سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے
’’مذہب انسان میں خدا کا خوف پیدا کرتا ہے"‘‘
"سیاست حکمرانوں میں عوام کا خوف پیدا کرتی ہے"
یہ جملے کسی مشہور تاریخی یا ادبی شخصیت کا باقاعدہ یا مستند قول نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستانی مجلسی و عوامی حلقوں میں رائج مقبول جملےہیں
البتہ تھامس جیفرسن ( امریکہ کے سابق صدر) نے کہا تھا "جب عوام حکومت سے ڈرتے ہیں تو یہ ظلم و آمریت ہے، لیکن جب حکومت عوام سے ڈرتی ہے تو یہ آزادی ہے۔"
شاید ہمارے عہد کا المیہ یہی ہے کہ مذہب نے خدا کا خوف اور سیاست نے عوام کا خوف کھو دیا ہے۔
مذہب انسان اور خدا کے تعلق، زندگی کے مقصد، خیر و شر، اخلاق اور آخرت کا شعور ہے۔ سیاست انسانوں کے اجتماعی معاملات، اقتدار، قانون، وسائل اور حقوق کے نظم کا نام ہے۔ ایک انسان کے باطن کو سنوارنے کا دعویٰ کرتا ہے، دوسری معاشرے کے ظاہر کو منظم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ دونوں کا مقصد، اپنے اصل تصور میں، انسان کو زیادہ محفوظ، عادل اور ذمہ دار بنانا تھا۔
لیکن ہم نے دونوں کو بدنام کر دیا۔
مذہب کو فرقے کی شناخت بنا دیا اور سیاست کو جماعت کی ۔ مذہب میں اختلاف کو کفر کا درجہ دے دیا ، سیاست میں اختلاف کو دشمنی کا۔ مذہبی رہنما نے اپنے پیروکاروں کو اپنے مخالف سے نفرت سکھائی اور سیاسی رہنما نے اپنے ووٹر کو دوسرے شہری سے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب روحانی اصلاح کے بجائے گروہی طاقت اور سیاست عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کی جنگ بنتی گئی۔
مذہب جب اخلاق بنے تو انسان کو طاقتور کے سامنے کھڑا کرتا ہے، اور سیاست جب خدمت بنے تو طاقتور کو انسان کے سامنے جواب دہ بناتی ہے۔
پھر دونوں بے توقیر کیوں ہوئے؟
کیونکہ ہم نے اصولوں سے زیادہ اصولوں کے محافظوں پر بھروسا شروع کر دیا۔
ایک عالم کی غلطی کو مذہب کی غلطی سمجھ لیا، ایک سیاست دان کی بدعنوانی کو سیاست کی فطرت سمجھ لیا۔ حالانکہ مذہب اور مذہبی پیشوا ایک چیز نہیں، سیاست اور سیاست دان بھی ایک چیز نہیں۔
اصل خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب مقدس الفاظ کے پیچھے غیر مقدس مفادات چھپ جائیں۔جب مذہب سے روزگار، شہرت، ووٹ، فرقہ یا اقتدار حاصل کیا جائے تو مذہب کی زبان باقی رہتی ہے، روح چلی جاتی ہے۔
جب سیاست سے دولت، خاندان، انتقام یا ذاتی اقتدار حاصل کیا جائے تو جمہوریت کے نعرے باقی رہتے ہیں، عوام چلے جاتے ہیں۔
ہم نے مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا کہ انسان خدا سے زیادہ مذہبی گروہوں سے ڈرنے لگا، اور سیاست کو اتنا گندا کر دیا کہ شہری ریاست سے انصاف مانگنے کے بجائے اپنے سیاسی تعلقات تلاش کرنے لگا۔
یہی دونوں کی بے توقیری ہے۔
مذہب کا تقدس انسان کے کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔ سیاست کا تقدس عوام کی امانت میں ہوتا ہے۔
مذہب اگر انسان کو رحم، عدل، دیانت اور اخلاق نہیں سکھاتا تو سوال مذہب سے پہلے مذہبی رہنماء سے ہونا چاہیے۔
سیاست اگر کمزور کو تحفظ، اختلاف کرنے والے کو حق اور عام شہری کو انصاف نہیں دیتی تو سوال سیاست سے پہلے سیاست دان سے ہونا چاہیے۔
مذہب اور سیاست دونوں تب بدنام ہوتے ہیں جب مقدس اصولوں کو غیر مقدس ہاتھ استعمال کرنے لگتے ہیں۔
اور شاید ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب سے خدا کو اور سیاست سے عوام کو نکال کر، دونوں میں صرف اپنا مفاد باقی چھوڑ دیا ہے۔
مذہب کا سوال ہے: تم انسان کیسے ہو؟
سیاست کا سوال ہے: تم انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟
اگر دونوں سوال مر جائیں تو مذہب بھی رسم بن جاتا ہے اور سیاست بھی کاروبار۔
پھر مقدس موضوع باقی رہتے ہیں مگر ان پر گفتگو غیرمقدس ہو جاتی ہے اور
ان کی تقدیر میں صرف بے توقیری لکھی جاتی ہے۔
بے توقیری کا عالم یہ ہو گیا ہے کہ حجام نے بھی اپنی دوکان پرنوٹس چسپاں کیا ہوتا ہے "سیاسی اور مذہبی گفتگو منع ہے"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں