حقیقی آزادی اور شعور
انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی سب سے بڑی نعمت اس کی عقل ہے۔ وہ دیکھتا ہے، حیران ہوتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، دلیل تلاش کرتا ہے، امکانات کو پرکھتا ہے اور پھر کسی نتیجے تک پہنچتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے محض زندہ رہنے والی مخلوق سے ایک باشعور وجود بناتی ہے۔ لیکن انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ بھی ہے کہ انسان کبھی اپنی اسی عقل کو، جس نے اسے سوال کرنا سکھایا، کسی دوسرے انسان کے حوالے کر دیتا ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
غیر یقینی، خوف، تنہائی اور بحران کے لمحوں میں انسان ایسے شخص کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اسے یقین، سمت اور مقصد فراہم کرے۔ ابتدا میں یہ تعلق رہنمائی کا ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ رہنمائی اطاعت میں، اطاعت عقیدت میں، اور عقیدت شخصیت پرستی میں بدل سکتی ہے۔ اس مقام پر انسان کسی شخصیت کو صرف رہنما نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنے فیصلوں، اپنے یقین اور کبھی کبھی اپنی زندگی کا مرکز بنا لیتا ہے۔
جم جونز ( 1931-1978) ایک امریکی مذہبی مبلغ اور کرشماتی رہنما، اس انسانی کمزوری کی ایک المناک مثال ہے۔ اس نے پیپلز ٹیمپل نامی مذہبی و سماجی تحریک قائم کی۔ ابتدا میں وہ نسلی امتیاز، غربت اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا، مساوات کا تصور پیش کرتا اور محروم طبقات کو ایک بہتر معاشرے کا خواب دکھاتا تھا۔ اس پیغام نے مختلف طبقوں کے لوگوں کو اس کے قریب کیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ تحریک کے اصولوں سے زیادہ خود جونز کی شخصیت اہم ہوتی گئی۔
یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک رہنما، رہنما سے بڑھ کر حقیقت کا مرکزی حوالہ بننے لگا۔
جب کسی تحریک میں اصول سے زیادہ شخصیت، دلیل سے زیادہ عقیدت اور سوال سے زیادہ اطاعت اہم ہو جائے تو انسان کسی بات کو اس لیے درست نہیں سمجھتا کہ وہ معقول ہے، بلکہ اس لیے قبول کرنے لگتا ہے کہ اسے ایک بااثر شخصیت نے کہا ہے۔ یوں حقیقت کی کسوٹی دلیل سے ہٹ کر شخصیت بن جاتی ہے۔
یہ انسانی آزادی کے لیے خطرناک مرحلہ ہے۔
جونز کے پیروکاروں کی بڑی تعداد گیانا منتقل ہوئی، جہاں جونز ٹاؤن کے نام سے ایک اجتماعی بستی قائم کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہ ماحول ایسا بن گیا جہاں رہنما کا اثر لوگوں کی روزمرہ زندگی، تعلقات اور ذاتی فیصلوں تک پھیل گیا۔ بالآخر 18 نومبر 1978ء کو یہ تجربہ ایک ہولناک اجتماعی سانحے پر ختم ہوا۔ نو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکی کانگریس کے رکن لیو رائن اور ان کے ساتھی بھی اسی سانحے سے پہلے ہونے والے حملے میں قتل کر دیے گئے۔
مگر اس واقعے سے ایک بڑا سوال اٹھتا ہے: آخر وہ لوگ کون تھے جو اس نظام کا حصہ بنے؟
وہ سب جاہل یا کم تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ پیپلز ٹیمپل میں مختلف نسلی، سماجی اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے افراد شامل تھے۔ بعض تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے تھے، بعض سماجی خدمت سے وابستہ تھے، بعض طبی خدمات فراہم کرتے تھے اور بعض اپنے معاشرتی حلقوں میں ذمہ دار اور بااثر سمجھے جاتے تھے۔ اس سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے:
تعلیم اور ذہانت انسان کو ہر نفسیاتی اثر سے محفوظ نہیں کرتیں۔
انسان کو غلام بنانے کے لیے ہمیشہ زنجیروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی لباس کا رنگ گروہی شناخت بن جاتا ہے، کبھی پگڑی یا مخصوص وضع قطع وفاداری کی علامت، کبھی نعرہ سوچ کا بدل، کبھی پرچم حق و باطل کی واحد کسوٹی، کبھی کسی بزرگ یا سیاسی رہنما کی تصویر عقیدت سے بڑھ کر اطاعت کا نشان، کبھی مخصوص الفاظ پورے گروہ کی ذہنی سرحد، کبھی جماعت کا نشان سچائی کی سند، اور کبھی سوشل میڈیا کا مسلسل بیانیہ حقیقت کا متبادل بن جاتا ہے۔
جب انسان ایک ہی رنگ دیکھتا ہے، ایک ہی نعرہ سنتا ہے، ایک ہی علامت سے وابستہ رہتا ہے اور ایک ہی نوعیت کی معلومات بار بار حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے گروہی وابستگی اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر اختلاف اسے دلیل نہیں، خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
یہیں سے تنقیدی شعور کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
سوال صرف ذہنی عادت نہیں؛ یہ آزادی کی حفاظت بھی ہے۔ سوال انسان کو اپنے سامنے رکھی ہوئی حقیقت کو پرکھنے کی مہلت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: یہ بات کیوں درست ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ اس کے خلاف کیا کہا گیا ہے؟ کیا میری رائے حقیقت پر قائم ہے یا صرف میری وابستگی کا نتیجہ ہے؟
انسان کے لیے یقین ضروری ہے، مگر اندھا یقین اسے اپنے ہی ذہن سے دور کرسکتا ہے۔
حیرت سوال پیدا کرتی ہے، سوال تحقیق کو جنم دیتا ہے، اور تحقیق انسان کو علم کے دروازے تک لے جاتی ہے۔
اسی لیے سوال کو شک یا بغاوت سمجھنا درست نہیں۔ سوال حقیقت تک پہنچنے کا ایک راستہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو شخص اپنے یقین کے بارے میں پوچھتا ہے، وہ دراصل اس کی بنیاد تلاش کرتا ہے۔ اور جو بنیاد تلاش کرتا ہے، وہ وراثت میں ملنے والی رائے اور غوروفکر سے حاصل ہونے والے یقین کے درمیان فرق کرنا سیکھتا ہے۔
یہ فرق دین کے میدان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
دین انسان کو خدا سے جوڑتا ہے، جبکہ شخصیت پرستی انسان کو ایک انسان سے باندھ دیتی ہے۔ عالم سے علم حاصل کرنا درست ہے، مگر عالم کو خطا سے پاک سمجھنا ضروری نہیں۔ رہنما سے رہنمائی لینا مفید ہے، مگر اپنی عقل اور اخلاقی ذمہ داری اس کے حوالے کردینا آزادی نہیں۔
حقیقی یقین عقل کو ختم نہیں کرتا؛ اسے ذمہ دار بناتا ہے۔
انسان اپنی عقل کسی دوسرے کے حوالے ایک ہی لمحے میں نہیں کرتا۔ یہ اختیار خاموشی سے منتقل ہوتا ہے۔ پہلے وہ سوچتا ہے: وہ مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ پھر اسے محسوس ہوتا ہے: اس سے سوال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے: اس کی بات ہی کافی ہے۔ اور آخرکار ایک دن وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے فیصلے بھی کوئی دوسرا کرنے لگتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب شخصیت، شعور پر غالب آجاتی ہے۔
حقیقی آزادی ہر بات کو رد کرنا نہیں، بلکہ سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ آزاد انسان اپنے پسندیدہ رہنما سے بھی اختلاف کرسکتا ہے، اپنے محبوب نظریے کو بھی سوال کے سامنے رکھ سکتا ہے، اپنی ہی رائے پر نظرثانی کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے بدل بھی سکتا ہے۔
یہ کمزوری نہیں، ذہنی بلوغت ہے۔
ایک انسان عالم سے سیکھ سکتا ہے، استاد سے رہنمائی لے سکتا ہے، اپنے مذہب سے وابستہ رہ سکتا ہے، کسی سیاسی نظریے کو پسند کرسکتا ہے، کسی رہنما کا احترام کرسکتا ہے، لیکن اسے اپنی عقل کی آخری ذمہ داری اپنے پاس رکھنی چاہیے۔
کیونکہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ انسان کیا مانتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں مانتا ہے۔
یہ "کیوں" ہی شعور کی ابتدا ہے۔
جب انسان اپنے یقین کے اسباب تلاش کرتا ہے تو وہ اپنے عقیدے، اپنی سیاست، اپنی شناخت اور اپنی وابستگیوں کو سمجھنے لگتا ہے۔ پھر کوئی نعرہ، رنگ، لباس، علامت یا شخصیت اس کے لیے حقیقت کا مکمل متبادل نہیں بنتی۔
شعور کے بغیر تعلیم محض معلومات کا ذخیرہ بن سکتی ہے، مذہب رسم بن سکتا ہے، سیاست شخصیت پرستی بن سکتی ہے اور اجتماعی وابستگی اندھی فرمانبرداری میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ لیکن سوال زندہ رہے تو راستہ کھلا رہتا ہے۔
حیرت انسان کو ٹھہرا کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے؛ سوال اسے تلاش پر لے جاتا ہے؛ تلاش علم کا دروازہ کھولتی ہے؛ اور علم انسان کو اپنی رائے قائم کرنے کی قوت دیتا ہے۔
شاید حقیقی آزادی بھی یہی ہے کہ انسان کے پاس یقین ہو، مگر سوال کرنے کی ہمت بھی؛ عقیدہ ہو، مگر شعور کے ساتھ؛ رہنمائی ہو، مگر اپنی عقل کی قیمت پر نہیں۔
انسان کو رہنما کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اپنی عقل کے مالک کی ضرورت خود اسے ہے۔ اسے استاد کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر اپنے شعور سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے عقیدے کی ضرورت ہوسکتی ہے، مگر عقیدے کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی آزادی بھی ضروری ہے۔
آخرکار انسان کی فکری آزادی کسی حتمی جواب کے مل جانے میں نہیں، بلکہ سوال کرنے کی صلاحیت زندہ رکھنے میں ہے۔
کیونکہ جس انسان کے اندر سوال زندہ ہے، اس کے اندر شعور زندہ ہے؛ اور جس کا شعور زندہ ہے، اسے اپنی عقل کسی دوسرے انسان کے حوالے کرنا آسان نہیں رہتا۔ یہی حقیقی آزادی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں