سیاسی اشرافیہ، مفاداتی گروہوں اور بیوروکریسی کے بعض حلقوں کو صدارتی نظام میں مسائل کا حل دکھائی دیتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی اور حکومت کی جواب دہی کو جمہوریت کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل اختلاف نظام کے نام سے زیادہ اس بات پر ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوگا، اس پر نگرانی کون کرے گا اور اسے آئینی حدود سے تجاوز کرنے سے کون روکے گا۔

صدارتی نظام کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایک طاقت ور صدر تیزی سے فیصلے کر سکتا ہے، سیاسی سودے بازی کم کر سکتا ہے اور حکومت کو استحکام دے سکتا ہے۔ یہ دلیل بظاہر دل کش ہے، مگر اس میں ایک بنیادی سوال نظرانداز ہو جاتا ہے: کیا طاقت ور حکمران لازماً بہتر حکمران بھی ہوتا ہے؟ اگر بدعنوانی، اقربا پروری، نااہلی اور ادارہ جاتی کمزوری پورے نظام میں موجود ہوں تو صرف ایک طاقت ور عہدہ تخلیق کرنے سے یہ خرابیاں کیسے ختم ہو جائیں گی؟ فیصلے جلد کرنا اور درست فیصلے کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اختیار کو ایک مرکز میں جمع کرنے سے انتظامی رفتار تو بڑھ سکتی ہے، لیکن اس سے شفافیت، انصاف اور جواب دہی خودبخود پیدا نہیں ہوتیں۔

امریکی سیاسی مفکر جیمز میڈیسن نے 
 حکومت کے اختیارات کے توازن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’اقتدار کی خواہش کو اقتدار کی دوسری خواہش کے ذریعے متوازن ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ حکومت کو انسانوں پر اختیار دینے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے اختیار کے غلط استعمال سے روکنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ یہ اصول صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظاموں پر لاگو ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکمران، خواہ وہ صدر ہو یا وزیرِاعظم، اس وقت تک جواب دہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اختیارات پر مؤثر نگرانی موجود نہ ہو۔

سیاسیات کے معروف محقق خوان لِنز نے اپنے مقالے
 The Perils of Presidentialism
 میں صدارتی نظام کے ممکنہ خطرات پر بحث کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ صدر اور پارلیمان دونوں اپنے اپنے انتخابی مینڈیٹ کی بنیاد پر جائز اختیار کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو جائے تو آئینی تصادم سیاسی بحران میں بدل سکتا ہے۔ صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت بظاہر استحکام دیتی ہے، لیکن اگر وہ عوامی اعتماد کھو دے یا پارلیمان سے اس کا ٹکراؤ ناقابلِ حل ہو جائے تو اسے تبدیل کرنے کا آئینی راستہ نسبتاً پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ لِنز کے مطابق بعض حالات میں پارلیمانی نظام کی بظاہری سیاسی بے ثباتی دراصل ایک لچک ثابت ہوتی ہے: وزیرِاعظم یا کابینہ تبدیل ہو سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ پورا جمہوری نظام ہی بحران کا شکار ہو جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ گہری سیاسی تقسیم اور متعدد جماعتوں والے معاشروں میں پارلیمانی نظام عموماً جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کا بہتر امکان فراہم کرتا ہے۔ 
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پارلیمانی نظام کامیاب اور ہر صدارتی نظام ناکام ہوتا ہے۔ امریکا ایک طویل عرصے سے صدارتی جمہوریت کی مثال ہے، جبکہ پارلیمانی نظام رکھنے والے بعض ممالک بھی سیاسی بحرانوں سے دوچار ہوئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی نظام کی کامیابی کا فیصلہ صرف آئینی نام سے نہیں ہوتا؛ سیاسی جماعتوں کی ساخت، قانون کی حکمرانی، اداروں کی خودمختاری اور اختلافات کو آئینی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہوتی ہے۔

پارلیمانی نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ حکومت پارلیمان کے اعتماد سے قائم رہتی ہے۔ اگر وزیرِاعظم یا کابینہ اعتماد کھو دے تو آئینی طریقے سے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں حکومت کا خاتمہ لازماً جمہوریت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت اور براہِ راست انتخابی حیثیت بعض حالات میں اسے پارلیمان کے مقابلے میں مضبوط جواز فراہم کرتی ہے۔ اگر دونوں کے درمیان تصادم بڑھ جائے تو بحران کے حل کے لیے زیادہ پیچیدہ آئینی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک نظام میں حکومت کی تبدیلی پورے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے ممکن ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے میں صدر اور مقننہ کی کشمکش وسیع تر سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ امکانات ہیں، قطعی نتائج نہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں اس بحث کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہاں پارلیمانی اداروں کو بار بار غیر آئینی مداخلتوں، مارشل لا اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس صورتِ حال کی پوری ذمہ داری صرف غیر منتخب قوتوں پر ڈال کر سیاسی قیادت کو بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے پارلیمان، انتخابات اور آئینی طریقۂ کار پر اعتماد کرنے کے بجائے غیر جمہوری مدد کی تلاش میں نکلتی ہیں تو وہ اپنے مخالف کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں پورے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے اقتدار کی اصل کشمکش عوامی نمائندگی کے بجائے طاقت کے دوسرے مراکز میں منتقل ہونے لگتی ہے۔

دوسرے ممالک کے تجربات اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مصر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی تاریخ میں نظام کی نوعیت کے ساتھ ساتھ فوج، سیاسی قیادت اور منتخب اداروں کے باہمی تعلق نے بھی جمہوریت کے مستقبل کو متاثر کیا۔

مصر میں 2011ء کے عوامی انقلاب کے بعد محمد مرسی انتخابات کے ذریعے صدر بنے، لیکن 2013ء میں فوج نے ان کی حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد سیاسی اقتدار ایک بار پھر مضبوط صدارتی مرکز میں مرتکز ہوا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ صرف انتخابی عمل موجود ہونا کافی نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا اور فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی طاقت ور ادارہ اپنے آپ کو منتخب حکومت کے فیصلوں سے بالاتر سمجھنے لگے تو انتخابی مینڈیٹ جمہوری نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتا۔

انڈونیشیا میں صدر سہارتو کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد 1998ء میں اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔ فوج کے سیاسی کردار کو محدود کرنے، انتخابی نظام کو بہتر بنانے اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے باوجود فوجی اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انڈونیشیا پر 2020ء میں شائع ہونے والی تحقیق میں میدی کوساندی اور صوبور وھونو نے نشان دہی کی کہ جمہوری اصلاحات کے دو عشروں بعد بھی فوج سیاسی عمل میں اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بحالی محض آئینی تبدیلی کا نام نہیں؛ اس کے لیے سیاسی اور ریاستی اداروں کے تعلقات میں دیرپا اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ 

بنگلہ دیش میں بھی سیاسی جماعتوں کی شدید محاذ آرائی، انتخابی عمل پر عدم اعتماد اور اقتدار کی کشمکش نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ 2007ء میں فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت قائم ہوئی اور سیاسی سرگرمیاں محدود ہوئیں۔ اگست 2024ء میں طویل احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوگئی، جس کے بعد ملک ایک نئے سیاسی انتقال سے گزرا۔ بنگلہ دیش کا تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پارلیمانی نظام کا وجود بذاتِ خود سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں مخالفین کے حقِ سیاست، شفاف انتخابات اور آئینی حدود کو تسلیم نہ کریں تو پارلیمانی سیاست بھی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

تھائی لینڈ میں 2006ء اور 2014ء کی فوجی بغاوتوں نے منتخب حکومتوں اور فوجی اثر و رسوخ کے درمیان جاری کشمکش کو نمایاں کیا۔ وہاں انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے باوجود فوجی مداخلتوں نے جمہوری تسلسل کو بار بار متاثر کیا۔ انڈونیشیا، مصر، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی مثالیں ایک جیسی نہیں، لیکن ان سے ایک مشترکہ سبق ضرور ملتا ہے: جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا اور اقتدار کی منتقلی کے لیے متفقہ قواعد کا احترام کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

یہیں پاکستان کی سیاسی بحث کا اصل سوال سامنے آتا ہے۔ کیا صدارتی نظام کے حامی اختیارات کو ایک مرکز میں جمع کرکے فیصلہ سازی آسان بنانا چاہتے ہیں، یا ان کی ترجیح اداروں کی اصلاح اور جواب دہی کا نظام قائم کرنا ہے؟ اسی طرح کیا پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی کا اصول اس وقت بھی تسلیم کریں گے جب اس سے ان کی اپنی جماعت یا پسندیدہ قیادت کے اختیارات محدود ہوں؟ ان سوالات کے جواب نعروں سے نہیں، سیاسی عمل اور عملی رویّوں سے ملیں گے۔

سیاسی اتفاقِ رائے اس لیے ضروری ہے کہ جمہوری نظام کی بنیاد صرف اکثریت حاصل کرنا نہیں بلکہ اقتدار کے استعمال کے قواعد کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ سیاسی قوتوں کو کم از کم ان اصولوں پر متفق ہونا ہوگا کہ حکومت آئینی طریقے سے قائم ہوگی اور تبدیل ہوگی، پارلیمان کو بے اثر نہیں کیا جائے گا، غیر منتخب ادارے سیاسی فیصلوں پر قبضہ نہیں کریں گے اور اختلافات کا حل آئین کے اندر تلاش کیا جائے گا۔ دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاج شہریوں کے جمہوری حقوق ہیں، لیکن اگر ان کا نتیجہ آئینی عمل کو کمزور کرنا یا غیر جمہوری مداخلت کا راستہ کھولنا ہو تو احتجاج کے مقصد اور اس کے نتیجے کے درمیان تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔

پارلیمانی بالادستی کے حامیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ مختلف جماعتوں، نظریات، علاقائی مفادات اور شخصی قیادتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود اگر وہ مشترکہ اصولوں پر منظم نہ ہوں تو ان کی اجتماعی قوت منتشر رہتی ہے۔ دوسری طرف اقتدار کو ایک مرکز میں مرتکز کرنے کے خواہش مند حلقوں کے لیے اپنا ہدف متعین کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے پارلیمان کی بالادستی کا دفاع صرف تقریروں سے نہیں ہو سکتا؛ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات کے باوجود آئینی اصولوں پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

اس جدوجہد میں عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ خود کو باشعور کہنے والے شہری اگر ہر بار شخصیات کے پیچھے چلیں، ماضی کے تجربات سے سبق نہ سیکھیں اور مستقل اجتماعی جدوجہد کے بجائے وقتی نعروں پر اکتفا کریں تو ان کی سیاسی قوت مؤثر نہیں بن پائے گی۔ لیکن تمام ذمہ داری عوام پر ڈالنا بھی درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل سے اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اندرونی جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے نزدیک آئینی اصول شخصی اور جماعتی مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔

یہ سفر طویل ہو سکتا ہے۔ جمہوری ادارے ایک دن میں مضبوط نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی نئے نظام کے نفاذ سے تمام مسائل فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ ’’آہستہ چل، مگر چلتا رہ‘‘ اس جدوجہد کا اصول ہونا چاہیے: رفتار کم ہو سکتی ہے، لیکن سمت آئینی بالادستی، جواب دہی اور عوامی اختیار کی طرف ہونی چاہیے۔

پاکستان کا اصل معرکہ صدارتی یا پارلیمانی نظام کے نام پر نہیں، اس اصول پر ہے کہ اقتدار کسی فرد، ادارے یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے اور اسے آئین کے تابع رہنا چاہیے۔ سیاسی تحقیق یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مختلف نظام کس طرح کام کرتے ہیں اور کن حالات میں بحران پیدا ہو سکتے ہیں؛ مگر پاکستان کے لیے کوئی بھی نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام اس کے آئینی قواعد کو تسلیم کریں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ صدر زیادہ طاقت ور ہو یا وزیرِاعظم؛ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کو آئین کا پابند کون بنائے گا۔ جب تک اس سوال کا جواب اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر جواب دہی کی صورت میں نہیں ملتا، نظام بدلنے کے نعرے لگتے رہیں گے اور اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ قائم رہے گی۔ کشتی کو ساحل تک پہنچانے کے لیے منزل کا تعین کافی نہیں؛ ملاح اور مسافروں کو بھی ایک سمت میں سفر کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026

ذمہ دار شہری


 

ذمہ دار شہری

ہماری اجتماعی زندگی میں  ایک عجیب تضاد ہے۔ ہم ہر محرومی کا الزام حکومت کو دیتے ہیں، ہر خرابی کا ذمہ دار حکمرانوں کو ٹھہراتے ہیں اور ہر مسئلے کے حل کی امید ریاست سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ سڑک پر گندگی ہو تو حکومت قصوروار، ٹریفک کا نظام خراب ہو تو حکومت ذمہ دار، بازار میں ملاوٹ ہو تو حکومت غافل، تجاوزات بڑھ جائیں تو انتظامیہ ناکام، اور قانون کی خلاف ورزی عام ہو جائے تو ہم حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال کیا ہے کہ جن خرابیوں کا شکوہ ہم حکومت سے کرتے ہیں، ان میں ہمارا اپنا حصہ کتنا ہے؟

حکومت سے سوال کرنا شہری کا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا احتساب کرنا بھی اسی شہری کی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے حقوق کے بارے میں تو پوری طرح بیدار ہوتے ہیں، مگر فرائض کی باری آئے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سڑکیں صاف ہوں، مگر کوڑا اپنے گھر سے باہر پھینکتے ہوئے نہیں سوچتے۔ ہم ٹریفک کا منظم نظام چاہتے ہیں، مگر سرخ بتی پر رکنے کے بجائے موقع ملتے ہی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر جب کوئی تجاوز ہمارے اپنے کاروبار یا مفاد میں ہو تو ہمیں اس میں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم رشوت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، لیکن اپنا کام جلد کرانے کے لیے ناجائز ادائیگی کو بعض اوقات مجبوری کا نام دے دیتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قومی مسائل محض حکومتی ناکامی نہیں رہتے بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم خود کچھ کرنے کے بجائے حکومت سے ہر چیز کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو مسائل حل کرنے والا ادارہ تو سمجھ لیا ہے، مگر خود کو اس ریاست کا فعال حصہ سمجھنے کی تربیت نہیں پائی۔ ہم حکومت کو ایک الگ مخلوق تصور کرتے ہیں، جیسے وہ ہم سے مختلف لوگوں پر مشتمل کوئی ادارہ ہو، جس کی کامیابی یا ناکامی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ حکومت، ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے سے الگ تھلگ وجود نہیں رکھتے۔ حکومت انتظامی اختیار استعمال کرتی ہے، قانون بناتی ہے، اداروں کے ذریعے اس کا نفاذ کرتی ہے اور شہریوں کے جان و مال، حقوق اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ لیکن قانون کی مؤثر عملداری کے لیے شہریوں کا تعاون، سماجی قبولیت اور انفرادی ذمہ داری بھی ناگزیر ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے۔ حکومت کو قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس، عدالتوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر انتظامی محکموں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ان اداروں کی کامیابی کا انحصار صرف ان کے اہل کاروں پر نہیں۔ اگر لاکھوں شہری روزانہ قانون توڑنے کو اپنا حق سمجھنے لگیں تو چند اہل کاروں کے لیے ہر خلاف ورزی روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قانون کی عملداری صرف ڈنڈے، جرمانے اور سزا سے قائم نہیں ہوتی؛ اس کے لیے شہریوں کے ضمیر، اجتماعی رویے اور قانون کے احترام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

اب ذرا اپنے آپ سے پوچھیں: کیا ہم واقعی قانون کی عملداری چاہتے ہیں، یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون دوسروں پر نافذ ہو اور ہمیں اپنی مرضی کے مطابق چلنے کی آزادی حاصل رہے؟

یہ سوال معمولی نہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دوسرا شخص قطار میں اپنی باری کا انتظار کرے، لیکن ہمیں جلدی ہو تو ہم قطار توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دکاندار ناپ تول میں کمی نہ کرے، مگر اپنے کاروبار میں معمولی بے ایمانی کو ہنر سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم سرکاری اہل کار سے دیانت داری کی توقع رکھتے ہیں، لیکن جب کوئی اہل کار اصول کے مطابق کام کرتے ہوئے ہماری ناجائز درخواست مسترد کر دے تو ہم اسے بدتمیز، نااہل یا رشوت نہ لینے کے باوجود کسی اور طرح سے قصوروار قرار دینے لگتے ہیں۔

یہ رویہ دراصل قانون کے احترام سے زیادہ اپنے مفاد کے احترام کی علامت ہے۔

قانون کی حقیقی پاسداری کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب قانون ہماری خواہش کے مطابق ہو، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی پابندی سے ہمیں ذاتی نقصان، تاخیر یا زحمت برداشت کرنا پڑے۔ جو شخص صرف سزا کے خوف سے قانون مانتا ہے، وہ موقع ملنے پر اس کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص قانون کو اجتماعی زندگی کے تحفظ اور دوسروں کے حقوق کی ضمانت سمجھتا ہے، وہ نگرانی نہ ہونے کے باوجود اس کی پابندی کرتا ہے۔

یہی فرق قانون کے خوف اور قانون کے احترام میں ہے۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم قانون توڑنے والوں کو دل اور ذہن سے برا سمجھتے ہیں؟ یہاں مراد کسی انسان سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ اس کے غلط عمل کو غلط تسلیم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اکثر خلاف ورزی کرنے والے کے عمل کو اس کے سماجی مرتبے، دولت، تعلقات یا اپنے ذاتی مفاد کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی قانون توڑے تو ہم اسے برا کہتے ہیں، لیکن یہی کام ہمارا دوست، رشتہ دار یا بااثر شخص کرے تو اس کے لیے جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی حالات کا عذر پیش کرتے ہیں، کبھی نظام کی خرابی کا حوالہ دیتے ہیں اور کبھی یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیتے ہیں کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔

لیکن اگر کوئی غلط کام عام ہو جائے تو کیا وہ درست بھی ہو جاتا ہے؟ اگر رشوت لینا، سفارش کرانا، ٹریفک قوانین توڑنا، سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال میں لانا یا دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنا معاشرے میں رواج پا جائے تو کیا ہم اسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟ کسی برائی کی کثرت اس کی اخلاقی حیثیت تبدیل نہیں کرتی۔ اگر ہم قانون شکنی کو دل سے غلط نہیں سمجھتے تو محض سخت قوانین بنا دینے سے معاشرے میں پائیدار تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔

قانون کے احترام کا ایک اور عملی پہلو یہ ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں اور سرکاری اہل کاروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شہری قطار توڑنے سے انکار کرے، ٹریفک قوانین کی پابندی کرے یا ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کرے تو کیا ہم اس کے رویے کو سراہتے ہیں یا اسے سادہ لوح اور بے وقوف سمجھتے ہیں؟ اگر کوئی سرکاری اہل کار دباؤ، سفارش یا ناجائز مطالبے کے باوجود قانون کے مطابق کام کرے تو کیا ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے کام میں رکاوٹ سمجھ کر اس کے خلاف شکایتیں کرنے لگتے ہیں؟

جس معاشرے میں قانون ماننے والا شخص نقصان اٹھائے اور قانون توڑنے والا اپنے تعلقات یا اثر و رسوخ کے باعث فائدہ حاصل کرے، وہاں قانون کا احترام کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس لیے شہریوں کی ذمہ داری صرف اپنی ذات تک قانون کی پابندی محدود رکھنا نہیں، بلکہ قانون کے مطابق کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصول پسند شہری اور دیانت دار سرکاری اہل کار معاشرے کے مخالف نہیں، بلکہ اس کے بہتر مستقبل کے معاون ہیں۔

تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر سرکاری اہل کار کا دفاع کیا جائے یا ہر حکومتی اقدام کو درست مان لیا جائے۔ اگر کوئی اہل کار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، قانون کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کرے یا امتیازی سلوک روا رکھے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی شہری ذمہ داری ہے۔ قانون کی عملداری کا مطلب اندھی اطاعت نہیں، بلکہ قانون کے مطابق اختیار کا استعمال، شفاف احتساب اور سب کے لیے یکساں انصاف ہے۔ شہریوں کو حکومتی اداروں سے سوال کرنے، شکایت درج کرانے اور قانونی طریقے سے اصلاح کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اب آخری سوال کی طرف آئیے: کیا ہم قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟

ضروری نہیں کہ ہر شہری کسی خلاف ورزی کرنے والے سے براہ راست الجھے یا خود قانون نافذ کرنے والا بن جائے۔ بعض حالات میں ایسا کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم اپنی استطاعت اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم خود قانون کی پابندی کریں، بچوں کو قانون اور شہری ذمہ داری کی تربیت دیں، خلاف ورزی کو معمول سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، متعلقہ ادارے کو مناسب طریقے سے اطلاع دیں، ثبوت موجود ہوں تو قانونی شکایت درج کرائیں، رشوت اور سفارش کے ذریعے ناجائز کام کرانے سے انکار کریں اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے شہری تنظیموں، مقامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے تعاون کریں۔

ہم سڑک پر کوڑا پھینکنے سے خود اجتناب کر سکتے ہیں۔ غلط پارکنگ کے بجائے مناسب جگہ تلاش کر سکتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کر سکتے ہیں۔ کسی غیر قانونی کام کے لیے اپنی سفارش استعمال کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اپنے کاروبار میں ناپ تول، قیمتوں اور صارفین کے حقوق کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ سرکاری املاک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے کے بجائے قومی امانت تصور کر سکتے ہیں۔ یہ چھوٹے اقدامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی زندگی میں بڑے نتائج کی بنیاد بنتے ہیں۔

حکومت کا فرض ہے کہ قانون منصفانہ بنائے، اسے بلاامتیاز نافذ کرے، اداروں کو مؤثر بنائے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو شہریوں کو اس سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ لیکن حکومت کی ناکامی کسی شہری کے لیے قانون توڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ اسی طرح شہریوں کی بے احتیاطی یا قانون شکنی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتی۔ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کی عملداری صرف جرائم کی روک تھام کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے جس میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ ملے، محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے، کاروبار کرنے والے کو منصفانہ مواقع میسر آئیں اور عام شہری کو اپنے جان و مال کے تحفظ کا یقین ہو۔ ایسا معاشرہ صرف حکومتی احکامات سے نہیں بنتا؛ اسے شہریوں کے کردار، اداروں کی دیانت داری اور قانون کے یکساں نفاذ سے تشکیل دینا پڑتا ہے۔

قومیں صرف اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ ان کے قوانین کتنے اچھے ہیں، بلکہ اس بات سے بھی کہ ان کے شہری ان قوانین کو کس حد تک اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں اور ان کے ادارے ان پر کس قدر منصفانہ انداز میں عمل کرتے ہیں۔

لہٰذا اگلی بار جب ہم کسی قومی مسئلے پر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرائیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے بھی سوال کریں: کیا میں اس مسئلے کو پیدا کرنے والے رویے کا حصہ تو نہیں؟ کیا میں اپنے مفاد کے لیے قانون سے انحراف تو نہیں کرتا؟ کیا میں قانون کی پابندی کرنے والے کا ساتھ دیتا ہوں؟ اور کیا میں اپنی استطاعت کے مطابق خلاف ورزی روکنے کے لیے کچھ کرتا ہوں؟

حکومت سے جواب طلب کرنا ہمارا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا جواب دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ تبدیلی کا آغاز حکومت سے مطالبے کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے، مگر اسے اپنے عمل تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ جب شہری قانون کو صرف دوسروں پر نافذ ہونے والی پابندی نہیں بلکہ اپنی اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری سمجھنے لگیں گے، تبھی قانون کی عملداری محض ایک نعرے سے نکل کر قومی زندگی کی حقیقت بن سکے گی۔


پیر، 17 اگست، 2026

پاکستان اور پاکستانی



پاکستان اور پاکستانی

 استعمار صرف وہ نظام نہیں جو کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لے، اس کے وسائل پر اختیار حاصل کرے اور اس کے سیاسی فیصلوں کو اپنی مرضی کے تابع بنا دے۔ استعمار کی زیادہ خطرناک شکل وہ ہے جو انسان کے ذہن میں گھر کر اسے یہ یقین دلا دے کہ طاقتور کی مرضی ہی حقیقت ہے، اس کے مفادات ہی عالمی مفاد ہیں اور کمزور قوم کے لیے آزادی سے زیادہ ضروری طاقتور کی خوشنودی ہے۔ زمین کی غلامی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ذہن کی غلامی نسلوں تک باقی رہ سکتی ہے۔

ہم پاکستان میں اس کیفیت کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، پاکستان کے بارے میں اس انداز سے سوچتا اور گفتگو کرتا ہے جس میں اپنے ملک کی کمزوریوں کا ادراک تو نمایاں ہوتا ہے، مگر اس کی خودمختاری، قومی مفاد اور آزاد فیصلوں پر اعتماد کم دکھائی دیتا ہے۔ بعض لوگ پاکستان کے دوست ممالک کے بارے میں بھی شکوک پیدا کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ عالمی سیاست میں پاکستان کے لیے کوئی آزاد راستہ موجود نہیں؛ اسے بہرحال مغربی طاقتوں کے ساتھ چلنا ہوگا، ان کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی اور قومی مفاد بھی اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب طاقتور دنیا کے مفادات سے ہم آہنگ رہا جائے۔

یہاں ایک بنیادی امتیاز ضروری ہے۔ دنیا کے کسی ملک سے دوستی، اقتصادی تعاون، سفارتی تعلق یا دفاعی شراکت داری کو محض اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ملک کبھی ہمارے مفادات سے مختلف موقف رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی مغربی ملک سے تعلقات رکھنا بھی بذاتِ خود استعمار کی حمایت نہیں۔ خارجہ پالیسی جذبات نہیں، مفادات، حالات اور توازن کا علم ہے۔ ایک خوددار ریاست دشمنی کو اصول اور دوستی کو عقیدہ نہیں بناتی؛ وہ ہر تعلق کو اپنے قومی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دوستی اور تابع داری کے درمیان فرق مٹنے لگے۔

فکری غلامی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔ طاقتور ملک جو کرے، اسے "حقیقت پسندانہ سیاست" کہا جاتا ہے، اور کمزور ملک اگر اپنے مفاد کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کرے تو اسے غیر حقیقت پسندانہ، جذباتی یا خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یوں طاقت صرف سیاسی اثر نہیں رہتی بلکہ ایک فکری معیار بن جاتی ہے۔ جس کے پاس طاقت ہے، اس کے پاس گویا دلیل بھی ہے۔

استعمار کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبضہ صرف توپ اور بندوق سے نہیں کیا جاتا۔ زبان، تعلیم، تہذیب، ادارے، تجارت اور اطلاعات بھی طاقت کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام ختم ہونے کے بعد بھی اس کے بعض ذہنی اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔ ایک سابق نوآبادیاتی معاشرے میں کبھی کبھی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو اپنے ہی معاشرے کو کمتر، اس کی تہذیب کو پسماندہ اور اس کے سیاسی شعور کو ناقص سمجھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کے فیصلوں کو زیادہ معقول اور مہذب تصور کرتا ہے۔

یہ کیفیت صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے بہت سے سابق نوآبادیاتی معاشروں نے آزادی کے بعد یہی سوال اٹھایا کہ سیاسی آزادی حاصل ہو جانے کے باوجود ذہنی آزادی کیسے حاصل کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے۔ فکری آزادی کے نام پر ہر مغربی تصور کو مسترد کرنا بھی فکری غلامی ہی کی ایک دوسری صورت بن سکتا ہے۔ اگر ایک شخص ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے درست سمجھے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ مرعوبیت کا شکار ہے؛ اور اگر دوسرا ہر بیرونی خیال کو صرف اس لیے غلط قرار دے کہ وہ مغرب سے آیا ہے تو وہ بھی آزاد ذہن کا مالک نہیں۔ آزاد ذہن نہ مرعوب ہوتا ہے نہ متعصب۔ وہ دلیل سنتا ہے، مفاد کو پہچانتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔

پاکستان کو بھی اسی بالغ فکری رویے کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی ایک عالمی طاقت کے مفاد کا دوسرا نام نہیں۔ امریکہ سے تعلق ہو، چین سے تعاون ہو، عرب دنیا سے شراکت ہو، یورپ سے تجارت ہو یا کسی دوسرے ملک سے سفارتی قربت—ہر تعلق کا جائزہ پاکستان کی سلامتی، معیشت، خودمختاری اور طویل المدت قومی مفاد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دانشور، صحافی، سیاست دان اور تعلیمی ادارے ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھائیں: ہم دنیا کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسروں کی عینک سے؟

یہ سوال کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہماری اپنی فکری خودمختاری کے حق میں ہے۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازماً فکری آزادی کی ضمانت نہیں۔ ایک شخص کئی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھ سکتا ہے، دنیا کے بڑے شہروں میں رہ سکتا ہے، عالمی اداروں میں کام کر سکتا ہے، متعدد زبانیں بول سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی سیاسی بصیرت کسی طاقتور مرکز کے بیانیے کی محتاج ہو سکتی ہے۔ علم انسان کو آزاد بھی کر سکتا ہے اور اگر تنقیدی شعور نہ ہو تو اسے کسی نئے فکری سانچے کا اسیر بھی بنا سکتا ہے۔

اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کا مسئلہ بھی صرف دولت یا عہدہ نہیں۔ جب کسی طبقے کے معاشی، سماجی یا پیشہ ورانہ مفادات کسی خاص عالمی نظام سے گہرا تعلق پیدا کر لیں تو بعض اوقات وہ غیر شعوری طور پر اسی نظام کو "قدرتی" اور اس سے باہر کے راستوں کو "غیر ممکن" سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں سے فکری وابستگی آہستہ آہستہ مفاداتی وابستگی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مگر ہمیں اس بحث میں احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو مغربی دنیا سے تعلق رکھتا ہے، مغربی اداروں میں کام کرتا ہے یا پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے، اسے استعمار کا نمائندہ قرار دینا انصاف نہیں۔ ریاستوں کی پالیسیوں پر تنقید حب الوطنی کے خلاف نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شدید تنقید ہی اصلاح کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی درست سمجھی جائے؛ بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے ملک کی خامیوں کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتا ہو۔

اصل امتحان یہ ہے کہ تنقید کا مقصد کیا ہے، معیار کیا ہے اور وفاداری کس کے ساتھ ہے۔

اگر کوئی شخص پاکستان کی ہر کمزوری کو صرف پاکستان کی فطری ناکامی سمجھتا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مداخلت، تاریخی استعماری ورثے اور بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز کرتا ہے، تو اس کی تصویر نامکمل ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا پاکستان کی ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف بیرونی دنیا کو قرار دیتا ہے اور اپنی داخلی کمزوریوں، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور علمی پسماندگی کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے، تو اس کی تصویر بھی ادھوری ہے۔

قومی شعور کا تقاضا دونوں حقیقتوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہے۔

استعمار کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار صرف نعرہ نہیں، علم ہے۔ معاشی خودکفالت، مضبوط ادارے، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق، آزاد میڈیا، ذمہ دار سیاست، قانون کی حکمرانی اور شہری شعور کسی بھی قوم کو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ جو قوم اندر سے کمزور ہو، وہ باہر سے آزادی کا دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر اپنے فیصلوں کو طویل عرصے تک آزاد نہیں رکھ سکتی۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھانا کہ فلاں ملک ہمارا مستقل دشمن ہے اور فلاں ملک ہمارا مستقل دوست۔ اسے یہ سکھانا چاہیے کہ ریاستوں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ مگر اس اصول کو بھی محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ فکری تربیت کا حصہ بنانا ہوگا۔

ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے کٹنا نہیں، دنیا کو سمجھنا سکھانا ہے؛ مغرب سے نفرت نہیں، مغرب کے تجربے کا تنقیدی مطالعہ سکھانا ہے؛ مشرق پر اندھا فخر نہیں، اپنی تہذیبی قوت اور کمزوری دونوں کا شعور دینا ہے۔ ہمیں دوسروں کی ترقی سے حسد نہیں، اس سے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔

فکری آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ کھڑے ہوں مگر اپنے قدموں پر۔

قومیں صرف اس وقت آزاد نہیں ہوتیں جب ان کے جھنڈے آزاد فضا میں لہراتے ہیں۔ وہ اس وقت حقیقی آزادی حاصل کرتی ہیں جب ان کے فیصلے خوف کے بجائے شعور سے، مرعوبیت کے بجائے دلیل سے اور دوسروں کی خواہش کے بجائے اپنے اجتماعی مفاد سے کیے جاتے ہیں۔

استعمار کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کسی قوم کو اپنے سامنے جھکا دے؛ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محکوم قوم کو یہ یقین دلا دے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

اور شاید ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ اس یقین کو توڑا جائے۔

پاکستان کو دنیا سے دشمنی نہیں چاہیے، اسے فکری خودمختاری چاہیے۔ اسے تنہائی نہیں، متوازن تعلقات چاہیے۔ اسے نعروں کی خودداری نہیں، علم، معیشت، اداروں اور کردار کی خودداری چاہیے۔ کیونکہ جس دن ایک قوم اپنے مفاد کو خود سمجھنے، اپنی غلطیوں کو خود تسلیم کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو جائے، اس دن استعمار کی بہت سی زنجیریں خود بخود بے معنی ہو جاتی ہیں۔

آزادی کا آخری مورچہ سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔

بدھ، 31 دسمبر، 2025

نیا سال مبارک



 نیا سال مبارک 

 بچپن، جب نئے سال پر نئی جنتری آتی تھی۔ اس کے اندر درج نجومیوں کی خوشگوار پیش گوئیاں۔ بارشیں وقت پر ہوں گی، فصلیں اچھی ہوں گی، قوم ترقی کرے گی۔ ہم شوق سے پڑھتے تھے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ مگر 2025 کے اختتام تک آتے آتے علمِ نجوم ہی اس صدی کی پہلی ربع میں مردود ٹھہر گیا۔ اب نہ بانس باقی رہا، نہ اس سے خوشگوار سر والی بنسری بن سکی۔ انسان اب تقدیر نہیں، دلیل مانگتا ہے۔

یہ ربع صدی دراصل رسیدوں اور ثبوتوں کا شور شور میں گذری۔ اب کسی بات پر یقین کرنا کافی نہیں رہا، ہر دعوے کے ساتھ حوالہ، ڈیٹا اور ثبوت چاہیے۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ انسان اپنے خالق کو بھی دیکھنے پر اصرار نہیں کرتا، بلکہ خوردبین میں اس کے ڈی این اے کا ثبوت مانگتا ہے۔ ایمان، تجربہ بن گیا ہے اور یقین، ثبوت کا محتاج۔

 ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف نہیں بڑھا جا سکتا، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیسے ماضی ہی میں زندہ ہیں۔ اس ربع صدی میں بنگلہ دیش اور برازیل جیسے ممالک غربت کی دلدل سے نکلتے دکھائی دیے۔ ہم جان بوجھ کر چین اور انڈونیشیا کا ذکر نہیں کر رہے، کہ وہ تو کام کے دھنی ہیں، مثالیں دینا آسان ہے، اپنانا مشکل۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بابا بھی “کام، کام اور کام” کی دہائی دیتے دیتے فردوس میں جا بسا۔ نہ ہم نے اس کی زندگی میں اس کی بات سنی، نہ اس کے جانے کے بعد۔

اعداد و شمار بھی کبھی کبھی طنز بن جاتے ہیں۔ سال 2000 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 14 کروڑ تھی۔ 31 دسمبر 2025 کو یہ تعداد 24 کروڑ کے عدد کو عبور کر چکی۔ ہمیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی “فرمان” پر تو پوری دیانت سے عمل پیرا رہے ہیں۔

عالمی منظرنامہ دیکھیں تو اس ربع صدی میں ڈیڑھ ارب انسان غربت کی لکیر سے نکل کر ہموار زمین پر آ کھڑے ہوئے۔ پاکستان میں کیا ہوا، بتانے کی بات نہیں، محسوس کرنے کی ضرور ہے۔ 

اسی دوران جنریشن گیپ ایک خاموش زلزلے کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ سوچ، زبان، ترجیحات اور اقدار — سب میں فاصلہ۔ اس کے ہمارے سماج پر کیا اثرات ہیں؟ شاید ہمارے پاس اس پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم فوری ردعمل کے عادی ہو چکے ہیں، گہرے سوالوں کے نہیں۔

اس ربع صدی کا سب سے بڑا واقعہ پاک بھارت عسکری ٹکراؤ تھا، جس نے چند گھنٹوں میں زمینی حقائق بدل کر رکھ دیے۔زمینی حقائق بدلنے کے مواقع ہمیں پہلے بھی ملتے رہے ہیں۔ ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بار کیا اس نوخیز بیج سے واقعی پودا اگے گا؟ کیا یہ سرسبز ہو کر اگلی ربع صدی تک امن، ترقی اور “جیو اور جینے دو” کا پھل دے سکے گا؟

انتظار بہت ہے، مگر ناامیدی نہیں۔ اس لیے نہیں کہ حالات روشن ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں ناامیدی سے منع کیا گیا ہے۔ شاید یہی واحد سرمایہ ہے جو اب بھی ہمارے پاس سلامت ہے۔

نیا سال مبارک — اس امید کے ساتھ کہ ہم اس بار محض کیلنڈر نہیں بدلیں گے، رویے بھی بدلیں گے۔

اتوار، 21 ستمبر، 2025

ع سے عاصم




علمِ اعداد کے ماہر ایک دوست کے ہاں محفل سجی۔ باتوں ہی باتوں میں جب ذکر اس علم کے اسرار و رموز کا آیا تو ایک نکتہ سب کے دل کو چھو گیا۔ انہوں نے کہا: “بشریٰ بی بی علمِ اعداد کا شعور رکھتی ہیں، مگر وہ ’ع‘ کے طلسمی گورکھ دھندے میں ایسی الجھیں کہ حقیقت کی اصل صورت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔”
انہوں نے سوچا کہ عمران، عثمان اور عارف جیسے نام ہی ان کی سلطنت کے ستون ہیں۔ مگر وہ یہ بھول گئیں کہ اقتدار کی بازی صرف زمینی تدبیروں سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ اس میں فلک کے فیصلے، ستاروں کی گردش اور مہروں کی چال بھی شامل ہوتی ہے۔ تقدیر کا حساب اعداد کے پیچ و خم میں پوشیدہ رہتا ہے اور وہی حساب بالآخر اپنی پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہو کر انسان کو حیران کر دیتا ہے۔
اسی تقدیر نے دکھایا کہ اصل صاحبِ “ع” وہ نہیں تھے جن پر بھروسہ کیا گیا، بلکہ وہ تھے جو پسِ پردہ تاریخ کے ورق پلٹ رہے تھے۔ وقت آیا، ستاروں نے اپنی روشنی ان پر مرکوز کی، مہروں نے ان کے حق میں گواہی دی اور فلک نے ان کے نام کی تسبیح پڑھنی شروع کی۔ یوں پردۂ غیب سے ایک شخصیت ابھری — عاصم!
عاصم — ایک ایسا نام جو صرف ایک حرف نہیں بلکہ ایک رمز ہے۔ وہ عاجزی میں ڈوبا ہوا، مگر عزم میں فولاد؛ وہ عقل میں گہرائی رکھنے والا، مگر دل میں شفقت سے لبریز؛ وہ فرد شناس، تاریخ آگاہ اور سیاست کے رموز سے باخبر۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں وہ صرف ایک جرنیل نہیں بلکہ حافظِ قرآن عاصم منیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے وجود میں بہادری بھی ہے، قوتِ فیصلہ بھی، اور ایک ایسا کردار بھی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب قوم نے محسوس کیا کہ اصل محافظ وہی ہیں۔ جو دلوں کو تسخیر کر لیں، وہی اقتدار کے اصل فاتح ہوتے ہیں۔ عاصم منیر نے یہ ثابت کر دیا کہ تقدیر کے اعداد، ستاروں اور مہروں کا فیصلہ بھی ان کے ساتھ ہے، اور عوام کا اعتماد بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ پاکستان فوج کے ہر دل عزیز سپہ سالار ہیں اور وقت کا لکھاری انہیں مستقبل کے ان دیکھے معجزوں کا امین لکھے  گا۔

ہفتہ، 20 ستمبر، 2025

ہمیشہ ذندہ باد




پاکستان خطے اور عالمی سیاست میں ایک ایسا ملک رہا ہے جو اکثر بڑے کھلاڑیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات قائم کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا بلکہ بعد میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان صلح کاری میں بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
انیس سو ستر کی دہائی میں پاکستان نے اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن اور قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر کے ذریعے چین اور امریکہ کو قریب لانے میں کلیدی سہولت کاری کی۔ اسلام آباد ہی وہ مقام تھا جہاں سے کسنجر کا خفیہ دورۂ بیجنگ ممکن ہوا۔ اس اقدام نے عالمی سیاست کا دھارا بدل دیا اور سرد جنگ کے دور میں امریکہ–چین تعلقات کی بنیاد رکھی۔
اسی طرح پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بھی کردار ادا کیا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے وقت پاکستان نے کئی بار ثالثی کی کوششیں کیں۔ اگرچہ 2023 میں باضابطہ مصالحت چین کی ثالثی سے ہوئی، لیکن اس عمل کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کے مستقل رابطے، سفارتی کوششیں اور بیک چینل بات چیت نمایاں رہی۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو باور کرایا کہ علاقائی امن صرف باہمی تعلقات کے بہتر ہونے سے ممکن ہے۔
یوں پاکستان نے عالمی اور علاقائی سطح پر پل بنانے والا کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف اس نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں، چین اور امریکہ، کو قریب لانے میں مدد کی اور دوسری طرف مسلم دنیا کے اہم ممالک، ایران اور سعودی عرب، کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں فعال سہولت کار ثابت ہوا۔ یہی کردار پاکستان کی سفارتی پہچان ہے اور 
یہی اس کی اصل قوت بھی۔
دس مئی کو پاکستان نے بھارت پر عسکری بالا دستی قائم کر کے اپنے عسکری کردار کو بھی ان ملکوں کے لیے 
قبل قبول بنوا لیا ہے جو غیروں کے کرادار کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ 
عشروں تک ہمارا نعرہ تھا پاکسان ذندہ باد۔ اب سفارتی اور عسکری کامیابوں کے بعد پاکستان کے بہادر بیٹے فیلڈ مارشل نے قوم کو بیا نعرہ دیا ہے "پاکستان ہمیشہ زندہ باد" ۔

منگل، 1 جولائی، 2025

پنجاب کو یہ جنگ لڑنا ہو گی





پنجاب کو پانی اور ماحول بچانے کی جنگ لڑنا ہو گی

پاکستان اس وقت پانی کی قلت کے خطرناک دہانے پر کھڑا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس چیخ چیخ کر متنبہ کر رہی ہیں، مگر ہمارے ایوان اور حکومتی حلقے شاید ابھی تک خوابِ غفلت میں ہیں۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز 
 کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی کی قلت سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ 1947 میں ہمارے پاس فی کس 5,260 مکعب میٹر پانی دستیاب تھا، جو اب کم ہو کر محض 850 مکعب میٹر رہ گیا ہے — یہ وہ حد ہے جس کے نیچے اترنے کو عالمی زبان میں "آبی قحط" 
 کہا جاتا ہے۔
دوسری طرف ہر سال تقریباً 30 ملین ایکڑ فٹ پانی، جو ہماری زمینوں کو زرخیز بنا سکتا تھا، سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔ ( وزارت آبی وسائل، پاکستان، 2022)۔
المیہ یہ ہے کہ تربیلا ڈیم کے بعد ہم کوئی بڑا آبی ذخیرہ تعمیر نہ کر سکے۔ کالا باغ ڈیم ہو یا بھاشا دیامر اور مہمند ڈیم — یہ سب سیاست، سستی اور وسائل کی کمی کی نذر ہو چکے ہیں۔
ادھر بھارت، سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں بکھیرتا ہوا، چناب، جہلم اور دیگر دریاؤں پر 150 سے زائد ڈیم اور منصوبے مکمل کر چکا ہے۔ 
، جب تک پاکستان خود پانی ذخیرہ نہیں کرے گا، دنیا میں کوئی طاقت ہمیں آبی تحفظ نہیں دے سکتی۔
یہ وقت ہے کہ پنجاب پہل کرے۔ محض بڑے ڈیموں پر انحصار کافی نہیں، ہمیں مقامی سطح پر انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اس ضمن میں ایک سادہ مگر مؤثر تجویز سامنے ہے — پنجاب کے ہر گاؤں، ہر چک اور ہر ڈھوک میں ایک تالاب لازمی تعمیر کیا جائے۔
یہ تالاب نہ صرف بارشی پانی محفوظ کرے گا بلکہ:
 مقامی سطح پر زراعت کے لیے پانی میسر آئے گا۔
 زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو گی۔
 تالاب کے گرد شجرکاری سے ماحول بہتر ہو گا، درجہ حرارت میں کمی آئے گی۔
 مقامی جنگلی حیات اور چرند پرند کیلئے پانی کی دستیابی ممکن ہو گی۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس
 کی 2021 کی تحقیق کے مطابق اگر مقامی سطح پر تالاب اور چھوٹے ڈیمز تعمیر کیے جائیں تو مقامی معیشت میں 20 سے 30 فیصد بہتری آ سکتی ہے۔
چین، اسرائیل اور دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں پانی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر بارشی پانی کا ایک ایک قطرہ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے پہاڑی علاقوں، رود کوہیوں، چشموں اور برساتی نالوں پر اگر چھوٹے ذخائر اور تالاب بن جائیں تو ہم نہ صرف سیلابی تباہی روک سکتے ہیں بلکہ مقامی معیشت، ماحول اور زراعت کو بھی نئی زندگی دے سکتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ سیاستدانوں کی انا سے بالاتر ہو کر پانی کے مسئلے کو قومی ایجنڈا بنایا جائے۔ ہر گاؤں میں تالاب کی تعمیر کو بلدیاتی منصوبوں میں شامل کرنا ہوگا، بڑے آبی ذخائر پر کام تیز کرنا ہوگا اور عوام کو پانی کے تحفظ کی اہمیت سمجھانی ہوگی۔
پانی کے بغیر نہ زراعت بچے گی، نہ صنعت، نہ زندگی — اور نہ ہی پاکستان۔

ہفتہ، 28 جون، 2025

تقابل

 






تقابل

تاریخ گواہ ہے کہ بعض شخصیات اپنی تنقید، تلخی اور تیزطراری کی بدولت منظرِ عام پر آتی ہیں۔  ان کا ہنر یہی ہے کہ وہ لفظوں کو نیزے کی طرح برتتے ہیں، جملوں کو تیر کی مانند چھوڑتے ہیں، اور طنز کو ایسی تلوار میں ڈھال دیتے ہیں جس کا زخم مدتوں تازہ رہتا ہے۔

ایسی ہی دو شخصیات کا تقابل سامنے آتا ہے—ایک وہ جو سیاست کے نام پر جیل میں بند ہے، دوسرا جو مزہب کی چمکتی تلوار سونت کر روایات کے خلاف نعرہ زن ہے ۔ دونوں ہی تنقید کر کے مشہور ہوئے۔ ایک نے کسی کو نہ بخشا، اور دوسرے نے کسی کو نہ چھوڑا۔

وہ خود پسند تھا، یہ بھی اپنی ذات کا اسیر ہے۔ وہ زبان کا دھنی تھا، فنِ تقریر کا ماہر، الفاظ کا جادوگر۔ یہ بھی خطابت میں کسی سے پیچھے نہیں، مگر دونوں کی زبان میں شیرینی کی جگہ کڑواہٹ ہے۔ نہ وہ مروّت کا قائل تھا، نہ یہ لحاظ برتنے کا عادی ہے۔

وہ پگڑیاں اچھالتا تھا، یہ روایات کو روندتا  ہے۔ اس کی زبان تیز تھی، اس کی بھی تلخ ہے۔ وہ باہر نکلتا تو اپنے جانثاروں کی معیت میں، نعرے بلند کرتا، ہجوم کو گرما دیتا۔ یہ البتہ مصلحت کی چادر اوڑھے، ایک فاصلے سے بولتا ہے، مگر وار اس کا بھی کم نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وہ سیاست دان ہوتے ہوئے مذہب کی چاشنی شامل کرتا تھا، وہیں یہ مذہب کی نمائندگی کرتے ہوئے سیاست کا تڑکا لگانا ضروری سمجھتا ہے۔ ایک نے مذہب کو سیاست میں برتا، دوسرے نے سیاست کو مذہب میں گوندھا۔ فرق صرف زاویے کا ہے، 

دونوں ہی خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں۔ وہ دانا کہلاتا تھا، یہ دانا بن بیٹھا ہے۔ مگر ایک فرق نمایاں ہے: وہ بات کر کے بھول جاتا، یہ بات کر کے یاد رکھتا ہے۔ وہ دل کا صاف تھا، چوٹ لگاتا اور آگے بڑھ جاتا؛ یہ دل میں گرہ باندھتا ہے، اور موقع پا کر گرہ کھول کر دکھاتا ہے۔

وہ نئی نسل کا  سوشل میڈیا پر ہیرو تھا، یہ بھی نوجوانوں کے دل کی دھڑکن ہے۔ وہ  اونٹ کی طرح کینہ  پرور تھا،یہ لومڑی کی طرح مکار 


منگل، 24 جون، 2025

ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی



ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی

ڈونلڈ ٹرمپ جب دوسری بار امریکی صدارتی دوڑ میں کامیاب ہوا تو اس نے امریکی عوام کو امید دلا کر ووٹ لیے کہ اب امریکہ دنیا میں امن کا علمبردار بنے گا، امریکی فوج کو لاحاصل جنگوں سے نکالا جائے گا، اور معاشی خوشحالی کا راستہ کھلے گا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کی طاقت کو صرف امریکہ کی سرحدوں تک محدود رکھے گا اور غیر ملکی مداخلتوں کا سلسلہ ختم ہوگا۔

لیکن اقتدار سنبھالتے ہی جو منظر دنیا نے دیکھا، اس نے ثابت کر دیا کہ ٹرمپ نہ امن کا پیامبر ہے اور نہ کوئی اصولی سیاستدان بلکہ وہ بھی صیہونی اسلحہ سازوں اور اسرائیلی مفادات کے ہاتھوں میں کھیلنے والا ایک اور مہرہ ہے۔

دنیا کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے سب سے پہلے اس نے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے، غیر قانونی تارکین وطن کو نشانہ بنایا۔ امریکہ میں لاکھوں خاندانوں کو تقسیم کیا گیا، بچوں کو والدین سے جدا کر کے حراستی کیمپوں میں ڈال دیا گیا، اور یہ باور کرایا گیا کہ دنیا کی واحد سپر پاور اگر چاہے تو نہتے، بے بس اور کمزور لوگوں کو روند کر اپنی برتری ثابت کر سکتی ہے۔

لیکن طاقت کا مظاہرہ صرف اتنا کافی نہیں تھا۔ فلسطین میں، امریکہ کے اسلحے، مالی امداد اور سیاسی پشت پناہی سے اسرائیل نے عورتوں اور بچوں کو محصور کر کے غزہ کو قتل گاہ میں تبدیل کر دیا۔ امریکہ خاموش رہا بلکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنی ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال کرتا رہا۔

پھر باری آئی کمزور ریاستوں کی۔ یمن، صومالیہ، عراق اور شام کو پراکسی جنگوں کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ کہیں امریکہ براہِ راست حملہ آور ہوا، کہیں اسرائیل اور اس کے دوسرے اتحادیوں کو آگے بڑھایا گیا۔ ہر جگہ خون، بارود اور تباہی نے یہ پیغام دیا کہ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی تباہ کن قوت ہے۔

روس جیسی بڑی فوجی طاقت کے خلاف بھی امریکہ نے سازشوں کا دائرہ بڑھایا۔ یوکرین کی جنگ میں نیٹو اور امریکی مداخلت نے روس کو اشتعال دلایا اور یہاں تک نوبت آئی کہ روس کے اندر ہوائی اڈوں پر کھڑے جنگی طیارے تباہ کیے گئے۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ دشمن کے گھر کے اندر گھس کر مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن اس بار اسرائیل اور امریکہ نے جنگی تھیٹر میں بھارت کو شامل کیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی شدت بڑھائی اور پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگا کر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان نے نہ صرف سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھارت کو جواب دیا بلکہ عسکری سطح پر بھی بھارت کی جارحیت کو ناکام بنا دیا۔ یوں بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ چال ناکام ہوئی اور پاکستان نے دنیا کو بتا دیا کہ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور امریکی سازشوں کے باوجود اس کی سرحدیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔

جب ایران پر اسرائیل نے حملہ کر کے اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تو ایران نے نہایت محتاط انداز میں جواب دیا۔ اسرائیل پر میزائل برسے اور امریکہ کو اندازہ ہوا کہ ایران کوئی عام ملک نہیں، نہ اسے لبنان یا شام سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ کے پاس جنگ بندی کا ڈھونگ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔ یوں دنیا کو بتایا گیا کہ جنگ ختم ہو گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف وقتی خاموشی ہے۔

شام میں ایک نئی چال چلی گئی۔ اسرائیل کی شہہ پر ایک مسیحی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مذہبی بنیاد پر شام میں نئی خانہ جنگی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ فی الحال اس واقعے کو میڈیا سے چھپا لیا گیا ہے لیکن ہر ذی شعور جانتا ہے کہ شام کی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل جب چاہیں جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

ٹرمپ، جو اپنے آپ کو امن کا سفیر کہتا تھا، آج ثابت کر چکا ہے کہ وہ درحقیقت اسرائیل کے اشاروں پر چلنے والا ایسا جوکر ہے جو ہر گھنٹے بعد اپنا بیان بدلتا ہے، جو وعدے کرتا ہے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کرتا۔ نیتن یاہو جیسے بچوں کے قاتل اور انسانیت کے دشمن کی کٹھ پتلی بن کر، ٹرمپ نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے۔

اقوام عالم کے سامنے دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر کی شخصیت کا پول کھل چکا ہے ۔ کیا امریکی عوام کو بھی یہ ادراک ہو گیا ہے کہ ان کا نمائندہ امریکہ کے صدر کی بجائے ، نیتن یاہوجیسے جنگی مجرم کی کٹھ پتلی کا کرادار ادا کر رہا ہے ۔  

بدھ، 18 جون، 2025

"امریکہ لڑے گا، چین تجارت کرے گا!"




دنیا کی دو بڑی طاقتیں — چین اور امریکہ — مشرقِ وسطیٰ کے ایک ممکنہ نئے محاذ کی جانب دیکھ رہی ہیں، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف چین نے ایران میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، تو دوسری طرف امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف اور مالیاتی معاون ہے۔ سوال یہ ہے: کیا ان کے معاشی مفادات انہیں اس جنگ میں براہِ راست گھسیٹ سکتے ہیں؟
چین کی ایران میں سرمایہ کاری

چین اور ایران نے 2021 میں ایک پچیس سالہ معاشی اور تزویراتی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت چین ایران میں توانائی، مواصلات، بندرگاہوں، ریلویز، اور دیگر انفراسٹرکچر پر مبینہ طور پر 400 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ایران عالمی پابندیوں کے باعث چین کو رعایتی نرخوں پر تیل بیچتا ہے، اور چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار بن چکا ہے۔
مزید برآں، ایران چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" میں ایک مرکزی سنگ میل ہے، جو ایشیا کو یورپ اور افریقہ سے جوڑنے کی چینی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ تاہم امریکی پابندیوں کے باعث چینی کمپنیوں کی اکثریت ایران میں محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے، اور بیشتر منصوبے صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہیں۔
امریکہ کی اسرائیل میں سرمایہ کاری

امریکہ ہر سال اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدے کا حصہ ہے۔ جدید میزائل سسٹمز جیسے آئرن ڈوم، ڈیویڈز سلِنگ اور ایرو میزائل چین کی مدد سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، بایوٹیک اور ڈیفنس انڈسٹری میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا ایک اہم مرکز بھی ہے، جہاں مشترکہ فوجی مشقیں اور نگرانی کے نظام موجود ہیں۔
کیا مالی مفادات ان کو جنگ میں کھینچ لائیں گے؟
امریکہ

امریکہ کا اسرائیل سے عسکری و سفارتی تعلق اتنا گہرا ہے کہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں امریکہ کا میدان میں اترنا بعید از قیاس نہیں۔ اندرونی سیاسی دباؤ، اسرائیل نواز لابی، اور دفاعی صنعت کے مفادات اس امکان کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
تاہم امریکہ کے معاشی مفادات بھی دائو پر لگ سکتے ہیں، کیونکہ اگر جنگ مشرق وسطیٰ سے آگے بڑھ گئی تو عالمی مارکیٹ میں افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ کے لیے اسرائیل کا تحفظ اس کے علاقائی تسلط کی علامت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی خطرے میں مداخلت سے گریز نہیں کرے گا۔
چین

اس کے برعکس چین نے اب تک خود کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگی سیاست سے دور رکھا ہے۔ وہ ایران میں سرمایہ کاری ضرور کر رہا ہے، لیکن وہ ایران کا فوجی حلیف نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات مضبوط کیے ہیں، خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔
چین کی کوشش ہو گی کہ وہ اس تنازعہ کو سفارتی طریقے سے سلجھائے، تاکہ نہ صرف اس کے اقتصادی منصوبے محفوظ رہیں بلکہ وہ دنیا کے سامنے ایک امن پسند طاقت کے طور پر بھی ابھرے۔
نتیجہ

امریکہ اور چین دونوں کی مشرقِ وسطیٰ میں سرمایہ کاری موجود ہے، مگر ان کا رویہ مختلف ہے۔ امریکہ کا جھکاؤ اسرائیل کی عسکری حمایت کی طرف ہے، جبکہ چین کا مفاد اقتصادی استحکام اور سفارتی بیلنس میں ہے۔
اگر جنگ بھڑکتی ہے تو امریکہ براہ راست میدان میں آ سکتا ہے، لیکن چین پسِ پردہ رہ کر مفادات کا تحفظ کرے گا۔
"امریکہ لڑے گا، چین تجارت کرے گا!"

جمعہ، 13 جون، 2025

ایران پر اسرائیلی حملہ




13
 جون 2025 کا دن مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب بن کر ابھرا۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے بھرپور حملوں نے نہ صرف خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی، بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

ان حملوں کا کوڈ نام 
"Rising Lion"
 رکھا گیا۔ اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات، خصوصاً نطنز، کے ساتھ ساتھ عسکری اور میزائل مراکز پر فضائی حملے کیے۔ ایران کی طرف سے اس کارروائی کو "بقیہ حسرت" کا نام دیا گیا، جو اس کے شدید ردعمل کا مظہر ہے۔
اسرائیل نے صرف عمارات کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایران کی فوجی اور سائنسی قیادت کو بھی چن چن کر نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلیمی، میجر جنرل غلام علی راشد اور ممکنہ طور پر چیف آف اسٹاف محمد باقری شائد زخمی ہیں ۔ یہ وہ نام ہیں جو ایران کی عسکری حکمت عملی کا دماغ سمجھے جاتے تھے۔ خامنہ‌ای کے سینیئر مشیر علی شمخانی شدید زخمی ہو کر ہسپتال منتقل کیے گئے۔

جوہری پروگرام میں ایران کے چند بڑے دماغ بھی اس حملے کی بھینٹ چڑھ گئے۔ فریدون عباسی-داوانی جیسے معروف سائنسدان کی ہلاکت کی ریاستی میڈیا نے تصدیق کی ہے۔ شاہد بہشتی یونیورسٹی سے وابستہ محمد مهدی طهرانچی، عبدالحمید منوشہر اور احمدرضا زلفغہری جیسے پروفیسر بھی مارے گئے۔ ان کی موت ایران کے سائنسی منظرنامے میں ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے۔

یہ حملے صرف فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ تہران جیسے شہری علاقوں میں بھی بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں خواتین، بچے اور عام شہری زخمی یا ہلاک ہوئے۔ زیرِ زمین جوہری مرکز نطنز میں دھماکوں نے بنیادی انفراسٹرکچر کو تہس نہس کر دیا، اور اب IAEA اس کی نگرانی کر رہی ہے۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ‌ای نے اعلان کیا ہے کہ ایران اس حملے کا "شدید جواب" دے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے اسرائیلی کارروائی میں براہِ راست ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، مگر اس دعوے پر دنیا بھر میں شکوک پائے جاتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات پہلے ہی نازک موڑ پر تھے۔ اب یہ کارروائی ان مذاکرات کو مکمل طور پر دفن کر سکتی ہے۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور تمام تر فوجی یونٹس کو الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔ گویا وہ ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل اور ایران کی یہ سرد جنگ اب کھلے میدان میں آ چکی ہے۔ یہ صرف دو ممالک کی جنگ نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاست اور دنیا کے ایندھن کے ذخائر پر حملہ ہے۔ جو کچھ بھی ہو، اس کے اثرات نہ صرف تہران اور تل ابیب میں بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

بدھ، 11 جون، 2025

طاق اور دیا



 

1980 

کی سخت گرم مئی کا مہینہ تھا، اور ملک تھا کویت، جہاں درجہ حرارت کی گرمی انسان کو عاقبت یاد دلا دیتی تھی۔ میرے دوست عبدالباسط نے مجھ سے سوال کیا، "کل کون مرا ہے؟"

میں نے جواب دیا: "ٹیٹو" – (یعنی مارشل ٹیٹو، یوگوسلاویہ کا صدر)

انہوں نے دوسرا سوال کیا: "کیا وہ مسلمان تھا؟"
میں نے بتایا کہ "اس کی ساری زندگی کمیونزم کے نفاذ کی جدوجہد میں گزری ہے۔"
عبدالباسط نے سرد آہ بھری، "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھا۔
میں نے حیرت سے پوچھا: "آپ کو ٹیٹو کے مرنے کا دکھ ہے؟"
ان کا جواب آج تک میرے دل میں نقش ہے:
"میں ٹیٹو کو نہیں جانتا، مگر دکھ اس بات کا ہے کہ ایک پڑھے لکھے شخص تک میں اسلام کی حقانیت کا پیغام نہ پہنچا سکا۔"

یہ ایک سادہ مگر بہت بڑی بات تھی۔ ایک سچا عالم ایسا ہی حساس دل رکھتا ہے – وہ علم کو صرف کتب میں نہیں، انسانوں کے دلوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ناکامی کو دنیاوی معیار پر نہیں، دعوتِ دین کے تقاضوں پر پرکھتا ہے۔

لیکن افسوس کہ آج علم کا معیار بدل چکا ہے۔ معاشرے میں ایسے "علماء" بھی پائے جاتے ہیں جو علم کو اللہ کی امانت نہیں بلکہ شہرت و دولت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کا مقصد دلوں کی اصلاح نہیں بلکہ مجمع جمع کرنا، سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانا، یا کسی سیاسی یا مسلکی طاقت کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کی زبان میں نرمی نہیں، لہجہ میں تکبر ہوتا ہے، اور دل میں اخلاص کی جگہ خودنمائی۔

ایسے اہلِ علم کی صحبت میں بیٹھ کر انسان کے اندر عاجزی نہیں آتی، بلکہ تعصب، تنگ نظری اور دوسروں پر تنقید کی عادت پروان چڑھتی ہے۔ ان کے علم سے روحانی پیاس نہیں بجھتی، بلکہ دل مزید خشک ہو جاتا ہے۔ جب علم، دولت کمانے کا ذریعہ بن جائے، تو وہ بوجھ بن جاتا ہے – نہ وہ عالم خود نجات پاتا ہے، نہ دوسروں کو نجات کی راہ دکھا سکتا ہے۔

معاشرے کے لیے سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ علم کی کرسی پر وہ لوگ براجمان ہو جائیں جو علم کے بوجھ کو اٹھانے کے قابل ہی نہ ہوں۔ جب کردار سے خالی عالم، قوم کی رہنمائی کرے، تو نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔

اس کے برخلاف، سچے علما ہمیشہ حق کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں میں تاثیر ہوتی ہے، چہرے پر نور ہوتا ہے، اور کردار میں ایسا خلوص کہ لوگ ان کی محفل سے بدل کر نکلتے ہیں۔ ان کا دکھ بھی حقیقی ہوتا ہے – جیسا عبدالباسط نے مارشل ٹیٹو کے لیے محسوس کیا۔ وہ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ شاید ہم کسی ایک دل تک بھی اسلام کی روشنی نہ پہنچا سکے۔

علم ایک نور ہے عالم کے دل میں اترتا ہے البتہ عالم وہی ہے جس کو سن کر، پڑھ کر یا اس کی صحبت میں بیٹھ کر علم اور اخلاق میں بہتری آئے 


دانت ٹوٹنے کے بعد بھی ۔۔۔





دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت اب ایک ایسے ملک میں بدل چکا ہے جس کا اصل چہرہ ’’دکھانے والے دانتوں‘‘ سے بالکل مختلف ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو باہر سے قانون، انسانیت، کثرتیت اور جمہوریت کی بات کرتا ہے، مگر اندر سے اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔
ہندوتوا کا نظریہ اور RSS کی پالیسی
بھارت کا ریاستی بیانیہ اب مکمل طور پر ہندوتوا کے زہر میں ڈوبا ہوا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے نظریہ ساز، ایم ایس گولوالکر نے لکھا تھا:
"ہندوؤں کے سوا باقی سب کو، یا تو ہندو بننا ہو گا، یا بھارت چھوڑنا ہو گا۔"
— We or Our Nationhood Defined (1939)
آج یہی نظریہ بھارتی سیاست، میڈیا، اور عدالتوں میں جھلکتا ہے۔ بی جے پی حکومت اسی فلسفے پر کاربند ہے۔
مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی اور سماجی مظالم
▪ دہلی فسادات (2020)
بی جے پی رہنماؤں کی تقاریر کے بعد منظم مسلم کش فسادات ہوئے۔ 53 افراد مارے گئے، درجنوں مسجدیں جلائی گئیں۔
نریندر مودی کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے ریاست گجرات میں 2,000 سے زائد مسلمان قتل ہوئے۔
شہریت ترمیمی قانون مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا۔
 NRC 
کی آڑ میں آسام اور بنگال میں لاکھوں مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔
▪ مساجد پر حملے، اذان پر پابندیاں، لو جہاد کا جھوٹا پروپیگنڈا
مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔ اتر پردیش میں درجنوں مسلمان جوڑوں پر ’لو جہاد‘ کے تحت جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔
بھارتی میڈیا آج حکومت کا ہتھیار بن چکا ہے۔ وہ جو جرم خود کرتا ہے، اس کا الزام پاکستان، بنگلہ دیش، یا کسی مسلمان فرد پر لگا دیتا ہے۔
پلوامہ حملہ 
(2019)
 اس کی مثال ہے جہاں جھوٹے الزامات کے بعد پاکستان پر جنگی دباؤ بڑھایا گیا، حالانکہ بعد میں خود بی جے پی رہنماں نے تسلیم کیا کہ "انتخابی فائدے" کے لیے یہ سب کیا گیا۔
بھارت نے ایک بار پھر اپنے غرور میں پاکستان پر حملے کی کوشش کی، مگر مئی 2025 کی جنگ میں اسے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جدید پاکستانی دفاعی حکمتِ عملی اور عوامی اتحاد کے آگے بھارتی فوج بوکھلا گئی۔
بھارت نے پہلے غرور سے حملہ کیا، اور پھر ترکی، سعودی عرب، برطانیہ اور امریکہ کی منتیں کیں کہ "جنگ بندی" کرائی جائے۔ مگر جنگ بندی کے فوراً بعد، یہی بھارت اقوامِ عالم کو آنکھیں دکھانے لگا، گویا اسے شکست ہوئی ہی نہیں۔
یہ اس کی پرانی عادت ہے:
’’طاقتور کے قدموں میں جھک جانا، کمزور کو گلے سے دبوچ لینا۔‘‘
وہی بھارت جو دنیا کے سامنے للکار کر بولتا ہے، بند کمروں میں گڑگڑا کر اپنے مخالف کے پاؤں پکڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی میٹنگز میں بھارت نے جھوٹ پر جھوٹ بولا کہ اس نے "فتح حاصل کی ہے"، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے کئی طیارے تباہ ہوئے، بارڈر پر پسپائی ہوئی، اور عالمی سطح پر رسوائی الگ۔
آج کا بھارت:
مسجدیں گراتا ہے، مندر بناتا ہے۔
اقلیتوں کو شہریت سے محروم کرتا ہے۔
میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلاتا ہے۔
دنیا سے جھوٹ بولتا ہے، اور اپنے عوام کو دھوکہ دیتا ہے۔
جنگ میں شکست کھا کر بھی "جیت" کے بینر چھاپتا ہے۔
دنیا کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ بھارت کے ’’دکھانے والے دانت‘‘ کچھ اور ہیں، اور کاٹنے والے دانت کچھ اور۔ یہ ملک صرف جمہوریت کا نقاب اوڑھ کر اقلیتوں کو کچلنے، پروپیگنڈا پھیلانے، اور اپنے جرائم کا الزام دوسروں پر ڈالنے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور بین الاقوامی میڈیا اس ’’دکھاوے‘‘ کو پہچانے۔ بھارت کا اصل کردار بے نقاب ہو چکا ہے، مگر اس پر خاموشی جاری رہی، تو دنیا کو "جمہوریت کے لبادے میں فاشزم" کا سامنا ہو گا۔

جمعرات، 5 جون، 2025

سعودی شہزادہ


 

عنوان: سعودی ولی عہد، ٹرمپ اور پاکستان: تعلقات کی وہ سچائی جو اکثر چھپائی جاتی ہے

تحریر: دلپزیر

سیاست میں تعلقات اکثر بیانات سے زیادہ اثر رکھتے ہیں، اور بین الاقوامی تعلقات میں تو یہ اصول اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں حالیہ برسوں میں جو ایک سب سے نظرانداز لیکن فیصلہ کن حقیقت رہی، وہ یہ ہے کہ امریکہ میں ہمارے حق میں جو چند نرم فیصلے یا مواقع پیدا ہوئے، وہ کسی پاکستانی لابنگ یا سفارتی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں تھے—بلکہ سعودی ولی عہد۔

ڈونلڈ ٹرمپ جیسے خودرائے اور بےباک رہنما کو جو دنیا کی مخالفت کے باوجود فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرتا، محمد بن سلمان کے ذاتی اثر و رسوخ کے سامنے بارہا جھکنا پڑا۔ اس اثر کی نوعیت رسمی یا سفارتی نہیں، بلکہ ذاتی اعتماد، باہمی مفادات اور خاندانی سطح کے روابط پر مبنی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے بعض مواقع پر پاکستان کو ایسی جگہ پر سفارتی تنفس دیا، جہاں معمول کے ذرائع ناکام ہو چکے تھے۔

پاکستان کی امریکہ میں موجودہ حیثیت یا اثر رسوخ کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ آخر امریکہ کو آج پاکستان میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ ہم نہ معاشی طاقت ہیں، نہ عسکری لحاظ سے وہ حیثیت رکھتے ہیں جو افغان جہاد کے دور میں تھی، اور نہ ہی جغرافیائی محلِ وقوع کا وہ کردار اب باقی رہا ہے۔

اگر کوئی وجہ باقی ہے، تو وہ ہے سعودی تعلقات — اور خاص طور پر محمد بن سلمان کا وہ اثر جو ٹرمپ پر قائم ہوا۔ ایک حالیہ مثال رچرڈ گرنیل کی سرگرمی ہے، جو ٹرمپ کے مشیر رہے اور پاکستان کے خلاف سخت بیانیے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ جب وہ پاکستان پر تنقید کر رہے تھے، تو نہ کسی سفارتکار کی تقریر مؤثر ہوئی، نہ یوتھیاؤں کی امریکہ میں لابنگ کامیاب ہوئی۔
لیکن پھر ایک کال — سعودی وزیرِ دفاع کی طرف سے — اور رچرڈ گرنیل کی آواز بند ہو گئی۔

یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ طاقت کے عالمی کھیل میں اصل بات تعلقات کی ہوتی ہے، اور ان تعلقات کو نبھانے کی ثقافتی سمجھ بھی ہونی چاہیے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے — اور وہ ہے عمران خان اور محمد بن سلمان کے درمیان سرد مہری۔
سعودی ولی عہد کو عمران خان کی شخصیت سے خاصی ناپسندیدگی ہے، جس کی دو بڑی وجوہات سامنے آ چکی ہیں:
اول، وہ قیمتی گھڑی جو
 MBS
 کی جانب سے تحفے میں دی گئی تھی، بازار میں بیچ دی گئی۔
دوم، عمران خان کی کابینہ یا قریبی حلقے سے 
MBS
 کے خلاف نازیبا کلمات سعودی سفارتی ذرائع تک پہنچے، جسے ولی عہد نے ذاتی توہین کے مترادف سمجھا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ سعودی چینل — جو ماضی میں پاکستان کو عالمی سطح پر تنفس دیتا رہا — غیر فعال ہو گیا۔ اور جہاں سے پاکستان کو مدد مل سکتی تھی، وہاں فاصلے پیدا ہو گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما اگر کبھی پاکستان کے لیے کسی نرم گوشے کا اظہار کرتے ہیں تو اس کی وجہ نہ اسلام آباد ہے، نہ واشنگٹن کی کوئی پالیسی۔
وہ صرف اور صرف
 MBS
 کی ذاتی خواہش کا احترام کرتے ہیں۔
یہی وہ تلخ حقیقت ہے جو ہمیں سمجھنی ہو گی۔

پاکستان کو مستقبل میں اگر دنیا میں کوئی حیثیت درکار ہے، تو اسے اپنے خارجی تعلقات کو انا، ضد اور ذاتی رویوں سے الگ رکھنا ہو گا۔
سفارت صرف بیانات اور تصویروں سے نہیں چلتی — یہ رشتوں، عزت داری، اور بھروسے سے چلتی ہے۔

یہی سبق ہے جو وقت بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے — مگر شاید ہم ہر بار اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔