بڑی بہو کا پچھتاوا
بعض گھروں میں رشتے کسی ایک بڑے واقعے سے نہیں ٹوٹتے؛ وہ چھوٹی چھوٹی خاموشیوں، ادھورے سوالوں اور دل میں رکھے ہوئے گلے شکووں سے آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ باہر سے گھر ویسا ہی دکھائی دیتا ہے، مگر اندر رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے دور ہوچکے ہوتے ہیں۔
میرے بچپن کا ایک دوست ایک روز میرے سامنے غیر معمولی خاموش بیٹھا تھا۔ وہ زندگی کے سرد و گرم سے گزر چکا تھا، معاملہ فہم، ہنس مکھ اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والا انسان تھا۔ مشکل آتی تو گھبرانے کے بجائے مسئلے کو سمجھتا، سب کی بات سنتا اور ایسا راستہ تلاش کرتا جس پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلا جاسکے۔ شاید اسی لیے اس نے اپنے بیٹے کے گھر میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو بھی جلد بھانپ لیا تھا۔
میں نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا
’’میرے بڑے بیٹے کا گھر مشکل میں ہے۔‘‘
اس کا بڑا بیٹا ایک سرکاری افسر ہے؛ محنتی، ذمہ دار، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خاندان کا خیال رکھنے والا۔ اس کی شادی بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں نے مل کر فیصلہ کیا تھا کہ بیوی ملازمت کے بجائے گھر اور بچوں کو ترجیح دے گی۔
اس نے یہ ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھائی۔ بچوں کی پرورش، ان کی تعلیم، بیماری میں دیکھ بھال، گھر کے روزمرہ معاملات اور مہمانوں کی خاطر مدارت، سب کچھ اس نے اپنے ذمے لے لیا۔ ساس کی وفات کے بعد بھی اس نے گھر کو محبت اور سلیقے سے سنبھالا۔ سسر، دیور اور گھر آنے والی بیٹیاں اس کے حسنِ سلوک کی معترف تھیں۔
پھر چھوٹے دیور نے اپنی ایک کولیگ سے شادی کا فیصلہ کیا۔ بڑی بھابی نے خوش دلی سے شادی کے انتظامات میں حصہ لیا۔ یوں ایک ہی گھر میں دو بہوئیں آگئیں۔
چھوٹی بہو نے شادی سے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ وہ اپنی ملازمت جاری رکھے گی۔ اس کے شوہر نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی۔ دونوں میاں بیوی اس انتخاب پر متفق تھے، اس لیے خاندان کے لیے بھی اعتراض کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔
وہ جانتی تھی کہ ملازمت کے باعث وہ گھر کے تمام کاموں میں برابر حصہ نہیں لے سکے گی۔ چنانچہ اس نے اپنے شوہر کے ذریعے سسر کو گھر میں ملازمہ رکھنے پر آمادہ کیا اور اس کی تنخواہ خود ادا کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔ دفتر سے واپسی کے بعد وہ کچن میں بڑی بھابی کا ہاتھ بھی بٹاتی۔ دونوں کے تعلقات بھی خوشگوار تھے اور بظاہر گھر کا نظام بھی بہتر انداز میں چل رہا تھا۔
مگر بعض مسائل گھر کے شور میں نہیں، انسان کے اندر خاموشی سے پیدا ہوتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ بڑی بہو کو چھوٹی بہو کی زندگی مختلف دکھائی دینے لگی۔ اسے کبھی خیال آتا
’’میں بھی پڑھی لکھی تھی۔ اگر میں نے ملازمت جاری رکھی ہوتی تو شاید آج میری زندگی مختلف ہوتی۔‘‘
اس خیال کے ساتھ ایک اور احساس بھی آتا
’’میں نے گھر اور بچوں کے لیے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ آج میں اپنی ذاتی ضروریات کے لیے بھی شوہر کی محتاج ہوں۔ میری اپنی آمدنی نہیں۔‘‘
اگرچہ اس کا شوہر کی تنخواہ بینک میں آتی تھی اور شوہر نے اسے اپنا بینک کارڈ بھی دے رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود اسے محسوس ہوتا تھا کہ بینک کارڈ اور اپنی آمدنی میں فرق ہوتا ہے۔ ایک میں سہولت ہوتی ہے، دوسرے میں اپنی مالی خود مختاری
ہوتی ہے۔
یہ احساس کسی عورت کی ناشکری نہیں ہوتا۔ انسان کبھی کبھی اس زندگی پر بھی سوال اٹھاتا ہے جسے اس نے خود چنا ہوتا ہے، خصوصاً جب اسے اپنے سامنے کسی دوسرے راستے پر چلتی ہوئی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
چھوٹی بہو کی ملازمت، اس کی آمدنی اور مالی خودمختاری بڑی بہو کو اپنے ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔ شاید اسے یہ سوال پریشان کرنے لگا تھا کہ گھر اور بچوں کے لیے کیا جانے والا فیصلہ کہیں اس کی اپنی شناخت اور پیشہ ورانہ زندگی کی قیمت پر تو نہیں ہوا تھا۔
ازدواجی زندگی کے بہت سے فیصلے کسی ایک شخص کے فیصلے نہیں ہوتے۔ کبھی ایک کی خواہش ہوتی ہے، دوسرا رضامند ہوجاتا ہے؛ کبھی حالات فیصلہ کرتے ہیں اور بعد میں انسان اس فیصلے کو اپنا سمجھ لیتا ہے۔
برسوں بعد یہ طے کرنا بھی شاید بے معنی تھا کہ اصل فیصلہ کس نے کیا تھا۔ فیصلہ گزر چکا تھا۔ اب اصل سوال یہ تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ پیدا ہونے والے احساسات کو کیسے سمجھا جائے۔
پچھتاوا اگر وقت پر گفتگو میں تبدیل نہ ہو تو شکایت بن جاتا ہے، شکایت موازنے میں بدل جاتی ہے اور موازنہ رفتہ رفتہ دلوں کے درمیان فاصلے پیدا کردیتا ہے۔
میرے دوست کے مطابق اس کے بڑے بیٹے کے گھر میں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا تھا۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے تھے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی قابلِ غورہے۔ ہم برسوں سے ’’جنریشن گیپ‘‘ کی بات کرتے آئے ہیں، مگر آج یہ فاصلہ صرف دو نسلوں کے درمیان نہیں رہ گیا۔ زندگی اتنی تیزی سے بدل رہی تھی کہ کبھی پانچ سال کا عمر کا فرق بھی دو انسانوں کے تجربات، ترجیحات اور زندگی کے تصور میں نمایاں فرق پیدا کردیتاہے۔
میرے دوست کے دونوں بیٹوں کی عمر میں بھی تقریباً پانچ سال کا فرق تھا۔
بڑے بھائی نے جس ماحول میں جوانی دیکھی تھی، وہاں ایک آمدنی پر گھر چلانا، شوہر کا کمانا اور بیوی کا گھر سنبھالنا ایک عام خاندانی تصور تھا۔ چھوٹے بھائی کے زمانے تک معاشی حالات بدل چکے تھے۔ مہنگائی بڑھی، اخراجات میں اضافہ ہوا، خواتین کی پیشہ ورانہ شمولیت عام ہوئی اور مالی خودمختاری نے خاندانی زندگی کے بارے میں سوچنے کا انداز بدل دیا۔
چنانچہ بھائیوں کے درمیان عمر کا فرق صرف پانچ سال تھا، مگر ان کے تجربات اور ترجیحات کے درمیان فاصلہ کہیں زیادہ تھا۔
دونوں بہوئیں بھی اسی تبدیلی کی نمائندہ تھیں۔ ایک نے گھر اور بچوں کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا تھا، دوسری نے گھر کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ شناخت کو بھی برقرار رکھا تھا۔ دونوں کے انتخاب اپنی جگہ قابلِ احترام تھے۔
ہم اکثر دوسروں کی زندگی کا حاصل دیکھتے ہیں، اس کی قیمت نہیں۔
چھوٹی بہو کی ملازمت اور آمدنی دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے پیچھے دفتر کی ذمہ داریاں، وقت کی کمی، ذہنی دباؤ اور گھر و ملازمت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی مسلسل کوشش بھی موجود تھی۔
دوسری طرف بڑی بہو کی گھریلو زندگی بظاہر آسودہ دکھائی دیتی تھی، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محنت، بچوں کی پرورش، خاندان کی خدمت اور اپنی خواہشات کو پیچھے رکھنے کی قیمت بھی موجود تھی۔ اب اگر اسے مالی خودمختاری کی کمی محسوس ہوتی تھی تو اس احساس کو محض حسد یا شکایت کہہ دینا بھی ناانصافی ہوتی۔
خواہش اپنی جگہ فطری عمل ہے۔ اپنی شناخت، مالی خودمختاری اور اپنے لیے کچھ کرنے کی خواہش بھی انسانی ضرورت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح گھر، بچوں اور خاندان کو اپنی زندگی کی ترجیح بنانا بھی کوئی کمتر انتخاب نہیں۔
مسئلہ انتخاب میں نہیں تھا؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے انتخاب کو دوسرے کے انتخاب سے ناپنے لگتا ہے۔
زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اکثر دوسرے کا حاصل دکھائی دیتا ہے، اس کی قیمت نہیں۔ کسی گھر میں اختلاف پیدا ہو تو فوراً یہ طے کرنا ضروری نہیں کہ غلط کون ہےا۔ کبھی یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ کون کس احساس کے ساتھ کھڑا ہے۔
بڑی بہو شاید اپنے گزرے ہوئے فیصلے کا بوجھ محسوس کررہی تھی۔ شوہر شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے کبھی اس پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ چھوٹی بہو شاید اپنی ملازمت کو حق سمجھتی تھی، جبکہ بڑی بہو کو اس میں اپنے چھوڑے ہوئے راستے کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔
سب اپنی اپنی جگہ کسی نہ کسی حقیقت کے ساتھ کھڑے تھے۔
شاید اس گھر کو کسی ایک شخص کو قصوروار قرار دینے کے بجائے ایک ایسی گفتگو کی ضرورت تھی جس میں پرانے فیصلوں کا مقدمہ نہ چلایا جاتا، بلکہ موجودہ احساسات کو سمجھا جاتا۔
کیونکہ زندگی میں ہر فیصلہ اپنے وقت کے حالات، معلومات، ضرورتوں اور ترجیحات کے تحت کیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے بعد ماضی کا فیصلہ نئے حالات کی روشنی میں غلط دکھائی دے سکتا ہے، مگر فیصلہ کرتے وقت انسان کے پاس مستقبل کا علم نہیں ہوتا۔
اسی لیے فیصلہ کرنے سے پہلے رکنا چاہیے، سوچنا چاہیے، شریکِ زندگی سے بات کرنی چاہیے، ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے اور جہاں ضروری ہو وہاں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ آج کا انتخاب کل ہماری شخصیت اور زندگی پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔
لیکن فیصلہ ہوجانے کے بعد ماضی کو بار بار کریدتے رہنا بھی دانش مندی نہیں۔ انسان ماضی کو تبدیل نہیں کرسکتا، البتہ ماضی کے ساتھ اپنے تعلق کو ضرور بدل سکتا ہے۔
زندگی کا سلیقہ یہی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے عقل، تجربے اور مشورے سے کام لیا جائے؛ لیکن فیصلہ ہوجانے کے بعد اسے مسلسل پچھتاوے کی سزا نہ بنایا جائے۔
ڈینش مفکر سورن کیرکیگارڈ 1813–1855) نے زندگی کے اسی تضاد کو ایک مختصر مگر گہری بات میں سمیٹ دیا تھا
“زندگی کو صرف پیچھے مڑ کر سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اسے آگے کی طرف بڑھتے ہوئے جینا پڑتا ہے۔”