اسلام سوال سے نہیں، جہالت سے لڑتا ہے
جب کوئی نوجوان دین کے بارے میں سوال کرتا ہے تو بعض لوگ فوراً کہہ دیتے ہیں: "زیادہ سوال نہ کرو، ایمان کمزور ہو جائے گا۔" یہ جملہ شاید اخلاص سے کہا جاتا ہو، لیکن قرآن کا اسلوب اس سے مختلف ہے۔ قرآن انسان کو خاموش رہنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اس کی عقل کو بیدار کرتا ہے۔ وہ بار بار پوچھتا ہے: "کیا تم غور نہیں کرتے؟"، "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟"، "کیا تم دیکھتے نہیں؟" اور "کیا تم سمجھتے نہیں؟"۔ گویا اسلام کا آغاز سوال سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام یقین پر۔
اسلام کی پوری فکری روایت اسی حقیقت کی گواہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے سوال کیا تاکہ یقین مزید پختہ ہو۔ فرشتوں نے سوال کیا تاکہ حکمت کو سمجھ سکیں۔ صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سینکڑوں سوال کیے، اور قرآن نے ان سوالات کے جوابات کو قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا۔ اگر سوال کرنا ممنوع ہوتا تو وحی خود سوال و جواب کی صورت میں کیوں نازل ہوتی؟
قرآن تو اس سے بھی آگے بڑھ کر حکم دیتا ہے
"پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لیا کرو۔"
(سورۃ النحل: 43)
یہ آیت صرف ایک دینی ہدایت نہیں، بلکہ علم حاصل کرنے کا آفاقی اصول ہے۔ لاعلمی کا علاج خاموشی نہیں، سوال ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بلاشبہ جہالت کا علاج سوال کرنا ہے۔"
(سنن ابی داؤد)
قرآن صرف سوال کرنے کی دعوت ہی نہیں دیتا بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندگانِ صالح کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے
"اور جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھوں اور بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے۔"
(سورۃ الفرقان: 73)
قرآن اپنے مثالی مومن کی تعریف یہ نہیں کرتا کہ وہ بغیر سوچے ہر بات قبول کر لیتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی آیات کو شعور، بصیرت اور سمجھ کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس کا ایمان علم پر قائم ہوتا ہے، غفلت پر نہیں۔
بدقسمتی سے ہم نے بعض اوقات دین کو اتنا نازک بنا دیا ہے کہ ایک سوال سے بھی اسے خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ سچائی کبھی سوال سے نہیں ڈرتی۔ سوال تو صرف اس فکر کے لیے خطرہ بنتا ہے جس کے پاس دلیل نہ ہو۔ جس ایمان کی بنیاد تحقیق پر ہو، ہر نیا سوال اسے مزید مضبوط کرتا ہے۔
یاد رکھیے، لاعلم ہونا عیب نہیں، لاعلم رہنے پر اصرار کرنا عیب ہے۔ اسلام انسان کو عقل دیتا ہے، پھر اسے تحقیق کا حکم دیتا ہے، پھر اہلِ علم سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتا ہے، اور آخرکار فیصلہ اس کے اپنے اختیار پر چھوڑ دیتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:
"اور کہہ دیجیے: یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔"
(سورۃ الکہف: 29)
یہ آیت جبر کی نہیں، آزادیِ انتخاب کی آیت ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، لیکن اس اختیار سے پہلے تحقیق کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد کی گئی ہے۔ اسی لیے قرآن کی ابتدا میں فرمایا گیا:
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے۔"
(سورۃ البقرہ: 2)
متقی وہ نہیں جو سوال سے ڈر جائے، بلکہ وہ ہے جو حق کی تلاش میں اخلاص کے ساتھ نکلے، دلیل کو سنے، تعصب سے بلند ہو کر تحقیق کرے، اور جب حق واضح ہو جائے تو اسے قبول کرنے کا حوصلہ بھی رکھے۔
شاید یہی اسلام کی سب سے بڑی فکری عظمت ہے۔ یہ مذہب سوال سے نہیں گھبراتا، کیونکہ اسے اپنے جواب پر یقین ہے۔ وہ انسان سے اندھی اطاعت نہیں مانگتا، بلکہ بیدار عقل، مطمئن دل اور شعوری ایمان چاہتا ہے۔ اسلام کا اصل معرکہ سوال کرنے والوں سے نہیں، بلکہ جہالت، تعصب اور اندھی تقلید سے ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں