سیاسی یتیم کی کہانی
سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست نہیں ہوتا؛ مستقل صرف مفادات ہوتے ہیں۔ طاقتور کو جب تک آپ کی ضرورت رہتی ہے، آپ اس کے معتمد، اتحادی اور اقتدار کے شریک دکھائی دیتے ہیں، لیکن جس دن آپ کی افادیت ختم ہو جائے، برسوں کی وفاداری بھی بے معنی ہو سکتی ہے۔ سرپرست اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتا ہے، اقتدار کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور کل تک طاقت کے ایوانوں تک رسائی رکھنے والا آج اپنی آواز سنانے کے لیے بھی محتاج ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ایک اتحادی سیاسی یتیم بن جاتا ہے۔
تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو طاقتور بنانے کے لیے اپنی قوت، دولت اور اثرورسوخ صرف کر دیتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طاقت کو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پروان چڑھا رہے ہیں، کل وہی طاقت انہیں غیرضروری سمجھ سکتی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے بنگال کا جگت سیٹھ خاندان اسی تلخ حقیقت کی ایک قابلِ غور مثال ہے۔
اس زمانے میں جگت سیٹھ خاندان برصغیر کے امیر ترین اور بااثر تجارتی و سرمایہ دار خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ خاندان کے نمایاں سربراہ فتح چند کو مغل بادشاہ محمد شاہ نے 1720ء کی دہائی میں ’’جگت سیٹھ‘‘ کا خطاب دیا۔ اس خطاب نے خاندان کے لیے دولت، مالی وسائل اور حکمرانوں تک رسائی کے دروازے کھول دیے ۔ بظاہر اس کی حیثیت اتنی مضبوط تھی کہ کوئی سیاسی تبدیلی اس کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔
لیکن تاریخ میں دولت اور اثرورسوخ ہمیشہ تحفظ کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں طاقت کس کے ہاتھ میں جا رہی ہے۔
1757
ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کے خلاف سازش میں جگت سیٹھ خاندان کے مفادات ایسٹ انڈیا کمپنی سے جا ملے۔ خاندان نے انگریزوں کی مالی معاونت کی اور نواب کی حکومت کی تبدیلی میں کردار ادا کیا۔
یہیں سے اس کہانی کا بنیادی سبق سامنے آتا ہے: جس طاقت کو آپ اپنے مخالف کو ہٹانے کے لیے مضبوط کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ کامیابی کے بعد آپ کے مفادات کا بھی خیال رکھے۔ آپ کسی کو اقتدار تک پہنچانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد اقتدار کی سمت کا تعین آپ کے ہاتھ میں رہے، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔
جگت سیٹھ خاندان کی بعد کی تاریخ اس خطرے کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ 1763ء میں خاندان کے اہم افراد مہتاب چند اور سوروپ چند قتل کر دیے گئے۔ بدلتے ہوئے سیاسی حالات، اقتدار کی کشمکش اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے غلبے نے خاندان کی سابقہ حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ جو خاندان کبھی حکمرانوں کو مالی سہارا دینے اور سیاسی معاملات پر اثرانداز ہونے کی قوت رکھتا تھا، وہ نئے اقتدار کے نظام میں اپنی پرانی اہمیت برقرار نہ رکھ سکا۔ اس کی داستان ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدار کی تبدیلی میں دوسروں کے لیے راستہ کھولنے والے بھی ہمیشہ اپنے لیے محفوظ راستہ نہیں بنا پاتے۔
یہ واقعہ صرف ایک امیر خاندان کے عروج و زوال کی کہانی نہیں؛ یہ اس سیاسی ذہنیت کا نوحہ بھی ہے جو اپنی قوت پیدا کرنے کے بجائے کسی طاقتور کی سرپرستی کو کامیابی کی ضمانت سمجھ بیٹھتی ہے۔
آج بھی سیاست میں ایسے خاندان، گروہ اور جماعتیں دکھائی دیتی ہیں جو اپنی تنظیم، نظریے، عوامی حمایت اور آزادانہ فیصلہ سازی کو مضبوط بنانے کے بجائے کسی طاقتور سرپرست کے سہارے اپنی حیثیت قائم کرتی ہیں۔ جب تک ان کی ضرورت باقی رہتی ہے، انہیں اہمیت دی جاتی ہے؛ ان کے لیے راستے کھلے رہتے ہیں اور ان کی آواز سنی جاتی ہے۔ لیکن جب سرپرست کے مقاصد بدل جائیں، ترجیحات تبدیل ہو جائیں یا کوئی نیا اتحادی زیادہ کارآمد دکھائی دینے لگے تو پرانے ساتھی کی حیثیت بھی بدل سکتی ہے۔
اس وقت سب سے تلخ انکشاف یہ ہوتا ہے کہ جسے وہ اقتدار میں شراکت سمجھ رہا تھا، ممکن ہے وہ محض ایک عارضی ضرورت ہو۔ جس تعلق کو وہ وفاداری کا رشتہ خیال کرتا تھا، طاقتور فریق اسے مفادات کا معاہدہ سمجھتا ہو۔ دونوں کے درمیان یہی فرق اکثر عروج اور زوال کے فاصلے کو طے کرتا ہے۔
اگرایسا فریق خاندان کی بجائے سیاسی جماعت ہو تو
ایسی جماعت کے لیے اصل امتحان اقتدار سے محرومی نہیں، بلکہ سرپرستی کے بغیر اپنی بقا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنے کارکنوں کو متحد رکھ سکتی ہے؟ کیا وہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف اعتماد کے ساتھ پیش کر سکتی ہے؟ کیا وہ آزادانہ سیاسی فیصلے کرنے اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہو تو بحران کسی ایک سیاسی عہدے یا حکومتی منصب کے خاتمے تک محدود نہیں رہتا؛ پوری جماعت کی شناخت اور مستقبل خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: سرپرستی سے فائدہ اٹھانا سیاسی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، لیکن سرپرستی کو اپنی بنیاد بنا لینا خطرناک انحصار ہے۔ اتحاد، مفاہمت اور مشترکہ مفادات سیاست کا حصہ ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی جماعت کی طاقت کا سرچشمہ عوام کے بجائے کوئی دوسرا مرکز بن جائے، اس کی ترجیحات اپنی ضرورتوں کے بجائے سرپرست کی خواہشات سے طے ہونے لگیں اور اس کے فیصلے آزادانہ غوروفکر کے بجائے منظوری کے محتاج ہو جائیں۔
سرپرست کی ضرورت ختم ہوتے ہی ایسے تعلقات کی اصل نوعیت سامنے آ جاتی ہے۔ طاقتور فریق اپنا راستہ بدل لیتا ہے، لیکن انحصار کرنے والا اپنی کمزوریوں کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ اسے نئے سرے سے عوام کا اعتماد حاصل کرنا، کارکنوں کو متحرک کرنا اور اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنا پڑتی ہے۔ بعض جماعتیں اس مرحلے کو اپنی اصلاح کا موقع بنا لیتی ہیں، جبکہ بعض اپنی سابقہ سرپرستی کے خاتمے کو ہی اپنے زوال کی آخری وجہ سمجھتی رہتی ہیں۔
سیاسی یتیمی اس دن شروع نہیں ہوتی جب سرپرست ہاتھ کھینچ لیتا ہے؛ اس کا آغاز اس دن ہو جاتا ہے جب کوئی اپنی منزل، راستے اور فیصلوں کا اختیار کسی دوسرے کے سپرد کر دیتا ہے۔ سرپرست کا ہاتھ اٹھنے پر صرف سہارا نہیں چھنتا، اس انحصار کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: دوسروں کے سہارے اقتدار تک پہنچنا ممکن ہے، مگر اپنی قوت کے بغیر اقتدار میں اپنی جگہ برقرار رکھنا مشکل۔ جو اپنی بقا کا اختیار کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، اسے ایک دن اپنی بے بسی کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھوں ہوتا دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں