اتوار، 16 اگست، 2026

بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری





بچوں کی حرمت اور معاشرے کی ذمہ داری

کم سن بچوں، خصوصاً بچیوں کے خلاف جنسی جرائم ہمارے معاشرے کا ایسا المیہ ہیں جسے صرف قانونی جرم سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک بچے کے جسم، ذہن، اعتماد اور مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روک تھام کے لیے قانون کے ساتھ گھر، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت اور ریاستی نظام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان میں دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ یہ مکمل تصویر نہیں کیونکہ بہت سے واقعات بدنامی، خوف اور خاندانی دباؤ کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے۔ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال کی State of Children in Pakistan 2025 کے مطابق 2025 میں پولیس ریکارڈ میں بچوں کے ریپ اور جنسی زیادتی سے متعلق دفعات کے تحت 5,024 چارجز رپورٹ ہوئے، جبکہ دیگر جنسی حملوں سے متعلق دفعات کے تحت 3,163 چارجز درج ہوئے۔ دستیاب اعداد میں لڑکیاں متاثرین کی اکثریت تھیں۔

ان اعداد کو کسی ایک ادارے یا طبقے کے خلاف فردِ جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ دینی مدارس بھی اس عمومی مسئلے سے الگ نہیں، لیکن محدود واقعات کی بنیاد پر تمام مدارس کو جرم کا مرکز قرار دینا تحقیق کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جہاں بچے بالغ افراد کی نگرانی میں رہتے یا تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں ان کے تحفظ کا نظام کتنا مؤثر ہے؟

یہ سوال گھروں کے بارے میں بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بچوں کے خلاف جنسی استحصال ہمیشہ کسی اجنبی کی طرف سے نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خطرہ قریبی حلقے ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ سگے رشتہ دار، سوتیلے رشتے، خاندان کے قریبی افراد، ہمسائے یا بچے کی نگہداشت کرنے والے افراد بھی اعتماد کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے معاشرے میں یہ شعور عام کرنا ضروری ہے کہ رشتہ چاہے کتنا ہی قریبی ہو، بچے کی جسمانی حرمت ناقابلِ تجاوز ہے۔

یہاں مسجد و منبر کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں مسجد ایک مؤثر سماجی ادارہ ہے اور امام و خطیب کی بات بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ اگر دینی رہنما بچوں کی حرمت، خاندانی ذمہ داری، جنسی جرائم کی قباحت اور جرم چھپانے کے نقصانات کو باقاعدہ اپنے خطابات کا حصہ بنائیں تو یہ ایک مؤثر قومی آگاہی مہم بن سکتی ہے۔

خاص طور پر سگے اور سوتیلے رشتوں کی حرمت کے بارے میں واضح دینی اور اخلاقی پیغام ضروری ہے۔ معاشرے میں یہ تصور عام ہونا چاہیے کہ رشتہ داری اعتماد کی ذمہ داری بڑھاتی ہے، اختیارات نہیں۔ کسی بچے کے ساتھ نامناسب رویہ صرف اس لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ ملزم اس کا رشتہ دار یا خاندان کا قابلِ احترام فرد ہے۔

مساجد والدین کو یہ بھی سمجھا سکتی ہیں کہ بچے کی کسی شکایت کو فوراً جھوٹ، شرارت یا بدنامی کا سبب نہ سمجھا جائے۔ اسے توجہ سے سننا، محفوظ ماحول دینا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے مدد لینا ضروری ہے۔ خاندان کی عزت جرم چھپانے سے نہیں بلکہ مظلوم کی حفاظت اور ظالم کو جواب دہ بنانے سے محفوظ رہتی ہے۔

اسی طرح دینی مدارس میں بچوں کے تحفظ کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے۔ اساتذہ اور عملے کی جانچ، واضح ضابطۂ اخلاق، شکایت کا محفوظ طریقہ، رہائشی بچوں کی نگرانی اور کسی شکایت کی صورت میں آزادانہ تحقیقات بنیادی انتظامی تقاضے ہونے چاہئیں۔ یہی اصول اسکولوں، یتیم خانوں اور دیگر رہائشی یا تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

ریاست کو بھی محض قانون بنانے کے بجائے اس کے نفاذ پر توجہ دینا ہوگی۔ پولیس، عدالت، child-protection اداروں اور صحت کے شعبے کے درمیان ایسا مربوط نظام ضروری ہے جس میں بچے کو شکایت کے بعد مزید خوف یا صدمے سے نہ گزرنا پڑے اور کسی بااثر شخص کو اپنے منصب یا تعلقات کی بنیاد پر تحفظ نہ مل سکے۔

اس مسئلے میں مذہبی قیادت کی سب سے بڑی خدمت شاید یہی ہوگی کہ وہ خاموشی کی ثقافت کو توڑے۔ مسجد کے منبر سے واضح کیا جائے کہ بچے اللہ کی امانت ہیں، ان کی عزت اور جسمانی حرمت کی حفاظت لازم ہے، کسی رشتے یا منصب کو اس حرمت سے تجاوز کا حق نہیں، اور جرم چھپانا مظلوم کی مدد نہیں بلکہ مجرم کو مزید موقع دینا ہے۔

اگر گھر بچے کو اعتماد دے، مدرسہ اور اسکول محفوظ ماحول فراہم کریں، ریاست قانون نافذ کرے اور مسجد و منبر مسلسل اخلاقی شعور پیدا کریں تو جنسی جرائم کے خلاف ایک حقیقی معاشرتی حصار قائم کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کی حفاظت صرف قانون کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہمارے اجتماعی کردار کا امتحان ہے۔ اور اس امتحان میں مسجد، مدرسہ اور منبر کو خاموش تماشائی نہیں بلکہ اصلاح کی مؤثر آواز بننا ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں: