‏War لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏War لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 22 اگست، 2026

شام نیا "امحان گاہ"


شام ، نیا "امتحان گاہ"۔
مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک محدود فوجی کارروائی پورے خطے کے طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
18 اگست کو اسرائیل نے شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع ابو الظہور فضائی اڈے پر فضائی حملے کیے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اسے خدشہ تھا کہ اس اڈے پر ترک فوجی موجودگی قائم کی جا سکتی ہے۔ ترکیہ نے اس مؤقف کو مسترد کیا اور اسرائیلی حملے کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے بھی بعد میں کہا کہ اس واقعے نے اسرائیل اور ترکیہ کو براہِ راست فوجی تصادم کے قریب پہنچا دیا تھا۔ 
یہ واقعہ بظاہر شام پر اسرائیلی حملہ تھا، لیکن اس کے پیچھے اصل مسئلہ شام کے مستقبل پر اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔
شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ترکیہ نے نئی شامی حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی، دفاعی اور عسکری تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ اسرائیل اس بڑھتے ہوئے ترک اثر و رسوخ کو اپنے لیے ایک ممکنہ تزویراتی خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابو الظہور کا واقعہ محض ایک فضائی حملہ نہیں بلکہ اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان شام کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے مقابلے کی علامت بن گیا ہے۔
لیکن اس کہانی میں ایک نئی اور انتہائی اہم تبدیلی آ چکی ہے۔
اب ترکیہ اکیلا نہیں ہے۔
7 اگست میں مکہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے اعلان کے مطابق ایک رکن کے خلاف مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے نے خطے میں ایک نئی دفاعی صف بندی کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ 
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے
اگر شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم ہوتا ہے تو کیا مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب اور پاکستان کو بھی اس بحران میں کھینچ لے گا؟
اس سوال کا جواب سادہ نہیں۔
معاہدے کی اصل طاقت اس کے الفاظ سے زیادہ اس کی سیاسی تعبیر اور عملی نفاذ میں ہوگی۔ اگر ترکیہ پر حملہ اس معاہدے کے تحت ’’مسلح حملہ‘‘ تصور کیا جاتا ہے تو نظریاتی طور پر سعودی عرب اور پاکستان کے لیے ترکیہ کے دفاع کی ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کا مطلب فوراً اسرائیل کے خلاف براہِ راست جنگ ہو۔
دونوں ممالک کے پاس فوجی، سفارتی اور اقتصادی ردعمل کے کئی درجات موجود ہیں۔
سعودی عرب کا ممکنہ کردار
سعودی عرب اس بحران میں سب سے پہلے سفارتی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔
ریاض خطے میں اپنی سیاسی اور مذہبی حیثیت کے باعث اسرائیل، امریکا، ترکیہ اور شام سب کے ساتھ رابطے رکھتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ترکیہ کی حمایت کرتے ہوئے براہِ راست جنگ کو روکنے کی کوشش کرے۔
لیکن اگر اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تصادم بڑھتا ہے اور معاملہ مکہ دفاعی معاہدے کی حدود تک پہنچتا ہے تو سعودی عرب پر سیاسی دباؤ بہت بڑھ جائے گا۔
اس وقت سعودی عرب کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہوگا کہ ترکیہ کی دفاعی مدد کہاں تک کی جائے؟
کیا صرف سفارتی حمایت؟
کیا انٹیلی جنس تعاون؟
کیا فضائی دفاع؟
کیا مالی اور لاجسٹک مدد؟
یا براہِ راست فوجی شرکت؟
ان میں سے آخری امکان سب سے زیادہ خطرناک ہوگا، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک مقامی شام-اسرائیل تنازع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب غالباً آخری مرحلے تک براہِ راست جنگ سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن اگر معاہدے کے تحت ترکیہ کے خلاف واضح بیرونی حملہ تصور کیا گیا تو ریاض مکمل طور پر غیر جانب دار رہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوگا۔
پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟
پاکستان کا معاملہ مزید پیچیدہ ہے۔
پاکستان ترکیہ کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ بھی اس کے گہرے عسکری تعلقات موجود ہیں۔ اب تینوں ممالک ایک ہی دفاعی معاہدے میں شریک ہیں۔ اس لیے ترکیہ کے خلاف کسی بڑے فوجی حملے کی صورت میں اسلام آباد پر بھی سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھے گا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف فوراً اپنی فوج شام بھیج دے گا۔
پاکستان کے لیے سب سے قابلِ عمل راستہ غالباً براہِ راست جنگ کے بجائے دفاعی، تکنیکی، انٹیلی جنس، تربیتی اور سفارتی تعاون ہوگا۔
پاکستان پہلے بھی سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے فوجی تعاون کر چکا ہے۔ اس لیے اگر خلیجی سلامتی براہِ راست خطرے میں آئے تو پاکستان کا کردار زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
لیکن شام میں ترک افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان محدود جھڑپ اور ترکیہ پر مکمل پیمانے کے حملے میں بہت بڑا فرق ہے۔
پہلی صورت میں پاکستان شاید سفارتی اور دفاعی تعاون تک محدود رہنے کو ترجیح دے۔
دوسری صورت میں مکہ دفاعی معاہدے کی سیاسی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔
کیا پاکستان اسرائیل کے خلاف جنگ کرے گا؟
اس سوال کا جواب فی الحال نہیں کہا جا سکتا۔
یہ کہنا کہ پاکستان لازماً اسرائیل کے خلاف فوج بھیجے گا، موجودہ شواہد سے آگے بڑھ جانا ہوگا۔
زیادہ حقیقت پسندانہ منظرنامہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے سفارتی حمایت، دفاعی مشاورت، انٹیلی جنس تعاون اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ پوزیشن اختیار کرے گا۔
اگر تنازع ترکیہ کی سرزمین یا براہِ راست ترک فوجی تنصیبات تک پہنچتا ہے تو صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ معاہدہ ایک علامتی دستاویز سے بڑھ کر عملی دفاعی بندوبست بن سکتا ہے۔
اور شام؟
اس پورے معاملے میں سب سے اہم ملک شاید شام ہی ہے۔
شام اس وقت تباہ حال ریاست سے دوبارہ تعمیر ہونے والی ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسے ترکیہ کی فوجی اور سیاسی مدد کی ضرورت ہے، لیکن وہ اسرائیل کے ساتھ ایک نئی بڑی جنگ بھی نہیں چاہتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شام اب خود مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران بتایا کہ دمشق اس امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ 
اگر شام بھی اس دفاعی بندوبست میں شامل ہو جاتا ہے تو معاملہ مزید تبدیل ہو جائے گا۔
تب ایک طرف اسرائیل ہوگا اور دوسری طرف ترکیہ، سعودی عرب، پاکستان اور ممکنہ طور پر شام کا ایک نیا دفاعی فریم ورک۔
یہ صورتحال خطے میں طاقت کے ایک نئے توازن کو جنم دے سکتی ہے۔
مگر اصل خطرہ جنگ سے زیادہ غلط فہمی ہے
موجودہ بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک کے مطابق امریکا اب اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان ایک ایسا ’’عدمِ تصادم‘‘ کا نظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف غلط اندازے سے کارروائی نہ کریں۔ 
اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ ایک معمولی واقعہ بھی انتہائی خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اسرائیلی طیارہ شام میں کارروائی کرتا ہے۔
ترکیہ اسے اپنی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائی سمجھتا ہے۔
ترکیہ جواب دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
سعودی عرب ترکیہ کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان دفاعی معاہدے کی وجہ سے سیاسی دباؤ میں آتا ہے۔
اور پھر ایک محدود شام-اسرائیل تنازع دیکھتے ہی دیکھتے ایک علاقائی بحران بن سکتا ہے۔
یہی وہ منظرنامہ ہے جس سے امریکا، یورپ اور خطے کی دوسری طاقتیں بچنا چاہیں گی۔
تین ممکنہ منظرنامے
موجودہ حالات کو تین ممکنہ راستوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلا راستہ: سفارتی دباؤ
امریکا اور دوسرے ممالک اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان عدمِ تصادم کا نظام قائم کر دیں۔ اسرائیل شام میں ترک فوجی موجودگی کے خلاف اپنی حدود طے کرے اور ترکیہ بھی اسرائیلی فوجی مفادات کو براہِ راست چیلنج کرنے سے گریز کرے۔
یہ سب سے کم خطرناک راستہ ہے۔
دوسرا راستہ: بالواسطہ مقابلہ
ترکیہ شام کی فوج کو مضبوط کرے، اسرائیل شامی عسکری تنصیبات پر حملے جاری رکھے، مگر دونوں ممالک کی افواج براہِ راست ایک دوسرے پر حملہ نہ کریں۔
یہ ایک طویل ’’پراکسی‘‘ یا بالواسطہ کشمکش بن سکتی ہے۔
تیسرا راستہ: براہِ راست تصادم
اگر اسرائیل اور ترکیہ کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہِ راست کارروائی کرتی ہیں تو مکہ دفاعی معاہدہ پہلی مرتبہ حقیقی امتحان سے گزرے گا۔
تب سعودی عرب اور پاکستان کے سامنے فیصلہ ہوگا کہ معاہدے کی روح کو کس حد تک عملی شکل دی جائے۔
یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں شام کا بحران ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اصل سوال اب ترکیہ کا نہیں، مکہ معاہدے کا ہے
چند ہفتے پہلے تک اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان براہِ راست جنگ ایک بعید امکان دکھائی دیتی تھی۔
اب صورتحال مختلف ہے۔
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ اسرائیل اور ترکیہ شام میں ایک دوسرے کے عسکری مفادات کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ شام خود مکہ معاہدے میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ اور امریکا کو اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان عدمِ تصادم کا نظام قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ 
اس لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ اسرائیل نے شام پر حملہ کیوں کیا۔
اصل سوال یہ ہوگا
اگر ترکیہ نے اس حملے کا جواب دیا تو مکہ میں بننے والا نیا دفاعی اتحاد کہاں تک جائے گا؟
اور اس سے بھی بڑا سوال
کیا سعودی عرب اور پاکستان ترکیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر اس تنازع کو روکیں گے، یا اس میں شامل ہو کر اسے ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل کر دیں گے؟
فی الحال زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ تینوں ممالک جنگ کو روکنے اور اپنی نئی دفاعی صف بندی کو بازدار قوت کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے، نہ کہ فوراً جنگ میں کودنے کو۔
لیکن تاریخ میں بعض اوقات اتحاد جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں بنتے۔
وہ جنگ کو روکنے کے لیے بنتے ہیں۔
اور کبھی کبھی یہی اتحاد دشمن کو روکنے کی کوشش میں ایسے واقعات کو جنم دے دیتے ہیں جنہیں روکنا بعد میں خود مشکل ہو جاتا ہے۔
شام اس وقت صرف ایک ملک نہیں، مشرقِ وسطیٰ کے نئے طاقت کے توازن کا "امتحان گاہ" بن چکا ہے۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

Has Israel Become an American Financial Liability?

 


Has Israel Become an American Financial Liability? 

For decades, the United States has described Israel as its most important partner in the Middle East. From Congress to the White House, support for the Israeli state has been a cornerstone of U.S. foreign policy. But in 2026, amid shifting public sentiment and ongoing conflict in the region, an increasingly vocal segment of Americans now questions whether this alliance still serves U.S. interests—or whether it has become a strategic and financial liability.

At the heart of this debate is money: the vast amounts of U.S. taxpayer funds allocated to support Israel. According to historical aid data compiled by the U.S. Congressional Research Service and other public records, Israel has been the largest cumulative recipient of American foreign assistance since World War II. Adjusted for inflation, Israel has received roughly $310 billion in total economic and military aid from the United States since its founding in 1948 through 2024. 

Much of this support has been concentrated in recent decades. Under a series of bilateral agreements—especially the 2016 Memorandum of Understanding (MOU)—the U.S. agreed to provide $38 billion in military aid from 2019 through 2028, averaging $3.8 billion per year. In fiscal year 2024 alone, approximately $6.8 billion in aid was obligated to Israel by the U.S. government, almost entirely for military assistance. 

These figures are enormous by any standard, and they have fueled a wider debate not merely about dollars spent abroad but about American priorities at home. Critics argue that taxpayers’ money would be better spent on domestic needs—healthcare, education, infrastructure—especially amid persistent economic challenges like inflation, rising debt, and stagnant wages. Some commentators highlight that cumulative aid since 1990 could have contributed to substantial domestic investment if redirected. While exact cumulative figures since 1990 vary by methodology, the sheer scale of U.S. assistance—hundreds of billions in total—creates a perception among critics that the alliance is too costly. 

For many Americans, resentment is not just about dollars but about human costs and strategic entanglement. As tensions with Iran have escalated and conflict with militant groups in Gaza persists, some U.S. veterans and activists argue that Americans are being drawn into wars that primarily serve another country’s agenda. A symbolic moment came during a recent congressional hearing when former U.S. Marine veteran Brian McGinnis stood before lawmakers shouting, “No one wants to fight for Israel,” and was removed by Capitol security. Supporters of the protest depicted the scene as alarming evidence that U.S. foreign policy elites are disconnected from ordinary citizens’ views on war and peace.

These episodes reflect a growing dissatisfaction among portions of the public. According to recent polls, a substantial number of Americans now believe that the United States supports Israel too much, particularly in the context of the Gaza conflict and broader Middle East policy. 

The financial critique is often tied to geopolitical concerns. Critics argue that unwavering U.S. support for Israel has made America a target of extremist groups and complicated relations with Arab and Muslim-majority nations. They contend that Washington’s alliance has constrained U.S. strategic flexibility in the region while inflaming anti‑American sentiment abroad.

Yet supporters of the alliance offer a starkly different assessment. They argue that Israel provides considerable strategic value to the United States, especially in intelligence sharing, military cooperation, and technological innovation. Israel’s military and intelligence capabilities, particularly in surveillance and counterterrorism, are cited by proponents as critical tools in U.S. efforts to counter extremist threats and preserve stability in a volatile region.

Moreover, while critics focus on the aid totals, analysts emphasize that a significant portion of U.S. aid to Israel comes back to the U.S. economy. The majority of military aid is spent on American defense contractors and equipment, supporting jobs and technological development in the U.S. defense sector.

In addition, strategic considerations like maintaining influence in the Middle East, balancing the power of regional adversaries, and securing access to emerging technologies factor into policymakers’ calculations. For decades, these arguments played well across party lines; bipartisan support for Israel remained robust even as broader public opinion shifted.

Indeed, recent polling suggests that American sympathies in the Israel‑Palestine conflict have shifted significantly, with younger generations expressing more balanced or critical views of Israel’s policies than in the past.  These changing attitudes feed into the debate about whether continued, unconditional support serves long-term U.S. interests.

Perhaps most challenging for foreign policy elites is that this debate is no longer confined to academic or activist circles. Congressional hearings, veteran protests, and public opinion polls signal a broader shift in the national conversation. The image of American troops dying in distant conflicts—not for direct national defense but in wars with complex regional dynamics—has become a potent political issue.

This shift raises several questions for American foreign policy: How should the United States balance its strategic commitments with domestic priorities? What level of foreign assistance aligns with national interest without undermining public confidence? And how should policymakers respond when a significant portion of the electorate feels that longstanding alliances no longer reflect their values or priorities?

In the end, whether Israel is viewed as an asset or a liability comes down to perspective. For advocates of strong global engagement, the U.S.-Israel relationship remains a cornerstone of American strategy in a troubled region. For critics, the partnership has become a costly—and potentially dangerous—entanglement that demands reevaluation.

What is clear is that the debate has moved beyond foreign policy circles into the mainstream of American political life. With shifting public opinion, record levels of financial support on the books, and mounting calls for reassessment, the question of Israel’s role in U.S. strategy is now one of the most contested issues in modern American geopolitics.