جارج سینٹیان تیری آواز مکے مدینے
مسلم دنیا میں اتحاد کا خواب نیا نہیں۔ تقریباً ایک صدی سے مسلمان ممالک یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ اتنی بڑی آبادی، وسیع جغرافیہ، بے شمار قدرتی وسائل، تاریخی ورثے اور دفاعی صلاحیت رکھنے کے باوجود وہ ایک ایسی مشترکہ طاقت کیوں نہیں بن سکے جو عالمی سیاست میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
مکہ ڈیفنس اکارڈ کو بھی اسی تاریخی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ مسلم ممالک نے مشترکہ دفاع یا تعاون کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہو۔ تاریخ میں بارہا ایسے مواقع آئے جب امیدیں بلند ہوئیں، معاہدے ہوئے، ادارے قائم ہوئے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کئی کوششیں اپنی ابتدائی روح برقرار نہ رکھ سکیں۔
اگر مسلم دنیا کے مجموعی وسائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک غیر معمولی قوت رکھتی ہے۔ تقریباً ستاون مسلم ممالک میں دو ارب کے قریب انسان بستے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ مسلم ممالک کے پاس ہے۔ ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ملانے والے اہم جغرافیائی راستے اسی خطے سے گزرتے ہیں۔ نوجوان آبادی، معدنی وسائل اور قدرتی دولت اسے دنیا کے اہم ترین خطوں میں شامل کرتے ہیں۔
دفاعی اعتبار سے بھی مسلم ممالک کے پاس بڑی قوت موجود ہے۔ مجموعی طور پر لاکھوں فوجی اہلکار، ہزاروں جنگی اور فوجی طیارے، دسیوں ہزار ٹینک، بڑی بحری قوت اور جدید دفاعی نظام رکھنے والے ممالک اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ ترکی، پاکستان، ایران، مصر اور بعض خلیجی ممالک دفاعی صنعت، میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون اور جدید جنگی صلاحیتوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ صحت، تعلیم اور سائنس کے میدان میں بھی مسلم دنیا کے پاس لاکھوں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان اور محققین موجود ہیں۔
لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ وسائل کا ہونا اور ان وسائل کو مشترکہ طاقت میں تبدیل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اصل مسئلہ صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ اعتماد، مشترکہ وژن اور سیاسی ہم آہنگی کا ہے۔
اس مسئلے کی جڑیں تاریخ میں بھی موجود ہیں۔ تقریباً سو سال پہلے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کا سیاسی نقشہ بدل گیا۔ نئی ریاستیں وجود میں آئیں، نئی سرحدیں قائم ہوئیں اور ایک ایسا نظام پیدا ہوا جس میں مشترکہ تہذیبی رشتوں کے باوجود ہر ملک نے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینا شروع کر دی۔
اسی پس منظر میں عرب اور عجم کی تقسیم بھی ایک اہم حقیقت بن کر سامنے آئی۔ عرب ممالک نے اپنی زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت کو بنیاد بنایا، جبکہ غیر عرب مسلم ممالک جیسے ترکی، ایران اور پاکستان نے اپنی قومی ترجیحات کے مطابق راستے اختیار کیے۔ اگرچہ اسلام نے نسل اور زبان کی بنیاد پر برتری کو رد کیا، لیکن سیاست میں تاریخی، ثقافتی اور علاقائی عوامل اپنا اثر رکھتے رہے۔
پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان علاقائی تعاون کی کوشش اسی خواہش کا اظہار تھی۔ 1964ء میں تینوں ممالک نے علاقائی تعاون برائے ترقی، یعنی آر سی ڈی قائم کیا۔ مقصد یہ تھا کہ تین بڑے مسلم ممالک تجارت، معیشت اور ترقی کے میدان میں ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ ابتدا میں یہ منصوبہ بڑی امیدوں کے ساتھ شروع ہوا، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات، عالمی طاقتوں کے اثرات اور داخلی ترجیحات نے اس کے سفر کو محدود کر دیا۔ بعد میں یہی تصور اقتصادی تعاون تنظیم کی شکل میں سامنے آیا، مگر یہ بھی ایک مضبوط سیاسی اتحاد میں تبدیل نہ ہو سکا۔
خلیجی تعاون کونسل بھی اسی امید کے ساتھ قائم ہوئی تھی کہ خلیجی ممالک اپنی مشترکہ سلامتی اور معاشی طاقت کو ایک سمت دیں گے۔ ابتدا میں اس اتحاد سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، لیکن وقت کے ساتھ اندرونی اختلافات سامنے آئے۔ قطر اور بعض خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے سفارتی بحران نے واضح کر دیا کہ مشترکہ مذہب، زبان اور جغرافیہ بھی ہمیشہ سیاسی اختلافات کو ختم نہیں کر سکتے۔
عرب دنیا میں اتحاد کی خواہش یقیناً خوش آئند ہے۔ اگر عرب ممالک اپنی معاشی، سیاسی اور دفاعی طاقت کو یکجا کریں تو وہ دنیا میں ایک اہم قوت بن سکتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نسلوں سے موجود عرب برتری کا احساس بعض اوقات مساوات پر مبنی اتحاد کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ کوئی بھی اتحاد اس وقت مضبوط نہیں ہو سکتا جب ایک فریق خود کو فطری قائد اور دوسرے کو تابع سمجھے۔ کامیاب اتحاد برابری، احترام اور اعتماد سے بنتے ہیں۔
مسلم دنیا کے بعض ممالک نے تیل اور گیس کی دولت سے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ جدید شہر، بلند عمارتیں، عالمی معیار کے اسپتال، جامعات اور معاشی منصوبے اس ترقی کی علامت ہیں۔ لیکن دولت کے ساتھ ایک امتحان بھی آتا ہے۔ ایک دانشمند کا قول ہے:
"دولت سر کو اونچا کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔"
دولت اگر علم، تحقیق، انصاف اور خدمت کے ساتھ ہو تو قوموں کو ترقی دیتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ غرور شامل ہو جائے تو فاصلے پیدا کرنے لگتی ہے۔
پنجابی زبان کا ایک لفظ ہے: "شریکہ "۔ یہ صرف خاندانی مقابلے کا لفظ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی کیفیت کا اظہار ہے۔ شریکہ دشمنوں سے نہیں ہوتا، اکثر اپنے ہی لوگوں کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ جب بھائی بھائی کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے حسد کرے، جب ایک قوم دوسری قوم کی کمزوری کو اپنا فائدہ سمجھے، تو یہی کیفیت اجتماعی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
1969 سال
میں جب اسلامی تعاون تنظیم قائم ہوئی تو صرف حکومتوں کے ایوانوں میں نہیں بلکہ عرب اور عجم دونوں کے عوام میں ایک نئی امید، ایک ولولہ اور ایک جذبہ پیدا ہوا تھا۔ عام مسلمان کو محسوس ہوا تھا کہ شاید اب مسلم دنیا اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک نئی سمت اختیار کرے گی۔ وہ ایک سیاسی اعلان سے بڑھ کر عوامی احساس کا نام تھا۔
آج مکہ ڈیفنس اکارڈ کے لیے بھی ہماری نیک خواہشات اس معاہدے میں شریک ممالک کے ساتھ ہیں۔ مکہ مسلمانوں کے لیے صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایمان، تاریخ اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ کہا جاتا ہے: "تیری آواز مکے مدینے"۔ مکہ کی نسبت یقیناً اس کوشش کو ایک خاص اہمیت عطا کرتی ہے۔
لیکن امید کے ساتھ تاریخ کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔ ماضی کے کئی معاہدے بھی بڑے جوش، ولولے اور امیدوں کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ اسلامی تعاون تنظیم، آر سی ڈی اور خلیجی تعاون کونسل سب اپنے وقت میں ایک نئے دور کی نوید سمجھے گئے تھے، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ صرف جذبات اور اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ کامیابی کے لیے مسلسل اعتماد، عملی تعاون اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
مکہ ڈیفنس اکارڈ کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ کیا یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ رہتا ہے یا علم، تجارت، تحقیق، ترقی اور باہمی احترام کے ایک وسیع تر تعاون میں تبدیل ہوتا ہے۔
برطانوی مفکر جارج سینٹیانا کا مشہور قول ہے:
"جو لوگ ماضی کو یاد نہیں رکھتے، وہ اسے دہرانے پر مجبور ہوتے ہیں۔"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں