غلامی پہلے ذہن میں اترتی ہے
پاکستان کے دشمنوں کی فہرست بنانا مشکل نہیں۔ بھارت کا نام لیا جاسکتا ہے، افغانستان کے بعض عناصر کی بات ہوسکتی ہے، بیرونی لابیز اور ان عالمی طاقتوں کے مفادات کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو پاکستان کو اپنے مخصوص جغرافیائی یا سیاسی مقاصد کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے دشمن کا اس کی سرحد کے باہر ہونا ضروری ہے؟
شاید نہیں۔
کسی قوم کو شکست دینے کا ایک طریقہ اس کی سرحد پر فوج کھڑی کرنا ہے، دوسرا اس کے اندر ایسا ذہن پیدا کرنا ہے جو اپنی قوت پر یقین ہی کھودے۔ جب ایک قوم کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ اس کے ادارے ناکام ہیں، اس کی سیاست ناقابلِ اصلاح ہے، اس کی معیشت کا کوئی مستقبل نہیں، اس کے فیصلے خود نہیں ہوسکتے اور اس کی بقا کسی بڑی طاقت کی خوشنودی سے وابستہ ہے تو شکست میدان میں نہیں، ذہن میں شروع ہوچکی ہوتی ہے۔
پاکستان کے ساتھ مسئلہ صرف بیرونی دباؤ کا نہیں، فکری انحصار کا بھی ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات بہتر ہوں تو ایک حلقہ اسے غلامی قرار دیتا ہے، چین سے دوستی بڑھے تو دوسرا حلقہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے، ایران سے قربت کی کوشش ہو تو کسی کو علاقائی صف بندی کا خوف لاحق ہوجاتا ہے اور سعودی عرب سے تعلقات مضبوط ہوں تو کچھ لوگ اسے خودمختاری کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں۔
کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے لیے بہترین خارجہ پالیسی یہ ہو کہ وہ دنیا سے تعلق ہی ختم کرلے۔
مگر دنیا اس طرح نہیں چلتی۔
خارجہ پالیسی جذبات کا نہیں، مفادات کا نظم ہے۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے، چین پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے، ایران ہمارا ہمسایہ ہے اور سعودی عرب ہمارا اہم مسلم، اقتصادی اور دفاعی شراکت دار۔ پاکستان کو سب سے تعلق رکھنا ہے، مگر کسی کے مفاد کا تابع بن کر نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان امریکہ سے کیا چاہتا ہے۔
یہی سوال چین کے بارے میں ہونا چاہیے، یہی ایران کے بارے میں، یہی سعودی عرب کے بارے میں اور یہی دنیا کے ہر دوسرے ملک کے بارے میں۔
ایک خودمختار ریاست دوسروں کے مفادات کو سمجھتی ہے، مگر اپنے مفادات کا فیصلہ دوسروں کے حوالے نہیں کرتی۔
امریکہ کے بارے میں ہمارے ہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طبقہ اسے پاکستان کے تقریباً ہر مسئلے کا ذمہ دار سمجھتا ہے، دوسرا یہ تصور رکھتا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکتا۔ دونوں رویے اپنی جگہ ایک مسئلہ ہیں۔ پہلا ہمیں اپنی داخلی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بچاتا ہے، دوسرا ہماری اپنی قوت سے انکار کرتا ہے۔
امریکہ طاقتور ہے، اس سے تعلق رکھنا پاکستان کی ضرورت ہوسکتی ہے؛ مگر طاقتور ہونا کسی ملک کو ہماری قسمت کا مالک نہیں بناتا۔
پاکستان کو امریکہ سے تجارت چاہیے، سرمایہ کاری چاہیے، ٹیکنالوجی چاہیے، تعلیم اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے ہیں۔ مگر اگر دوستی کی قیمت اپنی پالیسی کا اختیار چھوڑنا ہو تو یہ دوستی نہیں، انحصار ہے۔
پاکستان کو امریکہ کا دوست ہونا چاہیے، امریکی پالیسی کا مہرہ نہیں۔
چین کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات محض وقتی سفارتی ضرورت نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شراکت داری ہیں۔ CPEC نے انفراسٹرکچر، توانائی اور علاقائی رابطے کے نئے امکانات پیدا کیے۔ اس کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا ممنوع نہیں ہونا چاہیے۔
اگر کسی منصوبے کی لاگت زیادہ ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر قرض کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے تو سوال ہونا چاہیے۔ اگر کسی منصوبے سے پاکستان کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی توقع تھی تو حکومت سے جواب طلب ہونا چاہیے۔
لیکن اعتراض اس وقت غیر سنجیدہ ہوجاتا ہے جب منصوبے کی کارکردگی نہیں بلکہ صرف اس کا چینی ہونا مسئلہ بن جائے۔
اسی طرح ہر امریکی منصوبے کو سازش سمجھ لینا بھی دانشمندی نہیں۔
قومی مفاد کا ترازو ایک ہونا چاہیے۔ منصوبہ واشنگٹن سے آئے یا بیجنگ سے، ریاض سے یا تہران سے، سوال ایک ہی ہو:
اس سے پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟
ایران کے معاملے میں بھی ہمیں دوسروں کی عینک اتار کر اپنا نقشہ دیکھنا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ ہماری سرحدیں ملتی ہیں۔ بلوچستان دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترک جغرافیائی حقیقت ہے۔ سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی امن جیسے معاملات ایران کے ساتھ تعلقات کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتے۔
ایران سے اچھے تعلقات رکھنا کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد نہیں۔ اسی طرح سعودی عرب سے تعلقات کا مطلب ایران سے دشمنی نہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، عوامی، اقتصادی اور دفاعی رشتے کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی وہاں روزگار سے وابستہ ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ موجود ہے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے امکانات ھی ہیں۔
اس تعلق پر سوال ہوسکتے ہیں۔ ہونے چاہئیں۔
پاکستانی مزدوروں کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں؟ سرمایہ کاری سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟ دفاعی تعاون کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ کیا ہر فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہے؟
یہ سوال حب الوطنی کے خلاف نہیں۔
لیکن اگر ایران سے تعلق کو سعودی عرب کے خلاف اور سعودی عرب سے تعلق کو ایران کے خلاف سمجھا جائے تو پھر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنا رہا، وہ دوسروں کی کشمکش میں اپنا مقام تلاش کررہا ہے۔
پاکستان کو تہران سے بھی بات کرنی ہے اور ریاض سے بھی۔
یہ تضاد نہیں، سفارت کاری ہے۔
یہیں 1971 کا باب ہمارے سامنے کھلتا ہے، وہ باب جسے ہم نے شاید پڑھا کم اور دہرایا زیادہ ہے۔
پاکستان ٹوٹا تو ہم نے آسان جواب تلاش کیا: بھارت نے پاکستان توڑ دیا۔
بھارتی مداخلت حقیقت تھی۔ مکتی باہنی کی مسلح سرگرمیاں حقیقت تھیں۔ بیرونی طاقتوں کی صف بندیاں بھی حقیقت تھیں۔ لیکن کیا یہی مکمل حقیقت تھی؟
نہیں۔
مشرقی پاکستان میں سیاسی اور معاشی محرومیاں تھیں۔ 1970 کے انتخابات نے ایک واضح مینڈیٹ دیا تھا۔ اقتدار کی منتقلی کا بحران پیدا ہوا۔ سیاسی مذاکرات ناکام ہوئے۔ اختلاف تصادم میں تبدیل ہوا۔ پھر فوجی کارروائی، مسلح مزاحمت، بھارتی مداخلت اور عالمی حالات نے اس بحران کو ایسی منزل تک پہنچایا جہاں واپسی ممکن نہ رہی۔
تاریخ کو صرف دشمن کی سازش بنا دینا آسان ہے، مگر اس سے قوم اپنی غلطیوں سے محروم ہوجاتی ہے۔
دشمن کی طاقت سے زیادہ خطرناک اپنی کمزوری ہے۔
1971 ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ بیرونی قوتیں ہمیشہ مواقع تلاش کرتی ہیں، مگر انہیں کامیابی کا موقع اکثر اندرونی بحران فراہم کرتا ہے۔
آج بھی اگر سیاسی اختلاف دشمنی بن جائے، صوبائی یا لسانی تقسیم گہری ہوجائے، ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں اور عوام ریاست سے مایوس ہوجائیں تو بیرونی طاقتوں کو کسی سازش کے لیے بہت زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔
استعمار کی نئی شکل بھی یہی ہے۔ اب ہر مرتبہ فوج، توپ اور گورنر درکار نہیں۔ اثر و رسوخ قرض سے بھی قائم ہوسکتا ہے، تجارت سے بھی، اطلاعات سے بھی، ثقافت سے بھی اور بیانیے سے بھی۔
لیکن یہاں بھی ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔ دنیا سے سیکھنا استعمار نہیں۔ غیر ملکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا استعمار نہیں۔ مغربی سائنس سے فائدہ اٹھانا استعمار نہیں۔ چینی ٹیکنالوجی قبول کرنا استعمار نہیں۔
استعمار اس وقت ذہن میں جگہ بناتا ہے جب انسان فیصلہ کرنے کی اپنی صلاحیت دوسروں کے حوالے کردیتا ہے۔
پھر طاقتور ملک کی ہر بات دانشمندی اور اپنے ملک کی ہر بات حماقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ باہر کی کامیابی ترقی اور اندر کی کامیابی اتفاق دکھائی دیتی ہے۔ اپنی قوم کے عیب فطرت بن جاتے ہیں اور دوسروں کی خامیاں استثنا۔
یہاں تعلیم یافتہ طبقے کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم لازماً آزاد فکر پیدا کرتی ہے۔ ایسا نہیں۔ ڈگری علم دے سکتی ہے، بصیرت کی ضمانت نہیں۔ کوئی شخص دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پڑھ کر بھی ذہنی طور پر دوسروں کا محتاج ہوسکتا ہے، جبکہ ایک عام آدمی اپنی محدود تعلیم کے باوجود غیر معمولی قومی شعور رکھ سکتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ نے کہاں سے تعلیم حاصل کی۔
اصل سوال یہ ہے:
آپ سوچتے کس کے دماغ سے ہیں؟
اگر ہر اہم فیصلے سے پہلے ہمیں یہ فکر لاحق ہو کہ واشنگٹن کیا سوچے گا، بیجنگ کیا کہے گا، لندن کیا سمجھے گا یا کسی اور طاقتور دارالحکومت کا ردعمل کیا ہوگا، تو ہمیں اپنی فکری آزادی کا جائزہ لینا چاہیے۔
پاکستان میں ایک اور رویہ بھی تیزی سے پھیلتا ہے: مایوسی۔
یہ ملک نہیں چل سکتا۔
یہ قوم ناکام ہے۔
یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔
سب چور ہیں۔
سب بکاؤ ہیں۔
سب نااہل ہیں۔
یہ جملے بعض اوقات غصے میں نکلتے ہیں، بعض اوقات سیاسی مایوسی سے اور بعض اوقات باقاعدہ بیانیے کے طور پر۔
لیکن یہاں فرق ضروری ہے۔
کرپشن پر لکھنا مایوسی نہیں۔
غربت کی نشاندہی کرنا مایوسی نہیں۔
حکومت کو ناکام کہنا مایوسی نہیں۔
اداروں کا احتساب کرنا بھی مایوسی نہیں۔
مایوسی اس وقت خطرناک بیانیہ بنتی ہے جب قوم کو اس کی بیماری تو دکھائی جائے مگر علاج کا امکان چھین لیا جائے؛ جب ہر ناکامی کو قومی فطرت اور ہر کامیابی کو اتفاق بنا دیا جائے۔
تنقید وہ ہے جو قوم کو جگائے؛ مایوسی وہ ہے جو قوم سے بیداری کی امید بھی چھین لے۔
اسی لیے ’’ملک دشمن‘‘ کی اصطلاح بھی سوچ سمجھ کر استعمال ہونی چاہیے۔
ہر حکومت مخالف شخص ملک دشمن نہیں۔
ہر فوج پر تنقید کرنے والا غدار نہیں۔
ہر امریکہ نواز شخص امریکی ایجنٹ نہیں۔
ہر چین نواز شخص چینی مفاد کا نمائندہ نہیں۔
ہر ایران نواز شخص ایرانی ایجنٹ نہیں۔
اور ہر سعودی عرب نواز شخص عرب مفادات کا ترجمان نہیں۔
ایک شہری حکومت کی مخالفت کرسکتا ہے، کسی ادارے کے فیصلے پر اعتراض کرسکتا ہے، خارجہ پالیسی سے اختلاف کرسکتا ہے اور پھر بھی پاکستان سے وفادار ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر کسی کے خلاف دشمن ریاست کے لیے کام کرنے، خفیہ فنڈنگ لینے، منظم پروپیگنڈا کرنے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں تو اس معاملے کو نعرے نہیں، قانون کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔
یہی ایک مہذب ریاست کا طریقہ ہے۔
پاکستان کو غداروں کی لمبی فہرست سے زیادہ مضبوط اداروں اور باشعور شہریوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں کسی ایک عالمی کیمپ میں جانے کی ضرورت نہیں۔ امریکہ اور چین میں سے ایک کا انتخاب، ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب، روس اور مغرب میں سے ایک کا انتخاب—یہ سوال ہی غلط ہے۔
پاکستان کو کسی اور کا انتخاب نہیں کرنا۔
پاکستان کو پاکستان کا انتخاب کرنا ہے۔
ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے، مگر دنیا کے پیچھے نہیں۔
ہمیں دوست بنانا ہیں، مگر سرپرست تلاش نہیں کرنے۔
ہمیں تنقید سننی ہے، مگر اپنی صلاحیت سے مایوس نہیں ہونا۔
ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہے، مگر اپنی قوم کو ناکام قرار نہیں دینا۔
ہمیں دشمنوں سے ہوشیار رہنا ہے، مگر ہر اختلاف کرنے والے کو دشمن بھی نہیں سمجھنا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ پاکستان کا مفاد کسی بیرونی طاقت کی اجازت کا محتاج نہیں۔
آج اصل جنگ شاید سرحد پر نہیں، تصورِ پاکستان کے اندر لڑی جارہی ہے۔ ایک تصور کہتا ہے پاکستان کو اپنی طاقت پر کھڑا ہونا چاہیے؛ دوسرا ہر مشکل کے بعد کسی بیرونی طاقت کی طرف دیکھتا ہے۔ ایک کہتا ہے کہ ہماری خامیاں قابلِ اصلاح ہیں؛ دوسرا انہیں ہماری قسمت قرار دیتا ہے۔ ایک اختلاف کو اصلاح کا راستہ سمجھتا ہے؛ دوسرا اختلاف کو دشمنی بنا دیتا ہے۔ ایک دنیا سے تعلق چاہتا ہے مگر سر جھکا کر نہیں؛ دوسرا طاقتور کے سائے کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کیسا پاکستان دیں گے: ایسا پاکستان جو دنیا کے نقشے پر موجود ہو مگر فیصلوں میں دوسروں کا محتاج ہو، یا ایسا پاکستان جو دوست سب کا ہو، دشمن کسی کا نہ ہو، مگر اپنی قسمت کا مالک خود ہو۔ تاریخ میں قومیں صرف زمین کھو کر غلام نہیں ہوتیں؛ کبھی کبھی وہ اپنی خود اعتمادی کھو کر بھی غلام ہوجاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کی سب سے بڑی حفاظت صرف سرحد پر نہیں ہوگی۔ اس کی اصل حفاظت اس دن ہوگی جب اس قوم کا ذہن یہ ماننے سے انکار کردے گا کہ اس کی تقدیر کوئی دوسرا لکھ سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں