اصل معرکہ
پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی نظام کی بحث بظاہر طرزِ حکومت کے انتخاب کا معاملہ ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال چھپا ہے: اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوگا یا چند طاقت ور حلقے اپنی مرضی کا نظام قائم کریں گے؟ ہمارے ہاں سیاسی اشرافیہ، مفاداتی گروہوں اور بیوروکریسی کے بعض حلقوں کو صدارتی نظام میں مسائل کا حل دکھائی دیتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی اور حکومت کی جواب دہی کو جمہوریت کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل اختلاف نظام کے نام سے زیادہ اس بات پر ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوگا، اس پر نگرانی کون کرے گا اور اسے آئینی حدود سے تجاوز کرنے سے کون روکے گا۔
صدارتی نظام کے حامیوں کا استدلال ہے کہ ایک طاقت ور صدر تیزی سے فیصلے کر سکتا ہے، سیاسی سودے بازی کم کر سکتا ہے اور حکومت کو استحکام دے سکتا ہے۔ یہ دلیل بظاہر دل کش ہے، مگر اس میں ایک بنیادی سوال نظرانداز ہو جاتا ہے: کیا طاقت ور حکمران لازماً بہتر حکمران بھی ہوتا ہے؟ اگر بدعنوانی، اقربا پروری، نااہلی اور ادارہ جاتی کمزوری پورے نظام میں موجود ہوں تو صرف ایک طاقت ور عہدہ تخلیق کرنے سے یہ خرابیاں کیسے ختم ہو جائیں گی؟ فیصلے جلد کرنا اور درست فیصلے کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اختیار کو ایک مرکز میں جمع کرنے سے انتظامی رفتار تو بڑھ سکتی ہے، لیکن اس سے شفافیت، انصاف اور جواب دہی خودبخود پیدا نہیں ہوتیں۔
امریکی سیاسی مفکر جیمز میڈیسن نے
حکومت کے اختیارات کے توازن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’اقتدار کی خواہش کو اقتدار کی دوسری خواہش کے ذریعے متوازن ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ حکومت کو انسانوں پر اختیار دینے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے اختیار کے غلط استعمال سے روکنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ یہ اصول صدارتی اور پارلیمانی دونوں نظاموں پر لاگو ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکمران، خواہ وہ صدر ہو یا وزیرِاعظم، اس وقت تک جواب دہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اختیارات پر مؤثر نگرانی موجود نہ ہو۔
سیاسیات کے معروف محقق خوان لِنز نے اپنے مقالے
The Perils of Presidentialism
میں صدارتی نظام کے ممکنہ خطرات پر بحث کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ صدر اور پارلیمان دونوں اپنے اپنے انتخابی مینڈیٹ کی بنیاد پر جائز اختیار کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو جائے تو آئینی تصادم سیاسی بحران میں بدل سکتا ہے۔ صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت بظاہر استحکام دیتی ہے، لیکن اگر وہ عوامی اعتماد کھو دے یا پارلیمان سے اس کا ٹکراؤ ناقابلِ حل ہو جائے تو اسے تبدیل کرنے کا آئینی راستہ نسبتاً پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ لِنز کے مطابق بعض حالات میں پارلیمانی نظام کی بظاہری سیاسی بے ثباتی دراصل ایک لچک ثابت ہوتی ہے: وزیرِاعظم یا کابینہ تبدیل ہو سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ پورا جمہوری نظام ہی بحران کا شکار ہو جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ گہری سیاسی تقسیم اور متعدد جماعتوں والے معاشروں میں پارلیمانی نظام عموماً جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کا بہتر امکان فراہم کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر پارلیمانی نظام کامیاب اور ہر صدارتی نظام ناکام ہوتا ہے۔ امریکا ایک طویل عرصے سے صدارتی جمہوریت کی مثال ہے، جبکہ پارلیمانی نظام رکھنے والے بعض ممالک بھی سیاسی بحرانوں سے دوچار ہوئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی نظام کی کامیابی کا فیصلہ صرف آئینی نام سے نہیں ہوتا؛ سیاسی جماعتوں کی ساخت، قانون کی حکمرانی، اداروں کی خودمختاری اور اختلافات کو آئینی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہوتی ہے۔
پارلیمانی نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ حکومت پارلیمان کے اعتماد سے قائم رہتی ہے۔ اگر وزیرِاعظم یا کابینہ اعتماد کھو دے تو آئینی طریقے سے حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اس عمل میں حکومت کا خاتمہ لازماً جمہوریت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، صدارتی نظام میں صدر کی مقررہ مدت اور براہِ راست انتخابی حیثیت بعض حالات میں اسے پارلیمان کے مقابلے میں مضبوط جواز فراہم کرتی ہے۔ اگر دونوں کے درمیان تصادم بڑھ جائے تو بحران کے حل کے لیے زیادہ پیچیدہ آئینی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک نظام میں حکومت کی تبدیلی پورے نظام کو برقرار رکھتے ہوئے ممکن ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے میں صدر اور مقننہ کی کشمکش وسیع تر سیاسی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ امکانات ہیں، قطعی نتائج نہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں اس بحث کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہاں پارلیمانی اداروں کو بار بار غیر آئینی مداخلتوں، مارشل لا اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس صورتِ حال کی پوری ذمہ داری صرف غیر منتخب قوتوں پر ڈال کر سیاسی قیادت کو بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے پارلیمان، انتخابات اور آئینی طریقۂ کار پر اعتماد کرنے کے بجائے غیر جمہوری مدد کی تلاش میں نکلتی ہیں تو وہ اپنے مخالف کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں پورے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے اقتدار کی اصل کشمکش عوامی نمائندگی کے بجائے طاقت کے دوسرے مراکز میں منتقل ہونے لگتی ہے۔
دوسرے ممالک کے تجربات اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مصر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی تاریخ میں نظام کی نوعیت کے ساتھ ساتھ فوج، سیاسی قیادت اور منتخب اداروں کے باہمی تعلق نے بھی جمہوریت کے مستقبل کو متاثر کیا۔
مصر میں 2011ء کے عوامی انقلاب کے بعد محمد مرسی انتخابات کے ذریعے صدر بنے، لیکن 2013ء میں فوج نے ان کی حکومت ختم کر دی۔ اس کے بعد سیاسی اقتدار ایک بار پھر مضبوط صدارتی مرکز میں مرتکز ہوا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ صرف انتخابی عمل موجود ہونا کافی نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا اور فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی طاقت ور ادارہ اپنے آپ کو منتخب حکومت کے فیصلوں سے بالاتر سمجھنے لگے تو انتخابی مینڈیٹ جمہوری نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتا۔
انڈونیشیا میں صدر سہارتو کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد 1998ء میں اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔ فوج کے سیاسی کردار کو محدود کرنے، انتخابی نظام کو بہتر بنانے اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس کے باوجود فوجی اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انڈونیشیا پر 2020ء میں شائع ہونے والی تحقیق میں میدی کوساندی اور صوبور وھونو نے نشان دہی کی کہ جمہوری اصلاحات کے دو عشروں بعد بھی فوج سیاسی عمل میں اپنا اثر برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بحالی محض آئینی تبدیلی کا نام نہیں؛ اس کے لیے سیاسی اور ریاستی اداروں کے تعلقات میں دیرپا اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
بنگلہ دیش میں بھی سیاسی جماعتوں کی شدید محاذ آرائی، انتخابی عمل پر عدم اعتماد اور اقتدار کی کشمکش نے جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ 2007ء میں فوج کی حمایت یافتہ نگراں حکومت قائم ہوئی اور سیاسی سرگرمیاں محدود ہوئیں۔ اگست 2024ء میں طویل احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوگئی، جس کے بعد ملک ایک نئے سیاسی انتقال سے گزرا۔ بنگلہ دیش کا تجربہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پارلیمانی نظام کا وجود بذاتِ خود سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں۔ اگر سیاسی جماعتیں مخالفین کے حقِ سیاست، شفاف انتخابات اور آئینی حدود کو تسلیم نہ کریں تو پارلیمانی سیاست بھی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
تھائی لینڈ میں 2006ء اور 2014ء کی فوجی بغاوتوں نے منتخب حکومتوں اور فوجی اثر و رسوخ کے درمیان جاری کشمکش کو نمایاں کیا۔ وہاں انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے باوجود فوجی مداخلتوں نے جمہوری تسلسل کو بار بار متاثر کیا۔ انڈونیشیا، مصر، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی مثالیں ایک جیسی نہیں، لیکن ان سے ایک مشترکہ سبق ضرور ملتا ہے: جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ منتخب حکومت کے اختیار کو تسلیم کرنا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھنا اور اقتدار کی منتقلی کے لیے متفقہ قواعد کا احترام کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔
یہیں پاکستان کی سیاسی بحث کا اصل سوال سامنے آتا ہے۔ کیا صدارتی نظام کے حامی اختیارات کو ایک مرکز میں جمع کرکے فیصلہ سازی آسان بنانا چاہتے ہیں، یا ان کی ترجیح اداروں کی اصلاح اور جواب دہی کا نظام قائم کرنا ہے؟ اسی طرح کیا پارلیمانی نظام کے حامی پارلیمان کی بالادستی کا اصول اس وقت بھی تسلیم کریں گے جب اس سے ان کی اپنی جماعت یا پسندیدہ قیادت کے اختیارات محدود ہوں؟ ان سوالات کے جواب نعروں سے نہیں، سیاسی عمل اور عملی رویّوں سے ملیں گے۔
سیاسی اتفاقِ رائے اس لیے ضروری ہے کہ جمہوری نظام کی بنیاد صرف اکثریت حاصل کرنا نہیں بلکہ اقتدار کے استعمال کے قواعد کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ سیاسی قوتوں کو کم از کم ان اصولوں پر متفق ہونا ہوگا کہ حکومت آئینی طریقے سے قائم ہوگی اور تبدیل ہوگی، پارلیمان کو بے اثر نہیں کیا جائے گا، غیر منتخب ادارے سیاسی فیصلوں پر قبضہ نہیں کریں گے اور اختلافات کا حل آئین کے اندر تلاش کیا جائے گا۔ دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاج شہریوں کے جمہوری حقوق ہیں، لیکن اگر ان کا نتیجہ آئینی عمل کو کمزور کرنا یا غیر جمہوری مداخلت کا راستہ کھولنا ہو تو احتجاج کے مقصد اور اس کے نتیجے کے درمیان تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔
پارلیمانی بالادستی کے حامیوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ مختلف جماعتوں، نظریات، علاقائی مفادات اور شخصی قیادتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود اگر وہ مشترکہ اصولوں پر منظم نہ ہوں تو ان کی اجتماعی قوت منتشر رہتی ہے۔ دوسری طرف اقتدار کو ایک مرکز میں مرتکز کرنے کے خواہش مند حلقوں کے لیے اپنا ہدف متعین کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس لیے پارلیمان کی بالادستی کا دفاع صرف تقریروں سے نہیں ہو سکتا؛ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات کے باوجود آئینی اصولوں پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
اس جدوجہد میں عوام کا کردار بھی اہم ہے۔ خود کو باشعور کہنے والے شہری اگر ہر بار شخصیات کے پیچھے چلیں، ماضی کے تجربات سے سبق نہ سیکھیں اور مستقل اجتماعی جدوجہد کے بجائے وقتی نعروں پر اکتفا کریں تو ان کی سیاسی قوت مؤثر نہیں بن پائے گی۔ لیکن تمام ذمہ داری عوام پر ڈالنا بھی درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے طرزِ عمل سے اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اندرونی جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے نزدیک آئینی اصول شخصی اور جماعتی مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔
یہ سفر طویل ہو سکتا ہے۔ جمہوری ادارے ایک دن میں مضبوط نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی نئے نظام کے نفاذ سے تمام مسائل فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔ ’’آہستہ چل، مگر چلتا رہ‘‘ اس جدوجہد کا اصول ہونا چاہیے: رفتار کم ہو سکتی ہے، لیکن سمت آئینی بالادستی، جواب دہی اور عوامی اختیار کی طرف ہونی چاہیے۔
پاکستان کا اصل معرکہ صدارتی یا پارلیمانی نظام کے نام پر نہیں، اس اصول پر ہے کہ اقتدار کسی فرد، ادارے یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے اور اسے آئین کے تابع رہنا چاہیے۔ سیاسی تحقیق یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مختلف نظام کس طرح کام کرتے ہیں اور کن حالات میں بحران پیدا ہو سکتے ہیں؛ مگر پاکستان کے لیے کوئی بھی نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام اس کے آئینی قواعد کو تسلیم کریں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ صدر زیادہ طاقت ور ہو یا وزیرِاعظم؛ اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کو آئین کا پابند کون بنائے گا۔ جب تک اس سوال کا جواب اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر جواب دہی کی صورت میں نہیں ملتا، نظام بدلنے کے نعرے لگتے رہیں گے اور اقتدار کی کشمکش اپنی جگہ قائم رہے گی۔ کشتی کو ساحل تک پہنچانے کے لیے منزل کا تعین کافی نہیں؛ ملاح اور مسافروں کو بھی ایک سمت میں سفر کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں