ذمہ دار شہری
ہماری اجتماعی زندگی میں ایک عجیب تضاد ہے۔ ہم ہر محرومی کا الزام حکومت کو دیتے ہیں، ہر خرابی کا ذمہ دار حکمرانوں کو ٹھہراتے ہیں اور ہر مسئلے کے حل کی امید ریاست سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ سڑک پر گندگی ہو تو حکومت قصوروار، ٹریفک کا نظام خراب ہو تو حکومت ذمہ دار، بازار میں ملاوٹ ہو تو حکومت غافل، تجاوزات بڑھ جائیں تو انتظامیہ ناکام، اور قانون کی خلاف ورزی عام ہو جائے تو ہم حکمرانوں کو برا بھلا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال کیا ہے کہ جن خرابیوں کا شکوہ ہم حکومت سے کرتے ہیں، ان میں ہمارا اپنا حصہ کتنا ہے؟
حکومت سے سوال کرنا شہری کا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا احتساب کرنا بھی اسی شہری کی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے حقوق کے بارے میں تو پوری طرح بیدار ہوتے ہیں، مگر فرائض کی باری آئے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سڑکیں صاف ہوں، مگر کوڑا اپنے گھر سے باہر پھینکتے ہوئے نہیں سوچتے۔ ہم ٹریفک کا منظم نظام چاہتے ہیں، مگر سرخ بتی پر رکنے کے بجائے موقع ملتے ہی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تجاوزات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر جب کوئی تجاوز ہمارے اپنے کاروبار یا مفاد میں ہو تو ہمیں اس میں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم رشوت کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، لیکن اپنا کام جلد کرانے کے لیے ناجائز ادائیگی کو بعض اوقات مجبوری کا نام دے دیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قومی مسائل محض حکومتی ناکامی نہیں رہتے بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بن جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم خود کچھ کرنے کے بجائے حکومت سے ہر چیز کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو مسائل حل کرنے والا ادارہ تو سمجھ لیا ہے، مگر خود کو اس ریاست کا فعال حصہ سمجھنے کی تربیت نہیں پائی۔ ہم حکومت کو ایک الگ مخلوق تصور کرتے ہیں، جیسے وہ ہم سے مختلف لوگوں پر مشتمل کوئی ادارہ ہو، جس کی کامیابی یا ناکامی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ حکومت، ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے سے الگ تھلگ وجود نہیں رکھتے۔ حکومت انتظامی اختیار استعمال کرتی ہے، قانون بناتی ہے، اداروں کے ذریعے اس کا نفاذ کرتی ہے اور شہریوں کے جان و مال، حقوق اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ لیکن قانون کی مؤثر عملداری کے لیے شہریوں کا تعاون، سماجی قبولیت اور انفرادی ذمہ داری بھی ناگزیر ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: قانون بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن قانون کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے۔ حکومت کو قانون نافذ کرنے کے لیے پولیس، عدالتوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر انتظامی محکموں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ان اداروں کی کامیابی کا انحصار صرف ان کے اہل کاروں پر نہیں۔ اگر لاکھوں شہری روزانہ قانون توڑنے کو اپنا حق سمجھنے لگیں تو چند اہل کاروں کے لیے ہر خلاف ورزی روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قانون کی عملداری صرف ڈنڈے، جرمانے اور سزا سے قائم نہیں ہوتی؛ اس کے لیے شہریوں کے ضمیر، اجتماعی رویے اور قانون کے احترام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
اب ذرا اپنے آپ سے پوچھیں: کیا ہم واقعی قانون کی عملداری چاہتے ہیں، یا صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون دوسروں پر نافذ ہو اور ہمیں اپنی مرضی کے مطابق چلنے کی آزادی حاصل رہے؟
یہ سوال معمولی نہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دوسرا شخص قطار میں اپنی باری کا انتظار کرے، لیکن ہمیں جلدی ہو تو ہم قطار توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دکاندار ناپ تول میں کمی نہ کرے، مگر اپنے کاروبار میں معمولی بے ایمانی کو ہنر سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم سرکاری اہل کار سے دیانت داری کی توقع رکھتے ہیں، لیکن جب کوئی اہل کار اصول کے مطابق کام کرتے ہوئے ہماری ناجائز درخواست مسترد کر دے تو ہم اسے بدتمیز، نااہل یا رشوت نہ لینے کے باوجود کسی اور طرح سے قصوروار قرار دینے لگتے ہیں۔
یہ رویہ دراصل قانون کے احترام سے زیادہ اپنے مفاد کے احترام کی علامت ہے۔
قانون کی حقیقی پاسداری کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب قانون ہماری خواہش کے مطابق ہو، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی پابندی سے ہمیں ذاتی نقصان، تاخیر یا زحمت برداشت کرنا پڑے۔ جو شخص صرف سزا کے خوف سے قانون مانتا ہے، وہ موقع ملنے پر اس کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص قانون کو اجتماعی زندگی کے تحفظ اور دوسروں کے حقوق کی ضمانت سمجھتا ہے، وہ نگرانی نہ ہونے کے باوجود اس کی پابندی کرتا ہے۔
یہی فرق قانون کے خوف اور قانون کے احترام میں ہے۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم قانون توڑنے والوں کو دل اور ذہن سے برا سمجھتے ہیں؟ یہاں مراد کسی انسان سے نفرت کرنا نہیں، بلکہ اس کے غلط عمل کو غلط تسلیم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اکثر خلاف ورزی کرنے والے کے عمل کو اس کے سماجی مرتبے، دولت، تعلقات یا اپنے ذاتی مفاد کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی قانون توڑے تو ہم اسے برا کہتے ہیں، لیکن یہی کام ہمارا دوست، رشتہ دار یا بااثر شخص کرے تو اس کے لیے جواز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ہم کبھی حالات کا عذر پیش کرتے ہیں، کبھی نظام کی خرابی کا حوالہ دیتے ہیں اور کبھی یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیتے ہیں کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔
لیکن اگر کوئی غلط کام عام ہو جائے تو کیا وہ درست بھی ہو جاتا ہے؟ اگر رشوت لینا، سفارش کرانا، ٹریفک قوانین توڑنا، سرکاری وسائل کو ذاتی استعمال میں لانا یا دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنا معاشرے میں رواج پا جائے تو کیا ہم اسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟ کسی برائی کی کثرت اس کی اخلاقی حیثیت تبدیل نہیں کرتی۔ اگر ہم قانون شکنی کو دل سے غلط نہیں سمجھتے تو محض سخت قوانین بنا دینے سے معاشرے میں پائیدار تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔
قانون کے احترام کا ایک اور عملی پہلو یہ ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں اور سرکاری اہل کاروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شہری قطار توڑنے سے انکار کرے، ٹریفک قوانین کی پابندی کرے یا ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کرے تو کیا ہم اس کے رویے کو سراہتے ہیں یا اسے سادہ لوح اور بے وقوف سمجھتے ہیں؟ اگر کوئی سرکاری اہل کار دباؤ، سفارش یا ناجائز مطالبے کے باوجود قانون کے مطابق کام کرے تو کیا ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے کام میں رکاوٹ سمجھ کر اس کے خلاف شکایتیں کرنے لگتے ہیں؟
جس معاشرے میں قانون ماننے والا شخص نقصان اٹھائے اور قانون توڑنے والا اپنے تعلقات یا اثر و رسوخ کے باعث فائدہ حاصل کرے، وہاں قانون کا احترام کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس لیے شہریوں کی ذمہ داری صرف اپنی ذات تک قانون کی پابندی محدود رکھنا نہیں، بلکہ قانون کے مطابق کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصول پسند شہری اور دیانت دار سرکاری اہل کار معاشرے کے مخالف نہیں، بلکہ اس کے بہتر مستقبل کے معاون ہیں۔
تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر سرکاری اہل کار کا دفاع کیا جائے یا ہر حکومتی اقدام کو درست مان لیا جائے۔ اگر کوئی اہل کار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، قانون کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کرے یا امتیازی سلوک روا رکھے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی شہری ذمہ داری ہے۔ قانون کی عملداری کا مطلب اندھی اطاعت نہیں، بلکہ قانون کے مطابق اختیار کا استعمال، شفاف احتساب اور سب کے لیے یکساں انصاف ہے۔ شہریوں کو حکومتی اداروں سے سوال کرنے، شکایت درج کرانے اور قانونی طریقے سے اصلاح کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اب آخری سوال کی طرف آئیے: کیا ہم قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟
ضروری نہیں کہ ہر شہری کسی خلاف ورزی کرنے والے سے براہ راست الجھے یا خود قانون نافذ کرنے والا بن جائے۔ بعض حالات میں ایسا کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم اپنی استطاعت اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ہم خود قانون کی پابندی کریں، بچوں کو قانون اور شہری ذمہ داری کی تربیت دیں، خلاف ورزی کو معمول سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، متعلقہ ادارے کو مناسب طریقے سے اطلاع دیں، ثبوت موجود ہوں تو قانونی شکایت درج کرائیں، رشوت اور سفارش کے ذریعے ناجائز کام کرانے سے انکار کریں اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے شہری تنظیموں، مقامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے تعاون کریں۔
ہم سڑک پر کوڑا پھینکنے سے خود اجتناب کر سکتے ہیں۔ غلط پارکنگ کے بجائے مناسب جگہ تلاش کر سکتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کر سکتے ہیں۔ کسی غیر قانونی کام کے لیے اپنی سفارش استعمال کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اپنے کاروبار میں ناپ تول، قیمتوں اور صارفین کے حقوق کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ سرکاری املاک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے کے بجائے قومی امانت تصور کر سکتے ہیں۔ یہ چھوٹے اقدامات دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی زندگی میں بڑے نتائج کی بنیاد بنتے ہیں۔
حکومت کا فرض ہے کہ قانون منصفانہ بنائے، اسے بلاامتیاز نافذ کرے، اداروں کو مؤثر بنائے اور شہریوں کو انصاف فراہم کرے۔ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو شہریوں کو اس سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ لیکن حکومت کی ناکامی کسی شہری کے لیے قانون توڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔ اسی طرح شہریوں کی بے احتیاطی یا قانون شکنی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کر سکتی۔ دونوں کی ذمہ داریاں الگ ہیں، مگر ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قانون کی عملداری صرف جرائم کی روک تھام کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ ہے جس میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ ملے، محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے، کاروبار کرنے والے کو منصفانہ مواقع میسر آئیں اور عام شہری کو اپنے جان و مال کے تحفظ کا یقین ہو۔ ایسا معاشرہ صرف حکومتی احکامات سے نہیں بنتا؛ اسے شہریوں کے کردار، اداروں کی دیانت داری اور قانون کے یکساں نفاذ سے تشکیل دینا پڑتا ہے۔
قومیں صرف اس بات سے نہیں پہچانی جاتیں کہ ان کے قوانین کتنے اچھے ہیں، بلکہ اس بات سے بھی کہ ان کے شہری ان قوانین کو کس حد تک اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں اور ان کے ادارے ان پر کس قدر منصفانہ انداز میں عمل کرتے ہیں۔
لہٰذا اگلی بار جب ہم کسی قومی مسئلے پر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرائیں تو ایک لمحے کے لیے خود سے بھی سوال کریں: کیا میں اس مسئلے کو پیدا کرنے والے رویے کا حصہ تو نہیں؟ کیا میں اپنے مفاد کے لیے قانون سے انحراف تو نہیں کرتا؟ کیا میں قانون کی پابندی کرنے والے کا ساتھ دیتا ہوں؟ اور کیا میں اپنی استطاعت کے مطابق خلاف ورزی روکنے کے لیے کچھ کرتا ہوں؟
حکومت سے جواب طلب کرنا ہمارا حق ہے، لیکن اپنے کردار کا جواب دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ تبدیلی کا آغاز حکومت سے مطالبے کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے، مگر اسے اپنے عمل تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ جب شہری قانون کو صرف دوسروں پر نافذ ہونے والی پابندی نہیں بلکہ اپنی اخلاقی اور اجتماعی ذمہ داری سمجھنے لگیں گے، تبھی قانون کی عملداری محض ایک نعرے سے نکل کر قومی زندگی کی حقیقت بن سکے گی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں