منگل، 29 ستمبر، 2026

خوف زدہ انسان خطرناک ہوتا ہے



خوف زدہ انسان خطر ناک ہوتا ہے
یہودی مذہبی متون میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ سفر میں تھے۔ عیسو چار سو آدمیوں کے ساتھ سامنے تھا۔ رفتار تیز کی جا سکتی تھی، مگر یعقوبؑ نے کہا: "بچے نازک ہیں۔" طاقتور قافلہ آگے بڑھ سکتا تھا، لیکن بچوں کو ان کی رفتار سے چلایا گیا۔
یہ صرف ایک باپ کا فیصلہ نہیں، ایک مذہبی اخلاقیات کا آئینہ ہے: بچہ پہلے بچہ ہے، کسی قوم کا نمائندہ بعد میں۔

مگر خوف انسان کے ذہن کو بدل دیتا ہے۔ خوف صرف ہمیں خطرے سے نہیں ڈراتا، وہ ہمیں اپنی شناخت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔ جب انسان کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ ’’وہ‘‘ ہمارے لیے خطرہ ہے تو آہستہ آہستہ ’’وہ‘‘ ایک فرد نہیں رہتا۔ وہ ایک گروہ بن جاتا ہے۔ پھر گروہ ایک شناخت بن جاتا ہے، شناخت دشمنی کی علامت، اور دشمنی اخلاقی فاصلے میں بدل جاتی ہے۔
یہ خوف کا سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔ انسان خطرے کو دیکھتے دیکھتے انسان کو دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر ’’بچہ‘‘ صرف بچہ نہیں رہتا؛ ’’دشمن کا بچہ‘‘ بن جاتا ہے۔

عرب معاشروں میں مذہب زندگی سے الگ کوئی کتابی تصور نہیں۔ مختلف مذاہب کی روایتوں میں انصاف، رحم، کمزوروں کی حفاظت اور بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک بنیادی اخلاقی اقدار ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مذہب کی اخلاقی تعلیم سیاسی شناخت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

حضرت موسیٰؑ کی مذہبی روایت میں یتیم پر ظلم سے روکا گیا ہے۔ تورات میں بیوہ اور یتیم کو تکلیف نہ دینے کا حکم ہے اور ان کی فریاد کو خدا کی سماعت سے جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے گھرانے میں اسماعیلؑ نام کا روتا ہوا بچہ خدا کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔
یعنی مذہبی روایت کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ بچہ کس قوم کا ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ بچہ ہے۔

یعقوبؑ کے ہاں بچے کی نزاکت، ابراہیمؑ کے گھرانے میں بچے کی فریاد اور موسیٰؑ کی شریعت میں یتیم کا حق—تینوں ایک ہی اخلاقی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں: کمزور کی انسانیت اس کی شناخت سے بڑی ہے۔

پھر خوف اس ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ وہ پہلے شناخت بناتا ہے، پھر شناخت کے گرد خطرے کی کہانی تعمیر کرتا ہے، پھر ہر فرد کو اس خطرے کا ممکنہ نمائندہ بنا دیتا ہے۔ اس مقام پر ایک عام آدمی بھی ’’قوم‘‘ بن جاتا ہے، ایک عورت ’’دشمن کی عورت‘‘، اور ایک بچہ ’’مستقبل کا دشمن‘‘۔

اسرائیلی اور فلسطینی خوف کی تاریخیں ایک جیسی نہیں، مگر دونوں حقیقی انسانی خوف ہیں۔ اسرائیلی اجتماعی حافظے میں یہودیوں کی مسلسل بے وطنی ہے۔ فلسطینی اجتماعی حافظے میں بے دخلی، قبضہ، جنگ، تباہی، نقل مکانی اور اپنے بچوں کی ہلاکتوں اور مستقبل کے بارے میں عدمِ تحفظ کے تجربات موجود ہیں۔ 2023 کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی نے عدم تحٖفظ کو مزید گہرا کیا ہے۔

خوف انسانی سطح پر مشترک ہو سکتا ہے، مگر طاقت، حالات اور نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ اسرائیلی شہریوں نے اپنے تاریخی عدم تحفظ کا خوف جھیلا، غزہ کے فلسطینی شہریوں نے بڑے پیمانے پر ہلاکت، نقل مکانی، تباہی ، نسل کشی اور بنیادی ضروریات کے بحران کا سامنا کیا۔

مگر خوف کی نفسیات دونوں طرف ایک ہی خطرناک کام کر سکتی ہے: وہ انسان کو اس کی شناخت کے پیچھے چھپا دیتی ہے۔ پھر اسرائیلی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، اسرائیل بن جاتا ہے۔ فلسطینی بچہ صرف بچہ نہیں رہتا، فلسطین کا بچہ بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا ہو جائے تو انسان اپنے گروہ کے بچے کے لیے جو اخلاقی معیار رکھتا ہے، دوسرے کے بچے پر وہی معیار لاگو نہیں کرتا۔
اپنا بچہ معصوم۔
دوسرے کا بچہ خطرہ۔
اپنی ماں کا آنسو انسانی المیہ۔
دوسرے کی ماں کا آنسو جنگ کی قیمت۔
یہ صرف تعصب نہیںبلکہ یہ خوف کی پیدا کردہ اخلاقی تقسیم ہے۔

مذہب اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: یتیم کے حق میں انصاف کرو، کمزور پر رحم کرو، بچے کی نزاکت کو سمجھو۔ سیاسی خوف کہتا ہے: پہلے اس کی شناخت دیکھو، پھر طے کرو کہ اس کے ساتھ کتنی انسانیت برتنی ہے۔

یہیں مذہب کی اخلاقی تعلیم اور مذہب کی سیاسی تعبیر آمنے سامنے آتی ہیں۔
مذہب بچے میں انسان دیکھتا ہے۔
خوف بچے میں شناخت دیکھتا ہے۔
سیاست شناخت میں خطرہ دیکھتی ہے۔
اور جب شناخت انسان سے بڑی ہو جائے تو انسان کی جان بھی شناخت کے تابع ہو جاتی ہے۔

شاید آج اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیلی بچہ زیادہ معصوم ہے یا فلسطینی بچہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خوف نے ہمیں اتنا بدل دیا ہے کہ ہم بچے کو دیکھنے سے پہلے اس کی شناخت دیکھتے ہیں؟
حضرت یعقوبؑ نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا: "بچے نازک ہیں۔"
یہ جملہ اسرائیلی بچے پر بھی اتنا ہی صادق ہے جتنا فلسطینی بچے پر۔
بچہ اسرائیلی ہو یا فلسطینی، یہودی ہو یا مسلمان، ہمارا ہو یا کسی ’’دوسرے‘‘ کا—وہ پہلے بچہ ہے۔

اور شاید مذہب کی سیاسی تعبیر کے خلاف سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ خوف کے باوجود ہم انسان کو اس کی شناخت سے پہلے انسان دیکھتے رہیں۔

کوئی تبصرے نہیں: