پیر، 28 ستمبر، 2026

دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق







دعا کرنے اور دعا مانگنے میں فرق

میری نوجوانی میں خلیج کے ایک شیخ کی زکوٰۃ ایک مصری ملازم مستحقین میں تقسیم کرتا تھا۔ ایک شخص نے رقم لینے کے بجائے شیخ سے ملنے کی خواہش کی۔ سامنے پہنچا تو بولا:
’’مجھے رقم نہیں، ایک دکان چاہیے۔‘‘
شیخ نے کہا، ’’زکوٰۃ کی رقم سے دکان کا کرایہ ادا کرو او دوکان لے لو، مسئلہ کیا ہے‘‘
وہ بولا:
’’مجھے صرف رقم نہیں، آپ کی سرپرستی چاہیے۔‘‘
وہ صرف رقم  نہیں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع مانگ رہا تھا۔

کچھ عرصے بعد ایک دوسرے تاجر کو دیکھا۔ اس کے پاس کاروبار، سرمایہ اور چلتا ہوا بازار تھا، مگر اس نے سرمایہ مکان اور گاڑی میں لگا دیا۔ کاروبار کمزور ہوا اور چند سال بعد وہ اسی بازار میں سیلز مین تھا۔
ایک شخص موقع مانگ رہا تھا، دوسرے کے پاس موقع تھا مگر اس نے اسے ضائع کردیا۔

پھر اسلام آباد میں ایک تاجر کا گودام جل گیا۔ برسوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی۔ مگر اس نے اپنی موٹر سائیکل بیچی، کچھ سامان خریدا اور ریڑھی لگا لی۔
میں نے پوچھا، ’’کبھی کاؤنٹر پر بیٹھتے تھے، آج ریڑھی پر شرمندگی نہیں ہوتی؟‘‘
اس نے کہا:
’’پہلا مال بھی اللہ کی دین تھا۔ مجھے یقین ہے کہ دوبارہ اسی بازار میں اس سے بہتر دکان بنا لوں گا۔ مجھے اپنے رب سے مانگنے کا طریقہ آتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’وہ طریقہ کیا ہے؟‘‘
وہ بولا:
’’جو میرے بس میں ہے، اسے کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور جو میرے بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے اصرار کے ساتھ مانگتے شرمندہ نہیں ہوتا۔‘‘

یہ تینوں واقعات دراصل ایک ہی کہانی کے تین مرحلے ہیں: پہلے نے موقع مانگا، دوسرے نے موقع گنوایا، تیسرے سے موقع چھین لیا گیا—مگر اس نے اپنی محنت اور دعا سے دوبارہ موقع پیدا کرلیا۔

یہیں سے دعا کا اصل مفہوم سامنے آتا ہے۔ دعا انسان کو اسباب سے بے نیاز نہیں کرتی؛ اسے اسباب اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔‘‘
(النجم: 39)
اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے:
’’اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔‘‘
(الزمر: 53)
یعنی امید کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے۔ امید وہ طاقت ہے جو اسے شکست کے بعد دوبارہ کھڑا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہے:
’’اونٹنی کا گوڈا باندھو اور اللہ پر بھروسا کرو۔‘‘
یہی توکل ہے: سبب اختیار کرو، کوشش کرو، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردو۔

ہماری مشکل اکثر یہ نہیں کہ اللہ نے راستہ بند کردیا ہے؛ ہم منزل چاہتے ہیں مگر راستے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ دکان چاہیے مگر ریڑھی سے آغاز شرمندگی لگتا ہے۔ کامیابی چاہیے مگر چھوٹی شروعات قبول نہیں۔
حالانکہ چھوٹا کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتا، بے عملی کرتی ہے۔
اس لیے جب زندگی کچھ چھین لے تو یہ نہ پوچھیں:
’’میرے ساتھ ہی کیوں؟‘‘
پوچھیں:
’’اب میرے بس میں کیا ہے؟‘‘
جو بس میں ہے، وہ کریں؛ جو بس میں نہیں، اس کے لیے اپنے رب سے مانگتے رہیں۔
ہاتھ دعا کے لیے آسمان کی طرف اٹھے رہیں، مگر رزق کے لیے زمین پر کام کرتے رہیں۔
جس تاجر کا گودام جل گیا تھا، وہ ریڑھی پر صرف سامان نہیں بیچ رہا تھا؛
وہ اپنی تباہ شدہ زندگی کا پہلا پہیہ دوبارہ گھما رہا تھا۔
شاید دعا کرنے اور صرف دعا مانگنے میں یہی فرق ہے:
ایک دعا کے بعد انتظار کرتا ہے، دوسرا دعا کے بعد اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔




کوئی تبصرے نہیں: