اردو کالم، نئے تجربے کا پرانا مشورہ، اردو کالم ، دلپزیر، اردو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اردو کالم، نئے تجربے کا پرانا مشورہ، اردو کالم ، دلپزیر، اردو لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 8 ستمبر، 2026

نئے تجربے کا پرانا مشورہ



نئے تجربے کا پرانا مشورہ

سہیل وڑائچ صاحب ملک کے قابلِ احترام، باخبر اور تجربہ کار صحافی ہیں۔  دہائیوں سے پاکستانی سیاست اور ریاستی معاملات کو قریب سے دیکھنے والے شخص کی حیثیت سے ان کی آرا یقیناً سنجیدہ غور و فکر کی مستحق ہیں۔ سانحہ پمز کے تناظر میں انہوں نے انتظامی اصلاح کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کا بنیادی مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں اور اسلام آباد کا انتظامی نظام زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ اس مقصد سے اختلاف کی گنجائش کم ہے؛ اختلاف صرف اس سوال پر ہے کہ اس مقصد کے حصول کا بہترین انتظامی راستہ کیا ہونا چاہیے؟

سانحہ پمز ایک قومی المیہ ہے۔ اس نے اداروں کے درمیان رابطے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری، ذمہ داری کے تعین اور انتظامی جواب دہی کے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں، لیکن اصلاح کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ پہلے موجودہ نظام کی کمزوریوں کی درست تشخیص کی جائے، پھر یہ طے کیا جائے کہ خرابی کہاں ہے اور اسے دور کرنے کے لیے کس سطح پر تبدیلی درکار ہے۔

سہیل وڑائچ صاحب نے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاح، مزید خودمختاری، سی ڈی اے کو اضافی اختیارات، بعض سرکاری اداروں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے اور ماضی کے مقامی حکومتوں کے تجربے سے استفادہ کرنے جیسی تجاویز دی ہیں۔ ان میں کئی نکات قابلِ غور ہیں، خصوصاً مقامی سطح پر اختیار اور انتظامی رابطے کو بہتر بنانے کی ضرورت سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اختیار کو ایک ادارے میں مزید مرتکز کرنا واقعی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کا مؤثر طریقہ ہوگا؟

مثلاً سی ڈی اے کو اگر شہری منصوبہ بندی، ترقی، سڑکوں اور شہری سہولتوں کے ساتھ اسکولوں اور اسپتالوں کی ذمہ داریاں بھی دے دی جائیں تو ممکن ہے انتظامی رابطہ کسی حد تک آسان ہوجائے، لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک ادارے پر اس کی بنیادی استعداد سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوجائیں۔ صحت اور تعلیم اپنے الگ تقاضے رکھتے ہیں؛ ان کے لیے ماہر افرادی قوت، مخصوص انتظامی ڈھانچہ، پیشہ ورانہ نگرانی اور الگ جواب دہی درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح اسلام آباد کو زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز اصولی طور پر قابلِ بحث نہیں بلکہ قابلِ غور ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ اختیار کس کو منتقل کیا جائے۔ اگر مقصد منتخب مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہے تو یہ جمہوری اور انتظامی دونوں اعتبار سے ایک مثبت قدم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر اختیار ایک غیر منتخب سرکاری ادارے سے دوسرے غیر منتخب ادارے کو منتقل ہو تو اسے عوامی خودمختاری کہنا مشکل ہوگا؛ یہ محض انتظامی مرکزیت کی ایک نئی شکل بن سکتی ہے۔

مختلف محکموں کو ایک انتظامی چھتری تلے لانے کے بجائے ان کے درمیان مضبوط رابطے کا نظام بھی ایک متبادل راستہ ہوسکتا ہے۔ صحت کا محکمہ صحت کی ذمہ داری پوری کرے، تعلیم کا محکمہ تعلیم کی، پولیس امن و امان کی، ریسکیو ہنگامی حالات کی اور سی ڈی اے شہری ترقی کی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بحران کی صورت میں ان اداروں کے درمیان رابطہ فوری، واضح اور مؤثر ہو، ذمہ داریاں پہلے سے متعین ہوں اور ناکامی کی صورت میں جواب دہی بھی واضح ہو۔

وزیرِ صحت یا کسی اعلیٰ افسر کی باقاعدہ موجودگی یقیناً نگرانی اور احساسِ ذمہ داری کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن مستقل اصلاح کسی ایک شخصیت کی موجودگی سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے آتی ہے جو شخصیتوں سے بالاتر ہو۔ اچھے نظام میں وزیر موجود ہو تو بھی کام ہوتا ہے اور وزیر موجود نہ ہو تو بھی۔

ماضی کے ضلعی حکومتوں کے تجربے سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا تصور اپنی جگہ اہم تھا، لیکن اس نظام کی خامیوں نے بھی یہ ثابت کیا کہ صرف ڈھانچہ تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت آتی ہے جب اختیار، وسائل، ذمہ داری اور جواب دہی ایک ہی سطح پر متوازن ہوں۔

شاید پاکستان کا سب سے بڑا انتظامی مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصلاح کے بجائے اکثر نئے تجربے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ایک نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے دوسرا نظام لے آتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کی خامیاں سامنے آتی ہیں اور ایک نیا ماڈل تجویز کردیا جاتا ہے۔ ہمیں اب نظام بدلنے سے زیادہ نظام کو درست طور پر چلانے پر توجہ دینا ہوگی۔

یہاں عوام کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کو سیاسی اور انتظامی شعور سے محروم سمجھنا درست نہیں۔ وہ اپنے علاقے کے اسکول، اسپتال، سڑک، پانی اور صفائی کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے نے کیا وعدہ کیا تھا اور کیا پورا کیا۔ اس لیے مقامی مسائل کا بہترین حل یہی ہے کہ جہاں ممکن ہو، فیصلہ سازی اور وسائل عوام کے منتخب نمائندوں کے قریب لائے جائیں اور انہیں براہِ راست عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔

پاکستان نے آٹھ دہائیوں میں بہت سے انتظامی تجربات کیے ہیں۔ اب شاید وقت آگیا ہے کہ ہم ہر مسئلے کا جواب ایک نئے ادارے، نئی اتھارٹی یا نئے ماڈل میں تلاش کرنے کے بجائے موجودہ اداروں کی استعداد، رابطے اور جواب دہی کو بہتر بنائیں۔ سی ڈی اے کو مزید اختیارات دینا ایک ممکنہ راستہ ہوسکتا ہے، مگر اسے واحد یا لازمی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ہو، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں اور منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔
آخرکار مسئلہ کسی ایک ادارے یا کسی ایک انتظامی ماڈل کا نہیں؛ مسئلہ حکمرانی کے اس اصول کا ہے کہ اختیار جہاں ہو، ذمہ داری بھی وہیں ہو اور جواب دہی بھی وہیں ہو۔ پاکستان کو اب تجربات سے زیادہ تسلسل، نعروں سے زیادہ نظام اور مرکزیت سے زیادہ عوامی اختیار کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک اور انتظامی تجربے کو مسترد کرنے کے بجائے ہر تجویز کو اس کی عملی افادیت کے پیمانے پر پرکھنا چاہیے—اور جہاں اختیار عوام تک منتقل کرنے، اداروں کو مؤثر بنانے اور جواب دہی یقینی بنانے کا راستہ نکلتا ہو، اسے اختیار کرنا چاہیے۔