Middle East لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Middle East لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 22 اگست، 2026

شام نیا "امحان گاہ"


شام ، نیا "امتحان گاہ"۔
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک محدود فوجی کارروائی پورے خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
18 اگست کو اسرائیل نے شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع ابو الظہور فضائی اڈے پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اسے خدشہ تھا کہ اس اڈے پر ترک فوجی موجودگی قائم کی جا سکتی ہے۔ ترکیہ نے اس مؤقف کو مسترد کیا اور اسرائیلی حملے کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے بھی بعد میں کہا کہ اس واقعے نے اسرائیل اور ترکیہ کو براہِ راست فوجی تصادم کے قریب پہنچا دیا تھا۔ 
یہ واقعہ بظاہر شام پر اسرائیلی حملہ تھا، لیکن اس کے پیچھے اصل مسئلہ شام کے مستقبل پر اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔
شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ترکیہ نے نئی شامی حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی، دفاعی اور عسکری تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ اسرائیل اس بڑھتے ہوئے ترک اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ تزویراتی خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابو الظہور کا واقعہ محض ایک فضائی حملہ نہیں بلکہ اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان شام کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے مقابلے کی علامت بن گیا ہے۔
لیکن اس کہانی میں ایک نئی اور انتہائی اہم تبدیلی آ چکی ہے۔
اب ترکیہ اکیلا نہیں ہے۔
7 اگست میں مکہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے اعلان کے مطابق ایک رکن کے خلاف مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے نے خطے میں ایک نئی دفاعی صف بندی کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ 
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے
اگر شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم ہوتا ہے تو کیا مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب اور پاکستان کو بھی اس بحران میں کھینچ لے گا؟
اس سوال کا جواب سادہ نہیں۔
معاہدے کی اصل طاقت اس کے الفاظ سے زیادہ اس کی سیاسی تعبیر اور عملی نفاذ میں ہوگی۔ اگر ترکیہ پر حملہ اس معاہدے کے تحت ’’مسلح حملہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے تو نظریاتی طور پر سعودی عرب اور پاکستان کے لیے ترکیہ کے دفاع کی ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کا مطلب فوراً اسرائیل کے خلاف براہِ راست جنگ ہو۔
دونوں ممالک کے پاس فوجی، سفارتی اور اقتصادی ردعمل کے کئی درجات موجود ہیں۔
سعودی عرب کا ممکنہ کردار
سعودی عرب اس بحران میں سب سے پہلے سفارتی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔
ریاض خطے میں اپنی سیاسی اور مذہبی حیثیت کے باعث اسرائیل، امریکا، ترکیہ اور شام سب کے ساتھ رابطے رکھتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ترکیہ کی حمایت کرتے ہوئے براہِ راست جنگ کو روکنے کی کوشش کرے۔
لیکن اگر اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تصادم بڑھتا ہے اور معاملہ مکہ دفاعی معاہدے کی حدود تک پہنچتا ہے تو سعودی عرب پر سیاسی دباؤ بہت بڑھ جائے گا۔
اس وقت سعودی عرب کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہوگا کہ ترکیہ کی دفاعی مدد کہاں تک کی جائے؟
کیا صرف سفارتی حمایت؟
کیا انٹیلی جنس تعاون؟
کیا فضائی دفاع؟
کیا مالی اور لاجسٹک مدد؟
یا براہِ راست فوجی شرکت؟
ان میں سے آخری امکان سب سے زیادہ خطرناک ہوگا، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک مقامی شام-اسرائیل تنازع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب غالباً آخری مرحلے تک براہِ راست جنگ سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن اگر معاہدے کے تحت ترکیہ کے خلاف واضح بیرونی حملہ تصور کیا گیا تو ریاض مکمل طور پر غیر جانب دار رہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوگا۔
پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟
پاکستان کا معاملہ مزید پیچیدہ ہے۔
پاکستان ترکیہ کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ بھی اس کے گہرے عسکری تعلقات موجود ہیں۔ اب تینوں ممالک ایک ہی دفاعی معاہدے میں شریک ہیں۔ اس لیے ترکیہ کے خلاف کسی بڑے فوجی حملے کی صورت میں اسلام آباد پر بھی سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھے گا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف فوراً اپنی فوج شام بھیج دے گا۔
پاکستان کے لیے سب سے قابلِ عمل راستہ غالباً براہِ راست جنگ کے بجائے دفاعی، تکنیکی، انٹیلی جنس، تربیتی اور سفارتی تعاون ہوگا۔
پاکستان پہلے بھی سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے فوجی تعاون کر چکا ہے۔ اس لیے اگر خلیجی سلامتی براہِ راست خطرے میں آئے تو پاکستان کا کردار زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
لیکن شام میں ترک افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان محدود جھڑپ اور ترکیہ پر مکمل پیمانے کے حملے میں بہت بڑا فرق ہے۔
پہلی صورت میں پاکستان شاید سفارتی اور دفاعی تعاون تک محدود رہنے کو ترجیح دے۔
دوسری صورت میں مکہ دفاعی معاہدے کی سیاسی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔
کیا پاکستان اسرائیل کے خلاف جنگ کرے گا؟
اس سوال کا جواب فی الحال نہیں کہا جا سکتا۔
یہ کہنا کہ پاکستان لازماً اسرائیل کے خلاف فوج بھیجے گا، موجودہ شواہد سے آگے بڑھ جانا ہوگا۔
زیادہ حقیقت پسندانہ منظرنامہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے سفارتی حمایت، دفاعی مشاورت، انٹیلی جنس تعاون اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ پوزیشن اختیار کرے گا۔
اگر تنازع ترکیہ کی سرزمین یا براہِ راست ترک فوجی تنصیبات تک پہنچتا ہے تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ معاہدہ ایک علامتی دستاویز سے بڑھ کر عملی دفاعی بندوبست بن سکتا ہے۔
اور شام؟
اس پورے معاملے میں سب سے اہم ملک شاید شام ہی ہے۔
شام اس وقت تباہ حال ریاست سے دوبارہ تعمیر ہونے والی ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے ترکیہ کی فوجی اور سیاسی مدد کی ضرورت ہے، لیکن وہ اسرائیل کے ساتھ ایک نئی بڑی جنگ بھی نہیں چاہتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شام اب خود مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران بتایا کہ دمشق اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ 
اگر شام بھی اس دفاعی بندوبست میں شامل ہو جاتا ہے تو معاملہ مزید تبدیل ہو جائے گا۔
تب ایک طرف اسرائیل ہوگا اور دوسری طرف ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور ممکنہ طور پر شام کا ایک نیا دفاعی فریم ورک۔
یہ صورتحال خطے میں طاقت کے ایک نئے توازن کو جنم دے سکتی ہے۔
مگر اصل خطرہ جنگ سے زیادہ غلط فہمی ہے
موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک کے مطابق امریکا اب اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان ایک ایسا ’’عدمِ تصادم‘‘ کا نظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف غلط اندازے سے کارروائی نہ کریں۔ 
اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ ایک معمولی واقعہ بھی انتہائی خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی طیارہ شام میں کارروائی کرتا ہے۔
ترکیہ اسے اپنی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائی سمجھتا ہے۔
ترکیہ جواب دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
سعودی عرب ترکیہ کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان دفاعی معاہدے کی وجہ سے سیاسی دباؤ میں آتا ہے۔
اور پھر ایک محدود شام-اسرائیل تنازع دیکھتے ہی دیکھتے ایک علاقائی بحران بن سکتا ہے۔
یہی وہ منظرنامہ ہے جس سے امریکا، یورپ اور خطے کی دوسری طاقتیں بچنا چاہیں گی۔
تین ممکنہ منظرنامے
موجودہ حالات کو تین ممکنہ راستوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلا راستہ: سفارتی دباؤ
امریکا اور دوسرے ممالک اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان عدمِ تصادم کا نظام قائم کر دیں۔ اسرائیل شام میں ترک فوجی موجودگی کے خلاف اپنی حدود طے کرے اور ترکیہ بھی اسرائیلی فوجی مفادات کو براہِ راست چیلنج کرنے سے گریز کرے۔
یہ سب سے کم خطرناک راستہ ہے۔
دوسرا راستہ: بالواسطہ مقابلہ
ترکیہ شام کی فوج کو مضبوط کرے، اسرائیل شامی عسکری تنصیبات پر حملے جاری رکھے، مگر دونوں ممالک کی افواج براہِ راست ایک دوسرے پر حملہ نہ کریں۔
یہ ایک طویل ’’پراکسی‘‘ یا بالواسطہ کشمکش بن سکتی ہے۔
تیسرا راستہ: براہِ راست تصادم
اگر اسرائیل اور ترکیہ کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست کارروائی کرتی ہیں تو مکہ دفاعی معاہدہ پہلی مرتبہ حقیقی امتحان سے گزرے گا۔
تب سعودی عرب اور پاکستان کے سامنے فیصلہ ہوگا کہ معاہدے کی روح کو کس حد تک عملی شکل دی جائے۔
یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں شام کا بحران ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اصل سوال اب ترکیہ کا نہیں، مکہ معاہدے کا ہے
چند ہفتے پہلے تک اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست جنگ ایک بعید امکان دکھائی دیتی تھی۔
اب صورتحال مختلف ہے۔
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ اسرائیل اور ترکیہ شام میں ایک دوسرے کے عسکری مفادات کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ شام خود مکہ معاہدے میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ اور امریکا کو اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان عدمِ تصادم کا نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ 
اس لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ اسرائیل نے شام پر حملہ کیوں کیا۔
اصل سوال یہ ہوگا
اگر ترکیہ نے اس حملے کا جواب دیا تو مکہ میں بننے والا نیا دفاعی اتحاد کہاں تک جائے گا؟
اور اس سے بھی بڑا سوال
کیا سعودی عرب اور پاکستان ترکیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر اس تنازع کو روکیں گے، یا اس میں شامل ہو کر اسے ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل کر دیں گے؟
فی الحال زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ تینوں ممالک جنگ کو روکنے اور اپنی نئی دفاعی صف بندی کو بازدار قوت کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے، نہ کہ فوراً جنگ میں کودنے کو۔
لیکن تاریخ میں بعض اوقات اتحاد جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں بنتے۔
وہ جنگ کو روکنے کے لیے بنتے ہیں۔
اور کبھی کبھی یہی اتحاد دشمن کو روکنے کی کوشش میں ایسے واقعات کو جنم دے دیتے ہیں جنہیں روکنا بعد میں خود مشکل ہو جاتا ہے۔
شام اس وقت صرف ایک ملک نہیں، مشرقِ وسطیٰ کے نئے طاقت کے توازن کا "امتحان گاہ" بن چکا ہے۔

ہفتہ، 20 ستمبر، 2025

ع سے عاصم




علمِ اعداد کے ماہر ایک دوست کے ہاں محفل سجی۔ باتوں ہی باتوں میں جب ذکر اس علم کے اسرار و رموز کا آیا تو ایک نکتہ سب کے دل کو چھو گیا۔ انہوں نے کہا: “بشریٰ بی بی علمِ اعداد کا شعور رکھتی ہیں، مگر وہ ’ع‘ کے طلسمی گورکھ دھندے میں ایسی الجھیں کہ حقیقت کی اصل صورت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔”
انہوں نے سوچا کہ عمران، عثمان اور عارف جیسے نام ہی ان کی سلطنت کے ستون ہیں۔ مگر وہ یہ بھول گئیں کہ اقتدار کی بازی صرف زمینی تدبیروں سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ اس میں فلک کے فیصلے، ستاروں کی گردش اور مہروں کی چال بھی شامل ہوتی ہے۔ تقدیر کا حساب اعداد کے پیچ و خم میں پوشیدہ رہتا ہے اور وہی حساب بالآخر اپنی پوری قوت کے ساتھ ظاہر ہو کر انسان کو حیران کر دیتا ہے۔
اسی تقدیر نے دکھایا کہ اصل صاحبِ “ع” وہ نہیں تھے جن پر بھروسہ کیا گیا، بلکہ وہ تھے جو پسِ پردہ تاریخ کے ورق پلٹ رہے تھے۔ وقت آیا، ستاروں نے اپنی روشنی ان پر مرکوز کی، مہروں نے ان کے حق میں گواہی دی اور فلک نے ان کے نام کی تسبیح پڑھنی شروع کی۔ یوں پردۂ غیب سے ایک شخصیت ابھری — عاصم!
عاصم — ایک ایسا نام جو صرف ایک حرف نہیں بلکہ ایک رمز ہے۔ وہ عاجزی میں ڈوبا ہوا، مگر عزم میں فولاد؛ وہ عقل میں گہرائی رکھنے والا، مگر دل میں شفقت سے لبریز؛ وہ فرد شناس، تاریخ آگاہ اور سیاست کے رموز سے باخبر۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں وہ صرف ایک جرنیل نہیں بلکہ حافظِ قرآن عاصم منیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے وجود میں بہادری بھی ہے، قوتِ فیصلہ بھی، اور ایک ایسا کردار بھی جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب قوم نے محسوس کیا کہ اصل محافظ وہی ہیں۔ جو دلوں کو تسخیر کر لیں، وہی اقتدار کے اصل فاتح ہوتے ہیں۔ عاصم منیر نے یہ ثابت کر دیا کہ تقدیر کے اعداد، ستاروں اور مہروں کا فیصلہ بھی ان کے ساتھ ہے، اور عوام کا اعتماد بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ پاکستان فوج کے ہر دل عزیز سپہ سالار ہیں اور وقت کا لکھاری انہیں مستقبل کے ان دیکھے معجزوں کا امین لکھے  گا۔

پیر، 23 جون، 2025

ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی



ٹرمپ… سپر پاور کا صدر یا اسرائیل کی کٹھ پتلی

ڈونلڈ ٹرمپ جب دوسری بار امریکی صدارتی دوڑ میں کامیاب ہوا تو اس نے امریکی عوام کو امید دلا کر ووٹ لیے کہ اب امریکہ دنیا میں امن کا علمبردار بنے گا، امریکی فوج کو لاحاصل جنگوں سے نکالا جائے گا، اور معاشی خوشحالی کا راستہ کھلے گا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کی طاقت کو صرف امریکہ کی سرحدوں تک محدود رکھے گا اور غیر ملکی مداخلتوں کا سلسلہ ختم ہوگا۔

لیکن اقتدار سنبھالتے ہی جو منظر دنیا نے دیکھا، اس نے ثابت کر دیا کہ ٹرمپ نہ امن کا پیامبر ہے اور نہ کوئی اصولی سیاستدان بلکہ وہ بھی صیہونی اسلحہ سازوں اور اسرائیلی مفادات کے ہاتھوں میں کھیلنے والا ایک اور مہرہ ہے۔

دنیا کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے سب سے پہلے اس نے معاشرے کے سب سے کمزور طبقے، غیر قانونی تارکین وطن کو نشانہ بنایا۔ امریکہ میں لاکھوں خاندانوں کو تقسیم کیا گیا، بچوں کو والدین سے جدا کر کے حراستی کیمپوں میں ڈال دیا گیا، اور یہ باور کرایا گیا کہ دنیا کی واحد سپر پاور اگر چاہے تو نہتے، بے بس اور کمزور لوگوں کو روند کر اپنی برتری ثابت کر سکتی ہے۔

لیکن طاقت کا مظاہرہ صرف اتنا کافی نہیں تھا۔ فلسطین میں، امریکہ کے اسلحے، مالی امداد اور سیاسی پشت پناہی سے اسرائیل نے عورتوں اور بچوں کو محصور کر کے غزہ کو قتل گاہ میں تبدیل کر دیا۔ امریکہ خاموش رہا بلکہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنی ویٹو پاور کا بے دریغ استعمال کرتا رہا۔

پھر باری آئی کمزور ریاستوں کی۔ یمن، صومالیہ، عراق اور شام کو پراکسی جنگوں کے ذریعے کمزور کیا گیا۔ کہیں امریکہ براہِ راست حملہ آور ہوا، کہیں اسرائیل اور اس کے دوسرے اتحادیوں کو آگے بڑھایا گیا۔ ہر جگہ خون، بارود اور تباہی نے یہ پیغام دیا کہ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی تباہ کن قوت ہے۔

روس جیسی بڑی فوجی طاقت کے خلاف بھی امریکہ نے سازشوں کا دائرہ بڑھایا۔ یوکرین کی جنگ میں نیٹو اور امریکی مداخلت نے روس کو اشتعال دلایا اور یہاں تک نوبت آئی کہ روس کے اندر ہوائی اڈوں پر کھڑے جنگی طیارے تباہ کیے گئے۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا کہ وہ دشمن کے گھر کے اندر گھس کر مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن اس بار اسرائیل اور امریکہ نے جنگی تھیٹر میں بھارت کو شامل کیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی شدت بڑھائی اور پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگا کر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستان نے نہ صرف سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھارت کو جواب دیا بلکہ عسکری سطح پر بھی بھارت کی جارحیت کو ناکام بنا دیا۔ یوں بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ چال ناکام ہوئی اور پاکستان نے دنیا کو بتا دیا کہ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور امریکی سازشوں کے باوجود اس کی سرحدیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔

جب ایران پر اسرائیل نے حملہ کر کے اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا تو ایران نے نہایت محتاط انداز میں جواب دیا۔ اسرائیل پر میزائل برسے اور امریکہ کو اندازہ ہوا کہ ایران کوئی عام ملک نہیں، نہ اسے لبنان یا شام سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ کے پاس جنگ بندی کا ڈھونگ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔ یوں دنیا کو بتایا گیا کہ جنگ ختم ہو گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف وقتی خاموشی ہے۔

شام میں ایک نئی چال چلی گئی۔ اسرائیل کی شہہ پر ایک مسیحی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا تاکہ مذہبی بنیاد پر شام میں نئی خانہ جنگی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ فی الحال اس واقعے کو میڈیا سے چھپا لیا گیا ہے لیکن ہر ذی شعور جانتا ہے کہ شام کی سرزمین کو امریکہ اور اسرائیل جب چاہیں جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔

ٹرمپ، جو اپنے آپ کو امن کا سفیر کہتا تھا، آج ثابت کر چکا ہے کہ وہ درحقیقت اسرائیل کے اشاروں پر چلنے والا ایسا جوکر ہے جو ہر گھنٹے بعد اپنا بیان بدلتا ہے، جو وعدے کرتا ہے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کرتا۔ نیتن یاہو جیسے بچوں کے قاتل اور انسانیت کے دشمن کی کٹھ پتلی بن کر، ٹرمپ نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے۔

اقوام عالم کے سامنے دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر کی شخصیت کا پول کھل چکا ہے ۔ کیا امریکی عوام کو بھی یہ ادراک ہو گیا ہے کہ ان کا نمائندہ امریکہ کے صدر کی بجائے ، نیتن یاہوجیسے جنگی مجرم کی کٹھ پتلی کا کرادار ادا کر رہا ہے ۔  

اتوار، 15 جون، 2025

انسانیت معترض ہے




اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض دو ریاستوں کا تنازعہ نہیں رہا۔ یہ ایک عالمی اقتصادی، عسکری اور سیاسی نظام کی بقا کی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ اس کشمکش میں اسرائیل صرف ایک فریق نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے، جو ہر قیمت پر اپنے سرپرست، امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹنے پر تُلا ہوا ہے۔ معاملہ صرف غزہ، شام یا نطنز کے حملوں تک محدود نہیں بلکہ اصل ہدف واشنگٹن کو اس تنازعے میں براہِ راست شامل کرنا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ معاشی ہے۔

امریکہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین مالیاتی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس کا قومی قرضہ 36 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس قرضے کا بوجھ کم کرنے کے لیے امریکہ عالمی منڈی میں ٹریژری بانڈز فروخت کرتا ہے، جنہیں اب بڑی معاشی طاقتیں جیسے چین، سعودی عرب اور جاپان ہاتھ لگانے سے بھی کترا رہی ہیں۔ بانڈز کی یہ گرتی ساکھ امریکی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ اسرائیل بخوبی جانتا ہے کہ اس صورتحال میں اگر ایک بڑی جنگ چھڑ جائے تو عالمی سرمایہ ایک بار پھر خوف کے تحت "محفوظ سرمایہ کاری" کی طرف دوڑے گا، اور یہ محفوظ سرمایہ کاری امریکی بانڈز اور ڈالر سمجھے جائیں گے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں اسرائیل ایران پر حملے کر رہا ہے۔ تل ابیب چاہتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال اس قدر کشیدہ ہو جائے کہ امریکہ اپنی معاشی بقا کی خاطر اس جنگ میں براہِ راست کودنے پر مجبور ہو جائے۔ کیونکہ جب جنگ ہوگی تو نہ صرف بانڈز کی مانگ بڑھے گی بلکہ امریکی اسلحہ ساز ادارے بھی منافع کی نئی بلندیاں چھوئیں گے۔ اسرائیل کا یہی دوہرا مفاد ہے، ایک طرف امریکہ کو اپنے دفاعی وعدوں کے تحت  جنگ میں گھسیٹنا، دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کی مالی سانسیں بحال کرنا۔

اسرائیل کو معلوم ہے کہ امریکہ صرف سیاسی اخلاقیات پر نہیں بلکہ معاشی مجبوریوں پر عمل کرتا ہے۔ اسرائیلی تھنک ٹینکس، امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان کے درمیان ایک ناقابل انکار مفاہمت ہے۔ اسرائیلی پالیسی ساز جانتے ہیں کہ اگر امریکی مارکیٹ میں خوف کی فضا پیدا ہو جائے تو امریکی حکومت پر اندرونی دباؤ بڑھ جائے گا کہ وہ عالمی سرمایہ کو اعتماد دلانے کے لیے خود میدانِ جنگ میں اترے۔

یہ کوئی خفیہ بات نہیں کہ امریکہ کی موجودہ معیشت ٹیکس سے نہیں بلکہ قرض اور بانڈ فروشی سے چلتی ہے۔ جب عالمی سرمایہ بانڈ خریدنے سے گریز کرتا ہے تو امریکہ کے پاس اپنی بقا کا صرف ایک ہتھیار بچتا ہے: جنگ۔ ایسی جنگ جو امریکہ کو نہ صرف عالمی سیاسی رہنما کے طور پر دکھائے بلکہ اسے معاشی طور پر بھی فائدہ دے۔ اسرائیل یہی جنگ امریکہ پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔

ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ میں اسرائیل ایک بار پھر خود کو "مظلوم ہد ف" بنا کر پیش کر رہا ہے تاکہ عالمی ہمدردی حاصل کرے اور امریکہ کو عسکری طور پر مداخلت پر مجبور کرے۔ مگر دراصل یہ ایک بڑی معاشی اسکرپٹ کا حصہ ہے، جس میں میدانِ جنگ مشرقِ وسطیٰ ہے، مگر اصل لڑائی وال اسٹریٹ اور امریکی خزانے میں لڑی جا رہی ہے۔ اگر امریکہ اس جنگ میں داخل ہوتا ہے تو یہ ایران کی شکست نہیں بلکہ سرمایہ داری کی وقتی فتح ہو گی، جو اپنی ساکھ بچانے کے لیے لاکھوں جانیں قربان کرنے کو تیار ہے۔

اسرائیل اس وقت ایک ریاست نہیں، بلکہ ایک نظام کا آخری سپاہی ہے۔ اس نظام کا نام ہے سرمایہ داری، اور اس کے سب سے بڑے محافظ کا نام ہے جنگ۔ اور اب وہ اپنے سب سے بڑے سرپرست، امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلنے کے لیے ہر چال کھیل رہا ہے۔ یہ ایک بارودی سازش ہے، جس میں گولی، میزائل اور حملہ محض ظاہری ہتھیار ہیں، اصل جنگ تو قرض، سود اور ڈالر کی ہے۔

جمعہ، 13 جون، 2025

سرخ جھنڈا ۔۔۔ عزمِ نو؟



پاکستان اور ایران کا رشتہ صرف جغرافیائی ہمسائیگی کا نہیں، بلکہ تہذیبی، دینی، ثقافتی اور تاریخی قربتوں کا آئینہ دار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایران کے استحکام اور خودمختاری کی حمایت کی ہے، اور13  جون 2025 میں جب اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا، تو حکومتِ پاکستان نے اس کھلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ یہ حملہ دراصل ایران کے خلاف نہیں، پوری مسلم دنیا کے وقار، آزادی اور خودمختاری کے خلاف ایک اعلانِ جنگ تھا۔
ایران اسرائیل کی طرح مصنوعی ریاست نہیں، نہ ہی مغرب کی کسی فیکٹری سے برآمد شدہ قوم ہے۔ ایران ایک قدیم تہذیب ہے — فردوسی، سعدی، رومی، خیام اور حافظ کی سرزمین۔ علم، حکمت، فن، فلسفہ اور خودداری کا وہ خزینہ جس نے قرنوں تک دنیا کو روشنی دی۔ ایران کی تاریخ میں کبھی غلامی کا باب نہیں لکھا گیا۔ یہ قوم جب جھکی تو اپنے رب کے سامنے، اور جب اٹھی تو استکبار کے خلاف۔
آج اسرائیل دنیا کے سامنے خود کو مظلوم ظاہر کر رہا ہے، یہ کہہ کر کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس خود درجنوں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، اور اس کا ماضی فلسطین، شام، لبنان اور عراق جیسے ممالک پر بے شمار حملوں سے داغدار ہے۔ ایران پر حملہ اس کے ایٹمی پروگرام کا نہیں، بلکہ اس کے نظریے، غیرت اور مزاحمت کا دشمن ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ ایک مضبوط، خودمختار اور نظریاتی ایران اس کے سامراجی خوابوں کا قبرستان بن سکتا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ ایران کی اس عظیم مزاحمت کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے دشمنوں کو کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایران کے اندر وہ عناصر موجود ہیں جو دشمن کے آلہ کار بن کر ریاست کے خلاف نفسیاتی جنگ لڑ رہے ہیں۔ میڈیا، سوشل میڈیا، ثقافتی ادارے اور بعض این جی اوز کے ذریعے ایرانی قوم کو مایوسی، بے یقینی اور خلفشار کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ غدار دشمن کے بیانیے کو داخلی زبان دے رہے ہیں، اور ایران کی اصل جنگ کو نظریاتی بحران میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس عمل نے ایران کے اندر ایسے لوگ پیدا کر دیے ہیں جو اپنی ہی ریاست اور اپنے ہی ملک کے خلاف بر سر پیکار ہیں ، جس ریاست میں غدار پیدا ہو جائیں اس ریاست کے ساتھ عہی ہوتا ہے جو اسرائیل نے ایران کے ساتھ کیا ہے ۔ جب اسسرائیل کے جہاز فضا میں بلند تھے زمین پر انٹی ائر کرفٹ گنوں کو آرانے والے ایرانی موساد کے ایجنت تھے ، فوجی جرنیلوں اور سائنسدانوں کی موجدگی کی مخبری کرنے والی بھی اسرائیلی نہیں بلکہ کود ایرانی تھے جو بکے ہوئے تھے ۔
عراق نے اسرائیلی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دی، شام کے نئے حکمران ریاض میں ٹرمپ کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں ، سعودی عرب بیانات دے کر خاموش ہو جاتا ہے، اور دیگر عرب ریاستیں خاموشی میں عافیت تلاش کر رہی ہیں۔ ایران نے اپنے انقلابی بیانیے میں "مرگ بر اسرائیل"، "مرگ بر امریکہ" کے ساتھ "مرگ بر آل سعود" جیسے نعرے شامل کر کے دشمن کی پہچان تو واضح کی، مگر ان نعروں نے اسے خطے  میں سفارتی تنہائی کا شکار بھی بنایا۔
پاکستان کی ہمدردیاں آج بھی ایران کے ساتھ ہیں۔ حکومت اور عوام نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، مگر پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اس وقت اتنی طاقت میں نہیں کہ وہ ایران کی عملی عسکری مدد کر سکے۔ دنیا معاشی دباؤ، سیاسی تناؤ اور سفارتی مجبوریوں میں جکڑی ہوئی ہے۔
ایران اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر وہ دشمن کی لگائی آگ میں جل گیا تو یہ المیہ ہو گا، مگر اگر وہ اسی آزمائش سے نئی حکمت، نئے اتحاد، اور نئی قوت کے ساتھ نکلتا ہے تو یہ عزمِ نو ہو گا — ایک نئی صبح کا آغاز۔
تاریخ گواہ ہے، ایران نے ہمیشہ اپنی بقا کی جنگ اکیلے لڑی ہے، لیکن سر اٹھا کر لڑی ہے۔ اس کی مزاحمت، اس کا تہذیبی وقار، اور اس کا انقلابی نظریہ آج بھی مطلوموں  کے لیے امید کا چراغ بن سکتا ہے — بشرطِ یہ کہ وہ  
اپنی صفوں میں چھپے دشمنوں کو پہچانے، اور اپنی قوت کو پختگی میں بدلے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا نعرہ لگانا بند کر دے جس پر عمل نہ کر سکتا ہوں ۔ 
جہان تک اس جنگ کا تعلق ہے یہ اسرائیل اور ایران دونوں کے لیے بقا کی جنگ ہو گی اسرائیل یہ جنگ ہار گیا تو نتین ہاھو اور اس کے ساتھی مجرمیں نشان عبرت بنیں گے اور ایران ہار گیا تو موجودہ قیادت کو پھانسیاں خود ایران والے دین گے ۔
ایران: المیہ یا عزمِ نو؟
فیصلہ خود ایران کے ہاتھ میں ہے۔



جمعرات، 12 جون، 2025

گہرے زخم






اکتوبر 2023 سے جون 2025 تک مشرقِ وسطیٰ کی فضا مسلسل بارود کی بُو سے مہکتی رہی۔ ایک طرف فلسطین کے جلتے گھر، دوسری طرف ایران کے سائے میں پلتے خواب – اور ان کے بیچ اسرائیل کا وہ ہاتھ جو دور سے حملہ کرتا رہا، مگر اثرات تہران، دمشق، بیروت، اور نطنز تک محسوس کیے گئے۔

یہ دورانیہ محض حملوں کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک منظم حکمت عملی کی عکاسی ہے – وہ حکمت عملی جو ایران کو نہ صرف جوہری میدان میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے، بلکہ اس کی عسکری اور سائنسی قیادت کو بھی مفلوج کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

یکم اپریل 2024 کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی فضائی حملے میں سات پاسدارانِ انقلاب (IRGC) افسر، ایک ایرانی مشیر، اور دو شہری مارے گئے۔ اس حملے نے ایران کی "سفارتی حدود" کو بھی غیر محفوظ کر دیا۔ یہ پیغام صرف شام کو نہیں، بلکہ تہران کو تھا۔

19 اپریل 2024 کو اسرائیل نے ایران کے اسفہان علاقے کے قریب فضائی حملہ کر کے نطنز جوہری تنصیب کے دفاعی ریڈارز اور S-300 بیٹریوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ علامتی نہیں تھا، بلکہ جوہری صلاحیتوں کی کمر توڑنے کی سنجیدہ کوشش تھی۔

ستمبر اور اکتوبر 2024 کے درمیان اسرائیل نے بیروت، بغداد، اور ایران کے اندر کئی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل عباس نیلفروشان، اور دیگر افسران کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے لیے یہ صرف ہلاکتیں نہیں تھیں بلکہ نظریاتی و دفاعی بنیادوں پر ایک ضرب تھی۔

12 
اور 13 جون کو اسرائیل نے جو کچھ کیا، وہ صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ ایک "خاموش اعلانِ جنگ" تھا۔ آپریشن رائزنگ لائن 
(Rising Lion) 
کے تحت ایران کی جوہری، میزائل، اور عسکری تنصیبات پر شدید حملے کیے گئے۔
اس حملے میں ایران کی فوجی اور سائنسی قیادت کا دل چیر کر رکھ دیا گیا:
میجر جنرل حسین سلیمی – پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ، مارے گئے۔
میجر جنرل غلام علی راشد – IRGC کمانڈر، ہلاک ہوئے۔
میجر جنرل محمد باقری – مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، بعض ذرائع کے مطابق ہلاک، بعض کے مطابق زخمی۔
علی شمخانی – خامنہ‌ای کے سینیئر مشیر، شدید زخمی۔
فریدون عباسی داوانی – ایٹمی سائنسدان، مارے گئے۔
محمد مهدی طهرانچی – جوہری طبیعات کے پروفیسر، جان سے گئے۔
عبدالحمید منوشہر اور احمدرضا زلفغہری – شاہد بہشتی یونیورسٹی سے وابستہ سائنسدان، ہلاک۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور دیگر شہروں کے شہری علاقوں پر بھی حملے ہوئے جن میں بچوں سمیت کئی عام شہری زخمی یا ہلاک ہوئے۔ اس جنگ میں فوجی مارے جاتے ہیں، مگر اصل قیمت ہمیشہ عوام ادا کرتے ہیں۔
سوال جو باقی رہ گیا

ان حملوں کے بعد دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ امریکہ نے کسی واضح شمولیت سے انکار کیا، جبکہ 
IAEA
 صرف جوہری نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ؟ اس کا کردار ایک رسمی بیان تک محدود رہا۔

ایران نے "شدید ردعمل" کا عندیہ دیا ہے، لیکن کیا اس کی قیادت باقی بچی ہے جو جواب دے سکے؟ یا کیا اسرائیل نے اپنی حکمتِ عملی سے واقعی ایران کو جوہری طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے؟
 اسرائیل نے ایران کی پسلیوں میں گہرے زخم دیے ہیں – کچھ جسمانی، کچھ نظریاتی۔ اب ایران کا اگلا قدم مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل طے کرے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کون جیتا، بلکہ یہ ہے کہ کتنے مرے، اور کتنے اب بھی مرنے کو تیار ہیں۔


ایران پر اسرائیلی حملہ




13
 جون 2025 کا دن مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب بن کر ابھرا۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے بھرپور حملوں نے نہ صرف خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی، بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

ان حملوں کا کوڈ نام 
"Rising Lion"
 رکھا گیا۔ اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات، خصوصاً نطنز، کے ساتھ ساتھ عسکری اور میزائل مراکز پر فضائی حملے کیے۔ ایران کی طرف سے اس کارروائی کو "بقیہ حسرت" کا نام دیا گیا، جو اس کے شدید ردعمل کا مظہر ہے۔
اسرائیل نے صرف عمارات کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایران کی فوجی اور سائنسی قیادت کو بھی چن چن کر نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلیمی، میجر جنرل غلام علی راشد اور ممکنہ طور پر چیف آف اسٹاف محمد باقری شائد زخمی ہیں ۔ یہ وہ نام ہیں جو ایران کی عسکری حکمت عملی کا دماغ سمجھے جاتے تھے۔ خامنہ‌ای کے سینیئر مشیر علی شمخانی شدید زخمی ہو کر ہسپتال منتقل کیے گئے۔

جوہری پروگرام میں ایران کے چند بڑے دماغ بھی اس حملے کی بھینٹ چڑھ گئے۔ فریدون عباسی-داوانی جیسے معروف سائنسدان کی ہلاکت کی ریاستی میڈیا نے تصدیق کی ہے۔ شاہد بہشتی یونیورسٹی سے وابستہ محمد مهدی طهرانچی، عبدالحمید منوشہر اور احمدرضا زلفغہری جیسے پروفیسر بھی مارے گئے۔ ان کی موت ایران کے سائنسی منظرنامے میں ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے۔

یہ حملے صرف فوجی نوعیت کے نہیں تھے۔ تہران جیسے شہری علاقوں میں بھی بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں خواتین، بچے اور عام شہری زخمی یا ہلاک ہوئے۔ زیرِ زمین جوہری مرکز نطنز میں دھماکوں نے بنیادی انفراسٹرکچر کو تہس نہس کر دیا، اور اب IAEA اس کی نگرانی کر رہی ہے۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ‌ای نے اعلان کیا ہے کہ ایران اس حملے کا "شدید جواب" دے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے اسرائیلی کارروائی میں براہِ راست ملوث ہونے سے انکار کیا ہے، مگر اس دعوے پر دنیا بھر میں شکوک پائے جاتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات پہلے ہی نازک موڑ پر تھے۔ اب یہ کارروائی ان مذاکرات کو مکمل طور پر دفن کر سکتی ہے۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور تمام تر فوجی یونٹس کو الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔ گویا وہ ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیل اور ایران کی یہ سرد جنگ اب کھلے میدان میں آ چکی ہے۔ یہ صرف دو ممالک کی جنگ نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاست اور دنیا کے ایندھن کے ذخائر پر حملہ ہے۔ جو کچھ بھی ہو، اس کے اثرات نہ صرف تہران اور تل ابیب میں بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔