میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد
بارہ جون 2018ء، رمضان المبارک کے دن تھے۔ راولپنڈی کا کمیٹی چوک حسبِ معمول مصروف تھا۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور نے ایک گاڑی کو غلط سمت سے آتے دیکھا اور اسے روکنے کی کوشش کی۔ بظاہر یہ ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی تھی؛ چالان ہونا تھا، جرمانہ ادا ہونا تھا اور چند لمحوں بعد معاملہ ختم ہوجانا تھا۔
مگر ایسا نہ ہوا۔ تلخی بڑھی، اشتعال نے شدت اختیار کی اور فائرنگ ہوگئی۔ ٹریفک وارڈن شاہد سرور اور ایک راہ گیر، نثار احمد، جاں بحق ہوگئے۔ ایک معمولی خلاف ورزی چند لمحوں میں انسانی المیے میں بدل گئی۔
اس واقعے کو صرف قتل کی ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا آسان ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بنیادی معاشرتی سوال موجود ہے: ہم اختلاف برداشت کرنا، روک ٹوک قبول کرنا اور غصے کے لمحے میں خود پر قابو رکھنا کب سیکھیں گے؟
قانون موجود ہونا ضروری ہے، مگر قانون کا احترام محض سزا کے خوف سے پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت جرم کے بعد فیصلہ کرتی ہے، پولیس قانون نافذ کرتی ہے؛ لیکن برداشت، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کا شعور اس سے کہیں پہلے انسان کے اندر تشکیل پاتا ہے۔
یہ تربیت سب سے پہلے گھر میں شروع ہوتی ہے، اسکول اسے آگے بڑھاتا ہے، مگر آج ایک تیسرا استاد بھی ہماری زندگی میں مسلسل موجود ہے۔ وہ استاد ہے میڈیا۔
ٹیلی وژن، اخبار، ریڈیو، فلم اور سوشل میڈیا صرف معلومات یا تفریح فراہم نہیں کرتے؛ وہ ہمیں رویوں کے نمونے بھی دکھاتے ہیں۔ وہ بالواسطہ طور پر یہ تصور تشکیل دیتے ہیں کہ طاقت کیا ہے، کامیابی کس چیز کا نام ہے، بہادری کیسی دکھائی دیتی ہے اور اختلاف کا اظہار کس انداز میں کیا جاتا ہے۔
اسی لیے میڈیا کو صرف خبر رسانی کا ذریعہ سمجھنا اس کی اصل قوت کو محدود کرنا ہے۔ میڈیا معاشرے کا خاموش استاد ہے۔
کینیڈین مفکر مارشل میک لوہن نے اسی حقیقت کو اپنے معروف جملے میں بیان کیا
“The medium is the message.”
یعنی ابلاغ کا ذریعہ خود بھی پیغام بن جاتا ہے۔ جس انداز میں کوئی بات ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے، وہ ہمارے ادراک اور رویے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ اثر مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی۔ اگر فلم، ڈرامہ یا سوشل میڈیا میں دھونس کو طاقت، انتقام کو بہادری، بدتمیزی کو بے باکی اور قانون شکنی کو ذہانت بنا کر پیش کیا جائے تو ناظر صرف ایک کہانی نہیں دیکھ رہا ہوتا؛ وہ ایک رویے کا نمونہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تحمل، دیانت، قانون پسندی، مکالمے اور انسانی احترام کو باوقار کرداروں کے ذریعے دکھایا جائے تو یہی ذریعہ معاشرتی تربیت کا وسیلہ بن سکتا ہے۔
دنیا میں میڈیا اور تعلیم کے اس تعلق کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان کو صرف شہروں کی تعمیرِ نو نہیں کرنی تھی؛ اسے ایک نئے اجتماعی شعور کی بھی ضرورت تھی۔ ریڈیو، اخبارات اور فلموں سمیت ذرائع ابلاغ نے امن، جمہوریت اور شہری ذمہ داری سے متعلق تصورات کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
فن لینڈ میں میڈیا لٹریسی کو تعلیمی سطح پر اہمیت دی گئی۔ بچوں اور نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے کہ خبر کا ماخذ کیا ہے، خبر اور رائے میں کیا فرق ہے اور گمراہ کن معلومات کو کس طرح پہچانا جائے۔
برطانیہ میں بی بی سی کی عوامی خدمت کی روایت نے بھی نشریات کو محض تفریح تک محدود نہیں رکھا۔ تعلیم، سائنس، تاریخ، ادب اور ثقافت کے پروگراموں کے ذریعے عوامی علم اور سماجی شعور کو نشریاتی ذمہ داری کا حصہ سمجھا گیا۔
آج پاکستان میں اس ضرورت کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوچکی ہے۔ موبائل فون نے ہر شہری کو صرف خبر کا صارف نہیں بلکہ خبر کا پھیلانے والا بھی بنا دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع، افواہ یا جعلی تصویر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے مصنوعی تصاویر، آوازوں اور ویڈیوز کی تیاری بھی آسان کردی ہے۔
اس لیے آج میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں، خبر کو پرکھنے کی عادت پیدا کرنا بھی ہے۔
لیکن میڈیا لٹریسی کا مطلب صرف جعلی خبر پہچاننا نہیں۔ اس کا ایک بڑا حصہ انسانی رویوں کی تربیت بھی ہے۔
ایک ڈرامہ یہ دکھا سکتا ہے کہ سرخ بتی پر رکنا محض جرمانے سے بچنے کا طریقہ نہیں بلکہ دوسرے انسان کی جان کا احترام ہے۔ ایک اشتہار قطار توڑنے والے کو چالاک نہیں بلکہ غیر ذمہ دار دکھا سکتا ہے۔ ایک سیاسی پروگرام یہ عملی مثال قائم کرسکتا ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود مخالف کی عزت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ کسی حادثے کی خبر صرف ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے بجائے یہ سوال بھی اٹھا سکتی ہے کہ اس حادثے کے پیچھے کون سی انسانی غفلت اور معاشرتی عادتیں کارفرما تھیں۔
اس طرح نصیحت کیے بغیر تربیت ممکن ہے۔
خاص طور پر سیاسی گفتگو میں میڈیا کا اثر بہت گہرا ہے۔ اگر اختلاف کا مطلب چیخنا، تضحیک، الزام اور ذاتی حملہ بن جائے تو ناظر کے سامنے ایک ایسا معاشرتی نمونہ آتا ہے جس میں مخالف کو شکست دینا، اسے سمجھنے سے زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس دلیل، تحمل اور احترام کے ساتھ اختلاف پیش کیا جائے تو وہی پروگرام ایک عملی درس گاہ بن سکتا ہے۔
جرائم کی رپورٹنگ بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ جرم کو سنسنی میں تبدیل کرنا توجہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن جرم کے اسباب، نتائج اور سماجی پس منظر پر گفتگو عوام کو محض تماشائی بننے کے بجائے مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
کمیٹی چوک کا واقعہ اسی لیے ہمارے سامنے دوبارہ آتا ہے۔
راجہ رئیس داؤد کو واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ 12 نومبر 2020ء کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے شاہد سرور اور نثار احمد کے قتل کے مقدمے میں اسے تین مرتبہ سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ اس کے ڈرائیور عمران اقبال کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے جرم کا فیصلہ کردیا، لیکن معاشرے کا سوال اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے:
ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی برداشت کیوں نہ ہوسکی؟ روک ٹوک انا کا مسئلہ کیوں بن گئی؟ غصے کے چند لمحوں پر قابو کیوں نہ پایا جاسکا؟
یہ سوال کسی ایک فرد کا نہیں؛ ہمارے اجتماعی مزاج کا سوال ہے۔
ہمیں ایسے شہری درکار ہیں جو صرف قانون کے خوف سے نہیں بلکہ قانون کی ضرورت اور دوسرے انسان کے حق کو سمجھ کر رکیں؛ جو اختلاف کو اپنی توہین نہ سمجھیں؛ جو غصے میں ہاتھ اٹھانے کے بجائے خود کو روک سکیں؛ اور جو غیر مصدقہ خبر آگے بڑھانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں۔
اس تربیت میں گھر اور اسکول کا کردار بنیادی ہے، مگر جدید انسان کا بڑا حصہ میڈیا کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس لیے میڈیا کو اپنی طاقت کا شعور بھی ہونا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کا بھی۔
اس کا مقصد یہ نہیں کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ انہیں کیا سوچنا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ انہیں بہتر انداز میں سوچنے، سوال کرنے اور دوسروں کو سمجھنے کا موقع دیا جائے۔
ایک مہذب معاشرہ صرف قوانین، عدالتوں اور پولیس سے نہیں بنتا۔ وہ روزمرہ کی چھوٹی عادتوں سے بنتا ہے: سرخ بتی پر رکنے سے، قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے سے، مخالف کی بات سننے سے، غصے میں خود کو روکنے سے، عوامی املاک کا احترام کرنے سے اور غیر مصدقہ خبر کو آگے نہ بڑھانے سے۔
اگر میڈیا ان چھوٹی مگر بنیادی عادتوں کو قابلِ احترام بنا دے تو وہ صرف معاشرے کا آئینہ نہیں رہے گا۔
وہ معاشرے کی تعمیر کا خاموش، مگر طاقتور استاد بن جائے گا۔
جمعرات، 1 اکتوبر، 2026
میڈیا: معاشرے کا خاموش استاد
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں