تکرار کا جادو
ایک جھوٹ پہلی بار سنائی دے تو شاید آدمی اسے مسترد کردے، مگر وہی بات بار بار سنائی جائے تو کبھی کبھی ذہن اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے اور اسی کو ہم تکرار کا جادو کہہ سکتے ہیں۔
امریکی ماہرینِ نفسیات لِن ہاشر، ڈیوڈ گولڈسٹین اور تھامس ٹوپینو
نے 1977ء میں تجربات کے ذریعے دکھایا کہ بار بار سنے جانے والے بیانات لوگوں کو نسبتاً زیادہ درست محسوس ہوسکتے ہیں، خواہ وہ حقیقتاً درست نہ ہوں۔ نفسیات میں اس رجحان کو
Illusory Truth Effect
یعنی "وہمِ صداقت کا اثر" کہا جاتا ہے۔
یہاں اصل کمال جھوٹ کا نہیں، انسانی ذہن کا ہے۔ دماغ ہر نئی بات کو مکمل تحقیق کے مرحلے سے نہیں گزارتا۔ جو بات پہلے سنی ہوئی ہو، اسے سمجھنے میں کم ذہنی محنت لگتی ہے۔ یہی مانوسیت بعض اوقات سچائی کا احساس پیدا کردیتی ہے۔ افواہ کی پیدائش اور پرورش اسی زمین پر ہوتی ہے۔ کسی شخص کے بارے میں کہا گیا، "میں نے سنا ہے کہ وہ ایسا ہے۔" دوسرے نے وہی بات آگے پہنچا دی۔ تیسرے نے کہا، "یہ بات تو کئی لوگوں سے سن چکا ہوں۔" کچھ عرصے بعد کسی محفل میں یہی بات پورے اعتماد سے یوں بیان ہونے لگتی ہے: "یہ تو سب کو معلوم ہے۔"
مگر حقیقت میں بدلا کیا؟ صرف تکرار بڑھی۔
تاریخ میں اس نفسیاتی حقیقت کو طاقتور سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ نازی جرمنی میں جوزف گوئبلز ( 1897–1945) کی قیادت میں پروپیگنڈا مشین نے ریڈیو، اخبارات، فلم، پوسٹرز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے مخصوص ریاستی پیغامات مسلسل عوام تک پہنچائے۔ مقصد صرف اطلاع دینا نہیں تھا؛ ایک خاص بیانیے کو مسلسل دہرا کر اسے عوامی ذہن کا حصہ بنانا بھی تھا۔
فرانسیسی مفکر گستاو لوبوں ( 1841–1931) نے اجتماعی نفسیات پر اپنی معروف کتاب
The Crowd
میں بھی تکرار اور اجتماعی ذہن کے تعلق پر بحث کی تھی۔ آج جدید تحقیق نے انسانی ذہن کے اسی رجحان کو تجربات کے ذریعے مزید واضح کیا ہے۔
ہمارے زمانے نے تکرار کو ایک نئی رفتار دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک خبر نمودار ہوتی ہے۔ ایک شخص اسے شیئر کرتا ہے، دوسرا اس پر تبصرہ کرتا ہے، تیسرا ویڈیو بناتا ہے، چوتھا اسے کسی گروپ میں پہنچا دیتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہی دعویٰ درجنوں یا سیکڑوں جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ پھر کوئی کہتا ہے "یہ بات غلط کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے تو اسے ہر جگہ دیکھا ہے۔"
ایک خبر کا سو جگہ نظر آنا ضروری نہیں کہ سو آزاد ذرائع اس کی تصدیق کررہے ہوں۔ ممکن ہے وہ سب ایک ہی غیرمصدقہ دعوے کو نقل کررہے ہوں۔ اس لیے صحافت اور تحقیق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی مقبولیت نہیں، اس کا ماخذ اور ثبوت دیکھا جائے۔ تصویر وائرل ہو تو اس کی تاریخ معلوم کی جائے۔ کوئی دعویٰ سامنے آئے تو اصل دستاویز تلاش کی جائے۔ اعداد و شمار پیش ہوں تو متعلقہ رپورٹ دیکھی جائے۔ اور اگر ایک ہی بات ہر جگہ لکھی ہو تو یہ پوچھا جائے کہ کیا کسی نے نے خود تحقیق کی ہے یا سب ایک ہی ذریعے کی آواز دہرا رہے ہیں۔
برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل ( 1872–1970) کا ایک مشہور قول ہے:
"The trouble with the world is that the stupid are cocksure and the intelligent are full of doubt."
یعنی دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نادان اپنے یقین میں بہت پُراعتماد ہوتے ہیں، جبکہ سمجھ دار انسان سوال کی گنجائش رکھتے ہیں۔
آج کے اطلاعاتی سیلاب میں یہی سوال ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔
جھوٹ عموماً مختصر ہوتا ہے، جذبات کو چھوتا ہے اور فوراً پھیل جاتا ہے۔ سچ بعض اوقات پیچیدہ ہوتا ہے، تحقیق مانگتا ہے اور شواہد پیش کرتا ہے۔ جھوٹ کہہ سکتا ہے، "قصوروار یہی ہے"، مگر سچ پوچھتا ہے، "واقعہ کیا تھا؟ ثبوت کہاں ہے؟" ۔ اسی لیے سچ تک پہنچنے کے لیے کبھی کبھی شور سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ آپ نے سنا ہو گا"سچ ابھی جوتے پہن رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ شہر کا چکر لگا چکا ہوتا ہے"
زبان اس لیے خطرناک بھی ہے کہ اس کا اثر ہمیشہ اسی وقت دکھائی نہیں دیتا جب لفظ ادا کیا جاتا ہے۔ زبان جسم انسانی کے ان دس اعضاء میں سے ایک ھے جن کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ "جب ایک چلتی تو باقی خوف زدہ رہتے ھیں "
اوردوسرے نو یہ ھیں
۔ دو کان
دو آنکھیں ،
ایک ناک ،
دو ھاتھ
اور دو پاوں ۔
تکرار واقعی جادو رکھتی ہے، موجودہ دور میں جھوٹے تکرار کی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اس کے خلاف سوال کرنا چھوڑ دیا ہے۔
جمعرات، 17 ستمبر، 2026
تکرار کا جادو
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں