ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

کائناتی کشمکش کا مسافر



کائناتی کشمکش کا مسافر
کائنات کے اس عظیم اور وسیع کارخانے میں انسان ہمیشہ سے اپنے وجود کی حقیقت کو تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف رہا ہے۔ بظاہر مٹی اور گوشت پوست کا نظر آنے والا یہ انسان صرف ایک مادی جسم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ نادیدہ قوتوں، کیفیات اور نوری و ناری مخلوقات کا ایک ایسا حیرت انگیز مجموعہ ہے جو اسے "اشرف المخلوقات" کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ اگر انسان خود سے یہ سوال کرے کہ "میں کون ہوں؟" تو اس کا جواب اسے اپنے اندر کے دو متضاد نظاموں اور اپنے باہر موجود نادیدہ نگرانوں کے مطالعے سے ملتا ہے۔ عرب دنیا کے عظیم مجدد اور مفکر امام غزالیؒ اپنی معرکہ آرا کتاب کیمیائے سعادت میں لکھتے ہیں: "اپنے آپ کو پہچاننے کی چابی اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے، اور جو اپنے نفس کو نہیں پہچانتا وہ کسی چیز کو نہیں پہچان سکتا۔"

انسان کا باطنی وجود دو متضاد عناصر کی آویزش (کشمکش) کا نام ہے، جنہیں ہم روح اور نفس کہتے ہیں۔ روح انسانی وجود کا وہ پاکیزہ اور نورانی حصہ ہے جو "عالمِ امر" (اللہ کے حکم) سے آیا ہے۔ یہ انسان کے اندر نیکی، سچائی اور محبت کی شمع روشن رکھتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي" (اور یہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے)۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ اپنے فتاویٰ اور رسائل میں لکھتے ہیں کہ روح جسم کے فنا ہونے سے فنا نہیں ہوتی۔ جسم تو محض ایک لباس یا سواری ہے، اصل انسان اور مخاطبِ الٰہی یہ روح ہی ہے جو اپنے اندر ادراک اور بقا کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عیسائی الہیات دان سینٹ آگسٹین لکھتے ہیں کہ روح ایک ایسا غیر مادی جوہر ہے جو جسم پر حکمرانی کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ خدا کی محبت کے بغیر کبھی سکون نہیں پا سکتی۔ اسی طرح نامور یہودی فلسفی مارٹن بوبر اپنی کتاب میں اور تو میں بیان کرتے ہیں کہ روح کی اصل حقیقت مادی اشیاء میں نہیں، بلکہ خدا اور انسان کے درمیان قائم ہونے والے ایک مخلصانہ، گہرے اور لافانی تعلق کا نام ہے۔ معاصر مفکر پروفیسر احمد رفیق اختر فرماتے ہیں کہ انسان دراصل ایک باطنی اور نورانی وجود ہے جو مادی دنیا کا تجربہ کرنے کے لیے جسم کے سانچے میں ڈھالا گیا ہے۔
روح کے برعکس، نفس انسان کی مادی اور حیوانی خواہشات کا مرکز ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ" (بیشک نفس تو برائی پر بہت زیادہ اکسانے والا ہے)۔ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ نفسِ انسانی فطرتاً سرکش اور الٰہ بننے کا مدعی ہے۔ اس کا علاج صرف شریعت کی پابندی اور ذکرِ الٰہی سے ہی ممکن ہے۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ نفس کی مثال ایک بیمار اور ضدی بچے کی سی ہے۔ اسے مٹا دینا مقصد نہیں، بلکہ اس کی اصلاح اور تربیت مقصود ہے۔ مشہور یہودی ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی شخصیت کا جو تین گنا ڈھانچہ (لا شعور، انا، اور فوقانی انا) پیش کیا، وہ اسلامی تصوف کے نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ (ملامت کرنے والا ضمیر)۔ اور نفسِ مطمئنہ کے درجات سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

انسان صرف اپنے اندرونی خیالات ہی سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ارد گرد دو ایسی نادیدہ مخلوقات بھی مستقل موجود ہیں جو اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، جنہیں شریعت میں "قرین" کہا گیا ہے۔ جنات میں سے ایک شیطان ہر انسان کے ساتھ مقرر کر دیا جاتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ جنات میں سے اس کا ایک ساتھی (قرین) اور فرشتوں میں سے ایک ساتھی مقرر نہ کر دیا گیا ہو۔" (صحیح مسلم)۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ اپنی تفسیر تدبرِ قرآن میں لکھتے ہیں کہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار 'وسوسہ اندازی' ہے۔ وہ انسان کے دل میں برے خیالات کو اس طرح سجاتا ہے کہ انسان انہیں اپنی ہی سوچ سمجھنے لگتا ہے۔ عیسائی مفکر سی ایس لوئس نے اپنی مشہور کتاب اسکرو ٹیپ کے خطوط میں شیطانی چالوں کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نادیدہ شیطانی قوتیں انسان پر کبھی زبردستی گناہ مسلط نہیں کرتیں، بلکہ وہ انسان کے فہم اور عقل کو مفلوج کرتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں۔
دوسری طرف، شیطان کے شر کو بے اثر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ بھی مقرر فرمایا ہے جو دل میں اچھے خیالات (الہام) پیدا کرتا ہے۔ مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں کہ فرشتے کا الہام دراصل انسان کا وہ 'صحیح ضمیر' ہے جو اسے ہر غلط قدم پر ٹوکتا ہے۔ کائنات کا پورا نظام ایک مثبت رخ پر چل رہا ہے، اور فرشتہ انسان کو اسی مثبت سوچ سے جوڑتا ہے۔

ان چار چیزوں کے علاوہ کچھ اور فرشتے بھی ہیں جو انسان کی زندگی کا ریکارڈ رکھ رہے ہیں اور اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انسان کے کندھوں پر موجود کراماً کاتبین اس کے ہر عمل کو لکھ رہے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ" (انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے)۔ دوسری طرف، معقبات (محافظ فرشتے) انسان کے آگے اور پیچھے پہرہ دیتے ہیں۔ عیسائی روایت میں بھی اسے "محافظ فرشتہ" کہا گیا ہے جو ہر انسان کی مادی اور باطنی خطرات سے نگہبانی کرتا ہے۔

میں مٹی کے جسم میں قید ایک پیاسی روح ہوں، جسے نفس کی مادی خواہشات کے سمندر کو پار کرنا ہے۔ میں کائنات کا وہ مرکزی نقطہ ہوں جس کے ایک طرف شیطان وسوسوں کا جال بچھائے کھڑا ہے اور دوسری طرف فرشتہ نیکی کا الہام کر رہا ہے۔ میرے اعمال کو کراماً کاتبین ریکارڈ کر رہے ہیں اور میری زندگی کی حفاظت معقبات کر رہے ہیں۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے انسان کی اسی خودی اور اس کے مقام کو پہچاننے کا درس دیتے ہوئے کیا خوب فرمایا تھا:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن!
انسانی وجود نیکی اور بدی کا ایک میدانِ جنگ ہے۔ اس کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ دنیا کے تمام عظیم دانشوروں اور مذہبی متون کے افکار کی روشنی میں عقل اور ارادے کی آزادی کا صحیح استعمال کرے، اپنے نفس اور شیطان کو مغلوب کرے، روح اور فرشتے کی آواز پر لبیک کہے اور اپنے خالق کے سامنے سرخرو ہو سکے۔

کوئی تبصرے نہیں: