جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

چار ستونوں پر کھڑی انسانیت





چار ستونوں پر کھڑی انسانیت

انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟

معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔

خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔

نسل و خاندان: جڑیں جو سایہ دیں

خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔

فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔

قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔

خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔

دولت: ہاتھ کی قوت، دل کا امتحان

دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔

فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔

دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔

سیاست: اختیار جو انصاف کا پابند ہو

سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔

عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔

سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مذہب: عقیدہ جو کردار میں اترے

مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔

اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔

مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔

ستونوں کی قوت، انسانیت کی چھت

نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔

آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔

انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔


کوئی تبصرے نہیں: