اتوار، 9 اگست، 2026

ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک




ہرمز: ایران کے دروازے سے دنیا کی معیشت تک

دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو بظاہر چند کلومیٹر کی سمندری گزرگاہ ہوتے ہیں، مگر تاریخ انہیں غیر معمولی اہمیت عطا کر دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتی ہے، مگر اس کی اصل اہمیت اس کے پانیوں کی وسعت میں نہیں، اس جغرافیائی حیثیت میں ہے جس نے ہزاروں برس سے اسے تہذیبوں، سلطنتوں، تاجروں اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنا رکھا ہے۔

آج جب دنیا خلیج فارس کے تیل، ایران اور عالمی توانائی کی سیاست کی بات کرتی ہے تو آبنائے ہرمز کا نام فوراً سامنے آتا ہے۔ لیکن اس سمندری راستے کی کہانی جدید تیل کی سیاست سے بہت پرانی ہے۔ اس کی جڑیں اس دور تک جاتی ہیں جب نہ جدید ریاستیں تھیں، نہ بحری جہاز آج جیسے تھے اور نہ دنیا ایک عالمی منڈی میں تبدیل ہوئی تھی۔

قدیم ایران کی تہذیب جب خلیج فارس کے ساحلوں تک پہنچی تو یہ سمندر اس کے لیے محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں تھا بلکہ تجارت اور رابطے کا راستہ تھا۔ ہخامنشیوں کے زمانے میں ایران ایک عظیم سلطنت تھا جس کے جنوبی حصے خلیج فارس سے جڑے ہوئے تھے۔ ایران کی سرزمین سے نکلنے والی اشیا سمندری راستوں کے ذریعے عرب دنیا اور ہندوستان تک پہنچتی تھیں۔ اس زمانے میں آبنائے ہرمز کو آج جیسی عالمی تزویراتی اہمیت حاصل نہیں تھی، لیکن جغرافیہ اپنا کام کر رہا تھا؛ ایران اور بحرِ ہند کے درمیان سمندر ایک قدرتی پل بن رہا تھا۔

ساسانی دور میں خلیج فارس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایرانی سلطنت نے اپنے جنوبی سمندری راستوں کو تجارتی نظام کا حصہ بنایا اور ہندوستان، عربستان اور مشرقی افریقہ تک پہنچنے والے بحری رابطوں میں اپنا اثر قائم کیا۔ ایران کی طاقت صرف خشکی تک محدود نہیں رہی تھی؛ اس کی نظر سمندر کی طرف بھی تھی۔

پھر اسلام آیا، ساسانی سلطنت ختم ہوئی اور ایران ایک نئے مذہبی و سیاسی عہد میں داخل ہوگیا، لیکن خلیج فارس کی اہمیت برقرار رہی۔ بصرہ، سیراف اور دوسری بندرگاہیں بحرِ ہند کی وسیع تجارتی دنیا سے جڑ گئیں۔ ہندوستان سے مصالحے، کپڑے اور دوسری اشیا آتیں، مشرقی افریقہ سے سامان پہنچتا اور ایران کے راستے یہ تجارت وسیع اسلامی دنیا تک پھیلتی۔ اس دور میں سمندر مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے سے ملانے والا راستہ بن گیا۔

اسی تجارتی دنیا میں ہرمز ابھرا۔

قدیم ہرمز کی ریاست نے خلیج فارس اور بحرِ ہند کے درمیان تجارت پر اثر قائم کیا۔ ہرمز کے تاجروں کے رابطے ہندوستان، عربستان، ایران اور مشرقی افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ ہرمز صرف ایک جزیرہ نہیں تھا؛ وہ ایک ایسی تجارتی طاقت تھا جس کی اہمیت اس مقام سے پیدا ہوئی جہاں سمندری راستے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔

پھر سولہویں صدی آئی اور بحرِ ہند میں یورپی طاقتوں کا داخلہ ہوا۔ پرتگالیوں نے سمندری راستوں کو صرف تجارت کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں طاقت کے ذریعے اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ 1507ء میں افونسو ڈی البوکرک نے ہرمز پر قبضہ کیا اور 1515ء میں پرتگالیوں نے وہاں اپنا اقتدار مضبوط کرلیا۔ ہرمز میں قلعہ بنایا گیا اور ایک ایسا دور شروع ہوا جس میں پہلی مرتبہ ایک یورپی طاقت نے خلیج فارس کے اس اہم دروازے پر براہِ راست فوجی اثر قائم کرلیا۔

یہاں تاریخ ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔ اس وقت ایران میں صفوی سلطنت قائم ہو چکی تھی۔ شاہ عباس اول کے سامنے مغرب میں عثمانی طاقت کا مسئلہ تھا اور جنوب میں پرتگالیوں کی موجودگی ایک نیا چیلنج بن رہی تھی۔ صفوی ایران نے طاقت کے اس توازن کو سمجھا اور پرتگالیوں کو ہرمز سے نکالنے کے لیے انگریزوں کے ساتھ تعاون کیا۔ 1622ء میں صفوی فوج اور انگریزی بحری مدد نے پرتگالیوں کو ہرمز سے بے دخل کردیا۔

یہ واقعہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک دلچسپ سبق بھی ہے۔ جس یورپی طاقت سے ایران نے پرتگالیوں کو شکست دینے کے لیے تعاون کیا، وہی آگے چل کر خلیج فارس میں ایک نئی عالمی طاقت کے ظہور کی بنیاد بننے والی تھی۔ تاریخ میں مستقل دوست کم ہوتے ہیں، مستقل مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔

پرتگالیوں کے زوال کے بعد عمان کی بحری طاقت بھی خلیج فارس اور بحرِ ہند میں نمایاں ہوئی۔ مسقط ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا اور عمانی حکمرانوں نے پرتگالیوں کے خلاف طویل جدوجہد کی۔ یوں آبنائے ہرمز کے گرد ایرانی، عرب اور یورپی طاقتوں کی ایک مسلسل کشمکش جاری رہی۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانیہ اس خطے میں داخل ہوا۔ اس کی اصل دلچسپی ہندوستان تھی۔ ہندوستان برطانوی سلطنت کا سب سے قیمتی حصہ تھا، اس لیے ہندوستان تک جانے والے سمندری راستوں کی حفاظت برطانیہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی۔ خلیج فارس اسی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن گئی۔ عمان، بحرین، کویت اور خلیج کے دوسرے حکمرانوں کے ساتھ برطانوی معاہدوں نے رفتہ رفتہ خطے میں برطانوی اثر بڑھا دیا۔

لیکن بیسویں صدی نے آبنائے ہرمز کو وہ اہمیت دی جس نے اسے عالمی سیاست کا مستقل کردار بنا دیا۔

تیل۔

جب خلیج فارس میں تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے اور صنعتی دنیا کی توانائی کی ضروریات بڑھیں تو آبنائے ہرمز محض تجارتی راستہ نہیں رہی۔ یہ عالمی معیشت کی شہ رگ بن گئی۔ خلیج فارس کے تیل کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچنے کے لیے یہ سمندری دروازہ انتہائی اہم ہوگیا۔

اسی لیے آج ایران کو سمجھنے کے لیے صرف تہران، اصفہان، شیراز اور مشہد کو دیکھنا کافی نہیں۔ ایران کے جنوب میں ایک اور ایران موجود ہے؛ وہ ایران جو سمندر کی طرف دیکھتا ہے، جو خلیج فارس کے ساحلوں سے بحرِ ہند تک پہنچتا ہے اور جس کے سامنے آبنائے ہرمز ایک ایسا دروازہ ہے جسے دنیا نظرانداز نہیں کر سکتی۔

ایرانی انقلاب کے بعد اس جغرافیائی حقیقت کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے شمالی کنارے اور اس کے قریب واقع اہم جزائر موجود ہیں۔ ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کے باعث عالمی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ کسی بڑے تنازع کی صورت میں آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے حساس مقام بن سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، دنیا کی نظریں واشنگٹن یا تہران سے پہلے کبھی کبھی ہرمز کے پانیوں پر جا ٹھہرتی ہیں۔ کیونکہ یہاں ہونے والا کوئی بھی بڑا واقعہ صرف ایران یا خلیج فارس کا مسئلہ نہیں رہتا؛ اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی پوری تاریخ کو دیکھا جائے تو ایک بات حیران کن طور پر واضح ہوتی ہے: طاقت ہمیشہ بدلتی رہی، مگر جغرافیہ نہیں بدلا۔ عیلامی اور قدیم ایرانی دنیا سے لے کر ہخامنشیوں، ساسانیوں، اسلامی تاجروں، ہرمز کے حکمرانوں، پرتگالیوں، صفویوں، عمانیوں، برطانویوں اور آج کی عالمی طاقتوں تک سب اس مختصر سمندری راستے کی اہمیت کو سمجھتے رہے۔

شاید یہی جغرافیہ کا سب سے بڑا سبق ہے۔

سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، بادشاہ بدل جاتے ہیں، مذہب اور سیاسی نظریات نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں، عالمی طاقتوں کے نام تبدیل ہوجاتے ہیں، مگر کچھ جغرافیائی مقامات تاریخ کے ہر دور میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔

آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی مقام ہے۔

یہ صرف ایران کا سمندری دروازہ نہیں؛ یہ ایران، عرب دنیا، بحرِ ہند اور عالمی معیشت کے درمیان وہ تاریخی پل ہے جس نے ہزاروں سال سے طاقت، تجارت اور تہذیب کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: