اتوار، 16 اگست، 2026

جدید انسان اور گمشدہ معنی



جدید انسان اور گمشدہ معنی
آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے زیادہ باخبر ادوار میں زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے پاس کائنات کے راز جاننے کے لیے طاقتور دوربینیں ہیں، انسانی جسم کو سمجھنے کے لیے جدید آلات ہیں، معلومات تک رسائی کے لیے مصنوعی ذہانت ہے اور دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لمحوں میں رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اس تمام علمی اور تکنیکی ترقی کے باوجود ایک سوال اب بھی اس کے سامنے کھڑا ہے: انسان آخر ہے کیا، اور اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

یہی وہ سوال ہے جہاں عبدالحکیم مراد کی فکری دنیا جدید ذہن سے مکالمہ شروع کرتی ہے۔

عبدالحکیم مراد کا اصل نام ٹموتھی ونٹر ہے۔ وہ 1960ء میں لندن میں پیدا ہوئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ نوجوانی میں مغربی فلسفے، مذہب، انسانی وجود اور جدید تہذیب کے بنیادی سوالات نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ اسلامی فکر کا مطالعہ ان کے لیے محض ایک مذہبی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری سفر بھی تھا۔ انہوں نے عربی اور اسلامی علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مسلم دنیا کے علمی مراکز میں وقت گزارا اور بالآخر اسلام کو اپنی فکری اور روحانی زندگی کا مرکز بنایا۔ بعد میں انہوں نے عبدالحکیم مراد کا نام اختیار کیا۔

ان کی شخصیت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ جدید مغربی ذہن کے سوالات سے واقف ہیں اور اسلامی روایت کو بھی اس کی کلاسیکی علمی گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ نہ تو جدید دنیا کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور نہ اسلامی روایت کو جدید فیشن کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مکالمے کا ہے: سوال جدید دنیا سے لیا جائے اور جواب اسلامی فکر کے وسیع علمی ورثے میں تلاش کیا جائے۔

جدید انسان کے بحران کو سمجھنے کے لیے شاید ’’علم‘‘ اور ’’معنی‘‘ کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے پاس علم پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر علم کی کثرت نے معنی کی ضمانت نہیں دی۔ ہم جانتے ہیں کہ ستارے کس فاصلے پر ہیں، انسانی خلیہ کس طرح کام کرتا ہے اور دماغ کے مختلف حصے کس طرح سرگرم ہوتے ہیں، لیکن یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ انسان کو زندگی کیوں ملی اور اسے زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی چاہیے۔

سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، لیکن ’’کیوں‘‘ کا ہر سوال سائنسی تجربے کے دائرے میں نہیں آتا۔ طبیعیات مادے کے قوانین بیان کرسکتی ہے، حیاتیات زندگی کے ارتقائی مراحل کا مطالعہ کرسکتی ہے اور نیورو سائنس دماغ کے افعال کو سمجھ سکتی ہے، لیکن ان علوم سے یہ نتیجہ خود بخود اخذ نہیں ہوتا کہ زندگی بے مقصد ہے، اخلاق محض انسانی اتفاق ہے یا شعور صرف مادے کی ایک پیچیدہ حرکت ہے۔

یہاں مراد اسلامی فکر کے اس بنیادی تصور کی طرف متوجہ کرتے ہیں جس میں عقل اور وحی ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کے مختلف ذرائع ہیں۔ عقل انسان کو سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور استدلال کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ وحی اسے ان سوالات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے جنہیں تجرباتی علم مکمل طور پر حل نہیں کرسکتا۔ انسان کہاں سے آیا؟ اس کی آخری منزل کیا ہے؟ خیر اور شر کی بنیاد کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اور انسان کو اپنی آزادی کس مقصد کے لیے استعمال کرنی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں صرف تجربہ گاہ میں رکھ کر حل نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں جدید انسان کے سامنے ایک اور سوال آتا ہے۔ اگر سائنس نے کائنات کی بہت سی ظاہری حقیقتوں کو سمجھا دیا ہے تو پھر مذہب کی ضرورت کیوں باقی ہے؟

مراد کی فکر میں جواب یہ ہے کہ سائنس اور مذہب بنیادی طور پر ایک ہی سوال کا جواب نہیں دے رہے۔ سائنس ’’کیسے‘‘ کو تلاش کرتی ہے، مذہب ’’کیوں‘‘ کو بھی موضوع بناتا ہے۔ سائنس ہمیں بتا سکتی ہے کہ بارش کیسے بنتی ہے، لیکن یہ سوال کہ انسان اس قدرتی نظام کے سامنے حیرت، شکر اور ذمہ داری کا احساس کیوں کرے، ایک مختلف سطح کا سوال ہے۔

یہ فرق سائنس کی اہمیت کم نہیں کرتا بلکہ اس کے دائرۂ کار کو واضح کرتا ہے۔

جدید تہذیب نے انسان کو آزادی کا ایک وسیع تصور دیا۔ فرد کو اپنے عقائد، پیشے، رہن سہن اور ذاتی فیصلوں کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے۔ لیکن آزادی کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اگر انسان ہر خواہش پوری کرنے کے لیے آزاد ہے تو کیا وہ واقعی آزاد ہے؟

اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کا غلام بن جائے، مسلسل لذت، دولت، شہرت اور دوسروں کی منظوری کا محتاج رہے تو ظاہری آزادی کے باوجود وہ اندر سے آزاد نہیں رہتا۔

اسلامی تصورِ آزادی اسی مقام پر جدید تصور سے مکالمہ کرتا ہے۔ اسلام انسان کو صرف بیرونی جبر سے آزاد نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے اپنے نفس کی غلامی سے بھی نجات دلانے کی دعوت دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے حقیقی آزادی یہ نہیں کہ انسان جو چاہے کرتا پھرے، بلکہ یہ ہے کہ انسان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہو کہ اسے کیا چاہنا چاہیے۔

یہاں اخلاق کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر اخلاق صرف معاشرتی اتفاق کا نام ہے تو کیا اکثریت کسی ظلم کو جائز قرار دے تو وہ اخلاقی ہوجائے گا؟ اگر سچ اور جھوٹ کی کوئی مستقل بنیاد نہیں تو ہم جھوٹ کو برا کیوں کہتے ہیں؟ اگر انصاف صرف انسانی قانون کا نام ہے تو پھر کوئی طاقتور معاشرہ اپنے مفاد میں کسی کمزور قوم کے ساتھ ناانصافی کرے تو اسے صرف اس لیے غلط کیسے کہا جائے کہ ہماری پسند مختلف ہے؟

اسلامی فکر اخلاق کو ایک ایسی بنیاد سے جوڑتی ہے جو انسان سے بلند ہے۔ خیر اور شر محض اکثریت کے فیصلے نہیں بلکہ ان کی ایک اخلاقی حقیقت ہے۔ خدا کا تصور اسی لیے صرف عبادت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی اخلاق اور ذمہ داری کی بنیاد بھی بن جاتا ہے۔

مراد کی فکر میں تصوف بھی اسی مکالمے کا اہم حصہ ہے۔ جدید انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ اس کے پاس رابطے بہت ہیں مگر حقیقی تعلق کم ہوسکتا ہے۔ اس کے پاس انتخاب بہت ہیں مگر سمت کا فقدان ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا کو تبدیل کرنے کی بے پناہ طاقت رکھتا ہے، مگر اپنے اندر کی بے چینی پر قابو پانے میں ناکام رہ سکتا ہے۔

تصوف اس بحران کو انسان کے باطن میں تلاش کرتا ہے۔ اس کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا کیسی ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان خود کیسا بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عبدالحکیم مراد جدید انسان کے لیے روحانیت کو ماضی کی کوئی فرسودہ چیز نہیں سمجھتے۔ ان کے فکری زاویے سے روحانی تربیت انسان کے اندر ایسی اخلاقی اور باطنی قوت پیدا کرسکتی ہے جو اسے اپنی خواہشات، خوف، حرص اور خود پسندی سے بلند ہونے میں مدد دیتی ہے۔

ان کی فکر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام اور مغرب کے تعلق کو صرف تصادم کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مغرب میں ایسی بہت سی اقدار ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا، اور اسلامی تہذیب کے پاس بھی عقل، علم، اخلاق، روحانیت اور اجتماعی زندگی کا ایک وسیع فکری ورثہ موجود ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون مکمل طور پر درست اور کون مکمل طور پر غلط ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسانی تجربے کی مکمل تصویر کہاں سے حاصل ہوسکتی ہے؟

مراد اسی لیے جدید دنیا کے ساتھ ایک تنقیدی مکالمے کی بات کرتے ہیں۔ نہ اندھی تقلید، نہ اندھی مخالفت۔

وہ جدید انسان کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ مذہب کو محض ماضی کی رسم سمجھ کر مسترد نہ کرے اور اسلام کو صرف سیاسی نعروں یا چند ظاہری احکام تک محدود کرکے نہ دیکھے۔ اسلامی روایت کے اندر فلسفہ بھی ہے، کلام بھی، فقہ بھی، تصوف بھی، اخلاق بھی اور انسانی وجود کے بارے میں ایک وسیع فکری بحث بھی۔

شاید آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ مذہب اور عقل کو دو دشمن خیموں میں تقسیم کرنے کے بجائے ان کے درمیان ایک سنجیدہ مکالمہ قائم کیا جائے۔

کیونکہ انسان صرف وہ نہیں جو وہ کھاتا ہے، پہنتا ہے، کماتا ہے یا ایجاد کرتا ہے۔ وہ وہ بھی ہے جو محبت کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، سوال کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، موت سے ڈرتا ہے، حسن کے سامنے ٹھہر جاتا ہے اور تنہائی میں اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے۔

مصنوعی ذہانت شاید ہمیں یہ بتا دے کہ دماغ کس طرح معلومات کو منظم کرتا ہے، لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہے گا کہ انسان کو معنی کی تلاش کیوں رہتی ہے؟

سائنس شاید کائنات کے آغاز کے بارے میں مزید راز کھول دے، لیکن انسان پھر بھی پوچھے گا کہ وجود کے پیچھے کوئی مقصد ہے یا نہیں؟

جدید تہذیب شاید ہمیں بے شمار انتخاب دے دے، لیکن سوال پھر بھی یہی ہوگا کہ صحیح انتخاب کون سا ہے؟

عبدالحکیم مراد کی فکری اہمیت اسی مقام پر سامنے آتی ہے۔ وہ جدید انسان کے سوالات سے فرار اختیار نہیں کرتے بلکہ انہیں اسلامی روایت کے سامنے رکھتے ہیں۔ ان کا کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ ’’اسلام کیا کہتا ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اسلام انسان، عقل، آزادی، اخلاق، روح اور حقیقتِ وجود کے بارے میں کیا تصور پیش کرتا ہے؟

شاید جدید انسان کا سب سے بڑا بحران خدا کے انکار سے پہلے معنی کے فقدان کا بحران ہے۔ اور شاید مذہب کا سب سے بڑا کام انسان کو صرف چند عقائد دینا نہیں بلکہ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ اس کا وجود بے مقصد نہیں۔

آخرکار سوال وہی ہے جس سے ہر فلسفہ، ہر مذہب اور ہر انسان کبھی نہ کبھی دوچار ہوتا ہے:

میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کیوں آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے؟


کوئی تبصرے نہیں: