‏Humanity لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Humanity لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

چار ستونوں پر کھڑی انسانیت





چار ستونوں پر کھڑی انسانیت

انسان کی عظمت کا فیصلہ اس کے نسب، دولت، اقتدار یا مذہبی شناخت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے ہوتا ہے جو ان وسائل اور شناختوں کے استعمال سے تشکیل پاتا ہے۔ انسان دو پاؤں پر چلتا ہے، عقل سے سوچتا ہے اور اپنے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بھی دیتا ہے؛ مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اختیار کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کیا وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے یا اپنی برتری ثابت کرنے میں زندگی گزار دیتا ہے؟

معاشرے کو ایک ایسی عمارت سمجھا جا سکتا ہے جس کی چھت چار ستونوں پر قائم ہو: نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب۔

خاندان تعلق اور شناخت دیتا ہے، دولت ضروریات پوری کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے، سیاست اجتماعی زندگی کو منظم کرتی ہے اور مذہب اخلاقی و روحانی رہنمائی دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ستون اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ جب کوئی ستون اپنے مقصد سے ہٹ کر برتری، استحصال یا نفرت کا ذریعہ بن جائے تو اس کی خرابی کا بوجھ پوری عمارت اٹھاتی ہے۔

نسل و خاندان: جڑیں جو سایہ دیں

خاندان انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہیں اسے زبان، تہذیب، محبت، ذمہ داری اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاندان کا نام اور بزرگوں کی روایات انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے وابستگی فطری ہے، مگر جڑوں پر فخر اس وقت تک خوب صورت ہے جب تک وہ دوسروں کی جڑیں کاٹنے کا جواز نہ بن جائے۔

فارسی شاعر شیخ سعدی نے بنی آدم کو ایک جسم کے اعضا سے تشبیہ دیتے ہوئے انسانوں کے باہمی رشتے کی ایسی تصویر پیش کی جس میں کسی ایک کی تکلیف دوسروں کی بے نیازی کا معاملہ نہیں رہتی۔ اس فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسانیت کا رشتہ خاندانی اور نسلی حدود سے وسیع تر ہے۔ اگر انسان دوسرے خاندان، ذات یا نسل سے تعلق رکھنے والے شخص کو محض اسی شناخت کی بنا پر کمتر سمجھے تو وہ اس تعلق کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کا وسیلہ بنا رہا ہے۔

قرآنِ مجید میں قوموں اور قبیلوں کی تخلیق کو باہمی تعارف سے جوڑا گیا ہے، تاکہ اختلاف شناخت کا ذریعہ ہو، تحقیر کا نہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال کے تصورِ خودی میں بھی انسان کی قدر محض ظاہری نسبت سے نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، عمل اور کردار سے ابھرتی ہے۔

خاندان کا اصل وقار اس کے نام کی شہرت میں نہیں، بلکہ اس تربیت میں ہے جو اس کے افراد کو دیانت دار، منصف اور بااخلاق بناتی ہے۔ اگر کسی خاندان کا فرد اپنے بزرگوں کے نام پر تفاخر کرے مگر اپنے عمل میں دوسروں کے حقوق پامال کرے تو وہ خاندانی عظمت کا وارث نہیں، اس کی روایت سے انحراف کرنے والا ہے۔ خاندان کی مضبوطی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنی اولاد کو برتر نہیں، بہتر انسان بناتا ہے۔

دولت: ہاتھ کی قوت، دل کا امتحان

دولت زندگی کی ایک حقیقی ضرورت ہے۔ اس سے گھر آباد ہوتے ہیں، تعلیم حاصل ہوتی ہے، علاج ممکن ہوتا ہے، کاروبار چلتے ہیں اور روزگار پیدا ہوتا ہے۔ دولت کو محض برائی سمجھنا بھی حقیقت سے فرار ہے، کیونکہ معاشرے کی ترقی کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ سوال دولت رکھنے کا نہیں، اس کے حصول اور استعمال کا ہے۔

فارسی ادب کے نام ور شاعر سعدی نے گلستان میں دولت کے بارے میں یہ خیال پیش کیا کہ مال جمع کرنے کے بجائے اس سے زندگی میں فائدہ پیدا کرنا چاہیے۔ ان کی نصیحت کا مفہوم ہے کہ اگر دنیاوی وسائل سے حقیقی نفع حاصل کرنا ہے تو دوسروں کے ساتھ سخاوت اور بھلائی کا برتاؤ کرو۔ اس فکر میں دولت کو ذاتی آسائش سے آگے بڑھا کر سماجی ذمہ داری سے جوڑ دیا گیا ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی فکر بھی انسان کو مال و مرتبے کی خواہش کا اسیر بننے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ مال اگر ضروریات پوری کرے، دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بنے تو معاشرے کے لیے قوت ہے۔ لیکن اگر اس کا حصول دھوکے، استحصال یا ناجائز قبضے پر قائم ہو تو وہ دولت کے باوجود محرومی پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک اور ناانصافی جنم لیتی ہے: معاشرہ اکثر مال دار کی بات کو اس کے کردار سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور غریب کی قابلیت کو اس کی مالی حیثیت کے نیچے دبا دیتا ہے۔ حالاں کہ دولت کسی شخص کے وسائل بتاتی ہے، اس کی اخلاقی قدر نہیں۔ ایک دولت مند شخص فیاض بھی ہو سکتا ہے اور خود غرض بھی؛ ایک غریب شخص دیانت دار بھی ہو سکتا ہے اور بددیانت بھی۔ اخلاقی فیصلہ بینک کے کھاتے سے نہیں، عمل سے ہونا چاہیے۔

دولت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مالک کے گرد دیوار کھڑی کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے دروازے کھولے۔ مال کا بڑا ہونا کامیابی ہو سکتا ہے، مگر دل کا بڑا ہونا انسانیت ہے۔

سیاست: اختیار جو انصاف کا پابند ہو

سیاست معاشرے کے مشترکہ معاملات چلانے، حقوق کی حفاظت کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام ہے۔ اختلافات رکھنے والے لوگوں کو ایک قانون اور اجتماعی نظم کے تحت زندگی گزارنے کے قابل بنانا سیاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے سیاست کو صرف اقتدار کی کشمکش سمجھنا اس کے اصل مقصد کو محدود کر دینا ہے۔

عربی مفکر ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا: «الظلم مؤذن بخراب العمران»، یعنی ظلم تہذیب و تمدن کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بات محض اخلاقی نصیحت نہیں، سیاسی اور معاشی حقیقت بھی ہے۔ جب حکمران شہریوں کے حقوق پامال کرتے، ان کی محنت کا صلہ چھینتے یا قانون کو طاقت ور کے تابع بناتے ہیں تو لوگوں کا نظام پر اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ اعتماد کمزور ہو تو معاشی سرگرمی، اجتماعی تعاون اور ریاستی استحکام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

علامہ اقبال نے دین و سیاست کے تعلق پر غور کرتے ہوئے اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کرنے کے نتائج کی طرف توجہ دلائی۔ ان کی شاعری کا بنیادی اصرار یہ ہے کہ طاقت اور اختیار کو محض ذاتی ہوس کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اگر اخلاقی اصولوں سے خالی ہو جائے تو قانون انصاف کا محافظ بننے کے بجائے طاقت ور کے مفاد کا آلہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں سیاسی وابستگی بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اپنے رہنما کی غلطی کو مجبوری اور مخالف کی اسی غلطی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں اصول پیچھے اور شخصیت آگے آ جاتی ہے۔ سیاسی شعور کا تقاضا یہ ہے کہ شہری اپنی پسندیدہ جماعت سے بھی سوال کریں، غلط فیصلوں کی نشان دہی کریں اور قانون کی یکساں عمل داری کا مطالبہ کریں۔

سیاست کی کامیابی کسی ایک جماعت کی مستقل بالادستی نہیں، بلکہ ایسا نظام ہے جس میں شہری کا حق اس کی دولت، خاندان، مذہبی شناخت یا سیاسی تعلق کی وجہ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ حکمران کتنے لوگوں کو اپنے تابع رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کتنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مذہب: عقیدہ جو کردار میں اترے

مذہب انسان کو وجود، مقصدِ حیات، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی معنویت کے سوالات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اسے اپنے اعمال پر غور کرنے، خواہشات کو قابو میں رکھنے اور زندگی کو محض ذاتی فائدے تک محدود نہ رکھنے کی دعوت دے سکتا ہے۔ مذہبی وابستگی بہت سے لوگوں کے لیے امید، سکون اور خدمت کا سرچشمہ ہے۔

امام غزالی کی اخلاقی تعلیمات میں ظاہری علم اور عبادت کے ساتھ عملی کردار کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کی فکر کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی قدر صرف اسے جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ہے۔ یہی اصول مذہبی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے: عقیدہ اگر دیانت، انصاف، رحم اور ذمہ داری میں ظاہر نہ ہو تو اس کے دعوے اور عملی زندگی کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے کلام میں بھی دین کو محض ظاہری رسم یا گروہی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے زندگی اور کردار کی قوت بنانے پر زور ملتا ہے۔ مذہب کا اخلاقی امتحان صرف عبادت گاہ میں نہیں، بلکہ کاروبار، خاندانی تعلقات، اختلافِ رائے اور کمزوروں کے ساتھ برتاؤ میں بھی ہوتا ہے۔

اپنے عقیدے پر یقین رکھنا اور دوسرے عقیدے کے انسان کی تذلیل کرنا ایک بات نہیں۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کو غلط سمجھنا اور اس کے حقوق چھین لینا بھی دو مختلف رویے ہیں۔ جب مذہبی شناخت کو دوسروں سے نفرت کا جواز بنایا جائے تو وہ اخلاقی اصلاح کے بجائے گروہی دشمنی کو تقویت دینے لگتی ہے۔

مذہبی انسان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کیا مانتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا یقین اس کے کردار میں کیا تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے عقیدے کے نام پر انصاف سے انحراف کرے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ عقیدے کا اظہار زبان کرتی ہے، مگر اس کے اخلاقی اثرات کردار میں دکھائی دیتے ہیں۔

ستونوں کی قوت، انسانیت کی چھت

نسل و خاندان، دولت، سیاست اور مذہب کے مقاصد مختلف ہیں، مگر ان سب کی افادیت کا ایک مشترک پیمانہ ہے: کیا ان سے انسانی زندگی بہتر ہوتی ہے؟ خاندان تعلق اور تربیت فراہم کرے، دولت آسودگی اور خدمت کا ذریعہ بنے، سیاست انصاف اور جواب دہی قائم کرے، اور مذہب کردار میں دیانت و رحم پیدا کرے تو یہ چاروں ستون ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔

خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خاندان نسب کے غرور میں بدل جائے، دولت استحصال کا ذریعہ بنے، سیاست شخصیت پرستی میں ڈھل جائے اور مذہب نفرت کی شناخت بن کر رہ جائے۔ پھر انسان ان ستونوں کے سائے میں پناہ لینے کے بجائے انہی کے نام پر دوسروں کو بے دخل کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ شناخت کا مقصد پہچان ہے، دولت کا مقصد محض ذخیرہ اندوزی نہیں، اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور مذہبی شعور کا ایک اہم تقاضا اخلاقی ذمہ داری ہے۔

انسان کی اصل برتری یہ نہیں کہ اس کے پاس دوسروں سے زیادہ مال، بلند نسب، بڑا منصب یا نمایاں مذہبی شناخت ہے۔ اصل برتری اس شعور میں ہے جو اسے اپنی طاقت کی حدود پہچاننا اور دوسروں کے حقوق تسلیم کرنا سکھاتا ہے۔ کسی معاشرے کی بلندی اس کے ستونوں کی ظاہری شان سے نہیں، اس چھت کے نیچے رہنے والوں کے تحفظ، احترام اور انصاف سے ناپی جانی چاہیے۔

آخرکار، انسانیت کی عمارت کسی ایک ستون کے سہارے قائم نہیں رہ سکتی۔ اسے خاندان کی تربیت، دولت کی افادیت، سیاست کے انصاف اور مذہب کی اخلاقی رہنمائی، سب کی ضرورت ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہر ستون اپنے اصل مقصد کے تابع رہے۔

انسان کی پہچان اس کے نسب، مال، منصب یا عقیدے سے شروع ہو سکتی ہے، مگر اس کی اخلاقی قدر وہاں طے ہوتی ہے جہاں وہ کسی کمزور، مختلف یا مخالف انسان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے۔ چاروں ستون اسی وقت انسانیت کو سہارا دیتے ہیں جب ان کی چھت سب کے لیے ہو۔


جمعہ، 6 جون، 2025

ایک سادہ سوال







فلسطین کی سرزمین مسلسل خون سے رنگین ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر بار جب اسرائیل غزہ پر حملہ کرتا ہے، ایک طاقتور ریاست اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے — امریکہ۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سوال صرف اسرائیل اور فلسطین تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ پوری عالمی سیاست، طاقت، انصاف اور اقوام متحدہ کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات صرف سفارتی نہیں، بلکہ گہرے عسکری مفادات پر مبنی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل کو ہر سال اربوں ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے۔ کانگریس ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2023 تک امریکہ، اسرائیل کو 150 ارب ڈالر سے زائد کی امداد دے چکا ہے، جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔
یہ امداد صرف ہتھیاروں یا ٹیکنالوجی کی حد تک محدود نہیں، بلکہ اس میں انٹیلی جنس، میزائل ڈیفنس سسٹمز، اور مشترکہ عسکری مشقیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کی "آئرن ڈوم" سسٹم کی بڑی فنڈنگ بھی امریکی بجٹ سے آتی ہے۔
جب بھی اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد پیش کی جاتی ہے، تو امریکہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کر کے اسے روک دیتا ہے۔ 1972 سے لے کر اب تک امریکہ نے 45 سے زائد بار اسرائیل کے حق میں ویٹو استعمال کیا ہے۔ 2023 میں جب 14 ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تو امریکہ نے اکیلے اسے ویٹو کر کے مسترد کر دیا۔
اب 2025 میں بھی اسئ عمل کو دہرایا گیا ہے
یہ ویٹو دراصل بین الاقوامی انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ ایک طرف اقوام متحدہ عالمی امن کی علمبردار کہلاتی ہے، اور دوسری طرف وہ طاقتور ممالک کے مفادات کی بندی بن کر رہ گئی ہے۔
مغربی میڈیا کی اکثریت اسرائیل کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ وہ حملہ آور کو مظلوم بنا کر پیش کرتی ہے اور حقیقی متاثرین کی آوازوں کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام عوام تک حقائق بہت محدود اور مسخ شدہ 
صورت میں پہنچتے ہیں۔
سیکورٹی کونسل میں ویٹو کے نام پر جو بے انصافی کی جاتی ہے ۔اس نے سیکورٹی کونسل کے وجود پر بالخصوص اور اقوام متحدہ پر بالعموم سوال اٹھا دیے ہیں ۔ سیکورٹی کونسل کے منافقانہ کردار نے عملی طور پر دنیا بھر کی عقل اجتماعی اور امن کی کوششوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے
 اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے
کیا ہم ہمیشہ ویٹو پاور کے سامنے لاشیں گنتے رہیں گے؟
یہ کالم کسی مخصوص نظریے کی تائید نہیں کرتا، بلکہ
ایک  ساہ سدوال اٹھاتا ہے
جب موجودہ عالمی نظام مسلسل ناکام ہو رہا ہو، تو کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم کسی متبادل کی تلاش شروع کریں؟
اگر دنیا کی طاقتور اقوام واقعی انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہیں، تو انہیں سب کے لیے ایک جیسے اصول اپنانے ہوں گے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں، تو پھر دنیا کو یہ مان لینا چاہیے کہ انصاف کا نظام صرف طاقت کی چھتری کے نیچے زندہ ہے۔

قربانی کا بنیادی فلسفہ




آج عرب دنیا میں عیدالاضحی ہے۔ مسلمان دنیا بھر میں حضرت ابراہیمؑ کی سنت ادا کر رہے ہیں، جانور قربان کیے جا رہے ہیں، ایسے میں جب "عید مبارک" کہنے کے لیے لب کھلتے ہیں، تو دل پر ایک بوجھ سا اتر آتا ہے۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور ذہن بار بار ایک ہی سمت دوڑتا ہے… غزہ!

وہ غزہ، جہاں آج بھی خون بہہ رہا ہے۔ جہاں نہ عید ہے، نہ خوشی، نہ مسکراہٹ۔ جہاں بچے قربانی کے جانور نہیں دیکھ رہے بلکہ بھوک اور پیاس اور دوائیوں کے نہ ہونے سے خود قربان ہو رہے  ہیں۔ جہاں ماؤں کے آنچل خون سے تر ہیں، اور باپ لاشیں ڈھونے پر مجبور ہیں۔

اسرائیل کئی ماہ سے غزہ میں آگ اور بارود برسا رہا ہے۔ اور دنیا، خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ جنگ صرف اسرائیل کی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے وہ طاقت کھڑی ہے جو دنیا کی بڑی طاقت کہلاتی ہے — امریکہ۔ وہی امریکہ جو مسلسل اسرائیل کو مالی، عسکری اور سفارتی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

دنیا کے متعدد ممالک نے اس جنگ پر احتجاج کیا، جنگ بندی کا مطالبہ کیا، مگر جب یہ معاملہ اقوام متحدہ کی میز پر پہنچا تو ایک ویٹو نے پوری دنیا کی آواز کو دفن کر دیا۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسا عالمی نظام ہے، جہاں ایک ملک کی مرضی پوری انسانیت کی رائے پر غالب آ جاتی ہے؟

کیا دنیا واقعی اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ اسے بچوں کی لاشیں بھی ہلا نہیں سکتیں؟ کیا عورتوں کی چیخیں، اور معصوموں کی آہیں بھی عالمی ضمیر کو نہیں جگا سکتیں؟

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک علاقے کا المیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی ہم مہذب دنیا میں زندہ ہیں، یا پھر اب بھی طاقت کا قانون ہی سب کچھ ہے؟

المیہ یہ ہے کہ جو قومیں کبھی ظلم کا شکار رہی ہیں، آج وہ خود ظلم کی علامت بن چکی ہیں۔ جو اپنے مظالم کی تاریخ سے سبق سیکھ سکتی تھیں، وہی آج بے گناہوں پر آگ برسا رہی ہیں۔

ادھر مغربی دنیا کے شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ مگر مسلم دنیا؟ وہ یا تو خاموش ہے یا صرف بیانات سے آگے نہیں بڑھتی۔ عرب دنیا عید منا رہی ہے، مگر اس خوشی میں غزہ کے لہو کی تلخی ضرور گھلی ہوئی ہے۔

اور ایسے میں جب ہم حضرت ابراہیمؑ کی سنت ادا کر رہے ہیں، ہمیں ایک لمحہ رک کر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ قربانی کا اصل فلسفہ کیا ہے؟ کیا صرف جانور ذبح کرنا کافی ہے، یا ہمیں اپنی بے حسی، اپنے خوف، اپنی خاموشی کو بھی قربان کرنا ہوگا؟

حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے چلے تھے، اور خدا نے انسان کی جان بچانے کے لیے دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے کا اصل پیغام یہی تھا — انسان کی جان خدا کے نزدیک سب سے قیمتی ہے۔

مگر آج… انسان کو جانور سمجھا جا رہا ہے۔ اسے مٹی میں دفنایا جا رہا ہے، اور اس کے وجود کو بے وقعت کر دیا گیا ہے۔ افسوس، کہ جس انسان کے لیے آسمان سے دنبہ اتارا گیا تھا، آج وہی انسان بمباری سے مٹایا جا رہا ہے۔

یہ عید نہیں، ایک سوال ہے —
کیا ہم واقعی انسانیت کے پیغام کو سمجھ پائے ہیں؟
حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے چلے تھے، اور خدا نے انسان کی جان بچانے کے لیے دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے کا اصل پیغام یہی تھا — انسان کی جان خدا کے نزدیک سب سے قیمتی ہے۔



اتوار، 6 مئی، 2018

عمر کا کوڑا


ہمارے ہاں اسلامی نظام کا ذکر آٗے توحضرت عمر بن خطاب ؓ کا تذکرہ ضرور کیا جاتا ہے ۔ عمر ایسا با برکت نام ہے کہ جب بھی عمر نام کے کسی خلیفہ کی حکومت آئی امن و امان کے حوالے سے وہ دور منفرد ثابت ہوا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں بھی امن و امان خوب رہا بلکہ معاشی درستگی کے حوالے سے ان کا دور اس لیے منفرد رہا کہ جب انھوں نے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو کرپشن عام تھی، مگر ہم حیران ہوتے ہیں کہ تقریبا دوسال کے عرصے میں ملک سے کرپشن ہی کا خاتمہ نہ ہوا بلکہ اس دور میں رسول اللہ کی یہ پیشن گوئی پوری ہوئی کہ معاشی محتاجگی کا خاتمہ ہوا ۔
حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبدالعزیزکی شخصیات انتظامی لحاظ سے بالکل مختلف تھیں ، ایک عمر کے دوران کا شعار ان کا ْ کوڑا ْ تھا تو دوسرے عمر کے دوران میں ْ سزا ْ کا فقدان نظر آتا ہے ۔حکمرانوں کے بارے میں بعض باتیں مشہور ہو جاتی ہیں جو ہوتی تو حقیقت ہیں مگر ان میں غلو ہوتا ہے ، حضرت عمر بن خطاب کا کوڑا اتنا موٹا نہیں تھا مگر تاریخ کے غلو نے اس کو ضرورت سے زیادہ نمایا ں کر کے ایک فقیر منش، خوف خدا رکھنے والے حکمران کے ساتھ انصاف نہیں کیا ۔
کوڑا سختی کی علامت ہے ، اسلام میں سختی کی حوصلہ شکنی پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالی خود انسان کو موقع دیتا ہے کہ ْ مانو یا انکار کر دو ْ خود رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سختی سے بالکل ہی مبرا ہیں ۔ بلکہ تسخیر انسان کا جو رستہ بتایا گیا وہ تسخیر قلوب ہے۔ اور عام سی بات ہے کہ دل سختی سے نہیں بلکہ ْ پیار ْ سے مسخر ہوتے ہیں۔ پیار کل بھی تسخیر قلوب تھا اور آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا ۔ 
ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی سختیاں جو بہت سارے مصاحب کو جنم دے چکی ہیں ۔ ان کو پیار اور محبت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ۔ اس کی ابتداء خود فرد کی ذات سے ہوتی ہوئی خاندان اور معاشرے میں پھیلتی ہے ۔ پیار اور محبت اگرْ منزل ْ مان لی جائے تو اس تک پہنچنے کی راہ کا نام ْ روا داری ْ ہے

جمعہ، 9 فروری، 2018

جواب درکار ہے

                               
اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد کا پل ہے جو مختلف شہروں سے آنے والے رستوں کو ملاتا ہے ۔مگر اس کی وجہ شہرت نومبرکا تحریک لبیک والوں کا دھرنا ہے جس نے اس چورستے کو پاکستان بھر میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے باہر بھی مشہور کر دیا۔ اس مشق میں شامل لوگوں سے ہم نے ملاقات کی اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ ان کے یہاں آنے کے مقاصد کیا ہیں اور اس دھرنے سے انھیں کیا حاصل ہو گا۔ مظفر گڑھ سے آئے ہوئے ایک ریٹائرڈ سرکاری سکول کے ٹیچر نے کہا تھا ْ بچپن سے دیکھ رہا ہوں خدا امیروں کے ساتھ ہے ْ 
The Guardian 2016 may
گارڈین اخبار میں گایلز فریسر کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ انسان کامیابی کے رستوں سے پھسل جاتا ہے تو وہ مذہب کا سہارا لیتا ہے ۔ تیسری دنیا جو عام طور پر مسلمان ہیں ۔۔ کیا ترقی اور کامیابی کی شارع سے پھسلے ہوئے لوگ نہیں ہیں ؟ اگرگاڑی کو ایک سو چالیس کلو میٹر کی رفتار سے دوڑنے کے لیے ہموار موٹر وے دستیاب ہے تو چنگ چی میں چار کلومیٹر کا سفر سوار اور سواری دونوں کا پنجر ہلا کے رکھ دیتا ہے۔ اور مورال آف سٹوری یہ ہے کہ گاڑی میں سفر کرنا ہے تو گلیوں سے نکلو اور کسی کالونی کے باسی بن جاو۔
کالونی کا تصور سوویٹزرلینڈ سے درآمد شدہ ہے تو کالونی کے گردا گرد اونچی دیوار سے کالونی کے اندر باسیوں کو محفوظ رکھنے کی سوچ اسرائیل کی پیداوار ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام اس سوچ کو معاونت فراہم کرتا ہے ۔پاکستان میں کالونیوں کے باسیوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے مگر اجتماعی وسائل اور خدمات کی دستیابی اور معیار کیسا ہے آپ خود اندازہ کرلیں۔ زیادہ دماغ کھپانے کی زحمت سے بچتے ہوئے صرف اصول عرض ہے کہ خدا قوی اور صاحب استعداد ہستی ہے مگر وہ دنیا میں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے اپنی مخلوق کو ذریعہ بناتا ہے۔ اگر پاکستان سمیت دنیا بھر میں صرف سرمایہ ہی حکمرانی کا حقدار ہے تو پھر مظفر گڑھ سے آئے ہوئے ایک ریٹائرڈ سرکاری سکول کے ٹیچر کا کہا ہوا سچ ہے کہ خدا امیروں کے ساتھ ہے ۔ اگرآپ سکول کے ٹیچر سے اتفاق نہ بھی کریں تو بھی آپ دعویٰ نہیں کر سکتے ہیں کہ خدا غریبوں کے ساتھ ہے ۔
1940
کے بعد دنیا میں ایک ایسا خاموش انقلاب برپا ہوا ہے ، ہوا یوں کہ ایک شخص نے بیانیہ جاری کیا، چند معروف اور معاشرے کے مانوس لوگوں نے اس بیانیے کو دانشوری کے کوہ طور کا سنگ قرار دیا، مزید لوگوں نے اس پتھر کو مقدس اور مبارک مشہور کیا ، اسی گروہ کے لوگوں نے اس کی تقدیس کے بیانئے اور ترانے لکھے اور معاشرے نے اس تقدیس سے تبرک حاصل کرنا شروع کر دیا۔ اس سارے عمل میں جادو یہ ہے کہ عوام کو جاہل رکھ کر سحر زدہ رکھو۔ سرمایہ داری نظام کی یہ حکمت عملی کامیابی سے جاری و ساری تھی کہ اس نظام کی کوکھ سے گلوبل ولیج میں سوشل میڈیا نے جنم لیا۔ اور ایک دہائی بعد ہی ْ جاہل ْ بہت سے مفروضوں سے انکاری ہو گیا۔ پروپیگنڈہ کے بعد جعلی خبروں نے اس گروہ اور اس کے کاسہ لیسوں کو بے نقاب کر دیا۔
تاریخ کا مطالعہ بتا تا ہے ہر تبدیلی طاقت کی مرہون منت ہوتی ہے ، جب مدینہ المنورہ سے انسانیت کا ایک قاٖفلہ مکہ کی طرف بڑہا تھا تو اس کے پاس ایک سوچ یا ذہنیت یا عقیدے کی ْ متاع ْ تھی ۔ جوقافلے کے افراد کے قلوب میں گہری رسوخیت رکھتی تھی اور وزن میں بہت بھاری تھی۔ابو سفیان نے صاف کہہ دیا تھا یہ بھاری پتھر اٹھانا مکہ والوں کے بس میں نہیں ہے۔
مرور زمانہ میں یہ متاع لٹتی گئی ، ڈاکووں نے پلاننگ بیسویں صدی کی ابتداء میں ہی شروع کر دی تھی اور آخری ڈاکہ ترکی کے ایک شہر میں دن دیہاڑے پڑا تھا ۔انسانیت کا سر ننگا ہو گیا۔
آج کا انسان فیض آباد کے پل تک پہنچ گیا ہے ، اس کے پاس متاع میں وہی کچھ ہے جو مدینہ المنورہ سے مکہ کی طرف بڑہتے قافلے کے پاس تھی ، نام اس متاع کا ْ حب النبی ْ ہے ۔ یہ آزمودہ کارگر ہے، اگر مکہ والوں جیسے بہادر اس وقت اپنے گھروں میں دبک گئے تھے تو اب تو ایسے بہادر خود مکہ میں بھی ناپید ہو چکے۔ اس وقت اگر یہ متاع سنگ گراں تھی تو اج بھی اتنی ہی بھاری ہے ۔ مگر مسٗلہ یہ ہے کہ اس وقت کے ْ رہنماء ْ کا فخر فقر تھا مگر اج کے رہنماوں کا فقر ان کا فخر نہیں بلکہ کمزوری ہے ۔
مظفر گڑھ سے آئے ہوئے ریٹائرڈ سرکاری سکول کے ٹیچر کے پاس ایک کتاب تھی ۔ جس میں لکھا ہوا اس نے پڑھ کے سنایا تھا ۔ ترجمہ اس کا یوں ہے ْ اسلام غریبوں کا دین ہے ْ 
اگر یہ پڑھ کر آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہْ کیا مسلمان ہونے کے لیے غریب ہونا لازمی ہے ْ تو عرض ہے کہ خود مجھے اس سوال کا جواب درکار ہے